Rang e lazawal

All Rights Reserved ©

Summary

Some grief never truly dies; it simply changes shape. After the tragic loss of her brother Arham, Aila finds herself trapped between reality and memory, haunted by guilt, regret, and the unbearable feeling that she could have saved him. As her world slowly collapses under the weight of silence and unresolved pain, she begins writing letters to the brother she can no longer reach letters filled with the words she was never able to say in time. But fate has strange ways of rewriting unfinished stories. When one of Aila’s deeply personal letters is accidentally delivered to the wrong address, it finds its way into the hands of Nofil Jahangir a man drowning in wounds of his own. What was never meant to be read becomes the beginning of an unexpected connection between two broken souls bound by loss, loneliness, and the quiet hope of healing. رنگِ لازوال is a haunting tale of grief, destiny, love, and the words that arrive too late yet somehow still manage to save lives.

Status
Ongoing
Chapters
4
Rating
5.0 2 reviews
Age Rating
13+

Chapter 1


کمرے پر ایسی خاموشی طاری تھی جیسے دنیا نے کبھی خوشی کو پہچانا ہی نہ ہوبالکل ویسی ہی خاموشی جیسی اس کے دل میں بسی ہوئی تھی۔ ہوا تک ساکن معلوم ہوتی تھی۔ دیواریں جیسے سانس روک کر کسی انہونی کی منتظر تھیں۔

وہ وسیع کمرے میں کھڑا تھا۔ کھڑکی بہت بڑی تھی، جس کے پار شہر کی روشنیوں کی مدھم جھلک بکھری ہوئی تھی۔ گردن میں نوفل جہانگیر کی چاندی کی زنجیر جھول رہی تھی، جو سینے پر آ کر ٹھنڈی پڑ جاتی تھی، جیسے یاد دلا رہی ہو کہ کچھ نشان ایسے ہوتے ہیں جو وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔ اس نے اپنی کنپٹی پر پستول رکھا ہوا تھا۔ دھات کی سردی جلد میں اترتی محسوس ہو رہی تھی


یادوں کے جھٹکے اس پر یکے بعد دیگرے پڑ رہے تھے۔

اسے اپنے والدین کی محبت یاد آئی وہ دن جب مسز جہانگیر پورے گھر میں چہل قدمی کرتی تھیں اور مسٹر جہانگیر ان کے نئے لباس پر مسکرا کر تعریف کیا کرتے تھے۔ ہنسی کے وہ لمحے، نرم لہجے، اور گھر میں پھیلی ہوئی ایک مانوس سی حرارت… سب کچھ ایک دھندلی تصویر کی طرح ابھرنے لگا۔

پھر اچانک وہ لمحہ ذہن کے پردے پر ابھرا جس نے سب کچھ بدل دیا تھا۔

وہ منظر جب اس کے والد نے غصے اور بدگمانی کے عالم میں اس کی ماں پر ایسا الزام لگا دیا تھا جس نے اس کی روح تک کو چیر دیا۔ ماں کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے دل پر بوجھ بن کر گرنے لگے۔ وہ خاموش کھڑی رہی تھی—آنسو بہتے رہے، لب کانپتے رہے، مگر آواز نہ نکلی۔ اس ایک لمحے نے گھر کی فضا کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا تھا۔

پھر منظر بدل گیا۔

وہ قبرستان کی سنسان راہ داریوں میں کھڑا تھا۔ بارش کے بعد کی نم مٹی کی خوشبو فضا میں بسی ہوئی تھی۔ اس نے ماں کی قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک زمین کو دیکھا تھا۔ پتھر پر کندہ نام کے حروف اسے ایسے لگ رہے تھے جیسے کوئی پرانا زخم دوبارہ ہرا ہو گیا ہو۔ اس دن اسے یوں لگا تھا کہ دعا بھی کبھی کبھی آنسوؤں سے آگے نہیں


کبھی کبھی آنسوؤں سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔

پھر وہ لمحہ یاد آیا جب ماں کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اس کے والد نے بھی گھر چھوڑ دیا تھا۔ جنازے کے بعد گھر کی دہلیز پار کرتے ہوئے قدموں کی وہ آوازیں اب تک اس کے دل میں گونجتی تھیں۔ دروازہ بند ہوا تو یوں لگا جیسے آخری سہارا بھی چھن گیا ہو۔

