Chapter 13
قسط نمبر 13
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
دوسری طرف عنایہ کے گھر آج عجیب سی رونق تھی۔ مدتوں بعد گھر کے سب لوگ ایک ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔ ہر طرف خوشیوں، قہقہوں اور اپنائیت کا احساس پھیلا ہوا تھا۔
علی ہاسٹل سے اپنی پڑھائی مکمل کر کے واپس آیا تھا، اسی لیے آج اُس کی پسند کے بے شمار کھانے بنائے گئے تھے۔ پورے گھر میں مختلف کھانوں کی خوشبو مہک رہی تھی۔
والدہ کبھی علی کی پلیٹ میں کچھ ڈالتی تھیں تو کبھی اُس سے پوچھتیں،
"اور لو بیٹا… یہ بھی تمہاری پسند کا بنایا ہے۔"
نیہا اور عنایہ بھی اُس کی خوب خاطر داری میں لگی ہوئی تھیں۔
عنایہ نے خاص طور پر اپنے ہاتھوں سے چاکلیٹ کیک بنایا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ علی کو وہ بے حد پسند ہے۔ جیسے ہی اُس نے کیک میز پر رکھا، علی کے چہرے پر بچوں جیسی خوشی آگئی۔
یہ آپ نے بنایا ہے؟
(علی نے حیرانی سے پوچھا) ۔
عنایہ نے مسکرا کر سر ہلایا،
"صرف تمہارے لیے میرے شہزادے ۔"
علی فوراً اُٹھ کر اپنی بہن کے گلے لگ گیا۔
"آپی آپکو یاد تھا؟ شکریہ میں نے یہ کیک سب سے زیادہ یاد کیا۔"
(عنایہ مسکرا دی)
یہ منظر دیکھ کر سب کے چہروں پر پیاری سی مسکراہٹ آگئی۔
(کھانے کے دوران نیہا اچانک بولی)
“اب تم واپس نہیں جاؤ گے پڑھنے کے لیے۔ میٹرک ویسے بھی مکمل کرچکے ہو… اور اب عنایہ باجی کی شادی بھی ہونے والی ہے۔ پھر ہم تینوں میں سے صرف دو ہی رہ جائیں گے۔ تم ہمارا ساتھ رہنا۔
اُس کی آواز میں محبت بھی تھی اور ہلکی سی اداسی بھی۔
والدہ نے فوراً اُس کی بات سے اتفاق کیا،
"ہاں بیٹا، اب بہت دور رہ لیا تم نے۔"
(عنایہ بھی نرمی سے بولی)
ہم یہیں کسی اچھی یونیورسٹی میں تمہارا داخلہ کروا دیں گے۔ اپنے لوگوں کے ساتھ رہنے کا سکون کہیں اور نہیں ملتا۔
علی خاموشی سے اپنی بہنوں کو دیکھتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کی بہنیں ہمیشہ اُس کے لیے بہترین ہی سوچتی ہیں۔ اسی لیے اُس نے بنا کسی بحث کے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے… اگر آپ سب یہی چاہتے ہیں تو میں کہیں نہیں جاؤں گا۔
یہ سنتے ہی نیہا خوشی سے اچھل پڑی جبکہ والدہ کی آنکھوں میں سکون اُتر آیا۔
اُس رات گھر کی دیواریں بھی جیسے خوشیوں سے جگمگا رہی تھیں۔ کبھی ہنسی کی آواز گونجتی تو کبھی محبت بھری باتیں دلوں کو نرم کر دیتیں۔
عنایہ نے خاموشی سے اپنے خاندان کو خوش دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرائی۔
کچھ رشتے شور سے نہیں، صرف ساتھ ہونے کے احساس سے دل کو سکون دیتے ہیں۔
"گھر صرف اینٹوں سے نہیں بنتا،
اپنوں کی محبت، دعاؤں اور ساتھ سے اُس میں زندگی آتی ہے۔"
اپنوں کا ساتھ دل کو سکون دیتا ہیں۔
*°*°*°*°*°*°*
رات کا پُرسکون وقت تھا۔ ڈائننگ ایریا کی نرم زرد روشنی پورے ماحول کو ایک عجیب سی اپنائیت دے رہی تھی۔ میز پر سادہ مگر لذیذ کھانے سجے ہوئے تھے اور کئی دنوں بعد اُس گھر میں خاموشی کے بجائے ہلکی ہلکی ہنسیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
