Chapter 14
قسط نمبر 14
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
محفل اپنے عروج پر تھی۔ تیز موسیقی کی گونج دیواروں سے ٹکرا کر فضا میں بکھر رہی تھی۔ رنگ برنگی روشنیوں کی کرنیں تاریکی کو چیرتی ہوئی ہر سمت ناچ رہی تھیں۔ لوگ ہنستے، جھومتے، رقص کرتے اپنی اپنی خوشیوں میں گم تھے۔ شور اس قدر تھا کہ کسی کی آواز کسی تک پہنچنا تو درکنار، اپنے دل کی دھڑکن سننا بھی دشوار معلوم ہوتا تھا۔
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جس ہجوم میں سینکڑوں وجود موجود تھے، وہاں حازم کا وجود سب سے زیادہ تنہا تھا۔
اگرچہ اسے بلند آواز موسیقی سننے کی عادت تھی، مگر آج یہ شور اس کے اندر کے سکوت کو توڑنے سے قاصر تھا۔ اس کے سینے میں ایک انجانی گھٹن بسی ہوئی تھی، ایسی گھٹن جس کا تعلق ماحول سے کم اور دل سے زیادہ تھا۔
حازم جیسے ہی ہال میں داخل ہوا، ایک ویٹر فوراً مشروب کی ٹرے لیے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ حازم نے بنا سوچے سمجھے ایک گلاس اُٹھا لیا۔ اس کے ہاتھوں کو عموماً کافی کے مگ کی حرارت مانوس تھی، مگر آج اس کی انگلیوں میں وائن کا ٹھنڈا گلاس تھا۔
وہ اپنی سوچوں کے جنگل میں بھٹک رہا تھا کہ اچانک تیز موسیقی کے شور کو چیرتی ہوئی ایک نسوانی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
"حازم!"
وہ چونکا نہیں، بس آہستگی سے پلٹا۔
سامنے امل کھڑی تھی۔
چمکتی روشنیوں کے درمیان بھی اس کے چہرے پر پھیلی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی، جیسے اسے کسی کھوئی ہوئی دعا کا جواب مل گیا ہو۔
"حازم... تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"
حازم نے ایک خاموش نگاہ اس پر ڈالی۔
وہ ان سوالوں کے جواب دینا کبھی ضروری نہیں سمجھتا تھا جن کا جواب دینا اسے پسند نہ ہو۔
اس کی خاموشی امل کے لیے نئی نہیں تھی۔
اس کے چہرے پر اُبھرتی مسکراہٹ ذرا مدھم پڑ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا سوال حازم کو ناگوار گزرا ہے۔
حازم بے نیازی سے آگے بڑھ گیا۔
مگر شاید امل کے دل میں برسوں سے پلتی اُمید آج ایک بار پھر سر اُٹھا بیٹھی تھی۔
اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر حازم کا بازو تھام لیا۔
اس کے نازک ہاتھوں میں حازم کا مضبوط بازو عجیب تضاد پیدا کر رہا تھا۔
حازم کے قدم رُک گئے۔
اس نے آہستگی سے نگاہ اُٹھا کر امل کو دیکھا۔
صرف ایک نگاہ...
مگر وہ ایک نگاہ امل کے دل پر ایسے گری جیسے کسی نے خاموشی سے آئینہ توڑ دیا ہو۔
امل کے ہاتھ فوراً ڈھیلے پڑ گئے۔
اس نے جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑ دیا اور نظریں چُرا لیں۔
"اوہ... حازم... پلیز... میرے ساتھ جوائن کرو نا..."
