Chapter 1
خاموشی کی اواز۔
[ بےنام- ]از قلمـ
؛ ناول کا تعارف
"کبھی کبھی سب کچھ کہہ دیا جاتا ہے… بغیر کچھ کہے-
یہ کہانی ہے دُرِفشاں کی —
ایک ایسی لڑکی جو چھ سال کی عمر میں یتیم ہو گئی،
اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہو گئی۔
اس کی آنکھوں میں ادھورے خواب تھے،
اور دل میں ایک ایسی خاموشی،
جو کبھی سُنی نہ گئی،
بس محسوس کی گئی۔
ہر دن اس کے لیے ایک سا تھا —
خاموش، ساکت، اور سنّاٹے سے لبریز۔
لیکن ان خاموش لمحوں میں ایک چیخ قید تھی…
جو کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی،
سِوا اُس کے جس کا دل بھی ویسا ہی ٹوٹا تھا۔
پھر ایک دن،
وقت کی راکھ سے ایک چہرہ ابھرا — زاویار۔
وہی لڑکا، جو برسوں پہلے صرف ایک "ٹیولپ" دینے آیا تھا،
مگر اب اس کی بکھری ہوئی روح میں رنگ بھرنے لوٹا تھا۔
یہ کہانی ہے درد کی، تنہائی کی، اور محبت کی —
جہاں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں،
مگر آنکھیں سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔
جہاں آوازیں خاموشی میں چھپ کر جیتی ہیں،
اور دل بینا ہو جائیں تو
خاموشیاں بھی چیخنے لگتی ہیں کا وجود خاموشی میں ہوتا ہے..."
"کچھ آوازوں کا وجود خاموشی میں ہوتا ہے"
ناول کا آغازـ
-پہلا باب– "پہلا پھول🌷 : عنوان
یہ جب کی بات ہے جب دُرِفشاں صرف پانچ سال کی تھیـ
> "کچھ یادیں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں… وہ دل میں ویسی ہی تازہ رہتی ہیں۔
جو کب کا مرجھا چکا ہوـ—
مگر اس کی مہک اب بھی زندہ ہو۔"
دُرِفشاں کی یادوں میں ایک چہرہ تھا —
دھندلا سا، مگر روشن۔
ایک شام، ایک لان، ایک تقریب… اور ایک لڑکا —
جس کے ہاتھ میں ایک ٹیولپ تھا — اُس کا پسندیدہ پھول۔
اس وقت دُرِفشاں کی عمر صرف پانچ سال تھی۔
وہ اُس ٹیولپ کی طرف دیکھتی ہوئی اُس کے قریب گئی،
اور بھولی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
"مجھے یہ پھول دے دو… پلیز؟"
زاویار نے تھوڑا نخرہ دکھایا۔
"نہیں، یہ میں بہت دور سے لایا ہوں… بہت مہنگا ہے۔
اور میرے پاس صرف یہی ایک ہے۔"
دُرِفشاں کا چہرہ ہلکا سا اُداس ہو گیا۔
"اوہ… اچھاـ
اس نے ہلکی سی "اُف" بھری، مگر کچھ کہا نہیںـ
زاویار نے اُس کی اداسی کو محسوس کیا —
اور نرم پڑ گیا۔
"تم اُداس مت ہو… میں تمہیں دے دیتا ہوں۔
سچی؟"
دُرِفشاں کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ لوٹ آئی۔
"ہاں، لیکن ایک شرط پر۔"
"کیا شرط؟"
"اپنے ہاتھ آگے کرو… اور آنکھیں بند کرو۔"
دُرِفشاں نے اپنی معصومیت بھرے چہرے کے ساتھ
آنکھیں بند کر لیں اور ہاتھ بڑھا دیے۔
اسی وقت پیچھے سے ایک آواز آئی:
"زاااویار! بیٹا اِدھر آؤ! وہاں کیا کر رہے ہو؟
اگلے ہی لمحے…
زاویار نے اُس کے ہاتھ پر ہلکا سا بوسہ دیا…
اور پھول رکھ دیا۔
زاویار نے پھول اُس کے ہاتھ میں رکھ کر فوراً دوڑ لگا دی۔
دُرِفشاں نے آنکھیں کھولیں — سامنے کوئی نہ تھا۔
بس ہاتھ میں ایک ٹیولپ تھا…
اور دل میں ایک یاد —
جو برسوں بعد بھی ویسے ہی محسوس ہوتی تھی۔
دُرِفشاں کی زندگی کسی چھوٹی سی پریوں کی کہانی جیسی تھی۔
اس کا گھر بہت بڑا نہیں تھا،
مگر اُس کے ہر کونے میں محبت بسی ہوئی تھی۔
اگلے دنـ
صبح آنکھیں کھلتیں تو ماں کی آواز گونجی
> "فشاں اُٹھو، دیکھو تمہارے ٹیولپ کھل گئے ہیں!"
وہ دوڑتی ہوئی جاتی،
اور ماں کے ساتھ باغیچے میں کھڑے ہو کر پھولوں کو پانی دیتی۔
ماں نرمی سے اس کے بالوں میں چھوٹی چھوٹی ٹیولپ کلپس لگاتیں —
اور ہر کلپ کے ساتھ ایک دعا بھی کرتی جاتیں۔
شام کو جب بابا گھر آتے،
تو اُس کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لاتے —
کبھی مٹھائی،
کبھی کوئی چھوٹی سی پریوں کی کتاب۔
اور رات کو اُسے گود میں بٹھا کر کہانی سناتے:
> "میری فشاں ایک دن لوگوں کے دلوں میں اجالا بن کر چمکے گی… بالکل اپنی ماں کی طرح۔"
اس گھر میں صرف لوگ نہیں بستے تھے،
یادیں رہتی تھیں،
رنگ تھے،
اور قہقہوں کی بازگشت۔
جب صحن میں ہلکی سی ہوا چلتی،
تو ٹیولپ کے پھول جھومنے لگتے —
یوں لگتا جیسے زندگی کے نغمے گا رہے ہوں۔
زندگی ایسی تھی…
کہ اگر کوئی کہہ دیتا:
> "ایک دن یہ سب کچھ چھن جائے گا…"
تو دُرِفشاں ہنس کر کہتی:
> "میری ماں بابا ہیں نا… کچھ بھی چھن نہیں سکتا۔"
لیکن اسے کیا پتہ تھا اگے کیا ہوگا ۔۔۔۔
دوسرا بابـ
خاموشی کی چیخـ : عنوان
وہ دن... جب سب کچھ بدل گیا
اس دن صبح سب کچھ ویسا ہی تھا،
جیسا ہر دن ہوتا تھا۔
دُرِفشاں نے حسبِ معمول ماں کے ساتھ باغیچے میں ٹیولپ کے پھولوں کو پانی دیا۔
بابا نے پیار سے اُس کی ناک دبائی اور ہنستے ہوئے کہا:
> "میری چھوٹی سی پری! آج تمہیں تمہارا پسندیدہ پاستا کھلانے لے چلیں گے!"
دُرِفشاں نے فوراً اپنی ٹیولپ والی کلپ ماں کو دی اور کہا:
> "یہ والی لگائیں پلیز! آج خاص لگ رہی ہوں!"
ماں نے مسکرا کر کلپ لگائی —
اور ہر روز کی طرح ایک نرمی بھری دعا دی:
> "خوش رہنا میری گڑیا… ہمیشہ!"
دوپہر کو وہ تینوں لنچ کے لیے گھر سے نکلے۔
گاڑی میں بیٹھی دُرِفشاں شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی —
دھوپ کی ہلکی ہلکی کرنیں سڑک پر بکھری ہوئی تھیں،
بالکل ٹیولپ کے رنگوں جیسی۔
> "ماما! دیکھیں! ٹیولپ! بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے باغ میں ہوتے ہیں!"
ماں نے پیار سے ے دیکھا،
بابا نے ریئر ویو مرر سے محبت بھری نظروں میں روشنی اتاری۔
ہر منظر روشنی سے بھرا ہوا تھا۔
لیکن پھر...
ایک پل…
ایک آواز…
"چششششششڑررررٹ۔۔۔!"
بریک کی چیختی ہوئی آواز…
ایک ٹرک کا جھٹکا…
اور اُس کے بعد صرف خاموشی۔
دُرِفشاں کی آنکھیں بند ہو گئیں…
کانوں میں صرف ماں کی چیخ سنائی دی:
> "فشاں!!!"
