"قصص سے سبق" حصہِ اول حضرت آدم۴ اور ابلیس

All Rights Reserved ©

Summary

This is a series of a urdu short story of a boy '' MAHBEER'' who reads and trys to understand lessons from Prophet's life. I have published the first part of this series now . i will publish more parts in coming weeks INSHAALLAH . HAPPY READING .....

Genre:
Other
Author:
Hani Raza Jaffery
Status:
Ongoing
Chapters:
1
Rating:
4.0 1 review
Age Rating:
13+

"قصص سے سبق" حصہِ اول حضرت آدم۴ اور ابلیس

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي اَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

"قصص سے سبق"

حصہِ اول

حضرت آدم۴ اور ابلیس

تحریر : محمد ہانی رضا جعفری

یہ رات کا تیسرا پہر تھا۔ خاصی دیر سے وہ انکھیں بند کیے ہوے نیند کی وادی میں داخل ہونے کی سعی کررہا تھا مگر نیند اس سے کوسوں دورتھی. بلآخر وہ بیزار ہوکر اپنے بستر سے اٹھا اور بتی جلائ، تاریک کمرے میں اجالا سا ہوا، کافی دیر سےجن انکھوں کے سامنے سیاہ منظرتھا وہ تیز روشنی کے باعث چندھیا گی تھیں۔ پھر لاشعوری طور پر وہ اپنی کتابوں کی الماری کی طرف لپکا اور ایک نیلے رنگ کی کتاب اٹھائ،کتاب خاصی پرانی معلوم ہوتی تھی ، اس نے جلد پر ہاتھ پھیرا جس پر سنہری حروف میں " پیغمبروں کے معجزات” لکھا ہوا تھا۔ اس نے اس کتاب کو کھولا اور زیرِ‌لب تحریرشدہ عبارت کو پڑھا۔“میرے پیارے مہبیر کے لۓ اس کے نانا کی طرف سے!! ”

مہبیرکواب ایسی روحانی [spiritual] کتابیں پڑھنے کا ذوق ‌ نہیں رہا تھا مگر یہ اس کے نانا کی عطاکردہ تھی تو مَجبُوراً سنبھالنا تھا۔ وہ تو اب انگریزی تھرلر ناولز پڑھنے کا شوقین بن چکا تھا ۔ رات کے وقت نیند نہ انے کے اس تکلیف دہ مرحلے میں مہبیر,وہ کتاب پڑھنے کی سعی کررہا تھا جو نانا نے کئ سال پہلے تحفے میں دی تھی [نانا نے کتاب تھامتے وقت غور سے پڑھنے کی تاکید کیتھی]۔ وہ اپنے بستر تک آیا اور ورق پلٹا ، سامنے پہلے صفحے پر نظر مرکوز کی اور مطالعہ شروع کیا۔

خدا نے خلق کیا

پاک روح فرشتوں کو،

جوکرتےتھےاسکی حمدوثنا خوب!

جنت جہنم سب ایک ُکن پہ بنے

اور بناڈالا یہ جہان صرف دنوں میں،

اقسام کی مخلوق تھیں، مگر تھی کچھ کمی سی،

ایک روز ہوا کچھ یوں خدا نے سنایا فیصلہ اپنا ملائکہکو

کہ بنانیوالا ہوں زمین میں ایک نائب !!

ملائکہ بولے جو کرتےہیں فساد کیا وہ سنبھالے گے تیرا جہان!

ﷲ نے کہا ″مجھ کو معلوم ہے جو تم جانتے نہیں″

ہوے پھر جلوہ آرہ ادم پورے علم کے ساتھ!

کردیا انسان کو افضل عبادت گزار فرشتوں پر

بنایا اشرف ہر ہنر کے ساتھ!

