Chapter 7
قسط نمبر 7
(ازقلم سیدہ حسباءبخاری)
سعد اپنے کمرے میں کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔
آواز دھیمی تھی… جیسے کسی اہم بات پر discussion ہو رہا ہو۔
"نہیں… ابھی نہیں… میں خود handle کر لوں گا…"
(اس نے سنجیدہ لہجے میں کہا)
اتنے میں دروازہ کھلا…
اس کی والدہ زینب بیگم اندر آئیں۔
سعد نے فوراً نظر اٹھائی… اور ایک لمحے میں (call cut) کر دی۔
"ٹھیک ہے، بعد میں بات کرتا ہوں…"
کہہ کر اس نے فون نیچے کر لیا۔
“کس سے بات کر رہے تھے؟”
ماں نے سیدھا سوال کیا۔
سعد نے ہلکا سا نارمل بنتے ہوئے کہا،
"بس… ایک friend تھا"
ماں نے اسے غور سے دیکھا، مگر بات کو آگے نہیں بڑھایا۔
"اچھا چھوڑو… مجھے تم سے بات کرنی تھی"
سعد سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا،
“جی امی؟”
"ہمیں Neha کے گھر جانا ہے…"
انہوں نے صاف انداز میں کہا۔
سعد کے چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی آ گئی،
“کیوں؟”
"سعد میں سوچ رہی ہوں کہ تمہاری اور نیہا کی منگنی کی بجائے نکاح کر دیا جائے۔" میری رابعہ باجی سے بات ہو گئی ہیں انھیں بھی کو اعتراض نہیں ہے. اور تم بھی یہی چاہتے ہوں.
ماں نے سادہ مگر اہم جملہ کہا۔
جی امی میں بھی یہی چاہتا ہوں۔
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی…
سعد نے نظر تھوڑی جھکا لی،
ماما ابھی تو عنایہ باجی کی شادی کی تاریخ تہ نہیں ہوئی۔
ماں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ
کہا.. سب کچھ طے ہو چکا ہے… اب صرف نکاح کی تاریخ رہ گئی ہے. "
رابعہ باجی نے بتایا کے عنایہ کے سسر
فاضل صاحب کل پاکستان واپس آ گئے ہیں. عنایہ کی شادی کی تاریخ بھی اب جلد تہ ہو جائے گی.
جی ہاں!! امی نیہا سے بات ہوئی تھی بتا رہی تھی.
تو کب چلنا ہے. آپ آنٹی سے پوچھ لیں. ہم چلے گے نکاح کی تاریخ لینے عنایہ باجی کی رخصتی کے ساتھ ہمارا نکاح بھی ہو جائے گا.
سعد نے گہرا سانس لیا،
ہاں عنایہ کے سسرال والے تاریخ لے جائیں گے اسکے بعد ہی ہم لوگ جائیں گے.
"جی… جیسے آپ بہتر سمجھیں…"
ماں اس کے قریب آئیں،
“تم خوش ہو نا؟”
سعد نے فوراً ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“جی امی…”
ماں نے اس کے چہرے کو ایک لمحہ دیکھا… جیسے کچھ محسوس کیا ہو،
مگر پھر بولیں،
“بس تیار رہنا… ہمیں کبھی بھی جانا ہوگا”
“ٹھیک ہے…”
وہ کمرے سے باہر چلی گئیں۔
دروازہ بند ہوا…
سعد نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں…
اور ہاتھ میں پکڑا فون دوبارہ دیکھا…
اسکرین پر وہی number ابھی بھی موجود تھا…
اس نے آہستہ سے خود سے کہا،
"سب اتنا آسان نہیں ہوتا…"
*°*°*°*°*°*
رات ہمیشہ کی طرح خاموش تھی…
مگر حازم کے اندر شور برپا تھا۔
وہ بستر پر لیٹا چھت کو گھورتا رہا،
آنکھیں بند کرنے سے ڈرتا ہوا…
کیونکہ وہ جانتا تھا—
نیند اس کے لیے سکون نہیں، عذاب لاتی ہے۔
بچپن کی وہی چیخیں…
وہی ٹوٹتے رشتے…
وہی منحوس رات بار بار اس کے خوابوں میں زندہ ہو جاتی تھی۔
اسی لیے وہ اکثر سونے میں دیر کرتا تھا۔