حازم کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جبکہ اس کے سامنے سعد بیٹھا تھا، جو گھر والوں کے لیے خاندان جیسی حیثیت رکھتا تھا۔ سعد آج خاص طور پر حازم کی طبیعت پوچھنے آیا تھا، مگر اب اُسے یوں مسکراتا دیکھ کر اُس کے چہرے پر بھی اطمینان تھا۔
حور دونوں کے برابر والی کرسی پر بیٹھی خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی، مگر اُس کی آنکھوں میں خوشی صاف جھلک رہی تھی۔ کئی دنوں بعد اُس نے اپنے بھائی کے چہرے پر ایسی ہلکی سی مسکراہٹ دیکھی تھی۔
سعد نے نوالہ لیتے ہوئے مسکراتا ہوئےکہا،
"یار، یقین نہیں آ رہا کہ ہم دونوں سکون سے ایک میز پر بیٹھے ہیں… ورنہ ہر بار کوئی نہ کوئی پروگرام کینسل ہو جاتا تھا۔"
حازم ہلکا سا مسکرایا۔
"ہاں… کبھی میری مصروفیات، کبھی تمہاری۔ لگتا تھا ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا بھی اب پرانی بات ہو گئی ہے۔"
"اب نہیں ہونے دوں گا ایسا،" سعد نے فوراً کہا، "کسی دن کہیں باہر چلیں گے۔ لمبی ڈرائیو، کافی، پرانی باتیں… سب کچھ۔ بہت دن ہو گئے یار۔"
حازم نے اثبات میں سر ہلایا۔
"ضرور۔ اس بار ٹالوں گا نہیں۔"
حور خاموشی سے دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ اُس کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آ گئی۔ اُسے ہمیشہ اپنے بھائی کو یوں ہنستے بولتے دیکھنا اچھا لگتا تھا۔ سعد کی موجودگی جیسے حازم کی بجھی ہوئی طبیعت میں پھر سے زندگی بھر دیتی تھی۔
اتنے میں رامو کاکا گرم روٹیاں لے کر آئے۔ اُن کے جھریوں بھرے چہرے پر آج خاص خوشی تھی۔ برسوں سے اس گھر کا حصہ ہونے کے باعث وہ اِن سب کے چہروں کی اداسی اور خوشی خوب پہچانتے تھے۔
سعد نے روٹی لیتے ہوئے خوش دلی سے کہا،
"رامو کاکا، آپ کے ہاتھ کے کھانے کا تو واقعی کوئی جواب نہیں۔ قسم سے، باہر ہزار جگہ کھالو مگر یہ ذائقہ کہیں نہیں ملتا۔"
رامو کاکا ہنس پڑے۔
"بس بیٹا، تم لوگوں کو پسند آ جائے تو ہماری محنت وصول ہو جاتی ہے۔"
حور نے محبت بھری نظروں سے سب کو دیکھا۔ اُس لمحے اُسے یوں محسوس ہوا جیسے گھر کی دیواروں میں پھر سے رونق لوٹ آئی ہو۔ کئی دنوں بعد یہ رات صرف کھانے کی نہیں، بلکہ اپنائیت، سکون اور رشتوں کی حرارت کی رات بن گئی تھی۔
*°*°*°*°*°*°*
کافی دنوں بعد آج حازم دوبارہ آفس آیا تھا۔ بیماری کے باعث وہ کئی دن آفس سے دور رہا تھا، مگر اب اس کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس کی شخصیت میں وہی سنجیدگی اور رعب موجود تھا۔
جیسے ہی وہ آفس کی عمارت میں داخل ہوا، ملازمین نے احتراماً اسے سلام کیا۔ حازم نے ہلکے سے سر ہلا کر جواب دیا اور اپنے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔
اپنے کیبن کے قریب پہنچا تو اس کی نظر سیکرٹری علیزے اور مینیجر ذیشان پر پڑی جو سیکرٹری کے کیبن کے باہر کھڑے کسی بات میں مصروف تھے۔
"آپ فکر مت کریں، میں ہوں نا...