اتنا پڑھا ہی تھا مہبیرکی انکھوں میں نیند اترنے لگی۔۔ کتاب سینے پہ جماے، لمحے بعد ہی وہ نیند کی وادی سے گزار کر خوابوں کی نگری میں داخل ہوگیا جہاں اس کے مرحوم نانا مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ ان کے پاس گیا ،سلسلہِ کلام وہیں سے جڑا جہاں سے کل ٹوٹا تھا۔ نانا نے شفقت سے لبزیر انداز میں اغازِ گفتگو کیا ۔″آج وہ کتاب تمہیں پڑھتا دیکھ کر وہ دن یاد ایا جب سلگرہ کے تحفے میں یہ کتاب دیکھ کر خفا ہوے تھے تم۔″ مسکراہٹ چہرے پر سجاے وہ بول رہے تھے۔ ″مہبیر انبيا کی زندگیوں میں ﷲ نے ہمارے لیے پوشیدہ پیغامات چھوڑے ہیں، میں چاہتا ہوں کے تم ان کو سمجھو،ان پر عمل کرو ،اس طرح تم دین و دنیا کے ہر غم سے نجات حاصل کرسکتے ہو، پھر کامرانی ہیی مقدر ہوگی تمہارا،بس ایک دفعہ سمجھ کے پڑھو، ہر زاویے سے دیکھو ، ہرزاویے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر زاویے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لفظ بازگشت کی طرح اس کی سماعتوں سے تکڑاتے رہے۔ اور پھر اہستہ اہستہ وہ لفظ دور جانےلگے ،منظر بدلتا گیا، انکھوں کے سامنے سیاہ چادر پھیلتی گی ، وہ خوابوں کی نگری سے مکمل طور پر نکل چکا تھا ۔

مہبیر بچپن میں اکثر اپنے نانا سے ﷲ اورانبیاء کرام کے واقعات کے متعلق سوال کیا کرتا تھا، نانا کے جواب ہمیشہ اطمینان بخش ہوتے تھے ،مگرجب نانا کا انتقال ہوا تو وہ اہستہ اہستہ ان کو اور ان بتائ ہوئ باتوں کو فراموش کر بیھٹا تھا ۔ اس کے نانا اسہی وقت سے خوف کھاتے تھے جب مہبیر ہر اس سبق کو عملی طور پر اپنانا چھوڑ دے گا جو قصص الأنبياء سے اس نے سیکھے تھے،نانا نے اس کو وہ کتاب دی ہی اسلیے تھی کہ وہ ہر اس سبق کو یاد رکھے۔

مگرجوانی کے خمر نے کچھ اس طرح اثر کیا کہ دینی باتوں سے اس کی دلچسپی اٹھ سی گی تھی، وہ ہر وقت اپنی محبوبہ کے خیالات میں ہی ڈوبا رہتا تھا۔ تہجد کے وقت جاگ کر کسی نامحرم سے بات کرنے کا خمر ہر جوان لڑکے یا لڑکی کو برباد کردیتا،مہبیر کی بھی یہی مثال تھی..

نجانے لوگ خدا کو اپنا محبوب کیوں نہیں بنالیتے،یہ ہی تو وہ واحد محبت ہے جس میں کوئ خسارہ نہیں ہوتا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتوارکی صبح مہبیرکے دل میں ایک نیا عزم لیے اترئ تھی۔ کل اس کتاب کی چند سطریں پڑھ کر اس کا سویا ہوا جازبہِ ایمانی بیدار سا ہونے لگا تھا۔ اس کو بچپن سے ہی ایسی کتابوں سے خاص مناسبت تھی، لیکن وقت کے چکرنے یہ عادت ختم کردی تھی.اج یونیورسٹی نہیں جانا تھا تو اس نے اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ کرلیا تھا۔

مہبیر اپنے بسترسےاٹھا، والدین کو سلام کیا اور پھر ناشتے کے بعد وہی کتاب لے کر بیٹھگیا۔

