باب نمبر ۱
وہ بستر پر بیٹھی اپنے لیپ ٹاپ پر رزلٹ کی ویب سائٹ کھولے بے چینی سے لوڈ ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے چونک کر فون کی طرف دیکھا۔ اسکرین پر کرن کا نام جگمگا رہا تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آگئی۔ اس نے فون اٹھایا مگر ویڈیو کال کا آپشن دیکھتے ہی ایک نظر پورے کمرے پر دوڑائی، پھر خود کو دیکھا۔
کمرے کی حالت نہایت خراب تھی۔۔۔۔ اس نے فوراً سائیڈ ٹیبل سے کیچر اٹھایا اور بال باندھ لیے۔ سیدھی ہو کر بیٹھی، بستر پر بکھری ہوئی چیزیں ایک طرف کیں اور تب جا کر کال اٹھائی۔
کرن کے بولتے ہوئے انداز سے وہ سمجھ گئی تھی کہ اس نے اپنا رزلٹ دیکھ لیا ہے۔ خبر صحیح تھی۔ کرن کا رزلٹ سن کر اس نے خوشی سے اس کو مبارکباد دی لیکن سگنلز ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے کال بند ہو گئ۔۔۔۔۔۔وہ وائی فائی ڈیوائس کے پاس گئی، اسے بند کر کے دوبارہ آن کیا اور کمرے میں واپس آئی۔
بیٹھتے ہی اس نے دوبارہ سے کرن کو کال کی اور پوچھا کہ اب آگے کا کیا ارادہ ہے؟ بات ابھی جاری ہی تھی کہ حورین کی نظر اچانک لیپ ٹاپ پر پڑی—وہی صفحہ جس کا وہ شدت سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔ لوڈ ہو چکا تھا۔ اگلے ہی لمحے ایک زوردار چیخ کمرے میں گونجی۔ کرن فوراً سمجھ گئی کہ۔۔۔ حورین نے بھی اپنا رزلٹ دیکھ لیا ہے۔۔
کمرے کا دروازہ ذرا سا کھٹکا اور سبیحہ بیگم اندر داخل ہوئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اس وقت حورین کی خوشی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، اسی لیے ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ چند لمحے پہلے ہی کرن نے مبارکباد دے کے کال بند کی تھی۔
حورین دوڑتی ہوئی ماں کے پاس آئی اور ان کے گلے سے لگ گئی۔ اس کے چہرے پر ایسی خوشی تھی جو الفاظ میں بیان نہ ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی نانا کے کمرے میں پہنچی، مگر وہاں وہ موجود نہ تھے۔ اسے فوراً دوسرے کمرے کا خیال آیا جہاں ولایت شاہ اکثر پائے جاتے تھے۔ اس وقت وہ اپنی نظر کی عینک لگائے، اسٹڈی روم کی کرسی پر بیٹھے کتاب میں گم تھے۔۔۔۔۔ حورین نے قریب آتے ہی نانا کی گردن میں بازو ڈال دیے اور خوشی سے چہکتے ہوئے بتایا، "نانا! میرا رزلٹ آؤٹ اسٹینڈنگ آیا ہے اب میں جلد ہی بابا کا خواب پورا کرونگی۔"
ولایت شاہ نے کرسی سے اٹھ کر اس کے سر پر بوسہ دیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ حورین خوشی سے بھری ہوئی اپنے ابو کے کمرے میں گئی۔ وہاں ان کی تصویر کے سامنے رکھ کر اس نے اپنی کامیابی کی خوشخبری اپنے بابا کو بھی سنائی۔۔۔۔۔۔ جیسے وہ تصویر کے پیچھے سے اسے دیکھ رہے ہوں۔ پھر وہ اس کمرے کو دیکھ رہی تھی جہاں اس کے ابو کے جانے کے بعد چھ سال گزرنے کے باوجود ہر چیز ویسے ہی رکھی تھی جیسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ اتنے میں سبیحہ بھی کمرے میں آگئیں۔ انہوں نے الماری کھولی اور ایک کتاب نکال کر اس میں سے تہہ کیا ہوا ایک کاغذ حورین کی طرف بڑھایا۔
کاغذ کے اوپر لکھا تھا: "میری پیاری سی بیٹی کے لیے"
چھ سال بعد اپنے باپ کی لکھی تحریر دیکھ کر حورین کی آنکھیں بھر آئیں، مگر وہ سبیحہ سے نظریں چراتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس نے آہستہ سے تحریر کھولی۔ اس میں صرف ایک جملہ درج تھا:
"وقت کا پرندہ سب سامنے لے آئے گا۔"
اس ایک سطر نے حورین کو بے چین کر دیا۔ اس کے دل میں سوال اٹھا کہ—"بابا نے مجھے یہ کیوں لکھ کر دیا؟ وقت کے پرندے سے ان کی کیا مراد؟؟؟"
وہ لمحہ لمحہ ماضی کو یاد کرنے لگی۔۔۔ اور ایک دھندلی سی یاد اس کی آنکھوں کے سامنے ابھرنے لگی۔۔۔۔۔۔ مومنہ نے ارسلان کے کمرے کا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا، مگر وہ شاید گہری نیند میں تھا، دروازہ کھل ہی نہیں رہا تھا۔ مومنہ نے جہانگیر کو آواز دی، "آپ کا صاحبزادہ ابھی تک سو رہا ہے"
اتنے میں اندر سے ارسلان کی بھرائی ہوئی آواز آئی، "آ رہا ہوں...!"
