Humraaz noval
کیا کہا بابا جان میں اس لڑکی سے نکاح کرو جو 13 سال کی ہے بابا جان کیا آپ ہوش میں ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں" 23 سالہ زارون جلال خان اپنی گرج دار آواز کے ساتھ کہتا ہے حویلی میں یک دم سکوت چھا جاتا ہے۔
---
~~~~
عتاب خان لال سرخ آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے سب سے بڑے پوتے اپنے جگر گوشے کو دیکھ رہے تھے جو بپھرے شیر کی ماند دھار رہا تھا جیسے شادی کا نہی گردن کٹوانے کا کہہ دیا ہو۔ "میں زاریہ سے ہی شادی کروں گا بابا سن لیں آپ سب کان کھول دا جی آپ بھی سن لے میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی بھی کروں گا "زارون سب کی انکھوں میں آنکھیں ڈالے بہت کچھ جتا جاتا ہے
گل نورین چھوٹی سی 13 سال کی عمر میں جس کے بابا اس وقت ہسپتال میں موجود زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے اس کی ہستی بستی زندگی یک دم قیامت بن گئی تھی ماں کی فریاد پر اسے نا جانے اب شائد عمر بھر کا ہنر کاٹنا تھا۔ کیا تھا وہ بس اپنی نادانی میں اس سے محبت کر بیٹھی تھی جس کا ذکر اس کے بابا سے کیا تھا بابا بس جانے سے پہلے اسے اس کی خوشیوں سے نوازا چاہتے تھے۔
زارون خان اس کا والد زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے میرے جگری یار میرے جگر گوشے کی شائد آخری خواہش ہے اس نے بہت امید سے مجھ سے کہا ہے اور میں نے بھی اسے زبان دی ہے سن رہے ہو تم تمہارے باپ نے زبان دی ہے اسے اب کی بار زارون کے والد جہانگیرخان خان کی آواز گھونجی تھی جس میں بروقت غصہ اور بے بسی واضع تھی ۔
یہ خان ہاوس کی ایک مزے کی کہانی ہے جس میں کئی راز بھرے پڑے ہے جس کی بنیاد پر اس کہانی کو ہمراز کہا گیا ہے اس سٹوری میں کئی راز کھلنے والے کئی لوگوں کی حقیقتوں کو بیان کیا ہوا ہے مسکراتے لوگوں کے چہروں کے پیچھے کیا غم چھپا ہے وہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کہانی میں کئی لوگوں کی کہانی سچ پر مبنی ہے اس کہانی میں رومانی کہانی کے ساتھ ان لوگوں کی کہانی بھی بیان کی گئی ہے کچھ ان لوگوں کی طرح (جن کو محبت مل جاتی ہے ) اور کچھ وہ لوگ (جن کو محبت نہیں ملتی) ان کی قسمت اچھی نہیں ہوتی ہر کسی کی لائف میں happy ending نہیں ہوتی ۔ ہم اس کہانی میں ان لوگوں کو sad سے happy تک کے سفر کو بھی بیاں کرے گے۔ آگے آگے آپ کو سٹوری زیادہ انٹرسٹنگ لگے گی ابھی بس انٹرو ہی ہے
چہروں پہ ہنسی، دل میں طوفان چھپا ہے
"ہمراز" ہے وہ نام، جس میں ہر راز دبا ہے
محبت ملی جنہیں، وہ بھی ادھورے نکلے
اور جو ترسے، وہ خوابوں میں سوگوار جلے
نہ ہر داستان میں خوشی کا رنگ ہوتا ہے
کبھی سچ بھی آنکھوں میں آنسو بن کے روتا ہے
یہ کہانی صرف پیار کی نہیں، حقیقت کی ہے
جو درد چھپا ہو دل میں، وہ شدت کی ہے
غم سے ہنسی، اور ہنسی سے وفا کا سفر
ہم بتائیں گے "ہمراز" میں ہر لمحے کا اثر
~~~~
Noor business group of industry
ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا یہ اسلام آباد کی ایک بہت بڑی نہی لیکن بہت چھوٹی بھی نہیں درمیانی کمپنیوں میں شامل ہونے والی کمپنی جس میں اس وقت ایک اہم میٹنگ کے بارے میں بات کی جا رہی تھی