اس کتاب میں انبیاء کرام کے سبق اموز واقعات نہایت پرتاثیر اور اسان فہم انداز میں لکھے ہوے تھے، ایسے لفظ جو دل پر اثر کریں۔ کتابیں تو ہوتی بھی وہ ہی اچھی ہیں جو بیک وقت ذہیں اور دل پر چھپ جایں، جن میں کوئ سبق ہو، جن میں سیکھنے کا مارجن زیادہ ہو ۔

مہبیر نے کتاب کو کھولا۔ وہیں سے مطالعہ شروع کیا جہان سے چھوڑا تھا۔

دیکھ کرعظمت ادم کی

جھک گیے سر ملائکہ کے

مگر

ایک تھا ان میں بہت تکبروالا!

نہ سجدہ کیا اس نے، اور جھٹلایا خدا کو بھی

کہنے لگا،″میں تخلیقِ ِ الـنـار ہوں اور

(دیکھ کرادم کوکہا) اور یہ عام مٹی کا بنا!″

خدا نے نکال پیھکا پھرشیطان کو جنت سے

کردیے اسکے تمام نیک اعمال غارت!

بکھرنےلگآ شیطان کا سارا تکبر مگر،

کہگیا جاتے وقت کہ″ گمراہ کروں گا بشر کو تاقیامت میں″

خدا نے رعب سے کہا″ درگزر کروں گا بشر کو تاقیامت میں!″

پسپا ہوا شیطان

اور بھاگ کھڑار ہوا

لےکرللکار اپنی،

اہل ِ ایمان کرو توکل و تقوی ثابت قدمی کے ساتھ

نامراد کرو نامراد شیطان کو خدا کی مدد کے ساتھ!

یہ پڑھتے ہوے مہبیر کےذہین کے دریچے پر بہت سے سوالوں نے دستک دینا شروع کیا، جن کے جوابات اس کو خود تلاش کرنے تھے، اب نانا نہیں تھے جو اس کو ہرسوال کا جواب دیں۔ اب وقت ظالم تھا۔ مہبیر اب سے تلاش کے ایک سفر پر نکل پڑا تھا۔مہبیر نے ایک ڈائری اور قلم اٹھایا اور لھکنا شروع کیا وہ جس کی اسے تلاش تھی، جو وہ وقت کے چکر میں کہیں چھوڑ ایا تھا۔

انسان کا دنیا میں انے کا مقصد کیا ہے؟ اس کو دن رات عبادت کرنے والے فرشتوں پر فوکیت کیوں حاصل ہے؟ اشرف المخلوقات کا کیا مطلب ہے؟ ، کیوں انسان کو یہ مقام ملا؟ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے انسان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ ذہیں میں کئ سوالات گردش کرنے لگے تھے ۔

اس نے انکھیں بند کیں اور یاد کرنا شروع کیاان باتوں کو جو بجپن میں نانا اور اسکول میں اسلامیات کے ٹیچر بتاتے تھے۔اہستہ اہستہ اسکو جوابات ملنے لگے،گویا جو بھول گیا تھا وہ یاد انے لگا ہو ۔ اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے قلم لے کر پہلے سوال کا جواب لکھنے کی کوشش کی۔ اور کوشش ہی تو سب ہے، کوشش فلاح کے دروازے کی کنجی ہے ، انسان کا واحد ہتھیار کوشش ہی تو ہوتی ہے ۔ اور مہبیر کی کوشش اس پرانے مہبیر کو ڈھوندنے کی تھی جوقصص الأنبياء سے سبق سکیھتا تھا،انبياء کے راستہ پر چلنے کی کوشش کرتا تھا، جو خدا کے قریب تھا ۔ وہ یہ تو جانتا تھا کہ ﷲ کی طرف جب انسان ایک قدم بڑھاتا ہے تو ﷲ دس قدم اور اسکے قریب اتا ہے، اب مہبیر کو وہ "ایک قدم "بڑھانا تھا۔ﷲ کا قرب حاصل کرنا اتنا اسان نہیں ہوتا، ثابت قدمی درکار ہوتی ہے۔۔

