چہرہ میرا جُرم تھا
Part 1
بسم اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میرا نام شمایسہ ریاض ہے۔ میری عمر 18 سال ہے۔
یہ میری زندگی کی پہلی کاوش ہے جو کتاب کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔
میرا ناول "چہرہ میرا جُرم تھا" محض ایک کہانی نہیں، بلکہ میرے اندر کے درد، میرے مشاہدات، اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کی گونج ہے۔
بچپن ہی سے میرا دل لفظوں کی طرف مائل تھا۔ کبھی ڈائری میں دو لائنیں، کبھی کاپی کے صفحے پر چند جملے… مگر یہ سوچنا بھی خواب لگتا تھا کہ یہ بکھرے ہوئے لفظ ایک دن کہانی کا روپ دھار لیں گے۔ آج یہ کتاب میرے ہاتھوں میں ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے میرا ایک خواب حقیقت میں بدل گیا ہے۔
یہ کہانی صرف آمنہ کی نہیں۔ یہ ہر اُس بیٹی کی کہانی ہے جو اپنے چہرے، اپنے رنگ، یا اپنے حالات کے باعث طعنوں کا شکار بنی۔ وہ لڑکیاں جو روتی رہیں مگر قصوروار ٹھہرتی رہیں۔ میں نے آمنہ کے کردار میں اُن سب کا دکھ سمیٹا ہے۔
میری آرزو ہے کہ یہ تحریر صرف ایک ناول نہ رہے، بلکہ وہ آئینہ بن جائے جس میں ہمارا معاشرہ اپنا اصل چہرہ دیکھے۔ اور شاید کوئی لمحہ ایسا بھی آئے جب قاری کے دل پر یہ تحریر دستک دے، اور وہ سوچے کہ ہم اپنی بیٹیوں، بہنوں اور عورتوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
---
🌸 دیباچہ
چہرہ میرا جُرم تھا ایک کہانی ہے — اُس معاشرے کی، جہاں انسان کا اصل نہیں، بلکہ اُس کا رنگ، اُس کی ذات اور اُس کے حالات فیصلہ بن جاتے ہیں۔ یہ ناول ایک لڑکی آمنہ کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ ایک ایسی لڑکی جو محبت کی تلاش میں نکلی مگر ہر موڑ پر زخم ہی اُس کے مقدر میں لکھے گئے۔
آمنہ کے خواب بڑے سادہ تھے:
صرف تھوڑا سا سکون، تھوڑی سی عزت، اور محبت کی ایک جھلک… مگر اُس کی زندگی کے ہر صفحے پر ٹھوکر کا لفظ لکھا ہوا تھا۔
یہ کتاب صرف کہانی نہیں، بلکہ آئینہ ہے۔ ایسا آئینہ جس میں آپ آمنہ کی آنکھوں سے وہ آنسو دیکھیں گے جو اُس کے نہیں بلکہ ہزاروں بیٹیوں کے ہیں۔ ہر وہ صدا، ہر وہ چیخ جو دب گئی، مگر حقیقت میں کبھی ختم نہیں ہوئی۔
یہ میری پہلی کاوش ہے۔ اس میں کوتاہیاں ہوں گی، الفاظ شاید کمزور بھی لگیں، مگر میرا یقین ہے کہ اس کہانی کا درد قاری کو چھوئے گا۔ اور اگر یہ تحریر کسی ایک دل کو بھی ہمت دے سکے، کسی ایک ذہن کو بدل سکے، تو سمجھوں گی کہ میرا مقصد پورا ہو گیا۔
— شمایسہ ریاض
﴿یہ اُن دنوں کی بات ہے جب الیزہ اپنی زندگی کے سب سے نازک مرحلے پر تھی۔ نو مہینے کی مشقت اور بھاری پن نے اُس کے وجود کو توڑ سا دیا تھا، مگر دل کی دنیا میں اُمیدوں کے چراغ روشن تھے۔ گھر میں خوشیوں کی بارش ہو رہی تھی، ہر کونے میں مسکراہٹوں کی جھلک تھی، ہر آنکھ میں چمک اور ہر دل میں انتظار۔
الیزہ کے دو بچے پہلے سے تھے — اقرا اور حمزہ۔
اقرا، بڑی بیٹی۔ ایک سادہ مگر نہایت نفیس مزاج رکھنے والی۔ وہ نرم لہجے میں بات کرتی اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں دوسروں کا دل جیت لیتی۔ اُس کی خاموشی میں بھی ایک وزن تھا، جیسے وہ اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ سمجھدار ہو۔ ماں کے قریب رہنے والی، بہن بھائیوں کی ڈھال اور باپ کے لیے سکونِ قلب۔
