Chapter 15
قسط نمبر 15
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
حازم نہا کر غسل خانے سے باہر نکلا۔چند لمحے آئینے کے سامنے خاموش کھڑا رہا۔ بکھرے ہوئے بالوں کو سنوارتے ہوئے اُس کی نگاہ اپنے عکس پر ٹھہر گئی۔ گیلے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ وہ چند قدم چل کر آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ نظریں اپنے عکس پر جم گئیں مگر دیکھ وہ خود کو نہیں رہا تھا، سوچ کہیں اور بھٹک رہی تھی۔
اچانک گزشتہ رات کا خیال ذہن میں ابھرا۔ امل...
اس کے جبڑے بھنچ گئے
"حد کرتی ہے یہ لڑکی بھی..."
وہ زیرِ لب بڑ بڑایا۔ اُسے یاد آ رہا تھا کہ وہ کس قدر بے ہوش اور بے خبر تھا، اور امل اُسے اپنے فلیٹ تک لے گئی تھی۔ یہ سوچ ہی اُس کے لیے کافی تھی کہ غصہ اس کی رگوں میں دوڑنے لگے۔ وہ ایسا شخص نہیں تھا جو اپنی کمزوری کسی کے سامنے ظاہر کرے، اور گزشتہ رات وہ اپنی زندگی کے بدترین لمحوں میں سے ایک لمحہ جی چکا تھا۔
اس نے جھنجھلاہٹ سے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور الماری سے قمیص نکال کر پہن لی۔مگر ذہنی انتشار کم نہ ہوا۔
مگر اگلے ہی لمحے ایک اور خیال نے دل پر دستک دی۔
عنایہ...
آئینے میں اپنی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔
"تو آخر مجھے کیا ہو گیا ہے؟"
اس نے خود سے سوال کیا۔
"وہ میری کبھی تھی ہی نہیں... پھر اس کے کسی اور کا ہونے کا خیال اتنا بھاری کیوں لگتا ہے؟"
کمرے کی خاموشی اور گہری ہو گئی۔
وہ آئینے کے قریب آیا، دونوں ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیے۔
"فرق نہیں پڑتا..."
اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"بالکل فرق نہیں پڑتا...
مگر آواز میں وہ یقین موجود نہیں تھا جو الفاظ میں تھا۔
ایک تلخ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری۔
"عجیب بات ہے... کچھ لوگ ہمارے نصیب میں نہیں ہوتے، پھر بھی دل اُنہیں اپنا سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔"
اس نے نظریں جھکا لیں...
"اور سب سے مشکل جنگ وہ ہوتی ہے جس میں انسان کو کسی اور سے نہیں، اپنے ہی دل سے ہار ماننی پڑے۔"
ایک لمحے کو اُس کی آنکھوں میں اداسی لہرا گئی۔
عنایہ کسی اور کی ہونے والی تھی۔
یہ حقیقت شاید اتنی تکلیف دہ نہیں تھی جتنا یہ احساس کہ وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
حازم نے ایک گہرا سانس لیا،
کمرے میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی، مگر حازم کے اندر سوالوں، الجھنوں اور بے نام احساسات کا شور برپا تھا۔ وہ چند لمحے مزید آئینے کے سامنے کھڑا رہا، پھر نگاہیں جھکا کر کمرے سے باہر نکل گیا، جیسے اپنے ہی خیالات سے فرار حاصل کرنا چاہتا.
کیونکہ بعض اوقات انسان جگہوں سے نہیں، اپنے احساسات سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔
*°*°*°*°*°*°*
چند ہفتوں بعد....
صبح کی سنہری دھوپ کھڑکی سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی۔ کمرے میں شادی کے جوڑوں، جیولری کے ڈبوں تحفوں بِکھڑے تھے اور پھولوں کی خوشبو کمرے میں رچی ہوئی تھی۔ گزشتہ رات کی مہندی کی ہلکی ہلکی مہک اب بھی فضا میں موجود تھی۔
عنایہ اپنے بستر پر بیٹھی تھی جبکہ اس کی بچپن کی دوست زہرا اپنے شوہر کے ساتھ خصوصی طور پر ترکی سے اس کی شادی میں شرکت کے لیے آئی تھی، اس کے برابر بیٹھی ہوئی تھی۔
"ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میری وہی عنایہ دلہن بننے والی ہے۔"
(زہرا نے مصنوعی افسوس سے سر ہلایا)
"اور مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم اتنی دور سے صرف میری شادی کے لیے آئی ہو۔"
(عنایہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔)
"صرف؟ محترمہ! میں نے ترکی سے فلائٹ لی ہے، چھٹیاں لی ہیں اور سب کو بتایا ہے کہ میری سب سے اچھی دوست کی شادی ہے۔"
(دونوں ہنس پڑ یں) ۔
"ویسے الحمدللہ میرے آخری پیپرز بھی بہت اچھے ہوئے ہیں۔"
(عنایہ نے خوشی سے بتایا) ۔
"پہلے ڈگری مکمل، پھر شادی۔ واہ! تم تو زندگی کے سارے مرحلے ایک ساتھ عبور کر رہی ہو۔"
(زہرا نے چھیڑا)
"بس دعا کرو رزلٹ بھی اچھا آ جائے۔"
"رزلٹ اچھا آئے یا نہ آئے، دلہن تو تم خوبصورت لگو گی۔"
(زہرا نے آنکھ مارتے ہوئے کہا)
(عنایہ شرما کر ہنس دی)
"آؤ تمہیں میرا بریڈل ڈریس دکھاتی ہوں۔"
وہ فوراً الماری کی طرف بڑھی اور احتیاط سے لہنگے کا کور ہٹایا۔
بھاری کام سے سجا خوبصورت جوڑا سامنے آیا۔
"یا اللہ!"
(زہرا بے اختیار بولی) ۔
"یہ تو بہت خوبصورت ہے"
"ہاں نا میری اور رضا کی پسند ہے؟"
(عنایہ بولی)
"قسم سے! بارات والے تو تمہیں دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔"
(عنایہ کے گال ہلکے گلابی ہو گئے) ۔
اسی دوران اس کا فون بجا۔
سکرین پر ان نون نمبر جگمگا رہا تھا۔
اس نے ایک نظر دیکھی اور کال نظر انداز کر دی۔
"کون تھا؟"
(زہرا نے پوچھا) ۔
"پتا نہیں، کوئی ان نون نمبر ہے۔"
(عنایہ نے لاپرواہی سے فون ایک طرف رکھ دیا)۔
دونوں دوبارہ پرانی یادوں میں کھو گئیں۔
کبھی سکول کے قصے، کبھی کالج کی شرارتیں، کبھی وہ دن جب دونوں گھنٹوں خواب دیکھا کرتی تھیں کہ ان کی شادیاں کیسی ہوں گی۔آج وہی حقیقت بن چکا تھا.