قلم اسکے ہاتھ میں تھا اور وہ سوچھ سوچھ کر کچھ لکھ رہا تھا۔

۔ ″دنیا میں انے کا مقصد میری راے کے مطابق اعتدال اور میانہ روی سے کام لینا ہے ، ہمیںﷲ نے آشرف بنایا ہے ہر ہنر کے ساتھ(کتاب کی سطریں سوچھی اور لکھی) یعنی یہ کہ کے اگر ہمارا اس دنیا میں انے کا مقصد محض عبادت ہوتا تو ﷲ کبھی ہمیں پیدا ہی نا کرتا کیونکہ اس کی حمد وثنا کے لیے تو نجانے کتنے فرشتے ہیں ، وہ اپنی برتری منوانے کے لیے ہمارا محتاج ہرگز نہیں ہے ، محتاج تو ہم ہیں اسکے, وہ تو الہ ہے

اپنے ہاتھوں کو روک کر مہبیر سوچھنے لگا کہ وہ ﷲ کو الہ گردانتا توہے، کیا قول سے اقرار کرلینا کافی ہے, نہیں شاید ؟؟ ہم سب کہتے تو ہیں کہ ہم مانتے ہیں الہ ﷲ کو مگر حقیقت ہے کہ ہم مانتےنہیں ہیں، افعال سے ہمارا ماننا جھلکتا کیوں نہیں ہے؟اف ہم تو خود سے بھی مخلص نہیں ہیں، خود سے بھی جھوٹ۔۔۔۔۔ وہ اکتا سا گیا، جیسے خود پر ہی غصہ ارہا ہو۔ پھرسوچھوں کو ایک طرف دھکیل دیا اور لکھنے لگا۔

ﷲ نے ہمیں کوی نہ کوی ایسا ہنر دیا ہے، جس کا استمعال نا کرنا کم عقلی ہوتی ہے۔ ہمیں اعتدال اور میانہ روی سے کام لینا ہے۔۔ ﷲ کی شب و روز عبادت بھی کرنی، بشری تقاضات کو پورا بھی کرنا ہے،دنیا کے رنگوں میں گم نہیں ہونا(یہ لکھتےہوےاس کے چہرے پرندامت کے اثارتھےمگراپنی غلطی جاننے کے لیے ندام ہونا ضروری ہوتا ہے،،سدھرنے کا پہلا قدم ندامت تھی۔) مختصر یہ کہ ہمیں ایک balanced life گزارنی ہے، کیونکہ کامیابی اس پر ہی انحصار کرتی ہے، اور یہ ہی تو دنیا میں انے کا مقصد بھی ہے۔۔.جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس ایک سفر ہے، اج نہیں تو کل ختم ہوجائے گی، اصل منزل تو خدا کے روبرو انا ہے ،و ہ لوگ یہ کیوں بھول جاتے کہ سفر اچھا گزرے گا تب ہی تو منزل اچھی ملے گی، کیا کبھی کسی نے لیاری کا سفر کرتے ہوئے امریکہ کی منزل پائ ہے؟؟ نہیں نا ۔ انسان اس زندگی جوکہ ایکامتحان ہے اس کو commandکرنے کی طاقت رکھتا ہےاسلیے انسانون میں سے ﷲ نے اپنے پاک پيغامبربناے, انسانوں کو الله نے بےپناہ توانائی بخشی ہے، اب ھماری ذمہ داری ہے کہ اس توانائی کو نیک کاموں میں خرچ کریں یا نہیں ،انسان ہر کام کرسکتا ہےاگر وہ چاہے تو اور ساری باتیں شروع اور ختم ہی اگر ہم چا ہیں تو پر ہوتی ہے. بخت صرف انکو لگا کرتے ہیں جو اپنے اور دوسروں کے لیے اچھا چاہتے ہیں. لکھتے وقت اس نے سوچھا کہ قصص الأنبياء میں کتنے پوشیدہ پیغامات ہیں.اس کو اپنی لکھی ہوئ تحریر پر خود ہی رشک آرہا تھا، کیا اتنے سالوں کے تلف ہوجانے کے بعد بھی اس میں رمق بھر نیکی موجود تھی ؟ اس نے سوچھا کہ کاش وہ یہ کتاب پھیلےکھول لیتا.مگر ابھی بھی وقت مہربان تھا. مہبیر تحریر کا تسلسل جاری رکھا….۔ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ہمیں عاجز رہنا ہے ﷲ کے سامنےشیطان کی طرح غرور نہیں کرنا،روگردانی نہیں کرنی، ﷲ کے احکامات کے سامنے اپنی خواہشات کومنسوخ کردینا چاہیے، ورنہ پھر ﷲ شديد العقاب بھی ہے۔۔۔ لکھتے ہوے اس کی انکھوں میں ایک عزم تھا قربت الہی حاصل کرنے کا۔