جب آنکھیں کھلیں —
تو ہر چیز دھندلائی ہوئی تھی۔
ہوا میں گرد تھی،
گاڑی اُلٹی ہوئی،
اور چاروں طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
اس نے ماں کی طرف دیکھا —
ما ما بے ہوش تھیں،
چہرہ خون سے لت پت،
اور ہاتھ دُرِفشاں کے ہاتھ کی طرف بڑھا ہوا…
بابا…
سامنے موجود تھے،
مگر اُن کی آنکھیں بند تھیں۔
اُن کا ایک ہاتھ دُرِفشاں کے سینے پر رکھا تھا —
جیسے آخری لمحے میں اپنی زندگی اس کے دل میں اُتار گئے ہوں۔
> "بابا؟"
"ماما؟"
"اُٹھ جائیں نا پلیز… ہم تو پاستا کھانے جا رہے تھے…
لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
بس ہوا چلتی رہی…
اور اُس کی گود میں وہی ٹیولپ کلپ پڑی تھی —
جو اب خون سے بھیگی ہوئی تھی۔
اُس ایک لمحے میں، دُرِفشاں نے صرف اپنے ماں باپ کو نہیں کھویا تھا…
اُس نے اپنی معصومیت، اپنا روشن گھر، اور ہنسی کے وہ سب لمحے بھی کھو دیے تھے —
جو کبھی اُس کی دنیا کا حسن ہوا کرتے تھے۔
اُس نے اپنی زندگی کا پہلا اور سب سے بھاری سناٹا محسوس کیا تھا-اس دن
-
تیسرا باب۔
بے رنگ دن، بے آواز راتیں
> "کچھ رشتے خون سے بنتے ہیں، اور کچھ صرف زبان سے…
مگر سب رشتے دل سے نہیں جُڑتے۔"
حادثے کے بعد دُرِفشاں کئی دن اسپتال میں رہی۔
کبھی چچی آئیں، کبھی تایا ابو…
مگر ان کے چہروں پر دکھ کم، مجبوری زیادہ تھی۔
کسی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نہیں کہا:
"فشاں، ہم تمہارے ساتھ ہیں"
بس سرگوشیاں ہوئیں، فیصلے کیے گئے۔
> "بچّی چھوٹی ہے، اب کون پالے گا؟"
"ہم بھی اپنے بچوں میں الجھے ہیں، اب یہ ذمہ داری…؟"
دُرِفشاں خاموش بیٹھی سنتی رہی —
جیسے اُس کے آنسو بھی اجازت کے محتاج ہو گئے ہوں۔
چچی نے ایک دن ہلکی آواز میں کہا:"کاش بہن کو کچھ پس انداز کرنے کی سمجھ ہوتی"
"چھوڑ گئی ہے ایک بوجھ ہمارے لیےبوجھ؟
یہ لفظ اُس کے دل میں تیر بن کے لگا۔
وہی فشاں جو ماں کے ہاتھوں کی کلی تھی،
بابا کے خوابوں کا چراغ…
آج ایک "بوجھ" بن چکی تھی۔
رات کے سناٹے میں وہ اپنی ماں کی جھولی تلاشتی،
اور بابا کی کہانیوں کی گود کو یاد کرتی۔
لیکن اب گود بھی نہ تھی،
نہ کوئی آواز نہ کوئی دلاسہ۔
صرف ایک خاموشی تھی…
جو ہر سانس کے ساتھ اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔"
حادثے کے بعد، کچھ دن اسپتال کے خاموش کمروں میں گزرے —
جہاں ہر سفید دیوار، دُرِفشاں کی خالی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتی تھی۔
پھر ایک دن،
ایک اجنبی عورت آئی —
چہرے پر افسوس کم، بیزاری زیادہ تھی۔
"ہم اِسے اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں… ماں باپ مر گئے ہیں، اب ہم ہی کفیل ہیں۔"
دُرِفشاں کچھ بولی نہیں —
بس خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام لیا، جیسے اپنی باقی ماندہ دنیا کو بچا رہی ہو۔
نیا گھر… نیا ماحول… مگر دل ویسے ہی خالی۔
جہاں کبھی ماں کے نرم ہاتھ اس کے بال سنوارتے تھے،
اب وہاں ایک عورت کی جھڑکی گونجتی:
> "اتنے نخرے تو یتیم بچوں کے نہیں ہونے چاہئیں۔"
پھوپھو نے کبھی پیار سے بلایا نہیں۔
چچی نے کبھی گلے نہیں لگایا۔
چچا کو بس یہ فکر تھی کہ ایک اور بوجھ آ گیا۔
دُرِفشاں جب بھی کچھ کہنا چاہتی،
اُسے خاموش کرا دیا جاتا:
> "خاموش رہو، یہاں تمہاری مرضی نہیں چلتی۔"
اسے الگ کمرہ نہیں ملا —
ایک کونے میں پرانی چادر، اور ایک ٹوٹی لکڑی کی الماری،
جس میں اُس کی سب سے قیمتی چیز رکھی تھی —
خون سے بھیگی ٹیولپ کلپ۔
وہ اکثر رات کو جاگتی رہتی،
کھڑکی سے آسمان کو تکتی —
جہاں شاید اُس کے ماں باپ کے ستارے چمکتے ہوں۔
اسکول بھی بدلا،
دوستوں کی جگہ عجیب نظروں نے لے لی۔
کوئی اُس کے قریب آتا،
تو وہ ہلکی سی مسکراہٹ دیتی —
مگر فوراً پیچھے ہٹ جاتی،
جیسے اعتماد کرنا اب بھول چکی ہو۔
چچی کہتی:
> "بچی ہے، بھول جائے گی وقت کے ساتھ۔"
مگر کسی نے یہ نہیں جانا —
کہ کچھ حادثے جسم نہیں، روح کو زخمی کرتے ہیں۔
اور کچھ زخم وقت کے ساتھ نہیں،
خاموشی کے ساتھ پھیلتے ہیں۔.
(چوتھا باب)
عنوانـ
وہ دروازہ جو کبھی بند نہ ہوا؛
دیکھتے ہی دیکھتے بہت سال بیت گئے اب دور فشاں بڑی ہو چکی تھیـ
دُرِفشاں سالوں بعد اپنے بچپن کے گھر کے سامنے کھڑی تھی…
وہ دروازہ جو کبھی اس کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا،
آج بھی ویسا ہی تھا…
بس رنگ اُتر چکا تھا،
اور کونے میں مٹی جمی ہوئی تھی۔
اس نے ہلکا سا دھکا دیا —
دروازہ کھل گیا… اور ہوا کا ایک پرانا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔
جیسے کوئی پرانا دوست کہہ رہا ہو:
"تم واپس آ گئی؟"
اندر قدم رکھتے ہی…
سب کچھ اُسی جگہ تھا —
وہ صوفہ جہاں ماں چائے پیا کرتی تھی،
وہ میز جہاں بابا اخبار پڑھا کرتے تھے،
اور وہ چھوٹا سا آنگن جہاں ٹیولپ کا پودا ہوا کرتا تھا۔
اس نے آنکھیں بند کیں…
اور یکایک اس کے کانوں میں بچپن کی آوازیں گونج اُٹھیں:
> "فشاں، دیکھو تمہارا ٹیولپ کھل گیا!" — ماں کی مسکراہٹ۔
"میری بیٹی ایک دن لوگوں کے دل روشن کرے گی…" — بابا کی محبت بھری آواز۔
آنکھ کھلی…
ٹیولپس اب مرجھا چکے تھے
پتیاں جھڑ چکی تھیں…
مگر مٹی میں اب بھی ایک پرانی خوشبو باقی تھی۔
دُرِفشاں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی،
مٹی کو چھوا… اور ہلکا سا مسکرا دی —
جیسے کہہ رہی ہو:
"میں آ گئی ہوں… تمہیں چھوڑ کے کبھی نہیں جاؤں گی۔"
(اگلے ہی دن کالج میں)
آڈیٹوریم میں ہلکی سی روشنی تھی۔
اسٹیج پر مائیک کی ہلکی ٹپ ٹپ کی آواز گونج رہی تھی۔
طلبہ کی مدھم سی گفتگو فضا میں گھل رہی تھی، مگر دُرِفشاں کا دھیان کہیں اور تھا
وہ اپنی ڈائری کے اوراق پلٹ رہی تھی…
شاید اپنے اندر کی خاموشی کو چھپانے کے لیے۔
> "براہِ کرم خوش آمدید کہیں… جناب زاویار احمد کو۔"
تالیوں کی گونج آڈیٹوریم میں پھیل گئی۔
دُرِفشاں نے بس ایک سرسری سی نظر ڈالی —
اور اس لمحے اس کی سانسیں جیسے تھم سی گئیں۔
وہ اسٹیج پر تھا۔
کالا سوٹ، پراعتماد انداز، اور آنکھوں میں وہی گہرا رنگ…
جو اس نے بچپن میں دیکھا تھا۔
لیکن اس بار اس کے چہرے پر ایک اور ہی کہانی لکھی تھی۔
دُرِفشاں نے پلک جھپکانے کی کوشش کی،
مگر نظر ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔
زاویار نے مائیک تھاما، چند رسمی جملے کہے،
پھر آڈیٹوریم کا جائزہ لیا…
اور اس کی نظر ایک کونے میں بیٹھی ایک لڑکی پر ٹھہر گئی۔
ایک پل کے لیے دونوں خاموش۔
روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی،