........حورین نے کاغذ کو سینے سے لگا لیا۔ دل کی دھڑکنیں تیز تھیں، جیسے کوئی پرانی، دبی ہوئی کہانی اس ایک سطر سے جاگ اٹھی ہو۔ وہ بار بار اپنے ابو کی تحریر پڑھتی، جیسے ہر بار لفظ "وقت" کی آواز بدل جاتی ہو—کبھی سخت، کبھی نرم، کبھی رازدار۔ کمرے میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، اور کھڑکی سے پردہ سرکتا ہوا دیوار پر ناچتی ہوئی روشنی ڈال رہا تھا۔ حورین کی آنکھیں بند ہوئی ہی تھیں کہ ماضی کی ایک تصویر اس کے سامنے ابھر آئی—
چھ سال پہلے...
بارش کا موسم تھا۔ آسمان پر کالے بادل تھے، اور اس کے ابو جلدی جلدی کچھ چیزیں اپنے بریف کیس میں رکھ رہے تھے۔ حورین بار بار پوچھ رہی تھی: "ابو کہاں جا رہے ہیں؟" مگر انہوں نے جواب دینے کے بجائے بس اس کے ماتھے پر پیار کیا تھا۔ اسی رات... وہ گھر نہیں لوٹے۔ یہ منظر ذہن میں آتے ہی حورین نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں۔ وہ بے چین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ تھا۔۔۔ کچھ ایسا جو وہ بھول چکی تھی، مگر اس کا دل جانتا تھا کہ وہی اس جملے کی اصل علت ہے۔ تبھی سبیحہ کی قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ آہستہ آہستہ حورین کے کمرے میں آئیں اور دروازے کی چوکھٹ پکڑ کر کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں۔ "کیا لکھا تھا، بیٹا؟" سبیحہ نے نرمی سے پوچھا۔ حورین نے کاغذ مضبوطی سے مٹھی میں دبا لیا، جیسے ابو کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر نہیں کہا۔ اس رات نیند اس سے روٹھ گئی۔ بار بار ذہن میں ابو کی مسکراہٹ، ان کی آواز، ان کا آخری دن، وہ بارش، وہ جلدی... سب تیزی سے گھومنے لگا۔۔۔۔۔۔
ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ سجا ہوا تھا اور ارسلان بے فکری سے کرسی کھینچ کر بیٹھ چکا تھا۔ چہرے پر وہی لاپرواہ سی مسکراہٹ، جیسے دنیا کی کوئی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہو ہی نہ۔ مومنہ نے اس کی پلیٹ میں آملیٹ رکھتے ہوئے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر طنزیہ لہجے میں بولیں، "آج میرے شہزادے کو کیا آوارہ گردی سوجھی ہے؟ کام تو ویسے بھی تم نے کرنا نہیں ہے۔ بس ناشتہ گھر پر کرتے ہو اور نکل جاتے ہو، پھر رات گئے واپسی ہوتی ہے۔ یہ سب آخر کب تک چلے گا، ارسلان؟"