کتاب کی اخری سطر جو اس نے پڑھی تھی اس کو ذہین میں لایا اور لکھنے لگا″ اب مجھے ثابت قدم رہنا ہے، شیطان کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دینا ، اگر گمراہ ہوگیا تو صرف سے مد طلب کرنی ہے وہ معاف کردے گا، مگر اِنکساری سےمعافی منگنی پڑے گی، خدا اور اس کے انبیاء کے سامنے نیک بخت لوگوں کو ہی جھکنے کاموقع ملتا ہے, شیطانوں کو نہیں !!

ابھی وہ نانا والی کتاب سے حضرت ادم۴ کی کہانی مکمل پڑھنا چہاتا تھا کہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کی اواز ائ ، وہ نماز کے لیے اٹھا۔۔ اج کئ سالوں بعد اسکو اذان کی اواز دل میں اتر جانے والی محسوس ہوئ تھی ، اذان تو ہر مرتبہ ہی دلکش ہوتی ہے مگر وہ بھی توجہ منگاتی ہے!

حضرت ادم۴ کی کہانی کا اغاز پڑھ کر ہی وہ خود کو نیک محسوس کررہا تھا۔ ۔ہم سب بھی یہی تو کرتے ہیں کچھ دن لگاتار نمازیں پڑھ کر خود کو جنتی اور دوسروں کو دوزخی تصوار کرنے لگتے ہیں۔ اصل کام تو ثاتب قدم رہنا ہوتا ہے۔ قران میں کہیں بھی نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے، نمازقائم کرنے کی تلقین کی ہے۔ دونوں باتوں میں فرق ہے بہت۔!

-------------------------

عصر اب باسی ہوچکی تھی، مہبیر نے اس کتاب کو پڑھا ، خود سوال بنایں ، خود جواب تلاش کیے ۔ ہر زاویے سے پڑھا ، پوشیدہ پیغامات کو کھوجنا شروع کیا ۔ سورج اپنی رخصت پر تھا ۔ شام ہلکی سی تاریکی لیے ہرسو پھیلی تھی سواے مہبیر کے دل کے ، وہاں تو ایک عجب سا نور تھا ، ایمان کا نور۔ بستر پر لیٹے وہ اب اپنا نیا پسندیدہ کام کررہا تھا، اس کتاب کو پڑھنا۔اور سوالات کے جوابات تلاش کرنا۔

ورق پہ لکھا ہوا تھا کچھ یوں ۔۔۔۔

چلے جانے کےبعد شیطان کے

دی گی ادم کو پناہ جنت میں

جنت میں تھی نہ کسی کی کمی

مگر پھربھی ادم کو وہ نہ لگی اتنی بھلی

ادم کوتھی کسی ساتھی کی کمی

ایک روز جلیل ِ خدا نے پھر

چھوٹی سی پسلی کے ٹکڑے سے ادم کی

بنا ڈالا جناب ِ حوا کو

پھر رہنے لگے ادم و حوا جنت میں ہسی خوشی

مگرشطان کو بھئی کب کسی کی خوشی!

