Chapter 22
قسط نمبر 22
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
صبح کا وقت تھا۔
رات بھر ہونے والی بارش کے بعد موسم میں ایک عجیب سی ٹھنڈک اور خاموشی اتر آئی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی دھندلی روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔
حازم آئینے کے سامنے کھڑا اپنی شرٹ تبدیل کر رہا تھا۔
اس نے شرٹ کے بٹن بند کیے، پھر ایک لمحے کے لیے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کے بعد اس کی نظر بے اختیار پیچھے بستر پر چلی گئی۔
عنایہ سو رہی تھی۔
رات کی بارش اور بار بار جاتی بجلی نے اسے کافی ڈرا دیا تھا۔ بڑی مشکل سے اس کی آنکھ لگی تھی۔ شاید اسی لیے حازم بار بار مڑ کر اسے دیکھ رہا تھا، صرف یہ یقین کرنے کے لیے کہ وہ ٹھیک ہے۔
اس نے نظریں دوبارہ آئینے کی طرف کر لیں۔
شرٹ کے اوپر اس نے اپنا کوٹ پہنا اور پہننے کے بعد ہلکے سے اسے جھٹک کر درست کیا۔ پھر نیوی ٹائی کے ساتھ اپنا لباس مکمل کیا۔
حازم کو ہمیشہ سے گہرے رنگ پسند تھے۔ اس کے لباس میں بھی اکثر یہی رنگ نظر آتے تھے۔
وہ آئینے کے سامنے آخری بار اپنا کالر درست کر ہی رہا تھا کہ پیچھے بستر پر ہلکی سی حرکت ہوئی۔
عنایہ کروٹ بدلتے بدلتے جاگ گئی۔
کچھ لمحوں تک اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل رہیں۔ پھر وہ اٹھ کر بستر پر بیٹھ گئی۔
حازم واڈروپ کے دروازے کی طرف بڑھ چکا تھا۔
بغیر اس کی طرف دیکھے اس نے پوچھا،
"آپ ٹھیک تو ہیں؟"
عنایہ نے نیند میں ہی اس کی طرف دیکھا۔
حازم نے جوتے پہنتے ہوئے دوبارہ پوچھا،
"رات ٹھیک سے سو گئی تھیں؟ نیند پوری ہوئی یا نہیں؟"
شاید وہ رات کی بجلی اور بارش کی وجہ سے پوچھ رہا تھا۔
عنایہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا،
"جی۔"
حازم نے جواب سنا، لیکن اس کی طرف نہیں دیکھا۔
"پکا؟"
اس بار عنایہ نے کچھ نہیں کہا۔
حازم ایک لمحے کے لیے رکا۔
جب کوئی جواب نہیں آیا تو آخرکار اس نے مڑ کر دیکھا۔
اور پھر عنایہ کی نظریں اس سے جا ملیں۔
وہ چند لمحوں کے لیے جیسے بھول ہی گئی کہ اسے کیا کہنا تھا۔
حازم کو اس نے پہلے بھی دیکھا تھا، مگر آج صبح کی اس ہلکی روشنی میں، اس سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ اسے دیکھ کر اس کے اندر کچھ عجیب سا ہوا۔
عنایہ کی آنکھیں بے اختیار اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
یہ وہی شخص تھا جس سے اس کی اچانک شادی ہوئی تھی۔
ایک ایسا رشتہ جس کے لیے اس نے کبھی خود کو تیار نہیں کیا تھا۔
اور اب وہی شخص اس کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔
عنایہ نے فوراً اپنی نظریں ہٹا لیں، مگر اگلے ہی لمحے چوری چھپے پھر اسے دیکھنے لگی۔
حازم کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح وہی ہلکی سی نرمی تھی۔ سخت مزاج ہونے کے باوجود اس کے چہرے میں ایک ایسی معصومیت تھی جو عنایہ کو ہر بار الجھا دیتی تھی۔
وہ اسے دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک حازم کا فون بج اٹھا۔
حازم کی نظر بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی طرف گئی، جہاں شاید اس کا فون پڑا تھا۔
وہ آگے بڑھا، فون اٹھایا، اسکرین پر نظر ڈالی اور کال کاٹ دی۔
عنایہ نے یہ سب دیکھ لیا۔
کچھ ہی سیکنڈ بعد فون دوبارہ بجا۔
حازم نے اس بار بھی فون نہیں اٹھایا۔
اس نے اسے سائلنٹ کر کے رکھ دیا۔
عنایہ بولی،
"آپ اٹھا لیں... شاید کوئی ضروری کال ہو۔"
حازم نے اس کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔
پھر عنایہ اٹھی اور اپنے بالوں کو سمیٹتے ہوئے بولی،
"میں واش روم جا رہی ہوں۔"
وہ جان بوجھ کر وہاں سے ہٹ گئی۔
شاید اس لیے کہ اگر کال حازم عنایہ کی وجہ سے اٹھا نہیں رہا تھا۔اصل میں حازم کو کال اس وقت عنایہ کے درمیان میں خلل کا سبب بنتی دکھائی دے رہی تھی.
عنایہ کے واش روم میں جاتے ہی حازم نے فون اٹھایا۔
"کیا ہوا؟"
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا۔
حازم کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
"آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں؟"
وہ چند لمحے خاموشی سے سنتا رہا۔
پھر اس کے چہرے پر تشویش صاف نظر آنے لگی۔
"میں ابھی آتا ہوں۔"
ایک لمحے بعد اس نے دوبارہ پوچھا،
"سب ٹھیک تو ہے؟"
کال ختم ہوئی تو حازم کچھ دیر فون کو دیکھتا رہا۔
وہ کال اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔
لیکن جب اس نے دوسری طرف کی پریشانی سنی تو اس کے لیے فون کاٹ دینا بھی ممکن نہیں تھا۔
حازم سخت تھا۔
کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ سخت۔
لیکن اس کے اندر ایک ایسا انسان بھی تھا جو کسی کو پریشان دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
ہر انسان پیدائشی طور پر برا نہیں ہوتا۔
وقت انسان کو بدل دیتا ہے۔
کچھ لوگ حالات سے سخت ہو جاتے ہیں، مگر ان کے اندر کی اچھائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔
حازم بھی شاید ایسا ہی تھا۔
اس نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا اور کمرے سے نکل گیا۔
عنایہ واش روم سے باہر آئی تو اس کی نظر دروازے کی طرف گئی۔
حازم جا چکا تھا۔
اس نے ایک لمحے کے لیے کمرے کو دیکھا، پھر اس کی نظر حازم کی چیزوں پر پڑی۔
اس کے دل میں اچانک ایک عجیب سی بے چینی اتر آئی۔
کال کس کی تھی؟
اسے دوسری طرف کی آواز تو سنائی نہیں دی تھی، مگر حازم کا لہجہ...
"آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں؟"
"میں ابھی آتا ہوں۔"
عنایہ کے قدم وہیں رک گئے۔
اس کے ذہن میں پہلا خیال آیا—
دل میں ایک ہلکی سی چبھن ہوئی۔
اور اس چبھن نے اسے خود بھی حیران کر دیا۔
وہ آخر کیوں جل رہی تھی؟
اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ فون پر کون تھا۔
شاید کوئی لڑکی تھی۔
شاید کوئی ایسی لڑکی جس سے حازم اس طرح بات کرتا تھا۔
اس کے اندر کچھ ہلکا سا چبھا۔
عنایہ نے فوراً اس خیال کو جھٹک دیا۔
"مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟"
اس نے خود سے کہا۔
"وہ جس سے مرضی بات کرے۔"
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی اتر آئی۔
وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ لڑکی کون تھی۔
پھر فوراً خود ہی اپنے خیال پر شرمندہ ہو کر اسے جھٹک دیا۔
مگر دل نے اس بار اس کی بات نہیں مانی۔
اسے فرق پڑا تھا۔
بہت تھوڑا سہی، مگر پڑا تھا۔
شاید اس لیے کہ حازم اب صرف کوئی اجنبی آدمی نہیں تھا۔
وہ اس کا شوہر تھا۔
ایک ایسا رشتہ جو اچانک اس کی زندگی میں آیا تھا، مگر اب آہستہ آہستہ اس کے جذبات میں اپنی جگہ بناتا جا رہا تھا۔
اور یہی بات عنایہ کو سب سے زیادہ پریشان کر رہی تھی۔
اس نے اپنے بال باندھتے ہوئے پھر خود کو سمجھایا،
"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
لیکن اس بار اس کی آواز پہلے سے زیادہ دھیمی تھی۔
وہ خود سے اپنی جلن چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔
اور شاید سب سے مشکل بات یہی تھی کہ وہ خود سے بھی جھوٹ نہیں بول پا رہی تھی۔
عنایہ آخرکار واش روم کی طرف چلی گئی۔
دروازہ بند ہوا۔
اور کمرہ پھر خاموش ہو گیا۔
بالکل کل رات کی طرح۔
بس فرق اتنا تھا کہ کل اس خاموشی کے درمیان بارش کی آواز تھی...
