Create New List
Share with your friends
Customize readability

Maazi ماضی

All Rights Reserved ©

Summary

کچھ کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہیں... کچھ سچ اتنے قریب ہوتے ہیں کہ انسان انہیں دیکھ کر بھی پہچان نہیں پاتا.... مگر کچھ سوال ایسے تھے جن کے جواب کبھی نہیں ملے۔.... کچھ یادیں ایسی تھیں جنہیں وہ سمجھ نہیں پاتا تھا۔.... اور کچھ راز ایسے تھے جنہیں اُس کا ماضی بار بار اُس کے سامنے لا کھڑا کرتا تھا۔.... اپنی زندگی کی الجھی ہوئی گتھی سلجھاتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ اُن حقیقتوں تک پہنچنے لگتا ہے.... مگر ہر راز کے پیچھے ایک نیا راز تھا... اور ہر جواب اسے اُس شخص کے قریب لے جا رہا تھا..... کیونکہ کچھ کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں... وہ ماضی بن کر بھی انسان کے ساتھ چلتی رہتی ہیں۔

Status
2d ago
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
13+

Chapter 1

اللہ اکبر.۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر...

اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر....

ازان کی آواز فزا میں گونج رہی تھی کتنی پرسکون ہوتی ہے نا ازان - ایک کیبن میں لیمپ کی مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی وہ اپنی  patient   سے باتیں کر رہی تھی ٹیبل پر اسکا نام لکھا ہوا تھا ڈاکٹر زنیرہ رفیق ( سائکیٹرسٹ) ازان کی آواز سنتے ہی وہ چپ ہو گئی تھی اُسنے اپنا ڈراور کھولا سامنے بیٹھی چھوٹی سی لڑکی کو ایک چوکلیٹ دی وہ چھوٹی تھی  اتنی چھوٹی سی عمر میں اسے تھراپی کی ضرورت پڑ رہی تھی اسے اس ضالم دنیا سے بہت سی شکایتیں تھی - اسے تکلیف ہوتی تھی ان سارے مریضوں کی تکلیفیں سن کر اسے ہر کسی پر ترس آ جاتا تھا - دنیا ظالم نہی ہوتی بلکہ  لوگ ظالم ہوتے ہیں اور اسے زندگی نے اس تلخ حقیقت سے  بہت کچّی عمر میں روبرو كرا دیا تھا  - و ظالم نہیں تھی اسے ہر کسی کی تکلیف اپنی سی لگتی تھی وہ سادگی کا پیکر اور شفاف دل کی مالک تھی۔  , وه مضبوت تھی  , یا وقت نے اسے مضبوت بنا دیا تھا اُسے معلم نہیں  تھا اب وہ کمزور نہیں تھی اس نے حالات قابو کرنا سیکھ لیا تھا وہ survivor  تھی اُسکی photographic memory  تھی وہ معاف تو کر سکتی تھی پر بھلا نہی سکتی تھی اسکے دل سے جو ایک دفعہ اتر گیا سو اتر گیا وہ ایک مہرہ نہی تھی اسے چال چلنا آتا تھا  اسنے اپنا  کوٹ اُتار کر اپنی کرسی پر رکھ دیا ۔     "no more clients for today "سر اٹھا کر تیز اواز میں ارحم کو ہدایات کی - اسنے سر جھکا کر سارے کلائنٹس کی بکنگ کینسل کر دی-   وہ ہچکچایا  اور  لمبی  سانس لے کر اسنے اپنے قدم زنیرہ کی ترف بڑھائے ڈاکٹر و میں... وہ ... میں وہ ....  " کیا ہوا ارحم کوئی پریشانی ہے " ؟ وہ کچھ کہتی  کہ ارحم نے ٹیبل پر ایک سفید لفافہ رکھ دیا " اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا  پھر اسنے وہ لفافہ اُٹھایا اور ایک سر سری سی نظر ارحم پر ڈالی وہ سر لٹکائے کھڑا تھا "   بیٹھ جاؤ " وہ نہیں بیٹھا.. -   اور پھر لفافہ کھولا " resignation letter " اسے کچھ سمجھ  نہیں آیا اسنے لمبی سانس لی -"  کوئی اچھی جوب ملی ہے کیا " ؟ اسنے سوال کیا---- ارحم نے کچھ جواب نہیں دیا --- ”  تنخواہ زیادہ  ہے" ؟ اسنے پھر سوال کیا اُدھر پھر خاموشی ہی تھی ـ اسنے اپنے لب کھولے پھر بند کر لیے جیسے وہ اسے کتنی باتیں بتانا چاہتا تھا   " آپ بہت اچھی ہے میڈم ــ ـ ـ ـ الله حافظ وہ کچھ کہتی کہ اس سے پہلے وہ اپنے قدم دروازے کی طرف موڑ چکا تھا وہ جا رہاتھا     اسے امید تھی کہ وہ مڈے گا وہ اسکا دوست تھا بھائیوں جیسا " کیا دوستی اتنی آسانی سے ختم ہو جاتی ہے وہ زنيرہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا اسے کیوں ہمیشہ  دھوکہ ملتا ہے _ _ _ اس نے اپنی کیبن میں نماز ادا کی اسکی نمازیں لمبی ہوتی تھی اسنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا دعا تھی یا دعا کا سمندر جو کبھی ختم نہیں ہوتا تھا اسنے اپنی کار روڈ پر نکالی اور  وہ تیزی سے ڈرائیو کرتی گئی اسکی سوچ ابھی تک ارحم پر ہی اٹکی ہوئی تھی اسنے رظائن کیوں کیا اسے اسکا کوئی سرا نہی مل رہا تھا اسنے ایک کوچین سینٹر کے باہر اپنی گاڑی روکی اور اتر کر اسی کا انتظار کرنے لگی اور پھر کچھ دیر بعد بچّوں کا ہجوم نکلا جسمیں اسکی سیاہ آنکہیں کسی کو تلاش رہی تھی اور پھر اسے وہ دکھ گئی"  مریم! اسکی بہن جو اسے ہر شئے سے عزیز تھی مریم وہ اسکی مریم تھی زنیرہ نے اسکا نام مریم رکھا تھا  ـ ـ ـ "اسلام علیکم آپی "     "وعلیکم السلام مریم " اسنے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا پھر وہ  مریم کو لئے گاڑی بڑھا کر نکل گئی  اسنے گاڑی اپنے اپارٹمنٹ کے نیچے روکی , وہ چابیا اپنے ہاتھ میں لیئے اندر داخل ہونے لگی دروازے میں چابی گھماکر  اسنے اپنا دروازہ کھولا وہ اندر داخل ہو گئی اسکے قدم بھاری تھے وہ جا کر صوفہ پر بیٹھ گئی اسنے اپنی آنکہیں بند کی پھرکھولی  پھر بند کی پھر کھولی اسے سکون نہی مل رہا تھا وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا تھی------وہ ارحم کا يوں اچانک سے رزینیشن پروسس نہیں کر پا رہی تھی اسنے اپنا فون اٹھایا اور وہ اپنا کانٹیکٹ لسٹ چیک کیا آیات اسنے دو منٹ اسکی پروفایل دیکھی اور پھر اسنے اسکو کال ملا دی

" ہیلو زنیرہ"

"  ہائی آیات "

" کیسی ہو زنیرہ بہت دنوں بعد کال کیا ہے"

" میں ٹھیک ہوں تم بتاؤں" ؟

میں بھی ٹھیک ہوں"

" ارحم ٹھیک ہے " زنیرہ نے آیات سے سوال کیا ! "