ان سب یادوں کا بوجھ اس کے سینے پر ایسے آ گرا جیسے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہو۔

اس کی انگلی نے آہستہ آہستہ ماشے پر دباؤ ڈالا۔

ہوا میں جیسے کوئی چیخ اٹکی ہوئی تھی۔

اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

وہ چونک کر پلٹا اور پوری قوت سے چیخ اٹھا—

“کون ہے؟”

خاموشی ٹوٹ چکی تھی…

اور اب جو دروازے کے پار کھڑا تھا، وہ شاید اس انجام کو بدلنے آیا تھا۔






وہ اپنے کمرے کے فرش پر بیٹھی تھی۔ کھڑکی سے آتی نیم رُخ روشنی اس کے چہرے پر یوں ٹھہری ہوئی تھی جیسے شام نے اُس کے گرد ہلکا سا حصار بنا لیا ہو۔ آنکھیں حد سے زیادہ سرخ تھیں، پلکوں پر نمی کی لکیر اب بھی چمک رہی تھی۔ ناک کی لالی صاف بتا رہی تھی کہ آنسو ابھی کچھ دیر پہلے تک بہتے رہے تھے۔

کمرے میں خاموشی تھی، مگر اُس کے اندر پچھلے ایک مہینے کی تلخ یادیں شور مچا رہی تھیں۔ ہر منظر، ہر جملہ، ہر وہ لمحہ جب وہ کچھ کہہ سکتی تھی… مگر نہ کہہ سکی۔

وہ زیرِ لب آہستہ سے بولی:

ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں۔

یہ الفاظ اُس کے ہونٹوں سے نہیں، اُس کے اعتراف سے نکلے تھے۔

وہ کیوں دیر کر دیتی تھی؟ کیوں ہر سچ اُس کے گلے میں آ کر اٹک جاتا تھا؟ کیوں وہ اُس لمحے خاموش رہی جب آواز بننا ضروری تھا؟


کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو۔

ارحم کی آنکھوں میں جو تھکن تھی، وہ اب سمجھ آتی تھی۔ اُس وقت وہ اسے صرف ضد سمجھتی رہی، وقتی کمزوری سمجھتی رہی۔ کیا وہ واقعی اُسے روک سکتی تھی؟ یا وہ خود اپنے ہی خوف میں قید تھی؟

بعض اوقات انسان دوسروں کو نہیں بچا پاتا، کیونکہ وہ خود اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔

حقیقت کچھ اور تھی، اسے جا کے یہ بتانا ہو۔

سچ اُس کے دروازے تک آیا تھا۔ کئی بار۔

مگر اُس نے ہمت نہ کی۔

شاید وہ ڈرتی تھی کہ اگر حقیقت کہہ دی تو سب کچھ بدل جائے گا۔

اور تبدیلی اکثر نقصان کے بعد آتی ہے۔

ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں۔


وہ یہ مصرع دہراتی رہی، جیسے خود کو سزا دے رہی ہو۔

پچھتاوا عجیب شے ہے۔

یہ وقت کو پیچھے نہیں لے جاتا، بس دل کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔

زندگی کے اُس دوراہے پر وہ کھڑی تھی جہاں ہر راستہ “اگر” سے شروع ہوتا تھا اور “کاش” پر ختم۔

کاش اُس دن وہ تھوڑی سی مضبوط ہوتی۔

کاش وہ ایک قدم آگے بڑھا لیتی۔

کاش وہ اُسے روک لیتی۔

مگر اب اُس کے پاس صرف سانسیں تھیں۔

جینا ابھی باقی تھا… مگر جینے کا مطلب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔


دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اسے چِڑانے لگی۔ وقت چل رہا تھا۔ دنیا چل رہی تھی۔

صرف وہ ایک لمحے میں قید رہ گئی تھی۔

وہ گھٹنوں کو بازوؤں میں بھرے فرش پر بیٹھی رہی۔

یادیں سمٹتی نہیں تھیں۔

وہ اندر گھر بنا لیتی ہیں۔

اور اُس کے اندر اب ایک ایسا گھر آباد تھا

جہاں روشنی آنے سے پہلے اجازت مانگتی تھی۔


آئلا ناشتے کی میز پر بیٹھی تھی۔ وہ وہاں موجود تھی، مگر موجود نہیں تھی یہ بات عثمان کو تبھی محسوس ہوئی جب اس نے ایک بات تین بار دہرائی، مگر آئلا پھر بھی نہیں سمجھی۔