ارسلان نے روٹی کا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے معصوم بننے کی ناکام کوشش کی، "امی... بس تھوڑا سا ٹائم پاس—"
"ٹائم پاس؟" مومنہ نے فوراً بات کاٹ دی، "تمہاری گریجویشن کو چار مہینے ہو چکے ہیں، اور ابھی تک تم نے اپنے بابا کا آفس جوائن نہیں کیا۔ یہ رویہ آخر کب بدلے گا؟" یہ سب باتیں سامنے اخبار پکڑے جہانگیر بھی سن رہے تھے۔ وہ خاموش تھے، مگر ان کی نظریں ارسلان پر ٹکی ہوئی تھیں۔ مومنہ کی ڈانٹ بڑھتی گئی تو ارسلان نے بے بسی سے ملتجی نظروں کے ساتھ اپنے بابا کی طرف دیکھا۔ وہ نظر... جو کچھ کہے بغیر سب کہہ جاتی ہے۔ جہانگیر نے اخبار تہہ کیا، اور بولے، "مومنہ، میں نے خود اسے تین مہینے دیے ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ یہ صرف تین مہینے انجوائے کرے گا۔ اس کے بعد تو ویسے ہی ساری زندگی یہی کرنا ہے—آفس، ذمہ داریاں، کام۔"
ارسلان نے فوراً موقع غنیمت جانا۔ ناشتہ ختم کیا، اٹھ کر پہلے امی کے گال پر پیار دیا، پھر بابا کے گلے لگتے ہوئے شرارت سے بولا، "آپ دونوں بیسٹ ہیں، خاص طور پر بابا!" یہ کہہ کر وہ ہنستے ہوئے دروازے کی طرف گیا اور چند ہی لمحوں میں گھر سے نکل گیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی ارسلان نے چابی گھمائی اور موبائل کان سے لگا لیا۔ "احمر! جلدی نیچے آؤ، میں باہر ہی کھڑا ہوں!" حالانکہ گاڑی ابھی گھر کی گلی سے نکلی بھی نہ تھی۔ پندرہ منٹ بعد جب وہ احمر کے گھر پہنچا تو منظر خاصا دلچسپ تھا۔ احمر شدید غصے میں دروازے کے پاس کھڑا تھا، بازو سینے پر باندھے، جیسے کوئی مجرم پکڑنے آیا ہو۔ ارسلان نے گاڑی روکنے میں دیر نہ کی۔ اگلے ہی لمحے احمر نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور بیٹھتے ہی زور کا مکا ارسلان کے کندھے پر مارا۔ "مجھے پندرہ منٹ سے یہ کہہ کر کھڑا رکھا ہوا ہے کہ بس پہنچ گیا، بس آ رہا ہوں!" احمر غصے سے بولا ارسلان نے ایک آنکھ دبائی اور ہنستے ہوئے کہا، "کل کا بدلہ لے لیا ہے تم سے۔ کل تم نے بھی تو یہی کیا تھا نا؟"
"اچھا بچو!" احمر نے طنز کیا، "اب تم مجھ سے مقابلہ کرو گے؟ پولیس والے سے؟"
ارسلان قہقہہ مار کر ہنسا، "بڑا آیا پولیس والا! مجھ پر نہیں چلے گا تمہارا زور۔ یہ وردی والا رعب کسی اور پر جھاڑنا!"
احمر نے گھبرا کر گھڑی دیکھی، "جلدی چلو، اس سے پہلے کہ ایس ایچ او صاحب تھانے پہنچ جائیں اور میری واٹ لگا دیں۔ مجھے ان سے پہلے پہنچنا ہے!"
گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھی۔ ارسلان نے گاڑی تھانے کے سامنے روکی تو احمر نے سیٹ بیلٹ کھولتے ہوئے گھور کر اسے دیکھا۔ "سن لو، تم اندر مت آنا خدا کے واسطے" پھر دانت پیستے ہوئے بولا، "تمہاری منحوس شکل جب تک میرے سامنے رہے گی، مجھ سے کام نہیں ہو پائے گا۔"
"اوئے چل! میں تو (اس ایچ او) سے ملنے آیا ہوں۔ تجھے پتا ہے کل—" وہ مجھے ایک قصہ سنا رہے تھے، لیکن عین بیچ میں گھر سے فون آ گیا اور وہ چلے گئے۔ قصہ ادھورا رہ گیا تھا۔ آج جو بھی ہو جائے، میں وہ پورا قصہ سن کر ہی جاؤں گا۔
احمر رک کر اسے گھورنے لگا۔
"ابے اوئے! تُو نے کب سے (ایس ایچ او) سے دوستی بنا لی؟"
ارسلان نے کالر درست کرتے ہوئے فخر سے کہا،
"بس یار، ٹیلنٹ ہے اپنا۔ کبھی غرور نہیں کیا۔"
احمر نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ پوچھا،
"ویسے ایسا کون سا قصہ تھا جو تمہیں اتنا انٹرسٹ دے رہا ہے؟"
انہیں باتوں میں دونوں چلتے چلتے احمر کے روم تک پہنچ گئے۔
احمر اندر چلا گیا اور ارسلان کا رخ (ایس اچ او) کے کمرے کی طرف مڑ گیا۔
جیسے ہی ارسلان نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر قدم رکھا،(ایس ایچ او) رحمان نے نظر اٹھائی۔
ارسلان کو دیکھتے ہی وہ فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔
"آوہ! ینگ مین، کیسے ہو؟"
ارسلان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
"میں ٹھیک ہوں، انکل۔ آپ سنائیں، کیسے ہیں؟"
"الحمدللہ، بالکل ٹھیک۔"
پھر محبت بھرے لہجے میں بولے،
"جہانگیر بھائی کیسے ہیں؟ اور مومنہ آپی؟"
ارسلان نے ادب سے کہا،
"وہ دونوں بھی ٹھیک ہیں۔"
رحمان—جو مومنہ کے خالہ زاد کزن تھے—تین ماہ پہلے ہی لاہور پوسٹ ہوئے تھے۔
ارسلان انہیں بے حد پسند کرتا تھا۔ وجہ صرف رشتہ نہیں تھی، بلکہ وہ کارنامے تھے جو انہوں نے سرانجام دیے تھے۔ بڑے بڑے بین الاقوامی مجرم... جن کے نام سن کر ہی لوگ کانپ جاتے تھے، رحمان نے انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔
اسی لیے ارسلان اکثر ان کے پاس آتا۔ خاموشی سے، دلچسپی سے، سوالوں کے ساتھ۔
وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایک مجرم کو پکڑنے کے لیے جال کیسے بچھایا جاتا ہے، ذہن کیسے پڑھا جاتا ہے، اور سراغ کیسے جوڑے جاتے ہیں۔
ارسلان کو آرمی یا پولیس میں بھرتی ہونے کا بڑا شوق تھا مگر۔۔۔۔
مومنہ بیگم ان سب چیزوں سے ڈرتی تھیں۔ آرمی، پولیس، انٹیلیجنس—یہ سب ان کے لیے صرف وردیاں نہیں تھیں، بلکہ زخم تھے۔
ارسلان کا ایک ماموں، منور، انٹیلیجنس آفیسر تھا۔ ایک مشن پر گیا۔۔۔ اور پھر واپس نہ آیا۔
دو مہینے بعد، ان کے بھائی کی لاش—بے دردی سے، نامعلوم افراد نے مومنہ کے گھر کے باہر پھینک دی تھی۔ وہ دن۔۔۔ وہ منظر۔۔۔ وہ صدمہ۔۔۔
مومنہ کے ماں باپ پہلے ہی دنیا سے جا چکے تھے۔ بس یہی دو بہن بھائی تھے۔ اسی لیے منور مومنہ کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔
اور پھر وہ بھی چلا گیا۔
تب سے مومنہ کے دل میں ایک ہی خوف بس گیا تھا— "اگر میرا بیٹا بھی گیا۔۔۔ تو وہ اسے بھی نہیں چھوڑیں گے۔"