"کیوں آفس نہی آ رہا  ہے " ؟ اسنے زنیره سے سوال کیا تھا

" آیا تھا پر آج اسنے  resign  دے دیا" وہ چپ ہو گئی

" کیا رزاین دے دیا ؟ کیوں؟ ابھی تو اسے پیسوں کی سخت ضرورت تھی -----"

" کیوں سب خیر ہے؟ "

" تمہیں نہی پتا اسے برین ٹیومر ہے؟ "

"کیا ؟ ------ نہی مجھے نہیں پتا تم یہ کیا کہ رہی ہو " ؟

"آپ کا تو اچھا ملازم تھا  دوست تھا بھائی جیسا تھا  اسنے آپ کو نہیں بتایا ؟ "

" زنیرہ نے سرسري سا نا کہا " وہ سچ میں نہیں جانتی تھی "

" اسنے تمہیں کب بتایا تھا؟ زنیرہ نے اسے پھر سوال کیا ؟ "

" جب ہم آخری دفا ملے تھے " اسنے سادہ سا جواب دیا

" زنیرہ نے فن کاٹ دیا " و وہی بیٹھی رہی اسے کچھ سمجھ  نہیں آ رہا تھا وہ وہی بیٹھی رہی کتنی مینٹ کتنے گھنٹے اسے یاد نہی تھا" اه ارحم یہ تمنے کیا  کر دیا تمنے مجھے کیوں نہی بتایا ؟ اسے اب اسپے غصہ آ رہا تھا؟ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی -----

" میں تو لوگوں کی آنکھیں پڑھ لیتی ہوں مجھے کیسے نہی پتا چلا " وہ اس خوفناک بیماری کے ساٹھ بھی کام کرتا رہا  یا اللہ "

اسنے اپنا سر ہاتھ میں دے دیا تھا

اب بیٹھنے کا وقت نہیں ہے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ہاتھ میں ڈراور سے کار کی کیض اٹھائی  " میں آ رہی ہوں مریم ٹھوڑی دیر میں " و جانے لگی " کدھر جا رہی ہیں آپ ؟ مریم نے سوال کیا تھا

" بس آ رہی ہوں ٹھوڑی دیر میں میرے علاوہ کسی کے لیئے دروازہ نہی کھولنا اسنے سمجھایا تھا ہمیشہ کی طرح "

" اللہ آپی بس بھی کریں میں اب بڑی ہو چکی ہوں میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں میں اپنا نام بھل سکتی ہوںپر یہ نہی کی میرے علاوہ کسی اور کے لیے دروازہ نہی کھولنا کوئی monster تھوڑی آ جائےگا آپی "

" انسان  سے بڑا monster کوئی اور نہی ہوتا  ہے اور انسان کے دیے ہوئی زخم اتنی انسانی سے نہی بھرا کرتے "

" وہ اسے محفوظ رکھنا چاہتی تھی ہر شئے سے ہر بلا سے " اسنے بنا کچھ کہے اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا "

" وہ اسے نہی بتا سکتی تھی کہ انسان کیسے monster  بن جاتا ہے  ---- اسکی آنکھیں بھگنے لگی تھی اسے وہ رات یاد آئی تھی اسنے اپنی مُٹھی کس کے بند کر لی -- اسکا دل کرب سے ڈوبا تھا  وہ اپنے آپ کو دفن کر دینا چاہتی تھی "

کچھ حادثوں کے بعد ہمیں زندہ نہی رہنا چاہیئے کیونکہ ایسے ہادسوں کہ بعد ہم اپنا اصل ہم دور کہیں کھو دیتے ہے  پھر وہ ہم نہی ہوتے ایک survivor ہوتا ہے - ---

"۔ کچھ ذخم بہت گہرے ہوتے ہیں جو کبھی نہی بھرتے ہیں زخم پرانے ہو جاتے ہیں پر تقلیف ہمیشہ نئی ہوتی ہے "

اسنے نا جانے driving  کے دوارن کتنی دفا ارحم کو کال ملائی تھی -- وہ اب سچ میں بہت پریشان ہو رہی تھی وہ اسکا کتنا پرانا ملاظم تھا اسے کم از کم  مجھپے تو بھروسہ کرنا چاہئے تھا - وہ زیرے لب بڑبڑا رہی تھی - اسنے اب ہار مان لی تھی اب وہ کال نہیں اٹھایگا اسنے اپنا رخ گھر کی جانب کر لیا وہ بوجھل قدموں کے ساٹھ گھر میں داخل ہوئی اسے خانا  بنانا بھی بنانا تھا ماں باپ نہیں ہوتے ہے تو زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے نہ -- -- وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی ....مجھے ارحم کو ڈھونڈنا ہوگا وہ کہا جا سکتا ہے مجھے تو اسکا پتہ بھی نہیں معلوم ہے وہ سوچ رہی تھی --- اُسکے دماغ میں صدرا آئی اسنے اسکو کال ملائی..

" ہیلو سدرا "

ہائی ڈاکٹر how can I help you ؟

" کیا تم ارحم کی فائلز شیئرکر سکتی ہو "

" سوری ڈاکٹر وہ تو رضائن دے چکا  ہے اور اپنے ڈاکیومنٹس بھی لیے گیا سکند کاپی ہے دوکیومنٹ کی پرہم آپکو نہی دے سکتے یہ ہماری پالیسی کے آگینست ہے !

" اوکے" اسنے پھر پھن رکھ دیا ---

                                                          ______________________________________

"

" مریم تمھارے لیے ایک سرپرائز ہے میرے پاس " اقرا  نے چہکتے ہوئے کہا  " اچھا ایسا کیا ہے مریم نے فوراََ سوال کیا ؟

یار مریم سرپرائز بھی کہیں بتائے جاتے ہیں اسنے سر پیٹا تھا

اقرا نے میز پر ایک سفید سیلڈ فائل رکھی ----

اقرا کی نظریں ابھی اسی فائل پر تھیں کہ مریم نے بےچینی سے پوچھا--

"یہ کیا ہے، اقرا؟"

"کھولو تو۔"

"یار، تم بہت سوال کرتی ہو۔"

مریم نے فائل کی طرف دیکھا اور پھر اقرا کو۔

"بومب نہیں ہے یار.... فکر نہ کرو۔" اقرا نے جواب دیا تھا

مریم ہنس پڑی

"اچھا کھولتی ہوں۔ صبر تو کرو۔"

مریم نے آگے بڑھ کر فائل اپنے ہاتھ میں اٹھائی۔ انگلیاں جیسے ہی سیل پر پڑیں، اس نے اسے کھول دیا۔

اندر سفید کاغذات ترتیب سے رکھے تھے۔ ہر کاغذ پر ایک الگ مضمون کی سرخی درج تھی۔

مریم کی نظریں چند لمحوں کے لیے ان کاغذات پر ٹھہر گئیں۔

"یہ کیا ہے، اقرا   ؟ " کویسچن پیپر "                                                                                               

اقرا کا مختصر سا جواب مریم کے لیے کافی نہیں تھا۔

"تمہیں کس نے دیا؟"

اس بار اس کے لہجے میں حیرت کے ساتھ تشویش بھی شامل تھی۔

"یہ فراڈ بھی ہو سکتا ہے، اقرا۔ تم تو جانتی ہو آج کل چند پیسوں کے لیے لوگ فرضی کویسچن پیپر تک فروخت کرتے ہیں۔ یہ ضرور کوئی اسکیم ہے۔ کہیں تم نے اپنے پیسے ضائع تو نہیں کر دیے؟"