"آئلا، کیوں خود کو تکلیف دے رہی ہو؟"

"میں ٹھیک ہوں، بابا… بس میرا دھیان نہیں تھا

عثمان کو آئلا پر عجیب سا ترس آیا۔ وہ ہمیشہ پچھتاوے میں رہ جاتی، ہر چیز کو ٹھیک کرنے کی خواہش اسے اندر سے کھا جاتی۔ اس نے نرمی سے، مگر اٹل لہجے میں کہا:

" ہم آج تھراپسٹ کے پاس جا رہے ہیں۔"

آئلا نے جھنجھلا کر اپنے باپ کی طرف دیکھا وہ مہینے سے روز یہ بات سنتی

"میں پاگل نہیں ہوں، بابا۔"

"مجھے پتہ ہے… لیکن تھراپسٹ کے پاس جانے میں کوئی ہرج نہیں۔ آج شام کو میں اپائنٹمنٹ لے رہا ہوں۔ تیار رہنا۔"

"لیکن بابا…"


اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، عثمان میز سے اٹھ کر چلا گیا۔





فون کی آواز نے اُس کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ اسکرین پر “ہانیہ کالنگ” جگمگا رہا تھا۔ آئیلہ نے اکھتاٹ سے فون اُٹھایا۔ “آئیلہ… کیسی ہو؟” چند لمحے خاموشی رہی پھر اُس کی بھری ہوئی آواز ابھری، “ہانیہ… تمہیں بھی میں پاگل لگتی ہوں؟” “نہیں آئیلہ، یہ کیسی بات کر رہی ہو؟ کیا ہوا ہے؟” اُس کے آنسو یکایک ضبط توڑ گئے۔ “بابا مجھے تھراپسٹ کے پاس جانے کے لیے مجبور کر رہے ہیں… میں نہیں جانا چاہتی… تم اُنہیں سمجھاؤ نا، ہانیہ…” دوسری طرف چند لمحے خاموشی چھائی رہی جیسے ہانیہ الفاظ بہت احتیاط سے چن رہی ہو۔ پھر اُس نے نرم لہجے میں کہا، “آئیلہ… ہر وہ انسان پاگل نہیں ہوتا جو ٹوٹ جائے، کچھ لوگ صرف اتنا درد سہہ لیتے ہیں کہ اُن کی روح تھک جاتی ہے۔ تم کئ دنوں سے خود کو بند کیے بیٹھی ہو، نہ ٹھیک سے سوتی ہو، نہ کھاتی ہو، نہ کسی سے دل کی بات کرتی ہو۔ تم خود کو ہر روز تھوڑا تھوڑا ختم کر رہی ہو اور شاید تمہیں احساس بھی نہیں۔” آئیلہ کی سسکی ابھری، “لیکن میں کسی اجنبی کے سامنے اپنے زخم نہیں کھول سکتی…” ہانیہ دھیرے سے بولی، “کبھی کبھی اجنبی ہی وہ بات سن لیتے ہیں جو اپنے سن کر بھی نہیں سمجھ پاتے۔


تھراپسٹ کے پاس جانا کمزور ہونا نہیں ہوتا، آئیلہ۔ کمزور تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو درد کو بیماری ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔” آئیلہ نے بند ہوتی سانس کے ساتھ پوچھا، “اگر میں پہلے جیسی نہ ہو سکی تو…؟” ہانیہ ہلکا سا مسکرائی، “اور اگر تم اِس سے بہتر ہوگئیں تو؟” کمرے میں خاموشی پھیل گئی، ایسی خاموشی جس میں انسان پہلی بار اپنے اندر کی آواز سنتا ہے۔ پھر ہانیہ نے دھیرے سے کہا، “ایک بار چلی جاؤ، صرف ایک بار۔ اگر اچھا نہ لگے تو دوبارہ مت جانا، مگر خود کو یوں گھٹ گھٹ کر مت مارو، آئیلہ… کچھ دکھ اکیلے نہیں اُٹھائے جاتے۔” آئیلہ خاموش رہی۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے مگر اُن میں پہلی بار ضد سے زیادہ تھکن تھی… اور شاید بہت ہلکی سی امید بھی۔