کچھ دیر بعد فون دوبارہ بجا۔
وہی نمبر۔
اس بار عنایہ نے کال اٹھا لی۔
"ہیلو؟"
خاموشی......
"ہیلو؟ کون بول رہا ہے؟"
دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
"ہیلو؟"
چند لمحے گزرے اور کال کٹ گئی۔
عنایہ نے حیرانی سے فون کو دیکھا۔
"کون تھا؟"
(زہرا نے دوبارہ پوچھا) ۔
"پتا نہیں۔ عجیب لوگ ہیں، فون کرتے ہیں اور بولتے بھی نہیں۔"
اس نے کندھے اچکائے اور بات ختم کر دی۔
"شاید کوئی خفیہ عاشق ہو۔"
(زہرا نے شرارت کی) ۔
"چپ کرو!"
عنایہ نے کشن اس کی طرف پھینکا اور دونوں ہنس پڑ یں۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور نیہا اندر داخل ہوئی۔
آج اس کے چہرے پر بھی الگ سی چمک تھی کیونکہ آج رات اس کا نکاح تھا۔
"واہ! یہاں تو میرے بغیر محفل لگی ہوئی ہے۔"
نیہا نے مصنوعی ناراضی سے کہا۔
"آؤ دلہن صاحبہ!"
(زہرا فوراً بولی) ۔
"تم بھی تو آج رات دلہن بننے والی ہو۔"
(نیہا شرما گئی) ۔
"بس کرو آپ دونوں۔"
عنایہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔
تینوں لڑکیاں کپڑوں، جیولری، میک اپ، بارات اور نکاح کی باتوں میں مصروف ہو گئیں۔
(اچانک نیہا کا فون بج اٹھا) ۔
سکرین پر سعد کا نام چمک رہا تھا۔
زہرا نے فوراً دیکھ لیا۔
"اوہ ہو... دلہے میاں کا فون!"
نیہا کے گال سرخ ہو گئے۔
"آپی۔"
اس نے شرمندگی سے فون اٹھایا۔
"جی...؟"
دوسری طرف سعد کچھ کہہ رہا تھا اور نیہا کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
عنایہ اور زہرا ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔
"میں ابھی آتی ہوں۔"
نیہا نے شرماتے ہوئے کہا اور فون کان سے لگائے کمرے سے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے ہی زہرا ہنس پڑی۔
"یہ حال ہے نکاح سے پہلے، نکاح کے بعد کیا ہوگا؟"
عنایہ بھی بے اختیار ہنس دی۔
کمرہ دوبارہ ان کی ہنسی اور پرانی یادوں سے بھر گیا جبکہ آنے والی شام ان دونوں بہنوں کی زندگیوں میں نئی خوشیاں لے کر آنے والی تھیں۔
" عنایہ کے دل میں خوشی، گھبراہٹ اور نئی زندگی کی امیدیں ایک ساتھ جنم لے رہی تھیں۔
گھر کے نچلے حصے میں موجود وہ کمرہ ہمیشہ کی طرح تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔
چھت سے لٹکتا ایک زرد بلب وقفے وقفے سے جھلملا رہا تھا، جس کی مدھم روشنی دیواروں پر خوفناک سائے بنا رہی تھی۔
دروازہ چرچراتا ہوا کھلا۔
کالے بوٹوں کی آواز خاموشی کو چیرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
لمبا سیاہ اوور کوٹ...
سیاہ دستانے...
اور چہرے پر وہی پراسرار ماسک۔
اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں، اور ان آنکھوں میں ایسی ٹھنڈک تھی جو کسی بھی شخص کے دل میں خوف اتار دے۔
کمرے کے وسط میں ایک کرسی پر ایک ادھیڑ عمر شخص بندھا بیٹھا تھا۔
اس کی عمر تقریباً پینتالیس برس لگ رہی تھی۔
اس قیدی کےقریب ایک شخص بیٹھا تھا.
آپ آ گئے باس... پاس بیٹھا شخص یکدم کہرا ہوا ماکس مین نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے وہیں رہنے کا کہا۔
بڑی ہوئی داڑھی، کمزور جسم، اور چہرے پر برسوں کی قید کے نقوش۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر اس نے سر اٹھایا۔
اس کی آنکھوں میں خوف سے زیادہ تھکن تھی۔
"اب... اب تو مجھے جانے دو..."
اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔
"تم جو چاہتے تھے وہ ہو گیا نا؟"
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
"میں تھک گیا ہوں..."
ماسک مین آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔ اس کے بال اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑے.
قیدی درد سے آنکھ بند کر گیا.
اس کی نظریں اس شخص کے چہرے پر جمی تھیں۔
اتنی خاموشی تھی کہ دونوں کی سانسیں تک سنائی دے رہی تھیں۔
پھر اچانک...
وہ ہنس پڑا۔
ایک عجیب، بے جان اور سرد ہنسی۔
ایسی ہنسی جو انسان کے جسم میں سنسنی دوڑا دے۔
"تھک گئے ہو؟"
(ماسک مین نے سر جھکاتے ہوئے سرگوشی کی)
"واقعی؟"
پھر اچانک اس کی ہنسی رک گئی۔
جیسے کسی نے سوئچ آف کر دیا ہو۔
کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
اس نے جھک کر اس شخص کے چہرے کے قریب اپنا ماسک لایا۔
"تمہیں اندازہ بھی ہے..."
اس کی آواز اب دھیمی مگر خطرناک تھی۔
"تھکن کسے کہتے ہیں؟"
قیدی نے نظریں چرا لیں۔
ماسک مین نےجھٹکے سے اسکے بال چھوڑے.
اور چند لمحے اسے گھورتا رہا۔
پھر یکدم غصے سے کرسی پر مکا دے مارا۔
آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
"میری زندگی تباہ ہوئی تھی!"
