ہے ہجر درمیاں جاناں قسط 01
ہے ہجر درمیاں جاناں
سعدیہ عابد
رات گہری تھی۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا۔
ایک نئی کہانی جنم لے رہی تھی۔
کچھ نئے کردار صفحہ قرطاس پر بکھر رہے تھے۔
زندگی کی دوڑ میں بھاگتے کچھ وجود۔
کچھ مثبت روحیں اور کچھ منفی!
محبت کے لیے جہت کرتے دل!
ہجر میں پلتی سانسیں!
ہوا کا رخ بدل رہا تھا۔
ایک آہٹ کے ساتھ بہت کچھ بدلتا چلا گیا تھا۔
نئے موسم کی آہٹ دل پر کچھ نقش چھوڑنے والی تھی۔
کچھ پرانے نقش مٹنے والے تھے اور کچھ مزید گہرے ہونے والے تھے۔
رات کی سیاہی دھیرے دھیرے مدھم پڑ رہی تھی۔
صبح کا اجالا شب کی تاریکی کو نگلتا جارہا تھا جیسے ایک یکطرفہ چاہت کی ناکامینے سید تمثیل شاہ کی مسکراہٹ اور خوشیوں کو ہی نگل لیا تھا۔
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں جاناں
میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں ترا نشاں جاناں
عالم بیکران رنگ ہے تو
تجھ میں ٹھہروں کہاں کہاں جاناں
میں ہواؤں سے کیسے پیش آؤں
یہی موسم ہے کیا وہاں جاناں
روشنی بھر گئی نگاہوں میں
ہو گئے خواب بے اماں جاناں
درد مندان کوۓ دل داری
گئے غارت جہاں تہاں جاناں
اب بھی جھیلوں میں عکس پڑتے ہیں
اب بھی نیلا ہے آسماں جاناں
ہے جو پرخوں تمہارا عکس خیال
زخم آئے کہاں کہاں جاناں
شاعر: جون ایلیا
سید تمثیل شاہ بے خوابی کا شکار تھا۔
کروٹیں بدلتے ہی رات ڈھل گئی تھی۔
اذان کی آواز کے ساتھ اس نے بستر چھوڑا تھا اور وضو کرکے نماز ادا کی تھی۔
آج سید تمثیل شاہ کا دل کسی سے بات کرنے کا، کسی سے سامنا کرنے کا بالکل نہیں تھا۔
اس نے موبائل کو سائیلنٹ پر لگایا اور واپس بستر پر دراز ہوگیا۔
دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ دستک ہوئی تھی۔
وہ سوتا بن گیا تھا۔
دستک دوبارہ ہوئی تھی۔ وہ اس مخصوص دستک کو پہنچانتا تھا لیکن آج وہ اپنی ہمرازسے بھی سامنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ اس لیے اس نے دستک دینے والے کو ناکام لوٹ جانےدیا تھا۔
اسے احساس تھا کہ وہ وجود کتنی فکر میں مبتلا ہوگیا ہوگا لیکن اس نے پھر بھی اٹھکر دروازہ نہیں کھولا تھا اور جس وقت اسے ناشتہ کے لیے بلایا جارہا تھا۔ پھر دستک ہوئیتھی اور وہ جسے نظر انداز کرتا آفس جانے کی تیاری کرنے لگا تھا۔
ڈائننگ ہال میں پہنچا تو اسی کا انتظار ہو رہا تھا اور وہ بلند آواز میں سلام کرتےہوئے بولا اور کسی کا بھی جواب سنے بغیر تیزی سے نکلتا چلا گیا تھا۔