اور آج دن کے اجالے میں صرف سناٹا تھا۔
ایک ایسا سناٹا جس میں عنایہ کے ان کہے سوال اب بھی تیر رہے تھے۔
*°*°*°*°*°*°*
حازم اپنے آفس میں موجود تھا۔
سامنے میز پر کچھ فائلیں کھلی ہوئی تھیں، مگر اس کی نظریں کافی دیر سے ایک ہی صفحے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور سعد اندر آ گیا۔
حازم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
"کیا ہوا؟"
سعد نے کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا،
"تمہیں ایک بات بتانی تھی۔"
حارم نے فائل بند کر دی۔
"کہو۔"
سعد نے ایک لمحہ توقف کیا، جیسے سوچ رہا ہو کہ بات کہاں سے شروع کرے۔
"کچھ ہفتے پہلے امل کی کال آئی تھی۔"
حازم کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں آیا۔
بس اس نے خاموشی سے سعد کو دیکھا۔
سعد نے خود ہی بات جاری رکھی۔
"میں نے اسے بتا دیا کہ میری شادی کے ساتھ تمہاری شادی بھی ہو گئی ہے۔"
حازم نے نظریں دوبارہ فائل کی طرف کر لیں۔
"اچھا۔"
سعد نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"بس؟"
حازم نے بے نیازی سے پوچھا،
"اور کیا؟"
سعد نے گہرا سانس لے۔
"اصل میں... میں نے اسے بتانا نہیں تھا۔"
حازم نے دوبارہ اسے دیکھا۔
سعد نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا،
"لیکن خوشی میں منہ سے نکل گیا۔ میں نے اسے بتا دیا کہ تمہاری شادی میری سالی سے ہوئی ہے۔"
حازم خاموش رہا۔
(سعد نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولا،)
"اس کے بعد میری امل سے بات نہیں ہوئی۔"
حازم کی انگلی فائل کے کنارے پر رک گئی۔
"کب سے؟"
سعد نے کندھے اچکائے۔
"بس اسی دن سے۔ پتہ نہیں کہاں ہے، کیسی ہے... کچھ معلوم نہیں۔"
حازم نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر نظریں چرا لیں۔
(سعد نے فوراً کہا،)
"تم اسے ایک دفعہ کال کر لو۔"
حازم نے اب کی بار سیدھا سعد کی طرف دیکھا۔
"میں؟"
"ہاں، تم۔"
(سعد نے قدرے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا)
"دیکھو حازم، میں جانتا ہوں تم امل سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جو کچھ ہوا، وہ الگ بات ہے۔ لیکن وہ ہماری دوست تو تھی نا؟ ہم تینوں یونیورسٹی میں ساتھ تھے ایک دوست کے رشتے سے ہی ایک بار اسکی خیرت جان لو۔"
حازم خاموش رہا۔
سعد نے بات جاری رکھی۔
"اس نے تم سے کبھی کچھ مانگا بھی نہیں۔ اور اب جب اسے تمہاری شادی کی خبر ملی تو اس کے بعد سے دوبارہ مجھ سے بھی اسکی بات نہیں ہو سکی۔ شاید اسے بس ایک بار تم سے بات کرنی ہو۔"
(حازم نے ہلکی سی بے زاری سے کہا)
"سعد، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہے۔"
"مجھے پتا ہے۔"
(سعد نے فوراً جواب دیا)
"لیکن شاید اسے فرق پڑتا ہو۔"
حازم نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سنجیدگی آئی۔
"اگر وہ میرے لیے بنی ہوتی ..."
وہ چند لمحوں کے لیے رکا۔
پھر بہت اطمینان سے بولا،
"سعد جو میرے نصیب میں تھی وہ مجھے مل گئی ہے۔"
سعد خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
حازم کی آواز میں کوئی غرور نہیں تھا، بس ایک عجیب سا اطمینان تھا۔
"اب مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے بارے میں کون کیا سوچتا ہے۔"
(سعد نے اسے غور سے دیکھا)
"تو پھر ایک کال کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟"
(حازم نے کوئی جواب نہیں دیا)
(سعد نے ذرا نرم لہجے میں کہا)
"تم اسے پسند نہیں کرتے تھے، ٹھیک ہے۔ لیکن دوست تو تھی۔ اگر واقعی تمہیں اس کی محبت سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر ایک دوست کی حیثیت سے کال کر لو۔ کم از کم یہ تو پتہ چل جائے گا کہ وہ ٹھیک ہے۔"
حازم نے چند لمحوں تک کچھ نہیں کہا۔
پھر اس نے آہستہ سے فائل ایک طرف رکھی۔
"اگر وہ میری دوست تھی..."
(اس نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا)
"تو اسے میری شادی کی مبارکباد دینی چاہیے تھی۔"
سعد کی بھنویں ذرا سی اٹھیں۔
حازم نے اپنا فون اٹھا لیا۔
"میں اسے کال کرتا ہوں۔"
سعد کے چہرے پر ہلکی سی تسلی آئی۔
"بس یہی تو کہہ رہا تھا۔"
حازم نے نمبر اسکرین پر تلاش کیا، مگر کال ملانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
اس کے ذہن میں نہ جانے کیوں عنایہ کا چہرہ آ گیا۔
رات کی بارش میں ڈری ہوئی عنایہ...
پھر صبح نیند سے بیدار ہو کر اسے دیکھتی ہوئی وہ نظریں...
حازم نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، جیسے اپنے خیال کو جھٹک رہا ہو۔
پھر اس نے امل کا نمبر ڈائل کر دیا۔
سعد خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کال جا رہی تھی۔
ایک بار...
دوسری بار...
تیسری بار...
مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
حازم نے فون کان سے ہٹایا۔
اس کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی تشویش ابھری۔
(سعد نے فوراً پوچھا)
"اٹھایا نہیں؟"
حازم نے فون کی اسکرین کو دیکھا۔
"نہیں۔"
سعد کا چہرہ بھی سنجیدہ ہو گیا۔
"پتہ نہیں کہاں ہے وہ۔"
حازم نے فون میز پر رکھ دیا۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
مگر جانے کیوں اس بار اسے واقعی یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ امل آخر ہے کہاں۔
*°*°*°*°*°*°*
آفس میں آج کافی عرصے بعد علیزے کی واپسی ہوئی تھی۔
پچھلے دو تین ہفتوں سے وہ اپنی والدہ کی وجہ سے آفس نہیں آ رہی تھی، مگر اب ان کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر تھی۔ اسی اطمینان کے بعد آج وہ دوبارہ اپنے کام پر لوٹی تھی۔
اور شاید یہی وجہ تھی کہ آج علیزے کے چہرے پر کافی عرصے بعد ایک حقیقی سی خوشی نظر آ رہی تھی۔
وہ اپنی میز پر بیٹھی مسلسل کام کر رہی تھی۔ کبھی لیپ ٹاپ کی اسکرین دیکھتی، کبھی فائل اٹھاتی اور کبھی کچھ نوٹس بنانے لگتی۔
زیشان کی نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
وہ جانتا تھا کہ علیزے ابھی ابھی ایک مشکل وقت سے نکلی ہے، اس لیے وہ اسے بار بار دیکھ کر تسلی کر رہا تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے آخرکار پوچھ ہی لیا،
"تم ٹھیک ہو نا؟"
علیزے نے کام کرتے کرتے اس کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
"ہاں، میں بالکل ٹھیک ہوں۔"
"پکا؟"
"ہاں زیشان، پکا۔"
زیشان کے چہرے پر اطمینان آیا، مگر وہ پھر بھی اسے دیکھتا رہا۔
علیزے نے اس کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
وہ جانتی تھی کہ زیشان اس کی فکر کیوں کرتا ہے۔
اور شاید اب وہ اس فکر کو برا بھی نہیں سمجھتی تھی۔
بلکہ اس کے دل میں کہیں نہ کہیں زیشان کے لیے ایک نرم سا گوشہ بن چکا تھا۔
خاص طور پر اپنی والدہ کی وہ بات سننے کے بعد۔
اس کی امی کی آواز اب بھی بار بار اس کے کانوں میں گونجتی تھی۔
"زیشان اچھا لڑکا ہے۔ اگر کبھی وہ تمہیں پرپوز کرے تو اسے منع مت کرنا۔ مجھے اس پر بھروسہ ہے۔"
علیزے ہر بار اس خیال پر بے اختیار خاموش ہو جاتی تھی۔
زیشان اسے اچھا لگتا تھا۔
وہ خیال رکھنے والا تھا، اس کی عزت کرتا تھا، اور مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔
مگر اس وقت بھی اس کے ذہن میں سب سے زیادہ اپنی والدہ ہی تھیں۔
وہ انہیں اکیلا چھوڑ کر آفس آئی تھی، اور دل کا ایک حصہ مسلسل گھر ہی میں اٹکا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد زیشان نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
"لنچ کا ٹائم ہو گیا ہے۔"
علیزے نے سر اٹھایا۔
(زیشان نے مسکرا کر پوچھا)
"چلیں؟ کینٹین میں کچھ کھا لیتے ہیں۔ تم چلو گی؟ اور ہاں، کیا پیو گی؟"
(علیزے نے ایک لمحہ سوچا، پھر بولی)
"ہاں، چلتی ہوں۔ بس ایک منٹ۔"
وہ اپنا فون اٹھاتے ہوئے رک گئی۔
"پہلے امی کو کال کر لوں۔ پتہ نہیں اب کیسی ہیں۔"
(زیشان نے فوراً کہا)
"ہاں، بالکل۔ تم اطمینان سے بات کر لو۔"
علیزے نے اپنی والدہ کا نمبر ملایا۔
کال اٹھتے ہی اس کے چہرے پر نرمی آ گئی۔
"السلام علیکم، امی۔ اب کیسی طبیعت ہے؟"
دوسری طرف سے جواب آیا تو علیزے خاموشی سے سنتی رہی۔
پھر اس کے چہرے پر آہستہ آہستہ خوشی پھیلنے لگی۔
"سچ؟ آپ آج خود اٹھ کر بیٹھی تھیں؟"
اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
وہ چند لمحے مزید سنتی رہی۔
"اور کچھ کھایا بھی؟"
دوسری طرف سے جواب سن کر علیزے کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
"اچھا... پھل کھائے؟"
وہ ہنس دی۔
"اور چائے بھی بنا کر پی؟"
کچھ دیر بعد اس نے اطمینان بھری سانس لی۔
"الحمدللہ، امی۔ آپ کو پہلے سے بہتر سن کر ہی میرا دل خوش ہو گیا ہے۔ بس اپنا خیال رکھیں، ٹھیک ہے؟"
کچھ اور بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔ آفس آنا بھی ضروری تھا. گھر کا خرچ بھی اسی سے چلتا تھا.