وہ دھاڑا۔
"میرا بچپن برباد ہوا تھا!"
اس کی سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں۔
"اور تم..."
وہ چند لمحے خاموش ہوا۔
"تم نے کبھی پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔"
قیدی کے ہونٹ کانپے۔
"میں..."
مگر الفاظ گلے میں ہی اٹک گئے۔
ماسک مین نے سر پیچھے جھٹکا اور دوبارہ ہنسنے لگا۔
اس بار پہلے سے زیادہ زور سے۔
جیسے کوئی پاگل آدمی اپنے ہی خیالات پر محظوظ ہو رہا ہو۔
پھر اچانک رک گیا۔
اس کی نظریں دوبارہ اس شخص پر جم گئیں۔
"جانتے ہو مجھے تمہاری سب سے بُری بات کیا لگتی ہے؟"
خاموشی طاری تھی.
"تم ابھی تک خود کو بے قصور سمجھتے ہو۔"
قیدی کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
"میں نے جو بھی کیا..."
(قیدی بمشکل بولا)
"اس کی سزا بہت بڑی ہو چکی ہے۔"
یہ سن کر ماسک مین کی آنکھوں میں ایک خطرناک چمک ابھری۔
"سزا؟"
"نہیں..."
(ماسک مین سیدھا کھڑا ہو گیا)
"یہ سزا نہیں۔"
"یہ حساب ہے۔"
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
صرف بلب کی مدھم روشنی اور دیواروں پر لرزتے سائے باقی رہ گئے۔
ماسک مین دروازے کی طرف بڑھا۔
مگر باہر نکلنے سے پہلے رکا۔
اس نے بغیر پلٹے کہا،
"اور ہمارا حساب ابھی ختم نہیں ہوا..."
یہ کہہ کر ماکس مین مُرا اور کمرے سے باہر نکل آیا اور اُس کے پیچھے آدمی بھی باہر نکل آیا، اب میرے لیے کیا حکم ہے باس؟
ڈینیل ابھی بھی اِس کو ذندہ رکھو ابھی میرا حساب پورا نہیں ہوا۔
یہ کہہ کر ماکس مین چلا گیا۔
اور کمرے میں بیٹھا وہ شخص پہلے سے زیادہ بے بس نظروں سے اندھیرے کو دیکھتا رہ گیا۔
قیدی نے جھکنا چاہا لیکن آواز نکل نا پائی وہ بے بسی سی اس قید کو جھیلنے کا عادی تھا لیکن اب یہ سب وہ اس سب سے بھاگنا چاہتا تھا.
*°*°*°*°*°*°*
دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔
حازم اپنے دفتر میں میز پر جھکا چند ضروری فائلوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی، صرف دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
اسی دوران میز پر رکھا موبائل بج اٹھا۔
سکرین پر سعد کا نام نمایاں ہوا۔
حازم نے کال وصول کی۔
"السلام علیکم!"
دوسری طرف سے سعد کی پُرجوش آواز سنائی دی۔
"وعلیکم السلام۔"
(حازم نے مختصر جواب دیا)
"جناب! آج میرا نکاح ہے، ذرا یاد ہے نا؟"
(سعد نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا)
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
"جی، یاد ہے۔"
"اللہ کا شکر ہے! مجھے لگا تم اپنی فائلوں میں اتنے گم ہو جاؤ گے کہ سیدھا کل مبارک باد دو گے۔"
(حازم خاموشی سے مسکرا دیا) ۔
سعد نے بات جاری رکھی۔
"دیکھو بھائی،ایک گھنٹے تک تم نے ہر حال میں پہنچ جانا ہے۔ دفتر سے جلدی فارغ ہو جاؤ۔ انتظامات بھی دیکھنے ہیں اور مجھے بھی سنبھالنا ہے۔"
"پہنچ جاؤں گا۔"
(حازم نے مختصر جواب دیا)
"بس؟ اتنا ہی؟"
(سعد نے فوراً احتجاج کیا)
"آج میرا نکاح ہے، یار! کچھ جذباتی جملے، کچھ محبت بھری باتیں، کچھ تو بولو۔"
(اس بار حازم ہلکا سا ہنسا)
"اللہ تمہیں خوش رکھے، سعد۔"
چند لمحوں کے لیے سعد خاموش ہو گیا۔
"آمین۔"
(پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا)
"جانتے ہو حازم... میرا کوئی بھائی نہیں. لیکن تم نے کبھی یہ کمی محسوس نہیں ہونے دی۔"
حازم کی نظریں میز پر پڑی فائلوں سے ہٹ کر کھڑکی کی طرف اٹھ گئیں۔
"تم میرے لیے دوست سے بڑھ کر ہو۔"
(سعد کی آواز میں خلوص تھا) ۔
"آج میرے بھائی کی جگہ تم نے ہی سب سنبھالنا ہے۔"
حازم چند لمحے خاموش رہا۔
پھر بولا،
"فکر مت کرو۔ سب ٹھیک ہوگا۔"
(حازم بولا)
"مجھے معلوم تھا تم یہی کہو گے۔"
(سعد ہنس پڑا) ۔
"ویسے بھی میں گھبرا رہا ہوں۔"
"تم گھبرا رہے ہو؟"
(حازم نے پہلی بار چھیڑتے ہوئے پوچھا)
"بھئی دلہا ہوں، کوئی پتھر نہیں!"
سعد نے فوراً جواب دیا۔
"ویسے تمہیں دیکھ کر کبھی کبھی لگتا ہے تم واقعی پتھر ہو۔"
(سعد بولا)
حازم سنجیدہ ہوا۔
"شاید۔"
"خیر، اب جلدی آ جانا۔ میں انتظار کروں گا۔"
"ان شاء اللہ۔"
(حازم بولا)
کال ختم ہو گئی۔
حازم نے موبائل میز پر رکھا اور چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔
اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی، مگر آنکھوں میں اپنے دوست کے لیے خوشی کی ایک ہلکی سی جھلک نمایاں تھی۔
اس نے گھڑی پر نظر ڈالی، فائل بند کی اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
آج سعد کی زندگی کا اہم ترین دن تھا۔
اور وہ جانتا تھا کہ اپنے دوست کو اس دن تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔
*°*°*°*°*°*°*
کمرے میں ہلکی ہلکی چہل پہل تھی۔
پارلر جانے کا وقت قریب آ چکا تھا۔
عنایہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بال سنوار رہی تھی جبکہ اس کے چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی۔
آج اس کی شادی تھی۔
آج وہ اپنی نئی زندگی کی دہلیز پر کھڑی تھی۔
اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور دوسری جانب رضا موجود تھا۔
دونوں کافی دیر سے باتوں میں مصروف تھے۔
"تو محترمہ، دلہن صاحبہ کی تیاری مکمل ہو گئی؟"
(رضا نے چھیڑتے ہوئے پوچھا)
عنایہ مسکرا دی۔
"ابھی کہاں؟ ابھی تو پارلر جانا ہے۔"
"مجھے تو لگتا ہے تم ویسے ہی بہت خوبصورت لگتی ہو۔"
(رضا نے نرمی سے کہا)
عنایہ کے گال سرخ ہو گئے۔
"آپ بھی نا..."
