ذہنی قید ( ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

All Rights Reserved ©

Summary

کیا بچپن کے سائے کبھی پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کچھ یادیں جوانی کی دہلیز تک زہر بن کر ساتھ آتی ہیں، اور جب سوشل میڈیا کی چکا چوند ان اندھیروں سے ملتی ہے، تو انجام ہولناک ہوتا ہے۔یہ کہانی ہے ایک خوبرو نوجوان اور ایک حسین دوشیزہ اور چند ایسے راز جو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ۔۔۔"

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
5.0 1 review
Age Rating
16+

Chapter 1

قسط نمبر 1

(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

ایک خستہ حال مکان، جہاں ہر کونے میں خوف چھپا ہوا تھا۔

ہاتھوں میں گنز پکڑے کئی گارڈز کی آنکھیں تناؤ سے چمک رہی تھیں۔

دور سے ایک شخص چلتا ہوا آ رہا تھا، تھری پیس سوٹ میں ملبوس، اور منہ پر ایک خونی ماسک۔

اس کےہر قدم پر ہال کے اندر کی ہوا سنگین ہو جاتی تھی۔

سب کی سانسیں رک سی گئی تھیں، خوف اور احترام کا عجیب امتزاج۔

وہ ہال کے وسط میں پہنچا اور ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔

"جی سر!!" وہ چوکیدار فوراً چلنے لگا، اور ماسک مین اس کے ساتھ چلا

وہ کمرے کے باہر دو قدم پیچھے کھڑا ہوا، سر جھکا کر، جیسے کسی شیطانی کھیل کا حصہ ہو۔

پھر وہ ماسک مین کمرے کے اندر داخل ہوا۔

کمرے میں موجود سب لوگ فوراً ایکٹو ہو گئے، لیکن ایک اشارے پر سب خاموشی سے باہر نکل گئے۔

مِس روزی اور زِی کے علاوہ...

سامنے کرسی پر ایک شخص باندھ کر رکھا گیا تھا، منہ پر کپڑا بندھا ہوا، نیم بے ہوش۔

اس کے کپڑے پھٹے ہوئے، جسم پر مار پیٹ کے نشانات واضح تھے۔

وہ کسی اچھے گھر کا لگتا تھا، مگر یہاں مکمل بے بسی میں تھا۔

مِس روزی اس کے منہ سے کپڑا اتارتی ہے۔ وہ بے جان سا کرسی پر پڑا رہتا ہے۔

ماسک مین آہستہ آہستہ قریب آیا، اور اس کے ہاتھ پر سُلگتا ہوا سگریٹ رکھ دیا۔

وہ شخص چونک کر ترپا، ہوش میں آیا۔

ماسک مین کے چہرے پر ایک سکون سا اُترا، جیسے اسے اپنی طاقت کا لطف مل رہا ہو۔

پھر وہ زور دار قہقہہ لگا کر ہنسا۔

"میں صرف سزا نہیں دیتا... میں حساب بھی لیتا ہوں۔"

اس کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی، خوف اور شیطانیت کا امتزاج۔

"کون ہو تم؟ اور کیا چاہتے ہو؟"

اس کے ہونٹوں پر درد صاف جھلک رہا تھا۔

ماسک مین نے آرام سے جواب دیا، جیسے وقت اس کے قابو میں ہو:

"اتنی بھی کیا جلدی ہے... جان جاؤ گے۔"

اور اس کے ہر لفظ میں شیطانی مزاح اور خطرہ چھپا ہوا تھا۔

*°*°*°*°*

وہ آنکھیں موندھے سوفے کی پُشت

سے ٹیک لگائے بیٹھی کسی کے خیالوں میں کھوئی تھی. جب اسکو اپنے عقب

سےکسی کی موجودگی کا احساس ہوا.

وہ آنکھیں کھولتے اپنے سامنے اپنی محبت کو ہاتھوں میں خوبصورت گلاب کے گجرے لیے پاتی ہے....

جو نرمی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسکی خوبصورت سفید کلائیوں میں گجروں کو سجانے لگتا ہے.......

انو باجی! انو باجی!

اٹھ جائیں یونیورسٹی کا ٹائم ہو چکا ہے.