جو بھی مسئلہ ہے ہم مل کر حل کر لیں گے،" ذیشان نرم لہجے میں علیزے کو تسلی دے رہا تھا۔
علیزے کا چہرہ معمول کے برعکس پریشان اور بجھا بجھا سا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بےچینی صاف جھلک رہی تھی۔ وہ خاموشی سے ذیشان کی باتیں سن رہی تھی۔
اسی دوران حازم وہاں سے گزرا۔
چند جملے اس کے کانوں تک بھی پہنچے مگر اس کے قدم نہ رکے۔
اس نے ایک لمحے کے لیے دونوں پر نظر ڈالی، نہ کوئی سوال کیا، نہ کسی حیرت کا اظہار۔ اس کے چہرے پر حسبِ معمول بےتاثری تھی۔
وہ خاموشی سے اپنے کیبن کی طرف بڑھا ، جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔
علیزے اور ذیشان کی نظر جب اس پر پڑی تو دونوں فوراً سیدھے ہو گئے۔
"ویلکم بیک سر!" ذیشان نے قدرے بلند آواز میں کہا۔
"گڈ مارننگ سر!" علیزے نے بھی فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
حازم نے صرف مختصر سا سر ہلا کر ان کی بات کا جواب دیا اور کیبن کے اندر داخل ہو گیا۔
اس کے جانے کے بعد چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔
"لگتا ہے سر نے ہماری بات سن لی تھی..."
(علیزے نے پریشانی سے کہا)
ذیشان ہلکا سا مسکرایا۔
"اگر سنی بھی ہے تو فکر نہ کرو، سر ان لوگوں میں سے نہیں جو دوسروں کی ذاتی باتوں میں دلچسپی لیں۔"
مگر علیزے کی بےچینی کم نہ ہوئی۔ دوسری طرف حازم اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔ میز پر جمع فائلوں پر نظر ڈالتے ہوئے اس کے ذہن میں وہ منظر ایک لمحے کو ضرور آیا، لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اسے نظر انداز کر دیا۔
اس کے لیے اس وقت سب سے اہم چیز کام تھا، باقی معاملات میں دلچسپی لینا اس کی عادت کبھی نہیں رہی تھی۔
*°*°*°*°*°*°*
دوپہر کا وقت تھا۔ اسکول کی چھٹی کے بعد حور گھر واپس آ چکی تھی۔
آج اس کے چہرے پر معمول سے کہیں زیادہ خوشی تھی۔ گاڑی سے اترتے ہوئے بھی وہ مسلسل مسکرا رہی تھی۔
صبح جب وہ اسکول گئی تھی تو حازم کتنے دن بعد خود اسے چھوڑنے گیا تھا۔ کئی دنوں بعد حازم کو مکمل طور پر بہتر اور نارمل دیکھ کر اس کا دل خوشی سے بھر گیا تھا۔ اتنے عرصے سے وہ اپنے بھائی کی بیماری کی وجہ سے پریشان تھی، لیکن اب اسے لگ رہا تھا کہ سب کچھ پہلے جیسا ہو رہا ہے۔
ڈرائیور نے اس کا بیگ اندر لا کر رکھا اور حور خوشی خوشی ہال میں داخل ہوئی جہاں رامو کاکا دوپہر کے کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
"السلام علیکم رامو کاکا!"
( حور نے چہکتے ہوئے کہا)
"وعلیکم السلام"
میری گڑ یا رانی
آ گئی!"
(رامو کاکا نے مسکرا کر جواب دیا)
انہوں نے غور سے حور کا چمکتا ہوا چہرہ دیکھا تو خود بھی خوش ہو گئے۔
"آج تو بڑی خوش نظر آ رہی ہو۔"
حورین فوراً ان کے قریب آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
"کیونکہ حازم بھائی بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں۔ آج خود مجھے اسکول چھوڑنے بھی گئے تھے اور آفس بھی گئے ہیں!"
(اس کی آواز میں خوشی صاف جھلک رہی تھی)
رامو کاکا نے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
"الحمدللہ بیٹا، اللہ انہیں ہمیشہ سلامت رکھے۔"
"آمین!"