"میں بھی کیا؟"
"بہت تنگ کرتے ہیں۔"
(عنایہ بولی)
رضا ہنس پڑا۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد عنایہ نے دھیرے سے کہا،
"آج آپ مجھے لینے آ رہے ہیں نا؟"
رضا کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔
"شاید۔"
(عنایہ چونک گئی) ۔
"شاید؟"
"ہاں، اگر میرا دل بدل گیا تو؟"
رضا نے جان بوجھ کر سنجیدہ لہجہ اختیار کیا۔
(عنایہ کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی) ۔
"رضا..."
"ہمم؟"
"ایسی بات مت کیا کریں۔"
اس کی آواز میں ہلکی سی ناراضی اور خوف دونوں تھے۔
"میں سچ کہہ رہی ہوں۔"
(عنایہ بولی)
رضا خاموش رہا۔
"میں صبح سے اسی بات کے بارے میں سوچ رہی ہوں آج ہماری بارات ہے..."
(عنایہ نے دھیرے سے کہا)
اس کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
"اور پھر..."
وہ شرما کر رُک گئی۔
"اور پھر؟"
رضا نے جان بوجھ کر پوچھا۔
عنایہ نے نظریں جھکا لیں۔
"اور پھر ہم ہمیشہ کے لیے ایک ہو جائیں گے۔"
(عنایہ بولی)
چند لمحوں تک دوسری طرف خاموشی رہی۔
پھر رضا کی ہنسی سنائی دی۔
"عنایہ!"
"کیا ہوا؟"
"تم واقعی میری باتوں میں آ گئی تھیں؟"
عنایہ نے فوراً منہ بنایا۔
مگر نہ جانے کیوں رضا کی آواز میں ایک لمحے کو عجیب سی تھکن اور ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔
جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو...
مگر کہہ نہ پا رہا ہو۔
"کیا ہوا؟"
(عنایہ نے فوراً پوچھا)
"کچھ نہیں۔"
(رضا نے جلدی سے جواب دیا)
"بس آج کا دن خاص ہے۔"
(رضا نے کہا)
"میرے لیے بھی۔"
(عنایہ نے آہستہ سے کہا)
اتنے میں دروازہ کھلا۔
زہرا اندر داخل ہوئی۔
"دلہن صاحبہ!"
(اس نے بلند آواز میں کہا)
"گاڑی تیار ہے نیہا گاڑی میں بیٹھ چکی ہے، اگر آپ کا رومانوی اجلاس ختم ہو گیا ہو تو پارلر چلیں؟"
عنایہ شرمندگی سے ہنس پڑی۔
"ایک منٹ۔"
زہرا مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی۔
عنایہ نے دوبارہ فون کان سے لگایا۔
"مجھے جانا ہوگا۔"
"ہاں، جاؤ۔"
(رضا نے کہا)
"اور سنو..."
"جی؟"
"آج بہت زیادہ خوبصورت مت لگنا۔"
(عنایہ ہنس دی)
"کیوں؟"
"کیونکہ پھر سب کی نظریں تم پر ہوں گی..."
(رضا نے توقف کے بعد کہا)
"اور مجھے یہ بالکل پسند نہیں آئے گا۔"
عنایہ کے گال سرخ ہو گئے۔
"اللہ حافظ۔"
(عنایہ نے شرما کر کہا)
"اللہ حافظ، دلہن صاحبہ۔"
رضا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
کال منقطع ہو گئی۔
عنایہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس نے آخری بار آئینے میں خود کو دیکھا، پھر اپنا پرس اٹھایا اور خوشی خوشی زہرا کے ساتھ چل دی۔
*°*°*°*°*°*°*
شام اپنے سنہری رنگ سمیٹتے ہوئے آہستہ آہستہ رات کی آغوش میں اتر رہی تھی۔
حازم ابھی کچھ دیر پہلے ہی دفتر سے واپس آیا تھا۔
اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے کوٹ ایک طرف رکھا اور چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
آج سعد کا نکاح تھا..
اور عنایہ کی بارات۔
دل کے کسی گوشے میں ایک مدھم سا درد ضرور تھا، مگر وہ اس درد کے ساتھ جینا سیکھ چکا تھا۔
بعض محبتیں حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتیں...
صرف دعا دینے کے لیے ہوتی ہیں۔
حازم نے الماری کھولی۔
کئی قیمتی سوٹ وہاں ترتیب سے لٹکے ہوئے تھے مگر اس کی نظریں ایک نیلگوں رنگ کے سوٹ پر جا ٹھہریں۔
اس نے وہ سوٹ نکالا۔
گہرے نیلے رنگ کا تھری پیس سوٹ، جس کے ساتھ سفید قمیص اور سلور رنگ کی ٹائی رکھی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ لباس زیب تن کر چکا تھا۔
اس کا بلند قد، چوڑے کندھے اور مضبوط جسم اس لباس میں مزید نمایاں ہو رہے تھے۔
سالہا سال کی ورزش نے اس کے وجود کو غیر معمولی تناسب بخشا تھا۔
مضبوط بازو...
کشادہ سینہ...
اور پرکشش شخصیت۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال ترتیب دے رہا تھا۔
اس کی انگلیاں بالوں میں چل رہی تھیں جبکہ نگاہیں آئینے میں اپنے عکس پر جمی تھیں۔
چند لمحوں بعد اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
مصنوعی...
مگر پُرسکون۔
"خوش رہو، عنایہ..."