اس کی آواز میں التجا تھی، اُمید تھی، اور ایک ایسا خوف بھی جو رد کیے جانے والوں کی قسمت بن جاتا ہے۔
حازم کے چہرے پر نہ نرمی آئی، نہ سختی۔
وہ حسبِ معمول سنجیدہ رہا۔
بغیر ایک لفظ کہے وہ آگے بڑھ گیا۔
امل وہیں کھڑی رہ گئی۔
کبھی کبھی کچھ خواب ٹوٹتے نہیں، آہستہ آہستہ بِکھرتے ہیں۔
اور امل برسوں سے انہی بکھرتے خوابوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔
مگر ہر بار اس کے ہاتھوں میں چند اور کرچیاں آ جاتیں۔
اس نے بمشکل اپنے لرزتے وجود کو سنبھالا۔
آنکھوں میں اُبھرنے والی نمی کو پلکوں کی قید میں روکا اور ہونٹوں پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجا لی۔
کیونکہ بعض محبتیں نصیب میں ملنا نہیں، خاموشی سے ٹوٹنا لکھوا کر لاتی ہیں۔
اور امل کی محبت بھی شاید انہی کہانیوں میں سے ایک تھی، جو دل میں زندہ رہتی ہیں مگر قسمت کی کتاب میں کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔
*°*°*°*°*°*
ادھر حویلی کا ماحول بالکل مختلف تھا۔جہاں شہر کے ایک کونے میں شور، ہنگامہ اور مصنوعی مسکراہٹیں تھیں، وہیں اس گھر کی فضا محبت، اپنائیت اور انتظار کی نرم خوشبو سے مہک رہی تھی۔
ہال کو نہایت سلیقے اور محبت سے سجایا گیا تھا۔ چھوٹی چھوٹی روشنیوں کی سنہری لڑ یاں دیواروں پر بِکھرے ستاروں کا گمان دے رہی تھیں۔ ہلکی روشنی میں ہر شے ایک دلکش خواب کا حصہ محسوس ہو رہی تھی۔
حور نے سجاوٹ کا ایک ایک رنگ خود چنا تھا۔
ہر پھول، ہر روشنی اور ہر چھوٹی بڑی تفصیل میں اس کی اپنے بھائی کے لیے محبت جھلک رہی تھی۔
مرکزی میز پر حازم کی پسندیدہ براونی خاص طور پر منگوائی گئی تھی۔ اس کے گرد سجے مختلف کھانے اپنی خوشبوؤں سے ماحول کو مزید دلکش بنا رہے تھے۔ ہر ڈِش حازم کی پسند کو مدنظر رکھ کر تیار کروائی گئی تھی، گویا اس رات کی ہر چیز صرف اسی کے نام تھی۔
رامو کاکا بھی اس ساری تیاری میں حور کے شانہ بشانہ رہے تھے۔
کبھی وہ سیڑھی تھام لیتے، کبھی روشنیوں کی ترتیب درست کرتے اور کبھی حور کے بے شمار سوالوں کے جواب دیتے۔
"کاکا، بھائی کو پسند آئے گا نا؟"
(حور نے ایک بار پھر بے چینی سے پوچھا)
رامو کاکا مسکرا دیے۔
"بیٹا، اتنی محبت سے سجائی ہوئی چیز بھلا کسی کو کیسے پسند نہیں آئے گی؟"
یہ سن کر حور کے لبوں پر خوشی کی ایک نرم سی لہر دوڑ گئی۔
مگر اس کی نظریں بار بار دروازے کی جانب اُٹھ جاتی تھیں۔
وقت گزرتا جا رہا تھا۔
گھر مکمل تھا...
سجاوٹ مکمل تھی...
کھانے مکمل تھے...
خوشیوں کی ہر تیاری مکمل تھی...
اگر کوئی کمی تھی تو صرف ایک شخص کی۔
حازم کی۔
وہ شخص جس کی خاطر یہ سب اہتمام کیا گیا تھا۔
حور صوفے کے کنارے بیٹھی دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں چمکتی اُمید آہستہ آہستہ انتظار میں بدل رہی تھی۔
وہ دل ہی دل میں تصور کر رہی تھی کہ جیسے ہی حازم اندر آئے گا، وہ خوشی سے اس کے گلے لگ جائے گی، اور حازم کے چہرے پر برسوں بعد ایک بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوگی۔
اسی خیال پر اس کے لب خود بخود مُسکرا اُٹھتے۔
مگر اگلے ہی لمحے خاموش دروازہ اس کی مسکراہٹ کو مدھم کر دیتا۔
محبت کا انتظار شاید دنیا کا سب سے مُشکل ترین کام ہے۔
ہر گزرتا لمحہ اُمید کو کم نہیں کرتا، بلکہ دل کو مزید بے قرار کر دیتا ہے۔
رامو کاکا نے ایک نظر حور پر ڈالی۔
اس کی آنکھوں میں چمکتی محبت دیکھ کر ان کے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ آگئی۔
وہ جانتے تھے کہ دنیا میں اگر کوئی دل سے حازم کی خوشی چاہتا تھا تو وہ یہ ننھی سی لڑکی تھی، جو اپنے بھائی کی ایک مسکراہٹ کے لیے پوری دنیا سجا دینے کا حوصلہ رکھتی تھی۔
حور نے دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھا اور دھیرے سے سرگوشی کی،
"بس ایک بار آ جائیں بھیا... آج کی رات بہت خاص ہے۔"
اس کی آواز میں محبت بھی تھی، دعا بھی، اور انتظار کی وہ نمی بھی جو صرف اپنے لوگوں کے لیے دل میں جنم لیتی ہے۔
ہال کی روشنیاں بدستور جگمگا رہی تھیں، کھانوں کی خوشبو اب بھی فضا میں رچی ہوئی تھی، مگر ان سب کے درمیان ایک خاموش خلا موجود تھا...
