زہنی قید. (ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

All Rights Reserved ©

Summary

کیا بچپن کے سائے کبھی پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کچھ یادیں جوانی کی دہلیز تک زہر بن کر ساتھ آتی ہیں، اور جب سوشل میڈیا کی چکا چوند ان اندھیروں سے ملتی ہے، تو انجام ہولناک ہوتا ہے۔یہ کہانی ہے ایک خوبرو نوجوان اور ایک حسین دوشیزہ اور چند ایسے راز جو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ۔۔۔"

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Chapter 4

                قسط نمبر       4


         (ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

حازم کی نظریں اب بھی بار بار اسی طرف جا رہی تھیں…

وہ خود کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا،

مگر جیسے اس کی آنکھوں نے اس لڑکی کو مان لیا تھا۔

“پاگل ہو گیا ہے کیا…؟” اس نے دل ہی دل میں خود کو ٹوکا۔

“یہ سب تیرے لیے نہیں ہے…”

مگر دل… ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

اسی لمحے،

ایک لمبا، بااعتماد سا لڑکا اس لڑکی کے پاس آ کر رکا۔

حازم کی نظر وہیں جم گئی۔

وہ لڑکا مسکراتے ہوئے اس کے قریب جھکا…

اور بہت اپنائیت سے کچھ کہا۔

لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

حازم کے اندر کچھ… ہلکا سا ٹوٹا۔

اس  کے ذہن نےسوال کیا،

“Who is he…?”

مگر دل نے جواب دینے سے پہلے ہی بے چینی بڑھا دی۔

اتنے میں Saad اس کے پاس آ گیا۔

“اوئے، کہاں کھو گیا؟ آ میں تجھے کسی سے ملواتا ہوں۔”

حازم نے ایک آخری نظر اس طرف ڈالی…

اور خاموشی سے Saad کے ساتھ چل پڑا۔

ہر قدم کے ساتھ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی…

جیسے وہ کسی انجانے سچ کے قریب جا رہا ہو۔

اور پھر—

وہی لڑکی…

اس کے سامنے کھڑی تھی۔

عنایہ کسی سے بات کر رہی تھی… ہنس رہی تھی…

مگر حازم کے لیے وہ سب دھندلا تھا،

واضح تھا تو بس اس کے ہونٹ… پر وہ تِل۔

حازم ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا۔

سعد خوشگوار انداز میں بولا،

“Hazim، meet my saali…Anaya”

حازم کی آنکھوں میں ایک لمحے کو حیرت چمکی۔ مگر حیرت کے ساتھ ایک سوال بھی تھا.. وہ لڑکا کون تھا جو عنایہ کے ساتھ تھا...

پھر اس نے پیار سے ساتھ کھڑی ایک اور لڑکی کا ہاتھ تھاما—

“اور یہ ہے میری منگیتر…

Neha (birthday girl) ....

آخر کار سعد آج آپکے دوست حازم بھائی سے ملاقات ہو گئی...

(نیہا بولی)

حازم نے ہلکا سا سر ہلایا...

اس نے ساتھ کھڑے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھا،

“.  حازم یہ عنایہ کا fiancé رضا ہے”

بس ایک جملہ…

اور جیسے حازم کے اندر سب کچھ خاموش ہو گیا۔

                   fiancé۔.      

یہ لفظ اس کے کانوں میں گونجتا رہا۔

حازم نے بمشکل خود کو سنبھالا،

چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائی۔

اس نے ہاتھ بڑھایا..

“Nice to meet you,”

حازم نے دوستانہ انداز میں ہاتھ ملایا،

“Same here, bro.”

عنایہ نے بھی سر ہلا کر سلام کیا۔

مگر Hazim…

وہ صرف ایک چیز محسوس کر رہا تھا..