اور دُرِفشاں کی آنکھوں میں ایک پرانی تصویر سانس لینے لگی —
وہی باغ، وہی ٹیولپ، وہی ہلکی سی مسکراہٹ۔
زاویار کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی…
جیسے اس نے اُسے پہچان لیا ہو۔
اور دُرِفشاں کے دل نے آہستہ سے کہا:
"یہ وہی ہے…"
باقی طلبہ کے لیے یہ بس ایک مہمان لیکچرار تھا…
لیکن ان دونوں کے لیے —
یہ کہانی کا دوبارہ آغاز تھا۔
لیکچر ختم ہوا۔
طلبہ زاویار کے گرد جمع ہو کر سوالات کرنے لگے۔
دُرِفشاں نے ڈائری بند کی اور نکلنے ہی والی تھی
کہ پیچھے سے ایک مانوس مگر برسوں پرانی صدا اُبھری —
"ٹیولپ… یاد ہےـ
اس کے قدم اچانک تھم گئے۔
دل کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کو رُک سی گئی۔
وہ آہستہ آہستہ پلٹی —
زاویار سامنے کھڑا تھا،
چہرے پر وہی پرانی ہلکی مسکراہٹ
اور آنکھوں میں جانے کتنے سالوں کا سفر سمٹا ہوا۔
دُرِفشاں کی آنکھوں میں حیرت اُتر آئی:
> "میں سمجھی نہیں…"
واقعی، اُسے کچھ یاد نہ آیا۔
اس لمحے وہ تصویر اس کے ذہن میں دھندلی تھی —
مگر زاویار کے لیے وہ لمحہ
ابھی کل کی طرح صاف اور روشن تھا۔
زاویار نے نرمی سے کہا:
> "سمجھ جاؤ گی لیکن وقت آنے پر
وہ بس خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی،
زاویار نے اس کی آنکھوں میں
وہی معصوم بچپن کی لڑکی تلاش کر لی۔
چند لمحوں تک دونوں کے بیچ
صرف خاموشی کا سمندر بہتا رہا۔
پھر زاویار کے لبوں پر مسکراہٹ اُبھری:
> "مجھ سے ملنے کا وقت کب ملےگا تمہیں؟"
دُرِفشاں کے ہونٹوں پر بھی
ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
مگر وہ بنا جواب دیے آگے بڑھ گئی۔
زاویار بس اُسے جاتا دیکھتا رہا…
اور دل میں ایک عہد باندھ لیا:
> "میں تمہاری خاموشی کا راز جان کر ہی رہوں گا۔"
شام کا وقت تھا۔
کالج کا باغ ہمیشہ کی طرح سنّاٹا اوڑھے ہوئے تھا،
صرف ہوا کے نرم جھونکے ہلکی سی سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے۔
دُرِفشاں اپنی ڈائری کے ساتھ ایک بنچ پر بیٹھی تھی،
اور اس کے سامنے ٹیولپ کے پھول ہلکی ہوا میں جھوم رہے تھے۔
اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
وہ پلٹی — زاویار سامنے کھڑا تھا،
ہاتھ میں کافی کے دو کپ تھامے۔
> "تمہاری ڈائری کے لیے کافی لایا ہوں؟"
دُرِفشاں کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
مگر اس نے ہنسی دبالی۔
زاویار مسکرا کر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا:
> "نہیں… تمہارے لیے۔
تم بس لکھتی رہتی ہو، اور اپنے آس پاس کا خیال ہی نہیں رکھتیں۔"
دُرِفشاں نے کافی تھام لی،
مگر اس کی نگاہیں اب بھی ٹیولپ کے پھولوں پر جمی رہیں۔
زاویار نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:
> "تم جانتی ہو… ٹیولپ کا مطلب ہوتا ہے ‘کامل محبت’؟"
دُرِفشاں نے ذرا حیرت سے اس کی طرف دیکھا:
> "اور تم یہ کیوں بتا رہے ہو؟"
زاویار کے ہونٹوں پر ہلکی سی شرارت بھری مسکراہٹ ابھری:
> "شاید اس لیے… کہ تمہیں پھول پسند ہیں،
اور مجھے تمہاری مسکراہٹ۔"
دُرِفشاں کا دل جیسے ایک لمحے کو تیز دھڑکنے لگا۔
وہ کچھ نہ کہہ سکی۔
زاویار نے دھیمی آواز میں کہا:
> "دُرِفشاں… تمہاری خاموشی بہت کچھ کہتی ہے۔
بس… سننے والا چاہیے۔"
دُرِفشاں نے ڈائری بند کی،
آہستہ سے اُٹھی، اور چل دی۔
زاویار نے پیچھے سے صرف ایک لفظ کہا:
> "میں ٹھہروں گا… جب تک تم خود نہیں کہہ دیتیں۔"
اگلے دن ـ
کالج کا صحن شام کے نارنجی رنگوں میں نہایا ہوا تھا۔
دُرِفشاں ایک بَینچ پر بیٹھی اپنی کاپی میں کچھ لکھ رہی تھی۔
ہوا ہلکی سی چل رہی تھی… اور ساتھ ایک عجیب سا سکون تھا۔
زاویار کہیں سے آیا…
ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیکٹ لیے۔
اس نے چپ چاپ وہ اس کے سامنے رکھ دیا۔
دُرِفشاں نے بھنویں چڑھاتے ہوئے پوچھا:
"یہ کیا ہے؟"
زاویار مسکرایا، مگر جواب نہ دیا۔
"خود دیکھو۔"
اس نے آہستہ سے پیکٹ کھولا…
اور اس کی سانسوں کا سارا سفر ایک پل کے لیے تھم گیا۔
اندر… ایک ٹیولپ تھا۔
اس نے پھول کو ہاتھ میں تھاما،
جیسے کسی نے اس کے بچپن کا ایک ٹوٹا ہوا لمحہ واپس رکھ دیا ہو۔
"تم… یہ پھول کیوں؟"
اس کی آواز میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔
زاویار نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
"تمہیں یاد نہیں… ایک چھوٹی سی لڑکی نے مجھ سے ایسا ہی ٹیولپ مانگا تھا؟
میں نے منع کیا تھا… پھر دے دیا تھا۔"
دُرِفشاں کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اُبھری،
اور ساتھ ہی آنکھوں کے کونے بھیگ گئے۔
"تو وہ تم تھے؟"
زاویار نے بس آہستہ سے سر ہلایا:
" جی ہاں اور تم میری ٹیولپ والی لڑکی ہو۔"
اس پل… صحن میں بہت شور تھا،
لیکن دونوں کے بیچ صرف خاموشی تھی —
وہ خاموشی جو لفظوں سے زیادہ بولتی ہے۔
"پانچواں باب"
گھر کا پہلا قدمـ
دُرِفشاں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ زاویار اُس کا پتا لے کر یوں اچانک دروازے پر آ کھڑا ہوگا۔
وہ دن عام سا تھا… دُرِفشاں ڈرائنگ روم میں بیٹھی ڈائری لکھ رہی تھی کہ اچانک ڈور بیل بجی۔
دروازہ کھولا تو سامنے زاویار کھڑا تھا…
ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تحفہ اور چہرے پر وہی مسکراہٹ جو دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے روک دیتی تھی۔
"تم… یہاں؟!"
دُرِفشاں کی آواز حیرت اور ہلکی سی گھبراہٹ میں لپٹی ہوئی تھی۔
"ہاں… میں نے سوچا، لیکچر ہال کے باہر کے علاوہ بھی تمہاری آواز سننی چاہیے۔"
زاویار نے شرارتی انداز میں کہا۔
---
اور ڈرائنگ روم میں چلے گیا
وہ اندر آیا تو ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گیا۔
دیواروں پر پرانی فیملی فوٹویں، ٹیولپ کے چھوٹے پینٹنگز، اور ایک کونے میں کتابوں کے ڈھیر۔
"تمہارے گھر میں… سکون بہت ہے۔"
اس نے دھیرے سے کہا۔
دُرِفشاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
"اور تمہارے اندر… شور بہت ہے۔"
زاویار ہنس پڑا:
"تو ٹھیک ہے، میں تمہارے سکون میں تھوڑا سا شور شامل کر دیتا ہوں۔"
چائے کی میز پر بسکٹوں کی پلیٹ رکھی تھی۔
زاویار نے ایک بسکٹ اٹھایا اور بولا:
"یہ تم بناتی ہو یا بیکری سے منگواتی ہو؟"
"میں بناتی ہوں۔"
دُرِفشاں نے فخر سے کہا۔
ایک نوالہ لیا تو زاویار کا چہرہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔
"اچھا… تو میں بس یہ کہنا چاہوں گا کہ تم ادب ہی پر توجہ دو۔"
دُرِفشاں نے کشن اٹھا کر اس کی طرف پھینکا:
"چپ رہو!"
