Chapter 1 وقت مہربان از ۔ قلم عروج ر
کھڑے ہیں وقت کے رستے پہ، بے صدا سے ہم
ہویلیوں کے دریچوں میں خواب سانس لیں
مگر حقیقت کے موسم سے آشنا سے ہم
فصیلِ شہر کے سایوں میں وقت ٹھہرا ہے
مگر یہ جانتے ہیں، نہیں وفا سے ہم
ہماری آنکھ میں قصے ہیں، رتجگوں کے بھی
ہماری ذات میں صدیوں کی داستاں سے ہم
جو لمحہ مہرباں ہو تو زندگی بھی کِھلے
ورنہ گزر گئے صدیوں میں بے نوا سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر رات دن پر غالب آ چکی تھی۔
چاند رخصت ہوا تو سورج اپنی سنہری کرنیں لیے اندرون لاہور کی تنگ و پیچیدہ گلیوں میں جھانکنے لگا۔
یہ روشنی اندرون لاہور کے مغربی حصے تک پھیل گئی، جہاں طویل فصیلوں کے بیچ لال اینٹوں سے بنی ایک پرکشش ہویلی، پوری آب و تاب کے ساتھ، فخر سے سر اٹھائے سنسان گلیوں پر نگاہ ڈال رہی تھی۔
تین میناروں پر مشتمل یہ شاندار عمارت، دیکھنے والے کو یکدم بادشاہوں کے عہد میں لے جاتی۔ سنگِ مرمر کی لمبی سفید راہداریاں اسے اور بھی دلفریب بنا دیتیں۔ ایک جانب جدید گاڑیوں کا کشادہ پورچ تھا، جہاں ایسی نایاب گاڑیاں کھڑی تھیں جن کے دنیا میں صرف دو یا تین ہی نمونے موجود تھے۔
ہویلی کی طویل سنگی راہیں ایسی تھیں کہ جو ان پر پیدل چلتا، جلد ہی ہانپنے لگتا۔ اندرونی راستے اتنے پیچیدہ اور سنسان تھے کہ خوف کے مارے وہاں شاذ و نادر ہی کوئی قدم رکھتا۔ کچھ حصے ایسے بھی تھے جہاں کا داخلہ سراسر ممنوع تھا، اور بڑے بڑے تہ خانے سنسان سناٹوں میں راز سنبھالے بیٹھے تھے۔
ایک طرف گھوڑوں کے لیے بنایا گیا وسیع اصطبل تھا، اور مرکزی صحن کے وسط میں سنگِ مرمر کا فوارہ دن رات پانی بہاتا رہتا تھا۔
الغرض، شاہ ہویلی پانچ ایکڑ پر پھیلی ایک شاندار، طویل اور تاریخ کے اندھیروں میں ڈوبی وجیہہ عمارت تھی—جس کی دیواروں میں صدیوں کی کہانیاں سانس لیتی محسوس ہوتیں۔
ان سب کے بیچ، شاہ سلیمان اپنے کمرے کی گلاس وال کے ساتھ رکھی سرخ مخملی کرسی پر براجمان تھے، ہاتھوں میں تسبیح تھامے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں محو۔
گہرے سرخ اور سیاہ رنگوں سے آراستہ کمرے کا سکوت گہرا اور پُر وقار تھا۔
اچانک سورج کی کرنیں گلاس وال کو چیرتی ہوئیں اندر داخل ہوئیں، جنہوں نے اس خاموش فضا میں ایک نرم سی چمک اور حرارت بھر دی، گویا روشنی نے آ کر کمرے کے سناٹے کو آہستہ سے توڑ دیا ہو۔
اسی دوران، شاہ ہویلی کا طویل لال لکڑی کا دروازہ آہستہ آہستہ چرچراتا ہوا کھلا۔
باہر کھڑی سیاہ گاڑی ہموار انداز میں اندر داخل ہوئی۔ دروازے کے قریب موجود ملازمین نے فوراً سر جھکا کر گاڑی میں بیٹھے شخص کو سلام پیش کیا۔
وہ گاڑی، کسی رازدار کی طرح، ہویلی کی طویل اور سنسان سڑکوں سے گزرتی ہوئی نہ جانے کب پورچ کے عین وسط میں آ کر خاموشی سے رک گئی۔
گاڑی سے اترنے والی شخصیت کا سراپا، نکلتی ہوئی سورج کی کرنوں پر بھی غالب آ گیا۔
اس کے وجود میں ایسا رعب اور وقار تھا کہ نظریں خودبخود جھکنے لگیں۔
وہ، بغیر کسی اعلان یا اطلاع کے، نہ جانے کب ہویلی کے سفید سنگِ مرمر کی طویل اور خاموش راہ داریوں سے گزرتا ہوا سیدھا سلیمان شاہ کے کمرے میں داخل ہو گیا—جیسے یہ محل نما ہویلی اس کے قدموں کی آہٹ پہچانتی ہو۔
