وقت مہربان

All Rights Reserved ©

Summary

وقت کے اس پار قدیم کتابوں کے پیچھے ایسے قصے رائج ہوتے ہے جو بس کتابوں تک ہی محدود ہوتے ہے مگر وقت ان زمین میں گھڑے مدوں کو بھی کھینچ نکالتا ہے وقت آپ کے آگے نہیں وقت آپ کے پیچھے چلتا ہے وقت پیچھے چل کر آپ کی پیٹ پر وار کرتا ہے اس خنجر سے جو آپ کبھی قدیم زمانے میں منو مٹی تھلے گار دیتے ہو اسی طرح سے او وقت مہربان کی دنیا میں لے کر چلو کیونکہ وقت مہربان بھی ہوتا ہے مگر کچھ وقت لیتا ہے

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

باب 01 صدیقی ہاوس


صبح کی سنہری روشنی دھیرے دھیرے لاہور کے جدید اور پُرکشش علاقے ڈی ایچ اے کی کشادہ سڑکوں پر پھیل رہی تھی۔

یہاں کی ہواؤں میں ایک الگ ہی تازگی تھی، جیسے ہر پتی اور ہر عمارت روشنی کو گلے لگا رہی ہو۔

درختوں کی قطاروں سے مزین چوڑی سڑکیں، جن پر شیشے جیسے صاف فٹ پاتھ اور جدید ڈیزائن کے اسٹریٹ لیمپس کھڑے تھے،

ایک نظم و ضبط اور نفاست کا احساس دلاتے تھے۔

ہر طرف جدید طرزِ تعمیر کے گھر، جن کی اونچی دیواروں پر بیلیں اور پھول لہرا رہے تھے،

کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر کا منظر پیش کر رہے تھے۔

شیشے کی چمکدار کھڑکیاں، نفیس رنگوں کے دروازے، اور باغیچوں میں کھلے رنگ برنگے پھول —

یہ سب مل کر اس جگہ کی شان بڑھا رہے تھے۔

ڈی ایچ اے کے چوکوں پر بنی فواروں سے نکلتا پانی دھوپ میں قوس و قزح کے رنگ بکھیر رہا تھا۔

کیفے اور ریسٹورنٹس سے اُٹھتی خوشبو ہر آنے والے کو رُکنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

یہاں کی فضا میں ایک خاموش وقار، ایک جدیدیت کی روشنی اور ایک امن کی مٹھاس گھلی ہوئی تھی۔

یہی وہ جگہ تھی جسے لاہوری محبت سے "لاہور دی اچ آئی" کہتے تھے —

شہر کی شان، جدید زندگی کی پہچان، اور ہر اس شخص کا خواب جو خوبصورت زندگی جینا چاہتا ہو۔

یہاں کی ہواؤں میں ایک الگ ہی تازگی تھی، جیسے ہر پتی اور ہر عمارت روشنی کو گلے لگا رہی ہو۔

درختوں کی قطاروں سے مزین چوڑی سڑکیں، جن پر شیشے جیسے صاف فٹ پاتھ اور جدید ڈیزائن کے اسٹریٹ لیمپس کھڑے تھے،

ایک نظم و ضبط اور نفاست کا احساس دلاتے تھے۔

ہر طرف جدید طرزِ تعمیر کے گھر، جن کی اونچی دیواروں پر بیلیں اور پھول لہرا رہے تھے،

کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر کا منظر پیش کر رہے تھے۔

شیشے کی چمکدار کھڑکیاں، نفیس رنگوں کے دروازے، اور باغیچوں میں کھلے رنگ برنگے پھول —

یہ سب مل کر اس جگہ کی شان بڑھا رہے تھے۔

ان ہی شاندار گھروں میں ایک سفید رنگ کی خوبصورت عمارت بھی تھی،

جسے چاروں طرف سے گھنے درختوں نے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔

دروازے کے ساتھ کھڑی لوہے کی پتھری، جسے سفید رنگ میں نہلا کر

اس پر سیاہ رنگ سے بڑے وقار کے ساتھ "صدیقی ہاؤس" لکھا گیا تھا،

دور سے ہی اپنی پہچان کرواتی تھی۔

یہ عمارت اپنے اندر ایک الگ ہی سرور اور ایک الگ ہی ادا رکھتی تھی۔

تقریباً ساٹھ مرلے پر بڑے سلیقے سے بنائی گئی یہ رہائش گاہ

خوبصورتی میں اپنا ایک منفرد نام رکھتی تھی —

ایک ایسا مقام جو جدید ڈی ایچ اے میں بھی اپنی انفرادیت سے پہچانا جاتا تھا۔

اس کے طویل لان میں عرفان صدیقی اپنی کرسی پر نیم دراز، ہاتھ میں اخبار لیے مطالعے میں مصروف تھے۔

لان کے ایک کونے میں مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا،

جبکہ چند ملازمین صحن اور برآمدے میں جھاڑ پونچھ میں مصروف تھے۔

ایسے میں اگر اوپری پورشن میں جائیں تو وہاں ایک اور منظر تھا—

"ہارس! آج میری پہلی پیشی ہے، دعا کرنا میرا مؤکل باعزت بری ہو جائے۔"

وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو ترتیب دے رہی تھی۔

کانوں میں ائیر پوڈز لگائے، اور ہاتھ میں پکڑے پرفیوم کو خود پر چھڑکتے ہوئے

ایک لمحے کے لیے کمرہ خوشبو سے بھر گیا۔

"اوہ! تو آج وکیل صاحبہ کی پہلی پیشی ہے؟"

فون کے اُس پار موجود شخص کے لہجے میں مسکراہٹ تھی۔

"ہاں، بس دعا کرنا کہ میں کامیاب ہو جاؤں۔

یہ میری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔"

اس کے لہجے میں پُرعزم نرمی تھی۔

"جی جانِ جہاں، اللہ آپ کو کامیاب کرے۔"

مقابل نے پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔

اس نے اسٹینڈ سے لٹکا اپنا سیاہ کوٹ اتارا،

بیڈ پر بکھری فائلیں سمیٹیں،

جن پر اُس نے رات بھر محنت کی تھی۔

"اچھا چلو، میں اب فون رکھتی ہوں، بعد میں بات ہوتی ہے۔"

"جو حکم، وکیل صاحبہ!"

اور فون ایک ہلکی سی ٹک کی آواز کے ساتھ بند ہوگیا۔

وہ اپنی تمام چیزیں سمیٹ کر،

ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی سیاہ گھڑی اُٹھاتی ہے

اور پُراعتماد قدم اٹھاتئ کمرے سے باہر چلی گئ