Chapter 1
آغازِ باب اوّل🥀
-------------------------------------------
(بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ)
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت
رحم کرنے والا ہے✨️
_____________________________
🌸
دور تک چھائے تھے بادل اورکہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
_____________________________
سیاہ بادل آسمان کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔
جسم کو لرزا دینے والی ٹھنڈی ہوا چل رہی
تھی۔لوگ گھروں سے نکلتے وقت ہاتھوں میں
چھاتے لیے ہوئے تھے۔ روڈ پر گہما گہمی کا
ساماں تھا۔ہر طرف لوگوں کی ہل چل سنائی
دے رہی تھی۔پرندے شاید پہلے ہی موسم کی
ادا بھانپ گئے تھے اور اپنے گھونسلوں کی طرف
رواں دواں تھے۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ آسماں
سے پانی گرنا شروع ہوگیا۔ہلکی ہلکی بارش
ہونے لگی اور آہستہ آہستہ اس بوندہ باندی نے
دھواں دھار بارش کا رخ اختیار کر لیا تھا۔لوگ
جلدی جلدی اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے
کچھ بارش سے بچنے کی جگہ تلاش کر رہے
تھے۔سڑک پر چلتی گاڑیوں کی رفتار قدرِ آہستہ
ہو گئی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••
وہ گھر کی چھت پر کھڑی اپنی سیاہ لطافت
بھری آنکھوں سے بارش دیکھنے میں
مصروف تھی۔ اگر اس دنیا میں کوئی چیز اس
کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ بارش ہے۔اس
کا ماننا تھا کہ بارش نہ کہ بیرون بلکہ انسان کے
اندرون کو بھی سکون دیتی ہے۔
"اتنے مزے کی بارش میں باہر جایا جائےتو مزہ ہی آ جائے"۔ یہ کہتے ہوئے وہ مسکرائی
"مگر ماما نہیں مانیں گی" یہ سوچتے ہی وہ کچھ اداس سی ہو گئی
"بیٹا کہاں ہو؟ ادھر آؤ اور میری بات سنو"
"جی ماما آئی۔ ایک تو ماما مزہ بھی نہیں لینے
دیتیں"۔ وہ منہ بناتے ہوئے نیچے چل دی۔
۔
۔
۔
۔
دنیا کے کسی کونے میں ایک اسپتال کے کسی
بستر پر ایک وجود پڑا تھا۔اس کا جسم کئی
قسم کی تاروں سے جڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی ایک
مشین کی بیپ سنائی دے رہی تھی جس پر
اس وجود کی دھڑکنیں چند اونچی نیچی سطور
کی سی دکھائی دے رہی تھیں۔اس کے جسم
میں کوئی حرکت نہ تھیں۔ اس کا بےجاں جسم
اسپتال کے بستر پر زندہ لاش کی طرح پڑا تھا۔
صرف مشین پہ چلتی ڈھڑکنیں ہی اس کے زندہ
ہونے کا ثبوت تھیں
ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوا تو ساری نظریں اس
پر جمی تھیں۔
"معزرت۔ ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش
کی مگر شاید مریض خود ہی زندگی سے بیزار
تھا۔۔۔۔"
"آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ڈاکٹر؟" کمرے میں ایک
لرزتی آواز گونجی۔ وہ مریض کی والدہ تھی۔
ڈاکٹر کی بات سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو
آئے اور وہ ایک فقرے کے سوا کچھ بول نہ
سکی۔
"کیا ہوا ہے میرے جگر کے ٹکڑے کو؟" وہ
کپکپاتی آواز میں ایک بار پھر بولیں۔
"مریض قومے میں ہے۔ ہم نے اپنی پوری کوشش کی لیکن خون بہت زیادہ بہنے کی وجہ سے مریض اپنے ہوش کھو بیٹھا۔ اس کی جان بچانے کے لیے جو کیا جا سکتا تھا وہ ہم نے کیا۔ اب آپ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں"
ڈاکٹر ایک روتی ماں کو چھوڑ کر کمرے سے باہر
چلا گیا۔