ZINDAGI AIK PAHELI HAI

All Rights Reserved ©

Summary

Meet Zavyar Khan, a secret agent and major in the Pakistan Army, who faces numerous challenges. Initially, he's not interested in marriage, but as he gets to know Jiya Khan, a doctor at the army medical hospital, he develops feelings for her. Jiya, however, struggles with her faith, but Zavyar encourages her to connect with Allah through dua (prayer) and niqab (veil). The second lead, Jannat Khan, a medical student, is engaged to Major Azlaan, Zavyar's friend . Azlaan plans his own death to save his country, showcasing his unwavering dedication to Pakistan. As the story unfolds, Jiya's secret life as an intelligence officer is revealed, and her family is unaware of her double life. Through the characters' journeys, the novel highlights the importance of faith, family, and the power of dua.

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Starting


     "باب :1"


   اسی سے مدد مانگ کر اسی سے گلہ کرتے ہیں

   کون ان کو سمجھاۓ کہ وہی ہمارا خالق ہے


     

جیا خان جہانزیب خان کی اکلوتی بیٹی. اپنے خاندان سے بے حد محبت کرنے والی. اپنے تین نمونوں سے بہت پیار کرتی تھی. وہ اپنے بڑے بھائی کی دیتھ کے بعد بہت بدل گئی تھی. وہ آڑمی میڈیکل ہاسپٹل میں کیپٹن کے عہدے پر فائز تھی اس نے بہت کم عرصے میں محنت سے اپنے سینیرز کے دل جیت لئے تھے . وہ صبح پانچ بجے تک ہسپتال آگئی تھی کیونکہ آڑمی ہیڈ کوارٹرز سے میٹنگ کے آڑدرز آۓ تھے.

میٹنگ ختم ہونے کے بعد وہ اپنے پیشنٹز کو چیک کرنے لگی. چیک اپ کے بعد اس کے پاس ایمر جینسی کے کیسز آۓ تھے.

سرجری کرنے کے بعد لنچ بریک کے لیے چلی گئی. اور بریک کے بعد پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی.

شام کو گھر کے لیے نکل گئی گھر ہسپتال سے پندرہ منٹ کی دوری پر تھا. اسلام آباد کے پہاڑوں سے تو اسے بہت لگاؤ تھا.

اس کا گھر فیصل مسجد کے بلکل سامنے تھا.


گھر میں داخل ہوئی تو اسے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ تینوں افلاطونوں کے ہوتے ہوئے گھر میں اتنی خاموشی کسی طوفان کی علامت ہے.

بقول فاطمہ صاحبہ کے ان کے سارے بچے بہت معصوم تھے مگر یہ تو وہی جانتی تھی کہ اس کے معصوم بچے عرف شیطانی بلائیں کیسے تھے.

بی اماں سے معلوم ہوا کہ تینوں باہر گھومنے گۓ ہیں.

بی اماں ان کے گھر کی کافی پرانی ملازمہ تھیں.

اس لیے وہ اپنے کمرے میں آگئی اور فریش ہونے کے بعد آرام کرنے کی غرص سے لیٹ گئ.

تقریباً ادھے گھنٹے بعد تینوں باری باری کرکے کمرے میں داخل ہوئے ہاتھوں میں بے شمار شاپنگ بیگز تھے.

آپی.. یہ دیکھیں ہم کیا لاۓ ہیں.

علی اضلان خان کی ڈیتھ کے بعد جیا سے کافی اٹیچ ہوگیا تھا.

کیا لاۓ ہو میرے چوزوں.

اس نے بہت پیار سے مخاطب کیا.

ہم بہت سارا کھانا لاۓ ہیں ساتھ ہی بہت سے جوتے اور کپڑے بھی.

اور اتنا خرچہ کس لیے. اسنے خفا ہوتے ہوئے پوچھا.

ارے آپی آپ پیسوں کو چھوڑیں اور یہ دیکھیں.

ارزم خان اب اسے اپنی شاپنگ دکھ رہا تھا. ابھی تھوری ہی دیر گزری تھی کہ جنت اور ارزم لڑنے لگے وہ تو ان کی لڑائی پر بوکھلا ہی گئ تھی. علی نے بھی لڑائی میں حصہ لینا ضروری سمجھا. اور پلو اٹھالیے اور اب کمرے کا ہال یوں تھا کہ چاروں ایک دوسرے کو تکیہ مار رہے تھے.

اور پورا کمرہ ایسا تھا کہ جیسے سنوفال ہوئی ہو.

جب وہ تھک گۓ تو بستر پر دھیر ہو گۓ.

جنت دریاب خان اور ارزم خان ان کے ماموں دریاب خان اور عفت خان کے بچے تھے.

جبکہ جیا، علی اور ازلان جہانزیب خان اور فاطمہ خان کے بچے تھے.

علی اور ارزم  بیس سال کے تھے اور مینجمنٹ پڑھ رہے تھے. جبکہ جنت خان بائیس سال کی تھی اورآڑمی میڈیکل کے لاسٹ ایر میں تھی. اور آخر میں اضلان جہانزیب جو کہ آڑمی میں میجر کے عہدے پر فائز تھا. وہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگیا.

مگر اپنے بھائی کی دیتھ کے بعد جیا خان نے ہی ان تینوں کو سنبھالا کیوں کہ وہ پانچوں بچپن سے ایک دوسرے کے ساتھ بے حد اٹیچ تھے.

