خوشبو/ khushboo

All Rights Reserved ©

Summary

ہر عورت کی خاموشی کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوتی ہے عورت بہت نازک مزاج ہے . کوئی اس کو پیار سے بھی سمجھا دے اگر تو وہ اس پر اپنی جان تک قربان کر بیٹھتی ہے.

Genre
Drama
Author
hammuu_90
Status
Ongoing
Chapters
2
Rating
n/a
Age Rating
16+

باب نمبر ایک،

"اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو"۔ سورۃ النور (24:31)


ہمیں اپنے اپ کو چھپا کر رکھنا چاہیے ہمیں اپنی نظریں نیچی کر کے رکھنی چاہیے ہمیں غیر مردوں کے سامنے خوشبو تک لگا کر گزرنا نہیں چاہیے،

وہ انگن سے کھڑے بڑے سے ستون کے پیچھے سے چپ کر نیچے دیکھتے ہوئے اپنے لبوں سے یہ الفاظ دہراتی جا رہی تھی،

ارے ارے رے چھنو کاہیں کو کھڑی ہے اندر جا چل نظر نہ ائیو مجھے واپسی

وہ اپنی چٹیا کندھے سے کمر پر ٹال کر دوپٹے کا پلو پکڑ کے ننگے پاؤں زمین پر زور زور سے مارتے ہوئے اس طریقے سے اندر کی اور جاتی ہے کہ اس کی پائل کی چھن چھن اواز پورے انگن میں گونج رہی ہوتی ہے

"روز صبح سویرے ا کر کھڑی ہو جاتی ہے میری پاک دامن بچیوں کو دیکھ دیکھ کر انہیں بھی خراب اور گندا کر دے گی کہاں سے ا جاتی بڑے بڑے گہرے گلے پہن کر نہ شرم نہ حیا انگن میں کھڑے ہو کے پوری محلے بھر کو تکتی رہتی ہے توبہ توبہ استغفراللہ خدا ہی ہدایت دے" یہ کہتے ہی رخسانہ نچلے کمرے کی چٹائی گراتے ہوئے اندر چلی جاتی ہے

اپا نیچے مدرسے میں پڑھایا جارہا تھا بچیوں کو کہ خوشبو لگا کر بھی ہمیں نہیں گزرنا چاہیے غیر مردوں کے سامنے سے تو ہم کیوں اتنا سچ سور کر ان کے سامنے پیش ہو جاتے ہیں؟٫٫ بتائیں نا مجھے کیا ہے اس کے پیچھے کی وجہ اخر کیا ہم یہ سب کسی وجہ کے تحت کرتے ہیں کیا ہم عادت سے مجبور ہیں یا پھر یہ ہماری رگوں میں ہے کیا ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے کیا یہ سب ہم سے دور نہیں ہو سکتا کیا ہم یہاں سے کہیں دور بھاگ کے جا نہیں سکتے؟

چپ چپ کر جاؤ اب ایک لفظ نا سنوں میں اپ کے منہ سے اگر اماں جی نے سن لیا تو پتہ ہے نا غضب ہو جائے گا غضب پتہ نہیں اپ کیا کیا سوچتی رہتی ہیں ان ساری سوچوں کو اپنے دماغ سے نکال باہر کر دیجیے ہم بتا رہے ہیں اپ کو اخری بار چھنو! شریف گھرانے کی لڑکیاں ہیں ہم جیسی ہیں ہم ویسے ہی رہیں گی اب ان ساری باتوں کو اپنے سر پر سوار نہ کیا کیجیے جو اپ کو پڑھا جا رہا ہو وہ صرف کتابوں تک محدود رکھا کیجیے سن لیا نا اپ نے یہ کہتے ہی خوش بخت کپڑے الماری میں رکھنے کے لیے مڑ جاتی ہے

اور بیچاری چھنو منہ بناتے بناتے اپنے دماغ میں سوچوں کی گھٹیوں کو سلجھاتے سلجھاتے کمرے سے باہر نکل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔


Next Chapter