(حور نے فوراً کہا)
رامو کاکا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"چلو اب یہ بتاؤ دوپہر میں کیا کھاؤ گی؟ آج میری شہزادی کی پسند کا کھانا بنے گا۔"
حور نے سوچنے کا ڈرامہ کیا اور پھر شرارت سے بولی،
"اگر میں تین چیزیں بولوں تو؟"
"تب بھی بنا دوں گا۔"
(رامو کاکا اطمینان سے بولے)
"پکی بات؟"
(حور معصومیت سے بولی)
"بالکل پکی۔"
(کاکا بولے)
حور ہنس پڑی۔
"پھر بریانی، رائتہ اور ساتھ میں کولڈ ڈرنک!"
رامو کاکا بھی ہنس دیے۔
"بس؟ میں تو سمجھا تھا بہت لمبی لسٹ ہوگی۔"
"وہ شام کے لیے بچا رہی ہوں۔"
"اچھا جی!"
دونوں کی باتوں میں اپنائیت اور برسوں کا پیار جھلک رہا تھا۔ رامو کاکا صرف ملازم نہیں تھے بلکہ اس گھر کے فرد کی طرح تھے۔ انہوں نے حور کو بچپن سے بڑا ہوتے دیکھا تھا، اسی لیے اس کی ہر خوشی انہیں اپنی خوشی لگتی تھی۔
کچھ دیر بعد حور اچانک اٹھ کھڑی ہوئی۔
"میں ابھی آتی ہوں!"
"کہاں؟"
"یونیفارم تبدیل کرنے۔"
"اور پھر؟"
حور کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔
"پھر کچھ اسپیشل کروں گی آج بہت خوش ہوں !"
"کیا؟"
"کاکا آج بہت عرصے بعد بھائی کو سکون میں دیکھا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے گھر کی رونق واپس آ گئی ہو۔ میں آج رات اُن کے لیے کچھ خاص سرپرائز کروں گی۔"
پھر وہ چند لمحے خاموش رہی اور دھیمے لہجے میں بولی،
"بھائی شاید کبھی نہ جان سکیں کہ اُن کی ایک مسکراہٹ بہن کے دل کو کتنا سکون دیتی ہے۔ جب وہ پریشان ہوں تو بہن کے دل پر بھی اداسی اتر آتی ہے، اور جب وہ سنبھل جائیں تو لگتا ہے جیسے زندگی پھر سے رنگوں سے بھر گئی ہو۔ بھائی بہنوں کے لیےبے شمار دعاؤں کا مرکز ہوتا ہے۔
یہ کہہ کر وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف چلی گئی۔
رامو کاکا اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ان کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی۔
"لگتا ہے چھوٹی بی بی آج بہت خوش ہیں۔"
اوپر جاتے ہوئے حور کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا۔ آج وہ اپنے حازم بھائی کے لیے کچھ خاص کرنے والی تھی، کیونکہ کئی دنوں بعد اس نے اپنے بھائی کو اتنا پرسکون، صحت مند اور مسکراتا ہوا دیکھا تھا۔
*°*°*°*°*°*°*
شام کا وقت تھا۔ آفس میں دن بھر کی مصروفیات ختم ہو چکی تھیں۔ حازم اپنے تمام ضروری کام نمٹا چکا تھا۔
وہ اپنے کیبن کی بڑی شیشے والی کھڑکی کے سامنے کھڑا شہر کی مصروف سڑکوں کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ڈوبتے سورج کی سنہری روشنی عمارتوں پر پھیل رہی تھی، مگر حازم کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح وہی سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا۔ خوشی ہو یا غم، اس کے تاثرات شاذ و نادر ہی بدلتے تھے۔
کچھ لمحے سوچنے کے بعد اس نے جیب سے فون نکالا اور سعد کا نمبر ملا دیا۔
دوسری طرف سعد نے جیسے ہی اسکرین پر حازم کا نام دیکھا، حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
"یار! آج سورج کہاں سے نکلا ہے؟"
(کال اٹھاتے ہی سعد کی آواز سنائی دی)
حازم نے بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔
"اتنا بھی بُرا نہیں ہوں۔"
"بُرا نہیں؟ تمہاری کال آنے کے لیے بندہ آدھی زندگی انتظار کرے!"