"آپ لوگ جانتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ کتنی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اس کے ذریعے نیا راستہ ہموار کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں کسی کی ضرورت ہے جو اس کو لے کر چل سکے۔"
میز پر پڑے کاغذات کے اوپر نظر ڈالتے ہوئے ایک شخص نے کمر سیدھی کر کے کہا، "ہمیں کسی کی ضرورت ہے جو نہ صرف ہنر مند ہو بلکہ کامیابی کی جانب قدم اٹھانے کی جرات رکھے۔"
دروازہ کھلا اور رمل میرا کمرے میں داخل ہوئی۔
اس کی قدموں کی آواز بھی ایک پیغام دے رہی تھی۔ وہ نہ صرف خود اعتماد تھی بلکہ اس کا اسٹائل بھی اس کے پراعتماد انداز کو دکھا رہا تھا۔ وہ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس تھی، پاوں میں ysl کی ہیل ڈالے بلیک براون بالوں میں کرل ڈالے کرسٹل براون انکھوں میں کاجل لگائے جن کو بلیک گلاسز سے کور کئے ہوئے تھی کئی لوگوں کے دلوں میں بجلیاں گرائے ایک پر وقار رعب کے ساتھ چلتی ہوئی داخل ہوئی تھی
"رمل میرا" اس نے خود کو متعارف کروایا۔
پہلے تو سب وہاں اسے دیکھ کر چونکے اخر کون ہو گا جو اسے جانتا نہ ہوگا پاکستان کے مشہور بزنس وومین ۔ ان سب کی انکھوں میں حیرت دیکھتے "میں اس پروجیکٹ کے لیے بہترین انتخاب ہوں گی۔" آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جواب دیتی اور سب کو چونکا دیتی ہے اتنی بڑی بزنس وومین جس سے ملنے کے لیے لوگ کئی کئی مہینے انتظار کرتے ہے آج یہاں ایک معمولی سی کمپنی میں موجود تھی اور نہ صرف موجود تھی بلکہ خود اس پروجیکٹ کے لیے کام کرنا چاہ رہی تھی۔
"ہمیں علم ہے کہ آپ کے پاس تجربہ ہے، اخر آپ اتنی بری بزنس وومین ہیں لیکن یہ ۔۔۔۔۔"نور گروپ آف کمپنی کے مالک زیان اھد اتنا کہتے ہی خاموش ہوتے ہیں
"میرا تجربہ ہی ہے جو مجھے اس کے لیے تیار کرتا ہے " رمل اک ادا سے کرسی گھسیٹتے ہوئے اپنی جگہ سنبھالتی ہے "دراصل میں کچھ اور بھی تجربہ یہاں حاصل کرنا چاہتی ہوں" ان سب کے تاثرات بغور دیکھتے ہوئے کہتی ہے جو سب ہونقوں کی طرح منہ کھولے بیٹھے ہوئے تھے" کیا آپ لوگوں کو کوئی اعتراض ہے اپنی شہادت کی انگلی سے بلیک گلاسز کو نیچے کرتے ہوئے کہتی ہے"
"ن ن ن نہی نہی ہمیں کی کیا اعتراض ہو گا بلکہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے یہ" زیان اھد ہکلائے ہوئے جواب دیتے ہے
رمل میرا نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے جواب دیا اور ایک گہری نظر سے میز پر پڑے کاغذات پر نظر ڈالی۔ "یہ پروجیکٹ میرے لیے ایک چیلنج ہوگا، اور میں ہمیشہ ایسے چیلنجز کے لیے تیار رہتی ہوں۔ آپ کو کبھی بھی میری وجہ سے کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔"
اس کا لہجہ اتنا پراعتماد تھا کہ کسی کو بھی شک نہ ہو سکتا تھا کہ وہ اس پروجیکٹ میں کامیاب نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~
سوات کی بلکھتی وادیوں میں، چپریال کے قریب ایک سنسان پہاڑی راستہ تھا۔ شام کے سائے لمبے ہو چکے تھے،
اچانک ایک لڑکی کی گھٹی گھٹی چیخ فضا میں گونجی۔
"چھوڑو مجھے... خدا کے لیے!"