اگلا منظر بالکل مختلف تھا۔

آئلا صوفے پر بیٹھی تھی، تھراپسٹ شاید کچھ بول رہی تھی، مگر آئلا خاموش بیٹھی تھی ۔ کئی لمحوں کے بعد، اس نے جیسے خود سے بولا

"میں… میں اسے بچا سکتی تھی… میں ارحم کو بچا سکتی تھی…"

آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔ تھراپسٹ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی

"نہیں، آئلا… کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا۔ جو اللہ نے لکھا، وہ ہونا ہی تھا۔ تم نے پوری کوشش کی اس کو سمجھایا، بات کی تم اور کچھ نہیں کر سکتی تھی "

آئلا نے ہلکے سے سر ہلایا، مگر دل کا بھاری بوجھ کم نہیں ہوا۔ وہ خود سے بولی:

"پر وہ مجھے ہر جگہ نظر آتا ہے… وہ مجھے کہتا ہے، 'مجھے بچا لو'… میں مرنا نہیں چاہتا …وہ ہر جگہ ہے… وہ ہر جگہ… کیوں ہے؟"


"آئلا، تمہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پچھتاوا تمہیں آگے نہیں بڑھنے دے گا۔ تمہاری ذمہ داری صرف اپنی زندگی کو آگے لے جانا ہے۔ وہ جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔ تم اپنی حدود سے آگے نہیں جا سکتی۔ تم اپنے آپ کو بھی نہیں کھو سکتی۔"

آئلا نے آنکھیں بند کیں، رونے کی شدت تھمی، مگر دل اب بھی بھاری تھا۔ تھراپسٹ نے کہا:

"اس درد کو قبول کرو، اسے محسوس کرو، اور پھر آگے بڑھو۔ جو تم کر سکتی ہو، وہ کر چکی ہو۔

آئلا نے گہری سانس لی، دل کی دھڑکنوں میں تھوڑی سکون محسوس کیا۔


آئلا بار بار نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

"میں… میں اسے بچا سکتی تھی… میں اسے روک سکتی تھی…"


"آئلا، تم جو اپنے بھائی سے کہنا چاہتی ہو، تم گھر جا کر اسے لکھنا شروع کرو اور سب کچھ لکھ دو۔ جو بھی تم کہنا چاہتی ہو، اپنے دل کی سچائی کے ساتھ۔ بس لکھو، کسی اور کے لیے نہیں، اپنے لیے۔"

آئلا نے سر ہلا کر خاموشی سے تھراپسٹ کی بات سنی۔ دل بھاری تھا، آنکھیں لالی مائل، مگر اس کے اندر ایک چھوٹی سی روشنی جاگ گئی۔

"ٹھیک ہے… میں لکھوں گی…۔" اس نے دھیرے سے کہا، جیسے پہلی بار اپنے آپ سے سچ بول رہی ہو۔

تھراپسٹ نے مسکرا کر کہا:

"یہی سکون ہے، آئلا۔ اپنے دل کو الفاظ میں ڈالو، اور جو بوجھ تمہارے اندر ہے، اسے چھوڑ دو۔ تبھی تم آگے بڑھ سکو گی۔"

آئلا نے گہری سانس لی، اور پہلی بار محسوس کیا کہ شاید گھر جا کر لکھنا ہی وہ لمحہ ہوگا جب اس کا دل کچھ ہلکا ہو جائے۔





تھراپسٹ کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے آئیلہ کے ہاتھ اب بھی ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔ اُس کی انگلیوں میں وہ سفید کاغذ تھا جس پر تھراپسٹ نے جاتے جاتے نرمی سے کہا تھا، “جو کچھ تم اپنے بھائی سے کہنا چاہتی تھیں… سب لکھ دو۔ وہ باتیں بھی جو اُس کے جانے کے بعد تمہارے اندر دفن ہوگئیں۔ مت روکو خود کو۔” آئیلہ خاموشی سے سر ہلا کر باہر نکل گئی۔ دروازہ بند ہوتے ہی تھراپسٹ نے ایک گہری سانس لی اور سامنے بیٹھے اُس کے والد کی طرف دیکھا۔ اُن کی بےچین نظریں مسلسل دروازے پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ ابھی بھی اپنی بیٹی کے چہرے میں کوئی جواب ڈھونڈ رہے ہوں۔ تھراپسٹ نے دھیمے مگر سنجیدہ لہجے میں کہا، “مسٹر عثمان … آئیلہ کی ذہنی حالت بہت زیادہ متاثر ہوچکی ہے۔ یہ صرف غم نہیں رہا اب۔ اُس نے اپنے بھائی کے جانے کو حقیقت ماننے سے انکار کر دیا ہے۔” اُن کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ “مطلب…؟” تھراپسٹ نے چند لمحے توقف کیا، جیسے اگلے الفاظ بہت احتیاط مانگتے ہوں۔ “اُسے ہیلوسینیشنز ہوتی ہیں۔ اُسے لگتا ہے اُس کا بھائی ابھی بھی زندہ ہے۔ وہ اُسے دیکھتی ہے… محسوس کرتی ہے