حازم خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔
"چلو چھوڑو، خیریت تو ہے؟"
"ہاں۔ آج شام فری ہو؟"
(حازم بولا)
سعد چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا، جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔
"میں ٹھیک سن رہا ہوں؟ حازم صاحب مجھے خود باہر چلنے کا کہہ رہے ہیں؟"
"سوال کا جواب دو۔"
(حازم سنجیدہ ہوا)
(سعد زور سے ہنس پڑا)
"جی حضور! بالکل فری ہوں۔"
"ٹھیک ہے، ملتے ہیں۔"
(حازم مختصر بولا)
"کہاں؟"
"وہی ریسٹورنٹ۔"
(حازم نے کہا)
یہ سنتے ہی سعد کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ وہ اور حازم اکثر اسی ریسٹورنٹ میں وقت گزارتے تھے اور ان کی بےشمار یادیں اس جگہ سے وابستہ تھیں.
ہاں ضرور.
میں انتظار کر رہا ہوں.
(سعد بولا)
حازم نے مختصر سا "ہُم" کہا اور کال ختم کر دی۔
فون بند کرتے ہی حازم نے میز پر رکھی گاڑی کی چابی اٹھائی، اپنا کوٹ کندھے پر ڈالا اور کیبن سے باہر نکل آیا۔
آفس کے ملازمین اسے احترام سے سلام کر رہے تھے جبکہ وہ معمول کے مطابق مختصر سا سر ہلا کر جواب دیتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا۔
چند منٹ بعد وہ پارکنگ میں اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر اب بھی وہی سنجیدہ اور پُرسکون تاثرات تھے جنہیں دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ خوش ہے یا پریشان۔
گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس کے ذہن میں سعد کی خوشی بھری آواز گونجی۔ شاید آج وہ واقعی اپنے دوست کی وہ پرانی شکایت دور کرنے جا رہا تھا.
اگلے ہی لمحے گاڑی پارکنگ سے نکل کر شہر کی مصروف سڑکوں پر رواں ہو چکی تھی۔
*°*°*°*°*°*°*
امل اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کہ اچانک اس کا فون بجا۔ اسکرین پر علیزے کا نام دیکھ کر اس نے فوراً کال ریسیو کر لی۔
"السلام علیکم۔"
"وعلیکم السلام، امل ۔"
(علیزے کی آواز میں ہلکی سی سنجیدگی تھی جسے امل فوراً محسوس کر گئی)
"کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟"
(امل بولی)
"میں ٹھیک ہوں، لیکن تم سے ایک بات کرنی تھی۔"
(علیزے بولی)
امل نے آنکھیں گھمائیں۔ وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ بات کس بارے میں ہوگی۔
"اگر پھر وہی پارٹی والی بات ہے تو رہنے دو۔"
"امل ، میری بات تو سنو۔"
(علیزے نے نرمی سے کہا)
"مجھے اچھا نہیں لگ رہا کہ تم بار بار ان لوگوں کے ساتھ جا رہی ہو۔ ہر جگہ ہر محفل سب کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔"
(علیزے سمجھانے کے انداز میں بولی)
"اوہ پلیز، علیزے!" امل نے بےزاری سے کہا۔ "تم ہر بات کو مسئلہ بنا دیتی ہو۔"
"میں مسئلہ نہیں بنا رہی، صرف فکر کر رہی ہوں۔"
(علیزے بولی)
"مجھے اپنی فکر خود کرنا آتی ہے۔"
(امل کا لہجہ سخت تھا)
(علیزے چند لمحے خاموش رہی)
"میں تمہاری دوست ہوں، اسی لیے کہہ رہی ہوں۔ کم از کم ایک بار میری بات سن لو۔"
"اور کم از کم ایک بار تم میری مرضی قبول کر لو۔"اس سب سے کچھ نہیں ہوگا. تم اپنے سات اچھا نہیں کر رہی تمھاری مام کتنی پریشان رہتی ہیں. حازم سر کو اس سب سے فرق نہیں پڑتا اور تم خود کو نقصان پہنچانے پر تُلی ہو۔
(علیزے پریشان تھی)
امل کے لہجے میں جھنجھلاہٹ بڑھنے لگی تھی۔
"تم سمجھ کیوں نہیں رہی؟"
(علیزے پیار بھرے لہجے میں بولی)
"کیونکہ سمجھنے والی کوئی بات نہیں ہے!"