مریم کے لہجے میں اب صاف افسوس تھا۔

اقرا نے اطمینان سے اسے دیکھا۔

"نہیں، یہ فرسٹ کاپی ہے، مریم۔"

مریم کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

"تمہیں کس نے دیا؟"

اس نے دوبارہ تصدیق چاہی۔

"زید نے۔"

اقرا نے سادگی سے جواب دیا۔

مریم جیسے ایک لمحے کو ساکت رہ گئی۔

"کون زید؟"

"وہ ڈائریکٹر کی بگڑی ہوئی اولاد۔"

"ہمم۔"

مریم نے اسے چند لمحے خاموشی سے دیکھا۔ جیسے ابھی تک اسے اقرا کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔

پھر اس نے فائل بند کی اور اسے میز پر رکھتے ہوئے اقرا کو گھورا۔

"تم مجھے سب کچھ تفصیل سے بتاؤ گی، اقرا۔"

اس بار اقرا کے چہرے کی مسکراہٹ بھی جیسے کہیں غائب ہو گئی تھی۔

"  وہ  میں اور زید...  ہم بس باتیں کرتے ہین جیسے وہ اپنے آپ کو کچھ یقین دلانا چاہ رہی تھی " اسنے لمبی سانس لی مریم اسکی ترف ہی نگاہ کیے ہوئی تھی ....  وہ زید نے مجھے کہا تھا کہ اگر میں اس سے باتیں کرونگی تو وہ مجھے question paper لا کر دیگا میں نے اسے منا کیا تھا پر اسنے بولا کی بس آم حال چال اس سے زیادہ کچھ نہی ہم بس دوست ہیں وہ بہائیوں جیسا  ہے میرے لیے ـــــــ

" مریم کے سر پر گویا آسماں گر پڑا تھا وہ کچھ کہ نہی پا رہی تھی اسے اقرا سے اس بیوقوفی کی توقع نہی تھی ----

" لڑکا اور لڑکی کبھی دوست نہی ہو سکتے ہیں اقرا !! " وہ تمھارے لیئے بھائیوں جیسا ہو سکتا ہے اقرا پر تم اسکی بہنوں جیسی نہیں ہو ... ہر لڑکی کو یہ بات زرور سمجھنی چاہیئے ٬ وہ تمھارا استعمال کر رہا ہے اقرا ....

"تم overthinking کر رہی ہو ----- دادی جیسے باتیں مت کرو دیکھو یہ اتنا بڑا مثلا نہین ہے اس زمانے میں یہ سب کامن ہے "  اقرا نے مریم کو سمجھانا چاہا تھا

" کسی گناہ کو زمانہ کتنا ہی معمول کیوں نہ بنا دے، اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ گناہ، گناہ ہی رہتا ہے، خواہ اسے کرنے والے ایک ہوں یا ہزار۔ لوگوں کی کثرت کسی غلطی کو درست نہیں کر دیتی، اور کسی برائی کا عام ہو جانا اس کے بوجھ کو کم نہیں کرتا۔ ہم اکثر صرف اس لیے اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ’’سب ہی تو کر رہے ہیں‘‘، مگر اللہ کے ہاں ہمارا حساب لوگوں کے اعمال سے نہیں، ہمارے اپنے اعمال سے ہوگا اقرا... 

"مجھے میری boundaries کا اندازہ ہے مریم تم سوچو نہی زیادہ اب میں بڑی ہو گئی ہوں maturity ہے میرے میں مریم تمہیں کیا لگتا  کہ تم بہت نیک ہو ؟ مریم کو   اس لحظے کی توقع نہی تھی اقرا سے وہ خاموش ہو گئی

میں کوئی گناہ نہی کر رہی ہوں " اسنے اسے سمجھانا چاہا تھا... 

  بیوقوفوں جیسی باتیں نہیں کرو اقرا ! "    وہ اسکی دوست تھی وہ اسے یوں دلدل میں نہی چھوڑ سکتی تھی ----

" اچھا میں بیوقوف ہوں تو تم کیا ہو مریم "  ؟ اسنے مریم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال کیا "

تم تو ٹوپر ہو تمہیں کیا پتہ کم مارکس لانے پر  کتنا برا لگتا ہے ؟ لوگ آپ سے کیسے امید ہار جاتے ہیں ....  جب سارا وقت کتابوں کے بیچ گزرتا ہے اور رزلٹ دیکھ کر کے جو ذلّت برادشت کرنی پڑتی ہے تم نہی جانتی ہو ایوریج ہونا ایک curse ہے بہت بڑا curse  ہے ہم اتنے کمزور بھی  نہی ہوتے کی ہمت ہار جائے اتنے اچھے بھی نہی ہوتے کی جیت جائے تم نہی جانتی ماں باپ کی امیدوں پر پورا نہ اترو تو کتنی تکلیف ہوتی ہے انکا اُداس چہرہ دیکھ کے سوری تم کیسے جان سکتی ہو تمھارے تو ماں باپ ہی نہی ہے نا ....... وہ بس جملہ نہی تھا وہ آگ تھی جو چابک میں لپٹے ہوے مریم کے دل کو   ریزه ریزہ کر گئی تھی ----- اسنے اپنے آپ کو قابو کیا وہ دوست تھی اسکی وہ اسے یوں تو نا برباد ہونے دے سکتی تھی تم اپنا ایمان نہی چند نمبر کے لیے فروخت کر سکتی اقرا وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی ٬ وہ اسے بچانا چاہتی تھی....  دیکھو اقرا بہت سے لوگ  relationship میں ہوتے ہے ایک اور کا اضافہ ہو جائےگا تو کوئی بڑی بات نہی پر وہ تم ہوگی یہ بہت  بڑی بات ہے ..." تم میری دوست ہو دوست ہی رہو مریم" ----

وہ کچھ بولنے والی تھی چپ ہو گئی اسے اقرا کی warning سمجھ آ رہی تھی ... وہ اسے نہی بتا سکتی تھی اسکی آنکھوں پر شیطان نے پٹی باندھ رکھی تھی اسنے اپنا  command شیطان کو دے دیا تھا.....

" اور پتا ہے پھر کیا ہوتا ہے جب ہم اپنا کمانڈ شیطان کو دے دیتے ہے ؟ پھر آنکھ ہماری ہوتی ہے پر اس سے دیکھی جانے والی  شئے شیطان کی ہوتی ہے  ٬ کان ہمارے ہوتے ہے پر  اس سے سنے جانے والی چیز شیطان کی ہوتی ہے ٬ زبان ہماری ہوتی ہے پر اسے نکلنے والے الفاظ شیطاں کے ہوتے ہے ٬ ہاتھ ہمارے ہوتے ہے پر اس سے کئے جانے والے کام شیطان کے ہوتے ہے ٬ پیر ہمارے ہوتے ہیں پر اس سے جانے والی جگہ شیطان کی ہوتی ہے اور  پھر شیطان ہمیں  جہنّم کی آگ تک بھی لے جا سکتا ہے ........

" جب تمہاری عقل ٹھکانے آ  جائے تب آنا میرے پاس مریم " اقرا مریم کو بولتے ہوئے اٹھ  کھڑی ہوئی اور قدم پٹکتے نکل گئی کو اسے نہی روک سکتی تھی... کیسے روکتی.. وہ اقرا کی پشت دیکھتی گئی جب تک وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل نہی ہو گئی وہ وہی ساکت بیٹھی رہی.... اسکا ذہن کام نہیں کر رہا تھا ---   وہ رونا چاہتی تھی  اسکے  آنسو خشک ہو گئے تھے دل کے زخم آنسوؤں سے نہیں بھرا کرتے، کچھ درد وقت کے ساتھ خاموش تو ہو جاتے ہیں، مگر مٹتے نہیں۔ــــ

"اسے اقرا کی بات ياد آئی تھی ہر جگہ اسکا ساتھ دینے والی اسکی دوست نے اسے یتیم ہونے کا طعنہ دیا تھا ...