اسی لیے ارسلان کو کبھی اجازت نہ ملی۔ نہ آرمی، نہ پولیس، نہ انٹیلیجنس۔
ارسلان چاہ کر بھی ماں کی بات سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ خاموش سیکھنے کی خواہش۔۔۔
اور یہی وجہ تھی کہ وہ رحمان سے سیکھنا چاہتا تھا۔ خاموشی سے،
مگر یہ بات۔۔۔ صرف احمر اور (اس ایچ او) رحمان ہی جانتے تھے کہ فورس میں جانا۔۔۔۔
ارسلان کی صرف خواہش ہی نہیں بلکہ جنون ہے جس کی خاطر وہ ایس ایچ او رحمان سے ٹریننگ لے رہا ہے۔ مگر احمر یہ نہیں جانتا تھا کہ ایس ایچ او رحمان اور ارسلان کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔
تمام طلبہ خاموشی سے کلاس میں بیٹھے سر محمود کا لیکچر سن رہے تھے۔ کمرے میں صرف مارکر کی آواز اور سر کی سنجیدہ گفتگو گونج رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا۔
کمرے کے دہانے پر دو سائے نمودار ہوئے۔ لمبا قد، باڈی بلڈر جیسی مضبوط مگر متوازن جسامت، چہرے کے تیکھے اور پُراعتماد نقوش، پیشانی پر بکھرے بال اور hazel brown آنکھیں اس وقت وہ دونوں جڑواں لگ رہے تھے۔
کلاس میں ہر ایک کی نظریں دروازے پہ تھی جہاں سہیل اور کامران سر کے جواب کے منتظر کھڑے تھے۔ لڑکیاں آنکھیں پھاڑے ان دو ہینڈسم نوجوانوں کو دیکھ رہی تھیں۔
دونوں دروازے کے پاس خاموشی سے کھڑے سر محمود کی اجازت کے منتظر تھے۔ جیسے ہی سر کی نظر ان دونوں پر پڑی، انہوں نے ہاتھ میں پکڑا مارکر میز پر رکھا اور گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں بولے،
"تم دونوں کو معلوم نہیں کلاس کس وقت شروع ہوتی ہے؟"
کامران نے فوراً معصومیت سے جواب دیا،
"سر، کلاس 9 بجے شروع ہوتی ہے، اور ہم 8:65 پر پہنچ گئے ہیں۔"
دونوں اپنی مخصوص نشستوں پر جا بیٹھے۔ بیٹھتے ہی سہیل نے سامنے بیٹھے سمیر کی طرف انگوٹھے سے گڈ کا اشارہ کیا۔
سمیر، جو بس سے آیا کرتا تھا، ہمیشہ سب سے پہلے پہنچ جاتا اور اپنے دوستوں کے لیے سیٹ پکڑ لیتا۔ کئی بار تو وہ باقی طلبہ سے لڑ بھی پڑتا تھا جو کامران یا سہیل کی نشست پر بیٹھنے کی کوشش کرتے تھے۔
سر محمود نے دوبارہ لیکچر شروع کر دیا۔ تقریباً پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ ان کی نظر سہیل پر پڑی۔ وہ اپنی کتاب منہ کے آگے کیے، مضمون سے ہٹ کر کچھ اور پڑھ رہا تھا۔
سر محمود آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کی نشست کے سامنے آ کھڑے ہوئے، مگر سہیل اس قدر محو تھا کہ اسے احساس ہی نہ ہوا۔ ساتھ بیٹھے کامران نے کہنی ماری تو سہیل نے کتاب نیچے کی اور غصے بھری نگاہ سے کامران کو دیکھا، جو سامنے دیکھنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
جیسے ہی سہیل نے سر اٹھایا، سر محمود کی غضب ناک آنکھوں سے آنکھیں مل گئیں۔
"محترم سہیل صاحب!" سر محمود کی آواز میں طنز تھا، "آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کیا پڑھ رہے تھے جو ہارٹ کی ایناٹومی سے زیادہ اہم ہے؟"
سہیل نے پورے اعتماد سے جواب دیا،
"سر، اگر آپ چاہیں تو میں ہارٹ کا ڈایا گرام بنا کر لیبل بھی کر سکتا ہوں۔"
سر محمود نے غصے سے کہا،
"Yes! it's your punishment!"