وہ احساس… جو پہلی بار آیا تھا…

اب پہلی بار ہی چھن بھی گیا تھا۔

“چلو، تم لوگ enjoy کرو،” Saad ہنستے ہوئے بولا۔

حازم نے ہلکا سا سر ہلایا،

اور وہاں سے ہٹ گیا۔

شور ویسا ہی تھا…

روشنی ویسی ہی تھی…

مگر اس کے لیے…

سب کچھ بدل چکا تھا۔

“بے وقوف…” اس نے خود سے کہا،

“یہ سب تیرے لیے کبھی تھا ہی نہیں…”

مگر دل.....

اب بھی ماننے کو تیار نہیں تھا۔

*°*°*°*°*°*

گھر میں غیر معمولی خاموشی پھیلی ہوئی تھی......

دیوار پر لگی گھڑی کی ٹِک ٹِک صاف سُنائی دے رہی تھی. حور اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی کتابیں پرھنے میں مصروف تھی۔

حازم کو Birthday party پر گئے کچھ گھنٹے گزرے تھے ، اور اس کے جاتے ہی جیسے پورا گھر سُن ہو گیا تھا۔

ڈوربیل.... کی آواز اچانک گونجی

حور چونک گئی۔

اس وقت کون ہو سکتا ہے....؟ بھائی!...... نہیں وہ کبھی کچھ بھولتے نہیں لے جانا.....۔

اتنے میں راموں کاکا نے دروازہ کھولا۔

اتنے. میں حور بھی آ گئی۔

کون ہے کاکا.....؟

سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کروہ ایک لمحے رُک سی گئی۔

گہرے رنگ کا سادہ لباس، ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ اور لبوں پر ایک نرم سی مُسکراہٹ ۔

لیکن اس کی آنکھیں۔

وہ غیر معمولی طور پر پُراعتماد تھیں۔

"اسلام وعلیکم....... میں امل ہوں، حازم کی یونیورسٹی کی دوست۔"

اس نے نظر جھکا کر کہا،. مگر آواز میں عجیب ساٹھہراؤ تھا۔

حازم بھائی  گھر پر نہیں ہیں۔

اس، نے سیدھا جواب دیا، جیسے بات وہیں ختم کرنا چاہتی ہو۔

"مجھے پتہ ہے۔"

امل  نے فوراً کہا.

چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی... میں اصل میں آپ سے ملنے آئی ہوں۔

مجھے پتا چلا کے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں. اس نے پھول آگے بڑھا دیے۔

ایک سادہ سی بات.....

لیکن انداز ایسا تھا کہ انکار کرنا مُشکل ہو جائے۔

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی.... اور بولی میرے لیے لیکن کیوں؟

حازم میرا بہت اچھا دوست ہے. تو اسکی چھوٹی بہن بھی میری بہن جیسی ہوئی نہ تو بس یوہی لے آئی۔

(امل بولی)

راموں کاکا یہ سب سن رہے تھے۔

انھوں نے حازم اور سعد کے منہ سے ایک دو بار امل کا نام سُنا تھا۔

اندر آنے کا نہیں بولوگی پیاری سی

گُڑ یا۔(وہ بہت پیار اور اپنائیت سے بولی)

"آجائیں...."

امل اندر داخل ہوئی۔

اس کے قدم آہستہ تھے. مگر نظریں تیز وہ بظاہر خاموشی سے چل رہی تھی. مگر اس کا ذہین ہر چیز کو محسوس کر رہا تھا۔

گھر کا ماحول......

دیواروں پر لگی تصویریں......

اور سب سے بڑھ کر......

وہ لڑکی........ جو حازم کی کمزوری تھی۔

امل کے لبوں پر ہلکی سی مُسکراہٹ آئی۔

جو اس نے فوراً چُھپالی۔

آپ حازم کی چھوٹی بہن ہیں نا؟

اس نے ایسے پوچھا جیسے تصدیق کر رہی ہو، حالانکہ وہ پہلے سے جانتی

تھی.

"جی آپی"

"وہ آپ کا بہت ذکر کرتا ہے....."

یہ جُملہ سُنتے ہی اس کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی......