وہ خلا، جسے صرف حازم کی آمد بھر سکتی تھی۔
*°*°*°*°*°*
ایک خوبصورت فلیٹ کا دروازہ کُھلا
گارڈ کی مدد سے حازم کو اندر لایا گیا،
امل نے حازم کو خود سے لگائے، اس کا ادھا بوجھ اپنے کندھے پر ٹکائے ہال میں قدم رکھا۔ ہال کی مدہم روشنیاں ماحول پر ایک خوابیدہ سا سحر طاری کر رہی تھیں، چھت سے لٹکا فانوس اپنی پوری آب و تاب اور خوبصورتی سے چمک رہا تھا۔
فلیٹ کافی خوبصورت تھا جو کافی سلیقے سے سجایا گیا تھا.وہ امل کا فلیٹ تھا. جب کبھی امل اکیلے وقت گزارنا چاہتی تو اسی جگہ آ جایا کرتی. یہ فلیٹ امل کی تنہائی کا ساتھی تھا.
امل نے وہیں رُک کر گارڈ سے کچھ دھیمی آواز میں بات کی، جس کے بعد وہ سر جھکائے وہاں سے رخصت ہو گیا۔
امل نے ایک گہرا سانس لیا اور حازم کو سہارا دیے ایک کمرے کی سمت بڑھ گئی، جسے نہایت نفاست اور خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
حازم لمبے قد اور مضبوط جسم کا مالک تھا۔ ورزش کی عادت نے اس کی شخصیت میں ایک خاص وقار اور مضبوطی پیدا کر دی تھی، اسی لیے اسے سنبھالنا امل کے لیے آسان نہ تھا۔حازم جیسے دراز قد، کسرتی اور صحت مند مرد کا بوجھ اٹھانا امل جیسی نازک اندام لڑکی کے لیے ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ وہ بمشکل اسے قدم بہ قدم سنبھالتی ہوئی بستر تک لائی اور نرم گدے پر لٹا دیا۔
تھکن سے چور امل نے کچھ پل رُک کر اس کے وجیہہ چہرے کو دیکھا۔ پھر جھک کر نہایت نرمی سے اس کے جوتے اُتارے۔ حازم کی پیشانی پر بکھرے بالوں کو، جو اس کے چہرے کے حسن کو چھپا رہے تھے، اپنی انگلیوں کے پوروں سے پیچھے کیا۔حازم کے چہرے پر دن بھر کی تھکن کے باوجود ایک عجیب سی کشش موجود تھی۔
نشیلی پگھلتی ہوئی ڈرنک گرنے کی وجہ سے حازم کی قیمتی شرٹ خراب ہو چکی تھی. شاید یہ وہی خاص لباس تھا جو اس نے کسی اہم موقع کے لیے منگوایا تھا ہر بار امل کو یہی لگتا۔
امل نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی شرٹ کے بٹن ایک ایک کر کے کھولےاور اِس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ایک ادھوری مسکراہٹ کے ساتھ حازم کی جانب دیکھا جو بہت شان سے لیٹا اپنی دنیا بسا چُکا تھا۔ ایک سفید، نرم ٹشو ہاتھ میں لیے وہ اس کے چوڑے اور مضبوط سینے پر جمی ڈرنک کے داغ صاف کرنے لگی۔ اس لمحے حازم کا کسرتی وجود، جو جم (Gym) کی سخت محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا، امل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہا تھا۔ اس کے مضبوط بازو اور گوڑی رنگت امل کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی۔ وہ مبہوت سی اسے دیکھتی رہی۔تم جانتے بھی نہیں ہو،
(اس نے دھیرے سے سرگوشی کی،) "کتنی دعاؤں میں تمہارا نام شامل ہے۔"
اچانک حازم نے ذرا سی جنبش کی، تو امل ایک دم ڈر کر پیچھے ہٹی، اس کا دل حلق میں آ گیا۔ جب یقین ہو گیا کہ وہ گہری نیند میں ہے، تو وہ دھیرے سے سرک کر بستر پر اس کے برابر میں لیٹ گئی۔ اپنا سر اس کے مضبوط بازو پر ٹکایا، تو ایک انوکھی راحت کا احساس رگوں میں دوڑ گیا۔
وہ جانتی تھی کہ حازم اس وقت ہوش و حواس سے بیگانہ ہے، لیکن پھر بھی وہ اس سے باتیں کرنے لگی۔ اپنے موبائل کا کیمرہ آن کر کے اس نے حازم کے ساتھ ایک یادگار تصویر لی۔
وہ کبھی مسکراتی، کبھی بےاختیار آنکھیں نم ہو جاتیں۔اس تصویر کو دیکھ کر اس کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ تیر گئی۔
جذبات کے متلاطم سمندر میں بہتے ہوئے، وہ کبھی اپنا نرم ہاتھ اس کے سینے پر رکھتی، اور پھر کسی انجانے خوف یا شرم سے یکدم ہٹا لیتی۔ اس کے گالوں پر حیا کی لالی دوڑ گئی۔ وہ (دھیمی آواز میں مسکراتے ہوئے بولی)
"ایک دن... ایک دن میں تمہیں حاصل کر لوں گی حازم۔ اور اس دن تمہاری اپنی مرضی، تمہاری اپنی چاہت بھی اس میں شامل ہوگی۔"
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جہاں بے پناہ خوشی اور امید کی چمک تھی، وہی محبت کی شدت سے ایک گرم آنسو ٹوٹ کر اس کی پلکوں سے گرا اور حازم کے چہرے پر جا ٹھہرا۔ امل نے جلدی سے ٹشو پیپر اٹھایا اور نہایت لمسِ مہر و محبت سے اس کا چہرہ صاف کیا، جیسے کوئی بہت نایاب شے سنبھال رہی ہو۔ اس کی ہنسی اور آنسوؤں کا یہ امتزاج اس بات کا گواہ تھا کہ وہ اس شخص کی محبت میں کس حد تک قید ہو چکی ہے۔
اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ رات جیسے ٹھہرسی گئی. اسے یقین نہیں
آ پا رہا تھا کہ حازم. اسکے قریب موجود ہے. حازم کا اسکے ساتھ ہونا اسے ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے آسمان غیر ارادی توڑ پر بنجر زمین سے جا مِلا ہو.