سہیل انتہائی اطمینان سے اٹھا اور بورڈ کے پاس چلا گیا۔ صرف دو منٹ بارہ سیکنڈ میں اس نے دل کا مکمل ڈایا گرام درست لیبلنگ کے ساتھ بنا دیا۔
سر محمود حیرت سے بورڈ کو دیکھتے رہ گئے۔ جو ڈایا گرام وہ خود بارہ منٹ میں بناتے تھے، وہ سہیل نے چند لمحوں میں مکمل کر دیا تھا۔ پوری کلاس دنگ رہ گئی۔
اتنے میں کلاس کی بیل بج گئی۔ سر محمود بغیر کچھ کہے کلاس سے باہر چلے گئے۔ ان کے جاتے ہی سمیر لپک کر سہیل کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر شاباشی دیتے ہوئے بولا: "واہ میرے شیر! آج تو سر محمود کے توتے اڑا دیے!"
تینوں ہنستے ہوئے سیدھا کینٹین کی طرف چل دیے۔ کینٹین میں حورین کرن کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔
یہ حورین اور سہیل کا پہلا سامنا تھا—اور یہ سامنا حورین کو بالکل پسند نہیں آیا۔
وہ وہی طالبہ تھی جس کا پورے کلاس میں چرچا تھا۔ پچھلے تمام کوئزز، اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز میں سب سے زیادہ نمبر اسی نے لیے تھے۔ مگر آج کلاس میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد ہر زبان پر صرف ایک ہی نام تھا— سہیل کا۔
اور کرن تو جیسے اس کی فین بن چکی تھی۔ یہ بات حورین کو کسی صورت برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ سہیل، کامران اور سمیر کینٹین میں آ کر ٹھیک اسی میز کے سامنے والی میز پر بیٹھ گئے جہاں حورین اور کرن موجود تھیں۔
حورین نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔۔ اور پھر ناگواری سے نظریں جھکا لیں۔
وہ کرن کے قریب جھک کر بیٹھی، "کرن۔۔۔ ابو نے جو لکھا تھا نا۔۔۔" حورین نے بیگ سے تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا، "مجھے اب تک سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے۔"
کرن نے کاغذ لے کر غور سے پڑھا۔
"وقت کا پرندہ سب سامنے لے آئے گا۔۔۔" وہ زیرِ لب بڑبڑائی، "یہ تو کسی راز جیسا لگتا ہے، حورین۔ شاید وہ کہنا چاہتے ہوں کہ سچ چھپتا نہیں؟"
حورین نے بے چینی سے سانس لی۔
"مگر کون سا سچ، کرن؟ ابو کوئی بھی کام ادھورا نہیں چھوڑتے تھے۔۔۔"
وہ بات ابھی جاری ہی تھی کہ اچانک کینٹین میں شور مچ گیا۔ بھاری قدموں کی آوازیں، سخت لہجے، چند پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے۔ کرن اور حورین نے چونک کر دیکھا۔
پولیس سیدھی اس میز کی طرف بڑھی جہاں سمیر، سہیل اور کامران بیٹھے تھے۔
"سمیر کون ہے؟"
ایک اہلکار کی آواز گونجی۔
سمیر ہکا بکا سا کھڑا ہوا،
"میں..."
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، پولیس نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
"آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔"
اسی اثنا میں سمیر نے اپنا ہاتھ اس پولیس والے کے ہاتھ سے چھڑوایا اور بھاگنا شروع کیا تبھی پیچھے کھڑے پولیس والے نے اس کے پیروں کے پاس گولی چلائی۔۔
گولی اس کے پیر کے پاس زمین پر لگی مگر وہ لڑکھڑا کے زمین پہ گر گیا تبھی ایک پولیس والے نے اسے پیچھے کالر سے پکڑ کے کھڑا کیا اور ہتھکڑی پہنا کر اسے اپنے ساتھ لے گئے
اور چونکہ سہیل اور کامران بھی ساتھ تھے تو اسی لیے ان کے بھی ساتھ لے گئے تاکہ ان سے بھی تفتیش کریں
سمیر کو لڑکیوں کو باہر کے ملکوں میں اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
یہ سب دیکھ کر کرن اور حورین ساکت رہ گئیں۔