(امل بھی کہا کسی کی سننے والی تھی)
"امل ، کبھی کبھی انسان کو دوسروں کی بات بھی سن لینی چاہیے۔"
(علیزے نے گہرا سانس لیا)
امل ہلکا سا ہنسی۔
"میں اپنے امی ابو کی نہیں سنتی، تو تمہاری کیوں سنوں گی؟"
یہ جملہ سن کر علیزے خاموش ہو گئی۔ اس کے پاس چند لمحوں کے لیے کوئی جواب نہیں تھا۔
"امل ..."
(علیزے نے امل کو کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا امل علیزے کی بچپن کی سہیلی تھی وہ ایک سکول میں پڑھتے تھے )
"مجھے یہ لیکچر نہیں سننا۔"
(امل کافی غصہ میں تھی)
"میں لیکچر نہیں دے رہی، بس—"
(علیزے بولی)
مگر امل نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کال کاٹ دی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
دوسری طرف علیزے نے فون آہستہ سے نیچے رکھا اور بےبسی سے آنکھیں بند کر لیں۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ امل کی فکر کرتی تھی، اسے سمجھانے کی کوشش کرتی تھی، مگر امل اکثر کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتی تھی۔
اسے معلوم تھا کہ امل ضدی ہے، اپنی مرضی کی مالک ہے، اور جب ایک بار کسی بات کا فیصلہ کر لے تو پھر دوسروں کی نصیحتیں اس پر کم ہی اثر کرتی ہیں۔
پھر بھی علیزے کی پریشانی کم نہ ہوئی۔
اس نے فون کو میز پر رکھا اور آہستہ سے سر جھکا لیا۔
"اللہ کرے تم ہمیشہ خیریت سے رہو، امل..."
کیونکہ بعض اوقات دوستی صرف ساتھ ہنسنے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ خاموشی سے کسی کے لیے فکر مند رہنے کا نام بھی ہوتی ہے۔
*°*°*°*°*°*°*
حازم گاڑی پارک کر کے ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوا۔ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر سنجیدگی اور خاموش وقار نمایاں تھا۔
جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا، اس کی نظر سامنے موجود ایک میز پر جا ٹھہری۔
اس کے قدم بےاختیار وہیں رُک گئے۔
میز پر سعد، رضا، عنایہ اور سعد کی منگیتر نیہا بیٹھے تھے۔ چاروں آپس میں باتوں میں مصروف تھے اور ماحول کافی خوشگوار لگ رہا تھا۔
حازم چند لمحے خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔
اسی دوران سعد کی نظر دروازے کی طرف گئی اور وہ فوراً مسکراتا ہوا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
"میرے بھائی!" سعد خوشی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ "کیسا ہے تو؟"
(حازم نے مختصر سا سر ہلایا)
"ٹھیک ہوں۔"
مگر اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے پھر اسی میز کی طرف اُٹھ گئیں۔
سعد نے بھی اس کی نگاہ کا رُخ دیکھ لیا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد حازم نے پرسکون لہجے میں کہا،
"اگر تم لوگ پہلے سے ساتھ تھے تو بتا دیتے۔ ہم کسی اور دن مل لیتے۔"
سعد نے فوراً ماتھے پر ہاتھ مارا۔
"ارے یار! بات سن تو۔"
وہ ہلکا سا ہنسا۔
"ہم لوگ شادی کی شاپنگ کے لیے آئے تھے۔ اتفاق سے تمھاری کال آئی ۔
میں نے سوچا سب ساتھ بیٹھ جائیں گے تو اچھا رہے گا۔"
(حازم خاموش رہا)
"اب شاپنگ ختم ہو چکی ہے، ہم لوگ لنچ کرنے لگے ہیں۔"
سعد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"آ جانا، ہمارے ساتھ بیٹھ۔"
دور میز پر بیٹھے رضا اور عنایہ بھی اب انہیں دیکھ رہے تھے۔
عنایہ اور نیہا باتوں میں مصروف تھی شاید عنایہ کو آخری ملاقات یاد آ گئی تھی.
