Chapter 9
قسط نمبر 9
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
اگلی صبح کی نرم روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن کر کمرے میں اتر رہی تھی۔ فضا میں ایک ہلکی سی خاموشی تھی، جیسے وقت خود بھی کسی اہم لمحے کے انتظار میں ٹھہر گیا ہو۔
رضا ابھی تازہ دم ہو کر کمرے سے باہر نکلا تو ڈرائنگ روم میں اس کے والد سنجیدگی سے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے۔
ان کے چہرے پر ایک ٹھہرا ہوا وقار تھا، مگر آنکھوں میں ہلکی سی سوچ کی لکیر بھی نمایاں تھی۔
“السلام علیکم، ابو جان،” رضا نے دھیمی آواز میں کہا۔
“وعلیکم السلام، بیٹا،” والد نے اخبار تہہ کرتے ہوئے محبت بھری نظر اس پر ڈالی، “نیند کیسی رہی؟”
“ٹھیک تھی،” رضا نے کرسی کھینچ کر اِن کے سامنے بیٹھتے ہوئے جواب دیا، “مگر دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی… شاید اس نئے مرحلے کی وجہ سے۔”
والد نے مسکرا کر اس کی بات سنی، پھر نرمی سے بولے، “زندگی کے بڑے فیصلے ہمیشہ تھوڑی بے چینی ساتھ لاتے ہیں، بیٹا۔ مگر یہی بے چینی انسان کو سنجیدہ بھی بناتی ہے۔”
رضا نے سر جھکا کر ہلکی سی مسکراہٹ دی، “آپ کی بات ٹھیک ہے، ابو! بس ڈر یہی ہے کہ کہیں میں کسی کی اُمیدوں پر پورا نہ اُتر سکوں۔”
میں عنایہ کے لیے وہ سب کرنا چاہتا ہوں جس کی وہ حق دار ہے.
والد نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، “تم نے ہمیشہ ہمیں فخر محسوس کروایا ہے، اور مجھے یقین ہے. کہ تم اپنی زندگی کے اس نئے رشتے کو بھی عزت اور محبت سے نبھاؤ گے۔ شادی صرف دو لوگوں کا نہیں، دو خاندانوں کا ملاپ ہوتی ہے۔”
(چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے گہری سانس لی)
رضا نے اثبات میں سر ہلایا، “جی ابو، میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کی توقعات پر پورا اُتروں۔”
(رضا مسکرایا تھا)
والد کی آنکھوں میں ایک نرم سی چمک اُبھری، “مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہوگی، عنایہ میری بھانجی ہے لیکن میں جانتا ہوں تم اسکا اچھے سے خیال رکھو گے. بیٹا… بس اپنے دل کو صاف رکھنا، باقی سب خود بخود آسان ہو جائے گا۔”
کمرے میں پھیلی ہوئی خاموشی اب پہلے جیسی بوجھل نہ تھی۔ جیسے باپ کے چند سادہ مگر گہرے لفظوں نے رضا کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہو۔
باہر سورج پوری آب و تاب سے نکل آیا تھا، اور ایک نئے دن کے ساتھ ایک نئی کہانی کا آغاز بھی ہو رہا تھا۔
*°*°*°*°*°*°*
رات کے کھانے سے فارغ ہو کر عنایہ معمول کے مطابق کھانے کے برتن دھونے میں مصروف تھی. جب نیہا بھاگتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی.
عنایہ آ پی آپ کو کوئی دوسرا کام ہے کہ نہیں؟
ہر وقت کاموں میں لگی رہتی ہیں.
زکیہ بی کر لیں گی سب کام ایک مہینے میں آپ کی شادی ہے. اب تو کام چھوڑ دیں.
(نیہا ناراضگی سے بولی)
عنایہ ایپرن سے اپنے ہاتھوں کو صاف کیے نیہا کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی میری گڑ یا مجھے گھر کا کام کرنا پسند ہے.
میں اپنی خوشی سے کرتی ہوں. اپنے گھر کے کام کرنے میں کیسی ممانیت؟ ؟
(عنایہ کہ ہونٹوں پر پُر سکون مسکراہٹ تھی)
جی لیکن آپ کی شادی ہے اس لیے اب مت کریں یہ کام وام....