ایک لڑکا، چہرے پر ہوسناکی درندگی لیے، لڑکی کو جھاڑیوں میں گھسیٹ رہا تھا۔
پھر... دور سے جیپ کی گڑگڑاہٹ ابھری۔
جب اچانک جیپ ایک دھچکے سے رکی، اور تین آدمی اترے۔ درمیان میں وہ تھا... سفید شلوار قمیص میں ملبوس، کندھوں پر کالی اجرک براون ترشی ہوئی بیرڈ،کالے گھنے بال ماتھے پے بکھرے ہوئے ،چوڑا ورزشیں جسم چھ فٹ دو انچ قد ،کرسٹل براون گرے آنکھیں سرخ ڈوروں سے لبریز، اور نگاہوں میں بجلی کی کڑک۔
لڑکا چونکا۔ اور جیسے ہی وہ نوجوان قریب آیا، پیچھے ہٹتے ہوئے بے ساختہ بولا:
"شـ... شایان صفیر جہانگیر خان؟"
اس کے لہجے میں ایسا خوف تھا جیسے موت کا سامنا ہو۔
"نہیں نہیں... یہ تو وہی ہے... جس نے پچھلے سال کلم کے ڈاکو مار دیے تھے...!"
شایان نے ایک نظر اس لڑکی پر ڈالی، جو خوف سے کپکپا رہی تھی، اور پھر نظریں اس لڑکے پر گاڑ دیں۔
"عزت چھیننے والا مرد نہیں درندہ ہوتا ہے... اور درندے جب شکار بنیں، تو چیختے نہیں، مرتے ہیں!"
وہ ایک ہی لمحے میں آگے بڑھا، اور گھونسہ اس زور کا مارا کہ لڑکا منہ کے بل زمین پر گرا۔
"اگر آج میں نہ آتا... تو تُو کل کسی اور کی بیٹی کو نوچ رہا ہوتا!"
"لیکن یاد رکھ... یہ زمین اب خاموش نہیں رہے گی!"
لڑکا ہاتھ جوڑنے لگا، آنکھوں میں خوف تھا، جان بخشی کی التجا۔
"شایان صفیر کا انصاف وقت پر آتا ہے... مگر مہلت نہیں دیتا!"
اس کے دوست – طیب اور سکندر – آگے بڑھے، اور لڑکے کو جیپ کے آگے ڈال کر مارنے لگے ۔
لڑکا رو رو کر التجا کر رہا تھا م م م مجھے چھ چھوڑ دو و وہ وہ خود میرے ساتھ بھاگ کر آئی تھی
شایان کی نظر لڑکی پر پڑتی ہے۔ وہ خاموشی سے اپنی شال اتارتا ہے اور لڑکی کی طرف بڑھاتا ہے)
شایان، نرم مگر باوقار انداز میں"دا واخله... عزت ستا ده، شرم د هغه دی!"
"یہ لو... عزت تمہاری ہے، شرم اس کی ہے!"
لڑکی کے آنسو جاری ہیں، وہ چادر کو پکڑتی ہے
لڑکی، سسکتے ہوئے
"زه نه پوهېدم چی دا به راسره کوي..."
"مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا کرے گا..."
شایان، سر ہلا کر
"
"غلطی ہو سکتی ہے، مگر ظلم کی سزا لازمی ہے!"
سامنے وہ لڑکا زمین پر پڑا ہانپ رہا تھا، اور لڑکی رو رہی تھی۔
شایان صفیر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
تم کہتے ہو کہ یہ لڑکی اپنی مرضی سے تمہارے ساتھ آئی؟
لڑکا ڈرتے ہوئے "
ہاں... لیکن... میں نے اسے کچھ نہیں کہا تھا!
شایان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، آواز میں گرج تھی۔
شایان :
لیکن تم نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی، یہ پشتونوں کے قانون کے خلاف ہے!
وہ لڑکی کی طرف مڑا، جو کانپتے لہجے میں بولی تھی"زه نه پوهېدم چی هغه دا کوې... زه له کور نه تښته وم..." مجھے نہیں معلوم تھا وہ یہ کرے گا... میں تو گھر سے بھاگی تھی...
"L
" تم اپنی جگہ غلط تھیں، مگر اس نے درندگی کی... اب فیصلہ جرگہ کرے گا!
"تم اپنی مرضی سے آئی ہو، یہ تمہاری غلطی ہے۔ مگر اس نے جو کرنا چاہا، وہ ظلم ہے۔ اب فیصلہ جرگہ کرے گا!"