حازم کی نظریں صرف چند لمحوں کے لیے ان سب پر رکیں اور پھر سعد کی طرف لوٹ آئیں۔
"میں تمہارے ساتھ ملنے آیا تھا۔"
(حازم نے سادہ سے انداز میں کہا)
(سعد مسکرا دیا)
"اور میں بھی تو یہیں ہوں۔"
(سعد بولا)
حازم اس جواب پر چند سیکنڈ خاموش رہا۔
"تم کبھی نہیں بدلو گے۔"
"الحمدللہ!" سعد نے فوراً جواب دیا۔
اس بات پر رضا ہلکا سا ہنس پڑا جبکہ سعد کی منگیتر نیہا بھی مسکراہٹ نہ روک سکی۔
سعد نے دوبارہ اصرار کیا۔
"چلو اب اتنی دیر سے کھڑے مت رہو۔"
حازم نے میز کی طرف ایک نظر ڈالی۔
ان چاروں کی نظریں اسی پر تھیں۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے آہستگی سے کہا،
"ٹھیک ہے۔"
سعد کے چہرے پر فوراً فاتحانہ مسکراہٹ آگئی۔
"بس! یہی سننا تھا۔"
وہ حازم کو ساتھ لے کر میز کی طرف بڑھا جبکہ حازم حسبِ معمول خاموش تھا۔ اس کے تاثرات سے اندازہ لگانا ناممکن تھا کہ وہ اس اچانک ملاقات سے خوش تھا، حیران تھا یا محض سعد کی ضد مان کر بیٹھنے جا رہا تھا۔
مگر ایک بات ضرور تھی...
آج کئی دنوں بعد سعد حازم کو اپنی فیملی کے درمیان بیٹھنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
*°*°*°*°*°*°*
حازم سعد کے ساتھ میز کی طرف تو بڑھ گیا تھا، مگر ہر قدم کے ساتھ اس کے اندر ایک عجیب سی بےچینی بڑھ رہی تھی۔
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔
جیسے ہی وہ قریب پہنچا، اس کی نظر دوبارہ عنایہ پر پڑی جو رضا کے ساتھ کسی بات پر ہنس رہی تھی۔ اس کی ہنسی بےساختہ تھی اور چہرے پر عجیب سی چمک تھی۔
حازم نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
"وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ عنایہ کو رضا کے ساتھ ہنستے دیکھ کر اس کے اندر خاموشی سے کیا ٹوٹ جاتا ہے۔"اسے حق حاصل نہیں تھا، مگر دل کو یہ بات سمجھانا ہر بار پہلے سے زیادہ مشکل ہو رہا تھا۔"
حازم کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی، مگر دل کب دلیلوں کا محتاج رہا ہے؟"
"کیا ہو گیا ہے مجھے؟"
اس نے دل ہی دل میں خود سے سوال کیا۔
وہ لوگوں کے چہروں پر غور کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ نہ ہی اسے کسی کی ذاتی زندگی میں دلچسپی تھی۔ مگر نہ جانے کیوں عنایہ کو رضا کے ساتھ اتنا خوش دیکھ کر اسے عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔
حازم کو یہ احساس بالکل پسند نہیں آیا۔
وہ تو صرف سعد سے ملنے آیا تھا۔
"چلو بیٹھو۔"
سعد نے خوشی خوشی کرسی کھینچتے ہوئے کہا۔
حازم نے کرسی کی طرف دیکھا پھر میز کی طرف۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کوئی بہانہ بنائے اور واپس چلا جائے۔
"مجھے یاد آیا ایک ضروری کام ہے..." اس نے کہنا چاہا۔
مگر سعد فوراً بول پڑا۔
"نہیں! آج کوئی کام وام نہیں۔ بڑی مشکل سے تم گھر اور آفس سے باہر نکلے ہو۔"
"سعد—"
"میں کچھ نہیں سن رہا۔"
(سعد بولا)
"لگتا ہے آپ کے دوست کو آپ پر پورا اختیار حاصل ہے۔"
(رضا ہنستے ہوئے بولا)
"بدقسمتی سے۔"
( حازم نے سنجیدگی سے جواب دیا)
میز پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھائی اور پھر سب مسکرا پڑے۔
مگر ایک بات ضرور تھی...