(نیہا بولی)
اچھا بابا ٹھیک ہے یہ بتاؤ کس کام سے آئی تھی؟
وہ امی بُلا رہی ہیں؟ کچھ زیورات نکال کر بیٹھی ہیں آپ کو یاد کر رہی بولی آپ کو بُلا لاؤں. اب چلے آپی؟
(نیہا شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے بولی)
ہاں چلو!!!!
(عنایہ نے لمبی سانس لی وہ جانتی تھی نیہا اسے لے کر ہی یہاں سے جاۓ گی اسی لیے وہ چُپ چاپ چل دی)
*°*°*°*°*°*
عنایہ اور نیہا بڑے ادب سے اپنی والدہ کے کمرے میں داخل ہوئی. عنایہ کی والدہ نے بیڈ پر بہت سے زیورات کھول کر بڑے ہی سلیکے سے سجا رکھے تھے.
عنایہ اپنی والدہ کے کے ساتھ بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھ گئی اور نیہا بیڈ کے قریب موجود کرسی پر بیٹھ گئی.
ماما آپ نے مجھے بلایا؟ ؟
(عنایہ اپنی والدہ سے مخاطب ہوئی)
ہاں بیٹا وہ تمھاری شادی کے لیے کچھ زیور نکالیں ہیں. سو چا تمہیں دکھا دوں.
(رابعہ بیگم ایک خوبصورت سا سیٹ جو ہیرے کا معلوم ہوتا تھا عنایہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولیں)
واہ!! ماما یہ تو بہت خوبصورت ہے نیہا یک دم بولی. عنایہ اور اسکی والدہ اچانک نیہا کی طرف متوجہ ہوئی.
جی ماما یہ سچ میں بہت پیارا ہے.
(عنایہ واپس سیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے مخاطب ہوئی)
ہاں بیٹا یہ سیٹ مجھے تمھارے بابا کی یاد دلاتا ہے. تمھارے بابا نے یہ سیٹ مجھے تحفے میں دیا تھا. یہ سیٹ مجھے بہت عزیز ہے. میں چاہتی ہوں یہ سیٹ تم اپنی شادی پر پہنو.
(عنایہ کی والدہ کی آنکھیں نم تھی)
جی! ماما میں یہ سیٹ ضرور پہنو گی.
(عنایہ بولی)
کاش آج تمھارے بابا بھی یہاں ہوتے.
کتنا خوش ہوتے تم تینوں کو دیکھ کراور اب تو تم میری بچی اپنے گھر کی ہونے چلی ہو.
(رابعہ بیگم سنجیدہ تھی)
اچھا امی اب آپ دونوں یوں رونے مت لگ جانا آپی کی شادی ہے.
ہم سب نے مل کر بہت انجوائے کرنا ہے.
(نیہا اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس موقع پر اسکی والدہ پریشان ہوں)
امی یہ سیٹ آپ اپنے پاس رکھیں میں اپنی شادی پر یہی پہنو گی.
(عنایہ سیٹ کے ڈبہ کو بند کر کے واپس لوٹاتے ہوۓ بولی)
امی وہ کل مجھے تقریباً 9:00 بجے جانا ہے. دکانوں کا رینٹ اور بابا کی پینشن لینے تو مجھے تھوری دیر ہو جاۓ گی آنے میں واپسی پر یونیورسٹی بھی جانا ہے.
(عنایہ بولی)
چلو! ٹھیک ہے لیکن مجھے بوتیک چھوڑ جانا گاری تو تم لے جاو گی.
(رابعہ بیگم بولی)
جی ماما ٹھیک ہے جیسے آپ کہیں.
(عنایہ احتراماً بولی)
نیہا جو ماں بیٹی کی بات غور سے سن کر پاس بیٹھی مسکرا رہی تھی.