وہ دونوں ہنسنے لگے…
اور بیچ میں وہ سکون بھرا لمحہ تھا جو خاموشی سے یہ کہہ رہا تھا…
کہ شاید یہ ملاقاتیں محض اتفاق نہیں ہیں۔:
زاویار نے بُک شیلف کے پاس جا کر وہاں سے ایک بہت موٹی کتاب اُٹھائی اور کہا
"یہ تم پڑھ لیتی ہو؟"
"ہاں۔" دُرِفشاں نے مختصر جواب دیا۔
"اور پھر کہتی ہو زندگی بورنگ ہے… اتنا ٹیکسٹ کوئی پڑھے تو زندگی بورنگ ہی لگتی ہے۔"
دُرِفشاں نے کُشن اُٹھا کر سیدھا اُس کے کاندھے پر مارا:
"تم بورنگ ہو!"
زاویار نے ہاتھ اُٹھا کر کہا:
"میں بورنگ نہیں… میں تمہارا انٹرٹینمنٹ پیکیج ہوں۔"
زاویار واپس جا کر بیٹھ گیا۔ بیٹھتے بیٹھتے اُس نے کونے میں رکھا ایک پرانا ٹیڈی بیئر اُٹھا لیا۔
"یہ کون ہے؟ تمہارا باڈی گارڈ؟"
دُرِفشاں نے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا:
"نہیں… یہ وہ ہے جو بچپن سے میرے ساتھ ہے، تمہارے ٹیولپ سے بھی پرانا۔"
زاویار نے ٹیڈی کو غور سے دیکھا، پھر اُس کے کان کے پاس جا کر بولا:
"بھائی… اپنی جگہ تیار رکھنا، میں مقابلے میں آ رہا ہوں۔"
دُرِفشاں نے ہاتھ سے مُنہ چھپایا تاکہ ہنسی باہر نہ نکلے،
مگر زاویار کی شرارت اور اُس کی اپنی مُسکراہٹ… دونوں جیسے کمرے کا موسم بدل رہے تھے۔
اب زاویار کا کچھ کھانے کو دل چاہا
زاویار ضد کر رہا تھا کہ وہ دُرِفشاں اور اپنے لیے کچھ خاص بنائے گا۔
زاویار نے آنگن سے سیدھا کچن کا رخ کیا۔
دُرِفشاں نے پیچھے سے آواز دی:
"کہاں جا رہے ہو؟"
"اپنے لیے… اور تمہارے لیے کچھ بنانے،"
زاویار نے پُر اعتماد لہجے میں کہا، جیسے ماسٹر شیف پاکستان کا فائنلسٹ ہو ---
کچن میں داخل ہو کر اس نے فریج کھولا —
انڈہ، دودھ، بریڈ… سب میز پر رکھ دیے۔
پلان بالکل سادہ تھا: آملیٹ + چائے۔
لیکن دو منٹ کے اندر اندر…
یہ پلان ایک قدرتی آفت میں بدل گیا۔
انڈہ پھٹ کر فرش پر گر گیا،
چائے اُبل کر چولہے پر بہہ رہی تھی،
اور بریڈ ٹوسٹر کے اندر سے ہلکی ہلکی جلنے کی بو آرہی تھی۔
دُرِفشاں اندر آئی تو آنکھیں پھیل گئیں:
"یہ تم کھانا پکا رہے ہو یا کچن کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہو؟"
زاویار نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا:
"میں تخلیقی کھانا پکا رہا ہوں… اسے آرٹ کہتے ہیں۔---
اس نے جلی ہوئی بریڈ پلیٹ میں رکھی،
اور آملیٹ کا آدھا حصہ چمچ سے کھرچ کر نکالتے ہوئے بولا:
"دیکھو، تمہارے لیے اسموکی فلیور۔"
دُرِفشاں ہنسی روک نہ سکی،
"اسموکی فلیور؟ اسے تو سیدھا ایمرجنسی روم فلیور کہنا چاہیے۔
آخر کار دونوں نے چائے پی… جو حیرت انگیز طور پر ٹھیک نکلی۔
زاویار نے فخر سے کہا:
"دیکھا؟ میں ایک دن تمہارے لیے باقاعدہ ناشتہ بنا کر دوں گا۔"
دُرِفشاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
"بس پہلے کچن کا انشورنس کروا لینا۔"
چائے ختم ہونے کے بعد زاویار نے میز سے بریڈ اُٹھائی اور ایک بُھدا سا مکھن لگانے والا چاقو لے آیا۔
دُرِفشاں نے شک بھری نظروں سے اُسے دیکھا:
"اب کیا کرنے والے ہو؟ کچن کو دوبارہ دھماکے سے اُڑاؤ گے؟"
زاویار نے پُراعتماد انداز میں کہا:
"آرٹ کا دوسرا راؤنڈ… میں تمہارے لیے ایک ٹیولپ بنانے جا رہا ہوں۔
وہ بریڈ کو چاقو سے کاٹنے لگا، مگر شکل ذرا بھی ٹیولپ جیسی نہیں بن رہی تھی —
کبھی پَتلی کبھی موٹی ہو جاتی، کبھی تنا ٹیڑھا نکلتا۔
آخر اس نے تھوڑا مکھن لگایا اور لال مربّے سے پھول کا ڈیزائن بنانے کی کوشش کی…
جو زیادہ تر ٹوٹے دل والے ایموجی جیسا لگ رہا تھا۔
دُرِفشاں ہنسی ضبط نہ کر سکی:
"یہ ٹیولپ ہے؟ لگتا ہے تمہارے پھول کا بچپن میں کوئی صدمہ ہوا تھا۔"
زاویار نے ایک لمحے کو اُس کی طرف دیکھا،
پھر ہلکے سے مسکرایا اور بریڈ اُس کی پلیٹ میں رکھ دی:
"چاہے پرفیکٹ ہو یا نہ ہو… یہ پھول تمہارے لیے ہی بنایا ہے۔"
دُرِفشاں ایک پل کے لیے خاموش ہو گئی۔
دل جانے کیوں ذرا سا بھر آیا،
جیسے اس بیکار سے ٹیولپ میں بھی ایک اپنائیت چھپی ہو۔
اس نے آہستہ سے بریڈ کا ایک نوالہ لیا اور سر ہلا کر کہا:
"زاویار… تم کبھی بدلنا مت۔
اب بریڈ کا حشر نشر ڈرائنگ روم میں بکھرا پڑا تھا۔
دُرِفشاں ایک کونے میں ہنسی روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور زاویار بس اپنی "شیف پرائیڈ" سنبھالنے میں مصروف تھا۔
جیکٹ اُٹھاتے ہوئے اُس نے کہا:
"ٹھیک ہے… میں جا رہا ہوں، ورنہ تمہاری ہنسی کی وجہ سے یہیں بے ہوش ہو جاؤں گا۔"
دُرِفشاں نے ہنسی چھپانے کے لیے کپ اُٹھا لیا:
"اچھا خیال ہے… ورنہ تمہارے بریڈ کا بھوت یہاں گھومتا رہتا۔"
زاویار نے دروازہ کھولا، مگر رُک کر پلٹ کے دیکھا:
"ویسے… اگلی بار میں صرف چائے بنانے آؤں گا۔ سادہ، محفوظ… اور تمہارا کچن زندہ رہے گا۔"
دُرِفشاں نے بھری ہوئی بھووں کے ساتھ کہا:
"اور میں تمہیں ایک سرٹیفیکیٹ دوں گی: ‘نگرانی کے بغیر کھانا نہ پکائیں’۔"
زاویار ہنسا، ہاتھ ہلا کر سیدھا گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
باہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی… اور اُس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی جو جب بھی آتی، دُرِفشاں کا دن ذرا سا روشن کر دیتی تھی۔
🌸 "تم میرے ہو" – اعترافِ محبت
کالج کا سالانہ بُک فیئر تھا…
دُرِفشاں لٹریچر اسٹال پر کھڑی تھی —
ایک ہاتھ میں کافی کا کپ،
دوسرے ہاتھ میں جین آسٹن کا ناول۔
باہر ہلکی سی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی،
اور ہال میں لوگوں کی خوشگوار گہماگہمی پھیلی ہوئی تھی۔
زاویار اسٹیج سے اُتر کر سیدھا اس کے پاس آیا۔
"تم پھر ڈائری لکھ رہی تھیں نا؟"
اس نے شوخی سے آنکھوں میں چمک لاتے ہوئے کہا۔
دُرِفشاں نے بھنویں اُٹھائیں:
"اور تم پھر میری ڈائری کے پیچھے؟"
زاویار ہلکا سا مسکرایا:
"میں ڈائری نہیں… تمہاری آنکھیں پڑھنا چاہتا ہوں۔