یہ وہ لمحہ تھا جس کا اُسے انتظار تھا۔

وہ صوفے پر بیٹھ گئی. جیسے اب جانے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔

"آپ واقعی بہت lucky ہو گُڑ یا....."

(اس نے آہستہ سے حسرت لیے کہا)

" کیوں؟ "

" کیونکہ کوئی آپ کو اتنا چاہتا ہے....."

الفاظ سادہ تھے. مگر لہجہ ایسا کہ سیدھا دل میں اُتر جائے۔

حال میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔

پھر وہ خود ہی مُسکرادی، جیسے بات ہلکی کرنا چاہتی ہو۔

" میں...... کبھی کبھی آجاؤں؟

اگر آپ کو بُرانہ لگے تو..... "

کیونکہ میرے پاس بھی ایک چھوٹی بہن کی کمی ہے۔

اس نے نظر جُھکا کر کہا......

آسکتی ہیں آپی حازم بھائی آپ کے دوست جو ہیں۔

ایک عام سا جُملہ تھا.......

مگر امل کے لیے.....

دروازہ کُھلنے کے برابر تھا۔

امل نے آہستہ سے thank you کہا۔

اوہ....... میں بھول ہی گئی. جس وجہ سے میں آئی تھی. حورین بیٹا کیسی ہو اب پاؤں کیسا ہے آپ کا؟

جی آپی اب کافی بہتر ہے۔

راموں کاکا کھانے کو بسکٹ نمکو چائے وغیرہ لائے. کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد امل اُٹھ کر جانے لگی.....

اب میں چلتی ہوں پھر کبھی آؤں گی ملنےکے لیے . وہ حور کا ہاتھ پکڑے بولی۔

دروازے سے باہر نکلتے ہوئے اس کے قدم رُکے.......

ایک لمحے کے لیے اس نے مُڑکر گھر کو دیکھا.....

اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اُبھری۔

"اب دیکھتے ہیں حازم...... تم مجھ سے کتنی دیر دور رہتے ہو......"

وہ دل ہی دل میں مُسکرائی.....

اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

*°*°*°*°*°*

کافی رات گزر چکی تھی. گھر کی خاموشی ہمیشہ کی طرح گہری تھی، مگر آج اس خاموشی میں ایک عجیب سا سکون شامل تھا.

دروازہ آہستہ سے کھلا....

حازم اندر داخل ہوا.

پارٹی کی روشنیوں ،شور اور قہقہوں سے نکل کر اس خاموش اندھیرے میں آنا جیسے ایک الگ ہی دنیا میں قدم رکھنا تھا.

اس نے بغیر آواز کیے دروازہ بند کیا.

اور سیدھا اپنی بہن حور کے کمرے کی طرف بڑھ گیا.

دروازہ ہلکا سا کھولا. کمرے میں مدھم

روشنی پھیلی ہوئی تھی.

حور بیڈ پر سکون سے سو رہی تھی. جیسے دنیا کی کسی فکر سے آزاد ہو.

اس کے اوپر چادر بڑی ترتیب سے ڈالی ہوئی تھی. شاید وہ خود ہی سو کر اوڑھ گئی تھی.. یا کسی نے خیال رکھا تھا.

حازم چند لمحوں تک دروازے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا.

اس کے چہرے پر نرمی آگئی........

آنکھوں میں ایک عجیب سی حفاظت کی جھلک ابھری.

وہ آہستہ سے اندر آیا. چادر کو تھوڑا سا ٹھیک کیا.

اور پھر بغیر کوئی آواز کیے واپس مڑ گیا.

دروازہ بند کر تے ہوئےاس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی.

اپنے کمرے میں آکر اس نےکوٹ ایک طرف رکھا اور سیدھا بیڈ پر گر گیا.

چھت کو گھورتے ہوۓ اس نے ایک گہرا سانس لیا.

آج کچھ بدلا تھا.....

پارٹی کی وہ روشنی....

وہ ہنسی.....

اور پھر..... عنایہ!!

وہ منظر بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے آ رہاتھا.....

حازم نے آنکھیں بند کر لیں.