*°*°*°*°*°*
گھر کا ماحول سادہ مگر پرسکون تھا۔ کچن سے چائے کی خوشبو پھیل رہی تھی۔
سعد جلدی جلدی اپنے جوتے پہن رہا تھا جبکہ اس کی بہن جیا بیگ کندھے پر ڈالے آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سنوار رہی تھی۔
"سعد بھائی، ہم لیٹ ہو رہے ہیں!"
اس نے ہلکی سی بےچینی اور شرارت کے ساتھ کہا۔
سعد نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا،
"تمہیں اسکول کی فکر ہے یا اپنی دوست حور سے ملنے کی؟"
(سعد چھیرنے کہ انداز میں بولا)
(جیا فوراً مڑی اور مسکرا دی)
جی بھائی وہ بھی ہے. لیکن سچ میں ہم بہت لیٹ ہو چکے ہیں.
اچھا جی.
(سعد مسکرایا تھا.)
"بھائی، آپ بھی نا… وہ بہت اچھی ہے۔ کل اس نے میری اسائنمنٹ میں مدد کی تھی۔"
سعد نے نرمی سے اس کا بیگ درست کیا،
"میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم اس بار بہت اچھے نمبر حاصل کرو۔"
وہ مسکرا دی، آنکھوں میں اعتماد لیے،
"آپ ہیں نا میرے لیے… پھر ڈر کیسا؟"
سعد چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا،
"چلو، میں چھوڑ دیتا ہوں اسکول۔"
اسکول کے گیٹ پر پہنچتے ہی دور سے ایک لڑکی نظر آتی دکھائی دی. پُراعتماد، نفیس انداز والی… وہ حازم کی بہن تھی۔
سعد کی بہن خوشی سے اس کی طرف دوڑی،
"ارے تم آ گئی!"
دونوں ہنستی ہوئی گلے ملیں ۔
سعد وہیں کھڑا رہا… اس کی نظریں کچھ دیر تک ان دونوں پر جمی رہیں.
جیسے دل کے کسی کونے میں ہلکا سا خدشہ جنم لے رہا ہو۔
*°*°*°*°*°*
عنایہ نے ہلکے سے اپنے سن گلاسز آنکھوں پر سجائے اور مِرر میں خود کو آخری نظر سے دیکھا۔
اس کی شخصیت میں وہ اعتماد تھا جو صرف سکون میں پلنے والوں کے حصے میں آتا ہے. اور ساتھ ہی ایک سنجیدگی بھی، جو وقت سے پہلے ذمہ داریاں سنبھال لینے والوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔
عنایہ، کب نکلنا ہے؟
" والدہ کی آواز آئی" ۔
"جی امی، بس آ رہی ہوں۔"
وہ پرس اٹھاتے ہوئے باہر آئی تو لان میں کھڑی گاڑی دھوپ میں چمک رہی تھی۔ نیہا پہلے ہی بے صبری سے گاڑی میں بیٹھی فون اسکرول کر رہی تھی۔
"Finally!
مجھے لگا آج بھی آپ late کرا دیں گی،"
(نیہا نے ہنستے ہوئے کہا)
"Relax…
یونیورسٹی کہیں بھاگ نہیں رہی۔"
(عنایہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے شرارتی انداز میں جواب دیا)
گاڑی سڑک پر آئی تو شہر کی مصروفیت ان کے ساتھ چلنے لگی. چمکتی عمارتیں، صاف ستھری سڑکیں، اور ایک منظم زندگی کی جھلک۔
مگر ان سب کے بیچ، عنایہ کے ذہن میں آج کا ایک خاص کام نمایاں تھا۔
آج اسے اپنے مرحوم والد کی پنشن کے سلسلے میں آفس جانا تھا۔
وہ لوگ امیر ضرور تھے، کسی چیز کی کمی نہیں تھی…
مگر یہ پنشن صرف پیسوں کا معاملہ نہیں تھا۔
یہ اس کے باپ کی برسوں کی محنت، اس کی پہچان، اور اس کے حق کی بات تھی.
اور عنایہ ان لوگوں میں سے نہیں تھی جو اپنے حق کو نظر انداز کر دیں۔ بس ایک چھوٹی سی(problem) تھی جسے حل کرنا تھا.