کتنا لیٹ کروایں گی... وہ دل آویز حسینہ اپنی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھتی ہے۔رات بھر سو کے اُٹھنے کے بعد بھی ہمیشہ کی طرح خوبصورت دیکھائی دیتی ہے۔

اسکے لبوں کے عِین اوپر ایک خوبصورت تِل جو کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر نے کا محتاج نہیں۔

'' تیرے چہرے کا وہ تل،

بھی غضب ڈھاتاہے...

جیسے سیاہی میں کوئی،

چاند سما جاتا ہے'' .....

وہ معصوم نظروں سے نیہا کو گلے سے لگا تی ہے۔

کیا ہوا باجی رضا بھائی کو خواب میں دیکھا ہے کیا وہ بامشکل اپنی ہنسی دبائے بولی. یہ سن کر عنایہ اپنے ہاتھوں کی گرِفت کو اس پر مذید تنگ کرگئی۔وہ نرمی سے بولی تم کیسے میرے دل سے واقف ہو سکتی ہو؟

بس دیکھ لیں باجی.....!

باقی باتیں ہم راستے میں کر لیں گے ابھی ہم آلریڈی بہت لیٹ ہو چکے ہیں۔

*°*°*°*°*

صبح کے تقریباً 7:00 بجے وہ اپنے کمرے میں موجود کشادہ کھڑکی کے سامنے کھڑا دراز قد تندرست خوبرو نوجوان جو دیکھنے میں ہی کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہو تا ہے. وہ شبِ پوشاک تن بدن کیے. کانوں میں بالی سجائے اپنی انگلیوں میں سگریٹ کو قید کیے ایک کان میں (Earbud) لگائے دھیمی آواز میں موسیقی سننے میں محفوظ تھا. اتنے میں اسکے کانوں میں دروازے کی دستک سنائی دی جو اسکی تنہائی میں خلل کا سبب بنی.

کم ان! (وہ بولا)

ایک ادھیڑ عمر کا شخص ہاتھوں میں کافی کی ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوا. حازم صاحب! آپکی کافی!! وہ جُھکتے ہوئے سگریٹ کو اپنی خوبصورت انگلیوں سے ایش ٹرے میں مسلتا ہے.

شکریہ!! ( وہ دھیمی آواز میں بولا )

صاحب آپکا ناشتہ لگواؤں ؟

جی ہاں!! ( وہ بولا )

جی بہتر ! وہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا....

(رامودین کاکا انکے یہاں تقریباً بیس سال پرانےاور وفادار ملازم تھے)

*°*°*°*°*

وہ کلاس میں بیٹھی کتاب پر سرجھکاۓ کسی کے خیالوں میں کھوی تھی۔

عنایہ... عنایہ...

وہ ایک دم ہر بڑا کر متوجہ ہوئی.

جی....جی میم.

اگر آپ جیسے ہونہار طالبِ علم اِس طرح کی لا پرواہی برتں گے تو ہم باقی سب سے کیا اُمید لگایٔں؟

اُس کے کانوں میں دبی دبی ہنسی کی آواز پڑی شرمندہ سی نظر اُٹھا کر اپنے اِردگرد بیٹھے سٹوڈنٹس کی طرف دیکھتی ہے۔ جو طنزیہ انداز میں اُسے گُھور رہے تھے۔

بیٹھ جائیں آیٔندہ سے کو شش کیٔجے گا کے ایسی غلطی مت ہو۔

(شاید میم کو اِس پر ترس آگیا تھا)...

*°*°*°*°*

وہ اُنتس سالہ دراز قد کا خوبصورت نوجوان سیاہ پینٹ پر نیوی بیلو شرٹ پہنے ایک ہاتھ میں کوٹ اور دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگاۓ اپنے کمرے سے باہر نکلا۔

صاحب آج رات کے کھانے میں آپ کیا کھانا پسند کریں گے؟

وہ فون کو جیب میں رکھتے ہوئے دھمی آواز میں گویا ہوا.. نہیں رامودین کاکا سعد کی کال تھی آج کا کھانا میں اُسکے ساتھ کھاؤں گا. آج ویسے بھی میری ایک ضروری میٹنگ ہے تو مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہو جائے گی. آپ حور سے پوچھ لیں وہ کیا کھائے گی. آپ میرا انتظار مت کیجئے گاکھانا کھا لیجیے گا. (وہ یہ کہہ کر گھر سے روانہ ہوا) ۔

*°*°*°*°*

وہ کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔ جب سعد کچن میں داخل ہوا........ امی!