دل میں ایک ہلکی سی چبھن ابھری.

مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھال لیا.

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا.

(اس نے آہستہ سے خود سے کہا)

جیسے خود کو یقین دلا رہا ہو.

"یہ سب میرے لیے نہیں ہے."

اسکی آواز دھیمی تھی..... مگر الفاظ سخت......

مگر دل جیسے ماننے کو تیار ہی نہیں تھا.

ایک لمحے کے لیے اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی.

بلاوجہ.......

یا شاید کسی وجہ سے... جسے وہ ماننا نہیں چاہتا تھا.

کچھ تو تھا اس لڑکی میں حازم آرزان کو

جس نے اپنی طرف متوجہ کیا؟

اس نے خود سے سوال کیا...

مگر جواب نہیں دیا.

کمرے کی تگ پھر سے گہری ہو گئی. اس نے ایک اور گہرا سانس لیا.

اور پہلو بدل کر لیٹ گیا.

آنکھیں بند کر تے ہی جیسے ساری تھکن

اس پر حاوی ہو گئی.

لبوں پر وہی ہلکی سی ادھوری مسکراہٹ باقی تھی.

اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ. کب وہ نیند کی آغوش میں اُترا وہ اس سے بے خبر تھا.

*°*°*°*°*°*°*

رات کی خاموشی ابھی باقی تھی. کھڑکی کے پردے ہلکے ہلکے ہوا سے ہل رہے تھے ،اور کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی.

عنایہ بیڈ کے کونے پر بیٹھی تھی.

ہاتھ میں فون،اور لبوں پر ایک دبی دبی مسکراہٹ....

رضا !!    اسکرین پر نام جگمگا رہا تھا.

جی ہاں!!  بتائیں؟

اس نے ہلکی سی شرماتی ہوئی آواز میں کہا....

دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی سنائی دی.

آج آپ ... کافی (different) لگ رہی تھی. عنایہ کے دل کی دھرکن تیز ہو گئی...

"Different" ???

اس نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے پوچھا.

"ہاں..... اچھی" .

وہ رُکا....

"نہیں، بہت اچھی. "

عنایہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی. وہ نظریں جھکا کر بے وجہ اپنی انگلیوں سے کھیلنے لگی.

"آپ بھی" ........

وہ آہستہ سے بولی ،اچھے لگ رہے تھے. دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی. پھر.....

بس اچھا؟

اس کے لہجے میں ہلکی سی شرارت تھی.   (عنایہ ہنس دی)

صرف اچھا یا اچھے سے زیادہ؟

اب دونوں طرف خاموشی تھی.

مگر وہ خاموشی (awkward) نہیں بلکہ میٹھی تھی.

جیسے دونوں ایک دوسرے کی موجودگی کو صرف محسوس کر رہے ہوں.

عنایہ......

رضا کی آواز اس بار ذرا سنجیدہ ہوئی.

"ہمیں اب دیر نہیں کرنی چاہیے."

عنایہ چونکی.....

دل ایک لمحے کو رُکا.

کیا مطلب ؟

اگلے مہینے ابو واپس پاکستان آ رہے ہیں.

اس نے آہستہ سے کہا، میں چاہتا ہوں..

ہم تمہارے گھر آئیں.... اور(date fix)

کر لیں، ابو کے پاکستان آتے ہی.

یہ سن کر عنایہ کے چہرے پر الگ روشنی آ گئی..    سچ؟

اسکی آواز میں خوشی صاف جھلک رہی تھی.

"ہاں"... رضا ہلکا سا مُسکرایا، اب اور انتظار نہیں ہوتا....

عنایہ نے آنکھیں بند کر لیں.....

دل میں ایک نرم سی خوشی پھیل گئی.

جیسے سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہو.... اپنی

جگہ پر آرہا ہو..

"میں انتظار کروں گی".

(اس نے آہستہ سے کہا)

زیادہ نہیں کرواؤں گا.

اس نے فوراً جواب

دیا.

            عنایہ ہلکا سا ہنس دی.         