تھا ممنون ایک درخت کا پھل ادم و حوا کو

خدا کی جانب سے

کہا خدا نے نہ لگانا ہاتھ اسکو ورنہ ہوجاو گے تم ظالم

پھر شطان نے کیا وہ جس کا وعدہ کیا تھا

اس نے کہا انکوکہ کھالواس پھل کو نہیں ہوتے تم ظالم

اور یہ ہے بھی بڑا لزیز للچانا چاہا اسنے انکو ذرا

سوچھا ادم اور حوا نے کہ

چلو ہم بھی دیھکتے ہیں قدرت اس خدا کی

جس نے بنایا درخت کا یہ پھل

یہ کہکر وہ کھانے لگے درخت کا وہ پھل

دیکھ کر انکی یہ سرکشی،ہوا خوش شطان بہت

ذرا سی ہی ہوی تھی دیرکہ

ادم و حوا کو نکال دیا شطان نے

اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے وہ

ان کو پھر ہونے لگا ملال سا

ہوے پشيمان بہت، اور کہنے لگے کہ

ہم نے یہ کام کیوںکر ڈالا!

خدا سے مانگی بہت معافی نہ ہوے مایوس

اور خدا نے پھر اپنے پیاروں کو معاف ڈالا

مگر۔۔۔۔۔

ساتھ ہی ایک حکم دے ڈالا

چلے جاو ادم تم اپنی عورت کے ساتھ زمین پر

اور ملے جب کوئ ہدایت ہماری طرف سے تو

کرنا اس پر عمل بس!کہ ہو تم ہمارے رسول

اور جو نہ مانے میری توسنا دو انکو جہنم کی وعید

کہ تم ہو ہمارے رسول!،

ادم نے پھر سنبھلیا اپنا مقام ذمہ داری کے ساتھ

کیا فرض اپنا پورا جانب داری کے ساتھ!

یہ پڑھتے وقت مہبیر کی آنکھیں پھلیتی گیں اس تعجب سے جو کے اسے خدا کی بادشاہی محسوس کر کے ہوا تھا .. اب وہ ان اسباق کا analysis ]تجزیہ[ کرنے لگا جو اِس مرتبہ اُس نے سھیکے تھے. مہبیر نے اپنی ڈائری اٹھائ اور جوش کے زیرِ اثر لکھنا شروع کیا.

پہلا سبق یہ ہے کہ انسان کے چاہے کتنے ہی نیک اعمال کیوں نہ ہوں اگر وہ ﷲ اور اس کے انیباء کی اطاعت نہیں کرتا تو وہ ﷲ کے لیے نافرمانوں میں سے ہی ہوگا۔ شیطان بھی ایک وقت ﷲ کے بہت قریب تھا مگرﷲ کے رسول کی نافرمانی نےاسے عبرت کا نشان بنادیا ۔ انیباء کی اطاعت کرنے کے لیے ہمارا ان کو اور انکےکرامات کو جاننا بےحد ضروری ہے۔ کسی سے محبت کرنے کا پہلا زینہ تعارف ہی تو ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اجکے مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اپنے رسول کی حیاتِ طیبہ کو پڑھتے تک نہیں ہیں، لکین جب کوی توہیںِ رسالت کا مسئلہ اتا ہے تو سب سے پہلے آاستینوں کو اوپر کرلیتے ہیں ، پہلے خود کو اور پھر دوسروں کو رسولِ پاک اور دیگر انبیاء سےآشنا تو کروایں،، ہمیں اپنی توانائ کو انبیاء۴ کا درست ادراک حاصل کرنے کے لیے استمعال کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے توہیں کے مسائل بھی ختم ہو جاےگی ۔ ۔ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوے لکھے جارہا تھا ۔ ایک یہی راستہ تھا جو اسے صراطِ مستقیم تک لےکر جاسکتا تھا، اور وہ تھا قصص سے سبق تلاش کرنا،ان کو اپنی زندگی پرimplementکرنا۔

