آںٔینے والی لڑکی by 📚Bᴏᴏᴋsʜᴇʟғ Dɪᴀʀɪᴇs📖 at Inkitt
Customize readability
Aa

آںٔینے والی لڑکی

All Rights Reserved ©

Summary

یونیورسٹی کی طالبہ *عائشہ* نانی کے پرانے گھر جاتی ہے جہاں ایک لکڑی کا بہت بڑا آئینہ ہے۔ رات 12 بجے کے بعد آئینے سے اس کی ہم عمر ایک لڑکی نکلتی ہے جس کا نام بھی عائشہ ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ 1976 میں نانی نے جائیداد کے لیے اسے آئینے میں قید کر دیا تھا۔ ہر 50 سال بعد ایک نئی "عائشہ" کی قربانی سے ہی یہ لعنت ٹوٹ سکتی ہے۔ دونوں مل کر نانی کا سامنا کرتی ہیں اور آئینہ توڑ کر اپنی آزادی چھین لیتی ہیں۔

Status
Complete
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Story

                                   " آئینے والی لڑکی"

میں *عائشہ*۔ 21 سال کی۔ یونیورسٹی کی گرمیوں کی چھٹیوں میں نانی کے پاس لاہور اندرون شہر والے پرانے گھر گئی تھی۔

گھر بہت بڑا تھا۔ اونچی چھتیں، لکڑی کے دروازے، اور صحن کے بیچ میں ایک کنواں جو اب بند تھا۔ سب سے عجیب چیز تھی مہمان والے کمرے کا آئینہ۔ فرش سے چھت تک لکڑی کے فریم والا۔ اتنا پرانا کہ فریم پر نقش و نگار گھس گئے تھے۔

نانی نے سامان رکھواتے ہی کہا "بیٹا یہ والا کمرہ تمہارا ہے۔ بس ایک بات یاد رکھنا۔ رات 12 کے بعد اس آئینے میں مت دیکھنا۔ اور لائٹ کبھی مت بجھانا"۔ 

میں ہنس دی "نانی آپ بھی نا... بھوتوں کی کہانیاں"۔ 

نانی کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا "یہ کہانی نہیں ہے عائشہ"۔

"پہلی رات" 

لائٹ 11:50 پر چلی گئی۔ گرمی تھی۔ میں ٹارچ جلا کر تیار ہو رہی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی کہ پیچھے ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی۔ 

میں نے آئینے میں دیکھا۔ میرے پیچھے ایک سایہ کھڑا تھا۔ سفید کُرتا، سر جھکا ہوا، بال چہرے پر۔ 

میں چیخ کر پلٹی۔ کمرہ خالی۔ صرف پنکھا آہستہ چل رہا تھا۔ 

جب واپس آئینے میں دیکھا تو شیشے پر دھند بن گئی تھی۔ دھند پر انگلی سے لکھا تھا: _"مدد کرو"_

"دوسری رات"

میں سو نہیں پا رہی تھی۔ 12 بج کر 3 منٹ پر کمرے کا درجہ حرارت ایک دم گر گیا۔ سانس سے دھواں نکل رہا تھا۔ 

آئینے کے اندر سے پانی ٹپکنے کی آواز آئی۔ _ٹپ... ٹپ..._ 

میں نے ٹارچ ماری۔ آئینے کے اندر سے ایک لڑکی دھیرے دھیرے باہر آ رہی تھی۔ جیسے شیشہ پانی ہو۔

وہ بالکل میری عمر کی تھی۔ 21 سال۔ سفید کُرتا گیلا تھا۔ گلے پر رسی کا نشان۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ 

وہ میرے بالکل سامنے آ کر رکی۔ شیشہ اور اس کے درمیان صرف 1 انچ کا فاصلہ تھا۔ 

اس نے روتے ہوئے کہا "عائشہ... میرا نام بھی عائشہ تھا۔ 1976 میں نانی نے مجھے اس آئینے میں بند کر دیا تھا۔ جائیداد کے لیے"۔

میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ "نانی نے؟ کیوں؟" 

"کیونکہ میں وارث تھی۔ انہوں نے کہا میں پاگل ہوں۔ رات کو مجھے نشہ دے کر آئینے کے سامنے بٹھا دیا۔ اور دعا پڑھ کر شیشہ بند کر دیا"۔ 

اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔ "ہر 50 سال بعد ایک نئی عائشہ چاہیے اس لعنت کو توڑنے کے لیے۔ تم تیسری ہو"۔

اتنے میں باہر سے نانی کی آواز آئی "عائشہ؟ سو گئی ہو؟" 

آئینے والی لڑکی ایک دم پیچھے ہٹی اور شیشے میں غائب ہو گئی۔

"تیسری رات - آخری رات"