کبھی اُسے اپنے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا دیکھتی ہے، کبھی رات کو اُسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اُس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا ہو۔ کبھی وہ دو کپ چائے بنا دیتی ہے کیونکہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ وہ ابھی نیچے آئے گا۔ کئی بار وہ اُس کے کمرے کے باہر رک کر اُس سے باتیں کرتی رہی ہے… جیسے وہ اندر واقعی موجود ہو۔” کمرے میں خاموشی جم گئی۔ صرف گھڑی کی سوئیاں چلنے کی آواز آرہی تھی۔ تھراپسٹ نے نرم مگر بھاری آواز میں دوبارہ کہا، “وہ حقیقت اور یاد کے درمیان پھنس چکی ہے۔ اُس کے لیے اُس کا بھائی مرا نہیں… بس کہیں دیر سے واپس آنے والا ہے۔ اور یہی چیز اُسے اندر سے توڑ رہی ہے۔” اُن کے والد کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ شاید پہلی بار اُنہیں اندازہ ہوا تھا کہ اُن کی بیٹی صرف ضدی یا خاموش نہیں ہوئی… وہ اپنے غم میں کہیں کھو گئی ہے۔ تھراپسٹ نے میز پر رکھا وہ خالی لفافہ اُن کی طرف بڑھایا۔ “وہ جو خط لکھے گی نا… اُسے روکنے کی کوشش مت کیجیے گا


چاہے وہ اُس کے پرانے ایڈریس پر بھیجنے کی ضد کرے یا اُس کے کمرے میں رکھ آئے… کرنے دیجیے۔ بعض اوقات انسان اُن لوگوں کو خط نہیں لکھتے جو دنیا میں موجود ہوں، وہ اُن حصوں کو لکھتے ہیں جو اُن کے ساتھ دفن ہوگئے ہوتے ہیں۔” انسان واقعی عجیب مخلوق ہے۔ دل ماننے سے انکار کر دے تو قبر بھی انہیں عارضی فاصلہ لگتی ہے۔





“لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے…”

کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ شام کا کام صرف ٹھہرنا ہے، ہمیشہ رہنا نہیں؟ تم جس درد کو اپنے سینے میں اٹھائے پھر رہے ہو، وہ تمہاری کمزوری نہیں، وہ تمہاری وابستگی کی گہرائی ہے۔ تم نے جس وجود کو روز سنبھالنے کی کوشش کی، جس کے لیے ہر دن فکر کی، ہر لمحہ امید باندھی، اس سے خود کو جدا مان لینا آسان کیسے ہو سکتا ہے؟

It’s harder to uproot a dying tree when you’ve been the one watering it every day.

جب تم نے کسی مرجھاتے درخت کو اپنی محبت سے سینچا ہو، تو اس کی جڑیں صرف مٹی میں نہیں ہوتیں، تمہارے دل میں بھی اتر جاتی ہیں۔ پھر اس کا جھک جانا تمہیں اپنی شکست لگتا ہے، حالانکہ ہر مرجھانا ہماری کوتاہی نہیں ہوتا۔ کیا ہر طوفان کو روک لینا انسان کے بس میں ہے؟ کیا ہر تقدیر کو بدل دینا ممکن ہے؟


قرآن میں فرمایا گیا: "لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا" — اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ تو پھر تم خود کو اُس بوجھ کا مجرم کیوں ٹھہرا رہے ہو جو تمہارے اختیار میں ہی نہ تھا؟ حقیقت سے فرار اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں، یہ تو اُس میدان سے نکل جانا ہے جہاں تم ابھی لڑ سکتے ہو۔ تمہاری زندگی محض سانسوں کا سلسلہ نہیں، یہ ایک امانت ہے، ایک موقع ہے، ایک روشنی ہے جو تمہارے ذریعے جلتی ہے۔ کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ تمہارا ہونا بے معنی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو تمہاری غیر موجودگی کا خیال اتنا خوفناک کیوں لگتا؟