"آج میری آنکھ نہیں کھل سکی اور میری بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔ اس لیے مجھےجلدی نکلنا ہوگا۔ ناشتہ میں کلائنٹ کے ساتھ ہی کروں گا۔ اللہ حافظ۔" سید تمثیلشاہ کے اس طرح جانے پر بی جان کے دل پر منوں بوجھ آن گرا تھا۔
"یہ لڑکا راتوں کو سوتا نہیں ہے اور صبح دیر سے جاگنے کا کہتا، ہم سب کو بےوقوف سمجھتا ہے اور خود کو دھوکا دیتا رہتا ہے۔" بی جان نے دل گرفتگی سے سوچاتھا۔
فجر کے وقت دستک بھی بی جان نے ہی دی تھی تاکہ وہ مسجد چلا جائے مگر آج اس نے انکی دستک کو اہمیت نہیں دی تھی جیسے وہ اپنی خوشیوں کو اہمیت دینا چھوڑ چکا تھا۔
______*****_____
”صبح بخیر بی جان!“ انثیٰ حسبِ عادت سلامتی بھیجتی، دادی کو مارننگ وش کر کے انکے سامنے جھکی تھی۔
بی جان نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور پیشانی پر بوسہ دیا تو وہ مسکرا دی۔
”جب آپ پھپھی امی کے گھر چلی جائیں گی، تو میں سب سے زیادہ آپ کو مس کروں گی۔“انثیٰ بیڈ پر بیٹھی تکیہ گود میں رکھتے ہوئے قدرے اداسی سے بولی تھی۔
فاطمہ اپنی پوتی کو دیکھنے لگی تھیں۔ شہابی رنگت، گہری سیاہ جھیل سی آنکھیں، پنکھڑیسے نازک لب، متناسب سراپا۔ وہ قدرت کی رعنائی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ یوں تو ان کیتمام اولادیں اور اولادوں کی اولادیں خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھیں مگر ان سب میںچھوٹی اور لاڈلی پوتی کی خوبصورتی سے تو اکثر وہ سب خائف رہا کرتے تھے کہ اس پر اٹھنےوالی نگاہ پلٹ کر آنے میں کافی وقت لگا جاتی تھی۔ اس لیے وہ سب اس کی خوبصورتی سے کچھخوفزدہ سے رہتے تھے، اس کے کہیں بھی آنے جانے پر سخت نظر رکھتے تھے۔ اسے اول تو کہیںآنے جانے کی اجازت نہ تھی اور جہاں جانے کی اجازت ملتی کوئی نہ کوئی اس کے ساتھ ضرورہوتا تھا کہ سب اس کا نازک آبگینہ کی مانند خیال رکھتے تھے۔ وہ اسکول، کالج ہمیشہ گھرکے کسی فرد کے ساتھ ہی آیا جاتا کرتی تھی اور نائن کلاس سے باقاعدہ گھر سے نکلتے ہوئےچہرہ حجاب سے کور کیا کرتی تھی۔
ویسے بھی ان کے گھرانے میں مذہب کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ مذہبی رسومات اور احکاماتکی خاص پابندی کی جاتی تھی۔ خواتین پردے کا خیال رکھتی تھیں اور لباس انتہائی مناسبپہنا کرتی تھیں۔
اس وقت انثیٰ سیاہ کاٹن کے سوٹ میں اپنی اجلی رنگت کے ساتھ دمک رہی تھی۔ اس کاحسین چہرہ سیاہ دوپٹہ کے ہالے میں چاند کی مانند جگمگا رہا تھا۔
فاطمہ نے پوتی کے چہرے سے ”ماشاءاللہ“ کہتے ہوئے نگاہ ہٹا لی تھی مبادا ان کی نظرنہ لگ جائے۔