وہ آہستہ سے اٹھا…
اپنے شاہانہ کمرے کی بالکونی میں
آ کھڑا ہوا۔
ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی،
مگر اس کے اندر کی آگ کو کم نہ کر سکی۔
اس نے جیب سے سگریٹ نکالی،
جلائی… اور ایک لمبا کش لیا۔
دھوئیں کے بادل اس کے اردگرد پھیل گئے،
جیسے وہ اپنے ماضی کو ہوا میں تحلیل کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
مگر کچھ یادیں…
کبھی دھوئیں میں نہیں اڑتیں۔
کچھ دیر بعد وہ واپس کمرے میں آیا،
خاموشی سے ایک کونے میں جا بیٹھا۔
وہاں رکھا گٹار اس کا انتظار کر رہا ہو…
شاید واحد چیز جو اسے سمجھتی تھی۔
اس نے آہستہ سے تاروں کو چھیڑا—
ایک مدھم سی دھن کمرے میں گونجنے لگی…
سر میں درد تھا،
ہر آواز میں ایک ادھورا سکون۔
وہ دھن نہیں بجا رہا تھا…
وہ اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔جیسے تھکن اس کے وجود میں اتر چکی ہو۔
کمرے میں خاموشی واپس آ گئی—
مگر اس بار وہ پہلے جیسی خوفناک نہیں تھی۔
حازم نے گٹار ایک طرف رکھا،
سر دیوار سے ٹکا دیا…
آنکھیں بند کیں—
جیسے خود کو زبردستی سکون دینے کی کوشش کر رہا ہو۔
آج پہلی بار…
اس نے نیند سے لڑنا چھوڑ دیا۔
وہ وہیں کونے میں بیٹھے بیٹھے
آہستہ آہستہ نیند میں ڈوبنے لگا۔
سانسیں ہموار ہو گئیں…
چہرے پر ہلکی سی تھکن اور اداسی جم گئی۔
مگر نیند نے بھی اسے مکمل سکون نہ دیا—
اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن اب بھی تھی…
جیسے خوابوں میں بھی وہ ماضی سے بھاگ رہا ہو۔
"وہ سو تو جاتا تھا…
مگر کبھی پرسکون نہیں سوتا تھا۔"
"کچھ زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتے…
بس انسان سیکھ جاتا ہے ان کے ساتھ جینا۔"
*°*°*°*°*°*
صبح کی روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں داخل ہو رہی تھی…
مگر حازم کے لیے رات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
وہ وہیں کونے میں بیٹھا تھا—
جہاں کل رات گٹار اس کے ہاتھوں میں تھا۔
اس کی آنکھیں اچانک کھلیں۔
جیسے کسی نے اسے جھنجھوڑ کر جگایا ہو۔
سانس تیز…
پیشانی پر پسینہ…
اور دل اب بھی اسی پرانی رات میں پھنسا ہوا۔
چند لمحوں تک وہ سمجھ ہی نہ سکا—
وہ کہاں ہے… اور کیوں ہے۔
پھر آہستہ آہستہ حقیقت نے اسے واپس کھینچ لیا۔
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا،
گردن موڑی.
گٹار اب بھی اس کے پاس پڑا تھا۔
حازم نے ایک گہرا سانس لیا…
اور چہرے پر ہاتھ پھیر لیا، جیسے سب کچھ مٹا دینا چاہتا ہو۔
آئینے کے سامنے گیا.
چہرہ پرسکون…
آنکھیں نارمل…
کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی انسان ہے جو رات بھر ٹوٹتا رہا۔
یہی حازم کی سب سے خطرناک بات تھی.
وہ اپنے درد کو چھپانا جانتا تھا۔
حازم نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور خود کو تازہ کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔"
کچھ دیر بعد واپس شیشے کے آگے آ کر کھڑا ہوا. روز کی طرح مہنگا تھری پیس سوٹ پہنے ہوۓ. گیلے بالوں کو سنوارنے لگا.