اس نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
"تمہیں خوش دیکھنا ہی کافی ہے۔"
اس کی آواز میں کوئی شکوہ نہیں تھا۔
کوئی شکایت نہیں تھی۔
صرف قبولیت تھی۔
ایک خاموش قبولیت۔
وہ مڑا اور لمبے قدموں سے گھر کے اُس حصے کی طرف بڑھ گیا جہاں اس کا نجی پینٹنگ روم تھا۔
دروازہ کھولتے ہی رنگوں کی مدھم خوشبو فضا میں پھیل گئی۔
کمرے کی سب سے نمایاں دیوار کے قریب ایک تصویر آویزاں تھی۔
عنایہ کی تصویر۔
وہ چند لمحے خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔
اس کی نگاہوں میں عجیب سی نرمی اتر آئی۔
"مبارک ہو..."
(اس نے دھیمے لہجے میں کہا) ۔
"آخرکار تم اپنی منزل تک پہنچ ہی گئیں۔"
کمرے میں خاموشی تھی۔
مگر وہ جیسے دل کا بوجھ ہلکا کر رہا تھا۔
"جانتی ہو؟"
اس کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ آئی۔
"میں نے کبھی تمہیں پانے کی دعا نہیں کی..."
"بس تمہیں خوش دیکھنے کی دعا کی تھی۔"
اس کی نظریں تصویر پر جمی تھیں۔
"اور آج میری دعا قبول ہو گئی۔"
وہ بے اختیار ہاتھ بڑھانے لگا۔
جیسے تصویر کو چھو لینا چاہتا ہو۔
مگر اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ فضا میں رک گیا۔
اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کو درد ابھرا۔
پھر اس نے آہستگی سے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
"نہیں..."
(وہ خود سے بولا) ۔
"تم میری نہیں ہو۔"
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر وہ مسکرایا۔
وہی خاموش اور باوقار مسکراہٹ۔
"یکطرفہ محبت کا سب سے خوبصورت انجام وصال نہیں..."
"بلکہ محبوب کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کر لینا ہے۔"
اس نے تصویر کو آخری بار دیکھا۔
"خدا حافظ، عنایہ۔"
"ہمیشہ خوش رہنا۔"
وہ مڑا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے سے نکلتے وقت اس نے ایک بار پھر پلٹ کر تصویر کو دیکھا اور پھر باہر آ گیا۔
نیچے ہال میں اس کی بہن حور موجود تھی.
"واہ!"
(حور خوشی سے بولی) ۔
"حازم بھائی! آج تو آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں۔"
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
"شکریہ۔"
"کہاں جا رہے ہیں؟"
(حور نے پوچھا)
"آج سعد کی شادی ہے ۔"
"کافی انتظامات دیکھنے ہیں۔"
(حازم نے جواب دیا)
(حور نے سر ہلایا)
پھر حازم نے گھر کے پرانے ملازم راموں کاکا کی طرف دیکھا۔
"کاکا، حور کو وقت پر کھانا کھلا دیجیے گا۔"
"جی صاحب۔"
(کاکا بولے)
"اور حور..."
(اس نے بہن کی طرف دیکھا)
"اپنا کا خیال رکھنا۔"
"جی بھائی۔"
(حور نے مسکرا کر جواب دیا)
حازم نے میز سے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر آ گیا۔
ڈرائیور پہلے ہی گاڑی نکال چکا تھا۔
"صاحب؟"
حازم نے نفی میں سر ہلایا۔
"نہیں۔ آج میں خود ڈرائیو کروں گا۔"
"جی بہتر۔"
اس نے ڈرائیور کو رخصت کر دیا۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا۔
انجن اسٹارٹ ہوا۔
ہیڈ لائٹس روشن ہوئیں۔
اور چند لمحوں بعد گاڑی آہستہ آہستہ گھر کے دروازے سے باہر نکل گئی۔
اس کے چہرے پر سکون تھا۔
دل میں درد بھی تھا...
مگر اس درد کے ساتھ ایک عجیب سی راحت بھی۔
کیونکہ بعض اوقات محبت کا مطلب کسی کو حاصل کرنا نہیں ہوتا...
بلکہ خاموشی سے اس کی خوشیوں کے لیے دعا کرتے رہنا ہوتا ہے۔
*°*°*°*°*°*°*
ہال کے بڑایڈل روم میں نرم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
ہلکے سنہری رنگ کے پردے ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ لہرا رہے تھے جبکہ کمرے میں گلاب اور عطر کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
عنایہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔
گہرے سرخ عروسی لباس، نفیس زیورات اور ہاتھوں پر سجی مہندی نے اس کی خوبصورتی کو اور بھی بڑھا دیا تھا۔
اس کے برابر نیہا بیٹھی تھی۔
آج اس کا بھی نکاح تھا۔
وہ بھی خوبصورت سفید لباس میں ملبوس کسی شہزادی کا منظر پیش کر رہی تھی۔
دونوں بہنیں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیتیں اور پھر شرما کر نظریں جھکا لیتیں۔
اسی دوران دروازہ کھلا۔
رابعہ بیگم اندر داخل ہوئیں۔
جیسے ہی ان کی نظر اپنی دونوں بیٹیوں پر پڑی، ان کے قدم وہیں رُک گئے۔
چند لمحوں کے لیے وہ صرف انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
ان کی آنکھوں میں خوشی بھی تھی اور نمی بھی۔
"ماشاءاللہ..."
ان کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
"میری بچیاں..."
وہ آہستہ آہستہ ان کے قریب آئیں۔
عنایہ اور نیہا نے مسکرا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
رابعہ بیگم نے دونوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔
"اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔"
ان کی آواز بھرئی ہوئی تھی۔
"میری دونوں شہزادیاں آج کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں۔"
پھر انہوں نے فوراً اپنی بیٹیوں کی نظر اتاری۔
صدقہ دیا۔
"اللہ تمہیں ہر بری نظر سے محفوظ رکھے۔"
عنایہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
"امی..."
رابعہ بیگم نے فوراً اس کے گال تھپتھپائے۔
"نہیں، آج رونا نہیں ہے۔"
مگر ان کی اپنی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔
اسی وقت علی بھی کمرے میں داخل ہوا۔
اپنی دونوں بہنوں کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی مگر دل عجیب سی کسک محسوس کر رہا تھا۔
کل تک جو بہنیں اس کے ساتھ لڑتی جھگڑتی تھیں، آج اپنی اپنی نئی زندگیوں کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
"اوہ ہو!"