”تم نے یہ سیاہ رنگ کیوں پہن لیا، منع کیا تھا نا تمہیں۔“ فاطمہ تسبیح اٹھاتے ہوئےقدرے ناگواری سے بولی تھیں۔
”بی جان! آپ جانتی ہیں نا، یہ رنگ مجھے بہت پسند ہے اور آپ نے کہا تھا میں کبھیکبھی پہن سکتی ہوں اور آج یہ کلر میں نے پورے بائیس دن، اٹھارہ گھنٹے، بارہ منٹ اورگیارہ سیکنڈ بعد پہنا ہے۔“ انثیٰ دادی کی گردنمیں بازو حمائل کرتی ، شرارت سے بولی تھی۔
انثیٰ کی دودھیا رنگت پر سیاہ رنگ کچھ یوں اٹھتا تھا کہ وہ سب خائف ہو جایا کرتےتھے اور اسے نظر نہ لگ جائے اس لیے اس رنگ کو پہننے پر ہی پابندی عائد کر دی گئی تھیاور اسے یہ رنگ اتنا پسند تھا کہ وہ ضد کر کے کبھی کبھی پہننے کی اجازت لینے میں کامیابہو گئی تھی اور اب جب بھی وہ یہ رنگ پہنتی تھی کسی کے بھی ٹوکنے پر یوں حساب کتاب بیانکرتی تھی کہ اگلا بندہ بس مسکرا کر رہ جاتا تھا۔
اس وقت انہوں نے بھی مسکرا کر اس کے سر پر چپت لگائی تھی۔
”شرارتی بلی، حساب کتاب میں زیادہ ہی پکی ہوتی جا رہی ہے۔“
دادی کی بات پر انثی بے ساختہ ہنس دی تھی۔
”آپ لوگ مجھ پر پابندیاں ہی اتنی لگاتے ہیں کہ مجھے حساب کتاب رکھنا پڑتا ہے۔“انثی کے انداز میں شرارت تھی۔
”کالج جانے کا ارادہ نہیں ہے؟“ فاطمہ نے مسکرا کر سوال پوچھا تھا اور وہ فوراًنفی میں گردن ہلا گئی تھی۔
”میں آپ کو ائیرپورٹ چھوڑنے جاﺅں گی۔“ انثی نے کالج نہ جانے کی وجہ بیان کی تھی۔
”ضرورت نہیں ہے، مجھے ائیرپورٹ چھوڑنے صرف احسان جائے گا۔ تم کالج جاﺅ۔“ دادی کاصاف انکار انثی کو ہرٹ کر گیا تھا۔ اس کی خوبصورت آنکھیں آنسوﺅں سے لبریز ہو گئی تھیں۔
”مجھے سمجھ نہیں آتا، آپ سب لوگ میرے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ میرے ساتھ جانےمیں آخر برائی کیا ہے؟۔“ انثی سوں سوں کرنے لگی تھی۔
”برائی کوئی نہیں ہے، میں صرف ایک ہفتہ کے لیے پنڈی جا رہی ہوں۔ تمہارے کالج کیچھٹی کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔“ فاطمہ گہری سنجیدگی سے بولی تھیں اور وہ محض ایکنظر دادی پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
”میں تو کبھی کالج کی چھٹی نہیں کرتی۔ آج کر لیتی تو کوئی حرج نہیں ہوتا مگر آپسب لوگوں کو پسند ہی نہیں ہے کہ میں کہیں جاﺅں۔ پتہ نہیں کیوں اللہ نے مجھے اتنا خوبصورتبنا دیا کہ میں کھل کر سانس تک نہیں لے سکتی۔“ انثی کے آنسو گلابی رخساروں کو تر کرتےجا رہے تھے۔
”انثی بیٹے، خدا کی ناشکری نہیں کرتے۔“ فاطمہ نے فوراً ہی پوتی کو ٹوکا تھا۔