اسکی آنکھوں میں ابھی بھی ادھوری نیند باقی تھی.
جسم میں تھکاوٹ.
جیسے رات ابھی تک اس کے وجود میں باقی ہو…
دروازے کے باہر سے چھوٹی بہن کی آواز آئی:
"بھائی… آپ جاگ گئے؟"
حازم نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں…
اور پھر اپنی آواز کو معمول پر لاتے ہوئے بولا:
"ہاں… آ رہا ہوں۔"
وہ دروازے کی طرف بڑھا.
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر جاتے جاتے اس کی نظر ایک بار پھر گٹار پر پڑی…
اور ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پر وہی خالی پن واپس آ گیا۔
"کچھ لوگ رات کو نہیں جیتے…
وہ صرف صبح کا ڈرامہ کرتے ہیں۔"
*°*°*°*°*°*
آج گھر میں خاص سی گہما گہمی تھی۔
صبح سے ہی امی اور نیہا کاموں میں مصروف تھیں. کچن میں برتنوں کی آوازیں، ڈرائنگ روم کی سجاوٹ، اور ہر طرف ایک عجیب سی خوشگوار بےچینی۔
کیونکہ آج عنایہ کے ماموں فاضل صاحب اور ممانی آسیہ بیگم
آ رہے تھے…
صرف ملنے نہیں. بلکہ اس کی شادی کی تاریخ طے کرنے۔
عنایہ کےماموں جان خاص طور پر اس لیے ایک مہینہ پہلے پاکستان آئے تھے…
تاکہ اپنی بھانجی اور بیٹے رضا کی شادی کی ہر رسم خود دیکھ سکیں۔
عنایہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔
سادہ سا لباس، کُھلے بال… مگر چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
آج صرف ایک دن نہیں تھا…
یہ وہ دن تھا جہاں اس کی زندگی کی تاریخ لکھی جانی تھی۔
دروازہ ہلکے سے کھلا.
"عنایہ بیٹا، تمہارے ماموں جان ممانی جان آ گئے ہیں!"
(امی کی خوشی بھری آواز آئی) ۔
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
وہ آہستہ سے اٹھی… اور ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، عنایہ کے ماموں جان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا—
"ماشاءاللہ… ہماری بیٹی تو اور بھی بڑی ہو گئی ہے…
(عنایہ کے ماموں اتنے عرصے بعد عنایہ کو دیکھ کر بہت خوش تھے.)
اب تو واقعی رخصت کرنے کا وقت آ گیا ہے۔"
عنایہ نے نظریں جھکا لیں… ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی، مگر دل میں ہلکی سی کسک بھی تھی۔
ممانی جان نے اسے پیار سے گلے لگایا—
"ہم خاص تمہاری شادی کی تاریخ تہ کرنے آئے ہیں… سب کچھ اچھے سے ہوگا ان شاءاللہ۔"
چائے کے بعد بات اصل موضوع پر
آ گئی۔
ماموں جان سیدھے انداز میں بولے—
"میرا خیال ہے زیادہ دیر نہیں کرنی چاہیے… اگلے مہینے کے پہلے ہفتے عنایہ بیٹی کے امتحانات ختم ہو جائیں گے.
اور ہم دوسرے ہفتے کی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔"
کمرے میں لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
سب کی نظریں ایک دوسرے پر تھیں…
اور ایک نظر چپکے سے عنایہ پر بھی گئی۔
اس کا دل جیسے ایک لمحے کو رُک گیا ہو۔
اتنا جلد…؟
اس نے آہستہ سے اپنی انگلیوں کو آپس میں الجھایا…
سانس بھاری لگنے لگی۔
امی نے نرمی سے کہا،
"اگر عنایہ کو ٹھیک لگے تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں…"
اب سب کی نظریں اس پر تھیں۔
عنایہ نے سر اٹھایا… ایک لمحے کے لیے سب کو دیکھا…
پھر نظریں جھکا لیں۔
اور بہت دھیرے سے کہا—
"جی… جیسے آپ سب بہتر سمجھیں…"
یہ الفاظ سادہ تھے…
مگر ان کے پیچھے ایک پوری دنیا تھی—قبولیت کی، ڈر کی، اور ایک نئے سفر کی۔
ماموں جان نے فوراً مسکراتے ہوئے کہا—
"تو پھر طے رہا!"