مگر تم… ایک پرانی کتاب کی طرح ہو…
جس کے ہر صفحے پر چابی کا تالا لگا ہوا ہے۔"
دُرِفشاں نے کافی کا ہلکا سا گھونٹ لیا:
"تالا اس لیے ہے کہ کچھ لوگ بغیر سمجھے
صرف عنوان دیکھ کر ہی تبصرہ کر دیتے ہیں۔"
---
مزاحیہ موڑ
اتنے میں ایک لڑکا اسٹال پر آیا:
"ایکسکیوز می، یہ ناول کتنے کا ہے؟"
دُرِفشاں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ زاویار بیچ میں بول پڑا:
"سیل پر ہے… لیکن اگر بیچنے والے کا وقت ضائع کیا
تو قیمت دگنی ہو جائے گی۔"
لڑکا اُلجھن میں پڑ گیا: "اُہ… اوکے؟"
دُرِفشاں نے آنکھیں گھمائیں:
"اس کی باتوں پر دھیان نہ دو۔"
زاویار نے ہاتھ جوڑ کر ڈرامائی انداز میں کہا:
"میں تو بس تمہارا کسٹمر سروس ڈیپارٹمنٹ ہوں۔"
لڑکا چلا گیا تو زاویار اس کی طرف جھک کر بولا:
"مجھے تم سے کچھ کہنا ہے… وعدہ کرو ہنسو گی نہیں۔"
"کوشش کروں گی،"
دُرِفشاں نے ہنسی دبا کر جواب دیا۔
"میں تم سے حسد کرتا ہوں…
ہر اُس شعر سے جو تم لکھتی ہو،
ہر اُس کافی کے کپ سے جو تمہارے ہاتھ گرم کرتا ہے،
اور ہر اُس شاعری سے جو تمہارے دل کو چھو لیتی ہے،
مگر میں نہیں چھو پاتا۔"
دُرِفشاں نے کپ رکھ کر سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا:
"زاویار… تم سنجیدہ ہو؟"
زاویار نے گہری سانس لی:
"میں تم سے محبت کرتا ہوں —
وہ بھی عام شوق کی طرح نہیں…
بلکہ مکمل وقت کی نوکری کی طرح… بغیر کسی چھٹی کے۔
اور اضافی وقت کے لیے تو میں ہمیشہ تیار ہوں۔"
دُرِفشاں کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اُبھری:
"پھر تمہیں معلوم ہے۔اس نوکری کا ریٹائرمنٹ پلان نہیں ہوتا۔"
زاویار نے اس کا ہاتھ تھام کر دھیرے سے کہا:
"بس تم میری ہو جاؤ… باقی دنیا استعفیٰ دے دے۔"
دونوں ہنس پڑے…
اور بیچ میں وہ خاموشی تھی
جو صرف محبت سمجھ سکتی ہے۔
دونوں اسٹال کے پیچھے کتابیں ترتیب دے رہے تھے۔ زاویار ایک کتاب اونچی شیلف پر رکھتے ہوئے بولا:
"یہ کتابیں تمہاری طرح ہیں… دور سے صرف سرورق کا پتا لگتا ہے، اصل کہانی تو اندر ہوتی ہے۔"
دُرِفشاں نے مسکرا کر جواب دیا:
"اور تم؟ تمہارے کور پر تو ’Handle with care‘ لکھا ہونا چاہیے۔"
زاویار ہنس کر بولا:
"میں تمہارے لیے ’Fragile but yours‘ ہوں۔"
دُرِفشاں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے کتاب لے کر شیلف پر درست کرتے ہوئے بولی:
"Fragile لوگ زیادہ شکایت کرتے ہیں۔"
زاویار ذرا قریب ہو کر دھیرے سے بولا:
"میں شکایت نہیں کرتا… بس تمہارے پاس رہنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہوں۔"
دُرِفشاں کا ہاتھ ایک اور کتاب اُٹھانے کو بڑھا، لیکن زاویار نے وہ کتاب پہلے پکڑ لی۔
"تم مجھے ہر چیز میں ہرانا چاہتی ہو نا؟"
"صرف اُن چیزوں میں جہاں تم جیتنے کے لائق نہیں ہو،" اُس نے آنکھوں میں شرارت بھر کر کہا۔
زاویار ہنس کر سر ہلاتے ہوئے بولا:
"پھر تو تمہیں وارننگ دے دوں… میں محبت کے کھیل میں کبھی ہارتا نہیں۔"
یہ سن کر دُرِفشاں نے ذرا سا سر جھکا لیا… اور دونوں کے بیچ ایک ایسی خاموشی چھا گئی جو نہ شور تھی، نہ دُوری… بس ایک ہلکا سا احساس کہ دل کی ڈائری کا ایک اور صفحہ لکھا جا چکا ہے۔
دُرِفشاں نے ایک موٹی سی ناول اُٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر شیلف کچھ اونچی تھی۔
زاویار نے بغیر کچھ کہے اُس کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں سے کتاب اُٹھا لی۔
اُن کے کندھے ہلکے سے ٹکرا گئے… دُرِفشاں کی سانس ایک پل کو تھم سی گئی۔
"شکریہ،" اُس نے مدھم آواز میں کہا۔
زاویار نے کتاب اُس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے آہستہ سے کہا:
"یہ تمہارے لیے اُٹھانا آسان ہے… لیکن تم تک پہنچنا میرے لیے اتنا آسان نہیں تھا۔"
دُرِفشاں نے ذرا سا سر گھما کر اُس کی طرف دیکھا… اُن کی نظریں ایک دوسرے میں الجھ گئیں۔
دور اسٹال سے لوگوں کی آوازیں آرہی تھیں، مگر اُس لمحے اُن کے لیے سب کچھ دھندلا گیا تھا۔
ایک اور کتاب اُن کے ہاتھوں سے پھسل کر نیچے گر گئی۔
دونوں ایک ساتھ جھک کر اُٹھانے لگے… اور اُن کے ہاتھ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔
دُرِفشاں نے ہلکی سی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کی۔
زاویار نے اُس لمحے کو قید کرتے ہوئے کہا:
"خیال رکھو… تم میری کہانی کا پسندیدہ باب ہو۔"
دُرفشاں نے آنکھوں کا رُخ دوسری طرف کر لیا، جیسے اُس کے دل کی دھڑکنوں کا راز زاویار کی نظروں نے پکڑ لیا ہو۔
ہال کے ایک کونے سے ہلکی سی پیانو کی آواز آ رہی تھی، اور کاغذ کی خوشبو اُن کے درمیان گھل رہی تھی۔
زاویار نے دھیرے سے ایک اور کتاب اُٹھائی اور مسکرا کے بولا:
"شاید مجھے تمہاری کہانی کا شریکِ مصنف بن جانا چاہیے۔"
دُرفشاں نے ہلکی سی ہنسی روک کر کہا:
"شریکِ مصنف؟ یا پھر بس ہر صفحے پر اپنا نام لکھوانا چاہتے ہو؟"
زاویار اُس کے قریب ایک قدم بڑھا کر بولا:
"نام لکھوانا تو چھوڑو… میں تمہارے ہر لفظ میں اپنا احساس چھوڑنا چاہتا ہوں۔"
اُن کی بات کے بعد ایک لمحہ ایسا آیا جو نہ کتاب کا حصہ تھا، نہ کہانی کا… بس دلوں کا
دُرفشاں نے اُس کی بات کا جواب نہ دیا، بس ایک ناول اُٹھا کر ڈھیر میں رکھنے لگی۔
زاویار نے ذرا شوخی سے کہا:
"ویسے تمہاری کہانی میں میں ہیرو ہوں یا ضمنی کردار؟"
دُرفشاں نے ذرا سوچ کر مسکراتے ہوئے کہا:
"ابھی تو تم مختصر کردار پر ہو… دیکھتے ہیں اگلے باب میں ترقی کرتے ہو یا کہانی سے کٹ جاتے ہو۔"
زاویار ہنس پڑا:
"مطلب مجھے اپنا وقت بڑھانے کے لیے تم پر سرمایہ کاری کرنی پڑے گی؟"
دُرفشاں نے ذرا سا سر جھکا کر کہا:
"وقت نہیں… دل کا وقت۔"
زاویار نے سر ہلا کر کہا:
"سودا پکا… اب میں تمہاری کہانی کا مستقل کردار ہوں۔"
اُس وقت دونوں ہنس دیے… لیکن اُن کی آنکھوں میں وہ ہلکی سی چمک تھی جو صرف سچے جذبات میں ہوتی ہے۔