پہلی بار یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے
آج امل کو سب مل گیا ہو بنا فریاد کیے۔
*°*°*°*°*°*
صبح کی پہلی کرن کھڑکی کے شیشوں سے چھن کر آہستہ آہستہ ڈائننگ ایریا میں پھیل رہی تھی۔ سنہری روشنی کا ایک نرم جھونکا سیدھا حور کے چہرے پر آ کر ٹھہرا۔
اس کی پلکیں ہلکے سے جنبش میں آئیں۔
وہ بے خبری میں صوفے پر ہی سو گئی تھی۔رات بھر بھائی کے انتظار میں جاگتی آنکھیں نہ جانے کب تھکن کے ہاتھوں ہار گئی تھیں، اسے خود بھی معلوم نہ ہو سکا۔جیسے ہی اسے رات یاد آئی، وہ گھبرا کر سیدھی بیٹھی۔
اس کی نظریں بے اختیار گھر کے مرکزی دروازے کی طرف اُٹھ گئیں۔
دروازہ ویسے ہی خاموش کھڑا تھا۔
حازم ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔
اس کے دل میں انجانا سا خدشہ سر اٹھانے لگا۔
اسی دوران رامو کاکا کچن سے ناشتے کی ٹرے لیے باہر آئے۔ ان کے چہرے پر رات بھر کی بے خوابی صاف جھلک رہی تھی۔
انہوں نے بمشکل اپنے چہرے پر اطمینان کا پردہ ڈال رکھا تھا۔
"اُٹھ گئیں میری گڑ یا؟"
(حور نے جواب دینے کے بجائے بے چینی سے پوچھا)
"کاکا... حازم بھائی آئے نہیں؟"
اس کی آواز میں لرزش تھی۔
(رامو کاکا چند لمحے خاموش رہے، پھر نرم لہجے میں بولے)
"شاید کوئی ضروری کام آ گیا ہوگا بیٹا۔ اتنے دن بعد آفس گئے تھے، ممکن ہے، میٹنگز لمبی ہو گئی ہوں۔"
مگر یہ الفاظ صرف حور کو تسلی دینے کے لیے تھے۔
کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ رات بھر وہ خود بھی ایک لمحہ نہ سو سکے تھے۔
انہوں نے بارہا حازم کو فون کیا تھا۔
مگر ہر بار ایک ہی جواب ملا تھا۔
فون بند تھا۔
حور کی آنکھوں میں بے یقینی اُتر آئی۔
"لیکن کاکا... بھائی کبھی ایسا نہیں کرتے۔ اگر دیر بھی ہو جائے تو مجھے ضرور بتاتے ہیں۔"
اس کی آواز آہستہ آہستہ بھرنے لگی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا اور حازم کا نمبر ملایا۔
دل کی دھڑکنیں جیسے ہر رنگ ٹون کے ساتھ تیز ہوتی جا رہی تھیں۔
مگر اگلے ہی لمحے وہی بے جان پیغام سنائی دیا۔
فون بند تھا۔حور کا دل دھک سے رہ گیا۔اس نے دوبارہ کال کی۔پھر تیسری بار۔مگر نتیجہ وہی تھا۔
خاموشی...