اس نے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
"یہ میری بہنیں ہیں یا فلم کی ہیروئنیں؟"
(نیہا ہنس پڑی) ۔
"علی!"
علی نے مسکرا کر دونوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔
"اللہ آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔"
اس کی آواز میں عجیب سی نمی تھی۔
مگر اس نے فوراً اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا تاکہ کوئی اس کی آنکھوں کی نمی نہ دیکھ سکے۔
رابعہ بیگم نے بیٹے کی طرف دیکھا۔
وہ جانتی تھیں کہ علی اپنے جذبات چھپا رہا ہے۔
"دیکھا؟"
(انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا)
"تمہاری بہنیں کتنی بڑی ہو گئی ہیں۔"
علی نے سر ہلایا۔
"جی امی..."
بس اتنا ہی کہہ سکا۔
اچانک دروازہ دوبارہ کھلا۔
اور کمرے میں قہقہوں کی آواز گونج اٹھی۔
"ارے واہ!"
ثنا اندر آتے ہی بولی۔
"کیا واقعی یہ ہماری عنایہ اور نیہا ہیں؟"
اس کے پیچھے ترکی سے آئی ہوئی زہرا بھی کھڑی تھی۔
"مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔"
"کل تک یونیورسٹی کی لڑکیاں تھیں اور آج دلہنیں بن گئی ہیں۔"
(زہرا نے حیرت سے کہا)
"تم لوگ بھی نا..."
(نیہا شرما گئی)
"نہیں واقعی!"
(ثنا نے چھیڑا)
"نیہا، ابھی بھی وقت ہے، بھاگنا ہو تو بتا دو۔"
سب زور سے ہنس پڑے۔
"اور عنایہ!"
زہرا نے شرارتی انداز میں کہا۔
"بارات آنے کے بعد ہمیں بھول مت جانا۔"
"ناممکن!"
(عنایہ نے فوراً جواب دیا) ۔
"اچھا؟"
ثنا نے بھنویں اٹھائیں۔
"یہی باتیں شادی سے پہلے سب کرتی ہیں۔"
کمرہ دوبارہ قہقہوں سے بھر گیا۔
رابعہ بیگم اپنی بیٹیوں اور ان کی دوستوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔
ان کے چہروں پر خوشی تھی۔
وہ منظر دیکھ کر دل بھر آتا تھا۔
ان کی بیٹیاں...
ان کی خوشیاں...
ان کے خواب...
سب آج حقیقت بن رہے تھے۔
مگر اسی خوشی کے درمیان اچانک ان کی نظریں کہیں کھو گئیں۔
ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
"کاش..."
(ان کے لبوں سے دھیرے سے نکلا)
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
"کاش تمہارے بابا آج یہاں ہوتے۔"
عنایہ اور نیہا کے چہرے سنجیدہ ہو گئے۔
(علی نے نظریں جھکا لیں) ۔
رابعہ بیگم نے نم آنکھوں سے اپنی بیٹیوں کو دیکھا۔
"وہ آج بہت خوش ہوتے۔"
ان کی آواز لرز گئی۔
"اپنی دونوں بیٹیوں کو اس روپ میں دیکھ کر..."
عنایہ کی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ نکلا۔
نیہا نے فوراً اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا۔
"امی..."
رابعہ بیگم نے مسکراتے ہوئے آنسو صاف کیے۔
"نہیں، آج اداس نہیں ہونا۔"
انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ماتھے چومے۔
"مجھے یقین ہے جہاں بھی ہیں، تمہارے بابا آج تمہارے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے۔"
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر علی نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اور دوسری طرف اپنی دونوں بہنوں کو دیکھا۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
ایک پُرسکون، مطمئن مسکراہٹ۔
کیونکہ آج اگرچہ جدائی کا دن تھا...
مگر یہ جدائی خوشیوں والی تھی۔
ایک ماں کے خواب پورے ہو رہے تھے۔
ایک بھائی کی دعائیں قبول ہو رہی تھیں۔
اور دو بیٹیاں اپنی نئی زندگیوں کی دہلیز پر کھڑی تھیں۔
*°*°*°*°*°*°*
شام اپنے پورے جوبن پر تھی۔
شادی ہال رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ داخلی دروازے پر پھولوں کی خوبصورت آرائش مہمانوں کا استقبال کر رہی تھی جبکہ ہال کے اندر خوشی، قہقہوں اور مبارک بادوں کا ایک دلکش سماں باندھا ہوا تھا۔
اسی دوران ایک سیاہ رنگ کی لگژری گاڑی ہال کے سامنے آ کر رکی۔
گاڑی کا دروازہ کھلا اور حازم باہر نکلا۔
نیلگوں رنگ کے نفیس سوٹ میں ملبوس، بلند قامت اور پرشکوہ شخصیت کا مالک حازم ہمیشہ کی طرح پُراعتماد دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے ایک نظر ہال پر ڈالی اور پھر گاڑی کے قریب کھڑے محافظ کی طرف متوجہ ہوا۔
"سامان نکال لیجیے۔"
(اس نے مختصر انداز میں کہا) ۔
"جی صاحب۔"
محافظ نے فوراً گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اندر مختلف سائز کے کئی خوبصورت تحفے رکھے ہوئے تھے۔
کچھ سعد کے لیے...
اور کچھ نیہا اور عنایہ کی نئی زندگی کی خوشیوں کے لیے۔
محافظ ایک ایک کر کے تحائف باہر نکالنے لگا۔
حازم ابھی ہال کی جانب بڑھا ہی تھا کہ سامنے سے سعد تقریباً دوڑتا ہوا آ گیا۔
"الحمدللہ!"
سعد نے قریب آتے ہی کہا۔
"تم آ گئے!"
