Chapter 1
--- حصہ اول
یہ کہانی ہے پاکستان کی رہنے والی عائشہ کی۔ عائشہ ایک آزاد خیالات کی لڑکی تھی۔ عائشہ کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ عائشہ کے والد نے بڑے لاڈ پیار سے اس کی پرورش کی۔ عائشہ کے والد کا نام ناصر تھا اور عائشہ ناصر کی اکلوتی اولاد تھی، اسی لیے وہ اپنی دادی اور والد کی لاڈلی تھی۔
ناصر صاحب کراچی کے جانے مانے رئیسوں میں سے ایک تھے۔ ناصر چاہتے تھے کہ عائشہ پڑھ لکھ کر ان کے بزنس کو سنبھالے، اور چاہتے بھی کیوں نہ، عائشہ ان کی اکلوتی اولاد تھی! آخر ان کا جو کچھ بھی تھا سب عائشہ کا ہی تو تھا۔ ان کا گھر، ان کا بزنس سب آخر عائشہ نے ہی تو سنبھالنا تھا، اس لیے انہوں نے عائشہ کو پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا کہ وہ ان کا بزنس سنبھال سکے، اور ایسا ہوا بھی۔ عائشہ اب بزنس میں ان کا ہاتھ بٹانے لگی تھی۔ والدہ کے انتقال کے بعد عائشہ کی دادی نے ہی اسے پالا تھا، اس لیے وہ اپنی دادی سے بے حد محبت کرتی تھی۔
---
"عائشہ اٹھو بیٹا صبح ہو گئی ہے، آفس بھی تو جانا ہے نا،" دادی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔
عائشہ نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا، "السلام علیکم دادی جان!"
دادی نے مسکراتے ہوئے کہا، "وعلیکم السلام بیٹا! چلو ہاتھ منہ دھو کر جلدی سے نیچے آ کر ناشتہ کر لو، آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے۔"
"جی دادی جان، بس دس منٹ میں آ رہی ہوں،" یہ کہہ کر عائشہ اٹھی اور واش روم کی طرف چلی گئی۔
---
عائشہ جیسے ہی ناشتے کے لیے نیچے ڈائننگ ہال میں آئی، ارم دوڑتے ہوئے اندر آئی اور عائشہ کو گلے لگا کر زار و قطار رونے لگی۔ ارم عائشہ کی پڑوسی تھی اور اس کی سب سے اچھی سہیلی بھی۔ دونوں ایک ساتھ ایک ہی اسکول میں پڑھے تھے۔ ارم کو اس طرح روتے ہوئے دیکھ کر عائشہ بہت پریشان ہو گئی۔
دادی ارم کے پاس آئیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں، "ارم بیٹا! کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟"
ارم خوف سے کانپتے ہوئے بس اتنا ہی بول پائی، "عائشہ... مجھے بچا لو... پاپا بہت غصے میں ہیں، وہ مجھے مار ڈالیں گے..." وہ عائشہ کے پیچھے چھپنے لگی، لیکن عائشہ خود حیران تھی کہ آخر ہوا کیا ہے۔
تبھی ارم کے والد شہباز، ارم کو غصے میں آواز لگاتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے، "ارم! کہاں ہو تم؟ باہر نکلو!"
شہباز کی آواز سن کر ناصر صاحب اپنے کمرے سے باہر آئے اور کہا، "کیا ہوا شہباز؟ تم آج اتنی صبح صبح یہاں کیسے؟ اور اتنے غصے میں ہو، کچھ ہوا ہے کیا؟"
شہباز نے غصے سے کہا، "کہاں ہے ارم؟ میں اسے لینے آیا ہوں!"
شہباز کی آواز سن کر عائشہ ارم کو لے کر باہر آئی۔ ارم کو دیکھ کر شہباز غصے سے اس کی طرف بڑھے اور کہا، "کہا تھا نا میں نے تم سے کہ تم گھر کے باہر نہیں نکلو گی!"