"آج پھر جانا ہے آفس؟" اس کی بہن نے پوچھا۔
"ہاں، آخری مرحلہ ہے… hopefully آج کام مکمل ہو جائے،" عنایہ نے نظریں سڑک پر رکھتے ہوئے جواب دیا۔
(عنایہ پراعتماد دکھائی دے رہی تھی)
بیٹا پینشن کی. کیا ضرورت ہے. میری بوتیک اچھی چل رہی ہے.
(عنایہ کی والدہ بولی)
لیکن یہ ہمارا حق ہے. اور بابا کی محنت کا پھل بھی.
(عنایہ بولی)
ہمم..... والدہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں، مگر ان کے چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی تھی۔
"تم اکیلی manage کر لو گی؟"
عنایہ نے مِرر میں ان کی طرف دیکھ کر نرم لہجے میں کہا،
"امی، میں سب سنبھال لوں گی…
آپ فکر نہ کریں۔"
یونیورسٹی آ گئی تھی۔
(نیہا جلدی سے اُترتے ہوئے بولی)
"Bye!
اور ہاں، مجھے لینے میں late نہ ہونا!"
عنایہ مسکرا دی،
"تمہاری اہمیت ہمیں خوب پتا ہے، madam."
وہ ہنستی ہوئی اندر چلی گئی۔
اب گاڑی بوتیک کی طرف مڑ گئی۔
یہ بوتیک اس کی والدہ کی پہچان تھا. نفاست، سلیقہ اور خوبصورتی کا حسین امتزاج۔
"آج نئی collection دیکھنی ہے،" والدہ نے ہلکے سے کہا۔
"Best of luck"
امی، آپ کی choice کبھی غلط نہیں ہوتی،" عنایہ نے پیار سے جواب دیا۔
گاڑی رکی، والدہ اترنے لگیں تو ایک لمحہ ٹھہریں،
"جلدی آ جانا… اور اپنا خیال رکھنا۔"
عنایہ نے اثبات میں سر ہلایا،
"Always."
اب وہ اکیلی تھی۔
گاڑی کا رُخ اس آفس کی طرف تھا جہاں اسے بار بار جانا پڑ رہا تھا۔
اس کے لیے یہ کوئی مالی مجبوری نہیں تھی…
بلکہ ایک اصول تھا۔
"کچھ چیزیں پیسوں سے زیادہ اہم ہوتی ہیں…" اس نے خود سے آہستہ سے کہا۔
ہلکی سی سنجیدگی اس کے چہرے پر اُتر آئی،
مگر آنکھوں میں اب بھی وہی اعتماد تھا۔
وہ جانتی تھی.
یہ صرف ایک فائل نہیں… ایک حق ہے۔
اور عنایہ کبھی اپنے حق سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔
*°*°*°*°*°*
دوپہر کی تیز دھوپ حازم کے کمرے میں داخل ہونے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی. کمرے کی بڑی کھڑکی کے اوپر پردہ ہوا سے کبھی کبھار ہل رہا تھا.
حازم اپنے کمرے میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا۔ میز پر بکھرے کاغذات، لیپ ٹاپ کی ہلکی روشنی، اور اس کے چہرے پر ہمیشہ کی سنجیدگی. جیسے وہ دنیا کے ہر مسئلے کو اپنے کندھوں پر اٹھائے بیٹھا ہو۔
دروازہ بغیر دستک کے کھلا۔
"بھائی…" نرم سی آواز کے ساتھ اس کی بہن اندر آئی۔
حازم نے نظریں اٹھا کر دیکھا، اور اس کے سنجیدہ چہرے پر ہلکی سی نرمی
آ گئی،
"ہاں، آؤ… کیا ہوا؟"
حور آ کر اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی، مگر چہرے پر ہلکی سی ناراضگی تھی۔
"آپ کو میری کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔"
حازم نے بھنویں ہلکی سی سکیڑ یں،
"یہ نئی بات ہے…؟"
"بالکل نئی نہیں، لیکن سچ ہے،" اس نے منہ بنا کر کہا، "میں کل سے آپ کو بتانے کی کوشش کر رہی ہوں، مگر آپ کو تو بس اپنی فائلز اور کام سے فرصت نہیں۔"
حازم نے فائل بند کی اور مکمل توجہ اس کی طرف کر دی،
"اب بتاؤ… کیا بات ہے؟"
وہ ذرا سیدھی ہو کر بیٹھی، جیسے کسی اہم اعلان کے لیے تیار ہو،
"بھائی مجھے ایک ڈوگی پسند ہے کیوٹ سا پپی "
"اچھا… تو؟"
(حازم نے پرسکون لہجے میں پوچھا) ۔
تو کیا؟ مجھے چاہیے.