بے رحم، طویل اور پریشان کن خاموشی۔
اس کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی۔
"کاکا... اگر بھائی ٹھیک ہوں تو فون بند کیوں ہے؟"
اب اس کے لہجے میں خوف صاف سنائی دے رہا تھا۔رامو کاکا کا اپنا دل بھی اندیشوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا، مگر وہ جانتے تھے کہ اس وقت اگر وہ خود کمزور پڑ گئے تو حور کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔وہ اس کے قریب آئے اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"اللہ پر بھروسہ رکھو گڑ یا۔ حازم بیٹا بالکل خیریت سے ہوں گے۔ کبھی کبھی انسان کاموں میں ایسا الجھ جاتا ہے کہ دنیا سے رابطہ ہی نہیں رہتا۔"
مگر یہ کہتے ہوئے ان کی اپنی آواز بھی پوری طرح مطمئن نہ تھی۔
(حور نے سر جھکا لیا)
اسے پہلی بار حازم کی لاپروائی پر غصہ بھی آ رہا تھا اور خوف بھی۔
وہ جانتی تھی کہ اس کے بھائی نے زندگی میں بہت کچھ جھیلا تھا، مگر اس نے کبھی اپنے چاہنے والوں کو یوں بے خبر نہیں چھوڑا تھا۔
رات کی سجی ہوئی روشنیاں اب بُجھ چکی تھیں۔
براونی ویسے ہی میز پر رکھی تھی۔
کھانے ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔
اور وہ سرپرائز، جس کے لیے حور نے اپنا دل لگا دیا تھا، اب خاموشی سے ایک کونے میں پڑا انتظار کر رہا تھا۔
انتظار...
جو کبھی کبھی انسان کو تھکا دیتا ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔
حور بار بار دروازے کی طرف دیکھتی، پھر موبائل کی اسکرین پر نظر ڈالتی۔
جیسے اسے یقین ہو کہ اگلے ہی لمحے فون بجے گا اور دوسری طرف حازم کی مانوس آواز ہوگی۔
مگر فی الحال گھر کی فضا میں صرف ایک چیز تھی...
بے چینی۔
ایسی بے چینی جو محبت کرنے والوں کے حصے میں تب آتی ہے، جب ان کا اپنا کوئی شخص بغیر خبر دیے اچانک خاموش ہو جائے۔
*°*°*°*°*°*
حازم کی آنکھ کھُلی تو کسی شاہی بستر پر موجود تھا۔
حازم نے آہستہ آہستہ پلکیں جھپکائیں۔
سر میں ہلکا سا بوجھ تھا اور ذہن پر دھند کی ایک تہہ سی چھائی ہوئی تھی۔
جب نگاہ پوری طرح کُھلی تو وہ چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا۔
یہ اس کا کمرہ نہیں تھا۔
کمرہ نہایت خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ دیواروں پر نفیس آرائش، ہلکے رنگوں کا امتزاج، قیمتی پردے اور شاہانہ فرنیچر پورے ماحول کو ایک خاص دلکشی دے رہے تھے۔ جس بستر پر وہ موجود تھا وہ بھی غیرمعمولی طور پر آرام دہ اور پرتعیش تھا۔
حازم نے پیشانی پر ہاتھ رکھا اور اُٹھنے کی کوشش کی۔اسی لمحے کمرے کے باہر سے قدموں کی ہلکی چاپ سنائی دی۔
دروازہ کُھلا۔
قدموں کی چاپ کافی تیز تھی شاید کوئی لڑکی تھی. آواز مزید تیز ہوتی گئی. کوئی لڑکی کمرے میں داخل ہوئی۔
اور امل تھی۔
اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھا۔
جیسے ہی اس کی نظر جاگتے ہوئے حازم پر پڑی، اس کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
گڈ مارننگ....... حازم!
مگر حازم کے چہرے پر حیرت نمایاں تھی۔
"تم؟"
اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔
(امل نے دھیرے سے سر ہلایا)
"اچھا ہوا تم جاگ گئے۔"
حازم بستر سے اٹھنے لگا مگر یکایک اسے شدید چکر آیا۔
اس کا توازن بگڑا اور وہ دوبارہ بستر کے کنارے پر بیٹھ گیا۔
امل فوراً آگے بڑھی۔
"حازم...!"
مگر اس سے پہلے کہ وہ قریب پہنچتی، حازم نے صرف ایک انگلی کے اشارے سے اسے وہیں رُکنے کا حکم دیا۔
(امل کے قدم یکدم ٹھہر گئے)
وہ خاموشی سے وہیں کھڑی رہ گئی۔
"یہ کافی تمہارے لیے ہے۔"
(امل نے آہستگی سے مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا)
حازم کی نظریں اس پر جمی تھیں۔
سرد...
بے تاثر...
مگر ان گہری آنکھوں میں دبی ہوئی برہمی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
امل نے ہمت کر کے دوبارہ ایک قدم آگے بڑھایا۔
"پلیز... میری بات—"
(وہ بولی)
"آخر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو تم؟"
حازم کی بلند آواز نے اس کی بات کاٹ دی۔
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
امل کے چہرے کا رنگ ہلکا سا اُڑ گیا۔
"میری بات تو سنو..."