میں نے فیصلہ کر لیا تھا۔ یا تو میں بھاگ جاؤں گی یا اسے آزاد کرواؤں گی۔ 

میں 11:55 پر آئینے کے سامنے بیٹھ گئی۔ ہاتھ میں قرآن کا چھوٹا نسخہ اور نانی کی تسبیح۔

12 بجتے ہی پورا گھر ہلنے لگا۔ آئینے کا شیشہ لہر کی طرح ہلنے لگا۔ 

وہ لڑکی باہر نکلی۔ اس بار وہ رو نہیں رہی تھی۔ 

"تم آخری موقع ہو عائشہ۔ یا تو تم اندر جاؤ گی، یا ہم دونوں مل کر نانی کو روکیں گے"۔

تبھی دروازہ زور سے کھلا۔ نانی ہاتھ میں چھری اور تعویز لے کر کھڑی تھیں۔ آنکھیں لال۔ 

"بس بہت ہو گیا۔ 50 سال انتظار کیا ہے۔ آج اس آئینے کو نیا خون ملے گا"۔

آئینے والی عائشہ نے میرا ہاتھ پکڑا "ڈرنا مت۔ ہمارا نام ایک ہے، ہماری روح بھی ایک ہے"۔ 

ہم دونوں نے مل کر "آیت الکرسی" پڑھنا شروع کی۔ 

نانی چلائیں "بند کرو!" اور چھری پھینکی۔

چھری آئینے پر لگی اور شیشہ چکنا چور ہو گیا۔ 

ایک زبردست روشنی اور چیخ کی آواز۔ پھر سب خاموش۔

صبح پولیس آئی۔ نانی فرش پر بے ہوش تھیں۔ ہاتھ میں تسبیح۔ 

آئینے کے ٹکڑے پورے کمرے میں بکھرے تھے۔ لیکن ہر ٹکڑے میں ایک ہی لڑکی کا عکس تھا۔ میرا۔

نانی ہسپتال میں ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں دماغی حالت ٹھیک نہیں۔ 

گھر بیچ دیا گیا۔ میں واپس یونی چلی گئی۔

لیکن پچھلے ہفتے میری نئی ہاسٹل والی الماری کے شیشے پر دھند بنی۔ 

اور اس پر لکھا تھا: _"شکریہ عائشہ۔ اب ہم آزاد ہیں"_

شیشے کے پیچھے دو سائے کھڑے تھے۔ دونوں مسکرا رہے تھے۔


Author:

"کچھ زنجیریں لوہے کی نہیں ہوتیں۔ کچھ قیدیں نسلوں سے چلی آتی ہیں۔ لیکن جب دو ٹوٹے دل ایک ہو جائیں، تو سب سے مضبوط دیوار بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ ہمت کبھی مت ہارو، کیونکہ روشنی ہمیشہ اندھیرے کو ہرا دیتی ہے۔"

Let 📚Bᴏᴏᴋsʜᴇʟғ Dɪᴀʀɪᴇs📖 know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Destino Secreto

Karin Rogowski: Gut geschrieben und beschrieben. Die Charaktere und Situationen sind stimmig und nehmen einen gefangen. Mich hat das Buch ab der ersten Zeile fasziniert, genau wie die anderen Bücher davor. Sehr guter Schreibstil und eine sehr gute Übersetzung, nebenbei bemerkt. Dankeschön, dass Du Deine Bücher ...

Read Now
Wolf's Mate

Victoria: Hi,I analyzed your work, and I think it has a very unique and engaging storytelling style. The way you present your ideas and emotions really stands out. By the way are you currently working on any other stories or writing projects?

Read Now
Ruthless Lord

Ock: romance captivante. Hâte de lire la suite

Read Now
The Luna Trials

Valérie: Impossible de m'arrêter de lire

Read Now
Stadt der Alphas

Uschi: Sehr gut geschrieben aber durch die kleinen Happen baut sich keine Spannung, Erotik, Romantik oder ähnliches auf

Read Now
His Forsaken Fate

Akthea: Muy buena os la recomiendo

Read Now
The Shifters: Trysta and Fiero

Reabetswe: I chose the ratings i did because I haven't put the book down since starting IT and I love how your writing style is. You have gained a fan from me

Read Now
La louve enchaînée

julie: Un petit commentaire constructif Pourriez-vous vous relire avant de publier j'ai l'impression qu'il manque des mots par endroit Je me doute que pour satisfaire les lecteurs vous allez vite mais ne gâchez pas votre histoire pour la vitesse de publication ce serait dommageHâte de lire la suite 🥰

Read Now
Off limits to fate, My Alpha, my sin

Melissa: Good book! Great storyline and characters. Fun read.

Read Now