Chapter 1
چاروں طرف گھنا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ سنسان جنگل میں ایک خوبصورت مگر پراسرار نوجوان آگے بڑھ رہا تھا۔ کالے رنگ کی پینٹ اور سردی کے باعث سیاہ ہوڈی میں ملبوس وہ شخص ایسا دلکش تھا کہ جو ایک بار دیکھ لے، نظریں ہٹا نہ پائے 🤭۔
نیلگوں سبز آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، جیسے جو بھی اس کے سامنے آئے، اس کی موت یقینی ہو۔ وہ پُراعتماد قدموں سے جنگل کے اندر بڑھتا جا رہا تھا۔ آخر یہ شخص کون ہے؟ اور یہاں کیا کرنے آیا ہے؟
چلتے چلتے وہ ایک مخصوص جگہ پر رکا۔ فنگر پرنٹ سے کیج کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ سامنے ایک شخص بندھا ہوا تھا، جو خون میں لت پت اور بھوک کے باعث انتہائی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ وہ آتے ہی مدد کی بھیک مانگنے لگا، مگر سامنے کھڑا شخص طنزیہ انداز میں ہنسا اور بولا:
“پہلی بار کسی کو دیکھا ہے جو اپنی موت سے ہی اپنی جان بخشنے کی درخواست کر رہا ہو… tsk tsk tsk.”
وہ شخص خوف سے چیخ اٹھا۔
“تم کون ہو؟ مجھے یہاں کیوں رکھا ہے؟ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ مجھے جانے دو، جتنے پیسے مانگو گے میں دے دوں گا!”
اس کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیڈو نے اپنی جیب سے ایک کیمیکل کی شیشی نکالی اور اس کے منہ میں انڈیل دی 💀۔
“تم نہیں جانتے تم نے کیا گناہ کیا ہے۔ میرے شہر میں، جہاں میری اجازت کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مارتا، تم نے چھوٹی لڑکیوں کو ڈرگز دیں۔ ان میں سے آدھی کو بیچ دیا۔”
اس کی آواز میں سرد مہری تھی۔
“میری عدالت میں معافی نہیں ملتی… صرف موت۔ اب بتاؤ، کیسے مرنا پسند کرو گے؟” 🤭
کیمیکل کے اثر سے اس شخص کی زبان اور ہونٹ پگھل چکے تھے۔ شیڈو نے اس کے جسم پر چھوٹے چھوٹے کٹ لگائے، پھر کیمیکل اس کے بدن پر انڈیل دیا اور بغیر پلٹے وہاں سے نکل گیا۔
جنگل سے باہر نکلتے ہی سڑک پر دمیر (شیڈو کا رائٹ ہینڈ) اور عروہ (لیفٹ ہینڈ) کھڑے تھے۔ شیڈو نے ایک نظر ان کی طرف دیکھی اور سرد لہجے میں کہا:
“تمہیں معلوم ہے نا، میں اپنے
کام خود کرتا ہوں۔ پھر آنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟”
اس کے لہجے سے وہ دونوں گھبرا گئے۔
“بابا نے بھیجا ہے…” وہ دھیرے سے بولے۔
شیڈو خاموشی سے گاڑی میں بیٹھا، سیدھا مینشن کے باہر جا کر رکا۔ بڑے بڑے قدموں سے اندر داخل ہوا، اپنے کمرے میں گیا اور بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔
اندھیرے میں ایک اور راز سو گیا__ 🖤
( pakistan )
ریم حیات اپنے بستر پر نیم دراز حالت میں لیٹی ہوئی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی خاموشی تھی، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ چھت کو گھورتی رہی، جیسے سوچوں کا بوجھ دل پر اتر آیا ہو۔
اچانک موبائل کی گھنٹی بجی۔
اسکرین پر اس کی بہن کا نام جگمگا رہا تھا۔
“ہیلو؟”
ریم نے بےچینی سے فون کان سے لگایا۔
“ریم… تم فوراً آ جاؤ، میں مشکل میں ہوں۔”
بہن کی آواز گھبرائی ہوئی تھی۔
ریم فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا ہے؟ کہاں ہو تم؟”
“بس تم آ جاؤ… میں سب وہیں بتاؤں گی۔”
اس نے صرف اتنا کہا اور کال ختم ہو گئی۔
ریم کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر تیار ہو کر گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے بھر اس کے ذہن میں اندیشے گردش کرتے رہے—آخر ایسا کیا ہو گیا تھا؟
کچھ ہی دیر بعد وہ ایک ریسٹورنٹ کے باہر کھڑی تھی۔ اندر سے ہلکی موسیقی کی آواز آ رہی تھی، لوگ ہنس رہے تھے، سب کچھ بالکل معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔
ریم نے اندر قدم رکھا تو اس کی نظر فوراً اپنی بہن پر پڑی۔
وہ آرام سے میز پر بیٹھی تھی، سامنے کافی رکھی تھی۔
ریم کے قدم رک گئے۔
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
“تم نے کہا تھا تم مشکل میں ہو؟”
اس کی آواز میں گھبراہٹ اور غصہ دونوں شامل تھے۔
بہن نے نظریں جھکا لیں۔
“ریم… بات اصل میں یہ ہے کہ—”
اور اسی لمحے ریم کو احساس ہوا…
کہ شاید یہ جگہ، یہ ملاقات، اور یہ کال
کسی اور ہی مقصد کے لیے تھی__