(وہ ماں سے مخاطب ہوا).

امی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے.

(خیریت ہے میرے بچے کیا بات ہوگئی).

میں کہہ رہا تھا کے عنا یہ آپی کے ساتھ میری اور نیہا کی بھی منگنی کر دی جائے. بات پکی ہو ۓ بھی کافی وقت ہو چکا ہے.

اچھا اچھا اتنے بے صبرےنہ ہو!

(وہ چھیرنے کے انداز میں بولیں)

اچھا! میں تمہارے بابا سے بات کروں گی.........

وہ آج ڈرائیور چھٹی پر ہےتو تم جیا کو اکیڈمی چھوڑ آؤ. وہ تمہارا انتظار کافی دیر سے کر رہی ہے.

*°*°*°*°*

رضا بیٹا کیا سوچا ہے شادی کا؟

وہ کھانے کی میز پر بیٹھی اُسکی پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے بولیں۔

رضا جو ان کی بات پر چونک کر رہ گیا سچ امی! میں ابھی ڈرائیور کو کہتا ہوں گاڑی نکالے ہم ابھی عنایہ کے گھر جا رہے ہیں اُسے لینے۔

وہ پلیٹ اسکی طرف بڑھاتی ہوئی اسکے سر پر ہلکا تھپڑ لگاتی ہوئی بولیں تم بھی نہ رضا بہت ہی اوتاولے ہو۔

جی امی یہ تو بہت نیک فیصلہ ہے پاس بیٹھی اُس کی چھوٹی بہن جو لگ بھگ اُس سے دو سال چھوٹی تھی شرارتاً بولی جلدی جلدی بھائی کی شادی کروائیں تاکہ میرا نمبر بھی آۓ۔

آسیہ بیگم اُسے گھورتے ہوئی بولیں رضا آج رابعہ باجی کی کال آئی تھی وہ کہہ رہی تھی کے تین چار مہینوں میں عنایہ کا بی۔ایس سا ئیکولوجی میں آخری سمیسٹر ہے ۔ باقی کی پرھائی بعد میں ہوتی رہے گی ۔

کل تمہارے ابو سے بھی بات ہوئی تھی وہ کہہ رہے تھے کے ایک دو مہینوں میں پاکستان واپس آجائیں گے۔ تو پھر چلیں گے تمہاری پھپھوکی طرف شادی کی تاریخ طہ کرنے کے لیے۔

*°*°*°*°*

وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھا ہاتھ میں بر ینڈڈ گھڑی پہنے کے باوجود معمولاً فون سے وقت دیکھتا ہے۔

حازم! سعد کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ سامنے سعد کو کھڑا پاتا ہے۔

وقت کی قدر کرو یہ کبھی انتظار نہیں کرتا اور ایک تم ہو جو وقت کو بھی انتظار کرواتے ہو۔کب سدھروگے تم۔

سعد کا قہقہہ نکلتا ہے۔ اچھا یار مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ اب کچھ(order) بھی کرے گا یا مجھ جیسے مظلوم دوست کو ڈانٹتا ہی رہے گا۔

(وہ معصومانہ انداز میں بولا تھا)۔

تو آج ہم تیری پسند کا کھانا کھائیں گے۔

(وہ بات کو گھما گیا تھا)

ابھی گفتگو جاری تھی کے سعد کا فون بجا تیری بھابھی کی کال ہے. میں ابھی آتا ہوں تو کھانا(order) کر۔ صبح سے کہاں غائب ہیں آپ مجھے بھول تو نہیں گئے.