" دوستوں کی کہی ہوئی باتیں ہمیشہ دل تک جاتی ہیں خواہ وہ زمزم سے ہی کیوں نہ دھلی ہوئی ہو صاف  , میٹھی , یا پھر ...... ذہرالود.... آج زندگی میں پہلی دفا اسنے دوستوں کا زہر پیا تھا... وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے.... جب دوست ہی سانپ بن جائے تو بھلا اس سے برا کوئی اور ڈستا ہے  , دوستوں کا ڈسا ہوا ذخم سیدھا دل پر لگتا ہے... دوستوں کو ڈسا  ہوا ہمیں بنا زہر کے زهرالود کر دیتا ہے  ----- وہ اسے نہی بتا  سکی تھی... کیسے بتاتی ؟ اسکی دوست تو اب کہی دور چھوٹ چکی تھی وہ کتنے وقت وہیں بیٹھی رہی اسے یاد نہی تھا -----


                                                       ________________________________

رات کی سیاہی اسکے اپارٹمنٹ کو اپنے حصار میں لیئے ہوئی تھی... کھڑکی سے چھن کر آتی چاند کی روشنی اسکے کمرے میں پڑ رہی تھی۔   دادی ... دادی و دادی کو اٹھا رہی تھی اُدھر تو جائے دادی میں چارپائی کے اس ترف سوتی ہوں  دادی میں گر جاؤنگی اس ترف اُدھر دیوار نہی ہے دادی دادی .. دادی ... اسنے  انھیں ہلایا تھا  دادی کیوں نہی اٹھ رہی ہے اس سات سالا بچی کو کچھ غلط لگ رہا تھا بابا.. بابا .. وہ دوڑتی ہوئی بابا کے پاس  گئی تھی بابا دیکھے دادی نہیں اٹھ رہی ہیں وہ ہانپتے ہوئے پریشان ہوکر رفیق کو سب کچھ بتانے لگی وہ جلدی سے  اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے قدم دادی اور زنیرہ کے کمرے کی طرف بڑھائے

- امّاں جان.. انہوں نے انکی ہرٹ بٹ چیک کی وہ  آ رہی تھی" صفیہ"؟ انہوں نے اسے کس کے اواز دی تھی زنیرہ جاؤ بیٹا ماما کو بلا کر لاؤ جلدی وہ اسے جلدی جلدی ہدایت دے رہے تھے اُنہوں نے ambulance کو کال ملائی چند منٹ بعد ایمبولینس اُنکے گھر کے باہر تھی امّاں جان کو اندر ڈال دیا گیا تھا انھیں اکسیجن کا ماسک پہنا دیا گیا بابا مجھے بھی لیے چلےبابا  میں اکیلے کیسے رہونگی سب تایا ابّو تائی جان تو باہر گئے ہوئے ہیں گھر میں میں اکیلے کیسے رہنگی سکی آواز رونڈھلانے لگی تھی اکیلے نہی رہنا ہے بیٹا ابھی ظریاب بھائی ہیں نا انکا ٹیسٹ چل رہا ہے میں ماما کو بھیج دونگا کچھ گھنٹوں میں تم فکر نہ کرو بابا پلیز مجھے لے چلے نہی بیٹا تم کیوں پریشان ہو  رہی ہو تم ہسپتال میں پریشاں ہو جائو گی زنیرہ میں  ہوں نا زریاب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا آپ جائے چاچو میں دیکھ لونگا زنیرہ کو ایمبولینس زن سے آگے چلی گئی زنیرہ وہی بےبس کھڑی رہی ....

" اندر چلو زنیرہ ٹھنڈ بہت ہو گئی ہے " اس نے اسے باہر کی ترف  اشارہ کیا تھا ... "میں چلی جاؤنگی " اسنے اسے دو ٹوک جواب دیا آپ کو میری حفاظت کرنے کی ضرورت نہی ہے میں اپنی حفاظت کر سکتی ہوں  زریاب کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا اسکی رگیں تن گئی تھی اسنے اندر آ کر اپنا دروازہ بند کر لیا .... وہ اس کمرے میں نہیں سوتی تھی وہ دادی کے ساتھ سوتی تھی آج وہ پہلی بار اکیلے سونے والی تھی اسنے پردے ہٹا کہ ساری کھڑکی بند کر دی اور پھر ایک دروازہ پیچھے سے تھا اسنے اسے بھی ہاتھ بڑھا کر بند کرنا چاہا تھا اسکا لوک ٹوٹا ہوا تھا اس نے  اپنی نظر ارد گرد گھمائی وہاں کوئی بھاری فرنیچر نہیں تھا اسنے اپنی چارپائی اپنے ننھے ہاتھوں سے کھینچ  کر دروازے کے آگے لگا دیا اب وہ پُرسکون ہوئی اسنے دادی کے لیے دعا کی تھی اور ماما کے جلدی آنے کی دیا بھی کی تھی  اسنے اپنے جسم کو کمبل کے اندر لے لیا وہ گرم تھا اسے آرام ملا تھا اس نیند نہی آ رہی تھی نیند کئی کوسوں دور تھی اسنے آنکھیں بند کرنی چاہی تھی وہ آنکھیں موندے  بس لیٹی رہی تھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی ---  کمرے کے دروازے  کی دھردھراہت سےاسکی آنکھ کھیلی وہ اٹھ بیٹھی تھی اسنے اپنی چھوٹی سی مٹھی میں کمبل دبائے اپنے چھوٹے سے وجود کو قابو کرنا چاہ رہی تھی ک.. کو.... کون..... کوئی آواز نہیں آئی تھی  دادی کی ڈیتھ ہو گئی زنیرہ زریاب نے آواز لگائی کیا... جیسے اسے اپنے کانوں پر یقیں نہیں آیا تھا تم دروازہ تو کھولو.... اسکی تیز آواز نے زنیرہ میں جیسے صرد  سے لہر گزار دی وہ ایمبولنس کی تو آواز نہیں آئی ہے اسن اس نے خوف سے کانپتے ہوئے اپنے بازوؤں کو مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں اور دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے باہر  آ جائے گا۔ خوف نے اس کے وجود کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا، حتیٰ کہ وہ ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی تھی اسنے اپنے پھر بھی اسے جواب دیا تم دروازہ تو کھولو چاچو نے بولا ہے کی میں تمہیں ڈراپ کر دوں" نہی میں انتظار کر لونگی " اسن دھیرے دھیرے دروازہ پٹنہ کم کر دیا زنیرہ کو بھی تھوڑا سکون ملا پھر اسنے بلیڈ کو لوک پر گھستے ہوئے دیکھا اسے جیسے یقین نہی ہوا اپنی آنکھوں پر پھر ایک تیز اواز کے ساتھ تعالیٰ زمین پر گر گیا وہ اسکا وجود خوف سے لرز رہا تھا اسکی آنکھوں میں دہشت کا سیلاب آیا تھا ---- بھ... بھائی ... بھائی آپ .... وہ اسے دیکھ رہی تھی اسکی آنکھیں سرخ  تھی سرخ لال انگارے جیسی اسکا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا اسنے اپنے قدم زنیرہ کی طرف کیے وہ اسکی ترف آ رہا تھا وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی وہ کانپ رہی تھی ہے کیا ہو رہا تھا اسے سمجھ نہی آ رہا تھا زنیرہ نے اسکے موں پر تکیہ پھینک کر مارا وہ پیچھے ہوا اور تیز اواز میں حسنے لگا وہ اسے ذریاب نہی لگ رہا تھا وہ مونسٹر بن گیا تھا اسنے زریاب کو اپنے چھوٹے ھاتھوں سے پوری قوت سے دھکّا مارا وہ دیوار سے لگ گیا زاویار اپنے آپ کو سنبھالتا کے زنیرہ  بنا جوتے والے پیر سرد فرش پر رکھے دوڑنے لگی وہ دوڑ رہی تھی زریاب اسکا پیچھا کر رہا تھا وہ دوڑتی گئی وہ اسکے پیچھے دوڑ رہا تھا--- آپ تو میرے بھائی ہے نا اسنے جیسے اپنے آپ کو تسلّی دینی چاہی تھی ---