”میں ناشکری نہیں کر رہی بی جان، مگر میں سوچتی ہوں کہ کاش، میں بھی بہت عام سیلڑکی ہوتی تو کھل کر سانس تو لیتی، جہاں دل چاہتا آتی جاتی، میری خوبصورتی تو میریآزادی کی دشمن ہی بن گئی ہے۔“ انثی کتنی دفعہ کی کہی بات آزردگی سے بولتی، آنسو صافکرنے لگی تھی۔ وہ آگے سے کچھ نہیں بولی تھی کہ باقی سب کی نسبت اس پر پابندیاں گر زیادہتھیں تو سبب اس کی بے تحاشہ خوبصورتی تھی اسی لیے وہ دھیرے دھیرے اپنی خوبصورتی سےخائف رہنے لگی تھی جس کا کبھی اظہار کرتی، کبھی دل مسوس کر رہ جاتی تھی۔
انثی نے ایک ناراض نظر دادی پر ڈالی اور ان کے کمرے سے نکل گئی اور وہ قدرے اداسہو گئی تھیں کہ وہ بڑی ہوتی پوتی کو اپنے خدشات کا سبب اور فکر کے مطالب نہیں سمجھاسکتی تھیں کہ اولاد کبھی بھی والدین کی محبت بھری فکر کو سمجھ نہیں پاتی اسی لیے کبھیبدگمان تو کبھی باغی ہو جاتی ہے۔
فاطمہ پوتی کے اچھے نصیبوں کے لیے دعا کرتیں جانے کی تیاری کرنے لگی تھیں۔ ان کیاکلوتی بیٹی راولپنڈی میں رہائش پذیر تھی اور اس کی طبیعت کچھ ناساز تھی اس لیے وہبیٹی سے ملنے کے لیے صبح نو بجے کی فلائٹ سے ایک ہفتہ قیام کے ارادے سے راولپنڈی جارہی تھیں۔
فاطمہ جس وقت اپنی تیاری سے مطمئن ہو کر کمرے سے باہر آئیں، ان کے دل پر یہ جانکر بوجھ آن پڑا تھا کہ ان کی لاڈلی کالج جا چکی ہے۔
فاطمہ پوتی کو پنڈی سے واپسی پر منانے کا ارادہ کرتیں رب کا نام لے کر سفر پر روانہہو گئی تھیں۔
٭....٭....٭
آبریش شمسی گہری نیند میں تھی اور ایک حسین خواب اس کی آنکھوں میں سجا اسے بہتحسین دنیا میں لے گیا تھا۔
"بابا، میں اپنی فورٹینتھ برتھڈے پر آپ سے بہت بڑا سرپرائز ایکسپیکٹ کر رہیہوں۔" آبریش نے اپنے بابا کے ساتھ جھولے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔
"تمھاری سالگرہ میں ابھی پورے چھ دن ہیں اور تم مجھے روز اپنی برتھڈے ایسےیاد کروا رہی ہو جیسے برتھڈے بس کل ہی ہو۔" وحید شمسی نے اپنی باربی ڈول کی چھوٹیسی ناک کھینچتے ہوئے شرارت سے کہا تھا۔
"بابا یاد تو میں اس لیے کرواتی ہوں نا تاکہ آپ میرے لیے ایک بگ سرپرائز ارینجکرلیں۔"آبریش ایسے بولی تھی جیسے وحید شمسی کو اگر بار بار یاد نہ دلایا جاتااور انھیں وقت نہ ملتا تو وہ اس کی برتھڈے پر کچھ بھی خاص نہ کرتے۔
"میں اپنی باربی ڈول کو اس بار ایسا سرپرائز دوں گا کہ میری گڑیا بہت زیادہخوش ہوجائے گی۔" وحید شمسی ہنسے تھے اور آبریش بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہوگئی تھی۔
چھ دن بہت تیزی سے گزرے تھے اور اس کی برتھڈے کا دن بھی آ گیا تھا۔
10 جنوری کی صبح وحید شمسی کام کے سلسلے میں حیدرآباد گئے تھے اور واپسی ابھی تکنہیں ہوئی تھی اور آبریش 10 بجے سے ہی گھر میں چکرانے لگی تھی۔ بار،بار ماں سے پوچھرہی تھی۔ بابا کب آئیں گے۔