کمرے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
مگر عنایہ کے دل میں خوشی کے ساتھ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا افسوس بھی تھا. اپنی ماں بہن اور چھوٹے بھائی کو اکیلے چھوڑنے کا دکھ. کیونکہ عنایہ گھر کی بڑی بیٹی کے ساتھ گھر کر سربراہ بھی تھی.
آج وہ اپنے ہی گھر کو پرایا سا محسوس کر رہی تھی.
ایک عجیب سی خاموشی اُتر آئی تھی.
جیسے زندگی واقعی اب بدلنے والی ہو…
*°*°*°*°*°*
رات کا وقت تھا…
کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی،
اور حازم اپنی بالکونی میں کھڑا تھا—
ہاتھ میں سگریٹ… نظریں اندھیرے میں گم۔
فون اچانک vibrate ہوا۔
اسکرین پر نام چمکا—
سعداس نے ایک لمحہ فون کو دیکھا… پھر کال اٹھا لی۔
"ہاں بول…" اس کی آواز ہمیشہ کی طرح calm تھی۔
دوسری طرف سے سعد کی خوشی بھری آواز آئی—
"او بھائی! ایک بڑی خبر ہے!"
حازم نے ہلکا سا دھواں باہر چھوڑا—
"تمہاری خبریں ہمیشہ بڑی ہی ہوتی ہیں… بول کیا ہوا؟"
(سعد ہنسا)
"سن…" سعد نے excitement سے کہا،
"کل میں اپنے نکاح کی date لینے جا رہا ہوں… اور عنایہ میری سالی صاحبہ کی شادی بھی فائنل ہو گئی ہے. عنایہ باجی کی شادی، نیہا اور میرا نکاح بھی ایک ساتھ ہی ہو گا.
…
یہ جملہ سنتے ہی وقت جیسے رُک گیا۔
حازم کے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ آہستہ آہستہ جلتی رہی…
مگر وہ خود ساکت ہو گیا۔
چہرے پر کوئی خاص ردِعمل نہیں آیا—
آواز بھی ویسی ہی بھاری.
"ہو گیا سب؟"
"ہاں یار! سب سیٹ ہو گیا… تم تو آؤ گے نا؟" آخرمیرے سب سے اچھے دوست ہو سب کا تم ہی نے تو دیکھنے ہیں.
سعد نے بےفکری سے کہا۔
حازم نے ہلکا سا سر دیوار سے ٹیک دیا…
آنکھیں ایک لمحے کے لیے بند کیں—
دل کے اندر جیسے کچھ زور سے ٹوٹا ہو۔
مگر وہ ہنسا… ایک خشک سی ہنسی—
"ہاں… کیوں نہیں آؤں گا… دوست کی شادی ہے…"
اندر کا شور… باہر کی خاموشی سے بالکل مختلف تھا۔
سعد بولتا رہا—
"اور بھائی، عنایہ کی شادی بھی ساتھ ہی ہے… ڈبل فن ہوگا!"
یہ سُن کر حازم کی گرفت فون پر سخت ہو گئی۔
چند لمحے خاموشی…
پھر اس نے آہستہ سے کہا—
"تمہیں ہر چیز fun لگتی ہے نا…؟"
سعد تھوڑا چونکا—
"کیا مطلب؟"
حازم نے سگریٹ نیچے پھینک دی… پاؤں سے مسل دی—
"کچھ نہیں… بس… خوش رہو تم…"
اس کی آواز میں اب ہلکی سی سختی
آ چکی تھی۔
"یار سب ٹھیک ہے نا؟"
( سعد نے سنجیدگی سے پوچھا) ۔
حازم ہلکا سا ہنسا—
"ہاں… سب ٹھیک ہے… کیوں نہیں ہوگا؟"
پھر ایک لمحے کو رکا…
اور دھیرے سے بولا—
"کچھ چیزیں بس… ہماری نہیں ہوتیں…"
یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔
فون بند ہوتے ہی خاموشی چھا گئی۔
حازم نے دونوں ہاتھ بالوں میں پھیرے…
سانس بھاری ہو رہی تھی۔
"کیا تھا وہ…؟" اس نے خود سے کہا…
پھر غصے سے دیوار پر ہاتھ مارا—
"کچھ بھی نہیں…"
مگر سچ یہ تھا—
وہ “کچھ بھی نہیں”
اس کے اندر سب کچھ توڑ چکا تھا…
*°*°*°*°*°*
گھر میں آج پہلے سے بھی زیادہ رونق تھی…
ایک طرفعنایہ کی شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی…
اور اب سب کی توجہ ایک اور “خاص” معاملے پر تھی.
