Chapter 1
Episode 1
مصنفہ: حنا شاہد
بڑی سی گاڑی پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہی تھی۔ زین علی خان سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا
۔ اس کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن کائنات خان
بیٹھی خوف سے کانپ رہی تھی کیونکہ آج جو وہ کر کے آ رہی تھی اس کے بعد لگتا نہیں تھا کہ اس کےلالہ اسے زندہ چھوڑیں ۔گے
وہ بار بار لالہ کی طرف دیکھتی
کہ شاید ان کا غصہ کم ہو مگر زین علی خان
کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ یہ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ اس کی بہن
جسے وہ جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا وہ ایک غیر مرد کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کے ایک ہوٹل میں سرعام بیٹھی تھی۔ کاءنات نے ہمت کر کے بولنا چاہا….
لالہ,,,مت کہو لالہ,,,,,,:
زین نے غصے سے سرخ آنکھوں کے ساتھ کائنات سے کہا... کائنات ڈر کر آنکھیں بند کر گئی، آنسو اس کے سرخ گالوں پر موتیوں کی طرح پھسلنے لگے۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹنے لگی۔
جو خوف پچھلے ایک ہفتے سے اسے اندر سے کھائے جاd رہا تھا وہ اس کے سامنے آ گیا تھا۔ جب لالہ کو پتہ چلے گا کہ وہ شخص اس کا سب سے بڑا دشمن تھا اور کائنات اس سے نکاح کر چکی ہے تو وہ اسے اپنے پالتو کتوں کے آگے ڈال دیں گے۔
آج تو لالہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا کیونکہ لالہ نے ان کو دور سے دیکھا تھا اور لالہ کے ان تک پہنچتے وہ چلا گیا تھا جس دن لالہ نے دیکھ لیا اس دن کائنات کے ساتھ ساتھ وہ اس شخص کی بھی جان لے لیں گے۔*زین علی خان کی گاڑی پہاڑوں کے درمیان سوات کی ایک بہت بڑی حویلی کے سامنے آ رکی۔**جس کا کالے رنگ کا بڑا سا گیٹ بہت خوبصورت تھا۔ گاڑی کا ہارن دینے پر چوکیدار نے گیٹ جلدی سے کھولا تو گاڑی گیٹ سے اندر آ کر بہت بڑے ڈرائیوے پر آگے بڑھتے ہوئے 3 منٹ کے بعد پورچ میں آ رکی۔*
*یہ حویلی کئی کنال پر مشتمل بہت خوبصورت تھی، حویلی کے ڈرائیوے کے اردگرد بہت بڑے بڑے گارڈن بنے ہوئے تھے، دیواروں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے پھول اور پودے لگے ہوئے تھے جن پر کھلے پھولوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔*
*لالہ نے گاڑی سے نکل کر گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا تو کائنات خوف کے مارے رونے لگی۔*
*زین نے دوسری طرف سے آ کر کائنات کا دروازہ کھولا اور گاڑی کے اندر سے کائنات کا بازو پکڑ کر زور سے باہر نکالا۔*
*لالہ۔۔۔ کائنات نے ہلکی آواز میں پھر سے لالہ کو پکارا تو زین اسے کھینچتے ہوئے حویلی کے اندر لے جانے لگا، اسی وقت لالہ کی قمیض میں موجود موبائل بجنے لگا۔**زین نے موبائل نکالنے کی بجائے حویلی کا بڑا سا لکڑی والا دروازہ ایک جھٹکے میں کھولا۔ موبائل جیب میں ویسے ہی بج رہا تھا۔*
*زین نے اندر آ کر موبائل نکالا تو اس کے خاص بندے یاسر کی کال تھی، جسے اس نے کائنات کے ساتھ بیٹھے شخص کا پتہ کرنے کو کہا تھا۔*
*بول یاسر۔۔۔ زین نے کال اٹھا کر کہا۔*
*مالک، اس شخص کا پتہ لگا چکا ہوں، مگر ایک بری خبر پتہ چلی ہے۔۔۔*
*کیا بات ہے یاسر؟ زین نے کہا۔*
*مالک، وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن فارس خانزادہ تھا اور۔۔۔*
*اور کیا یاسر، جلدی بول! زین نے چیخ کر کہا۔*
*مالک، وہ چھوٹی بی بی ان سے ایک ہفتہ پہلے نکاح کر چکی ہیں اسلام آباد میں۔۔۔ یاسر نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔*
*زین کو ایسا لگا کہ اس کے پیروں سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو، اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں۔ اس نے بے یقینی سے کائنات کو دیکھا جو خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔*
جاری ہے.








![Fated to My Ex- Best Friend [Moving to Galatea]](https://cdn-gcs.inkitt.com/vertical_storycovers/ipad_49edb1dbf9a28b50b9c4d68d8598359b.jpg)