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
"میں نے وعدہ کیا تھا۔"
سعد نے بے اختیار اسے گلے لگا لیا۔
"سچ کہوں تو مجھے ڈر تھا کہ تم دفتر کے کاموں میں پھنس جاؤ گے۔"
"ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔"
حازم نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔
"آج تمہارا دن ہے۔"
(سعد چند لمحے اسے دیکھتا رہا)
اس کی آنکھوں میں خوشی صاف جھلک رہی تھی۔
"پتا ہے؟"
(سعد نے مسکراتے ہوئے کہا)
"آج تمہیں دیکھ کر دل کو عجیب سا سکون ملا ہے۔"
(حازم نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا)
سعد ہنس دیا۔
"کیونکہ آج میرا کوئی بھائی میرے ساتھ کھڑا ہے۔"
یہ سن کر حازم چند لمحے خاموش رہا۔
اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی مگر نگاہوں میں نرمی اتر آئی۔
"اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔"
(اس نے خلوص سے کہا)
"اور تمہاری نئی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے۔"
سعد کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
"آمین۔"
(پھر اس نے شرارتی انداز میں کہا) ۔
"ویسے آج تم بڑے خطرناک لگ رہے ہو۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو دلہا تمہیں بنا دیتا۔"
(حازم نے مسکراتے ہوۓ سر ہلایا)
(حازم ٹھٹھکا اسے یہ سن کر جھٹکا سا لگا)
"بہت فضول باتیں کرنے لگے ہو۔"
"شادی والے دن دلہا کو معاف کر دینا چاہیے۔"
(سعد فوراً بولا)
دونوں ہنس پڑے۔
اتنے میں محافظ تحائف لے کر ان کے قریب پہنچ گیا۔
سعد کی نظریں گفٹس پر پڑ یں تو وہ حیران رہ گیا۔
"یہ سب کیا ہے؟"
"تمہارے لیے۔"
(حازم نے مختصر جواب دیا)
"حازم!"
سعد نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔
"تم اکلوتے دوست ہو ؟"
"قبول کر لو۔"
"اتنے سارے تحفے؟"
(سعد بولا)
"دوست کی شادی روز روز نہیں ہوتی۔"
(حازم کے لہجے میں پہلی بار ہلکی سی گرمجوشی محسوس ہوئی)
سعد کی آنکھیں نم سی ہو گئیں۔
اس نے فوراً نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔
"اللہ تمہیں خوش رکھے۔"
(سعد دھیرے سے بولا)
"تم واقعی میرے لیے بہت خاص ہو۔"
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہوئے ہال کی طرف بڑھ گئے۔
ایک کے چہرے پر نئی زندگی کی خوشیاں تھیں...
اور دوسرے کے دل میں اپنے دوست کی خوشیوں کے لیے خالص دعائیں۔
بعض رشتے خون کے نہیں ہوتے...
مگر پھر بھی انسان کی زندگی میں اپنوں سے بڑھ کر مقام رکھتے ہیں۔
*°*°*°*°*°*°*
ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔
چھت سے لٹکتے فانوس، پھولوں کی مہک اور نرم موسیقی مل کر ایک خوبصورت منظر تخلیق کر رہے تھے۔
اسٹیج پر دو خوبصورت نشستیں سجائی گئی تھیں۔
ایک طرف عنایہ بیٹھی تھی۔
گہرے سرخ رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس، جھکی ہوئی پلکوں اور مہندی سے سجے ہاتھوں کے ساتھ وہ واقعی کسی خواب کی تعبیر لگ رہی تھی۔
اس کے برابر نیہا بیٹھی تھی.
وہ بار بار گھبرا کر اپنے دوپٹے کی شکنیں درست کر رہی تھی جبکہ عنایہ اسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دی.
رابعہ بیگم، علی، سعد کے والدین، رشتہ دار اور مہمان سب خوشی کے اس موقع پر جمع تھے۔ بس رضا کی فیملی کا انتظار تھا۔
قاضی صاحب بھی تشریف لا چکے تھے۔
انہوں نے گھڑی پر نظر ڈالی اور پھر حاضرین کی طرف دیکھا۔
"بیٹا، اگر دولہے والے آ جائے تو نکاح شروع کروا لیتے ہیں۔
رابعہ بیگم نے اپنے بھائی صاحب کو کال ملائی آگے سے پہلی ہی بیل پر کال پِک کر لی گئی۔ بھائی صاحب بارات بہت لیٹ ہو چُکی ہے قاضی صاحب بھی کب سے پہنچ چکُے ہیں۔
(رابعہ بیگم پریشانی میں بولی)
ہم رضا کا انتظار کر رہے ہیں وہ اب تک گھر نہیں پہنچا اور اُس کا فون بھی بند جا رہا ہے۔
(وہ شرمندگی سے بولے)
جیسے ہی رضا سے رابطہ ہوتا ہے ہم پہنچتے ہیں آپ فکر نا کریں۔
دوسری طرف سعد اور حازم ایک جانب کھڑے تھے۔
سعد نے گھڑی دیکھی۔
پھر موبائل نکال کر رضا کا نمبر ملایا۔
چند لمحوں بعد اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
"بند ہے۔"
(اس نے دھیرے سے کہا)
"کیا؟"
(حازم نے پہلی بار چونک کر پوچھا)
"فون بند جا رہا ہے۔"
سعد نے دوبارہ نمبر ملایا۔
مگر نتیجہ وہی تھا۔
حازم خاموش ہو گیا۔
اس کی نظریں ایک لمحے کو اسٹیج پر بیٹھی عنایہ پر جا ٹھہریں۔
عنایہ کو ابھی اصل صورت حال کا اندازہ نہیں تھا۔
مگر ہال میں پھیلتی بے چینی آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگی تھی۔
نیہا نے عنایہ کی طرف جھک کر پوچھا،
"سب ٹھیک ہے نا؟"
عنایہ نے ہلکی سی پریشانی سے کہا،
"مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔"
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے سرگوشی کی۔
"پارلر جانے سے پہلے میری رضا سے بات ہوئی تھی۔"
"پھر؟"
"وہ بالکل ٹھیک تھے۔"
(عنایہ کی آواز میں الجھن تھی)
"تو پھر ابھی تک آۓ کیوں نہیں؟"
(نیہا نے اس کا ہاتھ تھام لیا) ۔
"آ جائے گیں ۔ شاید کسی کام میں پھنس گئے ہو۔"
(مگر اس کے اپنے دل میں بھی ایک انجانا سا خوف جنم لے رہا تھا)
دوسری طرف حازم خاموش کھڑا تھا۔
ہال کا شور جیسے اس سے بہت دور ہو۔
اس کی نگاہیں ایک بار پھر عنایہ پر جا ٹھہریں۔
سرخ جوڑے میں ملبوس عنایہ آج واقعی بے حد حسین لگ رہی تھی۔
وہی چہرہ...
