Chapter 1
ڈرا ئنگ روم میں زمین پر بچھے قالین پر صوفے سے ٹیک لگائے صفرا جمال بیٹھی تھی۔ ہاتھ میں قلم تھامے وہ اپنی ڈائری میں محوِ تحریر تھی۔ کام کی آخری سطروں تک پہنچ کر قلم کو کچھ دیر کے لیے صفحے پر روکا، جیسے اگلا لفظ اس کے ذہن کی دہلیز پر آ کر ٹھہر گیا ہو۔ وہ خاموشی سے اپنی سوچوں میں الجھی، شعر کے اگلے مصرعے کی تلاش میں اپنے ذہن کے دریچوں کو کھنگال رہی تھی۔
"ہمم۔۔۔ کیا لکھوں؟" اس نے زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے قلم کو انگلیوں کے درمیان گھمایا۔
اسی لمحے کچن کی جانب سے ماہ نور اپنی بیٹی کو آوازیں لگاتی ہوئی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ ایک ہاتھ پر برتن دھونے والے صابن کی جھاگ لگی ہوئی تھی، جبکہ دوسرے ہاتھ میں صابن سے بھری ہوئی پتیلی پکڑی تھی۔
سامنے قالین پر صفرا بیٹھی تھی۔ اس کے گہرے بھورے، قدرے گھنگریالے بال بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ لٹیں اس کے چہرے پر آ گری تھیں، جنہیں وہ اپنی انگلیوں سے بار بار پیچھے کرتی۔ کمر تک آتے بالوں کو اس نے عجلت میں ایک بےترتیب سے میسی بن میں سمیٹ رکھا تھا۔ سادہ سے نائٹ سوٹ میں ملبوس، وہ اپنے اردگرد بکھری ڈائری، قلم اور دوسری چیزوں سے بے نیاز، ابھی تک اپنے الفاظ کے ساتھ الجھی ہوئی تھی۔