"تمھاری سالگرہ کل ہے۔ آج نہیں ہے اس لیے ابھی تم سوجاؤ۔" سدرہ شمسینے بیٹی کو کہا تھا۔
"ماماجان ، 12 بجنے میں صرف 1 گھنٹہ رہ گیا ہے اور بابا ابھی تک گھر بھی نہیںآئے ہیں۔ شاید بھول گئے ہیں مجھے بابا نے سرپرائز دینا تھا۔" آبریش اپنی چھوٹہیسی ناک چڑھا کے بولی تھی۔
"گڑیا، آپ کو صبح اسکول بھی جانا ہے۔ اس لیے آپ کمرے میں جا کے سوجاؤ۔ بابانے تم سے پرامس کیا ہے تو وہ ضرور تمھیں سرپرائز دیں گے اور 12 بجے سے پہلے وہ گھربھی آجائیں گے۔" زرمش نے چھوٹی بہن سے کہا تھا اور وہ چپ کرکے کمرے میں چلی گئیتھی۔
آبریش کی آنکھ شور کی آواز پر کھلی تھی۔ وہ روم سے نکل کر صحن میں آئی تھی۔
جہاں وحید شمسی کی ڈیڈ باڈی رکھی تھی۔
"بابا…"آبریش بھاگی تھی۔
وحید شمسی نے اسے بہت بڑا سرپرائز دیا تھا۔
گھڑی 12 بجا رہی تھی اور اسے کوئی بھی برتھڈے وش نہیں کر رہا تھا۔
اس کی دونوں بڑی بہنیں رو رہی تھیں۔
اس کی ماماجان کو سکتہ ہوگیا تھا۔
اور آبریش چیخیں مارتی، بے ہوش ہوگئی تھی۔
"بابا… بابا۔!"آبریش نیند میں باپ کو پکار رہی تھی۔
چیخ مار کے اٹھ بیٹھی تھی۔
اس کی آوازوں پر زرمش کی آنکھ کھل گئی تھی۔
"کیا ہوا ہے آبریش ، کیا کوئی برا خواب دیکھا ہے۔" زرمش نے بہن کا ہاتھتھاما تھا۔
آبریش بہن کو دیکھنے لگی تھی۔
"خواب تو بہت خوبصورت تھا آپی، حقیقت بہت بھیانک ہے۔"آبریش رو رہی تھی۔
زرمش نے اسے خود سے لگا لیا تھا۔
"بابا آئے تھے میرے خواب میں، کہہ رہے تھے وہ میری ایٹینتھ برتھڈے پر مجھےسرپرائز دیں گے۔ آپی بابا سے کہہ دیں مجھے ان کا 4 سال پہلے کا سرپرائز بھولا نہیںہے۔ مجھے اب کوئی سرپرائز نہیں چاہیے۔ مجھے سرپرائز لفظ سے وحشت ہوتی ہے۔ مجھے سرپرائزپارٹی سے خوف آتا ہے۔ مجھے سرپرائز گفٹ سے ڈر لگتا ہے۔ بابا سے کہیں آپی، مجھے اب سرپرائززاچھے نہیں لگتے۔ مجھے اب کوئی سرپرائز نہیں چاہیے۔"آبریش بہن کے سینے سے لگی بریطرح بلک رہی تھی۔
آبریش کی جیسے ہی برتھڈے قریب آتی تھی۔ وہ ایسے ہی خوف زدہ ہوجاتی تھی۔
سوتے میں ڈر جاتی تھی۔
بیٹھے بیٹھے رونے لگتی تھی۔
آج 10 جنوری تھی۔
وہ خواب دیکھ کے ڈر گئی تھی۔
اسے چپ کروانا زرمش سے بہت مشکل ہوگیا تھا۔
آبریش روتے روتے بے ہوش ہوگئی تھی۔
رات تک اسے تیز بخار ہوگیا تھا۔
12 بجتے ہی وہ چیخیں مارنے لگی تھی۔
آبریش کی حالت بہت خراب تھی۔
وہ تینوں ماں بیٹیاں اسے سنبھال رہی تھیں۔
دوپہر میں گھر میں قرآن خوانی تھی۔