اسکے علاوہ ہمیں اپنا ایمان اتنا مضبوط کرلینا ہے کہ شیطان کبھی ہمیں گمراہ نہ کرسکے ۔اور ایمان کو قربتِ الہی ہی بالیدگی عطاکرسکتا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہماری روز مرہ کی زندگی میں بھی انسانوں کے روپ میں کئ شیطان موجود ہوتے ہیں جو ہمیں بَھٹکانے کی کوششیں کرتے ہیں ، انسے ہمیں خود کو محضوظ رکھنا ہے۔ اور بعض دفعہ ہم پر شیطان غالب انے لگتا ہے ، ہم خود شیطان بننے لگتے ہیں ، اسکی طرح تکبر(کتاب میں جو پڑھا ذہیں پہ لایا)، روگردانی، جھوٹ نہیں بولنا، بلکہ ایسی شیطانی حرکات کو اپنی زندگی سے نکالنے کی کوشش کرنی ہے۔

اسکے علاوہ انسان کو اپنے والدین ،بہن بھائیوں، دوستوں یا بیوی بچوں کے طور پر جو ساتھی ملیے ہیں انکی قدر کر نی ہے، انسان تنہا خوش نہیں رہ سکاتا۔۔ حضرت ادم ۴ کو جنت میں ہر قسم کی ا عشرت دی گی تھی مگر پھر بھی انکو کسی ساتھی کی ضرورت تھی ۔انسان کہتا تو ہے کہ تنہا زندگی زیادہ پرسکون ہوتی ہے مگر سچ تو اسکے برعکس ہے ، تنہا زندگی کا دوسرا نام تناؤ ہے، انسان کے پاس کوی اسکے دکھ سکھ سننے والا نہ ہو تو انسان کی زندگی تناؤ زدہ ہوجاتی ہے۔ یہ پریشانی بھی لاحق ہوتی کہ اسکا نام لیوا کوی نہیں ہے ۔

اج سے وہ اپنے والدین کے ساتھ زیادہ وقت گزارے گا جن سے وہ اکثر کنی کتراتا تھا۔ ۔

اور اب سب سے اہم سبق ہے کہ ہمیں کسی بھی حالت میں ﷲ کی قدرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، یہ بات ہم سب کو معلوم ہے مگر، زندگی جب ہم پر کوی مصیبت ڈلتی ہے تو ہم مایوس ہوجاتے ہیں، مایوس انسان اندرسے بلکل کھوکھلا ہوجاتا ہے اسلیے ہی تو مایوسی کفر ہے۔ یاد رہے کہ ﷲ نوازنا نہیں چھوڑتا ، وہ تو ہم ہوتے ہیں جو مانگنا ،چھوڑ دیتے ہیں، پھر ناکام ہونے پر ہم کاتبِ تقدیر سے شکوہ کرتے ہیں۔ حضرت ادم۴ اور جنابِ حوا سے غلطی ہوئ تھی، مگر انکا ایمان پختہ تھا اسلیے وہ مایوس نہ ہوے اور ﷲ سے خوب معافی مانگی اور ﷲ تعالی نے انکو معاف بھی کردیا۔جبکہ شیطان کا ﷲ کی نافرمانی کےعلاوہ دوسرا گناہ مایوسی بھی تھا، اگر وہ خدا کی قدرت سے مایوس نہ ہوتا بلکہ معافی مانگتا تو ممکن تھا کے اسے درگزر کردیا جاتا ۔