اس کے چہرے پر اب وہ پریشانی نہیں تھی جو صبح سے کہیں نہ کہیں موجود تھی۔
(زیشان نے فوراً پوچھا)
"اب کیسی ہیں؟"
(علیزے نے خوشی سے جواب دیا)
"بہت بہتر ہیں۔ آج خود اٹھ کر بیٹھی تھیں۔ پھل بھی کھائے اور چائے بھی پی۔"
"تو پھر؟"
(زیشان نے مسکرا کر کہا)
"اب لنچ؟"
علیزے بھی مسکرا دی۔
"چلو۔"
دونوں اپنی جگہ سے اٹھے اور ساتھ ساتھ کینٹین کی طرف چل پڑے۔
علیزے آج کافی عرصے بعد دل سے خوش تھی۔
زیشان بھی اسے اسی طرح خوش دیکھ کر خوش تھا۔
دونوں باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
دور سے دیکھنے والے کو شاید وہ کسی خوش باش جوڑے کی طرح ہی لگتے۔
اور اسی وقت حازم کی نظر ان دونوں پر پڑی۔
وہ اپنے آفس کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ حازم گھر جانے سے پہلے اکثر اپنے کیبن کی کھڑکی سے باہر رنگین دنیا دیکھا کرتا تھا۔
اس کی نظر بے اختیار علیزے اور زیشان پر ٹھہر گئی۔
دونوں ایک ساتھ کینٹین کی طرف جا رہے تھے۔
علیزے کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
زیشان اس سے کچھ کہہ رہا تھا اور وہ جواب میں ہنس رہی تھی۔
حازم کے ذہن میں فوراً کچھ عرصہ پہلے کا منظر تازہ ہو گیا۔
اس نے انہیں پہلے بھی ایک ساتھ اسی طرح دیکھا تھا۔
اور اب یہ دوسری بار تھا۔
اس کے ذہن میں ایک بے نام سا شبہ دوبارہ سر اٹھانے لگا۔
کچھ تو ہے۔
اس کی نظریں دونوں کے پیچھے چلتی رہیں۔
یہ دونوں مجھ سے کچھ چھپا تو نہیں رہے؟
وہ چند لمحوں تک خاموش کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔
پھر خود ہی اپنے خیال پر رک گیا۔
"مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟"
اس نے بے نیازی سے نظریں ہٹا لیں۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ نظریں ہٹانے کے باوجود ذہن وہیں اٹکا رہا۔
حازم نے کھڑکی سے باہر دوبارہ دیکھا۔
تب تک علیزے اور زیشان کینٹین کی طرف مڑ چکے تھے۔
وہ نظر نہیں آ رہے تھے۔
حازم نے ایک لمحے کے لیے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا، پھر خود کو کام کی طرف متوجہ کر لیا۔
کچھ دیر بعد لنچ بریک ختم ہوئی۔
علیزے واپس اپنی میز پر آ کر بیٹھ گئی اور دوبارہ اپنے کام میں لگ گئی۔
حازم کی نظر ایک بار پھر کھڑکی سے اس کی طرف گئی۔
علیزے اپنی فائل میں مصروف تھی۔
بالکل نارمل۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
حازم نے چند لمحوں تک اسے دیکھا، پھر اپنی کرسی پر واپس آ کر بیٹھ گیا۔
اس نے فائل کھولی۔
اور خود کو کام میں مصروف کر لیا۔
مگر ذہن کے کسی کونے میں وہی سوال اب بھی موجود تھا۔
آخر ان دونوں کے درمیان تھا کیا؟
اور اس سوال کا جواب جانے کیوں اسے اپنی مرضی سے کہیں زیادہ اہم لگنے لگا تھا۔
*°*°*°*°*°*°*
علیزہ اپنی والدہ کی طبیعت کے باعث پچھلے کئی دنوں سے ذہنی دباؤ میں تھی، مگر آج نہ جانے کیوں دل کچھ ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ زیشان بھی تھا، جو آج غیر معمولی طور پر اس کے آس پاس رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اس وقت آفس کینٹین میں موجود تھے۔
زیشان کافی، چائے اور کچھ snacks لیے اس کے سامنے آ کر رکا۔
"میڈم… آپ کی چائے۔"
علیزہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو زیشان کے ہاتھ میں موجود کپ دیکھ کر بے اختیار مسکرا دی۔
"میرے لیے؟"
"نہیں، سامنے والی میڈم کے لیے لایا ہوں۔" زیشان نے سنجیدگی سے کہا، پھر ایک لمحے بعد خود ہی مسکرا دیا۔ "ظاہر ہے آپ کے لیے ہے۔"
علیزہ ہنس پڑی۔
"بہت مزاحیہ ہو رہے ہیں آج۔"
"آج آپ کافی دنوں بعد ہنسی ہیں، تو سوچا تھوڑی اور کوشش کر لیتا ہوں۔"
( زیشان سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور snacks میز پر رکھتے ہوئے بولا)
"یہ بھی رکھ لیے ہیں۔ آپ نے صبح سے کچھ خاص کھایا نہیں۔"
(علیزہ نے اسے حیرت سے دیکھا)
"تمہیں کیسے پتا؟"
"میں colleagues کے کاموں پر بھی نظر رکھتا ہوں۔"
"اچھا؟"
"جی۔ خاص طور پر ان colleagues پر جو خود کا خیال رکھنے میں ذرا سست ہوں۔"
علیزہ نے آنکھیں گھما کر کپ اٹھا لیا۔
"تمہیں آج بڑی فکر ہو رہی ہے میری۔"
زیشان کے چہرے پر لمحے بھر کو ایک نرم سی مسکراہٹ آئی۔
"فکر تو ہے۔"
علیزہ کے ہاتھ میں پکڑا کپ ذرا سا رک گیا۔
زیشان نے فوراً بات بدل دی۔
"ویسے آپ آج ہمارے ساتھ پہلی دفعہ آئی ہیں، باقی تو ہمیشہ colleagues کے ساتھ ہی چلی جاتی تھیں۔"
"تو؟"
"تو کچھ نہیں… بس اچھا لگا۔"
"کیا اچھا لگا؟"
زیشان نے ذرا جھجکتے ہوئے اسے دیکھا۔
"آپ کا ساتھ۔"
علیزہ کے لبوں پر ایک بار پھر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ میز پر رکھا فون بج اٹھا۔
اسکرین پر نام دیکھتے ہی اس کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
امَل۔
(علیزہ نے فون اٹھایا)
"السلام علیکم۔"
" وا علیکم السلام"
دوسری طرف سے امَل کی آواز آئی تو علیزہ کے چہرے پر فوراً تشویش ابھری۔
"میں نے سنا تھا تمہاری والدہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی، اس لیے سوچا خود ہی پوچھ لوں۔ اب کیسی ہیں؟"
(علیزہ نے سر ہلایا)
"الحمدللہ، اب پہلے سے کافی بہتر ہیں۔ بس کچھ دنوں سے طبیعت خراب تھی تو میں بھی کافی پریشان تھی۔"
"اچھا ہے… اللہ انہیں صحت دے۔"
(امل بولی)
"آمین۔"
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر امَل کی آواز میں اچانک ایک عجیب سی شکایت گھل گئی۔
"ویسے ایک بات پوچھوں؟"
(علیزہ کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی)
"ہاں، پوچھو۔"
(علیزے بولی)
"میں تمہیں اپنی اچھی دوست سمجھتی تھی، علیزہ۔"
(علیزہ نے بے اختیار سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا)
"کیا ہوا؟ ایسی بات کیوں کر رہی ہو؟"
"مجھے یہ بات کسی اور سے پتا چلنی چاہیے تھی؟"
"کون سی بات؟"
(امَل کی آواز میں اب ناراضی صاف محسوس ہو رہی تھی)
"یہ کہ حازم کی شادی ہو چکی ہے۔"
(علیزہ چند لمحوں تک خاموش رہی)
"کیا؟"
"ہاں، علیزہ۔ شادی ہو گئی ہے اس کی۔ اور تمہیں پتا تھا، پھر بھی تم نے مجھے نہیں بتایا؟"حازم تو تمھارا باس ہے نا؟
علیزہ کے چہرے سے ساری خوشی ایک دم غائب ہو گئی۔
"امَل، خدا کے لیے… مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔"
"اب بھی تم یہی کہہ رہی ہو؟"
"میں جھوٹ کیوں بولوں گی تم سے؟ مجھے خود اب تم سے حازم سرکی شادی کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ تم میری دوست ہو، میں تم سے یہ بات کیوں چھپاؤں گی؟"
"لیکن مجھے تو یہی لگ رہا ہے کہ تم نے جان بوجھ کر—"
(امل بولتے ہوئے رک گئی)
"بس کرو، امَل!"