سب نے کچھ ہی دیر میں کمرہ صاف کیا اور اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گۓ. اب صرف کمرے میں جیا تھی اور اس کا ماضی.


                         __________________


وہ ہیڈ کوارٹر پہنچا تو اسے خبر ملی کہ کرنل جادذب شاہ اسے یاد کر ہے تھے. وہ ان کے کمرے کی جانب چلا گیا. کمرے کے دروازے پر ناک کیا اور اجازت منگی. جب اجازت مل گئی تو اندر داخل ہوا اور اندر جا کر اپنے سینیر کو سیلیوٹ کیا.

اسلام علیکم سر اس نے سیلیوٹ کرتے ہوۓ کہا.

وعلیکم السلام! آؤ بیٹھو.

شکریہ سر اس نے ان کے سامنےکی نشست سنبھالی.

کیسے ہو میجر؟

میں تو تھیک ہوں مگر آج ہمیں کیسے یاد کرلیا.

وہ ان کے ساتھ کافی فرینک تھا.

تمھیں یاد کرنے کا بھی آج ایک مقصد تھا.

وہی تو میں کہوں آج آپ کو میری یاد کیسے آگئی.

اچھا اچھا زیادہ ٹر ٹر نہ کرو اور میری بات سنو.

سنائیں جی ہم تو آپ کے ہی حکم کے غلام ہیں.

انھوں نے اس کے سامنے اپنا فون کیا.

وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھنے لگا.

ارے بھائی ایسا کیا دیکھ رہے ہو. یہ کیپٹن جیا خان ہیں. آڑمی ہاسپٹل میں جاب کر رہی ہیں.

دیکھیں سر مانا کہ آپ میرے سینیر مگر میں ماما کو پہلے ہی شادی کے لیے منع کر چکا ہوں اور اب آپ مجھے شادی کے لیے لڑکیاں دکھا رہے ہیں.

اس کی بات سن کر انھیں بہت تپ چڑھی.

اوۓ میں کیا تمہیں کوئی رشتے کروانے والی باجی لگتا ہوں جو تمھاری شادی کے لیے رشتے ڈھونڈتا رہوں.

کبھی تو دماغ سے سوچ لیا کرو. یہ لڑکی میں نے تمہیں شادی کے لیے نہیں دکھائی. یہی تمھارا اگلا ٹاسک ہے.

اس نے آیبڑو اٹھا کر ناسمجھی سے دیکھا.

یہ کیپٹن ڈاکٹر جیا خان ہیں میجر اضلان خان کی بہن.

اووو سوری سوری مجھے لگا ماما نے آپ سے کہا تھا مجھے شادی کے لیے منانے کو.

وہ تو اس کی بات سن کر گہرا سانس بھر کر رہ گۓ.

تمھیں تو پتا ہے کہ میجر اضلان اس وقت ایک مشن پر ہے جوکہ پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے اسلیے اس نے مجھے کہا تھا کہ میں اس کی بہن کو بھی سیکڑیٹ سرویسیز جواین کروادوں اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے ان کے والد سے بات کی ہے مگر ان کی طرف سے صاف انکار ہے. وہ کہتے ہیں کہ وہ اضلان کو کھو چکے ہیں جیا کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے.

تو اب مجھے کیا کرنا ہے. اس نے اپنا کام پوچھا.

تمھیں جیا خان کو منانا ہے کہ وہ اگلے مشن میں ہمارا ساتھ دیں.کیونکہ میجر اضلان چاہتے ہیں کہ ان کی بہن بھی پاکستان کے لیے کچھ کر سکے اور ساتھ ہی وہ اپنی بہن کو مضبوط انسان دیکھنا چاہتا ہے.

تمھیں کیپٹن جیا کو منانا ہے اور پھر ان کی ٹریننگ بھی تم ہی کرو گے.

گاٹ اِٹ.وہ ہامی تو نہیں بھرنا چاہتا تھا مگر اضلان اس کا بیسٹ فرینڈ تھا اسے انکار نہیں کر سکتا تھا.

اس نے جانے کی اجازت مانگی.

اجازت ملنے پر اسنے اٹھ کر سیلیوٹ کیا اور جانے سے پہلے وہ یہ پوچھنا نہیں بھولا تھا کہ اضلان اسلام آباد کب آۓ گا.

جواب ملنے پر اسنے سر کو خم دیا اور باہر نکل گیا.

اب اس نے اپنی جیپ کو گھر کے راستے پر ڈال دی تھی.

اسکا ارادہ تھا کہ گھر پر جاکر آرام کرلے کیونکہ کل سے اسے اپنا نیا ٹاسک شروع کرنا تھا. گھر آیا ور ماما کو سلام کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.

امی نے کھانے کا پوچھا تو اس نے منع کر دیا تھا.

کمرے میں آتے ہی اس نے باتھ لیا اور اپنے بستر پر دھیر ہوگیا.

اس نے اپنا فون چیک کیا وہاں پر کرنل شاہ نے اسے کیپٹن جیا کی تصویر بھیجی ہوئی تھی.

اس نے تھوری دیر انسٹاگرام سکرول کیا اور سونے کے لیے لیٹ گیا.

                         ________________