"ماماجان، میں 18 سال کی ہوگئی ہوں اور بابا کو گئے 4 سال نہیں 4 صدیاں ہوگئیہیں۔ بابا کی برسی ہے نا آج اور بابا رات خواب میں کہہ رہے تھے مجھے سرپرائز دیں گے۔مجھے نہیں چاہیے سرپرائز۔ بابا سے کہیں نا وہ واپس آجائیں۔ مجھے اب کوئی سرپرائز نہیںچاہیے۔"آبریش ماں کے گلے لگتی، رو رہی تھی۔
سدرہ شمسی بیٹی کو سنبھالتیں، اپنے آنسو پونچھ گئی تھیں۔
_______*****________
سید عرشمان شاہ کے چہرے پر جیسے ہی دھوپ نے دستک دی تھی اس کی نیند کا تسلسل کچھبکھر سا گیا تھا۔ اس نے قدرے جھنجھلا کر تکیہ منہ پر رکھ لیا تھا کہ اس کا فی الحالجاگنے کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر اس کا ارادہ دروازے پر ہونے والی دستک کی نذر ہو گیاتھا۔ اس نے پے درپے ہونے والی دستک پر ناچار اٹھ کر دروازہ کھولا تھا۔ جانتا تھا کہآج اس کی شامت آنے والی ہے گر دروازہ نہ کھولا تو اس متوقع شامت کی امید سو گنا بڑھجائے گی۔
دروازے پر خلاف توقع بی جان کو دیکھ کر وہ ان سے لپٹ گیا تھا۔
”بی جان! آپ کب آئیں؟“ سید عرشمان شاہ کے انداز میں والہانہ پن تھا اور اس کے برعکسفاطمہ گہری سنجیدگی سے اسے پیچھے دھکیل گئی تھیں۔ چہرے پر بھی گہری سنجیدگی تھی۔
”تمہیں کیا، میں کبھی بھی آﺅں۔ تم تو اپنی نیندیں پوری کرو۔“ فاطمہ کے انداز میںغصہ بھی تھا، خفگی بھی جسے محسوس کرتا سید عرشمان شاہ بہت اچھے بچوں کی طرح کان پکڑگیا تھا۔
”معذرت بی جان۔ ذہن سے ہی نکل گیا تھا کہ آپ کی آج صبح واپسی ہے۔“ سید عرشمان شاہنے بہت معصومیت سے کہا تھا مگر دوسری جانب اثر نہیں ہوا تھا۔ فاطمہ اپنے نٹ کھٹ، بدتمیزپوتے کی معصومیت کے راز سے بھی واقف تھیں۔ بس ایک نظر اس پر ڈالتیں پلٹ گئی تھیں۔
”بی جان، سوری نا.... پکا آئندہ یاد رکھوں گا۔“ سید عرشمان شاہ دادی کو کاندھوںسے تھام کر معصومیت سے ملتجی ہوا تھا۔
”جو یاد رکھنا چاہیے، جب وہ یاد نہیں رہتا تمہیں تو تم سے کیا امید رکھیں کہ تمزندگی کے معمولی معاملات کو یاد رکھو گے کہ خاص معاملات، فرائض تو تمہیں یاد نہیں رہتے۔“فاطمہ کا اپنا مخصوص انداز تھا اور وہ بے طرح شرمندہ ہو گیا تھا۔
”فجر کی قضا پڑھے بغیر ناشتہ کی ٹیبل پر مت آنا اور یاد رکھنا کہ یہ تمہیں لاسٹوارننگ ہے۔ کل تم نماز کے لیے خود سے نہیں اٹھے تو تمہیں ناشتہ ہی نہیں ملے گا۔“ فاطمہگہری سنجیدگی سے بت بنے پوتے کو تنبہیہ کرتیں سیڑھیاں اترنے لگی تھیں۔ وہ اس عمر میںبھی کافی چاق و چوبند تھیں۔
سید عرشمان شاہ نے ایک گہری سانس کھینچی تھی اور دروازہ بند کر دیا تھا۔