(علیزہ کی آواز اچانک بلند ہو گئی)
زیشان چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
علیزہ نے فوراً اپنی آواز دبی، مگر غصہ اور دکھ اب بھی لہجے میں واضح تھا۔
"میری والدہ کی طبیعت خراب تھی، میں خود ایک الگ پریشانی میں تھی… اور تم مجھ پر یہ الزام لگا رہی ہو کہ میں نے تم سے کچھ چھپایا؟"
دوسری طرف سے امَل بھی کچھ کہہ رہی تھی، مگر علیزہ کا صبر جواب دے چکا تھا۔
"تمہیں جو سوچنا ہے سوچو، لیکن میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا۔"
علیزے نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
علیزہ نے فون میز پر رکھا اور چند لمحے خالی نظروں سے سامنے دیکھتی رہی۔ آنکھوں میں غصے سے زیادہ تکلیف تھی۔
زیشان کچھ کہنے ہی والا تھا کہ زیشان کی آواز آئی۔
"علیزہ…"
وہ چونکی۔
زیشان اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر معمول کی سنجیدگی تھی، مگر آنکھوں میں ایک ایسی کیفیت تھی جیسے ابھی ابھی کسی بات نے اسے اندر تک ہلا دیا ہو۔
"میں نے سب سن لیا ہے۔"
علیزہ کی نظریں فوراً اس کی طرف اٹھیں۔
زیشان نے ایک لمحے کے لیے نظریں جھکا لیں۔
"اور شاید… مجھے تمہیں یہ بات پہلے ہی بتا دینی چاہیے تھی۔"
علیزہ کے دل میں عجیب سا خدشہ ابھرا۔
"کون سی بات؟"
زیشان نے گہری سانس لی۔
"حازم سر کی شادی والی۔"
علیزہ کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
(زیشان نے آہستہ سے کہا)
"وہ شادی کر چکے ہے۔"
علیزہ کی انگلیاں فون کے گرد بے اختیار کس گئیں۔
"کس سے؟"
زیشان چند لمحے خاموش رہا، جیسے الفاظ ترتیب دے رہا ہو۔
"سر سعد حازم سر کے دوست کی سالی سے… عنایہ جی سے۔"
علیزہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت جم گئی۔
"عنایہ ؟"
"ہاں۔"
(زیشان کی آواز پہلے سے بھی دھیمی ہو گئی)
"میں تمہیں بتانے ہی والا تھا، علیزہ۔ واقعی۔ بس… امَل کی کال پہلے آ گئی۔"
(علیزہ کچھ نہ بولی)
ابھی کچھ دیر پہلے زیشان کی باتوں پر ہنسنے والی وہی علیزہ، چند لمحوں میں جیسے بالکل خاموش ہو گئی تھی۔
اس کے ذہن میں امَل کے الفاظ گونج رہے تھے، اور اب زیشان کی بات نے اس سارے معاملے کو ایک حقیقت بنا دیا تھا۔
(زیشان نے اسے دیکھا)
"مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ بات اس طرح معلوم ہوئی۔"
علیزہ نے نظریں اٹھائیں۔ آنکھوں میں غصہ نہیں تھا، بس ایک گہری سی الجھن تھی۔
"تو واقعی… سر کی شادی ہو گئی؟"
(زیشان نے خاموشی سے سر ہلا دیا)
علیزہ نے نظریں جھکا لیں۔
اور اس بار اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ وہ امل کی حالت کا اندازہ لگا چکی تھی اسے اس بات کا افسوس تھا کے امل حازم کو مکمل کھو چکی تھی۔
*°*°*°*°*°*°*
عنایہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو کچھ ہی دیر بعد حور بھی اسکول سے واپس آ گئی۔
آتے ہی اس نے بیگ ایک طرف رکھا اور تھکی تھکی سی شکل لیے میز کے سامنے جا بیٹھی۔
(عنایہ نے اسے دیکھا تو مسکرا دی)
"آ گئی بیٹا؟"
حور نے بس سر ہلا دیا۔
وہ اپنی ریاضی کی کتاب کھول کر بیٹھ چکی تھی، مگر اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بری طرح پریشان ہے۔
اس کا پرسوں ریاضی کا پیپر تھا، اور وہ کافی دیر سے ایک ہی سوال حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کبھی کچھ لکھتی...
پھر اسے کاٹ دیتی۔
دوبارہ لکھتی...
پھر غصے میں پورا جواب کاٹ دیتی۔
آخرکار اس نے جھنجھلا کر پین رجسٹر پر مارا۔
"افف!"
عنایہ نے دور سے اسے دیکھا تو اس کے قدم خودبخود رک گئے۔
وہ حور کے پاس آئی اور اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
"کیا ہوا بیٹا؟ اتنی پریشان کیوں ہو؟"
حور نے فوراً عنایہ کی طرف دیکھا۔
"بھابھی..."
اس ایک لفظ میں ہی اتنی پریشانی تھی کہ عنایہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
"جی؟"
حور نے ریاضی کی کتاب اس کی طرف گھمائی۔
"میرا پرسوں میتھ کا پیپر ہے۔ اور مجھے حازم بھائی کے علاوہ کسی کی بھی میتھ سمجھ نہیں آتی۔"
عنایہ نے حیرت سے آنکھیں کھولیں۔
"اچھا؟"
"ہاں بھابھی! میں اکیڈمی بھی جا چکی ہوں، لیکن مجھے میتھ صرف حازم بھائی ہی سمجھاتے ہیں۔"
(وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر مزید پریشانی سے بولی)
"پہلے میرا ٹیسٹ ہے، پھر فائنل پیپرز۔ اگر ٹیسٹ اچھا نہیں ہوا تو مجھے ڈر ہے کہ فائنل بھی خراب ہو جائے گا۔"
عنایہ نے اس کے معصوم سے پریشان چہرے کو دیکھا تو بے اختیار مسکرا دی۔
اس نے کتاب اپنی طرف کھینچ لی۔
"اچھا، یہ بتاؤ... کون سا سوال ہے جو سمجھ نہیں آ رہا؟"
حور نے فوراً وہی سوال اس کے سامنے کر دیا۔
عنایہ نے پین اٹھایا اور بہت سکون سے اسے سمجھانا شروع کر دیا۔
ایک قدم۔
پھر دوسرا۔
پھر جواب تک پہنچنے کا طریقہ۔
حور پہلے تو خاموشی سے دیکھتی رہی، پھر اچانک اس کے چہرے پر سمجھ آنے کے آثار نمودار ہوئے۔
"اوہ!"