میں تمہیں نصیحت نہیں کر رہی، میں تمہیں یاد دلا رہی ہوں کہ تم ہارے نہیں ہو، بس تھکے ہوئے ہو۔ اور تھکن کا علاج رُک جانا نہیں، سنبھل جانا ہوتا ہے۔


میں تم سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، اور شاید یہ سوال خود سے بھی ہے—

کیا دکھ اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ زندگی اس کے سامنے چھوٹی پڑ جائے؟

ماں کی جدائی یقیناً دل کو چیر دیتی ہے۔ میں نے بھی ان آنکھوں کو دیکھا ہے جو کسی کے جانے کے بعد خالی ہو جاتی ہیں۔ مگر کیا ہم اُن کے جانے کے بعد خود کو بھی رخصت کر دیں؟ کیا ان کی محبت یہی چاہتی تھی؟

مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے تم تھک گئے تھے۔ بہت مضبوط بننے کی کوشش میں اندر سے ٹوٹ گئے تھے۔ کاش تم نے ایک بار کہہ دیا ہوتا کہ تمہیں درد ہے۔ کاش تم نے ایک بار رُک کر کسی کو اپنے آنسو دکھا دیے ہوتے۔

سن رہے ہو نا؟

اگر کہیں ہو، کسی جہت میں، کسی خاموش کونے میں—تو سنو:

زندگی کسی ایک سانحے کا نام نہیں۔ یہ دکھوں کے باوجود سانس لیتے رہنے کا نام ہے۔

میں جانتی ہوں، بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں جب چھت قریب آتی محسوس ہوتی ہے اور دیواریں جواب نہیں دیتیں۔ مگر صبح ہمیشہ آتی ہے۔ چاہے دیر سے، چاہے تھکی ہوئی، مگر آتی ضرور ہے۔

اگر تم یہ خط پڑھ سکتے، تو میں تم سے کہتی—

رُک جاؤ۔

جو لمحہ تمہیں ختم ہوتا محسوس ہو رہا ہے، وہی شاید کسی نئے آغاز کی دہلیز ہو۔


میں ہر مہینے کی اسی تاریخ کو تمہیں خط لکھوں گی، اور تب تک لکھتی رہوں گی جب تک تم اس شام کو شام سمجھ کر اس کے گزر جانے کا یقین نہ کر لو۔


عائلہ نے وہ خط مکمل کرنے کے بعد بہت دیر تک اسے اپنی گود میں رکھے رکھا تھا، جیسے وہ چند کاغذ نہیں بلکہ اُس کے سینے میں دفن برسوں کی چیخیں ہوں۔ پھر اُس نے خاموشی سے خاکی رنگ کے لفافے میں وہ خط رکھا، اوپر کانپتے ہاتھوں سے Lilies and lavender لکھا اور پرانا ایڈریس لکھا اور بغیر کچھ کہے کمرے سے نکل گئی۔ مسٹر عثمان دور ڈرائنگ روم میں بیٹھے اُسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ اُنہیں پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ کچھ لوگ آنسو بہا کر نہیں ٹوٹتے، وہ خاموش ہوتے ہوتے اندر سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ اگلی صبح اُنہوں نے گھر کے پرانے ملازم خورشید کو اپنے پاس بلایا۔ “خورشید، ایک کام کہنا تھا تم سے۔” “جی صاحب؟” مسٹر عثمان نے میز پر رکھا وہ خاکی لفافہ اُٹھایا۔ اُن کی نظریں لفافے پر لکھے نام پر چند لمحے ٹھہری رہیں پھر دھیرے سے بولے، “یہ خط آج پوسٹ ہوگا، تم شام سے پہلے اُس ایڈریس کے پوسٹ باکس سے واپس لے آنا… دھیان رہے کوئی اور اُسے نہ اُٹھائے۔” خورشید نے مختصر سا سر ہلایا۔ دوسری طرف شہر کے دوسرے کونے میں نوفل کے اپارٹمنٹ کے نیچے لگا پوسٹ باکس روز کی طرح کئی خاکی لفافوں سے بھرا ہوا تھا۔