" ماما بابا " وہ انہیں پوکار رہی تھی اسکی آواز گھر کی دیواروں سے ٹکراکر لوٹ رہی تھی گھر خالی تھا   سن سان وہ ایک کمرے کا دروازہ اس نے اپنے پیچھے پوری قوت سے بند کرنا چاہا پر ذاویار نے اپنا ہاتھ دروازے کے درمیان ڈال کر دروازہ کھول لیا وہ خوف سے لرز رہی تھی وہاں کوئی نہی تھا کوئی مسیحا نہی آیا تھا وہ اکیلی تھی اسنے زندگی کا ایک کڑوا گھونٹ پیا تھا --- ہر کیس کی زندگی میں مسیحا نہیں آیا کرتے ہمیں خود اپنا مسیحا بننا پڑتا ہے اس نے بےبسی سے  اپنی آنکھیں بند کر لیں --- اسکے گرم آنسو اسکے سرد سفید رخسار پر گر رہے تھے ------

زندگی میں کوئی ہمارا بھائی نہی ہوتا سوائے اپنے بھائی کے اور اللہ نے کیوں كذنس کو بھائی نہیں قرار دیا اسکے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے صرف بھائی یہ بہن کہ دینے سے ہم بھائی بہن نہی ہو جاتے اور اسے یہ بات  آج اچھے سے سمجھ آ گئی تھی ---

اسکا وجود ٹھنڈا پڑ رہا تھا وہ کانپ رہی تھی --- نہیں... اللہ... نہیں اللہ... وہ چکھّ کر اٹھی وہ اپنے کمرے میں تھی  وہ اپنے بیڈ پر تھی اسنے دھیرے دھیرے اپنی سانس بحال کی اسکا ماضی اسکو نہیں بھولتا  نہیں تھا  ذخم پرانے ہو جاتے ہیں پر تکلیف ہمیشہ نئی ہوتی ہے اسن اپنی آنکھیں ارد گرد گھمائی دروازہ کھولا تھا اسنے دھیرے دھیرے لرزتے ہوئے ہاتھ سے دروازہ بند کر وہی دروازے سے لگی بیٹھتی گئی وہ خواب نہی وہ حقیقت تھی دنیا کی تلخ حقیقت جس اسے کئی لڑکیاں گزرتی ہیں پر انھیں انصاف نہی ملتا انکی آواز دبا دی جاتی ہے--  اسی فیصد لڑکیاں ان سب کا شکار ہو جاتی ہے  اور عموماً اُنکے ساتھ ذیادتی کرنے والا کوئی اور نہی بلکہ اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں پر ماں باپ کہتے ہے کہ لڑکی کی عزتیچلی جائےگی  اگر انصاف دلانے کی کوششں کی کیا کبھی کسی نے ان لڑکیون اسے پوچھا کی اس سے بھی برا کچھ ہوتا  ہے نہیں ہوتا   وہ کیسے لڑکے کے اگینست جا سکتے  ہے وہ تو وارث ہوتے ہے و وہی بیٹھی رہی  وہ ہیلرر تھی اور آج اسے پھر سے ہیلنگ کی ضرورت تھی ... اسے پتہ تھا ہیلر کون ہے اسے ہیلنگ چاہئے تو ہیلر کو  یاد کرنا پڑےگا  وہ ہیلر تو اللہ ہوتا ہے وہ اللہ جو ہم سب کو سنبھالے ہوے ہوتا  ہے ... وہ اللہ جو لوگوں کی طرح ہم سے موں نہی پھرتا ... وہ اللہ جو نہ فرمانوں کا بھی رزق نہی چھینٹا... وہ اللہ جو ہمیں  ستّر معاون سے زیادہ محبت کرتا ہے ... وہ اللہ جو ہمیں کفر کے بعد بھی سیدھا راستہ دکھاتا ہے ... وہ اللہ جو ہمارے پہاڑ جیسے گانہ کو بس ایک آنسو سے معاف کر دیتا ہے ...وہ اللہ جو بے حساب دیتا ہے ...

کبھی کبھی ہم اُن نعمتوں کی قدر نہیں کرتے جو ہماری زندگی میں خاموشی سے موجود ہوتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس کم ہے، حالانکہ اللہ نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہوتا ہے جس کے لیے کوئی دوسرا دل سے دعا کر رہا ہوتا ہے۔ شاید شکر صرف نعمت ملنے پر ’’الحمدللہ‘‘ کہنے کا نام نہیں، بلکہ اُن نعمتوں کو پہچاننے کا نام بھی ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سانس، صحت، گھر، اپنوں کی محبت، اور سب سے بڑھ کر اپنے رب

کا ہمیں ہر لمحہ تھامے رکھنا۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے، کیونکہ جو دل اللہ کی عطاؤں کو پہچان لیتا ہے، وہ محرومیوں کے درمیان بھی سکون کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ اور شاید اس سے بھی بڑھ کر، ہمیں شکر گزار ہونے کے لیے بھی اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، کیونکہ شکر کی توفیق بھی تو اُسی کی عطا ہے۔ دل میں ’’الحمدللہ‘‘ کا خیال آنا بھی ایک نعمت ہے، اور اس نعمت پر شکر ادا کرنا بھی اُسی کی مہربانی۔