”اف! ایک تو بی جان اور داجان کو بھی لگتا ہے وحی نازل ہوتی ہے۔ یہاں میں نے نمازچھوڑی، وہاں فرشتہ حاضر۔“ سید عرشمان شاہ بڑبڑاتا ہوا واش روم میں گھس گیا تھا۔ اسےناشتہ سے اتنی رغبت نہ تھی کہ وہ اس کی فکر میں الرٹ ہو جاتا، مگر اسے بی جان کی ناراضگیکی بہت فکر رہتی تھی کہ اس کی اپنی فیملی میں خاص بی جان میں تو اس کی جان بستی تھی۔اس لیے اس نے شاور لے کر فجر کی قضا ادا کی تھی اور ڈائننگ ہال میں چلا آیا تھا جہاںتقریباً آٹھ ، نو افراد موجود تھے اور اسی کا انتظار ہو رہا تھا۔ اس نے باآواز بلندسلامتی بھیجی تھی اور اپنی مخصوص چیئر پر براجمان ہو گیا تھا۔ اسے کتنی ہی خشمگیں نگاہیںمحسوس ہوئی تھیں مگر اس نے پرواہ نہ کی تھی اور ناشتہ کرنے لگا تھا کہ یہ سب ہر دوسرےروز کا معمول تھا۔ وہ باقی چار نمازیں تو پھر بھی پڑھ لیا کرتا تھا مگر فجر کی نمازکے لیے اٹھ نہیں پاتا تھا اور یہیں سے خرابی ہوتی تھی کہ ان کا گھرانہ نہایت دین داراور مذہبی تھا۔ اللہ کے احکامات اور نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کیجاتی تھی اور نماز کی پابندی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ جہاں کسی نے نماز چھوڑی وہیںاس کا کھانا بند کہ سید عثمان شاہ کی یہ سختی سے ہدایت تھی اس لیے اس نے بچپن سے یہیماحول دیکھا تھا اور وہ اس کا عادی بھی تھا مگر فجر کی نماز میں اٹھنا کچھ سال پہلےتک مشکل اور اب مشکل ترین ہوتا جا رہا تھا کہ حال ہی میں اس کا شہر کے بہترین میڈیکلکالج میں ایڈمیشن ہوا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ دیگر مصروفیات اس کی روٹین میں بگاڑ کا سبببننے لگی تھیں۔ وہ گھر کا واحد فرد تھا جو سب کے عتاب کا نشانہ بنا کرتا تھا کہ وہسب سے چھوٹا تھا۔ لاڈ پیار میں اکثر اسے چھوٹ دے دی جاتی تھی مگر سید عثمان شاہ اسےحد سے تجاوز کرنے کبھی نہیں دیتے تھے۔
ناشتہ بڑی خاموشی سے کیا گیا تھا اور ناشتہ کے بعد سب حسبِ معمول اپنے اپنے کمروںمیں چلے گئے تھے کہ کسی نے آفس ، کسی نے جامعہ اور کالج جانا ہوتا تھا۔ وہ اٹھا تھاکہ امو جان (سیدہ آسیہ شاہ) نے روک لیا تھا اور اسے نرمی سے سمجھانے لگی تھیں کہ انہیںآج صرف چھوٹے لاڈلے بیٹے کی وجہ سے سسر سے ڈانٹ پڑی تھی مگر آسیہ نے فی الوقت نہ اسڈانٹ کا اثر بیٹے پر انڈیلا تھا ، نہ ہی ڈانٹ ڈپٹ سے کام لیا تھا کہ وہ کافی نرم مزاجہر کام بہت تحمل و بردباری سے انجام دینا پسند کرتی تھیں۔
تابش نے شرمندگی سے ماں کو دیکھا تھا اور وعدہ کر کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھااور آسیہ مطمئن ہو گئی تھیں۔ یہ جانے بغیر کہ آگے صرف اپنے لاڈلے کی وجہ سے وہ اوران کی پوری فیملی کتنی ہی پریشانیوں کا شکار ہونے والی ہے ۔