اسٹال کے ایک کونے میں بہت ساری کتابوں کا ڈھیر تھا جو ذرا سا ہل رہا تھا۔
دُرفشاں نے ایک کتاب کھینچنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن ڈھیر ذرا سا گرنے لگا۔
زاویار فوراً آگے بڑھ کر ایک ہاتھ سے کتابیں سنبھال لیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے کاندھے کو ہلکے سے چھو کر کہتا ہے:
"خیال رکھو… تم گر گئیں تو میں تمہیں اُٹھانے سے پہلے تم پر لیکچر دے دوں گا۔"
دُرفشاں ہلکا سا ہنس کر کہتی ہے:
"لیکچر؟ تم استاد بن گئے ہو کیا؟"
زاویار ذرا پاس ہو کر دھیرے سے کہتا ہے:
"صرف تمہارا… اور مضمون ہے 'تم'۔ کلاس کب شروع کرنی ہے؟"
دُرفشاں شرماتے ہوئے سر جھکا لیتی ہے:
"کلاس تو پہلے سے چل رہی ہے… اور تم امتحان میں کامیاب ہو رہے ہو۔"
دونوں کے بیچ ایک پل کو وہ خاموشی پھر آ جاتی ہے… جو نہ شور ہے نہ دوری، بس دل کی ہلکی سی دھڑکنوں کا ساتھـ
ایونٹ ختم ہو گیا تھا ایونٹ ختم ہوتے ہی اسٹال بند ہونے لگا تھا"
دُرِفشاں نے کتابیں ترتیب سے رکھی اور اپنا بیگ اُٹھا لیا۔
زاویار نے بےساختہ کہا:
"میں تمہیں چھوڑ آؤں؟"
دُرِفشاں نے سر ہلا دیا:
"نہیں… بس اسٹاپ قریب ہی ہے۔ ویسے بھی تمہیں کام ہوگا۔"
زاویار نے ذرا ناگواری سے کہا:
"کام تو روز ہوتا ہے… تم روز نہیں ملتیں۔"
دُرِفشاں نے صرف ایک ہلکی سی مسکراہٹ دی اور چل پڑی۔
گیٹ تک پہنچتے پہنچتے اُس کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا… جیسے آج کا دن ڈائری کے ایک نئے صفحے پر لکھ دیا گیا ہو۔
بس کی ونڈو سیٹ پر بیٹھ کر اُس نے کالج کا صحن دیکھا، جہاں کچھ دیر پہلے وہ اور زاویار ایک اسٹال کے پیچھے کھڑے تھے۔
ہوا میں اب بھی کاغذ کی خوشبو اور اُس کی باتوں کی گرماہٹ تھی۔
گھر کا دروازہ کھولا تو اندر کی خاموشی حسبِ معمول تھی… مگر آج وہ خاموشی کچھ ہلکی سی محسوس ہو رہی تھی۔
گھر کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ مانوس سی خاموشی اُس کے کانوں میں گنگنانے لگی۔
لِونگ روم میں وہی پرانا صوفہ، کونے میں رکھا کافی ٹیبل، اور دیوار پر اب بھی اُس کے والد کی مسکراتی تصویر…
دُرِفشاں نے ایک پل کے لیے تصویر کی طرف دیکھا… جیسے اُن کی آنکھوں سے بات کر رہی ہو۔
بیگ صوفے پر رکھ کر وہ کچن میں چلی گئی، پانی کا گلاس بھرا۔
ٹھنڈا پانی ہونٹوں تک آیا، مگر دل میں ایک اجنبی سی گرمی تھی — شاید زاویار کی باتوں کا اثر۔
اپنے کمرے میں جا کر اُس نے ڈائری کھولی… قلم اُٹھایا…
اور لکھا:
*"ماما… بابا…
آج پھر آپ بہت یاد آئے۔ کالج میں ایک لمحہ ایسا آیا جب لگا کاش آپ ہوتے… میں آپ کو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں سنا پاتی۔
بابا، آج ایک عجیب سا دوست ملا… پتا نہیں دوست کہنا چاہیے یا کہانی کا کوئی نیا کردار۔ آپ ہوتے تو شاید ہنس کے کہتے، 'دیکھ بیٹا، زندگی صرف دکھ کا نام نہیں ہوتی۔'
ماما… آپ ہوتیں تو اپنے ہاتھ کا حلوہ بنا دیتیں… اور کہتیں، 'دل کی گھبراہٹ کو میٹھا ضروری ہے۔'
اور ہاں ایک بات اور…
وہ جب بات کرتا ہے نا، تو لگتا ہے جیسے لمحے رک جاتے ہیں۔ میں کیسے سمجھاؤں… شاید اس کی باتوں میں ایک ایسا سکون ہے جو صرف دعاؤں میں ملتا ہے۔
پتا نہیں ماما… بابا… یہ کہانی آپ کی دعاؤں کا حصہ ہے یا صرف ایک چھوٹی سی
ملاقات کا سلسلہ۔
وہ یہ لکھ کر سو جاتی ہے۔۔۔۔۔
اگلے دن کالج میں زاویار لائبریری میں آتا ہے، جہاں دُرفشاں میز پر بیٹھی نوٹس لکھ رہی ہوتی ہے۔
زاویار: "مجھے بھی تھوڑی جگہ دو گی یا تمہاری کتابیں تم سے زیادہ پوزیسِو ہیں؟"
دُرفشاں: "میری کتابیں مجھے سمجھتی ہیں… تم سمجھ پاؤ گے؟"
زاویار ہنس کر بیٹھ جاتا ہے: "مجھے لگا میں ڈکشنری ہوں… تمہارے ہر لفظ کا مطلب مجھے پتا ہے۔"
دُرفشاں: "اور مجھے لگا تم اسپیلنگ مسٹیک ہو… ضرورت ہو تو ہی سدھارنا پڑتا ہے۔"
وہ دونوں ہنسنے لگتے ہیں، لیکن میز کے نیچے زاویار کا پاؤں اُس کے پاؤں کو ہلکے سے چھوتا ہے… ایک چھوٹا سا کرنٹ دونوں کے دل میں دوڑ جاتا ہے۔
کالج کے بعد جب وہ باہر نکلتی ہے تو بارش ہو رہی ہوتی ہے۔
دُرفشاں اپنا دوپٹہ سر پر ڈال کر چلتی ہے، زاویار ہاتھ میں چھتری لیے اُس کے پاس آتا ہے۔
زاویار: "تم بارش میں لکھ سکتی ہو؟ میں تمہیں ایک چیپٹر کا آئیڈیا دیتا ہوں۔"
دُرفشاں: "بارش میں صرف بھیگتے ہیں، لکھتے نہیں۔"
زاویار: "پھر تو مجھے تمہیں بھیگتے ہوئے دیکھ کر لکھنا پڑے گا۔"
وہ اُس کے ساتھ چھتری شیئر کرتا ہے، لیکن ہلکی ہوا سے دونوں کے کندھے بھیگ جاتے ہیں۔
دُرفشاں کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکان آتی ہے، اور زاویار اُس لمحے کو یادگار بنانے کے لیے اُس کے کانوں میں دھیرے سے کہتا ہے:
"تم میری دعا کا وہ حصہ ہو جو کبھی بادل سے ٹکرا کے واپس نہیں آتا۔"
زاویار اسے گھر ڈراپ کر دیتا ہے۔۔۔۔
کچھ ہفتوں بعد، کالج آڈیٹوریم میں ایک لٹریچر ایونٹ ہوتا ہے۔
زاویار اسٹیج پر جا کر اپنی تقریر کے بیچ میں رُکتا ہے اور ایک ڈائری کھولتا ہے۔
اس میں دُرفشاں کے نام ایک چھوٹی سی کہانی ہوتی ہے، جس میں وہ لکھتا ہے:
"ایک لڑکی تھی جو خاموشی میں جیتی تھی… اور ایک دن اُس کی کہانی میں ایک لڑکا آیا جو ہر صفحے پر مسکان کا ایک لفظ لکھ گیا۔ آج میں اُس لڑکی سے پوچھتا ہوں… کیا میں تمہاری کہانی کا ہمیشہ کا شریکِ مصنف بن سکتا ہوں؟"
پوری آڈیئنس کے سامنے وہ ایک انگوٹھی نکالتا ہے۔
دُرفشاں شرماتے ہوئے اسٹیج پر آتی ہے، ہنس کر کہتی ہے:
"چیپٹر مکمل… اب اگلا حصہ شروع کرو۔"
اسٹیج سے نیچے آتے ہوئے زاویار نے اس کا ہاتھ زور سے نہیں، مگر ایک یقین کے ساتھ تھام لیا۔
دُرِفشاں نے دھیرے سے کہا:
"سب دیکھ رہے ہیں…"
زاویار مسکرا کر جواب دیتا:
"تو کیا ہوا؟ آج سے تم میری ہو… دنیا دیکھ لے۔"