شایان نے جیپ کی طرف اشارہ کیا۔
(شایان کے الفاظ کے بعد لڑکی زمین پر بیٹھ جاتی ہے، اور ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولتی ہے)
لڑکی
"
"میں معافی چاہتی ہوں... مجھ سے غلطی ہوئی... لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری زندگی یوں بدل جائے گی..."
"
"اب وہ لوگ مجھے کسی بھی مرد سے بیاہ دیں گے... جیسے میں کوئی چیز ہوں... اور وہاں میرے ساتھ ظلم ہوگا..."
"میں انسان ہوں... خدارا، مجھے سزا نہ دیں!"
شایان خاموشی سے سنتا ہے، پھر سرد لہجے میں بولتا ہے
شایان
"میں تمہاری آنکھوں میں خوف دیکھ رہا ہوں، مگر تم نے اپنی عزت ایک گندے انسان کے رحم پر چھوڑ دی۔"
"اگر میں آج تم پر رحم کرلوں، تو کل اور بیٹیاں بھی برباد ہوں گی۔"
"ہمارے قبیلے میں فیصلہ بزرگوں کا حق ہے، قانون ان کے ہاتھ میں ہے۔"
شایان جیپ کی طرف مڑتا ہے، ہاتھ سے اشارہ کرتا ہے
"ولا شئ... اوس به حق او انصاف وښودل شي!"
"چلو... اب حق اور انصاف دکھایا جائے گا!"
یہ سوات کے سردار کا بیٹا جس کی دہشت اور خوف سے پورا سوات کانپتا ہے جتنا خوبصورت اسے اللہ نے بنایا ہے اتنا ہی اپنے دشمنوں کے لیے خوفناک بھی بنایا ہے ۔ یہاں چونکہ سب پٹھان ہیں تو پشتو بولتے ہیں زیادہ تر ۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~ ~~~~~~~~~~~~~~~~~~
---
چارپائی پر جہانگیر خان اور سامنے شایان خان غرور اور اختیار کے ساتھ براجمان تھا۔ اس کے دائیں طرف اس کے بااعتماد آدمی صف باندھے کھڑے تھے، جبکہ بائیں طرف گاؤں کے کچھ معتبر اور عمر رسیدہ لوگ، جن میں ایک قاضی صاحب بھی تھے، جھکے ہوئے سر کے ساتھ موجود تھے۔
دائیں طرف، تھوڑے فاصلے پر ایک نوجوان لڑکی دھڑکن سے تیز سانس لیتی بیٹھی تھی۔ چہرے پر گہرا گھونگھٹ تھا۔ وہ دوپٹہ مسلسل اپنے ہاتھوں میں مروڑ رہی تھی۔ شرم، خوف اور بے بسی نے اس کی کمر جھکا دی تھی۔
مردان خانہ کی دوسری طرف بڑے بڑے پردوں کے پیچھے عورتوں میں سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔
"
("بس، باپ کی عزت تو گئی...")
("یہ تو کسی کے ساتھ بھاگ رہی تھی... کیا یہ شرم نہیں؟")
ایک شخص بلند آواز میں بولا:
("یہ تو غیرت کا قتل ہے! شایان خان، یہ آپ کا جرگہ ہے، آپ انصاف کریں گے!")
("باپ کہتا ہے لڑکی فریب میں آئی، مگر میں کہتا ہوں غلطی ہوئی ہے تو سزا ضروری ہے!")
شایان کی گرج دار آواز پر سب خاموش ہو ئے تھے۔
لڑکی کے قریب اس کا باپ، پینوں سے لپٹ کر ہاتھ جوڑے بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں نمی، چہرے پر عاجزی، اور زبان پر صرف یہی التجا:
"میرہ خان... بس رحم کر..."
لیکن شایان خان کی نظریں پتھر تھیں، اور چہرہ فولاد۔
شایان نے ہاتھ کا اشارہ کیا، اور اس کے ایک ساتھی نے سامنے بیٹھے یوسف نامی لڑکے کو، جو کہ غریب، سیدھا سادا سا نوجوان تھا، آگے بلایا۔
یوسف، جس کا رنگ فق ہو چکا تھا، لرزتے قدموں سے آگے بڑھا۔یہاں ایک اور عاشق اور محبت میں قسمیں خانے والا کسی کی غلطی کی بھینٹ چھڑتے اپنے وفادار ہونے کا ثبوت دیتے قربان ہونے والا تھا۔یوسف شایان کا کافی پرانا وفادار ملازم تھا
---
شایان کی آواز گونجی جس میں کوئی امید تو نا تھی صرف حکم تھا"ته یوسف، دا لور به ستا نصیب شي... ته به نکاح ورسره کوی!"