(امل نے مدھم لہجے میں کہا)
اسی دوران حازم کی نظر اپنے جسم پر پڑی۔
اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔اُس کی نظر جیسے ہی اپنے کھلے سینے پر پری وہ دنگ رہ گیا۔
اس نے چند لمحے خاموشی سے خود کو دیکھا۔
اس کی نظریں آہستہ آہستہ اُٹھیں اور امل کے چہرے پر جا ٹھہریں۔
وہ نگاہ اتنی گہری تھی کہ امل کا دل بے اختیار لرز گیا۔
"یہ سب کیا ہے؟"
حازم کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ سرد تھی۔
امل نے گھبرا کر اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
"کل رات تم نے بہت زیادہ ڈرنک لے لی تھی۔ تم ہوش میں نہیں تھے۔"
(اس نے دھیرے سے کہنا شروع کیا)
"میں تمہیں یہاں لے آئی... اور مشروب تمہاری شرٹ پر گر گیا تھا۔ اسی لیے مجھے شرٹ اُتاڑنی پری۔"
اس کے لہجے میں صفائی کم اور احتیاط زیادہ تھی۔
وہ پوری کوشش کر رہی تھی کہ حازم اس کی نیت کو غلط نہ سمجھے۔
مگر حازم کی آنکھوں میں اُبھرتی سختی کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو گئی۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
اتنا خاموش کہ امل کو اپنی دھڑکنوں کی آواز سنائی دینے لگی۔
"میرا فون کہاں ہے؟"
(آخرکار حازم نے پوچھا)
امل نے فوراً میز کی طرف اشارہ کیا۔
"وہاں رکھا ہے۔"
حازم نے فون اٹھایا۔
اسکرین سیاہ تھی۔فون بند تھا۔اس کے جبڑے بھنچ گئے۔
رات بھر کی گمشدگی، بند فون اور گھر والوں کا خیال یکدم اس کے ذہن میں آیا۔
اس کی آنکھوں میں غصے کی ایک چمک ابھری۔
اگلے ہی لمحے اس نے جھنجھلاہٹ سے فون بستر پر پھینک دیا۔
اچانک بستر سے اُٹھ کر امل کے بازوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے تھام لیا. اتنی ذور سے کے امل کچھ دیر تھم سا گئی. حازم اس کے قریب آیا. اتنا قریب کہ وہ نظر چکا گئی. حازم کی آنکھوں میں جلال تھا. جسے امل نے محسوس تو کیا تھا. لیکن اسے اتنا قریب دیکھ کر جیسے اسے اسکے مردانہ ہاتھ کی گرفت بھی نرم محسوس ہو نے لگی.
امل......
(حازم کی آواز کمرے میں گونجی)
امل جیسے سننے کے با وجود بے جان سی کھڑی تھی.
حازم نے ایک جھٹکے سے امل کو چھوڑا.
(Damn it)
اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
بیڈ پر پڑی اپنی شرٹ اُٹھائی اور اسے پہننا شروع کیا. اسکی آتش بھری نگاہ اب بھی امل پر تھی. امل خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی.حازم نے غصہ میں شرٹ کے بتن سہی بند بھی نہیں کیے تھے.
اس نے تیزی سے اپنا فون گاڑی کی چابی اٹھائی ، قریب پڑا اپنا کوٹ تھاما اور بغیر ایک لفظ کہے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
"حازم..."
امل کی آواز بے اختیار اس کے پیچھے نکلی۔
مگر اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔
دروازہ کھلا۔اور پھر بند ہو گیا۔امل وہیں کھڑی رہ گئی۔
کمرے میں اب بھی اس کی لائی ہوئی کافی سے ہلکی خوشبو اُٹھ رہی تھی، مگر جس شخص کے لیے وہ کافی لائی گئی تھی، وہ ایک لمحہ بھی ٹھہرنا گوارا نہ کر سکا تھا۔
امل کی نظریں بند ہوتے دروازے پر جمی رہیں۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ محبت کسی کے دل میں زبردستی جگہ نہیں بنا سکتی۔
مگر دل شاید منطق نہیں سمجھتے۔
وہ ہر بار اُمید کا ایک نیا چراغ جلا لیتے ہیں، چاہے قسمت ہر بار اسے بجھا دے۔
امل نے آہستہ سے نظریں جھکا لیں۔
اس کے لبوں پر ایک شکستہ سی مسکراہٹ ابھری۔
اور دل میں صرف ایک احساس باقی رہ گیا...