الارم کی آواز پورے کمرے میں گنج رہی تھی وہ اپنا الارم آف کر کے صوفہ پر بیٹھ گئی اسنے وقت دیکھا سات بج رہا تھا وہ اٹھ کھڑی ہوئی اسنے اپنی وارڈروب سے ایک مرون شلوار قمیض نکلی جسکو اسنے بیج کلر کے دوپٹے کیساتھ رکھ دیا اب وہ وارم شاور لیکر اپنے بال سکھا رہی تھی پھر اسنے اپنے چہرے پر ٹراپ مشروم کلر کا حجاب پہنا اور اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اسنے باہر نکلنے سے پہلے ایک کپ کافی بنائی جو اب وہ بالکونی میں بیٹھے پی رہی تھی وہ کافئین کی عادی تھی -- اسنے اپنے آپ کو پرسکون کیا اسے ماضی بھولتا نہی تھا پر  اسنے اپنے اپر قابو پا لیا تھا ہم ماضی کا حصہ نہی ہوتے ماضی ہمارا حصہ ہوتا ہے اور وہ یہ بات جانتی تھی -- و کسی کے سامنے کمزور نہی دکھ سکتی تھی وہ بہادر تھی اس کا سر اللہ کے سامنے جھکتا تھا آنکھیں اللہ کے سامنے روتی تھی اسکا پھن رنگ کیا اسنے پھن اٹھا کر دیکھا نوٹیفکشن تھی آیات کی طرف سے اسنے اسکی آئی ڈی اوپن کی آیت کا ٹیکسٹ آیا ہوا تھا ارحم کا ایڈریس تھا اسنے ایڈریس پر ایک نظر ڈالی آج تین  دن ہو گئے تھے ارحم کا کچھ پتہ نہ چلا تھا وہ کہا ہے ؟ کیسا ہے ؟ اسے سمجھ نہی آ رہا تھا اسنے  ٹیبل سے اپنی کیز اُٹھائی اسنے گاڑی زن سے بھگای و اس جگہ اپنی گاڑی روک کر ایڈریس ملانے لگی وہ وہی جگہ ہے وہ گاڑی سے اتر کر اپنے قدم زمین پر رکھے وہاں پرانے چھوٹے چھوٹے گھر تھے کچھ پکّے مکان کچھ کچے مکان اسنے گلی کے سب سے پہلے گھر کے دروازے پر دستک  دی کسی نے دروازہ نہی کھولا اسنے پھر دستک دی  "پیسے نہی ہ روز روز مانگنے آ جاتے ہے " اندر سے ایک عورت چلائی تھی زنیرہ وہی کھڑی رہی ساکت اسے سمجھ نہی آیا تھا اسے زندگی میں پہلی دفعہ ایسی ذلّت کا سامنا کرنا پڑا تھا --- اسے ارحم کو ڈھونڈنا تھا وہ ایسے ہار نہی مان سکتی تھی اسنے اپنے قدم دوسرے دروازے کی جانب بڑھائے اسنے پھر دستک دی ایک کم عمر تھکی ہوئی لڑکی باہر آئی اسکے چہرے پر تھکاوٹ کے نشان صاف نمایاں تھے... " " "جی باجی.. آپ کون ؟ اسنے زنیرہ سے سوال کیا تھا؟ "

" میرا نام زنیرہ ہے ڈاکٹر زنیرہ رفیق "

" جی بولیں کوئی کام "

" وہ میں ارحم کو دھند رہی ہوں ... آپ اسے جانتی ہیں... اسکا اڈریس یہیں بتا رہا ہے"

جی باجی اسے کون نہی جانتا " وہ تو بڑی سی نوکری کرتا ہے... اچھا آدمی ہے جی"

اسکی باجی جسکے یہاں وہ کام کرتا ہے نا جی سنا ہے  بڑی اچھی ہے جی ہمیشا اسکا خیال رکھتی ہے اسکی باجی نا ڈاکٹر ہیں " اسنے مسکرا کر کہا زنیرہ نے سر ہلایا جیسے وہ یہ سب جانتی ہی نہی تھی..

اسنے زنيرا کے وہائٹ کوٹ کی طرف دیکھا"  آپ...  کون.." آپ ہی تو کہیں... اسنے زنیرہ کا تعارف چاہا تھا ...

" میں ہی ہوں زنیرہ تمنے سہی پھچانا " اسنے مسکرا کر جواب دیا ...

آپ تو بڑی  سوہنی ہو باجی اسنے زنیرہ کی تعریف کی تم بھی تو بہت پیاری ہو اسنے اسے بھی کمپلیمنٹ دیا تھا وہ خوش ہو گئی گئی اسکے گال سرخ ہو گئے تھیں اب کہاں باجی اب تو بچے سنبھالو گھر دیکھو شوہر کا دھیان سب کچھ میں خود کو بھل گئی ہوں اب خود کے لیے نہی جیتی ہوں اب تو ان لوگ  کے لیے جیتی ہوں --- ہر انسان خود کے لیے جیتا ہے کچھ لوگ ہمارے لیے بہت خاص ہوتے ہیں ہمارے زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ ہم اُنکے بغیرِ نہی ره سکتے پر ہم رہ جاتے " جنکے بغیرِ ایک پل مشکل ہوتا ہے اُنکے بغیر ایک عمر کاٹ لیتے ہیں" جب انسان مرتا ہے تو صرف وہی مرتا ہے اسکے شوق مرتے ہے اسکی خوشیاں مر جاتی ہیں لوگ نہی مرتے دنیا اور اسکا طالق مر جاتا ہے ... وہ زنیرہ کو غور سے سن رہی تھی .... اندر تو آئیں اسنے ہاتھ سے اشارہ کیا نہی ابھی وقت نہی ہے تم مجھے بس ارحم کا پتہ بتا دو وہ تو اگلی گلی میں رہتا ہے جی اسنے زنیرہ کے پیچھے اسکی گاڑی دیکھی آپ کی گاڑی ہے ؟ اسنے سوالیہ آبرو اٹھایا " ہاں " زنیرہ نے جواب دیا اچھا جی اس گاڑی کو یہیں چھوڑ  دیں وہ نہ ادھر کے بچّے بڑے بدماش ہے جی زنیرہ نےاسے شکریہ کہا میں آپ کی گاڑی دیکھ لونگی جی کوئی پتّھر نا مارے وہ اگلے گلی میں پیدل چلنے لگی اس گلی میں دو ہی گھر تھے ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی ایک بڑا سا گھر تھا اسے یقین تھا یہ گھر ارحم کا ہی ہوگا اسنے ڈوربیل بجائ ایک چھوٹا سا بچّہ آیا وہ ارحم کو بھیجو زرا یہاں کوئی ارحم نہیں رہتا "کیا مطلب " آپ کو اس میں کیا نہی سمجھ آیا اس بچّے نے اسے تنقیدی نگاہ سے دیکھا میرا مطلب ارحم یہاں نہی رہتا تو کہا رہتا ہے اس نے اس چھوٹی سی جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا " وہاں" زنیرہ کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا وہ اس جھونپڑی کے پاس آ گئی دروازہ لکڑی کا تھا اس میں تعالیٰ لگا تھا وہاں سے چند بچّے گزر رہے, تھے کیا  یہ گھر  ارحم کا ہے ارحم زیدی جیسے وہ کچھ اور سن نا  چاہتی تھی  " جی " وہ بچّے سَرسَری  سا کہ کر آگے بڑھ گئے اسنے کچھ دیر اور انتظار کیا ایک اور آدمی گزرکیا آپکو پتہ ہے کہ ارحم کہا گیا ؟ زنیرہ نے اس سے سوال کیا... ارحم  تو چلا گیاسارا  سامان لے کر میں نے دیکھا تھا "کدھر گیا ہے" زنیرہ نے سوال کیا... مجھے تو نہیں پتا وہ معذرت کر کے بڑھ گیا اسنے بوجھل قدموں سے اپنا رُخ اپنی گاڑی کی طرف کیا و وہی کھڑی تھی میں نے تمھارا نام ہی نہی پوچھا زلیخا اسنے جواب دیا زنیرہ نے مسکرا کر اپنی گاڑی زن سے بھگا لے گئی وہ کولکتہ کی سڑکوں پر گاڑی بے وجہ گھما رہی تھی  اسنے اب ہار مان لی تھی اسنے اپنی گاڑی کا رکھ ہاسپیٹل کی طرف کیا وہ گاڑی سے اتر کر اپنے کیبن میں چلی گئی وہاں زریاب کھڑا تھا جو ارحم کا ریپلیسمنٹ تھا اسنے ڈارک بلیو جینز کے ساتھ وہائٹ ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا زنیرہ نے سر کا خم دیا وہ باہر آ گیا اور اسنے ایک پیشنٹ کو اندر بھیج دیا اندر ایک ٹینیج لڑکی آئی تھی اسے حیرت نہی ہوئی تھی اسکے اسی فیصد مریض ٹینیجعرس ہوتے ہیں جو ڈیپریشن ٬ اینزائٹی کا شکار ہوتے ہیں .... "بیٹھو " اس نے  کرسی کی طرف اشارہ کیا وہ بیٹھ گئی اسنے اسکا نام اسکی فائل میں دیکھا  وہ بیٹھی تھی وہاں پر پر اسکے خیالات کی اور تھے زنیرہ جانتی تھی لوگ دیپرسڈ ہو جاتے ہیں تو یونہی زون آؤٹ ہو جایا کرتے ہیں اسن اپنے لب کچھ کہنے کے لیے کھولے ہی تھے کہ کسی نے دروازہ بجانا شرروع کر دیا..

