Chapter 1
یونیورسٹی کے آسمان پر گھنے بادل چھائے ہوئے تھے اور بارش مسلسل برس رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا میں پانی کی بوندیں زمین پر گر کر ایک مدھم سا شور پیدا کر رہی تھیں، جیسے موسم خود کسی نئی کہانی کا آغاز کر رہا ہو۔ طلبہ چھتریوں کے ساتھ یا سر جھکائے تیزی سے کلاس رومز کی طرف جا رہے تھے، کسی کو وقت کی فکر تھی تو کسی کو بھیگنے کی۔
اسی ہجوم میں ایک لڑکی تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ ہلکے نیلے رنگ کا سادہ سا لباس بارش میں بھیگ کر جسم سے چپک گیا تھا، دوپٹہ بار بار سر سے سرک رہا تھا اور وہ اسے ایک ہاتھ سے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر بے چینی واضح تھی، سانسیں بے ترتیب تھیں اور آنکھوں میں صرف ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح وقت پر کلاس پہنچ جائے۔
یہ ایمان تھی۔ ایک ایسی لڑکی جس کی زندگی ہمیشہ خاموشیوں کے درمیان گزری تھی۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایمان کے لیے خواہشات ہمیشہ دور کی چیز رہی تھیں۔ اس کی زندگی میں خوشیاں کبھی آسانی سے نہیں آئیں، اور شاید اسی لیے وہ خود بھی کم بولتی تھی، زیادہ تر اپنے اندر ہی سب کچھ دفن کر لیتی تھی۔
اسی لمحے یونیورسٹی کے گیٹ سے ایک گاڑی آ کر رکی۔ دروازہ کھلا اور ایک لڑکا سکون سے باہر نکلا۔ سفید قمیض، ہلکے سے فولڈ کیے ہوئے بازو، مہنگی گھڑی اور ایک ایسا اعتماد جو اس کی ہر حرکت سے جھلک رہا تھا۔ بارش اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی، جیسے موسم بھی اس کے آگے نرم پڑ جاتا ہو۔
یہ احسن تھا۔ ایک امیر گھرانے کا لڑکا جس کے لیے زندگی ہمیشہ آسان رہی تھی۔ ہر سہولت اس کے قدموں میں تھی، ہر خواہش فوراً پوری ہو جاتی تھی، اور ہر دروازہ اس کے لیے خود بخود کھل جاتا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود اس میں غرور نہیں تھا۔ وہ خاموش مزاج، کم بولنے والا مگر ہر چیز کو باریک بینی سے دیکھنے والا شخص تھا۔
احسن ابھی چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اچانک تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک لڑکی اس سے ٹکرا گئی۔
دونوں زمین پر لڑکھڑا گئے۔ بارش تیز ہو رہی تھی، کپڑے بھیگ چکے تھے اور لمحہ ایک دم رک سا گیا تھا۔
ایمان فوراً گھبرا کر پیچھے ہوئی، ہاتھ کانوں کی طرف لے جا کر تقریباً روتے ہوئے بولی، “سوری… پلیز! میں لیٹ ہو رہی تھی کلاس کے لیے… پلیز معاف کر دیں… میں آپ کو موبائل کی قیمت پیسے جمع کر کے دے دوں گی…”
اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی، جیسے وہ پہلے ہی کسی بڑے مسئلے سے ڈر رہی ہو۔
قریب کھڑے گارڈز فوراً آگئے۔ ایک نے زمین سے موبائل اٹھایا تو اس کی اسکرین مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔ بارش کے قطرے اس ٹوٹی ہوئی اسکرین پر گر رہے تھے اور منظر مزید بھاری ہو رہا تھا۔
احسن نے موبائل کو دیکھا، پھر ایک لمحے کے لیے ایمان کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نہ غصہ تھا، نہ چیخ، نہ سختی… صرف ایک عجیب سی خاموشی تھی۔
وہ آہستہ سے آگے بڑھا۔ ایمان کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے لگا اب کچھ برا ہونے والا ہے۔ وہ فوراً دوبارہ ہاتھ جوڑنے لگی، “پلیز کچھ نہ کریں… میں واقعی پیسے دے دوں گی…”