عائشہ نے گھبرا کر کہا، "کیا بات ہے چاچو؟ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟"
شہباز نے طنزاً کہا، "یہ بات تم اپنی سہیلی سے ہی کیوں نہیں پوچھ لیتیں؟"
عائشہ حیرت سے کبھی ارم کی طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی شہباز کی طرف۔ عائشہ نے کہا، "یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ کوئی مجھے کچھ بتائے گا؟" یہ کہہ کر عائشہ حیرت سے ارم کی طرف دیکھنے لگی۔
شہباز نے کہا، "تم دونوں تو بیسٹ فرینڈز ہو نا؟ تو تمہاری بیسٹ فرینڈ نے اس بارے میں کچھ بتایا نہ ہو، ایسا تو ہو نہیں سکتا۔ لیکن پھر بھی اگر تم میرے منہ سے سننا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے، میں ہی بتا دیتا ہوں۔ یہ جو کھڑی ہے نا تمہاری بیسٹ فرینڈ، اس کے پر نکل آئے ہیں۔ محترمہ کو عشق ہو گیا ہے!"
ناصر صاحب نے بیچ میں پڑتے ہوئے کہا، "شہباز، اگر ارم کسی کو پسند کرتی ہے تو اس میں اتنا غصہ کرنے کی کیا بات ہے؟ غصہ کرنے سے بہتر ہوگا کہ تم ایک بار اس لڑکے سے ملاقات کرو، دیکھو کہ وہ کون ہے، کیسا ہے، ہماری بچی کو خوش رکھ پائے گا کہ نہیں... پھر ٹھنڈے دماغ سے..."
ناصر نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ شہباز نے غصے سے ان کی بات کاٹ کر کہا، "بس کرو ناصر میاں! یہ میرے گھر کا معاملہ ہے، اس لیے تم اس میں دخل اندازی نہ کرو تو بہتر ہوگا۔ کیونکہ تم اور تمہاری بیٹی ٹھہرے 'آزاد خیال' کے! مجھے میری عزت کی بہت پرواہ ہے، میں اس بیہودگی کی اجازت کبھی نہیں دوں گا۔"
یہ کہہ کر شہباز غصے سے ارم کی طرف بڑھے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا، "چلو یہاں سے! اور آج کے بعد تم گھر کے باہر نہیں نکلو گی۔ اور ہاں عائشہ! آج کے بعد تم بھی ارم سے نہیں ملو گی، اس کے آس پاس بھی نظر نہیں آؤ گی تم!"
یہ کہہ کر شہباز ارم کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر وہاں سے چلے گئے۔ شہباز کی باتیں سن کر عائشہ بہت اداس ہو گئی۔
دادی نے ماحول کو سنبھالتے ہوئے کہا، "چلو تم دونوں ناشتہ کر لو، آفس جانا ہے نہ۔"
عائشہ نے اداسی سے کہا، "نہیں دادی جان، بھوک نہیں ہے۔ ابو! میں باہر گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہی ہوں،" یہ کہہ کر عائشہ باہر نکل گئی۔
---
شام کا وقت ہو چکا تھا، عائشہ اور ناصر دونوں آفس سے واپس آ گئے تھے۔ عائشہ اداس سی اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہو کر ارم کے کمرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کچھ وقت بعد ارم بھی اپنے کمرے کی کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ بہت اداس تھی اور اسے دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے وہ بہت روئی ہے۔
ارم کو ایسے اداس اور پریشان دیکھ کر عائشہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ روتے ہوئے دادی کے پاس چلی گئی اور جا کر دادی سے لپٹ کر رونے لگی۔
دادی نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا، "کیا بات ہے عائشہ؟ تم رو کیوں رہی ہو؟"
عائشہ نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا، "مجھے ایک بار ارم سے ملنا ہے دادی جان! آپ کچھ کیجیے نا دادی جان، مجھے ملوا دیجیے نا ارم سے۔ آپ ایک بار شہباز چاچو سے بات کیجیے نا، وہ آپ کو منع نہیں کریں گے۔"
دادی نے لمبی آہ بھری اور کہا، "کوئی فائدہ نہیں عائشہ۔ میں نے دوپہر میں بات کرنے کی کوشش کی تھی، مگر شہباز نہیں مان رہے اور ویسے بھی، شہباز کو لگتا ہے کہ تم ارم کے بارے میں پہلے سے سب جانتی ہو، اس لیے وہ اب تمہیں ارم سے کبھی نہیں ملنے دے گا۔"
---








