Chapter 1
فون پر
نشرہ ۔ کیا ہوا ہے؟ مجھے بتاؤ تو!
رومان۔ ارے کیا بتاؤ؟ تھک گیا ہوں, ابھی office سے آیا ہوں۔
نشرہ ۔ اچھا ، تو تم کیو بول رہے تھے اسے ایسا؟
رومان۔ کیا بولا میں اور کسے؟؟
نشرہ ۔ دیکھو بنو مت، وہ بول رہی تھی کہ بھئی مجھ سے خفا ہے ۔
رومان ۔ نشرہ میری بات سمجھ نے کی کوشش کرو، پلیز، میں office میں تھا، کام کر رہا تھا، وہ بار بار فون کر رہی تھی، بس اور کچھ نہیں۔
نشرہ ۔ اچھا ٹھیک ہے، پتا ہے؟ آج نا مجیب انکل آے تھے۔
رومان۔ اچھا۔ تو؟؟
نشرہ۔ تو؟؟؟ وہ چھوڑو۔ بھائ!!!
رومان۔ ہاں، بولو ۔
نشرہ۔ بھائ کب آو گے؟ آپ کو گۓ بہت دن ہوۓ۔
رومان۔ ....... .............. میں بھی سوچ رہا تھا، دیکھو، آتے ہیں۔
نشرہ ۔ یہ آواز کو کیا ہوا ؟ رو کیو رہے ہو؟؟؟
رومان۔ میں بہت پریشان ہوں، نشرہ، کچھ سمجھ نہیں آ رہا، کیا کروں؟ کہاں جاوں؟؟
نشرہ۔ اپ پریشان کیو ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
رومان۔ کیسے ہو جائے گا نشرہ کیسے؟؟ کچھ سہی نہیں ہوگا!
نشرہ۔ تو اپ واپس گھر کیو نہیں آجاتے؟
رومان۔ گھر؟؟؟ واہ کیا بات کر رہی ہو نشرہ۔ وہی سے تو جان چھڑا کر یہاں آیا تھا۔
نشرہ۔ مطلب؟؟؟
رومان۔ جیسے تم کو پتا نہیں، اس دن یاد ہے کس طرہ مما نے کیسے مجھے منہوس بولا تھا، وہ کیا کیا نہیں بولتی مجھے، اور بابا وہ سب سے بتاتے ہیں کہ میری بیٹی پاۓلٹ ہے، سب سے، جو فون کرے گا، ان کے سارے دوست، جانتے ہیں کہ تم پاۓلٹ ہو لیکن کبھی میری باری نہیں ائ کہ وہ مجھے کسی سے بھی introduce کرے، کیو؟؟ میں سب سے چھوٹا ہوں اس لۓ یا وہ یہ اساس کرانا چاہتے ہیں کہ میں useless ہوں؟
نشرہ۔ ایسا نہیں ہے، تم غلط سمجھ رہے ہو رومان۔ وہ بس بھول جاتے ہیں اور کچھ نہیں۔
رومان۔ اوہ ہاں، وہ مجھے بھول جاتے ہیں۔
نشرہ۔ رومان!!
رومان۔ کیا رومان؟؟ تم نے کہا نا بھول جاتے ہیں؟
نشرہ۔ ٹھیک ہے، مینے کہا، لیکن مجھے سے تو بات کرو گے نا؟
رومان۔ ہاں، کر رہا ہوں۔
نشرہ۔ لیکن کتنی بڑی پریشانی میں ہو؟ ہر چیز کا ہل ہوتا ہے۔
رومان۔ ہاں suicide ہرام نا ہوتا تو ............. تم کو میں اندازا کرا دیتا۔
نشرہ۔ رومان
رومان۔ مجھے کھانا کھانا ہے، بعد میں بات کروں گا، باۓ
نشرہ۔ ٹھیک ہے باۓ۔
رومان کھانا بنانا شروع کر تا ہے۔ سبزی کاٹتے ہوۓ وہ سوچتا ہے، کہ اگر خدکشی ہرام نا ہوتی تو اتنی بڑی دنیا میں بہت تھوڑے لوگ ہوتے ، لیکن یہ حرام کیو ہے؟ خدا نے ہمیں بنایا ہے اگر ہم واپس اسی کے پاس جانا چاہتے ہیں تو اس نے یہ ہرام کیوں کیا ہے؟؟ تب ہی اس کا فون بجتا ہے ۔
رومان۔ ہاں، بولو رعوف۔
رعوف۔ بھائ میرے گھر جا اور میری بیوی کو hospital لے جا، میں out of station ہوں، وقت لگے گا، ۔ میرے بھائ پلیز ، مہربانی ہوگی۔
رومان۔ اچھا، اچھا میں جاتا ہوں ، تم آو city hospital ۔
رعوف۔ ہاں
رومان رعوف کی زوجہ کو لےکر hospital جاتا ہے ۔ اتنے میں رعوف بھی آ جاتا ہے
رعوف۔ شکریہ بھائ۔
رومان۔ ارے بھای کیا بات کر رہا ہے؟ میری بہن جیسی ہیں وہ ۔
رعوف۔ اچھا میں formalities کر کے آتا ہوں۔
رومان۔ بھائ میں نے سب کر دیا ہے۔ تو ادھر بیٹھ اور سانس
؟؟؟ ۔ potty بھی نہیں کر کے ائ، سب اندر storeکر کے رکھا ہے، یہی آکر نلالینگی۔
