منافق عشق Toxic love

All Rights Reserved ©

Summary

This is the story of a man who lived with two personalities He chose this life to take revenge of her parents He trusted no one but never recognized enimes around him...

Genre
Mystery
Author
Mah_d
Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Chapter 1

منافق عشق

" Toxic love "

Chapter no.1

احساس:

اسلام آباد میں آئو تو ہلکی ہلکی روشنی پھیلنا شروع ہو چکی تھی فجر ختم ہوئے ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا .. کچھ لوگ نماز پڑھ کر سو چکے تھے جن کی زندگیوں میں کوئی خاص کام نہیں تھا ۔۔لیکن کچھ لوگوں کا دن اسی وقت سے شروع ہوتا ہے انہیں میں سے اسلام آباد کے ایک گھر میں ائو جیسے گھر نہیں بنگلا کہو تو بہتر ہے وہا کچن میں برتنو کی آواز ارہی تھی وہی دو کوک ناشتہ بنانے میں مصروف تھی ایک انڈہ پھینت کر اس کا آملیٹ بنا رہی تھی تو دوسری کوفی بنانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔

اچھا سنو نگین کوفی میں چینے بلکل بھی مت ڈالنا نہیں تو سر کوفی پینے کے بجائے سر پر ضرور اڈیلڈے گے اس کے بات کرنے کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس گھر کی پرانی سروینٹ ہے اور دوسری نئی ۔۔ویسے اپکو یہاں کام کرتے ہوئے کتنا وقت ہو گیا ہے نگین نے کپ میں دودھ ڈالتے ہوئے اس عمر دراز عورت سے پوچھا تو اس عورت نے انڈے پین میں ڈاالتے ہوئے بولا جب سر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تب سے نگین ہیران ہو کر مڑی وہ کیسے تو دوسری کوک جس کا نام شاہدہ تھا اس نے اطمنان سے بولا میں سر سے پہلے ان کے والد والدہ کے لیے کام کرتی تھی وہ دونوں بہت اچھے لوگ تھے جب سر چھے سال کے ہوئے تو ان کے والدین کا قتل ہو گیا نگین نے ہیرانی سے پوچھا تو ان کو کس نے پالا ان کے والدین کے گزر جانے کے بعد ان کے دادا انہیں اٹلی لے گئے تھے ان کا وہاں بہت بیسنس ہے لیکن جب سر اٹھارہ سال کے ہوئے تو وہ پاکستان واپس آگئے ان کا کہنا تھا کے وہ اپنے باپ کا بیسنس سمبھالے گے بس جب سے ادھر ہی اج تک میں نے انہیں سیدھے مو بات کرتے نہیں دیکھا ۔۔۔بس چوبیس گھنٹے غصے میں ہی رہتے ہیں ابھی وہ بات کرہی رہی تھی کہ کچن کے دھلیز پر ایک نو عمر لڑکی ائی تم لوگ ناشتہ بنارہی ہوں کہ باتے سر نیچے انے والے ہے ناشتہ لگائو انہوں نے ہر بڑی میں ناشتہ لگانا شروع کیا اسہی کچن سے نکل کر اوپر والے فلور کے ماسٹر بید روم میں ائو تو ہر طرف کلون کی خوشبو محک رہی تھی یہ کمرہ صرف سیاہ رنگ پر مشتمل تھا ۔۔۔سامنے ڈریسنگ روم میں ائو تو ایک دراز قد نوجوان جس کی عمر چھبیس ستائس سال ہو گی اپنی ٹائی باندنے میں مصروف تھا اس شخص کو ایک بار دیکھ کر بار بار دیکھنے کو دل چاہتا تھا وہ ہلکی آواز میں کوئی اٹالین میوزک سن رہا تھا اس کی آنکھے ڈارک گرے تھی ڈارک بلیک بال ڈراز قد اس کی رنگت سفید اور بھورے رنگ سے ملتی جلتی تھی ۔۔ وہ تائی باندھ چکا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی کون ؟ اس نے گہری آواز میں پوچھا ۔۔سر مسٹر ہارون ائے ہے اپ کا پوچھ رہے ہے اب کب تک ائے گے آرہا ہو تم جاؤ ۔۔