ایونٹ کے بعد جب وہ دونوں باہر نکلے، بارش کا ہلکا سا جھونکا ان کے چہروں کو چھو گیا۔
زاویار نے کہا:
"یاد ہے تم نے کہا تھا… بارش میں صرف بھیگتے ہیں، لکھتے نہیں؟"
دُرِفشاں ہنس کے بولی:
"ہاں، تو؟"
زاویار:
"میں نے فیصلہ کیا ہے… اپنی کہانی کا اگلا باب بارش میں لکھیں گے۔"
وہدونوں پارکنگ تک چلتے گئے۔
دُرِفشاں نے ہلکی سی شکایت کی:
"کپڑے خراب ہو جائیں گے۔ …"
زاویار نے حسن بھری شوخی میں کہا:
"کپڑے سوکھ جائیں گے… مگر یہ لمحہ ہمیشہ بھیگا رہے گا۔
بارش والے دن کے بعد جیسے وقت نے دوڑ لگا دی۔
کچھ ہی مہینوں میں زاویار کے گھر والوں نے باضابطہ دُرِفشاں کا ہاتھ مانگ لیا۔
زاویار نے اپنے دل میں طے کر لیا تھا کہ اب بات آگے بڑھانی ہے۔
وہ اپنے والد کے ساتھ دُرِفشاں کے گھر گیا۔
ڈرائنگ روم میں ہلکی سی چائے کی خوشبو تھی، اور سامنے دُرِفشاں کے ماموں ایک سنجیدہ لیکن مہربان چہرے کے ساتھ بیٹھے تھے۔
زاویار نے ادب سے سلام کیا، پھر ہلکا سا رُکا…
"انکل… میں آج ایک ایسی بات کے لیے آیا ہوں جو زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہے ,۔ ,,,
میں… دُرِفشاں کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔"
ماموں نے پہلے کچھ پل چُپ رہ کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا، جیسے اُس کی باتوں میں سچائی تلاش رہے ہوں۔
"بیٹا… یہ فیصلہ صرف تمہارا نہیں، اُس کا بھی ہے… تم دونوں کا۔
دُرِفشاں ہماری امانت ہے… اور میں چاہتا ہوں کہ اُس کا ہر کل تمہارے ساتھ محفوظ ہو۔"
زاویار نے دل سے کہا:
"انکل، میں وعدہ کرتا ہوں… میں اُس کی زندگی کا ہر دن ایک دعا کی طرح جئیوں گا۔"
اُس وقت دُرِفشاں کچن کے دروازے کے پیچھے خاموش کھڑی سب کچھ سُن رہی تھی…
اُس کے ہونٹوں پر ایک ہلکا سا آنسو بھرا مسکراہٹ تھی — جیسے اُس کا دل کہہ رہا ہو،
"ماما بابا… آپ کی دعائیں اب پوری ہو رہی ہیں۔"
اس کا جواب دیتے ہوئے اس کے ماموں، جو برسوں سے اس کے سرپرست تھے، مسکرا کر بولے:
"ہماری بیٹی ہمارے لیے سب کچھ ہے… اگر یہ راضی ہے، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔"
زاویار نے بعد میں دُرِفشاں سے کہا:
"تمہیں پتا ہے، یہ سب تمہاری دعا کا اثر ہے۔"
دُرِفشاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
"میری دعا میں تم کہاں سے آ گئے؟"
زاویار نے شوخی سے کہا:
"تم بھول رہی ہو… تم نے مانگا تھا کوئی آئے جو تمہاری کہانی میں مسکراہٹ لکھ دے۔"
دُرِفشاں کی ماموں کی بیوی (موماںی) اسے ہلکے ہلکے چھیڑتے ہوئے کہتی ہیں:
"اب تمہاری چائے بنانے کی ڈیوٹی شروع… دلہن کو تو پریکٹس ہونی چاہیے۔"
زاویار کونے میں مسکرا کر کہتا ہے:
"مجھے تو چائے سے زیادہ تمہاری مسکراہٹ چاہیے۔"
دُرِفشاں شرما کر دوپٹہ سنبھال لیتی ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے دو ہفتے گزر گئے
زاویار اور دور فشاں کی ڈھولکی کا دن۔
پیلے رنگ کی فیری لائٹس سے سارا ہال جگمگا رہا تھا۔ لڑکیوں کی ہنسی، تالیاں اور ڈھولک کا ’’تھپ تھپ‘‘ مل کر ایسا ماحول بنا رہی تھیں جس میں بس شور ہی شور تھا۔
دُرِفشاں ایک کونے میں بیٹھی تھی، پیلا لہنگا پہنے، بال کھلے کرل اسٹائل میں اور سامنے اُس کی سہیلیاں گا رہی تھیں:
"مہندی ہے رچنے والی… ہاتھوں میں گہری لالی…"
اتنے میں، بیچوں بیچ زویار کی چھوٹی بہن مائیک پکڑ کر بول اٹھی:
"دُرِفشاں! اپنے دلہا کا نام زور سے لو!"
پورا ہال "اووووو" کی آواز کے ساتھ شور مچانے لگا۔ دُرِفشاں شرما کر بولی:
"میں کیوں لوں؟ دلہا خود آ کر لے لے!"
جتنا شور مہندی میں ہو رہا تھا، اُس کا آدھا زویار کی انٹری پر ہوا۔ وہ بلیک کُرتا اور ویسٹ کوٹ پہنے آیا، اور بس آنکھوں میں وہ پُراعتماد مسکراہٹ لیے۔
سب لڑکیاں چھیڑتے ہوئے کہنے لگیں:
"جیجا جی… آپ اپنی دلہن کو ایک گانا ڈیدیکیٹ کریں!"
زویار نے ہلکا سا مسکرا کر کہا:
"میں گانا نہیں… سیدھا شادی کا کارڈ ڈیدیکیٹ کرتا ہوں۔"
سب قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ دُرِفشاں کا دل تیز دھڑکنے لگا — یہ آدمی عوام کے سامنے بھی اتنا اسموؤتھ کیسے ہو سکتا ہے؟
زاویار اور دور فشاں کی مہندی کا دن۔
اج مہندی کا دن تھا دُرِفشاں اسٹیج پر سبز اور سنہری لہنگا پہنے بیٹھی تھی، ہاتھوں میں مہندی کا گہرا رنگ سج چکا تھا۔ اُس کی سہیلیاں اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگیں:
"دلہن… ذرا ہمارے دلہے کا نام مہندی میں دکھا دو!"
دُرِفشاں نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی انگلی سے مہندی کے بیچ ایک چھوٹا سا "Z" بنا دیا۔
مگر بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ سہیلیوں نے زویار کو بلا لیا:
"آئیے جیجا جی، دلہن کے ہاتھ پر آپ بھی کچھ لکھیں!"
زویار تھوڑا جھجکتے ہوئے آگے آیا، برش اُٹھایا اور لکھنے لگا — بس اُسی وقت اُس کی کزن نے کان میں کہہ دیا:
"ذرا اُلٹا لکھ دینا، تاکہ دلہن کنفیوز ہو جائے۔"
نتیجہ؟
اُس نے "❤️ فشاں ❤️" لکھ دیا… بس "دُرِ" چھوڑ دیا۔
دُرِفشاں نے دیکھا تو بھنویں اُٹھا کر بولی:
"بس فشاں؟ دُرِ کا دل نہیں ہے آپ کو؟"
زویار ہلکا سا جھک کر بولا:
"دُرِ کا دل تو پہلے ہی میرے پاس ہے… لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔"
سب نے "آہہہ" کہہ کر شور مچا دیا، اور زویار ایک طرف سے ہنس دیا جیسے یہ لائن تو بس چلتی پھرتی اُس کی جیب میں رکھی ہو۔
پھر شروع ہوئی ڈانس بیٹل۔
ایک طرف دلہن کی کزنز، دوسری طرف دلہے کی کزنز۔
گانا بجا: "لندن ٹھمکدا…"
زویار کو زبردستی اسٹیج پر کھینچ لایا گیا۔ اُس نے پہلے ذرا شرمانے کا ڈرامہ کیا، پھر اچانک ایک ایسا اسٹیپ مارا جو پورا ٹک ٹاک اسٹائل تھا۔
دُرِفشاں اتنی زور سے ہنس دی کہ مہندی کا کون نیچے گر گیا۔
آخر میں سب نے کہا:
"اب دلہا دلہن کا سلو ڈانس!"