حازم کی خاموشی، اس کے غصے سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
*°*°*°*°*°*
سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر جلوہ گر تھا۔ اس کی سنہری کرنیں کھڑکیوں سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھیں اور ماحول میں ایک دلنشیں سی روشنی بکھیر رہی تھیں۔
کمرے کے وسط میں نیہا اپنے نکاح کا لباس پہنے کھڑی تھی۔
اس کے چہرے پر خوشی کی ایسی چمک تھی جو کسی بھی زیور کی محتاج نہ تھی۔
کبھی وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر دوپٹے کا گھونگھٹ سنوارتی، کبھی لباس کا گھیر پھیلا کر خود کو دیکھتی اور کبھی شرماتے ہوئے مسکرا دیتی۔
یہ وہی لباس تھا جو گزشتہ روز سعد نے اپنی پسند سے نکاح کے لیے خریدا تھا۔
ہر بار لباس پر نظر پڑتے ہی اس کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی۔
گویا اس لباس میں صرف دھاگے اور کپڑا نہیں، کسی کی محبت بھی پروئی گئی تھی۔
ادھر عنایہ بھی اپنی شادی کی خریداری کافی حد تک مکمل کر چکی تھی۔
وہ خاموشی سے نیہا کی خوشیاں دیکھ رہی تھی۔
دل کے کسی گوشے میں اپنی آنے والی زندگی کے خیال بھی موجود تھے، مگر اس لمحے اسے نیہا کی خوشی اپنی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔
رابعہ بیگم اور علی بھی وہیں موجود تھے۔
دونوں کی نظریں بار بار نیہا پر جا ٹھہرتیں اور ان کے چہروں پر اطمینان بکھر جاتا۔
گھر میں مدتوں بعد ایسی رونق لوٹی تھی۔ایسی رونق جس میں دکھوں کی پرچھائیاں نہیں تھیں۔
علی حسبِ عادت نیہا کو چھیڑنے میں مصروف تھا. بھائیوں کا کام ہے بہنوں کو بلا وجہ چھیڑنا۔
"ارے بھئی، ابھی سے اتنی تیاری؟
ابھی تو نکاح میں چند روز ہیں اور آپ ابھی سے دلہن بنی بیٹھی ہیں !"
(علی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا)
(نیہا نے گُھور کر اسے دیکھا)
"علی تم بس موقع ڈھونڈتے ہو مجھے تنگ کرنے کا!"
"کیونکہ آپ آسانی سے تنگ ہو جاتی ہو۔"
(علی نے فوراً جواب دیا۔)
عنایہ اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکی۔
نیہا نے قریب پڑا ہوا تکیہ اُٹھایا اور پوری قوت سے علی کی جانب پھینک دیا۔
علی ہنستا ہوا ایک طرف ہٹ گیا۔
اگلے ہی لمحے کمرے میں قہقہوں کی آواز گونج اٹھی۔
وہ ہنسی...
جو اس گھر نے برسوں بعد سنی تھی۔
وہ ہنسی جس میں اپنائیت تھی، سکون تھا اور بکھرتے رشتوں کے دوبارہ جڑنے کی خوشی بھی۔
اسی دوران فون کی گھنٹی فضا میں گونجی۔رابعہ بیگم نے موبائل کی اسکرین پر نظر ڈالی۔کال فاضل صاحب کی تھی۔
رضا کے والد۔
ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
"میں ابھی آتی ہوں۔"
وہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئیں تاکہ اطمینان سے اپنے بھائی سے بات کر سکیں۔
ادھر علی اپنی شرارتوں سے باز آنے والا نہیں تھا۔
وہ مسلسل نیہا کو چھیڑ رہا تھا اور نیہا ہر بار جھنجھلا کر اسے خاموش کرانے کی کوشش کرتی۔
مگر اس کی جھنجھلاہٹ بھی مسکراہٹوں میں لپٹی ہوئی تھی۔
کمرے میں قہقہوں کی بازگشت پھیلی ہوئی تھی۔عنایہ خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔اس کے لبوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ تھی۔شاید خوشی کا اصل مطلب یہی ہوتا ہے...اپنے لوگوں کو مسکراتا ہوا دیکھنا۔
اور آج مدتوں بعد اس گھر کے در و دیوار بھی جیسے مسکرا رہے تھے۔
فضا میں محبت تھی، اپنائیت تھی، اور آنے والے خوبصورت دنوں کی ایک روشن سی اُمید بھی۔
اتنے میں عنایہ کے فون پر میسج آیا اسے دیکھتے ہی عنایہ کِھلکِھلا اٹھی یقیناً وہ رضا کا میسج تھا. عنایہ بھی کمرے سے جا چکی تھی۔نیہا اور علی دونوں اپنی مستی میں تھے.