(نیہا فون کی دوسری طرف سے بولی) ۔

نہیں جناب اب آپ یاد نہیں آتی بلکہ آپ مجھے حفظ ہو گئی ہیں ۔

وہ شرماتی ہوئی بولی سعد باتوں میں آپ سے کوئی نہیں جیت سکتا۔

یک دم اسکے لبوں کو دلکش مسکراہٹ نے چُھوا تھا اور وہ بولا اچھا جناب میں بعد میں بات کرتا ہوں. ابھی میں حازم کے ساتھ ہوں۔ وہ فون کو بند کرتے ہوئے حازم کی طرف بڑھا۔

(سعد حازم کے بچپن کا دوست تھا

جو بچپن سے اب تک ہر پریشانی میں اسکے ساتھ تھا۔ سعد حازم کی زندگی کا بہت اہم حصہ تھا)

*°*°*°*°*°*

سعد آفس میں اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف تھا۔ جب باہر سے آواز سنائی دی.

(Sir may I come in)

(سعد بولا) come in

سر آپ سے ملنے کوئی آیا ہے......

آپ جائیں میں آتا ہوں۔

(مجھ سےآفس میں ملنےکون آسکتا ہے)

ایک خوبصورت لڑکی جینز کے اوپر گھٹنوں سے اونچا کُرتا پہنے سن گلاسز ناک پر بیٹھاۓ بالوں کو کاندھوں پر پھیلاۓ کافی امیر خاندان کی معلوم ہوتی تھی۔ امل تم یہاں! کیا کام پڑ گیا مجھ سے.... یہاں نہیں بتا سکتی کسی کیفے میں چلتے ہیں۔ ایک منٹ رُکو میں فون لے کر آتا ہوں۔

*°*°*°*°*°*

باغ میں موجود شبنم سے بھیگی گھاس پر ہلکے ہلکے قدم لیےوہ دونوں چلتے جا رہے تھے۔

محترمہ گھر والے چاہتے ہیں کے آپ کے امتحانات کے بعد ہماری شادی کردی جائے۔

اور آپ! آپ کیا چاہتے ہیں۔

یہ غلام ساری زندگی آپ کی غلامی کرنے کے لیے حاضر ہے۔

(وہ بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ سجائے عاشقانہ انداز میں بولا)

وہ شر ما کر نظر چُرا گئی۔

رضا چلتے ہوئے رُکا گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پیچھے سے ہاتھ میں سے پھول نکالے بولا تو جناب اس غلام کو اپنی پناہ میں لیں گی۔ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی محترمہ؟؟

وہ شرم سے اپنے خوبصورت چہرے کو ہاتھوں میں چھپاگئی۔

جی کیوں نہیں جناب ہم آپ کے منتظر...

(وہ بولی)۔

اٹھیں رضا سب دیکھ رہے ہیں وہ نیچے جھک کر اُسے اُٹھاتے ہوئے بولی تھی۔

دیکھتے ہیں تو دیکھتے رہیں۔اس بے رنگ دنیا میں میری زندگی کے رنگ آپ سے ہیں۔

(اس کی آنکھوں سے محبت ٹپک رہی تھی)

*°*°*°*°*°*

وہ کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے بولا تھا۔

بولو! کیا بات ہو گئی۔ کیا بول دیا میرے جگری دوست نے تمہیں جو تم مجھے آفس سے یہاں اُٹھا لائی۔ یہی تو بات ہے۔ وہ کچھ بولتا ہی نہیں۔ میں ہمیشہ اسکے بولنے کی منتظر رہتی ہوں۔ جب اُسکو فون کرتی ہوں اُٹھاتا نہیں یا کاٹ دیتا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ سعد میں کیا کروں۔ یونیورسٹی کے وقت سے ہم ساتھ ہیں.

اچھے سے جانتا ہے کہ کتنی محبت کرتی ہوں اُسے میں نہیں رہ سکتی اُسکے بغیر۔ لیکن مجال ہے اس کا دل نرم پڑھ جائے۔ میری محبت کا اس پر کوئی اثر نہیں....

تم.....تم نہ سعد اس سے بات کر و نہ کہ ایک بار مجھ سے مل لے۔

(اِسکےچہرے سے معصومیت جھلک رہی تھی)

دیکھو! امل تم جانتی ہو وہ تم میں(interested)

نہیں ہے۔ اُس پر جو گزری ہے تم اچھے سے جانتی ہو۔

ہاں میں جانتی ہوں لیکن میں یونیورسٹی کی لائف سے اب تک بس اُسی کے خواب دیکھے ہیں۔ میں اُسکے علاوہ کسی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔

میں اُسے کسی بھی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتی... وہ مجھ میں بس چکا ہے۔ میں اُس کو زندگی سے نکال دوں تو میرے پاس بس ہونے کے باوجود میں خالی ہاتھ ہوں گی....

(اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی) ۔

میں سمجھ سکتا ہوں تم پریشان مت ہو۔ میں اُس سے بات کرونگا۔

*°*°*°*°*°*

وہ معتاداً اپنے ایک کان میں(earbud) لگائے زِنک رنگ کی ہاف بازو ٹی شرٹ اور آف وائٹ ٹراوزر کے اوپر ایپرن پہننے ایک ہاتھ میں پینٹنگ برش اور دوسرے ہاتھ میں شیشے کی خوبصورت پیلٹ جس میں رنگ لیے اپنے سامنے

موجود (canvas) پر خیال اتارنے میں مصروف تھا......

جب پیچھے کوئی آواز دروازے سے ٹکرائی....

جی کا کا!! (وہ بولا)

صاحب آپکی کافی! وہ پیلٹ کو ساتھ پڑے ایک سٹول جس پر کھلے برش اور رنگوں کی ٹیوبز بِکھری پڑی تھی.

اپنے ہاتھ میں موجود برش اور پیلٹ سٹول پر رکھ کر دروازے کی طرف بڑھا۔ سامنے راموں کاکا کافی کی ٹرے ہاتھ میں لیے سفید رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض پہنے کاندھے پر ایک رومال رکھے موجود تھے۔

یہ لیجیے کافی! کچھ اور چاہیے؟

نہیں! (وہ گویا ہوا)

جی جناب! وہ یہ کہتے واپس ہو لیے۔

وہ واپس اپنی ٹیبل کی طرف بڑھا کافی کے کپ کو سٹول پر رکھ کر واپس کام میں مصروف ہو گیا۔

(پینٹگ کرنا اسکے پسندیدہ مشغلے میں سے ایک تھا۔ وہ رات کی تنہائی میں اکثر زوق فرماتا تھا۔)

"اسی وقت اس کے موبائل فون کی سکرین پر سعد نام چمکتا دکھائی دیا" وہ اپنے موبائل فون کو اکثر (silent) پر رکھتا تھا۔ وہ اپنے بدن پر سجے ایپرن سے رنگ میں گِرے ہاتھوں کو نرمی سے صاف کرنے کے بعد فون کو سپیکر پر

لگا تا ہے۔ ہیلو برو! کیسا ہے جانی فون کی دوسری طرف سے آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

فائن تو بتا؟ کیسے فون کیا اس وقت خیریت......

وہ...... وہ نہ آج امل آئی تھی۔ مجھ سے ملنے تیرا پو چھ رہی تھی۔ وہ گھبراہٹ کے مارے بس اتناہی بول پایا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ امل کو وہ صرف اچھا دوست مانتا ہے۔

ہہہم....... وہ بولا تھا۔

تو ایک بار اُس سے بات کر کے تو دیکھ تو جانتا ہے نہ کے وہ تجھ...........

وہ بات کاٹ کر بولا کل مل کر بات کریں؟

(ہمیشہ کی طرح وہ بات گھما گیا تھا)

سعد اچھے سے جانتا تھا کہ اُسے بات پسند نہیں آئی.. وہ مجبور تھا.... حازم ارزان کے لیے محبت امل کی آنکھوں میں دیکھ کر۔

ہاں ٹھیک ہے لیکن کل تجھے میری بات سننی ہو گی اور سمجھنی بھی۔

ہاں! (وہ بولا)

چل میں فون رکھتا ہوں۔ خیال رکھنا سعد یہ کہہ کر فون کاٹ چکا تھا۔

اچانک ایک زور دار شیشہ ٹوٹنےاور کسی کے چیخنے کی آواز نے اسکے عصاب جھنجھوڑ دیے.

(حُور..... وہ بے ساختہ چلایا تھا).

جاری ہے.


is episode ko pdf mein download karne ke liye niche diye gaye link par click karein:"

[Download PDF Episode 1]



📎https://bit.ly/4rXcU2y