حور حکم دینے کہ انداز میں بولی کیوں کے وہ جانتی تھی اسکی فرمائشیں کبھی رد نہیں ہوتی.
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
"بھائی!" اس نے احتجاج کیا، "میں serious ہوں!"
حازم نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی، اور کچھ لمحے اسے غور سے دیکھتا رہا.
وہی معصوم چہرہ، وہی ضد، اور وہی لاڈ…
"کب چاہیے؟"
(اس نے نرم آواز میں پوچھا)
وہ فوراً خوش ہو گئی،
جلد!
"میں آپکو اون لائن دیکھاتی ہوں!"
کہ کیسا چاہیے. وہ جلدی سے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی.
حازم نے گہری سانس لی، جیسے خود کو ہار ماننے پر آمادہ کر رہا ہو،
وہ واپس جا چکی تھی، مگر کمرے میں اس کی ہنسی کی ہلکی سی بازگشت رہ گئی تھی۔
حازم نے دوبارہ فائل اٹھائی، مگر اس کی نظریں کچھ لمحوں کے لیے خالی رہ گئیں۔
اس کی زندگی میں بہت سی پیچیدگیاں تھیں، بہت سے فیصلے…
مگر ایک رشتہ ایسا تھا جو اسے ہر بوجھ سے ہلکا کر دیتا تھا.
اس کی بہن۔
وہ سخت ضرور تھا، سنجیدہ بھی…
مگر اس کے لیے، وہ ہمیشہ نرم رہتا تھا۔
اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی تھی… اور طاقت بھی۔
حازم اپنا لیپ ٹاپ اور فائل بند کر چکا تھا. اسے کچھ دیر بعد آفس کے لیے نکلنا تھا.
*°*°*°*°*°*
کلاس ختم ہوتے ہی لڑکیوں کی آوازیں اور ہنسی کوریڈور میں گونج رہی تھیں۔
نیہا اور اس کی دوست ثناء بیگ کندھے پر ڈالے آہستہ آہستہ کینٹین کی طرف جا رہی تھیں۔
(ثناء نے ہنستے ہوئے کہا)
"آج تو تم بہت خاموش ہو… کیا بات ہے؟"
نیہا نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، مگر آنکھوں میں عجیب سی الجھن تھی،
"بس… کچھ سوچ رہی ہوں۔"
(ثناء نے اسے غور سے دیکھا)
"کہیں تمہاری منگنی کی تیاریوں کی ٹینشن تو نہیں؟ آخر ایک مہینے بعد ہے نا!"
نیہا اچانک رُک گئی۔ اس کے قدم جیسے زمین میں جم گئے ہوں۔
"ثناء… ایک بات بتانی ہے۔"
ثناء بھی رُک گئی، تھوڑی سنجیدہ ہوئی،
"ہاں بولو… سب ٹھیک ہے نا؟"
(نیہا نے گہرا سانس لیا)
"ایک مہینے بعد… میری منگنی نہیں ہے۔"
ثناء نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں،
"تو پھر؟"
نیہا نے نظریں جھکا لیں، آواز دھیمی ہو گئی،
"نکاح ہے۔
"کیااا؟!"
(ثناء خوشی سے تقریباً اچھل پڑی)
"او مائی گاڈ نیہا! یہ تو اور بھی زبردست ہے! لیکن اتنی جلدی؟"
نیہا کے گال ہلکے سے سرخ ہو گئے،
"ہاں… کیونکہ سب کو بھی پتا ہے… اور مجھے بھی… کہ میں اسی کے ساتھ خوش ہوں۔"
(ثناء نے شرارتی انداز میں آنکھ ماری)
"اوہ ہو! مطلب
love marriage full on!"