"یہ... یہ کیا تھا؟" کرن کی آواز کانپ رہی تھی۔
حورین کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
بغیر کچھ کہے وہ دونوں کینٹین سے نکل گئیں اور سیدھی ہاسٹل کے کمرے میں آ گئیں۔
سر محمود نے کلاس میں آتے ہی بورڈ پر لکھا۔۔۔۔۔
“The Human Heart: Beyond Anatomy – Cardiac Physiology and Emotional Stress: A Biological Study”
اور کہا کہ 4 4 سٹوڈنٹس کا ایک گروپ بنے گا اور ہاں سب اپنے ڈیسک میٹس کے ساتھ گروپ بنائیں گے۔
"یہ بائیولوجی ہے یا نفسیات؟" کامران نے الجھن میں سہیل کے کان میں سرگوشی کی۔
سہیل نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "دل ہے بھائی… دونوں کا ملا جلا معاملہ ہوتا ہے۔"
ہورین نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو کامران اور سہیل بیٹھے انہی کی طرف دیکھ رہے تھے۔
کرن نے ایک چبتی ہوئی نگاہ ان دونوں پر ڈالی اور آہستہ سے ہورین کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
" ارئے یار ان کہ ساتھ نہیں کرونگی میں کام یہ دونوں سیریس کب ہیں پڑہائی میں یہ ہمارا پہلا اور بہت اہم اسائنمنٹ ہے میں نہیں چاہتی یہ خراب ہو۔۔۔ تم بات کرو سر سے کہ ہم اپنے گروپ ممبرز بدلنا چاہتے ہیں "
ہورین نے اثبات میں سر ہلایا اور سر محمود کہ پاس گئی اور ان سے کہا کہ سر ہمیں اپنے گروپ ممبرز بدلنے ہیں۔
سر نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور ہورین سے کہا کہ " آپ کیوں بدلنا چاہتی ہیں اچھا ہے وہ آپکے ساتھ ہونگے تو سیریس ہو کے کام کریں گے "
ہورین (جی سر ) بول کے اپنی سیٹ کی طرف واپس آئی اور کرن کو سر کی کہی بات بتانے لگی۔
لائبریری کے ایک پرسکون گوشے میں چاروں گروپ ممبرز آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ حورین مکمل عبایا میں تھی، اس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا اور صرف اس کی بھوری آنکھیں نمایاں تھیں—وہ آنکھیں جن میں ایک وقار بھی تھا اور کوئی ان کہی تھکن بھی۔
سکوت کو توڑتے ہوئے کرن نے دبی آواز میں پوچھا، "تو کام کی تقسیم کیسے کریں؟"
سہیل نے اعتماد سے فائل سیدھی کی، "میں Cardiac Cycle اور Electrical Conduction System کی ذمہ داری لیتا ہوں۔"
حورین نے پہلی بار چونک کر سر اٹھایا اور براہِ راست سہیل سے مخاطب ہوئی، "کیا آپ کو SA Node اور AV Node کی تفصیل معلوم ہے؟"
اس سے پہلے کہ سہیل جواب دیتا، کامران فوراً بول پڑا، "جی میڈم! یہ تو ہمارے دوست کو ایسے آتا ہے جیسے بچوں کو اے بی سی۔"
سہیل نے اسے گھور کر دیکھا، "خاموش رہ!"
پھر نہایت سنجیدگی سے حورین کو بتایا، "SA node دراصل pacemaker ہوتا ہے جو impulse generate کرتا ہے، جس سے atria contract کرتے ہیں۔ اس کے بعد AV node ایک معمولی delay پیدا کرتا ہے تاکہ ventricles مناسب طریقے سے خون سے بھر سکیں۔"
چند لمحوں کے لیے وہاں خاموشی چھا گئی۔ حورین کی آنکھوں میں حیرت کی ایک جھلک لہرائی اور اس نے مختصر کہا، "ٹھیک ہے۔" یہ اس کی جانب سے ایک خاموش تعریف تھی۔
کامران نے میز پر جھکتے ہوئے مشورہ دیا، "تو پھر کرن اور میں stress hormones یعنی Adrenaline اور Cortisol وغیرہ پر کام کر لیتے ہیں۔"
کرن نے آنکھیں تنگ کر کے اسے دیکھا، "کیا آپ کو Cortisol کے ہجے (spelling) بھی آتے ہیں؟"
کامران نے ڈرامائی انداز میں سینے پر ہاتھ رکھا، "ہم اتنے بھی جاہل نہیں ہیں، میڈم!"