عنایہ اور رضا کو ایک ساتھ دیکھ کر حازم کے دل میں جو عجیب سا احساس پیدا ہوا تھا، وہ ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا، اور یہی بات اسے سب سے زیادہ پریشان کر رہی تھی۔
کھانا ختم ہو چکا تھا اور سب لوگ آہستہ آہستہ ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئے۔
باہر شام ڈھل رہی تھی۔ پارکنگ ایریا کی روشنیاں جل چکی تھیں اور موسم میں ہلکی سی ٹھنڈک گھلنے لگی تھی۔
سعد، رضا اور حازم ایک طرف کھڑے بات کر رہے تھے۔
اصل میں بات زیادہ سعد اور رضا ہی کر رہے تھے۔ حازم حسبِ معمول خاموش کھڑا تھا، کبھی کبھار مختصر جواب دے دیتا یا سر ہلا دیتا۔
مگر حقیقت میں اس کا دھیان کہیں اور تھا۔
کچھ فاصلے پر نیہا اور عنایہ کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔
عنایہ کی نظر ایک دو بار غیر ارادی طور پر حازم کی طرف اٹھی، مگر وہ فوراً نظریں ہٹا گئی.
اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب سڑک پر گاڑی کے معمولی حادثے کے وقت وہ بغیر وجہ جانے حازم پر برس پڑی تھی۔ بعد میں حقیقت معلوم ہونے پر اسے احساس ہوا تھا کہ غلطی حازم کی تھی ہی نہیں۔
تب سے وہ دل ہی دل میں شرمندہ تھی۔
مگر حازم نے کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا۔
نہ شکایت کی، نہ غصہ کیا۔
اور شاید یہی بات اسے مزید شرمندہ کر دیتی تھی۔
کچھ دیر بعد سعد نے گھڑی دیکھی۔
"چلو بھئی، اب سب اپنے اپنے راستے پکڑو۔"
رضا نے ہاتھ ملایا۔ سعد حازم کو ملا.
"پھر ملتے ہیں حازم بہت اچھا لگا تم نے ہمیں جوائن کیا۔"
(سعد گویا ہوا)
حازم نے مختصر سا سعد سے ہاتھ ملایا۔
"خیال رکھنا۔"
"تم بھی۔
(سعد بولا)
سعد اور رضا نیہا اور عنایہ کی طرف بڑھ گئے اور عنایہ اور نیہا کے ساتھ پارکنگ کی دوسری جانب چل پڑے۔
حازم انھیں دور جاتا دیکھ رہا تھا.
چند لمحوں میں حازم اپنی گاڑی کی طرف جا چکا تھا۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ اندر خاموشی تھی۔
اس نے فون اٹھایا اور ایک نمبر ملایا۔
"ہاں، ٹائمنگ کیا ہے؟"
دوسری طرف سے جواب سن کر اس نے مختصر سا "ٹھیک ہے" کہا اور کال ختم کر دی اور زور سے فون سیٹ پر دے مارا۔
اس کی نظریں چند لمحے سامنے ونڈ اسکرین پر جمی رہیں۔
آج پورا دن عجیب گزرا تھا۔
پھر اس نے گاڑی کو اسٹارٹ کیا۔
اگلے ہی لمحے گاڑی سڑک پر آ چکی تھی۔
کار میں میوزک گونج اٹھا، آواز معمول سے کہیں زیادہ بلند تھی۔
رفتار بھی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔
شہر کی روشنیاں شیشوں کے پار پیچھے چھوٹ رہی تھیں۔
مگر گاڑی کے اندر ایک عجیب ماحول تھا۔
میوزک جتنا بھی بلند ہو، بعض اوقات انسان کے اندر کے شور کو دبا نہیں پاتا۔ زبان کی خاموشی اکثر وہ چیخ بن جاتی ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، سنا نہیں جاتا۔"
حازم دونوں ہاتھ اسٹیئرنگ پر جمائے سڑک کو دیکھ رہا تھا۔
چہرے پر ہمیشہ وہی خاموشی، وہی بےتاثری۔
مگر شاید اس وقت اس کے ذہن میں سعد یا رضا کی باتیں نہیں چل رہی تھیں۔
اور شاید یہی بات اسے خود بھی سمجھ نہیں آ تی تھی۔وہ خود اس سب سے انجان تھا.
جاری ہے.......