عنایہ مسکرائی۔
"سمجھ آیا؟"
حور نے فوراً سر ہلایا۔
"جی ہاں!"
وہ خود سے سوال دوبارہ حل کرنے لگی۔
اس بار جواب درست آیا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
"بھابھی!"
"ہمم؟"
"یہ تو مجھے آ گیا!"
عنایہ ہنس دی۔
"تو پھر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟"
حور نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"بھابھی، میں سچ میں حیران ہوں!"
"کیوں؟"
"مجھے حازم بھائی کے علاوہ کسی کی میتھ سمجھ نہیں آتی تھی۔"
(وہ ذرا رک کر بڑے یقین سے بولی)
"اور آپ واحد ہیں جن کی مجھے میتھ سمجھ آ گئی!"
عنایہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
حور نے فوراً کتاب اس کی طرف اور آگے کر دی۔
"بھابھی، آپ میرے فائنل پیپرز کی بھی تیاری کروا دیں گی؟"
عنایہ نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"کیوں نہیں؟ ضرور۔ میں اپنی بیٹی کو خود تیاری کرواؤں گی۔"
حور کا چہرہ کھل اٹھا۔
"سچ؟"
"بالکل سچ۔"
حور نے فوراً اپنی کتاب بند کی۔
"تو پھر آپ یہیں بیٹھیں۔"
(عنایہ نے حیرت سے پوچھا)
"کیوں؟"
(حور کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی)
"میں کاکا سے کہتی ہوں آپ کے لیے کچھ اچھا سا بنائیں۔ کیک وغیرہ یا کچھ اور؟ دوپہر میں آپ کیا کھائیں گی؟"
عنایہ ہنس پڑی۔
"ارے نہیں، اس کی کیا ضرورت ہے؟"
"ضرورت ہے!"
حور نے فوراً فیصلہ سنایا۔
"میں آپ کے لیے براؤنیز بنواتی ہوں۔"
وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی۔
"کاکا!"
اس کی آواز پورے گھر میں گونجی۔
کچھ ہی لمحوں بعد کچن سے کاکا باہر آئے۔
"کیا ہوا بیٹا؟ مسئلہ حل ہو گیا؟"
حور کے چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ تھی۔
"ہاں!"
پھر اس نے فخر سے عنایہ کی طرف دیکھا۔
"بھابھی نے تو مجھے حازم بھائی سے بھی اچھا میتھ سمجھایا!"
کاکا نے عنایہ کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر بھی بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
حور فوراً ان کے پاس پہنچ گئی۔
"کاکا، آج آپ ہمیں براؤنیز بنا کر کھلائیں نا!"
"اچھا بیٹا، کیوں نہیں۔"
"اور ساتھ میں کوئی اچھی سی ڈرنک بھی!"
کاکا نے ہنستے ہوئے سر ہلایا۔
"اچھا بابا، آپ دونوں بیٹھو۔ میں بناتا ہوں۔"
"پکا؟"
"ہاں بھئی، پکا!"
حور خوش ہو کر واپس کے پاس آ گئی۔
کاکا مسکراتے ہوئے دوبارہ کچن کی طرف چلے گئے۔
عنایہ اور حور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیں۔
حور دوبارہ اپنی کتاب اٹھا کر عنایہ کے پاس بیٹھ گئی۔
اور نہ جانے کیوں عنایہ کے دل میں ایک بہت نرم سا احساس اترا۔
اسے اب یہ گھر اجنبی نہیں لگ رہا تھا۔
کبھی کبھی اسے یاد ہی نہیں رہتا تھا کہ وہ اس گھر میں نئی ہے۔
حور کے ساتھ بیٹھ کر اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے اسے اچانک ایک چھوٹی بہن مل گئی ہو۔
ایک ایسی بہن جو چند دنوں میں ہی اس سے اتنی مانوس ہو گئی تھی۔
اور حور بھی اسے صرف اپنے بھائی کی بیوی نہیں سمجھتی تھی۔
اس کے لیے عنایہ واقعی اس کی بھابھی سے بڑھ کر بن رہی تھی۔
اس کی اپنی۔
عنایہ نے پیار سے حور کے بال درست کیے۔
حور نے فوراً سر اس کے کندھے سے لگا دیا۔
"بھابھی؟"
"ہمم؟"
"آپ مجھے روز میتھ پڑھایا کریں گی نا؟"
عنایہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
"ہاں بھئی، روز۔"
حور خوش ہو کر دوبارہ اپنی کتاب کھولنے لگی۔
اور عنایہ اسے دیکھتی رہی۔
اس چھوٹے سے لمحے میں اسے محسوس ہوا جیسے اس گھر میں اسے ایک اور رشتہ مل گیا ہو۔
ایک چھوٹی سی بہن کا۔
ایسا رشتہ جو نہ کسی شرط سے بندھا تھا، نہ کسی وعدے سے۔
بس محبت سے بن رہا تھا۔
آہستہ آہستہ۔
خاموشی سے۔
اور شاید اسی لیے اتنا خوبصورت تھا۔
*°*°*°*°*°*°*
عنایہ کوریڈور میں ٹہلتی اپنے والدہ سے فون پر بات کر رہی تھی۔
آج نہ جانے کیوں اس کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔
وہ اپنے والدہ سے ہنستے ہوئے بات کر رہی تھی، کبھی ان کی کوئی بات سن کر مسکرا دیتی اور کبھی خود کچھ کہہ کر ہنس پڑتی بار با اسکا دھیان اس فون کال پر جا رہا تھا وہ لڑکی کون تھی جس سے اتنا بے تکلف حازم بات کر رہے تھے وہ اسی سوچ میں انجانے میں کھو رہی تھی۔
والدہ نے حسبِ معمول اس سے اس کی حازم کا حال پوچھا، اور نئی زندگی کے بارے میں بھی پوچھنے لگے۔
"تم ٹھیک ہو نا بیٹا؟"
عنایہ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر اس کے ہونٹوں پر ایک بہت ہلکی، مگر سچی مسکراہٹ آ گئی۔
"جی ماما.. میں ٹھیک ہوں۔"
اس بار وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی۔
وہ واقعی ٹھیک تھی۔
شاید پہلی مرتبہ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی زندگی میں جو کچھ بدلا ہے، وہ صرف ایک مجبوری نہیں رہا۔
یہ ایک الگ زندگی تھی۔
ایک ایسی زندگی جس میں اسے کچھ نئے رشتے مل رہے تھے، کچھ نئے احساسات مل رہے تھے۔
اور وہ...
وہ واقعی خوش تھی۔
امی سے کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد (عنایہ نے ہنستے ہوئے کہا)
"اچھا امی، اب آپ اپنا خیال رکھیے گا۔ میں بعد میں دوبارہ فون کروں گی۔"
کچھ دیر بعد اس نے فون بند کر دیا۔
چہرے پر ابھی بھی مسکراہٹ باقی تھی۔
مگر اگلے ہی لمحے وہ پیچھے کی طرف مُڑی اس کی نظر سامنے اٹھ گئی۔
اور اس کی مسکراہٹ وہیں رک گئی۔
حازم گیٹ سے اندر آ رہا تھا۔
وہ صبح والا ہی سوٹ پہنے ہوئے تھا۔
وہی گہرا رنگ، وہی نفیس لباس، اور وہی سنجیدہ سا انداز۔
آج بھی وہ کسی خوبصورت شخصیت سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
عنایہ کی نظریں ایک لمحے میں اس پر ٹھہر گئیں۔ اور پھر جیسے وہ خود ہی اپنی نظروں سے گھبرا گئی۔
حازم بھی اسی سمت آ رہا تھا۔
دونوں کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہونے لگا۔
عنایہ نے فوراً ایک طرف ہونے کی کوشش کی۔ مگر حازم بھی اسی طرف آ گیا۔
وہ تقریباً اس کے بالکل سامنے آ کر رک گیا۔
عنایہ کی سانس جیسے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ وہ گھبرا کر ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئی۔ مگر حازم وہیں کھڑا رہا۔ نہ وہ پیچھے ہٹا، نہ اس کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ آئی۔
بس اس نے عنایہ کو غور سے دیکھا۔
عنایہ نے نظریں فوراً جھکا لیں۔
"آپ..."
اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا۔
حازم کی بھنویں ذرا سی سکر یں۔
"آپ ٹھیک ہیں؟"
عنایہ نے جلدی سے سر ہلا دیا۔
"جی۔"
حازم نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر بغیر مزید کچھ کہے آگے بڑھنے لگا۔
اسی وقت سامنے سے کاکا آتے ہوئے دکھائی دیے۔
انہوں نے دور سے حازم اور عنایہ کو ساتھ کھڑے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے رک گئے۔ شاید انہیں لگا کہ دونوں آپس میں بات کر رہے ہیں۔ وہ فوراً واپس مڑنے لگے تاکہ انہیں ڈسٹرب نہ کریں۔
مگر حازم کی نظر ان پر پڑ چکی تھی۔
اور صرف ایک نظر کافی تھی۔
کاکا کے چہرے پر وہ پریشانی تھی جو وہ چھپانے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔
حازم انہیں بچپن سے جانتا تھا۔
وہ ان کے چہرے کی معمولی سی تبدیلی بھی سمجھ سکتا تھا۔
وہ فوراً ان کی طرف بڑھا۔
"کاکا۔"
کاکا رک گئے۔
حازم ان کے قریب پہنچا تو غور سے ان کا چہرہ دیکھا۔
"آپ ٹھیک تو ہیں؟"
(کاکا نے فوراً مسکرانے کی کوشش کی)
"ہاں بیٹا، بالکل ٹھیک ہوں۔"
حازم نے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
"پکا؟"
"ہاں بیٹا، بس ایسے ہی..."
حازم نے ان کی بات کاٹ دی۔
"کاکا، آپ مجھے بچپن سے جانتے ہیں۔ اور میں آپ کو۔"
اس کی آواز نرم تھی، مگر انداز ایسا تھا کہ کاکا مزید بات چھپا نہیں سکتے تھے۔
"آپ کے چہرے سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ کچھ ہوا ہے۔"
کاکا خاموش ہو گئے۔
حازم نے مزید قریب ہو کر پوچھا،
"مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟ گاؤں میں سب ٹھیک ہے؟"
کاکا نے ایک گہری سانس لی۔
"بس بیٹا..."
ان کی آواز میں اچانک بوجھ آ گیا۔
"آپ کی آنٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔"
حازم کے چہرے پر فوراً سنجیدگی آ گئی۔
"کیا ہوا انہیں؟"
"کافی زیادہ طبیعت خراب ہے۔ میری بیٹی کا فون آیا تھا۔ کہہ رہی تھی بابا، آپ آ جائیں۔"
(کاکا کی آواز میں بے بسی تھی)
"میں بھی جانا چاہتا ہوں بیٹا، مگر..."
وہ رک گئے۔
(حازم نے فوراً کہا)
"مگر کیا؟"
کاکا نے حازم کی طرف دیکھا۔
"آپ کو چھوڑ کر کیسے جاؤں؟ آپ کی شادی کو کچھ عدصہ ہوا ہے۔ آپ اکیلے کیسے رہیں گے؟"
حازم کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
وہ کاکا کی طرف ایک قدم اور بڑھا۔
"آپ اس کی فکر نہ کریں۔"
"لیکن بیٹا—"
"میں دیکھ لوں گا۔"
حازم نے بہت اطمینان سے کہا۔
"آپ جائیں۔ اپنی بیوی کے پاس جائیں اور ان کا خیال رکھیں میں اپنی بیوی کا خیال رکھ لوں گا اورکچھ دنوں کی تو بات ہے۔"
یہ کہتے ہوئے حازم کی نظریں کاکا پر تھی لیکن عنایہ کا اسے اس بات پر گھورنا وہ محسوس کر چکا تھا وہ عنایہ کو دیکھ کر اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ یہ جان چکا تھا کے عنایہ کے دل میں کہی نا کہی تو بس تو چکا ہے۔
کاکا اسے دیکھتے رہ گئے۔
(حازم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا)
"اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ کسی بھی چیز کی۔"
کاکا کی آنکھوں میں نمی سی آ گئی۔
(حازم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا)
"آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ ابھی جائیں، ان کا خیال رکھیں۔ باقی یہاں میں دیکھ لوں گا۔"
یہ کہتے ہوئے حازم کی نظر بے اختیار عنایہ کی طرف گئی۔
عنایہ کچھ فاصلے پر کھڑی خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
حازم کی نظر ایک لمحے کے لیے اس پر ٹھہری۔
پھر وہ دوبارہ کاکا کی طرف متوجہ ہو گیا۔
"آپ سامان پیک کر لیں۔ میں آپ سے فلاں تاریخ تک دوبارہ ملوں گا۔ اور ہاں، جانے میں دیر مت کیجیے گا۔"
(حازم نے مسکرایا)
"شکریہ بیٹا۔"
(کاکا نے دھیمی آواز میں کہا)
حازم خاموش رہا۔
کاکا نے آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا۔
"میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔"
(حازم نے فوراً کہا)
"کاکا، احسان کیسی بات؟ آپ جائیں۔"
کاکا کی آواز بھرّا گئی۔
"میں بھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا، لیکن میری بیوی بہت بیمار ہے۔ میری بیٹی اکیلی وہاں پریشان ہے، اپنی ماں کے ساتھ۔ مجھے جانا ہی ہوگا۔"
حازم نے اثبات میں سر ہلایا۔
"بالکل۔ اور آپ کو جانا چاہیے۔"
پھر اس نے ایک بار پھر انہیں تسلی دی۔
"آپ بس ان کے پاس پہنچیں اور ان کا خیال رکھیں۔ باقی یہاں کی فکر بالکل نہ کریں۔"
کاکا نے ممنون نظروں سے حازم کو دیکھا۔
"اللہ آپ کو خوش رکھے، بیٹا۔"
حازم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
آپ سامان پیک کرلیں۔
بیٹا وہ سب ساتھ ہی رکھا ہے اتنا سامان تو ہے نہیں بس جا کر اٹھانا ہی ہے جاتے جاتے اپنے کوارٹر سے اٹھاتا جاؤں گا.
اچھا یہ تو اچھی بات ہے. آپ یہی رکیے میں ابھی آتا ہوں. حازم یہ کہہ کر گیا اور کچھ ہی دیر میں اپنے کمرے سے واپس آیا اب کی بار اسے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا. حازم نے آگے بڑھ کر کاکا کے ہاتھ میں لفافہ تھما دیا.
کاکا یہ کچھ رقم ہے آپ کے کام آئے گی.
(حازم دھیمی آواز میں گویا ہوا)
"بیٹا، اس کی کیا ضرورت تھی؟"
(کاکا بولے)
"ضرورت تھی، اسی لیے دیا ہے۔"اور ہاں ڈرائیور آپ کو چھوڑ دے گا. کاکا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
یہ وہی حازم تھا جسے انہوں نے بچپن سے اپنی آنکھوں کے سامنے بڑا ہوتے دیکھا تھا۔
اس کے باپ کے بعد جس طرح انہوں نے اسے سنبھالا تھا، حازم وہ احسان کبھی نہیں بھولا تھا۔ کاکا اس کے لیے صرف گھر کا ملازم نہیں تھے۔ وہ اس کے لیے باپ جیسے تھے۔
اور حازم انہیں اس طرح پریشان کیسے دیکھ سکتا تھا؟کاکا نے نم آنکھوں سے سر ہلا دیا۔
"اللہ تمہیں خوش رکھے، بیٹا۔"
حازم ہلکا سا مسکرایا۔
"بس آپ دعا کریں۔"
اسی دوران حور بھی وہاں آ گئی۔
کاکا کو سب کے ساتھ کھڑا دیکھ کر وہ فوراً ان کے قریب گئی۔
"کاکا، آپ کہیں جا رہے ہیں؟"
کاکا نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"ہاں بیٹا۔ تمہاری آنٹی کی طبیعت خراب ہے نا، ان کے پاس جانا ہے۔"
حور کا چہرہ فوراً اداس ہو گیا۔
"ابھی واپس آ جائیں گے نا؟"
(کاکا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا)
"ان شاء اللہ۔ جیسے ہی وہ ٹھیک ہوں گی، میں واپس آ جاؤں گا۔"
(حور نے فوراً کہا)
"اپنا خیال رکھیے گا۔ اور آنٹی کو بھی میرا سلام کہنا۔"
کاکا مسکرا دیے۔
"ضرور بیٹا۔"
عنایہ بھی آگے بڑھ آئی۔
اس کے چہرے پر بھی فکر تھی۔
"کاکا، آپ پہنچ کر ہمیں ضرور بتائیے گا۔"
"جی بیٹا۔"
(عنایہ نے نرمی سے کہا)
"اور آنٹی کی طبیعت اب کیسی ہے، یہ بھی ہمیں بتاتے رہیے گا۔"
کاکا نے اثبات میں سر ہلایا۔
"ضرور۔"
اور تینوں کے دل سے ایک ہی دعا نکلی—
اللہ آنٹی کو صحت دے، کاکا کو خیریت سے ان کے پاس پہنچائے، اور انہیں جلد دوبارہ اسی گھر میں ہنستا مسکراتا واپس لے آئے۔
پھر حازم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔
"چلیں کاکا، میں آپ کو باہر تک چھوڑ دیتا ہوں۔"
کاکا نے اسے دیکھا۔
"نہیں بیٹا، میں چلا جاؤں گا۔"
(حازم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا)
"آپ بس چلیں۔"
حازم ان کے ساتھ دروازے تک گیا۔
حور اور عنایہ بھی وہیں کھڑی رہیں۔
حازم کے لہجے میں ہمیشہ کی طرح وہی سادگی تھی۔کاکا نے ایک بار پھر اسے دعا دی اور وہاں سے چلے گئے۔ حازم کچھ لمحے وہیں کھڑا انہیں جاتا دیکھتا رہا۔
پھر اس کی نظر دوبارہ عنایہ کی طرف گئی۔
عنایہ خاموش کھڑی تھی۔
اس کے چہرے پر اب کچھ دیر پہلے والی خوشی نہیں تھی۔
بس ایک سوال تھا۔
وہ جانتی تھی کہ حازم نے ابھی ابھی اس کے گھر والوں کے لیے کیا کیا تھا۔
اور شاید پہلی بار اسے شدت سے محسوس ہوا کہ جس شخص کو وہ صرف ایک سخت مزاج شوہر سمجھتی رہی تھی...