("یوسف! یہ لڑکی تمہارے نصیب میں ہے... تم اس سے نکاح کرو گے!")
یوسف ایک قدم پیچھے ہٹا:
"L
("خان صاحب... میں یہ نہیں کر سکتا... میری زندگی برباد ہو جائے گی...") ایک آخری کوشش کرتے ہوئے کمزور سی آواز دی تھی ۔
اس کے باپ نے فوراً جھک کر اسے گھورا:
"ته شرم نه لری؟ خان صیب ته نه وایې؟"
("تجھے شرم نہیں؟ خان صاحب کو انکار کرتا ہے؟")
جرگے میں فیصلے کی مہر لگ گئی۔قاضی صاحب کی گونجتی ہوئی آواز گاؤں کے سناٹے میں گونج اُٹھی:
"یوسف خان بن حاجی فقیر محمد خان، آیا آپ اس لڑکی — گلنار بنت سردار بخت زمان — کا نکاح اپنے حق مہر دس ہزار روپے اور قرآن کے ساتھ قبول کرتے ہیں؟"
یوسف کی آواز گلے میں اٹک گئی۔ آنکھوں میں آنسو لرزے، اور لبوں پر جنبش آئی، لیکن لفظ نہ نکلے۔ پیچھے سے باپ کی دھیمی مگر سخت سرگوشی آئی:
"خبردار، اگر انکار کیا۔ دا زمونږ عزت ده."
یوسف نے آنکھیں بند کیں، اور جیسے اپنی قسمت کو دفن کر کے بولا:
"قبول ہے..."
قاضی صاحب نے دوبارہ پوچھا، یوسف نے تھوڑا بلند لہجے میں کہا:
"قبول دی..."
تیسری بار جیسے ایک اذیت بھرا وار کیا گیا ہو — اور اس بار وہ الفاظ چٹختی روح کے ساتھ نکلے:
"قبول دی!"
قاضی صاحب نے قلم اٹھایا۔ شایان نے سر ہلایا، اور ساتھ ہی سب لوگ خاموشی سے اٹھ کر ایک طرف ہو گئے۔
لڑکی اب بھی زمین پر بیٹھی تھی۔ اس کے شانوں کی لرزش اُس کے اندر کے طوفان کی گواہی دے رہی تھی۔ اس نے سر نہیں اٹھایا۔ آنکھوں سے آنسو چپ چاپ دامن میں جذب ہوتے رہے۔
دور کھڑے ایک بوڑھے شخص نے آہستہ سے کہا:
"فیصلہ ہو گیا... نکاح مکمل ہوا..."
اور گاؤں کے جرگے میں جیسے موت کا سناٹا اتر آیا...کیا کہا بابا جان میں اس لڑکی سے نکاح کرو جو 13 سال کی ہے بابا جان کیا آپ ہوش میں ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں" 23 سالہ زارون جلال خان اپنی گرج دار آواز کے ساتھ کہتا ہے حویلی میں یک دم سکوت چھا جاتا ہے۔
---
~~~~
عتاب خان لال سرخ آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے سب سے بڑے پوتے اپنے جگر گوشے کو دیکھ رہے تھے جو بپھرے شیر کی ماند دھار رہا تھا جیسے شادی کا نہی گردن کٹوانے کا کہہ دیا ہو۔ "میں زاریہ سے ہی شادی کروں گا بابا سن لیں آپ سب کان کھول دا جی آپ بھی سن لے میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی بھی کروں گا "زارون سب کی انکھوں میں آنکھیں ڈالے بہت کچھ جتا جاتا ہے
گل نورین چھوٹی سی 13 سال کی عمر میں جس کے بابا اس وقت ہسپتال میں موجود زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے اس کی ہستی بستی زندگی یک دم قیامت بن گئی تھی ماں کی فریاد پر اسے نا جانے اب شائد عمر بھر کا ہنر کاٹنا تھا۔ کیا تھا وہ بس اپنی نادانی میں اس سے محبت کر بیٹھی تھی جس کا ذکر اس کے بابا سے کیا تھا بابا بس جانے سے پہلے اسے اس کی خوشیوں سے نوازا چاہتے تھے۔