کمپنی کے کچھ ڈاکیومنٹس، چند میگزینز اور بینک کے لفافوں کے درمیان عائلہ کا وہ خط بھی خاموشی سے پڑا تھا، جیسے کسی اجنبی دنیا میں بھٹکا ہوا احساس۔ نوفل کا بٹلر مرید روز کی عادت کے مطابق ایک ساتھ سارے لفافے نکال رہا تھا۔ اُس نے بغیر دیکھے سب اپنی بغل میں دبائے اور اوپر چلا گیا، جبکہ اُن ہی لفافوں کے درمیان ایک ایسا خط بھی تھا جس کے ہر لفظ میں کسی کی ادھوری سانسیں بند تھیں۔ شام ڈھلے خورشید اُس پتے پر پہنچا۔ سورج ڈوبنے کے قریب تھا اور گلی میں پھیلی مدھم سنہری روشنی ہر چیز کو عجیب اداسی دے رہی تھی۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی ہلکی آواز آرہی تھی جبکہ ہوا خشک پتوں کو سڑک پر آہستہ آہستہ گھسیٹ رہی تھی۔ خورشید نے بےاختیار ایک گہری سانس لی اور جلدی سے پوسٹ باکس کا ڈھکن کھولا، جیسے اُسے ڈر ہو کہ کہیں چند لمحوں کی دیر سب کچھ بدل نہ دے۔ مگر اندر صرف خالی پن تھا۔ ٹھنڈی دھات… اور خاموشی۔ اُس نے دوبارہ ہاتھ اندر ڈالا، اِدھر اُدھر ٹٹولا، جیسے شاید لفافہ کسی کونے میں پھنسا رہ گیا ہو، مگر وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس کے چہرے پر پہلی بار پریشانی ابھری۔ کیونکہ بعض خط منزل تک نہیں پہنچتے


وہ قسمت کے ہاتھوں کسی اور کہانی میں داخل ہوجاتے ہیں۔





رات مکمل طور پر اُتر چکی تھی جب خورشید گھبرائے قدموں کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوا۔ ڈرائنگ روم کی مدھم روشنی میں مسٹر عثمان بےچینی سے ٹہل رہے تھے۔ جیسے ہی اُن کی نظر خالی ہاتھ خورشید پر پڑی، اُن کے قدم یکدم رک گئے۔ “خط کہاں ہے؟” آواز دھیمی تھی مگر اُس کے اندر دبی ہوئی گھبراہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔ خورشید نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ لب تر کیے۔ “صاحب… وہ… پوسٹ باکس خالی تھا۔” چند لمحوں کے لیے پورا کمرہ ساکت ہوگیا۔ پھر مسٹر عثمان تیزی سے اُس کی طرف بڑھے۔ “خالی تھا مطلب؟ تمہیں ایک کام دیا تھا میں نے، صرف ایک کام!” اُن کی آواز بلند ہوگئی۔ “میں نے کہا تھا کوئی اور وہ خط نہ اُٹھائے!” خورشید نے نظریں جھکا لیں۔ “میں وقت پر گیا تھا صاحب مگر شاید…” “شاید؟” مسٹر عثمان تلخی سے ہنسے، مگر وہ ہنسی غصے سے زیادہ خوف لگ رہی تھی۔ “تمہیں اندازہ بھی ہے اگر وہ خط کسی کے ہاتھ لگ گیا تو کیا ہوگا؟ تم جانتے بھی ہو اُس خط میں کیا لکھا ہے؟”


خورشید خاموش کھڑا رہا۔ اُس کے ہاتھ پسینے سے بھیگ چکے تھے۔ مسٹر عثمان نے بےچینی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور صوفے کے کنارے پر بیٹھ گئے۔ پہلی بار اُن کے چہرے پر غصے سے زیادہ تھکن نظر آرہی تھی۔ “وہ بچی پہلے ہی حقیقت اور وہم کے درمیان پھنس چکی ہے… اور اب اگر اُسے پتا چلا کہ اُس کا خط واقعی اُس ایڈریس تک پہنچ گیا…” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہوگئے۔ کمرے میں بھاری خاموشی پھیل گئی۔ ایسی خاموشی جو اکثر اُن گھروں میں اُترتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے نہیں… قسمت سے ہار رہے ہوتے ہیں۔

Some people lose the ones they love. Others lose the chance to say what should have been said.