            رضا ، "good night"         

        (رضا کی جان"(Goodnight")     

              (وہ یک دم شرمائی)             

کال ختم ہو گئی. عنایہ نے فون اپنے دل

کے قریب رکھا......

اور بیڈ پر لیٹ گئی.....

چھت کو دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی.

اسے نہیں پتہ تھا، کہ کہیں نہ کہیں.

کوئی اسے دیکھ رہا ہے. یا اس کی زندگی کے قریب نا چاہتے ہوئے بھی بڑھنے لگا ہے.

*°*°*°*°*°*

کمرے میں ہلکی سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی…

امل بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی تھی، بال کھلے ہوئے… چہرے پر وہی سنجیدگی اور ایک حسرت ۔

دروازہ آہستہ سے کھلا…

"امل؟"

ماں کی نرم آواز سنائی دی۔

امل نے سر اٹھایا،

"جی امی… آئیں۔"

وہ مسکراتی ہوئی اندر آئیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں،

نرمی سے اس کے بال کان کے پیچھے کیے۔

"میری بیٹی…"

ان کے لہجے میں وہی مانوس پیار تھا… جس میں ڈانٹ کی جگہ ہمیشہ نرمی ہوتی تھی۔

چند لمحے وہ بس اسے دیکھتی رہیں،

پھر آہستہ سے بولیں—

"کیا سوچا تم نے؟"

امل نے نظریں چرا لیں…

"امی… ابھی—"

"میں جانتی ہوں…"

انہوں نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا،

"تمہیں جلدی پسند نہیں… اور ہم نے تم پر کبھی زبردستی بھی نہیں کی۔"

امل نے ہلکا سا سر ہلایا۔

"تم نے جو کہا تھا… ہم نے وہی کیا۔"

ماں نے نرمی سے یاد دلایا،

"ہم نے تمہاری بات مانی سب ویسے ہی رکھا جیسے تم چاہتی تھی۔"

ان کی آواز میں شکوہ نہیں تھا…

بس ایک نرم سا احساس تھا۔

"مگر بیٹا…"

انہوں نے اس کا ہاتھ تھوڑا دبایا،

"اب تم بھی تو ہماری بات سمجھو۔"

امل خاموش رہی…

"تم جانتی ہو نا… تمہارے ابو مان نہیں رہے۔"

ان کی آواز ذرا آہستہ ہو گئی،

"انہیں تمہاری پسند… اتنی پسند نہیں آئی۔"

امل کے چہرے پر ہلکی سی سختی آئی،

"وہ کبھی میری پسند نہیں مانتے…"

"ایسا نہیں ہے…"

ماں نے فوراً نرمی سے کہا،

"بس… وہ فکر کرتے ہیں۔ تم ان کی اکلوتی بیٹی ہو… لاڈلی بھی… اور تھوڑی سی ضدی بھی۔"

آخر میں وہ ہلکا سا مسکرا دیں۔

امل کے ہونٹوں پر بھی بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔

"امی…"

"سن لو میری بات…"

انہوں نے پیار سے اس کے گال کو چھوا،

"ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہمیشہ رہیں گے۔"

یہ جملہ سن کر امل کی آنکھوں میں نرمی آ گئی۔

"لیکن اگر کل… ہمیں آگے بڑھنا پڑا…

اور تمہارے ابو نے بات پکی کرنے کا کہا…"

وہ ذرا رُکیں…

"تو تم انکار نہیں کرو گی… نا؟"

یہ سوال نہیں تھا—

ایک نرم سی درخواست تھی۔

امل نے نظریں جھکا لیں…

دل ابھی بھی کہیں اور الجھا ہوا تھا،

مگر ماں کا ہاتھ اس کے ہاتھ پر تھا—

گرم، مانوس… اور یقین دلانے والا۔

"میں… کوشش کروں گی۔" 

اس نے آہستہ سے کہا۔

ماں نے مسکرا کر اس کے ماتھے کو چوما۔

"بس اتنا ہی کافی ہے۔"

کمرے میں خاموشی پھیل گئی…

مگر اس خاموشی میں اب دباؤ نہیں تھا.