احسن نے اس کے کانوں پر رکھے ہوئے ہاتھ آہستہ سے نیچے کیے اور اسے سیدھا کیا۔ پھر بغیر کسی سختی کے اس کے ہاتھ سے ایک گولڈ رنگ اتار لی جو اس نے پہنی ہوئی تھی۔
ایمان حیرت اور خوف کے درمیان جم سی گئی۔
احسن نے آہستہ سے کہا، “جس دن اس موبائل کے پیسے تمہارے پاس آ جائیں… مبل لے ک مجھے دے دینا اور انگوٹھی لے ک جانا۔”
اس کی آواز میں نہ غرور تھا، نہ غصہ… بس ایک عجیب سا سکون تھا۔
دونوں مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔ بارش ان کے درمیان ایک خاموش پردہ بن گئی تھی۔ احسن نے مزید کچھ نہیں کہا اور مڑ کر چل دیا، جیسے یہ سب کوئی عام سا لمحہ ہو۔
ایمان وہیں کھڑی رہ گئی۔ بارش اس کے چہرے پر گر رہی تھی، مگر وہ ہل نہیں رہی تھی۔ اس لمحے اسے نہ سردی محسوس ہو رہی تھی، نہ بھیگنے کا احساس… بس ایک چہرہ اس کے ذہن میں رہ گیا تھا۔
کچھ دیر بعد جب ہوش آیا تو وہ تیزی سے یونیورسٹی کی طرف بھاگی۔ پہلی کلاس شروع ہو چکی تھی اور وہ پہلے ہی لیٹ ہو چکی تھی۔
کلاس روم میں داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں۔ پروفیسر پہلے سے موجود تھے اور ان کا چہرہ سخت تھا۔ بھیگی ہوئی حالت، الجھے ہوئے بال اور بے ترتیب سانسوں کے ساتھ ایمان اندر آئی تو پورا ماحول ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔
پروفیسر نے طنزیہ انداز میں پوچھا، “یہ کون ہے؟”
ایمان نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا، “سوری سر… میں اسٹوڈنٹ ہوں… لیٹ ہو گئی ہوں…”
پروفیسر نے اسے اوپر سے نیچے دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، “اسٹوڈنٹ کم اور کسی فلم کی ہیروئن زیادہ لگ رہی ہو۔ یہ کیا تماشہ ہے یونیورسٹی کا پہلا دن اور یہ حالت؟”
پورا کلاس ہنسنے لگا۔
ایمان کے دل پر جیسے کوئی چیز گر گئی ہو، مگر وہ خاموش رہی۔
اسی لمحے کرسی کی آواز آئی۔ احسن کھڑا ہوا۔
پورا کلاس خاموش ہو گیا۔
اس نے آہستہ مگر واضح آواز میں کہا، “سر، اسے بیٹھنے دیں۔”
پروفیسر نے سخت لہجے میں پوچھا، “کس نے اجازت دی تمہیں؟”
احسن نے سکون سے جواب دیا، “اگر آپ اسے کلاس میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تو پھر ہمیں بھی یہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں چاہیے۔”
کمرہ ساکت ہو گیا۔
پروفیسر نے کہا، “یہ یونیورسٹی ہے، یہاں ڈسپلن ہوتا ہے۔”
احسن نے نرمی مگر مضبوطی سے کہا، “ڈسپلن ہوتا ہے سر، مگر عزت کے ساتھ۔ کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان لیٹ ہو جاتا ہے۔ ہم روبوٹ نہیں ہیں۔”
پھر اس نے باہر بارش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “اگر وہ بارش میں بھیگ کر آئی ہے اور آپ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں، تو کل اگر آپ خود اسی حالت میں ہوں تو کیا آپ کی بھی یہی عزت ہو گی؟”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
پھر اس نے ہلکے سے مسکرا کر کہا، “اور اگر کل آپ خود لیٹ ہو جائیں تو کیا آپ اپنے آپ کو بھی ذلیل کریں گے؟”
کچھ لمحوں بعد پروفیسر نے سرد آواز میں کہا، “ٹھیک ہے… بیٹھ جاؤ۔ اور کل سے وقت پر آنا۔”
احسن بیٹھ گیا۔
کلاس میں ہلکی سی ہنسی پھیل گئی، مگر یہ ہنسی طنز کی نہیں تھی، صورتحال کی تھی۔ اور ایمان… وہ پہلی بار اپنی زندگی میں مسکرائی تھی۔ ہلکی سی، بے اختیار، اور شاید سب سے زیادہ سچی مسکراہٹ۔