اس کے اندر اس سے کہیں زیادہ نرم دل انسان بھی موجود تھا۔ مگر وہ اس بات سے انجان تھی جس طرح ہر بات کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح انسان کے بھی کہی روپ ہو سکتے ہیں۔
*°*°*°*°*°*°*
نیہا اور اس کی والدہ دونوں کمرے میں بیٹھی تھیں۔ سامنے علی بھی اپنی اسٹڈی کے بارے میں بات کر رہا تھا۔
"امی، میں ہاسٹل سے واپس آ گیا ہوں نا، اور جہاں اپلائی کیا تھا وہاں میرا ایڈمیشن بھی ہو گیا ہے۔ بس کچھ دنوں بعد کلاسز شروع ہو جائیں گی۔"
نیہا کی والدہ کے چہرے پر فوراً خوشی آ گئی۔
"ماشاءاللہ، یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔"
نیہا دلچسپی سے علی کی بات سن رہی تھی۔
(نیہا نے مسکرا کر کہا)
"میں نے عنایہ باجی کو بھی بتایا تھا، مگر آج تفصیل سے بتاؤں گاکہ کلاسز کب سے شروع ہو رہی ہیں؟"
علی نے اپنی پڑھائی کے حوالے سے انہیں بتانا شروع کیا تو سب اسی گفتگو میں مصروف ہو گئے۔
اسی دوران باہر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
کچھ ہی دیر بعد سعد اپنی والدہ کے ساتھ اندر داخل ہوا۔
سعد کے ہاتھ میں چند کتابیں تھیں اور دوسرے ہاتھ میں تازہ گجروں کا ایک خوبصورت سا گچھا تھا۔
نیہا کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، اس کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
(نیہا کی والدہ نے بھی سعد کو دیکھ کر خوشی سے کہا)
"سعد بیٹا؟"
"جی آنٹی جی۔"
سعد نے سب کو سلام کیا اور اندر آ گیا۔
نیہا کی نظریں بے اختیار اس کے ہاتھ میں موجود چیزوں پر چلی گئیں۔
سعد نے سب سے پہلے کتابیں اس کی طرف بڑھائیں۔
"یہ آپ کے لیے۔"
(نیہا نے حیرت سے کتابیں لیں)
"میرے لیے؟"
"جی۔
آپ نے پچھلی بار کہا تھا نا کہ آپ کو یہ والی کتاب چاہیے تھی۔"
نیہا کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
"آپ کو یاد تھا؟"
(سعد نے بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا)
"آپ کی باتیں بھولنے کے لیے نہیں ہوتیں۔"
(نیہا فوراً نظریں جھکا گئی)
نیہا کی والدہ نے یہ منظر دیکھا تو اُن کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔
سعد نے پھر گجروں کی طرف دیکھا۔
"اور یہ بھی۔"
نیہا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"یہ کیا ہے؟"
"آپ کے لیے۔"
(سعد کی والدہ نے ہنستے ہوئے کہا)
"لے لو بیٹا، اتنا پوچھ کیوں رہی ہو؟"
نیہا نے شرماتے ہوئے گجرے لے لیے۔
اس کے گالوں پر ہلکی سی سرخی آ گئی تھی۔
نیہا کی والدہ بھی اس سارے منظر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔
کچھ ہی دیر بعد چائے آ گئی۔
سب بیٹھ کر چائے پینے لگے۔
علی اپنی پڑھائی کے بارے میں سعد سے بات کرنے لگا، دونوں کسی یونیورسٹی اور کلاسز کے حوالے سے گفتگو کرنے لگے۔
نیہا بھی درمیان میں کچھ کہہ دیتی۔
نیہا کی والدہ اور سعد کی والدہ بھی آپس میں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔
مگر نیہا کا دھیان بار بار اپنی گود میں رکھے گجروں کی طرف چلا جاتا۔
وہ انہیں چھو کر دیکھتی اور پھر چپکے سے سعد کی طرف دیکھ لیتی۔
سعد کی نظر جب اس سے ملتی تو وہ فوراً نظریں جھکا لیتی۔
(کچھ دیر بعد سعد نے آہستہ سے کہا)
"نیہا، اوپر چلیں؟"
نیہا نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
"چھت پر؟"
"ہاں۔"
سعد نے باہر کی طرف اشارہ کیا۔
"موسم بہت اچھا ہے۔"
نیہا نے ایک لمحے کے لیے اپنی والدہ کی طرف دیکھا۔
(انہوں نے مسکرا کر کہا)
"جاؤ بیٹا۔"
نیہا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
وہ گجرے سنبھالتی ہوئی اٹھ گئی۔
سعد بھی اس کے ساتھ چھت کی طرف چل دیا۔ رات کی بارش نے آج کے موسم کو بالکل بدل دیا تھا۔
ہوا میں نمی تھی، آسمان صاف تھا اور ٹھنڈی ہوا چھت پر آ کر جیسے ساری تھکن اپنے ساتھ لے جا رہی تھی۔
نیہا چھت کی منڈیر کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔
اس نے گجروں کو اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا۔
سعد کچھ فاصلے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
(نیہا نے مڑ کر پوچھا)
"کیا ہوا؟"
"کچھ نہیں۔"
"پھر ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟"
سعد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
"بس دیکھ رہا ہوں۔"
(نیہا فوراً نظریں جھکا گئی)
سعد آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔
اس نے گجروں میں سے ایک چھوٹا سا تازہ پھول نکالا۔
(نیہا نے حیرت سے اسے دیکھا)
"یہ کیا کر رہے ہیں؟"
(سعد نے جواب نہیں دیا)
وہ بس احتیاط سے اس پھول کو نیہا کے بالوں میں لگا گیا۔
(نیہا بالکل خاموش ہو گئی)
اس کے چہرے پر ایک دم سے شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ بے اختیار اپنے بالوں کو چھونے لگی۔
"سعد..."
اس کی آواز میں ہلکی سی جھجک تھی۔
(سعد نے مسکراتے ہوئے پوچھا)
"اچھا نہیں لگا؟"
(نیہا نے فوراً سر ہلایا)
"نہیں... ایسی بات نہیں۔"
"تو پھر؟"
نیہا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا، مگر سعد کی آنکھوں میں دیکھتے ہی دوبارہ جھکا لیں۔
"آپ بھی نا..."
(سعد ہنس دیا)
نیہا نے گجروں کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور ان کی کلیوں کو انگلیوں سے آہستہ آہستہ چھونے لگی۔
سعد اسے دیکھتا رہا۔
بارش کے بعد چلنے والی ٹھنڈی ہوا میں گجرے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
نیہا نے بالوں میں لگے پھول کو دوبارہ چھوا۔
(پھر دھیمی آواز میں بولی)
"آپ کو کیسے پتا چلا کہ مجھے یہ پسند ہیں؟"
(سعد نے کچھ لمحے اسے دیکھا)
"آپ کو پسند ہیں، یہ جاننے کے لیے بہت زیادہ وقت نہیں چاہیے۔"
(نیہا کے گال مزید سرخ ہو گئے)
"اچھا؟"
"ہمم۔"
(سعد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا)
"ویسے آپ کو کتاب زیادہ پسند آئی یا گجرے؟"
(نیہا نے فوراً اس کی طرف دیکھا)
"کتاب۔"
سعد نے بھنویں اٹھائیں۔
"سچ؟"
(نیہا اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے بولی)
"جی۔"
"جھوٹ۔"
(نیہا ہنس پڑی)
"آپ کو کیسے پتا؟"
سعد نے اس کے بالوں میں لگے پھول کی طرف اشارہ کیا۔
"کیونکہ کتاب ابھی تک ہاتھ میں نہیں ہے، اور پھول آپ بار بار چھو رہی ہیں۔"
نیہا نے فوراً ہاتھ روک لیا۔
پھر اسے احساس ہوا کہ سعد ٹھیک کہہ رہا ہے۔
وہ شرمندہ ہو کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
سعد نے بھی اسے مزید تنگ نہیں کیا۔
دونوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔
نیچے گھر سے ہلکی ہلکی باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں، جبکہ اوپر ٹھنڈی ہوا ان کے درمیان سے گزر رہی تھی۔
نیہا نے چپکے سے سعد کی طرف دیکھا۔
سعد سامنے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر سکون تھا۔
اور نہ جانے کیوں نیہا کو اس لمحے میں یہ چھوٹی سی چھت، بارش کے بعد کی ٹھنڈی ہوا، بالوں میں لگا وہ ایک پھول اور اپنے پاس کھڑا سعد...