دُرِفشاں نے احتجاج کیا:
"مہندی پر سلو ڈانس؟ یہ کوئی رول ہے؟"
زویار نے مسکرا کر کہا:
"میں رول بناتا ہوں، تم فالو کرتی ہو۔"
اور ہلکے سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر ایک چھوٹا سا اسپن دے دیا۔
ایک ہفتے بعدـ "
ہال پوری سجاوٹ میں جگمگا رہا تھا۔ لائٹس، پھول، شور شرابہ… اور بیچ میں زویار کی انٹری — سیاہ شیروانی میں، سنہری شال کندھے پر، جیسے کسی اُردو ڈائجسٹ کا ہیرو نکل کر سیدھا شادی ہال میں آ گیا ہو۔
لیکن جیسے ہی ہال کے اندر قدم رکھا… اُس کے دوست چیخ کر بولے:
"اوئے… دُلہا بلش کر رہا ہے!"
زویار نے آنکھ مار کر جواب دیا:
"ابھی تو دلہن دیکھی بھی نہیں… بلش بعد کے لیے بچا کے رکھو۔"
دُرِ فشاں سُرخ و سنہری لہنگے میں، دوپٹے سے آدھا چہرہ چھپائے چل رہی تھی۔ اندر سے دل دھڑک دھڑک، اُوپر سے سہیلیاں کان میں بول رہی تھیں:
"آہستہ چل، ورنہ دُلہا سوچے گا تم اُس کے پاس بھاگ کر آئی ہو۔"
زویار نے پہلی نظر میں دیکھا… اور بس دیکھتا ہی رہ گیا۔
اُس کا دوست کہنی مار کے بولا:
"بھائی، منہ بند کر، ورنہ مکھی اندر چلی جائے گی۔"
زویار نے ہنسی دبا لی، لیکن آنکھیں اُس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔
نکاح کا وقت…
قاضی صاحب: "کیا آپ کو زاویار احمد ولد رفیق احمد کے ساتھ نکاح قبول ہے، حق مہر دس لاکھ سکۂ رائج الوقت…؟"
دُرِفشاں نے اتنی دھیمی آواز میں جواب دیا کہ قاضی صاحب کو دوبارہ کہنا پڑا:
"بیٹے، ذرا اونچا کہہ دو۔"
اس کی سہیلی نے پیچھے سے ہلکا سا چٹکی کاٹی:
"ذرا کانفیڈنٹ ہو جاؤ، تم تو اس کی زندگی کا حصہ بن رہی ہو!"
زاویار کی باری آئی تو اُس نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا:
"قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے۔"
دوست پیچھے سے بول اُٹھے:
"اوئے! ایک ایکسٹرا قبول ہے بول دیا، اس کا ڈبل ٹیکس لگے گا۔"
سب ہنس پڑے۔
نکاح کے بعد رخصتی کا وقت آیا…
زاویار گاڑی میں بیٹھنے کے لیے تیار تھا، لیکن تبھی دُرِفشاں کی سہیلیاں آگے آ کر اُس کا ہاتھ روک کر بولیں:
"جوتے واپس کرو ورنہ دُلہے کو ننگے پاؤں جانا پڑے گا!"
ہال میں سب ہنس پڑے، زاویار نے حیران ہو کر کہا:
"یہ کیا سسٹم ہے؟ میں تو سمجھا تھا جوتی چھپائی صرف فلموں میں ہوتی ہے!"
سہیلیاں ہنس کر بولیں:
"فلم نہیں، ریئلٹی شو چل رہا ہے… اور تم اس کے ہیرو ہو۔"
زاویار نے سر ہلا کر کہا:
"یہ ہیرو بغیر جوتوں کے ہیرو بن جائے گا، پھر تمہیں پوسٹر بھی بدلنا پڑے گا۔"
آخرکار، کچھ بات چیت کے بعد جوتے واپس مل گئے…
لیکن جاتے جاتے زاویار نے دُرِفشاں کے کان میں دھیرے سے کہا:
"اچھا پتا چلا… تمہارے گھر میں شادی کا مطلب صرف دُلہا لوٹنا ہوتا ہے۔"
دوری فشاں ہنس کر کار میں بیٹھ گئی۔
دُرِفشاں نے ہلکی سی مُسکراہٹ کے ساتھ اُس کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولی:
"اور تمہیں شکایت ہے؟ تم تو میری کہانی کا سب سے خوبصورت موڑ ہو۔"
زاویار ہنس کر بولا:
"بس پھر… تم میری کہانی کے ختم ہونے کی وجہ کبھی مت بننا۔"
گاڑی چل پڑی، شور شرابہ پیچھے رہ گیا… صرف دل کی دھڑکنیں ساتھ تھیں۔
اگلے دن ـ
صبح کا وقت تھا۔ دُرِفشاں نے نئی دُلہن والی شلوار قمیض پہنی، ہلکا سا میک اَپ کیا اور سوچا،
"آج پہلا دن ہے… پرفیکٹ امپریشن دینا ہے۔"
کچن میں گئی، چائے بنائی، پراٹھے بیلنے لگی۔
لیکن دل ہی دل میں زویار کا کل رات کا مذاق یاد کر رہی تھی، اور خیالوں میں شکر کی جگہ نمک شکر کے جار میں ڈال دیا۔
ناشتے کی میز پر سب نے پہلا نوالہ لیا۔
زویار نے ڈرامائی سا وقفہ لیا، پھر چمچ رکھ کر بولا:
"واہ بیوی، تم نے تو پراٹھے کو تھرلر بنا دیا… پہلی بائٹ میں ٹوئسٹ!"
دُرِفشاں حیرت سے بولی:
"کیا مطلب؟"
اس کی ساس ہنستے ہوئے بولیں:
"بیٹا، تم بس اِس کے جوکس سننا، کھانا میں بنا لوں گی۔"
زویار نے چائے کی چسکی لی اور زور سے اداکاری کرتے ہوئے بولا:
"یہ چائے نے تو میری زندگی کا ذائقہ بدل دیا… لفظی معنوں میں۔"
چھوٹے دیور نے چٹکی لی:
"بھابھی، یہ نمک اسپیشل تھا یا زویار اسپیشل ایڈیشن؟"
دُرِفشاں نے ہنسی دبا کر کہا:
"اسپیشل تم سب کے لیے تھا… تاکہ پہلے دن سے یاد رہے کہ میں بورنگ دُلہن نہیں ہوں۔"
سب ہنس پڑے۔
زویار نے مذاق میں اپنی ماں سے کہا:
"امی، آج سے میرا بی پی کا علاج شروع کرا دیں… میری بیوی کھانے میں سرپرائز ایلیمنٹس ڈالتی ہے۔"
بعد میں، جب کچن میں اکیلی تھی، زویار آکر اس کے کان میں آہستہ سے بولا:
"پہلے دن ہی مجھے نمک کا اوور ڈوز دے دیا… آگے کیا پلان ہے، آرسینک؟"
دُرِفشاں نے آنکھ دکھائی:
"پلان یہ ہے کہ تم ناشتہ کا مذاق اُڑانے کے بجائے لنچ خود بناؤ۔"
اور اس دن سے سسرال میں ایک اصول بن گیا — دُرِفشاں کے بنائے ہوئے کھانے کے ساتھ زویار کا لائیو کامیڈی شو فری ملے گا۔
"پہلے دن کا نمک… اور زاویار کی مسکان — دونوں کا ذائقہ دُرِفشاں زندگی بھر بھول نہ پائی۔"
"محبت کا اصل مزہ بھی تب ہے… جب زندگی کے نمک بھی میٹھے لگنے لگیں۔"
"...اور یوں، اُن کی زندگی کا ہر دن ایک نیا صفحہ تھا — جہاں خوشبو چائے کی ہوتی. تھی، لیکن مٹھاس ہمیشہ محبت کی ہوتی تھی۔"
زندگی نے اُن دونوں کو کئی رنگوں میں پرکھا تھا — کبھی آنسوؤں کا سفید، کبھی تنہائی کا سیاہ۔
مگر ہر امتحان کے بعد، محبت کا رنگ ہمیشہ زیادہ گہرا ہوتا گیا۔
دُرِفشاں کے لیے زاویار صرف ایک شوہر نہیں، بلکہ وہ دوست تھا جو اُس کی خاموشی سمجھ لیتا تھا،
وہ ہمراز جو بے کلام بھی اُس کے دل کا ہر لفظ پڑھ لیتا تھا۔
اُن کے گھر میں ہنسیاں بھی تھیں، تھوڑا سا طنز و مزاح بھی،
اور کچھ نمکین یادیں… جو کبھی میٹھی لگتی تھیں۔
پہلے دن کا نمک، زاویار کا مذاق، اور دُرِفشاں کی مسکان — یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں تو اُن کی کہانی کا اصلی گیت تھیں۔
اور شاید… کہانیاں تبھی ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،
جب اُن میں نمک کا ایک چٹکی اور محبت کا ایک سمندر ہو۔