اور احسن… وہ اب بھی خاموش بیٹھا تھا، مگر اس کی نظریں بار بار اسی لڑکی کی طرف جا رہی تھیں جس سے اس کی کہانی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔
کلاس میں لیکچر شروع ہو چکا تھا۔ پروفیسر کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، مگر ایمان کا ذہن کہیں اور تھا۔ وہ لفظ سن رہی تھی مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کے اندر وہی لمحہ بار بار چل رہا تھا… بارش، ٹکراؤ، اور وہ لڑکا جس نے اس کی کلائی سے انگوٹھی اتاری تھی۔
اور پھر اس کی سوچوں میں وہ جملہ بار بار گونج رہا تھا، جو اس نے خود سے بھی نہیں کہا تھا، مگر اس کے دل میں کہیں دفن ہو گیا تھا…
“تمہاری جان سے زیادہ پیاری ہے یہ انگوٹھی… مجھے پتا چلا کہ تم مر گئی تو اتنا دکھ نہیں ہوگا جتنا تب ہوگا جب پتا چلا کہ یہ انگوٹھی کھو گئی ہے…”
یہ الفاظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے جیسے کوئی پرانی بازگشت ہو۔
وہ چونکی۔
اس نے جلدی سے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔
انگوٹھی…
وہ غائب تھی۔
اس کا دل ایک لمحے کے لیے جیسے رک گیا۔ یادیں دھندلی ہونے لگیں… پھر اسے اچانک وہ منظر یاد آیا، بارش میں کھڑا وہ لڑکا… احسن… جس نے خاموشی سے وہ انگوٹھی اتاری تھی۔
ایمان نے گھبرا کر اپنی نشست کے نیچے، کتابوں کے درمیان، ہر جگہ نظر دوڑائی… مگر انگوٹھی کہیں نہیں تھی۔ اس کا ذہن الجھنے لگا، مگر لیکچر جاری تھا، اور وہ اس وقت مکمل طور پر اپنی دنیا میں کھو چکی تھی۔
دوسری طرف، شہر سے کافی دور ایک ویران سے علاقے میں ایک بڑی حویلی کے اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ لکڑی کے دروازے بند تھے، اور اندر ایک بھاری ماحول موجود تھا۔
ایک بڑے کمرے میں غزنفر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں وہی پرانا وڈیرا پن تھا جو ہر فیصلے کو طاقت سے لکھنے کا عادی تھا۔ اس کے سامنے چند لوگ خاموش کھڑے تھے، اور ماحول میں ایک دباؤ تھا جیسے ہر لفظ خطرناک ہو۔
ایک شخص کانپتے ہوئے بول رہا تھا کہ گاؤں کے پنچایت میں ایک مسئلہ ہے… زمین کے کاغذات پر کوئی راضی نہیں ہو رہا۔ بات عام سی تھی، مگر غزنفر کے چہرے پر غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
اچانک اس نے ہاتھ اٹھایا۔
پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔
اس نے ایک نظر سب پر ڈالی، پھر آہستہ سے اٹھا۔ اس کے قدم بھاری تھے مگر فیصلہ تیز تھا۔ وہ سیدھا اس شخص کے قریب آیا جو بار بار انکار کر رہا تھا۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد اس نے اس کا ہاتھ پکڑا… اور سختی سے اس کی انگلی پر دباؤ ڈالا۔
فضا میں ایک چیخ دب گئی۔
خون کا ایک قطرہ زمین پر گرا۔
غزنفر نے اسی خون سے اس کی ملکیت پر انگوٹھا لگا دیا۔
اس کی آواز سرد تھی:
“اب یہ زمین میری ہے… اور یہ فیصلہ ختم ہو گیا ہے۔”
کمرے میں کسی نے کچھ نہ کہا۔
کیونکہ وہاں بات قانون کی نہیں… طاقت کی تھی۔
ادھر یونیورسٹی میں ایمان ابھی بھی بے چین تھی، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں جو انگوٹھی ابھی غائب ہوئی ہے… وہ صرف ایک زیور نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا کا نشان ہے جہاں فیصلے محبت سے نہیں… حکم سے ہوتے ہیں۔
اور احسن… وہ اب بھی خاموش بیٹھا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ یہ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے… ختم نہیں۔