زارون خان اس کا والد زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے میرے جگری یار میرے جگر گوشے کی شائد آخری خواہش ہے اس نے بہت امید سے مجھ سے کہا ہے اور میں نے بھی اسے زبان دی ہے سن رہے ہو تم تمہارے باپ نے زبان دی ہے اسے اب کی بار زارون کے والد جہانگیرخان خان کی آواز گھونجی تھی جس میں بروقت غصہ اور بے بسی واضع تھی ۔بابا جان آپ نے ہی فضول میں رشتے داریاں شروع کی اور آپ ہی نبھائے بھی میں نے آپکو نہیں کہا تھا کہ جا کر انہیں میرے رشتے کے لیے زبان دے آئے زارون اپنی کالی سرخ ڈوروں سے لبریز آنکھیں جہانگیر خان کی آنکھوں میں گاڑے سرد لہجے میں کہتا ہے اسکی بات سنتے دروازے کے پیچھے چھپی 13 سالہ گل نورین کی گرین آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہتے جاتے ہیں جو اپنی جان سے پیارے بابا جان کے غم میں پہلے بہہ رہے تھے اب اس بے حس انسان کے بے حس الفاظوں کی وجہ سے بہہ رہے تھے۔
اگر تم نے میری بات بات نا مانی زارون اجلال جہانگیر خان تو تمہیں اپنے مرنے پر میرا مرا ہوا منہ بھی دیکھنے نصیب نہیں کروں گا جہاں بیٹھا ہر ایک شخص سن لے کان کھول کر اگر میں اپنی نافرمان اولاد کی نافرمانی کی بعد اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہوں تو کوئی بھی زارون اجلال خان کو نا تو میرے نام سے پکارنے گا اور ہی میرا منہ دیکھنے دے گا جہانگیر خان جوابا غصے سے زارون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھارتے ہوئے کہتے ہیں۔
جبکہ ان کی بات پر زارون بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھتا ہے جنہوں نے آج تک اسے ایک بات پر ڈانٹنا تو دور کبھی اختلاف نہیں کیا ہر بات منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کی اور اج اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اس سے پوچھے بغیر نا صرف کر دیا بلکہ یہ نہیں یہ کیا جائے کہ اس پر مسلط کر دیا تو غلط نہیں ہو گا۔کچھ ہی ڈھیر میں گل نورین منیر شاہ سے گل نورین زارون اجلال خان بن گئی تھی ۔
---
کمرے میں خاموشی بسی تھی۔ بوریوں کے ڈھیر پر لیٹی گل نورین (گُلے) چھت کو تکتی رہی۔ آنکھوں میں نمی تھی، دل پر بوجھ — وہ بوجھ جو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔
کبھی کبھی کچھ رشتے نظروں سے اوجھل ہو جائیں تو روح خالی خالی لگتی ہے۔ وہ بھی تو... گیارہ برسوں سے کچھ پل کو بھی لوٹ کر نہ آیا۔وہ جس کے انتظار میں گل نورین کو بڑی جوانی میں بیوہ جیسی زندگی گزارنی پڑی ۔وہ جس شخص کا انتظار 11 برس سے کر رہی ہے آج تک آنے کی خبر تو دور کبھی بات بھی نہیں کرتا تھا ۔وہ اس وقت ایسی تھی جیسے زندگی نے ایک صفحہ بند کر دیا ہو — مگر بغیر ختم کیے۔
گیارہ برس… نہ آواز، نہ عکس
بس یاد کی راکھ، اور خوابوں کا خس
آنکھوں میں نمی، لبوں پر سکوت
روح میں وہ شخص، جیسے ادھورا ثبوت
نہ بچھڑنے کا لمحہ، نہ لوٹنے کی گھڑی
بس ایک بے نام جدائی، اور گُلے کی اکیلی پڑی
عمر کا وہ ورق، جو مڑا بھی نہیں
مگر کبھی مکمل بھی لکھا نہیں…