کرسی پر بیٹھے شخص کو ہوش تب آیا جب مقابل آ کر اس کی ٹانگوں کے ساتھ سر ٹکائے، سرخ قالین پر خاموشی سے براجمان ہو گیا۔
اس وقت کمرے میں ایک عجیب سی تاریکی تھی۔ بیس فٹ اونچی چھت اور تقریباً تیس فٹ چوڑا یہ کمرہ، سرخ اور سیاہ رنگ کی دیواروں کے باعث ایک انوکھا سا سرور پیدا کر رہا تھا۔ کونے کونے میں مدھم سی سرخ اور زرد روشنی جل رہی تھی، جو اس ماحول کو اور بھی پراسرار بنا رہی تھی۔
سلیمان شاہ نے تسبیح مکمل کی، خاموشی سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
مقابل اب بھی پرسکون تھا—آنکھیں بند، اور چہرے پر تھکن و بے بسی کے ہلکے ہلکے آثار۔ مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ کوئی عام شخص اس کے چہرے سے ان جذبات کو کبھی پڑھ نہ سکتا۔
عجیب انسان تھا وہ۔ نہ جانے یہ اداکاری اس نے کہاں سے سیکھی تھی۔ مانا کہ وقار اور صبر اسے سلیمان شاہ سے ورثے میں ملا تھا، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ ان سے بھی زیادہ پراثر، باوقار اور صبر و سکون کا مجسمہ لگتا تھا۔
سلیمان شاہ نے دعا مکمل کی اور جھیل جیسی آنکھیں کھول کر اس شخص کی طرف دیکھا، جو اب اٹھ چکا تھا اور اپنا کوٹ اتار کر سامنے رکھی سرخ مخملی کرسی کے شانوں پر ڈال رہا تھا۔
"تم آج پھر وہاں گئے تھے…"
ان کی آواز میں غیر معمولی ٹھہراؤ اور صبر تھا۔
کمرے میں لمحہ بھر کی خاموشی چھا گئی۔
چند منٹ بعد، مقابل نے بس ہلکا سا سر ہلایا۔
وہ، اس وسیع سلطنت کا حکمران، آہستگی سے اپنی کرسی سے اٹھا اور جا کر گلاس وال کے قریب کھڑا ہو گیا۔
"تم بخوبی جانتے ہو کہ ہمیں تمہارا وہاں جانا ہرگز پسند نہیں…"
یہ الفاظ بھی اسی ٹھہرے ہوئے لہجے میں ادا ہوئے۔
مقابل نے پاس پڑی شیشے کی میز سے جگ اٹھایا اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگا۔
"میں جانتا ہوں آپ کو میرا وہاں جانا پسند نہیں… مگر شاید آپ نے خود ہی مجھے وقت کی ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے، جن سے میں چاہ کر بھی آزاد نہیں ہو سکتا۔"
اس کی آواز سنجیدہ تھی مگر اس میں ایک پراسرار بھاری پن بھی تھا۔
کمرے میں دوبارہ سکوت طاری ہو گیا۔
سلیمان شاہ اب بھی گلاس وال سے باہر دیکھ رہے تھے، جہاں سورج کی روشنی مزید پھیل چکی تھی اور باغ میں کھلے پھولوں کی خوشبو ہوا میں گھل کر توازن پیدا کر رہی تھی۔
"بھول جاؤ اسے…"
ان کے لہجے میں ایک عجیب سا اطمینان تھا۔
مقابل نے پانی ڈالتا ہاتھ دو لمحوں کے لیے روک دیا۔
"میں سانس لینا بھول سکتا ہوں… میں اس کے لیے اپنی جان دے سکتا ہوں… میں جینا بھول سکتا ہوں… میں اپنی ذات بیچ سکتا ہوں… لیکن اسے بھولنا—یہ میرے اختیار میں نہیں۔"
یہ صبر کی انتہا تھی، مگر بظاہر وہ اب بھی پرسکون دکھائی دیتا تھا۔
اس میں مزید کچھ سننے کی ہمت نہ رہی۔ اس نے کانچ کا گلاس وہیں رکھا، سرخ کرسی کے شانوں سے اپنا کوٹ ایک ادا سے کھینچا اور لمبے لمبے قدموں سے چلتا ہوا اس طویل دروازے سے باہر نکل گیا۔
گلاس وال کے سامنے کھڑا شخص بس ایک گہری آہ بھر کر رہ گیا۔
" کیسا لگا آپ کو مجھے ضرور بتائیے گا "