نیہا
!! اور سعد کا نکاح
دروازے پر گھنٹی بجی۔
"لگتا ہے وہ لوگ آ گئے!"
امی جان نے مُسکراتے ہوئے کہا۔
دروازہ کُھلا تو سامنےسعد اپنی امی زینب بیگم، چھوٹی بہن جیا اورسعد کے والد صابر صاحب، کے ساتھ کھڑا تھا۔
ہلکی سی مسکراہٹ، تھوڑی سی شرم، اور نظریں کبھی نیچے… کبھی ادھر اُدھر۔
نیہا جو پہلے سے ہی کچن کے دروازے کے پیچھے کھڑی جھانک رہی تھی،
فوراً پیچھے ہٹ گئی۔
"یا اللہ… یہ واقعی آ گئے…" وہ خود سے بڑ بڑائی۔
اندر سب بیٹھ گئے۔ رسمی باتیں، سلام دعا، چائے… اور پھر آہستہ آہستہ بات اصل موضوع کی طرف آ گئی۔
سعد کی امی زینب بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا،
"ہم سوچ رہے تھے… جب گھر میں ایک خوشی آ ہی رہی ہے… تو کیوں نہ دوسری خوشی بھی ساتھ ہی منا لی جائے؟"
سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔
"میرا مطلب ہے…" وہ تھوڑا سا رُک کر بولیں،
"نیہا اور سعد کا نکاح بھی اسی دوران رکھ لیتے ہیں۔"
یہ سنتے ہی کچن کے پیچھے کھڑی نیہا کا دل زور سے دھڑکا۔
"ہائے اللہ…!" وہ آہستہ سے بولی، اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا لیا۔
ادھرسعدچپ چاپ بیٹھا تھا…
مگر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
اس کی چھوٹی بہن جیا فوراً بول پڑی—
"امی! بھائی تو پہلے ہی ready بیٹھے ہیں "
سب ہنس پڑے۔
سعد نے ہلکا سا جھینپتے ہوئے کہا،
"ایسا کچھ نہیں ہے…"
مگر اس کی نظریں چپکے سے کچن کی طرف اُٹھ گئیں… جیسے کسی کو ڈھونڈ رہی ہوں۔
رابعہ بیگم نے نیہا کو آواز دی—
"نیہا بیٹا، ذرا اِدھر آنا!"
نیہا آہستہ آہستہ باہر آئی… نظریں نیچے، چہرہ لال۔
"جی امی…"
سعد کی والدہ زینب بیگم اور والد صابر صاحب نے آگے بڑھ کر نیہا کے سر پر پیار دیا.
(نیہا کی والدہ رابعہ بیگم بولی.)
اگلے مہینے کے دوسرے ہفتے 14 ستمبر عنایہ کی شادی کی تاریخ تہ پائی ہے.
عنایہ کی بارات کے دن ہی ہم نیہا اور سعد کا نکاح کر دیں گے.
آپ لوگ کیا خیال رکھتے ہیں؟
( سعد کی والدہ نے صابر صاحب کی سے مشورہ کیا.)
(سعد کی والدین نے اس بات کی پیروی کی)
جی تو ٹھیک ہے. عنایہ بیٹی کی شادی کے ساتھ سعد اور نیہا بیٹی کا نکاح ہو گا.
یہ سنتے ہی نیہا نے چونک کر ان کی طرف دیکھا.
"بھابھی؟!"
جیا نے پکارا.
(نیہا نے شرم سےنظریں جھکا لیں) ۔
کمرے میں ایک بار پھر ہنسی گونج اٹھی۔
آخرکار سب کی مشاورت سے فیصلہ ہوا.