؟؟؟ 2۔ ہاں، گھر پر کرتی تو بیت الخلا گندا ہو جاتا نا۔
اتنے میں ان کو آواز آتی ہے، جو لے لیبر روم سے آرہی تھی اور یہ سن کر دونوں کو بہت برا لگتا ہے اور تیش میں آجاتے ہیں۔ تبھی doctor لیبر روم میں جاتے نزر آتے ہیں۔ اب رعوف کی دھڑکنیں بڑھنے لگتی ہے اور وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ اور رومان سے کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سنتاونا دیتا ہے اسی وقت ایک زور دار آواز آتی ہے، جو کہ رعوف کی زوجہ کی تھی اسے سن کر یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئ اس کے کلیجے پر چڑھا ہوا ہو، یہ زور دار چیخ سن کر رعوف اور پریشان ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے پھر ان کو ایک زور دار آواز آتی ہے جو کہ اسی کمرے سے آی تھی بلکل پہلے جیسی اسی سن کر رومان خوف سے رعوف کی طرف دیکھتا ہے تو اسے رعوف کی آنکھوں میں آنسوں نظر آتے ہیں۔ آوازیں سن کر دونوں ہی درے ہوے تھے۔ کچھ اور وقت گزرنے کے بعد ایک نرس بچا لے کر باہر آتی ہے۔
نرس۔ سر آپ کی بچی۔
رعوف خشی سے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے لیکن وہ بچی اسے نہیں دیتی۔ رعوف اور رومان اسے دیکھتے ہیں تو ان کو اس کی بات یاد آجاتی ہے "potty بھی نہیں کر کے آی " نرس ان سے بولتی ہے۔
نرس۔ سر لکشمی گھر آی ہے تو کچھ ....
اتنے میں رومان اپنی جیب سے پانچ سو کے کچھ نوٹ نکال کر سامنے پڑی میز پر آواز کے ساتھ رکھ دیتا ہے ،
رومان۔ میدم اپ hospital کی staff ہیں تو، اپ کا جو کام ہے اسے کرنے میں زادا سوچا مت کرئ، اور اپنا دوییہ... زرا ..... پیار سے۔ سب کے گھر والے اپ کو پیار سے نہیں بولینگے، تو اگلی بار سے تھوڑا پیار سے .........دیجے بچی کو۔
رعوف کی طرف عشارہ کرتا ہے۔ لیکن رعوف اس کے ہاتھ پکڑ کر اسے لینے کو بولتا ہے۔ اور رومان جلدی سے بچی کو لے لیتا ہے، اور خش ہو جاتا ہے، مانو اس کی اپنی اولاد ہو، رومان بچی کو دیکھ کر" ماشااللہ " بولتا ہے اس کی نزر بچی سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ لیکن اچانک اسے رعوف کا خیال آتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کے رعوف ان دونوں کو مسکرا کر دیکھ رہا ہے تو وہ زرا ہچکچا جاتا ہے۔
رومان۔ سوری بھائ وہ بچی بہت پیاری ہے ماشااللہ، اتنا چھوٹا بچا پہلی بار پکڑا ہے نا، لو ۔
رعوف۔ ویسے کیا نام رکھنا چاہۓ میری شہزادی کا؟؟ (بچی کو لیتے ہوۓ) ۔
رومان۔ میں کیا بتاؤ؟ اپی سے پوچھنا۔
رعوف۔ اچھا۔
رومان۔ لیکن مجھ سے نام کیو پوچھا؟؟
رعوف۔ زاہر ہے چچا کا اتنا حق تو بنتا ہے۔
رومان۔ چچا؟؟
رعوف۔ آچ تم نے میری اتنی مدد کی بھائ بن کر تو کیا ہم اپنی بچی کے نام کے لۓ پوچھیں بھی نا۔
رومان۔ ایسا نہیں ہے بھآئ، ویسے پہلی بار میں نے یہ سب experience کیا ہے، کہ کسی نے نام کا suggestion مانگا ہو۔مجھے اچھا لگا۔ شکریہ بھائ۔
رعوف۔ چلو اچھا لگا مجھے سن کر، اور کوئ نام یاد آۓ تو بتا نا۔ ہم انطزار کرینگے۔
رومان۔ ٹھیک ہے۔ میں جاتا ہوں، کل ملتے ہیں، کچھ لانا ہو تو بتا نا۔
رعوف۔ او کے۔
riti