سہیل نے ہنستے ہوئے لقمہ دیا، "بس کبھی کبھار acting کر لیتے ہیں۔"
شعور کا مرکز
چند دن بعد، جب وہ ایک بار پھر اکٹھے بیٹھے 'اسٹریس' اور 'دل' کے تعلق پر بحث کر رہے تھے، تو حورین نے دھیمی مگر پر اثر آواز میں کہا:
"آپ جانتے ہیں… دائمی تناؤ (chronic stress) صرف دل کی دھڑکن ہی نہیں، بلکہ انسان کے فیصلوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔"
کامران نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے مذاق کیا، "تو کیا اس کا مطلب ہے کہ امتحان کا تناؤ بھی دل کا دشمن ہے؟"
"جی ہاں… اور گناہ کا بوجھ بھی،" حورین نے سنجیدگی سے کہا۔
یہ جملہ فضا میں ٹھہر گیا۔ کرن نے حیرت سے اسے دیکھا اور سہیل بالکل خاموش ہو گیا۔ حورین نے بات جاری رکھی، "قرآن میں دل کو صرف پمپ نہیں کہا گیا، بلکہ اسے شعور کا مرکز مانا گیا ہے۔ اگر دل سخت ہو جائے تو انسان سچ سن کر بھی نہیں مانتا۔"
کامران نے آہستہ سے سہیل کے کان میں کہا، "یار! ہم تو پریکٹیکل فائل بنانے آئے تھے، یہاں تو روحانی وائیوا (spiritual viva) شروع ہو گیا۔"
سہیل نے اسے سختی سے روک دیا، "خاموش! اسے سننے دو۔"
اسی دوران مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ حورین نے فوراً اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ "میں نماز پڑھنے جا رہی ہوں۔"
کامران نے طنزیہ لہجے میں پوچھا، "کیا ہمیں بھی آنا چاہیے؟ یا کوئی دعوت نامہ ملے گا؟"
حورین نے پہلی بار نرمی سے جواب دیا، "اللہ کے گھر کے لیے دعوت نہیں… نیت چاہیے ہوتی ہے۔" وہ اٹھ کر چلی گئی۔
اگلے دن یونیورسٹی میں یہ خبر تیزی سے پھیلی کہ سمیر کے کیس میں کچھ نئے اور چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ کلاس میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔
کرن نے سرگوشی کی، "کیا واقعی وہ ایسا ہو سکتا ہے؟"
حورین نے سخت لہجے میں جواب دیا، "جو شخص برائی کرے، وہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔"
سہیل نے آہستہ سے دہرایا، "ہاں… وقت کا پرندہ سب سامنے لے آتا ہے۔"
یہ سن کر حورین کا دل جیسے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے حیرت سے پوچھا، "آپ کو یہ جملہ کیسے معلوم؟"
سہیل نے فوراً نظریں چرا لیں اور بات ٹالی، "بس… کہیں سنا تھا۔"
پریزنٹیشن کے دن ان کا گروپ سب سے بہترین قرار پایا۔ سر محمود نے بہت تعریف کی اور کہا، "یہ کام صرف سائنسی نہیں، بلکہ فکری بھی ہے۔"
پہلی بار حورین نے اعتراف کیا، "شکریہ! ہم سب نے مل کر اچھا کام کیا۔"
کامران نے مسکرا کر پوچھا، "تو کیا اب ہم دشمن نہیں رہے؟"
کرن نے ہنستے ہوئے کہا، "عارضی جنگ بندی (Temporary ceasefire) سمجھ لو۔"
سہیل نے حورین کی طرف دیکھ کر کہا، "دوستی وقت لیتی ہے۔"
حورین نے نظریں جھکاتے ہوئے جواب دیا، "اور اعتماد بھی۔"
اس رات سہیل ہاسٹل کی چھت پر کھڑا آسمان کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا، "دل صرف خون پمپ نہیں کرتا، فیصلے بھی پمپ کرتا ہے۔"
کامران نے پیچھے سے آکر اسے ٹوکا، "سہیل! یاد ہے نا ہم یہاں ایک مشن پر آئے ہیں؟"
سہیل نے مدھم آواز میں جواب دیا، "یاد ہے۔ مگر کبھی کبھی مشن سے پہلے انسان بننا پڑتا ہے۔"