بس ایک رشتہ تھا…

جو محبت سے بندھا ہوا تھا۔

*°*°*°*°*°*°*

کمرہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔

وہ آدمی کرسی سے بندھا تھا—

ہاتھ پیچھے کی طرف جکڑے ہوئے… سانسیں تیز… آنکھوں میں صاف خوف۔

اچانک—

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

جوتوں کی آواز سنائی دی۔

اُس نے سہم کر سر اٹھاتا ہے۔

دروازے میں ایک سایہ ابھرا…

پھر وہ اندر آیا—

ماسک مین۔

چہرہ مکمل چھپا ہوا…

قدم سُست… مگر پُراعتماد۔

وہ سیدھا اس کے سامنے آ کر رُکا۔

صرف اسکرین کی نیلی روشنی اردگرد پھیل رہی تھی،

جیسے کمرے میں سکون کے بجائے خوف کا سایہ بکھیر رہی ہو۔

آدمی کرسی سے بندھا ہوا تھا، پسینے میں لت پت، سانسیں بے ترتیب…

آنکھیں سکرین اور ماسک مین کے درمیان بھٹک رہی تھیں۔

ماسک مین۔

ہر ایک حرکت میں ایک خاموش دھمکی۔

"دیکھو…"

اس نے آہستہ سے کہا، اور ریموٹ کے بٹن دبائے۔

اسکرین پر ایک ویڈیو چلنے لگی—

ایک آدمی… خوف کے مارے کانپ رہا تھا…

اور واضح تھا کہ وہ درد محسوس کر رہا ہے… لیکن یہ سب صرف ویڈیو تھی۔

آدمی کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

"نہیں… نہیں! یہ تم نہیں کر سکتے!"

اس نے سر جھکایا، ہاتھوں میں لرزش، دل تیز دھڑک رہا تھا۔

ماسک مین نے میز سے ایک باریک سی چیز اٹھائی—

ایک عام سی پین۔

اس نے اسے انگلیوں میں گھمایا… جیسے کسی کھیل کا حصہ ہو۔

"Curiosity… ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے۔"

وہ جھکا۔

اگلے ہی لمحے—

آدمی کی چیخ کمرے میں گونج گئی…

تیز… بے قابو… اور دل دہلا دینے والی۔

ماسک مین نے سر ہلکا سا جھکایا، جیسے مسکرا رہا ہو۔

"یہ؟ یہ تمہاری کہانی نہیں… ابھی تک۔"

وہ رُکا، پھر قدم بڑھایا۔

"لیکن تم… تمہاری اگلی کہانی… ویسی ہی ہوگی۔

ویسی تکلیف، ویسا خوف… ہر لمحہ تمہاری زندگی کو چھو لے گا۔"

"نہیں! مجھے جانے دو!"

آدمی کراہ رہا تھا، خوف سے کانپتا ہوا۔

ماسک مین نے ہلکی ہنسی کے ساتھ کہا:

"جھوٹے لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہیں۔

'مجھے چھوڑ دو'…

(کرسی سے بندھے آدمی کی آواز میں ایک نامکمل اُمید تھی)

لیکن دیکھو… تمہاری ہر سانس اب میری گرفت میں ہے۔"

اس نے ریموٹ دبایا، ویڈیو تبدیل ہو گئی۔

ہر منظر مزید خوفناک، ہر لمحہ زیادہ پُراسرار۔

آدمی آنکھیں بند کر کے پیچھے ہٹنے لگا، لیکن وہاں کوئی جگہ نہیں تھی…

صرف نیلی روشنی، اور وہ ماسک والا۔

"یہ ویڈیو… یہ تمہیں دکھاتی ہے کہ دنیا کے سامنے کچھ نہیں ہوتا۔

تم غائب ہو جاؤ… اور کوئی نہیں پوچھے گا۔

تمہاری کہانی صرف میرے پاس رہے گی…"