حمزہ، سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلا۔ اُس کی معصوم ضدیں، اُس کی شوخیاں اور ہنسی گھر کی فضا کو روشن کر دیتی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے گلے سے لپٹا رہتا جیسے پوری دنیا کا سکون اُسی کی آغوش میں ہے۔ اُس کے قہقہے بغیر گھر سونا سا لگتا تھا۔
اب سب کی نظریں ایک نئی زندگی کے استقبال پر لگی تھیں۔ اقرا کو بہن کا شدت سے انتظار تھا، اور حمزہ بھائی کے خواب دیکھ رہا تھا۔ ان معصوم تمناؤں میں وقت بھی جیسے ٹھہر گیا تھا۔
الیزہ کا چہرہ تھکن سے بوجھل تھا، مگر آنکھوں میں ماں والا سکون اور روشنی تھی۔ وہ لمحہ قریب تھا جب ننھی جان دنیا میں آنے والی تھی۔
پھر وہ رات آئی…
جب درد کی ٹیسوں نے بدن کو جھنجھوڑ ڈالا۔ گھر میں گھبراہٹ پھیل گئی۔ سب تیزی سے اسپتال پہنچے۔ راہ داریوں میں بھاگتے قدموں کی چاپ تھی، لرزتے ہونٹوں پر دُعائیں تھیں اور نم آنکھوں میں اُمید کا عکس۔
سب بے چینی سے منتظر تھے کہ خوشی کی نوید سنائی دے۔
لیکن قسمت کے فیصلے اِنسانی خواہشوں سے ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔
کیا خبر تھی کہ اس بار آنے والی بچی کو، ماں کی ممتا کی گود میں آنے سے پہلے ہی ٹھکرا دیا جائے گا؟
کیا خبر تھی کہ محض اُس کے رنگ، اُس کے چہرے کی بنا پر، لوگ اُسے قبول کرنے کے بجائے رد کر دیں گے؟
وہ ننھی جان، جو بے قصور تھی… صرف اس لیے مسترد کر دی گئی کہ وہ معاشرے کی “خوبصورتی” کی ترازو میں ہلکی پڑ گئی۔
سب بے قراری سے اُس لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔ اسپتال کی سفید راہ داریوں میں خاموشی ایسی پھیلی تھی جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ہر نگاہ اُس دروازے پر جمی تھی جہاں اندر الیزہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی۔ اُس کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر باہر والوں کے دلوں کو چیر رہی تھیں۔ اقرا کی نظریں مسلسل دروازے پر تھیں، اُس کے لب لرز رہے تھے، دل دعاؤں میں ڈوبا ہوا تھا۔ حمزہ، جو ابھی چھوٹا تھا، بار بار اپنے ماموں کے گلے لگ جاتا اور معصومیت سے پوچھتا:
"امی کب آئیں گی؟ بہن آئے گی یا بھائی؟"
ان سوالوں پر سب خاموش ہو جاتے، کوئی جواب نہ دے پاتا۔ ہر کوئی بس وقت گزرنے کی دعاؤں میں مصروف تھا۔
پھر اچانک…
دروازہ کھلا۔ ڈاکٹر تیز قدموں سے باہر آئی۔ اُس کے چہرے پر سنجیدگی کی لکیر کھنچی ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے سب کے دل تھم گئے، سانسیں رک گئیں۔
"بچی کی حالت نازک ہے… بچانا مشکل ہے۔"
یہ الفاظ کمرے میں گونجتے ہی سناٹا چھا گیا۔ یوں لگا جیسے دیواروں نے بھی اپنے کان بند کر لیے ہوں۔ اقرا کے آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، حمزہ نے لرزتی آواز میں بس "امی…!" کہا۔ سب کی دعائیں، سب کی امیدیں ایک لمحے میں جیسے بکھر گئیں۔
مگر پھر… چند لمحوں کے بعد وہ آواز آئی جس کا سب کو شدت سے انتظار تھا —
ایک نازک سی جان نے دنیا میں پہلا سانس لیا۔ اُس کی ہلکی سی رونے کی آواز گویا سب کے کانوں میں امید کا چراغ روشن کر گئی۔
"اللہ کا شکر ہے… بچی بچ گئی۔"
یہ جملہ خوشی کی نوید بن کر آیا۔ لیکن خوشی کی وہ گھڑی صرف چند لمحوں تک محدود رہی۔ اذان دینے سے پہلے ہی، اس ننھی جان پر وہ پہلا ظلم ہوا جسے شاید اُس نے اپنے سارے وجود کے ساتھ محسوس کیا ہوگا۔
کسی نے دل ہی دل میں کہا — اور پھر آہستہ آہستہ یہ زہر سب کی زبانوں پر بھی آگیا:
"کالی ہے…!"