" آپ اندر نہی جا سکتی " زویار نے اسے روکا ..."

" میں کیوں نہی جا سکتی؟  تم جانتے بھی ہو میں کو ہوں ؟ وہ میری بیٹی ہے " وہ چیخ رہی تھی "

"آنے دو انہیں زنره نے اعزازات دی تھی وردا کے ایکسپریشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی.. و یُونہی بیٹھی رہی جیسے اب اسے کسی شئے سے فرق ہے نہیں پڑتا تھا .... میں وردا کی موم ہوں راماین حیدر اسنے   اپنا تعارف کرایا آپتو جانتی ہی  ہیں" نہین میں نہیں جانتی آپکو اور آپ کو یہ خوشفہمی کیوں ہے کی میں آپکو جنتی ہونگی؟ زنیرہ نے سوالیہ آبرو اٹھایا زنیرہ نے اسکے کان سرخ ہوتے دیکھ لیے تھے وہ ہیلس ٹک ٹک کرتے اپنا برانڈڈ لباس اور بیگ ہاتھ میں لیے زنیرہ کی ترف بڑھ رہی تھی زنیرہ نے اسے کچھ خاص توجہ نہی دی وہ اسے زروری نہی سمجھتی تھی ... راماین نے بیٹھنے کے لیے کرسی کھینچی " میں نے آپ سے بیٹھنے کا نہی کہا " زنیرہ نے سری سی نظر اسپر ڈالی آپ باہر تشریف لے جائیں وردا میری کلائنٹ ہے اور مجھے اپنے کلائنٹ ہنڈل کرنا آتا ہے زنیرہ نے  تیز آواز میں کہا میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں رامین باہر نکل گئی وہ اب وردا کی ترف مڑی جسکے ایکسپریشن میں ابھی بھی کوئی تبدیلی نہی آئی تھی زنیرہ نے اسے غور سے دیکھا "تم ڈپرسڈ ہو ؟ "

"نہیں" وردا نے بس اتنا ہی کہا "

" تو تم اوورتھنک کر رہی ہو "

" نہیں" پھر وہی جواب آیا تھا

" تم مجھے بتاوگی نہی کی پروبلم کیا ہے تو میں کیسے سمجھنگی " 

" پروبلم کیا ہے "؟  پروبلم میری existence ہے... وہ پھٹ پڑی تھی پروبلم یہ ہے کی میں ابھی تک مری کیوں نہی... آپ کہتی ہیں کہ پروبلم کیا ہے میں بتاتی ہوں پرابلم کیا ہے "؟ میری موم کو لگتا ہے وہ پیسے کی زور پر ہر چیز خرید سکتی ہے ہاں وہ خرید سکتی ہیں پر میں کوئی چیز نہی ہوں میں وردا ہوں وردا میر مجھے ایکٹر نہی بننا وہ چاہتی ہیں میں ایکٹر بن جاؤں نام کماؤں مجھے فیم نہی چاہیئے.. مجھے شہرت نہی چاہیئے میں کوئی کھلونا نہی ہوں کہ وہ مجھے جیسے چاہے استعمال کر لیں

" لڑکیاں تو مرتی ہیں تمہاری موم جیسی بننے کے لیے " زنیرہ نے وردا کی رائے جان نی چاہی تھی

" ہاں ٬ و مرتی ہیں کیوںکہ اُنہوں نے بس ایشو آرام٬ شہرت٬ دیکھی ہوتی ہے اُنہوں نے ایکٹرس ہونے کے cons نہی دیکھے ہیں ہمیں دوسروں کی زندگی پرفیکٹ لگتی ہے میں نے دیکھی ہے وہ زندگی وہ پرفرکٹ نہی ہے فیری ٹیل نہی ہے وہ haunted ہے traumatizing  ہے cursed ہے وہ کتنی دیر ایسے ہی بولتی گئی زنیرہ نے ایک گلاس میں پانی ڈالا اور وردا کی ترف کیا... پانی پیو اسنے گلاس کی طرف اشارہ کیا

" آپ موم سے کچھ نہی کہنگی "

" اوکے ٬ تم میری کلائنٹ ہو اور میں اپنے کلائنٹس کی پرسنل ڈیٹیل کیس سے شیئر نہی کرتی اسکا دل پہلے سے ہلکا ہوا تھا بعض دفا ہمیں۔ بس کوئی سننے والا چاہیئے ہوتا ہے دل کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے اس نے زنیرہ کی ترف  دیکھا جیسے وہ کچھ سننا چاہتی تھی آپ نے پورے سیشن کے دوارن کیوں کچھ نہی کہا اسنے سوال کیا زنیرہ بس تھوڑا سا مسکرائی تھی کسی کو سن لینے سے انکی آدھی تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں تو اُنہیں خاموشی سے سن لینا چاہیئے تمنے بہت سی باتیں اندر دبا رکھی تھی اب تم پُرسکون ہو

" اور آپ کو  کیسے پتا کہ میں پرسکون ہوں؟

"باڈی لینگویج " ہمیں بہت کچھ بتاتی ہیں جیسے تم جب آئی تھی تو تمھارے ناکھون اپنے ہتھیلی میں دبائے ہوئے تھی اسنے اپنے ہاتھ فوراََ الگ کیے زنیرہ مسکرا دی تمہاری آنکھیں بےچین تھی اب وہ پُرسکون ہے وردا اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اسکی پشت زنیرہ کی طرف تھی وہ دروازے سے باہر نکل گئی ... اسنے اپنا فون کھولا والپیپر پر اُسکے ماما بابا کی اور اُسکے ایک ہنستی ہوئی تصویر نمظاد ہوئی.....