(وہ قہقہہ لگا کر ہنسا)

اس نے سر تھوڑا سا ٹیڑھا کیا،

"اور جب وقت آئے گا… تمہیں وہی دکھاؤں گا۔

تمہاری زندگی… تمہاری کہانی… تمہاری موت… سب میری ڈور پر۔"

آدمی آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھ رہا تھا…

خوف اور بے بسی میں مکمل گرفتار۔

ماسک مین کچھ لمحے خاموشی سے اسے گھورتے ہوئے کھڑا رہا، پھر آہستہ سے کہا:

"اب بس… یاد رکھو:

ہر لمحہ، ہر فیصلہ، ہر حرکت…

میری نظر میں ہے۔

اور تمہاری اگلی کہانی…

میرے ہاتھوں میں لکھی جائے گی۔"

پھر… ایک دم

سکرین اچانک بلیک ہو گئی۔

کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا۔

اور وہ سکوت—

بس خوف کی گونج باقی رہی۔

آوازیں…

ایک ایک کر کے ختم ہو گئیں—

سانسیں…

ہلچل…

سب کچھ۔

اور پھر—

مکمل خاموشی۔

ایسی خاموشی… جو چیخ رہی تھی۔

*°*°*°*°*°*°*

کمرے میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔

حازم نے آخری اسٹروک لگایا… اور برش کو آہستہ سے نیچے رکھ دیا۔

چند لمحے وہ ساکت کھڑا رہا… پھر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا۔

اس کی نظریں صرف اس پینٹنگ پر جمی تھیں۔

کینوس پر بنا چہرہ عجیب حد تک زندہ محسوس ہو رہا تھا… آنکھیں جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

حازم کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

"آخر کار… تم مکمل ہو گئیں۔"

وہ تھوڑا قریب آیا، انگلی سے پینٹنگ کے گال کو ہلکا سا چھوا۔

"اب دیکھنا… سب تمہیں دیکھیں گے… مگر سمجھ کوئی نہیں پائے گا۔"

اس نے سر جھٹکا، جیسے کسی خیالی آواز کو رد کر رہا ہو۔

"چپ… زیادہ بولنے کی عادت ٹھیک نہیں۔"

وہ ہلکا سا ہنسا… ایک ٹھنڈی، بےجان ہنسی۔

پھر وہ مڑا اور واش بیسن کی طرف گیا۔

ہاتھوں پر لگا رنگ دھوتے ہوئے اس کی نظریں آئینے میں خود پر جم گئیں۔

کچھ لمحے وہ بس خود کو دیکھتا رہا…

پھر تولیہ اٹھایا، ہاتھ خشک کیے۔

الماری کھولی۔

اندر سلیقے سے رکھے مہنگے کپڑے۔

اس نے سیاہ شرٹ نکالی، اس پر ڈارک گری کوٹ پہنا، گھڑی باندھی… بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

ہر چیز پرفیکٹ۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا، کالر سیدھا کیا، ہلکا سا مسکرایا۔

"معصوم چہرہ… خطرناک ارادے۔"

لائٹس بند کرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھا۔

ایک لمحے کو رکا…

پیچھے مڑ کر پینٹنگ کو دیکھا۔

اندھیرے میں بھی وہ چہرہ جیسے اسے گھور رہا تھا۔

"آرام کرو… جلد ہی دوبارہ ملیں گے۔"

دروازہ کھلا… پھر بند۔

*°*°*°*°*°*

صبح کا وقت تھا. وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے. حازم کرسی پر بیٹھا فون سکرول کر رہا تھا. جبکہ حور سامنے بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی.

(اچانک حور مخاطب ہوئی)

بھائی...... کل آپ کی دوست مجھ سے ملنے آئی تھیں....

حازم نے چونک کر سر اٹھایا،

آ پ سے اور میری دوست؟

وہ مسکراتے ہوئے بولی:   امل آپی بہت اچھی تھیں اور بہت پیاری بھی...

(وہ شرارتی انداز میں بولی)

حازم کی بنھویں فوراً سکر گئیں.