گل نورین نے آنکھیں بند کیں، ایک آہ بھری۔ اس کا دل کسی خاموش صدمے میں بندھا ہوا تھا، ایسا صدمہ جو کوئی پوچھتا بھی نہیں — اور وہ بتاتی بھی نہیں۔دروازہ دھیرے سے کھلا۔ دی جان اندر داخل ہوئیں۔ ان کے ہاتھ میں پرانا دوپٹہ تھا، چہرے پر خفگی سے زیادہ وہی پرانی شفقت۔
دی جان نرمی سے جھڑک کر کہتی ہیں"گُلے... بیٹا، کب سے دیکھ رہی ہوں، تُو ادھ کھلی کلی کی طرح پژمردہ ہوئی جاتی ہے۔ بڑی خانم نے پوچھا، سالن کیوں نہیں تیار؟"
گل نورین نے آنکھیں پونچھیں، اور کچھ بولنے سے پہلے دی جان اس کے پاس آ بیٹھیں۔
دی جان آہستہ سے کہتی ہیں"یادیں بہت چپ چاپ آتی ہیں، لیکن تُو نے کب سے خود کو ان یادوں میں قید کر رکھا ہے۔"
گل نورین نے سر جھکا لیا۔ آنکھوں میں ایک ایسا خلا تھا جسے صرف دی جان ہی سمجھ سکتی تھیں۔
دی جان نرمی سے"جانتی ہوں، کچھ انتظار ختم نہیں ہوتے۔ لیکن زندگی رکی تو نہیں نا، گُلے۔ تُو میری بیٹی ہے، مضبوط بن۔"
انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، جیسے برسوں سے یہی ہاتھ اس کی ماں کی غیر موجود آغوش بن کر اس کا سایہ بنا رہا ہو۔
دی جان مسکراتے ہوئے کہتی ہیں "چل اٹھ، ورنہ بڑی خانم کی نظر سالن پر نہیں، ہم پر آ جائے گی۔"
گل نورین نے ہلکے سے سر ہلایا، اور خود کو سنبھالتے ہوئے آہستہ سے کھڑی ہوئی۔ دروازے کی دہلیز پر پہنچ کر ایک لمحہ کو پلٹی — دی جان کا چہرہ دیکھا، جس میں کبھی ماں، کبھی محافظ، اور کبھی دوست چھپی بیٹھی تھی۔دی جان اس حویلی کی کافی پرانی ملازمہ تھی جو گل کے والدین کے انتقال کے بعد اسے اپنے پاس ہی زیادہ تر رکھتی تھی گل کے پاس اپنا کمرہ موجود تھا جو زیادہ بڑا تو نہیں لیکن آرام دہ تھا جب بھی اکیلے وقت گزارنا ہوتا یا دل کا کم کرنا ہوتا ہمیشہ دی جان کے پاس آ جاتی۔
---عتاب خان اپنے کمرے کے باہر پریشان کھرے ہوئے تھے جب گھر کے لاڈلے سپوت ایان اسفند کی آمد ہوتی ہے آیان سیڑھیوں سے اترتا ہوا نیچے آ رہا تھا گنگنائے ہوئے اپنی ہی مستی میں ہاتھ میں اپنی گاڑی کی چابی کو کبھی گول گول گماتے کبھی اچھالتے ہوئے جب عتاب خان کو پریشانی میں اپنے کمرے کے باہر دیکھ کر رک جاتا ہے" ارے دا جی آپ باہر کیوں کھڑے ہوئے ہے کیا دادی جان نے منا کر دیا ہے" آیان عتاب خان کو چھیڑتے ہوئے کہتا ہے جبکہ عتاب خان اس کی بات پر اسے گورتے ہیں "شرم کر لو خر کی اولاد" عتاب خان سیشن کو گورتے ہوئے کہتے ہیں جب کامران خان عتاب خان کے دوسرے بیٹے ایان اسفند خان کے والد وہاں کھڑے ہوتے ہیں "تم ادھر کیا کر رہے ہو "ایان کامران کی آواز سنتے ہی اس کی آنکھیں لال ہوتیں ہے وہ بغیر کامران خان کی طرف دیکھتے مر کر باہر جانے لگتا ہے جب پھر سے کامران خان کی آواز پر رکتا ہے "تم سے بات کر رہا ہوں میں" کامران خان گرج دار آواز میں کہتے ہیں جبکہ ان کی آواز پر ایان پر کوئی اثر نہیں ہوتا "اوکے دا جی "عتاب خان کے ہاتھ چومتے ہوئے کہتا "دادی جان کو آج کا دن چھوڑ دے کوئی بات نہیں آج کا دن اپنے جواں زور جذبات کو لگام ڈال لیں" اور جانے سے پہلے نہایت بے باک بات کرتا عتاب خان کو سرخ کرتا باہر کی طرف بھاگ جاتا ہے جبکہ عتاب خان پیچھے سے اسے گالیوں سے نوازتے رہ جاتے ہیں کامران خان تو پہلے اچھا خاصہ اگنور ہوتے ہیں اس کی وجہ سے گورتے ہے ایان کو اور نا سمجھی سے عتاب خان کے سرخ چہرے کو دیکھ رہے تھے ۔