وہی مسکراہٹ...
جسے دیکھ کر اس کا دل پہلی بار بے اختیار دھڑکا تھا۔
ایک لمحے کو اس کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
"خوش رہنا..."
(اس نے دل ہی دل میں کہا)
"تم ہمیشہ خوش رہنا۔"
اس کی آنکھوں میں نہ کوئی شکوہ تھا، نہ کوئی حسرت۔
صرف ایک خاموش دعا تھی۔
وہ دعا جو محبت کے آخری درجے پر جا کر جنم لیتی ہے۔
جہاں انسان اپنی خواہش نہیں...
محبوب کی خوشی مانگتا ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے اس کی پیشانی پر شکن ابھری۔
ہال میں پھیلتی بے چینی اب واضح ہونے لگی تھی۔
قاضی صاحب بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے۔
سعد مسلسل کالیں کر رہا تھا۔
رابعہ بیگم کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم پڑتی جا رہی تھی۔
اور اسٹیج پر بیٹھی عنایہ کے دل میں بھی ایک انجانا سا اضطراب اترنے لگا تھا۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آنے والے چند لمحے اس خوشیوں بھرے ماحول کا رُخ بدلنے والے ہیں...
*°*°*°*°*°*°*
نکاح کا وقت گزرے تین گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے۔رضا کی فیملی بھی ہال میں پہنچ چکی تھی. سب بہت پریشان تھے کیونکہ رضا کی طرف سے اب تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی.
ہال میں موجود ہر شخص کی نگاہ بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھی۔ مہمانوں کے چہروں پر بے چینی اور سرگوشیوں کا شور پھیلتا جا رہا تھا۔ قاضی صاحب بھی خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔
اسٹیج پر سرخ عروسی لباس میں ملبوس عنایہ بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے کی تازگی اب فکر اور اضطراب میں بدل چکی تھی۔ پارلر آنے سے پہلے رضا سے اس کی آخری بار بات ہوئی تھی۔ تب سب کچھ معمول کے مطابق تھا، پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ غائب ہو گیا؟
رابعہ بیگم اس کے برابر میں بیٹھی تھیں۔ ان کے ہاتھ بے اختیار کانپ رہے تھے جبکہ وہ بار بار عنایہ کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔
"بیٹا، پریشان مت ہو... شاید کوئی مجبوری آ گئی ہو۔"
مگر ان کی اپنی آواز بھی اعتماد سے خالی تھی۔
عنایہ نے نم آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔
"امی... اگر وہ آنا چاہتے تو اب تک
آ چکے ہوتے۔"
یہ سن کر رابعہ بیگم کا دل جیسے بیٹھ گیا۔ وہ جواب نہ دے سکیں۔
اسی لمحے ہال کے دروازے کھلے اور رضا کے والد عنایہ کے ماموں سٹیج کی طرف آۓ۔ ان کے چہرے پر گھبراہٹ صاف نمایاں تھی۔ وہ سیدھا رابعہ بیگم کے پاس آۓاور دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
"بہن جی... خدا گواہ ہے، میں نے بہت کوشش کی ہے۔ ہر جگہ آدمی بھیجے ہیں، فون کیے ہیں، دوستوں سے رابطہ کیا ہے... مگر رضا ابھی تک نہیں ملا۔"
اس کی آواز رندھ گئی۔
"اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔"
یہ سن کر رابعہ بیگم کے قدموں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ عنایہ نے اپنی نظریں جھکا لیں جبکہ اردگرد موجود رشتہ داروں میں ایک نئی بے چینی دوڑ گئی۔
عنایہ خود رضا کو اب تک بہت سی کالز کر چکی تھی. فون اب بھی اسکے ہاتھ میں تھا. وہ کافی گھبرائی ہوئی تھی.
اچانک فون پر میسج آیا. وہ رضا کا میسج تھا.
عنایہ اسے پڑھنے کے بعد جیسے سکتے میں آ گئی تھی. اسکے ہاتھ سے فون نیچے گرا سب اسکی طرف متوجہ ہوۓ. نیہا نے اسکا فون اٹھایا اور میسج پڑھا. اسکی والدہ نے نیہا سے جاننا چاہا۔
(امی نیہا نے بے ساختہ کہا)
رابعہ بیگم ایک دم گھبرا گئی. بیٹا کیا ہوا کچھ تو بولو یہ کہہ کر اُنہوں نے نیہا کے ہاتھ سے فون پکڑا اور میسج پڑھنا شروع کیا۔
(عنایہ پلیز مجھے معاف کر دو مگر میں تم سے شادی نہیں کر سکتا آج میں شہر چھوڑ کے جا رہا ہوں اور شاید آج کے بعد شاید تم مجھے کبھی نہ دیکھ پاو اور ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا)
رابعہ بیگم میسج پڑھنے کے بعد شدید پریشان ہو گئی.
کچھ دیر بعد سب اس واقعہ کے بارے میں جان چکے تھے. عنایہ کواب تک یقین نہیں آرہا تھا.
آس پاس سب مہمان باتیں کر رہے تھے.
رضا کے گھر والے بھی اس سب سے انجان تھے. رضا کی بہن اپنے بھائی کی اس حرکت پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھی. اور آسیہ بیگم اور فاضل صاحب سکتے میں تھے. آج ان کے اپنے بیٹے نے ایک بھائی کو بہن کی نظر میں شرمندہ کر دیا تھا.
تبھی سعد کی والدہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی رابعہ بیگم کے قریب آئیں۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی، جیسے وہ کوئی بہت بڑا فیصلہ کر چکی ہوں۔
وہ رابعہ بیگم کے سامنے رکیں اور دھیمی مگر مضبوط آواز میں بولیں،
"اب حالات ہمارے اختیار سے باہر ہو چکے ہیں۔"
(رابعہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا)
سعد کی والدہ زینب بیگم نے ایک گہرا (سانس لیا اور کہا)
"اس وقت ہماری عزت، عنایہ کی عزت اور دونوں خاندانوں کی عزت بچانے کا صرف ایک ہی راستہ باقی ہے..."
ہال میں موجود چند لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں۔
(انہوں نے ٹھہر کر کہا)
"اور وہ کام صرف ایک شخص کر سکتا ہے..."
جاری ہے........