٭....٭....٭
سید عثمان شاہ کا تعلق سادات گھرانے سے تھا۔ ان کی تین اولادیں تھیں، دو بیٹے اورایک بیٹی۔
سیدسبحان شاہ سب سے بڑے تھے اور ان کی شادی ان کی پھپھی زاد آسیہ سے ہوئی تھی اوران کی تین اولادیں تھیں۔ سید تمثیل شاہ، سید عرشمان شاہ اور سیدہ انثی شاہ دونوں بھائیوںسے چھوٹی تھی۔
سید سبحان شاہ سے چھوٹے سید احسان شاہ تھے۔ ان کی شادی خالہ زاد کلثوم سے ہوئیتھی۔ ایک بیٹی سیدہ منیٰ شاہ تھی اور بہن سے چھوٹا سید شہر یار شاہ تھا۔
دونوں بھائیوں سے چھوٹی سیدہ ہادیہ شاہ جس کی شادی اپنے بابا کے دوست کے بیٹے سیدمحسن ہاشمی سے ہوئی تھی اور وہ بیاہ کر راولپنڈی چلی گئی تھی اور ان کے دو بچے تھے۔سید احسن ہاشمی اور سیدہ نشاط ہاشمی ان کی چھوٹی بیٹی تھی۔
سید عثمان شاہ کا اپنا لیدر کا بزنس تھا۔ سید تمثیل شاہ نے ایم ایس سی کیا تھااور حال ہی میں دادا کا بزنس جوائن کیا تھا۔
سید عرشمان شاہ میڈیکل کے فائنل ائیر جبکہ انثی فرسٹ ائیر کامرس کی اسٹوڈنٹ تھی۔
منیٰ نے بی اے کیا تھا اور تقریباً گیارہ ماہ قبل اس کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئےاس کی شادی پھپھی زاد سید احسن ہاشمی سے ہو گئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتےتھے اور ان کی محبت کو نصیب ہونے والا وصل کسی کے نصیب میں ہجر لکھ گیا تھا۔ وہ اسسے انجان بہت خوش تھے۔
شہر یار جامعہ کراچی میں انگلش لٹریچر کا طالب علم تھا اور یہ اس کا لاسٹ سیمسٹرچل رہا تھا۔
سب اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے، سب کی اپنی مصروفیات تھیں۔
دونوں بھائی مشترکہ خاندانی نظام کے تحت رہتے تھے اور گھر میں سید عثمان شاہ کافیصلہ و رائے حتمی سمجھی جاتی تھی جو اصولوں کے پکے اور دین پر سختی سے عمل پیرا ہونےوالوں میں سے تھے۔ گھر کا ماحول کافی مذہبی تھا۔ سب سحر خیزی کے عادی تھے۔ فجر کی نمازسید عثمان شاہ خود مسجد میں پڑھتے تھے۔ اسی لیے ان کے دونوں بیٹے اور پوتے بھی اسیروٹین کے عادی تھے۔ بس ایک سید عرشمان شاہ تھا جو اکثر فجر کی نماز میں غائب ہوتا تھااور دادا کے عتاب کا نشانہ بنتا تھا۔ انہیں سید تمثیل شاہ اور سید شہریار شاہ سے کبھیکسی قسم کی شکایت نہیں ہوئی تھی۔ تمثیل اور شہریار اپنی نیک عادات اور دھیمی فطرت کےباعث دادا کی گڈ لسٹ میں تھے جبکہ سید عرشمان شاہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دادا کی بیڈلسٹ میں شامل ہوتا ان کے فشارِ خون کو بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا۔
٭....٭....٭
جاری ہے