رہائی

All Rights Reserved ©

Summary

رہائی خود سے نہیں،خود سے ہوتی ہے ــاور جب یہ رہائی ملتی ہے تو انسان نہ صرف خود کو،بلکہ دوسروں کو بھی آزاد کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
18+

Chapter 1

نکھرے خواب انکھوں میں سجائے، دلوں میں انکہی خواہشات لیے، سنسناتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ شہر کی سڑکوں سے گزر رہے تھے۔

بابا بلے شاہ یہ منظر دیکھ کر رک گئے اور بس اتنا کہا:

" یہ لوگ ازاد ہو کے قید ہیں"

پھر آگے بڑھ گئے۔۔

عبدل دنیا کے گنتی میں تو ایک عام انسان تھا، مگر اصل میں وہ کسی اور ہی دنیا کا باسی تھا۔

ایسی دنیا، جہاں سوالوں کے جواب لفظوں میں نہیں بلکہ خاموشی میں ملتے تھے۔

اس کا تعلق زمین سے کم اور رب سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔وہ دنیا کی بھیڑ میں ایک اکیلا مسافر تھا ــ جس کی منزل اس کی اپنی ذات تھی۔

یہ تلاش ابتدا میں اس کا مقصد نہ تھی، مگر ایک دن زندگی نے اسے ایسا لمحہ دیا جو سب کچھ بدل گیا۔

ایک بزرگ جو راستے سے جا رہے تھے ،رک کر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:

"جسے تم ڈھونڈ رہے ہو وہ کہیں دور نہیں، وہ تمہارے اندر ہے۔۔ بس اسے پانے کے لیے خود کو خود سے رہائی دے دو."


یہ کہہ کر وہ بزرگ آگے بڑھ گئے،مگر عبدل کو سوچوں کی دلدل میں چھوڑ گئے۔

"خود سے خود کو رہائی"ــ یہ ایک ایسا سوال بن گیا جو اس کی سوچوں کا مرکز بن گیا۔

اب یہی تلاش اس کی زندگی کا مقصد بن گئی۔


ایک شب، اس نے خواب میں خود کو سمندر کے کنارے پایا۔

وہاں ریت پر ایک کتاب پڑی تھی، جس کے سرورق پر صرف ایک لفظ لکھا تھا:"رہائی"

نہ عنوان، نہ مصنف،نہ کوئی اور شان۔

جب اس نے وہ کتاب کھولی،تو اندر صرف ایک جملہ لکھا تھا:


"جب زبان پر قفل اور دل میں سکوت ہو جائے، تب وقت کی تحریریں چہرے پر لکھی جاتی ہیں ــ

دنیا انہیں جھریاں کہتی ہیں ــ مگر اصل میں وہ داستان ہوتی ہیں ــ خود سے رہائی کی۔۔