سب کچھ بہت خوبصورت لگا۔
اس نے اپنے ہاتھ میں موجود گجرے کو ذرا سا مضبوطی سے تھاما۔
اور اس بار جب اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تو اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔
*°*°*°*°*°*°*
آدھی رات گزر چکی تھی۔
پورا گھر گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔
کمرے میں بھی مکمل خاموشی تھی، مگر اچانک حازم بے چینی سے بستر پر کروٹیں بدلنے لگا۔
کافی عرصے بعد اسے پھر وہی خواب آیا تھا۔
وہی خواب جو کبھی تقریباً ہر رات اسے اپنی نیند سے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا کرتا تھا۔
جب سے عنایہ اس کی زندگی میں آئی تھی، نہ جانے کیسے اس کے اندر کی وہ بے چینی کہیں دب گئی تھی۔ وہ خواب آنا بند ہو گئے تھے۔ جیسے عنایہ کی موجودگی نے اس کے ذہن کے کسی تاریک کونے کو کچھ دیر کے لیے سکون دے دیا ہو۔
مگر آج...
کافی عرصے بعد وہی خواب دوبارہ لوٹ آیا تھا۔
حازم کا سانس بے ترتیب ہونے لگا۔
وہ بے چینی سے بستر پر ہل رہا تھا۔
"نہیں..."
اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
"ایسا نہیں ہو سکتا..."
وہ دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ کر جیسے کسی آواز کو خود سے دور کرنا چاہتا تھا۔
"نہیں... ایسا نہیں ہو سکتا۔"
اس کی آواز بلند ہو گئی۔
"سب ٹھیک ہے..."
اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا تھا۔ چند ہی لمحوں میں اس کا پورا چہرہ پسینے سے بھیگ چکا تھا۔
عنایہ گہری نیند میں تھی، مگر بستر کی مسلسل حرکت سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
"حازم؟"
اس نے اندھیرے میں اسے دیکھا تو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
حازم کی حالت دیکھ کر وہ بری طرح گھبرا گئی۔
وہ بے چینی سے ہل رہا تھا، جیسے کسی ایسی چیز سے لڑ رہا ہو جسے عنایہ دیکھ بھی نہیں سکتی تھی۔
"حازم!"
عنایہ فوراً اس کے قریب ہوئی۔
اس نے اس کا بازو پکڑ کر ہلایا۔
"حازم، آنکھیں کھولیں!"
کوئی جواب نہیں آیا۔
عنایہ کی گھبراہٹ بڑھ گئی۔
"آپ ٹھیک تو ہیں؟ کیا ہو رہا ہے آپ کو؟"
اس نے دوبارہ اسے ہلایا۔
"حازم !"
اچانک حازم کی آنکھیں کھل گئیں۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
سانس تیز چل رہی تھی۔
چند لمحوں تک اسے جیسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے۔
عنایہ کا ہاتھ ابھی تک اس کے بازو پر مضبوطی سے جما ہوا تھا۔
(وہ اس کے قریب ہو کر پریشان لہجے میں بولی)
"حازم... آپ ٹھیک تو ہیں؟"
حازم نے اس کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں ابھی بھی خواب کا خوف باقی تھا۔
(عنایہ نے بے چینی سے پوچھا)
"آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ کیا ہوا تھا؟"
حازم نے جواب دینے کی کوشش کی، مگر الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے۔
عنایہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
"ایک منٹ، میں آپ کے لیے پانی لاتی ہوں۔"
وہ جلدی سے پانی لے کر واپس آئی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔
"یہ لیں۔"
حازم نے گلاس تھامنے کی کوشش کی، مگر عنایہ نے خود ہی گلاس اس کے ہونٹوں تک کر دیا۔
"پانی پیئیں۔"
(حازم نے چند گھونٹ پیے)
اس کے چہرے اور گردن سے پسینہ اب بھی بہہ رہا تھا۔
عنایہ کی نظریں بار بار اس کے چہرے پر جا رہی تھیں۔
"آپ کو کیا ہو گیا تھا؟"
حازم خاموش رہا۔
"حازم، کچھ تو بولیں نا۔ آپ ٹھیک ہیں؟"
اس بار حازم نے اس کے ہاتھ سے گلاس لے لیا۔
پھر فوراً اپنی طرف رکھی دراز کھولی۔
عنایہ حیرت سے اسے دیکھتی رہی۔
حازم نے دراز سے دوا نکالی، ایک گولی لی اور پانی کے ساتھ نگل لی۔
عنایہ کی پریشانی اور بڑھ گئی۔
"یہ کیا ہے؟"
حازم نے دراز بند کی۔
"کچھ نہیں۔"
"کچھ نہیں؟"
(عنایہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا)
حازم نے نظریں چرا لیں۔
"میں ٹھیک ہوں۔ آپ سو جائیں۔"
"آپ کو دیکھ کر تو بالکل نہیں لگ رہا کہ آپ ٹھیک ہیں۔"
حازم نے گہری سانس لی۔
"میں نے دوا لے لی ہے۔ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔"
عنایہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔
"ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔"
"نہیں۔"
"تو میں ڈاکٹر کو بلا لیتی ہوں۔"
حازم نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
"عنایہ ، ضرورت نہیں ہے۔"
"لیکن—"
"میں نے کہا نا، میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔"
اس کی آواز میں پہلے والی سختی نہیں تھی۔
بس تھکن تھی۔
اور شاید وہ اپنی حالت عنایہ سے چھپانا چاہتا تھا۔
عنایہ نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔
(پھر بہت دھیمی آواز میں بولی)
"آپ ٹھیک نہیں لگ رہے۔"
حازم نے جواب نہیں دیا۔
عنایہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔
وہ اسے اکیلا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
اس کے ذہن میں ایک ہی خیال بار بار آ رہا تھا—
اگر حازم کو واقعی کچھ ہو گیا تو؟
وہ کیا کرے گی؟
وہ اسے دیکھتی رہی۔
حازم خاموش بیٹھا تھا۔
سانس اب پہلے سے کچھ بہتر تھی، مگر چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔
آخرکار عنایہ نے کچھ کہے بغیر بستر پر واپس جگہ بنائی۔
وہ عنایہ کے برابر میں لیٹ گئی۔
چادر کھینچ کر خود کو ڈھانپا، پھر چند لمحوں بعد چادر کا ایک حصہ حازم کی طرف بھی کر دیا۔
حازم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
عنایہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔
بس خاموشی سے لیٹی رہی۔
کمرے کی لائٹ ابھی بھی جل رہی تھی۔
کچھ لمحوں بعد عنایہ نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ بند کر دی۔
اندھیرے میں دونوں خاموش تھے۔
نہ حازم نے کچھ کہا...
نہ عنایہ نے۔
بس عنایہ کی نظریں اندھیرے میں حازم کے وجود کو محسوس کر رہی تھیں۔
وہ جانتی تھی کہ وہ ٹھیک نہیں تھا۔
اور شاید حازم بھی جانتا تھا کہ عنایہ اس وقت اسے اکیلا چھوڑنے والی نہیں تھی۔
چند لمحوں بعد عنایہ نے بہت آہستہ سے چادر حازم کی طرف درست کر دی۔
حازم نے کچھ نہیں کہا۔
بس خاموشی سے آنکھیں بند کر لیں۔
اور عنایہ بھی وہیں اس کے برابر میں لیٹی رہی۔
رات پھر خاموش ہو گئی تھی۔
مگر اس بار اس خاموشی میں صرف حازم کا چھپا ہوا خوف نہیں تھا...
عنایہ کی بے نام سی فکر بھی شامل تھی۔
جاری ہے......