یہ لکھتے ہی مہبیر نے ڈائری کو بند کیا، اور سوچھنے لگا کہ کل جب وہ یونیورسٹی جایے گا تو کسی غیر اخلاقی حرکات میں نہیں پڑے گا، مگر وہ یہ جانتا تھا کے عادتیں فطرتاً کاہل ہوتی ہیں ، دیر سے بنتی اور دیر ہی سے ختم ہوتی ہیں، وہ ہر برائ فوراَ نہیں چھوڑ سکھتا، ایک ہی دن میں کوئ شیطان سے فرشتہ نہیں بن سکتا،سارا اسلام ایک دن میں نہیں اپنایا جاسکتا۔ ہر کام مہلت منگتا ہے۔

مگر اتنا تو طے تھا کہ مہبیرنے اب واپسی کے تمام در نبد کردیے تھے اب وہ قصص سے سبق سیکھے گا اور عملی طور پر اپناے گا۔۔

حضرت ادم۴ کی اس کہانی سے اسنے کیے باتوں کو سیکھا تھا ، اب اس کوان پر عمل کرنا تھا ۔ مہبیر کا اور قصص الأنبياء کا سلسلہ پھر شروع ہوچکا تھا۔

نیکی کا سفر ہوتا بہت مشکل ہے، جو ثابت قدم رہتا صرف وہی منزل تک جا سکتا ہے ۔ مہبیر تو ابھی اپنے سفر کے اغاز پر تھا۔

اختتام شد

باقی آئندہ انشاء اللہ

-------------------

Continue Reading
Further Recommendations

goldeyes: This was honestly a bit frustrating because I thought it would end up like one of those books who always tend to have happy endings despite the protagonist's sufferings. The moment he started to stalk and take her pictures, I immediately lost any sort of empathy with his character. Truly, the aut...

Mamoftwo1215: I honestly loved this book!

Lakeyshia: This book was definitely a good read!!! Thanks Author!!!

Libs Motstu: You can write wonderful stories Alex, you have a gift and creative mind. I am concerned about the many errors, grammar etc. Can you please ask someone to edit your books before you publish? Otherwise good luck, and I look forward to your next book💞🥰🙏🏾

Jocelyn Flattery: I love this author and her stories. Absolutely fantastic. I cried from laughter a few times.

Taylor Redman: Wowwwwwwww 🥵🥵🥵🥵

Thais Fuentes: I found it really interesting. It does have some grammar errors but you kind of know what they meant. I really enjoyed reading it. I recommend reading it.

Kellyan David: I really liked but it's not the ending I was hoping for. I really enjoy reading and the ending made it a bit real and not fiction because ppl do go through things like that. I'm happy they stuck together through it all

More Recommendations

hiancar: Well done. Seems like more can come from this story but it's a beautifully written book. Not a drag. Holds us captive and enjoying the journey even though it's a fast journey. Thank you for sharing your talent, skills and imagination with us.

J.R. Rioux: Not your normal romance, but certainly one that's far more enjoyable than you might expect. The families of these two are hilarious. Big personalities, some real bluntness, and lots to laugh at. Enough bad stuff to give it drama, but the people are reasonably well-adjusted people and they handle ...

Rachel: Lots of mistyped words, pronouns and whatnot but seriously who cares, this story is gorgeous! More than once I was angry at the characters, and more than once I swooned for them too, and they aren't real! This authors always tugs at my heartstrings. Will definitely read this one again

JacquelineS: I am so glad I chose to read this story. It was beautifully written and I adored the characters. Kudos to the author for capturing all the romance, passion, and heartache that involves in abstaining a relationship.

Fareedah: It is a great story so far and it is also coincidental and I can't wait for an update on it. The story line is stupendous, phenomenal and believable

annwilson1252: Think thay will fall in love .but there will be some heartbreak on the way .

About Us

Inkitt is the world’s first reader-powered publisher, providing a platform to discover hidden talents and turn them into globally successful authors. Write captivating stories, read enchanting novels, and we’ll publish the books our readers love most on our sister app, GALATEA and other formats.