سعد نے ہلکا سا سر جھکایا… مگر اس کی آنکھوں میں واضح خوشی تھی۔
اور نیہا …؟
وہ خاموش بیٹھی تھی…
مگر اس کے لبوں پر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ آ چکی تھی.
جیسے اس کا خواب حقیقت بننے کے قریب ہو…
*°*°*°*°*°*
رات کا وقت تھا…
گھر میں سارا دن کی ہلچل کے بعد اب خاموشی چھا چکی تھی۔
مہمان جا چکے تھے، مگر ان کے چھوڑے ہوئے فیصلے اب بھی فضا میں محسوس ہو رہے تھے۔
اپنے کمرے میں بیٹھی تھی anaya
کھڑکی کے پاس، چاندنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کے خیالات کہیں اور تھے۔
دروازہ آہستہ سے کھلا—
"او ہو… ہماری dulhan یہاں اکیلی بیٹھی ہے؟" نیہا نے اندر آتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا۔
عنایہ نے ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھا—
"تم بھی تو کم نہیں ہو… "
"عنایہ!" نیہا نے فوراً تکیہ اٹھا کر اس کی طرف مارا—
"ابھی سے چھیڑنا شروع کر دیا؟"
دونوں ہنس پڑ یں۔
نیہا آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی،
"ویسے… کیسا لگ رہا ہے؟"
عنایہ نے کچھ لمحے خاموشی سے کھڑکی کے باہر دیکھا…
پھر آہستہ سے بولی—
"عجیب…"
"عجیب؟" نیہا نے بھنویں اٹھائیں۔
"ہاں… جیسے سب کچھ بہت جلدی ہو رہا ہے…" اس کی آواز نرم اور تھوڑی بھاری تھی۔
نیہا نے اس کا ہاتھ پکڑا—
"ڈر لگ رہا ہے؟"
عنایہ نے ہلکا سا سر ہلایا—
"تھوڑا…"
میں تم لوگوں کو اکیلے اور اتنی جلدی چھوڑ کر جا رہی ہوں. تم اور علی اکیلے ماما کا خیال کیسے رکھو گے؟
پھر اچانک اس نے نیہا کی طرف دیکھا.
آپی آپ کونسا بہت دور جا رہی جو ہم آپ سے مل نہیں سکتے. آ پ کا جب دل کرے آپ آ سکتی ہیں. آ پ کا ہی گھر ہے اور ماما کی طرف سے پریشان مت ہو. میں ہوں نا انکا خیال رکھنے کے لیے. اور علی کو بھی سنبھال لوں گی.
(وہ عنایہ کو تسلی دینے کے انداز میں بولی).
ہاں اُمید ہے کے تم خیال رکھو گی.
آپی آپ بھی نا مجھے بالکل بچی ہی سمجھتی ہیں.
(نیہا معصومیت سجائے بولی)
(عنایہ نے نیہا کے چہرے کر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولی)
ہاں تو تم ہو نا میری چھوٹی سی بچی.
نیہا اسکی بات پر ہنس دی. عنایہ نیہا کو ہنستے دیکھ کر مسکرائی.
"اور تم؟ تم تو بڑی خوش لگ رہی ہو "
نیہا فوراً شرما گئی—
"ایسا کچھ نہیں ہے…"
"اوہ really؟" عنایہ نے چھیڑتے ہوئے کہا،
"پھر سعد کا نام سنتے ہی تمہارے گال لال کیوں ہو جاتے ہیں؟ "
"عنایہ آپی آپ بھی کچھ بھی کہتی ہیں" نیہا نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہلکا سا مکا مارا۔
کمرے میں ہنسی گونج اٹھی۔
کچھ لمحوں بعد نیہا تھوڑی سنجیدہ ہو گئی—
"سچ بتاؤں… مجھے بھی تھوڑا ڈر لگ رہا ہے…"
عنایہ نے چونک کر اسے دیکھا—
"تمہیں بھی؟"
"ہمم…" نیہا نے دھیرے سے کہا،
"نیا گھر… نئے لوگ… سب کچھ بدل جائے گا…"
عنایہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا— لیکن تمہاری رخصتی ابھی تھوڑی ہے.