اس نے میوزک اوف کیا اور چلتا ہوا نیچا پہنچا سامنے ایک لمبی سی فاملی ٹیبل پر ایک نوجوان بیٹھا ہوا کافی پی رہا تھا اس کی عمر بیس اکیس سال ہوگی ساولی رنگت گرین آنکھے برون بال اس نے سامنے سے میراس عالم کو اتے دیکھا وہ بھاگتا ہوا اس کے گلے جا لگا کسی کی اتنی جرات کے وہ میراس کو گلے لگائے ہے تھی صرف یوسف شاہ کی اس کا ایک لوتا دوست جو اس کو ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا یار تم سوچ نہیں سکتے کے میں نے تمہارے بغیر یہ دو مہینے کیسے گزاریں یوسف نے معصوم شکل بنا کر کہا میراس اس سے الگ ہو کر سربرائی کرسی پر جا بیٹھا ۔۔بڑے اچھے طریقے سے جانتا ہو کے کیسے گزارے ہوگے ہر روز اپنی کسی نئ بہن کو کبھی کسی مہنگے ریسٹورینٹ میں کھانا کھلا کے یا کسی مہنگی سے مہنگی دکان سے شوپینگ کرا دی یا کلب جا کے یار اب بہن تو نا کہو اس نے روتا مو بنایا اچھا بتاؤ کام ہوگیا جی جی گینگسٹر صاحب جو اپ نے نیک کام کہا تھا دو مہینے وہی کر کے ایا ہو پانچ لاکھ سے زیادہ ڈرگ ڈیلر اپ اللہ کے کرم سے دنیا میں نہیں رہے اور لا تعداد درگزر ہیرون کوکین بھی اگ کی زمے ہوگئی ہے اور بتائو تمہارے شریفانا کمپنی کیسی جارہی ہے جاہیم خان کے کالے دھندے سے بہت اچھی ۔۔۔بس فرق اتنا ہے کہ وہ کالا دھنڈا کر کے سب کے سامنے ہابیل بن رہا ہے اور مجھے اور میری معصوم کمپنی کو کابیل بنانے پر تلا ہے ۔۔۔ویسے تم اچھے کابیل بن سکتے ہو لوگو کو مارو لیکن اچھے کام کیلئے ۔۔چلو اب بکواس بند کرو اور چلو لیٹ ہو رہے ہیں ۔۔وہ دونوں اٹھ کر اہ چکے تھے اور اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل چکے تھے ....میراس عالم کی گاڑی میں آئو تو وہ فون پر بات کرنے میں مصروف تھا وہ شاید کسی کو پیار سے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا تم میری بات ارام سے سن لو تو تمہارے لیے بہتر ہے چاہے کوئی مرے یہ جیے اج میٹینگ ضرور ہوگی اور قاسم تم جانتے ہو مجھے کسی کی موت تو منظور ہے لیکن پیسوں پو کمپرومائز نہیں شام کو پی سے چھ بجے مجھے سب لوگ موجود چائیے ۔۔وہ فون بند کر چکا تھا گاڑی سیدھی علیساندریتو کے سامنے رکی تھی جو کے ایک منفرد پتھر تھا لیکن اس نے یہ نام اٹالین میں رکھا تھا اس نے یہ نام صرف اس کے مطلب کی وجہ سے رکھا تھا مطلب تھا تبدیلی پیسہ ایش۔۔۔ایسا لگتا تھا اس کا مقصد اب صرف دنیا سے گھٹیا لوگوں کو ہٹا کر پیسہ کمانا تھا وہ کمپنی میں داخل ہوا تو سارا سٹاف روز کی طرح اس کا استقبال کے لیے کھڑا تھا جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا سب نے سر جھکا کر اسے سلام کیا وہ جواب دے کر اندر داخل کو گیا اس کے پیچھے ایک لڑکی بھاگتی ہوئی آئی جس کا کد اس سے ادھا تھا ولف کٹ بال اس کے پتلے تھیکے نکش تھے اور ہیزل آنکھے اس کا مو میکپ سے لتھ پتھ تھا اور اس نے کوئی ویسٹین دیس ٹائپ ڈریس پہنا ہوا تھا وہ اس کی اسسیٹینت تھی وہ سر سر کرتی اس کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوگئی ۔۔کیا شڈیول ہے اج کا کیٹھرین سر ابھی ادھے گھنٹے بعد ایک میٹنگ یے سر کریم کے ساتھ اس کا بعد اپ نے فارم کی کنسٹرکشن کے لیے وزٹ کرنا ہے اور پھر چھ بجے اپ نے خلید صاحب کے ساتھ میٹینگ کرنی ہے وہ چار بجے پاکستان پہنچ جائے گے اور ٹرانسلیٹر ہوٹل ہی ائے گا ڈریکٹ ۔۔۔۔۔