(نیہا نے ہنستے ہوئے اسے ہلکا سا دھکا دیا)
"بس… اتنا سمجھ لو کہ یہ میری اپنی پسند ہے۔"
"اور سعد بھائی کا بتاؤ وہ بھی بہت خوش ہوں گے!"
(ثناء نے بےتابی سے جاننا چاہا)
نیہا نے شرماتے ہوئے نظریں چرائیں،
ہاں بہت!
دونوں ہنسنے لگیں۔
ثناء نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،
"میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے… واقعی۔"
(نیہا کی آنکھوں میں چمک آ گئی. )
"میں بھی… بہت خوش ہوں۔"
*°*°*°*°*°*
شام کا وقت تھا۔ آفس کی بڑی شیشے والی کھڑکی سے دھیمی روشنی اندر
آ رہی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی خاموشی تھی، صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
حازم اپنی کرسی پر سیدھا بیٹھا تھا۔ سیاہ شرٹ کے اُوپر کے دو تین بٹن کھلے ہوئے،ہاتھ میں گھڑی،چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں عجیب سا وقار۔ اس کے سامنے فائلز کا ڈھیر پڑا تھا، مگر وہ کسی ایک فائل پر نظریں جمائے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
اس نے آہستہ سے فائل بند کی، انگلیوں کو آپس میں جوڑ کر میز پر رکھا اور آنکھیں چند لمحوں کے لیے بند کر لیں… جیسے کوئی بڑا فیصلہ لینے والا ہو۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
"Come in."
دروازہ کھلا، اس کا مینیجر اندر آیا۔
"Sir,"
(meeting) دس منٹ میں
شروع ہونے والی ہے.
حازم نے بغیر جلدی کے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا، پھر پرسکون لہجے میں بولا:
"انہیں انتظار کرنے دو میں تب آتا ہوں جب ضرورت ہو."
اس کی آواز میں ایسا اعتماد تھا کہ مینجر فوراً سر ہلا کر باہر نکل گیا۔
حازم اٹھا، کھڑکی کے پاس جا کر شہر کو دیکھنے لگا۔ نیچے روشنیوں میں ڈوبا ہوا شہر… اور اوپر وہ، جیسے سب کچھ کنٹرول میں ہو۔
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی.
یہ صرف ایک businessman نہیں… ایک ایسا ہیرو تھا جو ہر کھیل اپنے حساب سے کھیلتا تھا۔
پھر اچانک اسکا کا فون بجا ایک (unknown)
نمبر حازم نے کال (received) کی بات سننے کے بعد کال کاٹ دی شاید اسکی ضروری کال تھی.
فون کاٹتے ہی حازم نے آفس کے مینیجر کو کال کی کچھ دیر بعد مینجر زیشان کیبن میں دوبارہ داخل ہوا.
جی سر!
(زیشان بولا)
حازم ٹیبل کے پاس موجود ایزی چیر پر بیٹھا تھا اسکے ہاتھ میں اسکا ایک پن تھا. جسے وہ تیزی سے انگلیوں میں گھما رہا تھا.
میٹنگ (cancel) کر دو.
(حازم مختصر سی بات کہہ چکا تھا.)
لیکن سر وہ سب آپ کا کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں.
(زیشان کی آواز میں پریشانی تھی)
حازم کے ہاتھ میں موجود پین کی آواز بند ہو گئی حازم نے نظر اٹھا کر زیشان کو مطمئن نظر سے دیکھا. جیسے اسے کسی چیز سے فرق نا پڑھتا ہو.
جی سر! جیسا آپ کو بہتر لگے.
زیشان یہ کہہ کر کیبن سے باہر نکل گیا.
حازم اٹھا چیئر پر سے اپنا کوٹ اٹھایا. گاری کی چابیاں ٹیبل سے اٹھا کر کیبن سے باہر روانہ ہوا.
جاری ہے..........