امل؟ وہ یہاں کیوں آئی تھی؟

آپ نے مجھے کبھی امل آپی کے بارے میں بتایا کیوں نہیں؟

حور ناراضگی سے بولی...

میری گڑ یا وہ میری دوست نہیں ہے. سعد میں اور امل

یونیورسٹی میں ساتھ تھے...

میں نے کہا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں. لیکن وہ پہلے سے جانتی تھی..

(وہ معصومیت سے بولی)

وہ میری چوٹ کے بارے میں جاننے آئی تھیں. اور بہت خوبصورت سا گلابوں کا گلدستہ بھی لائی.....

وہ میرے ساتھ کافی دیر بیٹھی رہیں.

(حازم نے جھنجھلا کر سانس لی)

بیٹا اپنے انہیں اندر کیسے  آنے دیا؟

اتنے میں کچن سے کاکا باہر آۓ.

ہاتھ میں چاۓ کا کپ تھا.

صاحب میں نے ہی دروازہ کھولا تھا.

حازم نے تیزی سے کاکا کی طرف دیکھا.

آپ نے؟

آپ جانتے تھے اُسے کے کون تھی؟

(کاکا تھوڑا گھبرا گئے)

بیٹا وہ آپ کا نام لے رہی تھی. کہہ رہی تھی کہ آپ کی جان پہچان کی ہے.

حُور نے فوراً کہا:   جی ہاں بھائی!

وہ آپ کا پتہ بھی پوچھ رہی تھیں.

جیسے پہلے سے کچھ جانتی ہوں.

کاکا نے ہچکچاتے ہوۓ کہا:  وہ بار بار

گھر کے اندر ایسے دیکھ رہی تھی. جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہوں.

حُور نے سر ہلایا جی! بھائی!

وہ آپ کے کمرے کے پاس بھی گئی تھی.

میں نے پوچھا تو کہنے لگی بس ایسے ہی.

حازم کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا.

میرے کمرے کے پاس ؟

حُور نے آہستہ سے کہا بھائی وہ کہہ رہی تھی آپ سےکچھ ضروری بات کرنی ہے. حازم نے نظریں جھکائی.

جیسے وہ ضروری بات جانتا تھا.

(حازم کو غصہ آیا تھا)

کاکا آپ نے کسی کو بھی کیسے اندر آنے دیا؟ آئندہ خیال رکھئیے گا وہ گھر میں نا آئے.

لیکن بھائی وہ بہت اچھی تھیں اور مجھ سے بہت پیار سے بات کر رہی تھیں.

(حور بولی)

بھائی کبھی کبھی  امل آپی کوگھر آنے دیں مجھے اچھا لگے گا.

حازم کچھ بول ہی نہیں پایا. اچھا ٹھیک ہے میری جان.

(وہ بہت پیار سے حور کو بولا)

امل.......

وہ چاۓ کا کپ ہونٹوں سے لگائے من ہی من سوچنے لگا اسکا غصہ اسکے چہرے پر صاف دکھائی دے رہا تھا...

بھائی میں اب بالکل ٹھیک ہوں. کل سے سکول جاؤ گی کافی کلاسز مِس ہو چکی ہیں.

ہاں! شکر ہے اللہ کا میری لاڈلی اب ٹھیک ہے..

(وہ غصہ چھپاتے ہوئے بولا)

تو پھر پرسوں چلتے ہیں میری پیاری بیٹی کی شاپنگ کے لیے... کیا کہتی ہو؟

اووووو! جی بھائی! ٹھیک ہے..

وہ بہت خوش تھی.

آپ کیسے جانتے کہ میں یہی کہنے والی ہوں؟    

(وہ سوالیہ نظر سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی)

وہ مسکرایا تھا....

(حور نے آگے بڑھ کر حازم کو گلے لگایا)

قہقہوں کی گونج حال میں پھیل گئی.

ان کی ہنسی میں چھپی ہوئی محبت  جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی.

جاری ہے.....