" میڈم"  ضاویار نے اسے مخاطب کیا تھا

" ہاں بولو "

" وہ ارحم کی موت ہو گئی "

" کیا... تم کیا کہ رہے ہو ؟ ایسا نہی ہو سکتا تمہیں کس نے بتایا ؟

"وہ ارحم میرا دوست ہے اسن مجھے یہاں بھیجا تھا تاکہ میں آپکی حفاظت کر سکوں اسنے کہا کہ اُسکے آپ پر بہت سے احسانات ہیں اور وہ امانات کے ساٹھ خیانت نہیں کرتا ... اور اسنے کہا تھا کے آپ اسے معاف کر دیں " اور اسنے کچھ نہی کہا " زنیرہ نے سوال کیا تھا " جی اسنے کہا تھا کی آپ اپنی حفاظت کریگا زنیرہ کی آنکھوں سے آنسو گرے تھے وہ ہمدردی کی آنسو تھے دوستی کے آنسو تھے... " اسنے مجھے کس چیز کی معافی مانگی تھی " زنیرہ نے جیسے کوئی جواب چاہا تھا اسنے تو کوئی جرم نہی کیا تھا وہ نہی سمجھ پا رہی تھی ذاویار اسے نہی بتا سکا تھا اسنے جرم کیا تھا محبّت کا جرم"  نہی پتہ میڈم " اس نے  بس کندھے اچکائے تھے اسنے اور کچھ نہی کہا ؟ زنیرہ نے پھر سوال کیا اسنے کہا تھا وہ آپکی حفاظت کرنا چاہتا تھا پر اسے ڈر تھا کے وہ آپکو کوئی نقصان نا پہنچا دے وہ چپ ہو گئی تھی وہ کچھ کہ نہی سکتی تھی کیا کہتی؟ ------

وہ وہاں سے  اٹھ کھڑی ہوئی وہ بوجھل قدموں سے اپنے کار کی طرف آ رہی تھی اپنی کار کا دروازہ کھول کر وہ اندر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی اسنے سٹیرنگ وہیل گھمائی گاڑی کا رخ موڑ کر وہ گاڑی تیز رفتار کے ساٹھ گاڑی چلاتی گئی اسنے بریک مارا گاڑی کے ٹائر چررّر کے ساٹھ روک گئے انجن بند کر کے وہ اب اتر رہی تھی وہ اپنی ریڈ ہیلس پہنے ہوئے پیر زمین پر رکھ چکی تھی اُسکے آگے ایک اولڈ ایج ہوم تھا وہ کالی شلوار قمیض پہنے آنکھوں پرچشما ٹکائے اندر داخل ہو رہی تھی اسنے ان بزرگوں کی لمبی کتار دیکھی جو چائے پی رہے تھے سب کے چہرے خاموشی کے گرفت میں تھی اُداس سنجیده اس نے زور سے سلام کیا تھا سب نے اپنی نظروں کا رخ زنیرہ کی طرف کیا تھا سب کے چہرے کھیل اٹھے تھے جو ابھی سنجیدہ بیٹھی تھے و ایسے بچوں جیسے خوش ہو گئے جیسے اُنہوں نے کوئی معززا دیکھ لیا تھا وہ کوئی معززا نہی تھی وہ زنیرہ تھی بزرگوں کو ہم سے  کوئی چیز نہی چاہیئے ہوتی وہ تو بس محبّت چاہتے ہیں.. اور زنیرہ نے انھیں وہی محبّت دی تھی جسکے وہ حقدار ہے وہ زنیرہ کا comfort zone تھا اسکا دل بھر جاتا تھا تو وہ یہاں  دل ہلکا کرنے  آ جایا کرتی تھی یہاں اُسکے لوگ تھے اسکا ماضی تھا بچپن تھا جوانی تھی یادیں تھی ....

" پتہ ہے ہم تمھیں کتنا مس کرتے رہے ہیں؟ "

"تمنے آنا ہی چھوڑ دیا "

سب کے شقووں کا ہجوم شروع ہوا جو اتنی آسانی سے روکنے والا نہی تھا وہ ہنس پڑی تھی اسنے ارحم کی موت کو قبول کر لیا تھا  کیوں نا کرتی دنیا تو ایسے ہی چلتی ہے نا جب لوگ زندہ ہوتے ہیں یونہی بھلا دئیے جاتے ہے انمیں ڈھیروں کمیاں ہوتی ہیں اور جب وہ مر جاتے ہیں انہیں یاد کیا جاتا ہے اُنہیں سراہا جاتا ہے .... جسے زندگی میں تکلیف دی جاتی ہے رلایا جاتا ہے مر جانے پر انہی لوگوں کے لیے آنسو بہائے جاتے ہیں کتنی عجیب ہوتے ہیں نا یہ انسان....

کبھی کبھی انسان کو اپنے رب کی محبت سمجھنے کے لیے صرف اپنے ارد  گرد دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم کتنی آسانی سے اُسے بھول جاتے ہیں، اُس ذات کو جس نے ہمیں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی نہی چھوڑا ۔ وہ واحد ہے، پھر بھی ہم اُسے بھول جاتے ہیں، حالانکہ اُس کے پاس اربوں، کھربوں مخلوقات ہیں، مگر وہ اُن میں سے کسی ایک کو بھی نہیں بھولتا۔ ہمارے دل میں چھپی ہوئی وہ بات بھی اُس سے پوشیدہ نہیں جسے ہم دنیا سے چھپا لیتے ہیں، ہماری وہ دعا بھی اُس کے علم میں ہے جو لبوں تک آ ہی نہیں پاتی۔ ہم اُس کی نعمتوں کو گننے بیٹھیں تو شاید عمر گزر جائے، اور پھر بھی گنتی مکمل نہ ہو، مگر اُس کے شکر کے لیے ہمارے پاس چند لفظوں کے سوا کچھ نہیں۔ شاید اس لیے کہ شکر بھی اُس کی عطا ہے، اُس کی طرف پلٹنے کا خیال بھی اُسی کی طرف سے آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کو یاد کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت تو شاید یہ ہے کہ وہ ہمیں یاد رکھتا ہے، تبھی ہمارے دل کو اُس کی طرف لوٹنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اور محبت؟ محبت کوئی ایسا عمل نہیں جو اللہ کبھی کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا، محبت تو اُس کی ذات کی ایک جھلک ہے۔   اور شاید ہماری سب سے بڑی خوش نصیبی یہی ہے کہ جس رب کی محبت کا کوئی اختتام نہیں، اُس نے ہمیں اپنی طرف پلٹنے کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے......۔

Dont forget to give your feedback!!!

So, this was just the beginning. I hope you enjoyed reading the first chapter. There’s a lot more waiting ahead, so stay with the story and let’s see where it takes us.

                                                                                              ~kashaf Rahman

Let Im_kshf_09 know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

The Rewrite

Kate Schimmer Child: Amazing plot and characters. And so impressive you’ve written a story inside a story. Can’t wait to read more of your work ❤️

Read Now
Silver's Second Chance

Ashley: I enjoyed the story. It was a short one so the fast pace fit. I think something should be put in to show a time jump between paragraphs like a "****" just to make it easier to follow when we skip to the next day week or month. Over all a good read.

Read Now
Ruthless Lord

Jessica Lee: Such a good read! Stayed interesting and a happy ending. Didn’t leave me hanging

Read Now
SECRET BILLIONAIRE

Veekay186: I really like the storyline and will recommend it for a relaxing read. It shows love is a sweet light.

Read Now
Bloodlines

Ingibabes511: Thank you for an amazing feast of wordsmithing excellence. Every tick box was covered somewhere within the story. Loved the characters that appeared in the story and how it played out was beautifully crafted. The nuances and descriptions making this a lovely story to read.💜🥰💜

Read Now
The zatorian

lunaartsoul___: I loved the way your story unfolds. The emotional depth and structure made it feel very engaging, almost cinematic at times.I’m someone who enjoys both reading and visual storytelling, and your work really stood out to me. If you’re open to chatting about creative ideas someday, I’d love that.

Read Now
An Irish Match

readingtoday77: This story is so very sweet. I really like each main character's emotional evolution, especially Liam working through difficult past betrayal and tragedy to be able to take a chance and love again. The sex scenes were fiery and tender and so very moving, especially the scene when Maeve says that she...

Read Now
The Mate he couldn't have

starlit_soul: I love the plot and dialogue It's my first ware wolf story and I can already see my self reading more of these

Read Now
The Contract Wife

Nalza: it was the best romance i've ever read in my life except than Aaron made Kinsley too angry some times and they quarrelled much

Read Now