جی ہاں!
"لیکن ہم ملتے رہیں نا…"
نیہا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا—
"ہاں… ایک ہی گھر میں نہیں… مگر ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ…"
دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔
خاموشی میں ایک عجیب سا سکون تھا.
خوشی بھی…
ڈر بھی…
اور ایک نیا آغاز بھی…
*°*°*°*°*°*
وہ کمرہ ہمیشہ رنگوں کی خوشبو سے بھرا رہتا تھا…
دیواروں پر لگی ادھوری تصویریں، جیسے کسی ادھوری کہانی کی گواہی دے رہی ہوں۔
حازم آہستہ آہستہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ آج قدموں میں وہ ٹھہراؤ نہیں تھا… ایک عجیب سا بوجھ تھا، جیسے ہر قدم دل پر رکھا جا رہا ہو۔
اس کی نظر سیدھی اُس کینوس پر جا کر رُک گئی. اس نی کینوس سے کپڑا اُتارا وہی پینٹنگ… جس میں اس نے ایک لڑکی کو کھلے آسمان کے نیچے کھڑا دکھایا تھا، آنکھوں میں خواب… اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔
حازم کے لبوں پر ایک ٹوٹی ہوئی مسکراہٹ آئی۔
وہ کمرہ آج بھی ویسا ہی تھا…
مگر حازم ویسا نہیں رہا تھا۔
چند لمحے وہ بس کھڑا رہا… بالکل ساکت۔
پھر ہلکا سا ہنسا—
ایسی ہنسی… جس میں خوشی نہیں، صرف عجیب سا خلا تھا۔
"تم واقعی عجیب ہو، عنایہ …"
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا، جیسے کسی یاد کے قریب جا رہا ہو۔
اس نے پینٹنگ کو غور سے دیکھا—
وہی چہرہ… وہی آنکھیں… خوابوں سے بھری ہوئی۔
"خواب…"
وہ لفظ اس کے لبوں پر آیا… اور وہ رک گیا۔
چند سیکنڈ بعد اس نے سر ہلایا، جیسے خود سے اختلاف کر رہا ہو۔
"اچھا ہی ہوا…"
اس نے دھیرے سے کہا۔
"تمہیں وہی ملا… جو تمہیں چاہیے تھا۔"
لیکن اگلے ہی لمحے اس کی انگلیاں کینوس پر زور سے دب گئیں—
جیسے وہ کسی چیز کو مٹانا چاہتا ہو… یا خود کو روک رہا ہو۔
آنکھوں میں ایک لمحے کو نمی آئی.
مگر فوراً ہی اس نے مسکرا دیا۔
"میں پاگل تھا شاید…"
وہ کرسی پر بیٹھ گیا، ٹانگیں کراس کیں…
اور ایسے پینٹنگ کو دیکھنے لگا جیسے یہ سب اس کے لیے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔
"شادی ہے تمہاری…"
وہ ہلکے طنزیہ لہجے میں بولا،
"مبارک ہو۔"
مگر اس کی آواز کے آخری لفظ میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی…
جو وہ خود بھی چھپا نہ سکا۔
خاموشی پھیل گئی۔
اچانک وہ کھڑا ہوا.
اور پینٹنگ کے بالکل قریب جا کر رک گیا۔
"تم خوش ہو نا؟"
اس نے آہستہ سے پوچھا…
جیسے جواب واقعی سننا چاہتا ہو۔
چند لمحے وہ وہیں کھڑا رہا…
پھر اچانک ہنس دیا.
اس بار ذرا زور سے۔
"مجھے کیا…"
لیکن ہنسی جتنی تیز تھی…
آنکھیں اتنی ہی خالی تھیں۔
آخر میں اس نے پینٹنگ سے نظریں ہٹا لیں.
جیسے ہار مان لی ہو… یا شاید خود کو قائل کر لیا ہو۔
"میں ٹھیک ہوں…"
وہ دھیرے سے بولا۔
مگر کمرے کی دیواریں جانتی تھیں.
وہ بالکل ٹھیک نہیں تھا۔
جاری ہے.......