*°*°*°*°*°*
باہر کا موسم کافی خوبصورت تھا. لیکن حازم کے اندر ایک چنگاری تھی. جسے وہ با مشکل سنبھالے تھا۔
گاڑی کے شیشوں سے دھوپ اپنا راستہ بنائے، تھی حازم غصے سے بھرا اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔ امل کی حرکت ابھی تک اس کے ذہن میں ہتھوڑوں کی طرح گونج رہی تھی۔ اس کا سر پہلے ہی درد سے پھٹا جا رہا تھا اور اب غصہ اس تکلیف کو کئی گنا بڑھا رہا تھا۔وہ پاڑٹی میں اپنا غم کم کرنے گیا تھا وہ غم جو اسے کبھی چِھڑ کر احساس دِلاتا تھا. وہ کب امل کے فلیٹ آیا اسے کچھ یاد نہیں تھا۔
اس نے جھٹکے سے گاڑی کی رفتار بڑھائی۔ ہاتھ مضبوطی سے اسٹیئرنگ پر جمے ہوئے تھے جبکہ جبڑوں کی سختی اس کے اندر مچتے طوفان کی گواہی دے رہی تھی۔ کبھی وہ بے چینی سے اپنے بکھرے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتا، کبھی انہیں پیچھے کرتا۔ اگلے ہی لمحے اسے یوں محسوس ہوتا جیسے سانس لینا دشوار ہو رہا ہو، چنانچہ اس نے جھنجھلاہٹ سے شرٹ کے چند مزید اوپری بٹن کھول دیئے ۔
سڑک پر رینگتی ہوئی ٹریفک اس کے صبر کا آخری کنارا بھی توڑ رہی تھی۔ ہر رکتی ہوئی گاڑی، ہر سرخ اشارہ اور ہر غیر ضروری ہارن اس کے غصے میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔
آخرکار اس نے ساتھ رکھی سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی، ایک سگریٹ نکالی اور سلگا لی۔ دھوئیں کا پہلا کش اندر اتارا مگر دل کا اضطراب کم نہ ہوا۔ کھڑکی سے باہر نکلتا دھواں اس کے اندر جمع ہوتے غصے کو اپنے ساتھ نہ لے جا سکا۔
اس کے بال بری طرح بکھرے ہوئے تھے، آنکھیں نیند کی کمی اور مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث سرخ ہو چکی تھیں۔ رات بھر وہ گھر نہیں گیا تھا۔ حور کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا۔ اس کا فون بند تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس کی چھوٹی بہن یقیناً پریشان ہو رہی ہوگی، مگر اس وقت وہ کسی سے بات کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔
حازم نے گردن سیٹ کی پشت سے ٹکائی اور آنکھیں چند لمحوں کے لیے بند کر لیں، مگر جیسے ہی عنایہ اور رضا کا ہستا ہوا چہرہ ذہن میں ابھرا، اس کے اندر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں، سگریٹ کا ایک اور کش لیا اور گاڑی کی رفتار مزید تیز کر دی، گویا وہ سڑکوں پر نہیں بلکہ اپنے اندر اٹھتے طوفان سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہو۔
*°*°*°*°*°*
ہال میں بے چینی سی پھیلی ہوئی تھی۔ حور بار بار دروازے کی طرف دیکھتی، پھر چند قدم چل کر واپس آ جاتی۔ اس کے چہرے پر فکر صاف نمایاں تھی۔
اچانک گاڑی کی اور مین ڈور کھلنے کی آواز آئی۔
حور فوراً پلٹی۔
دروازے سے حازم اندر داخل ہوا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، کوٹ ایک ہاتھ میں تھا جبکہ شرٹ کے اوپر کے چند بٹن کھلے ہوئے تھے۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بھی نظر آ رہے تھے۔
"بھائی!"
حور تقریباً دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس سے لپٹ گئی۔
"آپ رات بھر کہاں تھے؟" اس کی آواز شکایت اور فکر سے بھری ہوئی تھی۔ "میں نے آپ کے لیے سرپرائز پلان کیا تھا، آپ نے ایک کال تک نہیں کی۔ آپ تو کبھی ایسا نہیں کرتے۔"
بات کرتے کرتے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
حازم نے خاموشی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور نرمی سے مسکرانے کی کوشش کی۔
"سوری، شہزادی۔ میں تھوڑا بزی تھا۔ بتانا یاد نہیں رہا۔"
(حور نے فوراً سر اٹھا کر اسے دیکھا)
"اتنے بھی بزی نہیں ہوتے کہ ایک میسج نہ کر سکیں۔"
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی مگر آنکھوں کی تھکن چھپ نہ سکی۔
اسی دوران اس کی نظر سامنے کھڑے رامو کاکا پر پڑی جو خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
"السلام علیکم، کاکا۔"
"وعلیکم السلام، بیٹا۔" رامو کاکا نے محبت سے جواب دیا مگر ان کی نگاہوں میں تشویش موجود تھی۔
(حازم نے گہرا سانس لیا)
"میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ رات کافی مصروف گزری، ایک ضروری میٹنگ تھی۔"
(رامو کاکا نے سر ہلایا)
"جی بیٹا، پہلے جا کر آرام سے فریش ہو جاؤ۔ پھر ناشتہ کر لینا۔"
(پھر انہوں نے حور کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا)
"اور بیٹا، آج اپنے بھائی کے لیے خاص ناشتہ لگوا دو۔"
حور نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
حازم نے ایک نظر اپنی بہن پر ڈالی، اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
چند لمحوں بعد وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کر چکا تھا، جبکہ حور اور رامو کاکا اسے جاتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہے۔
جاری ہے..........