عتاب خان کامران کو دیکھتے، بغیر اس سے نزرے ملائے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہیں اس خدشے سے کے انہوں نے کوئی بات سن نا لی ہو۔۔۔۔۔رمل میرا کے میٹنگ روم سے نکلتےہی دائیں اور بائیں دو سادہ مگر سخت گیر نظر آنے والی خواتین باڈی گارڈز اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھیں، جبکہ مرکزی دروازے کے باہر چار باڈی گارڈز حفاظتی پوزیشن میں کھڑے تھے۔ تین بلیک کلر کی برینڈڈ گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں، جن میں سے ایک کا دروازہ فوراً کھول دیا گیا۔
رمل نے ایک نظر سیکریٹری کو دیکھا اور پھر فون کان سے لگایا۔ اسکرین پر “Zahra Khan” کا نام چمک رہا تھا۔
"اوہ! زہرہ خان، کو یاد آ گئی؟" رمل ہنستی ہوئی بولی۔
دوسری طرف سے آواز آئی، "یار میں تو کب سے تمہیں کال کرنے کا سوچ رہی تھی، بس اتنی مصروف ہو گئی ہوں کہ سمجھ ہی نہیں آیا وقت کب نکل گیا۔"
"بس کرو، سیدھی بات پر آو، کوئی نہ کوئی دھماکا تو ہوگا، آج فون کیوں کیا؟" رمل نے شرارتی انداز میں کہا۔
"یار میری شادی ہے!" زہرہ نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا۔
"کیا؟ ارے واہ بہت بہت مبارک ہو تمہیں " رمل نے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا، اس کی ہیل کی چاپ اور اردگرد کے سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی اسے مزید باوقار بنا رہی تھی۔
"سوات میں ہی ہو رہی ہے، اور تمہیں خاص طور پر بلانے کے لیے کال کی ہے۔ میں چاہتی ہوں تم آؤ، میری سب سے قریبی دوست اور بھابھی بھی تو آخر ہو۔ تمہارے بغیر میرا نکاح ادھورا لگے گا۔"رمل اب کی بار خاموش رہی، پھر ہنستے ہوئے بولی،
"ارے میں تمہیں اب کیا بتاو یار ایکچولی میں نہیں آ سکتی ، میری بہت ضروری میٹنگ ہے اور میں کل ہی دوبئی جا رہی ہوں تم جانتی ہو نا کہ میں نے نیو بوتیک بھی اوپن کی ہے اس لیے بہت بزی ہوں میں آئی ایم سو سو سوری پلیز !"
"مجھے کچھ نہیں پتا رمل تم آ رہی ہو اور بس یہ آخری فیصلہ ہے اور مجھے پتا تمہاری کون سی میٹنگ ہے فکر نا کرو بھائی آج جا رہے ہیں دبئی اور تم ادھر آو گی جن سے بچ کر بھاگ رہی ہو نا تم وہ تمہارے پیچھے پیچھے ہیں چلو تمہیں بھاگنے میں ہیلپ کرتی ہوں میں" زہرہ اسے اس طرح سے کہتی ہے جیسے اسے سب پتا ہو
زہرہ کی بات سنتے ہی رمل" آو کے آ جاو گی می"ں رمل خوش ہو کر کہتی ہے
زہرہ خوشی سے چیخی، "واؤو! میں ویٹ کر رہی ہوں۔"
"ویٹ کرنا ہی پڑے گا، کیونکہ جب میں آؤں گی، سب کی نظریں مجھ پر ہوں گی۔ اب فون رکھ، مجھے تیاری کرنی ہے۔"
رمل نے فون بند کیا، بلیک گلاسز آنکھوں پر چڑھائے، گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی اور ہلکی اداس سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، "سوات... here I come!"