“عشقِ اول”

Summary

یہ کہانی ہے سلین مائرے کی… ایک آزاد اور بےخوف لڑکی کی، جس کی زندگی ایک لمحے میں بدل جاتی ہے۔ اور پھر آتا ہے بورہ آراس… ایک طاقتور، سرد مزاج اور بےحد خطرناک انسان، جو محبت کو محبت نہیں بلکہ قبضہ سمجھتا ہے۔ ایک چیخ… ایک نظر… اور ایک ایسا فیصلہ جو سلین کی پوری زندگی کو قید میں بدل دیتا ہے۔ یہ کہانی ہے محبت اور نفرت کے درمیان لکھی گئی ایک ایسی داستان کی، جہاں آزادی چھن جاتی ہے اور دل زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے۔ 💔 “کبھی کبھی محبت آزادی نہیں… ایک قید بن جاتی ہے۔”

Genre
Romance
Author
Shahtaj
Status
Ongoing
Chapters
9
Rating
n/a
Age Rating
18+

# 💔📖 عشقِ اوّل — باب 1 (آغاز)

# 💔📖 عشقِ اوّل — باب 1 (آغاز)

> *“میں نے کبھی پہلی نظر کے عشق پر یقین نہیں کیا تھا… پھر اس کی سرد آنکھوں نے میری پوری دنیا کو بدل دیا۔”*

ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

ہال کے چاروں طرف پستول تھامے آدمی کھڑے تھے۔ حلال آراس اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ ہال میں موجود تھا۔ وہاں کیا ہو رہا تھا، یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا، مگر ان کی آوازوں کی گونج سے صاف ظاہر تھا کہ کچھ بہت برا ہو چکا ہے۔

آراس خاندان ترکی کے طاقتور اور امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔

ان کے نام سے ہی لوگوں کے لہجے بدل جایا کرتے تھے۔

اس پُ

رخوف ماحول سے بالکل بے خبر سلین مائرے لڑکیوں کے جھنڈ کے پیچھے بیٹھی فٹبال میچ دیکھنے میں مصروف تھی۔

وہ اپنے موبائل میں ہینڈفری لگائے میچ کے ساتھ ساتھ گانے بھی سن رہی تھی۔

جیسے ہی اس کی پسندیدہ ٹیم نے گول کیا، وہ اچانک خوشی سے چیخ اٹھی۔

“گولللللللللللللللللللل!”

ایک دم پورا ہال خاموش ہو گیا۔

سب نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔

سلین نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا تو احساس ہوا کہ سب لوگ اُسے ہی گھور رہے تھے۔

اچانک ایک نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔

وہ بورہ آراس تھا۔

سرد چہرہ… گہری نظریں… اور ایسا رعب کہ سامنے والا خود بخود خاموش ہو جائے۔

اب وہ سلین کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔

پہلے اس نے خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر آہستگی سے اس کے کان سے ہینڈفری نکال کر اپنے کان میں لگا لیا۔

بورہ ہلکا سا مسکرایا۔

پھر اس نے سلین کے ہاتھ سے موبائل لیا اور دھیمی آواز میں بولا،

“کیا نام ہے تمہارا؟”

سلین نے پہلے اُسے غور سے دیکھا، پھر فوراً جھنجھلا کر بولی،

“تمہیں کیا؟ اور تم ہو کون آخر؟ اپنے کام سے کام رکھو۔”

یہ کہہ کر اُس نے جھٹکے سے اپنا موبائل واپس لیا اور وہاں سے آگے بڑھنے لگی۔

تبھی پیچھے سے ایک بھاری آواز گونجی۔

“بورہ آراس…”

سلین پیچھے نہیں مڑی، مگر بےزاری سے بولی،

“تو میں کیا کروں؟ ویسے بھی مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔”

اگلے ہی لمحے بورہ نے اس کا بازو پکڑ کر اُسے اپنی طرف کھینچا۔

“لیکن مجھے ہے…”

وہ اس کے کان کے قریب جھک کر دھیمی آواز میں بولا،

“تم میں انٹرسٹ۔”

سلین نے غصے میں فوراً اپنا ہاتھ چھڑایا اور زور سے بورہ کے گال پر تھپڑ مار دیا۔

پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔

کان آراس، جو بورہ آراس کا بڑا بھائی تھا، غصے میں اس کی طرف بڑھا۔

“لڑکی… ہاتھ سنبھال کر!”

مگر بورہ نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے روک دیا۔

“بھائی… میں جانتا ہوں کیا کرنا ہے۔”

پھر اس نے پورے ہال میں بلند آواز میں کہا،

“مجھے لڑکی مل گئی ہے۔”

سلین حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔

بورہ آگے بڑھا، پھر ہلکا سا ہنستے ہوئے بولا،

“اب تم میری ہو… نیلی آنکھوں والی پری۔”

یہ کہتے ہی اُس نے سلین کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔

سلین زور زور سے چلانے لگی۔

“مجھے نیچے اتارو! پاگل انسان! نیچے اتارو مجھے!”

اسی دوران سلین کے والد مصطفیٰ مائرے اور اُس کے بھائی آگے بڑھے، مگر بورہ کے آدمیوں نے انہیں روک لیا۔

ہال میں ایک بار پھر خاموشی پھیل گئی…

مگر اس بار خاموشی کے پیچھے ایک نیا طوفان جنم لے چکا تھا۔

بورہ اُسے زبردستی گاڑی کی طرف لے گیا۔ سلین مسلسل چیخ رہی تھی۔

“چھوڑو مجھے! دماغ خراب انسان!”

بورہ دھیرے سے اُس کے قریب آیا اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،

“دماغ کا تو پتہ نہیں… مگر دل تم پر ضرور خراب ہو چکا ہے۔”

“امممںںںںںں… پاگل! چھوڑو مجھے!”

سلین مسلسل ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر اگلے ہی لمحے بورہ نے اُسے بےہوش کر دیا۔

“گاڑیاں آن کرو۔” حلال آراس نے سخت لہجے میں حکم دیا۔

“چلو جلدی… آج ہماری بھابی بھی ساتھ ہیں۔”

ڈینز آراس ہنستے ہوئے بولا۔

چند لمحوں بعد گاڑیوں کا قافلہ ہال سے نکل گیا۔

پیچھے سلین کی والدہ غم سے نڈھال تھیں، جبکہ اُس کے والد مصطفیٰ مائرے اور بھائی غصے میں مختلف لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مگر اب دیر ہو چکی تھی۔

آراس خاندان سلین کو شہر سے دور اپنے علاقے میں لے جا چکا تھا۔


کچھ دیر بعد گاڑیاں ایک شاندار محل نما حویلی کے سامنے آ کر رکیں۔

باہر نوکروں کی پوری قطار کھڑی تھی۔

آراس خاندان کی خواتین یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئیں۔

اسی دوران سلین کو ہوش آیا۔

وہ گھبراہٹ سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔

اتنی بڑی حویلی… اجنبی لوگ… اور سامنے کھڑا بورہ آراس۔

بورہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

“مولوی صاحب کو بلاؤ… آج میرا نکاح ہوگا۔”

سلین یہ سن کر جیسے ساکت رہ گئی۔

“کیا؟!”

اگلے ہی لمحے اُس نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور باہر کی طرف بھاگنے لگی۔

یہ دیکھ کر پہلی بار بورہ واقعی حیران ہوا۔

“سلین!”

وہ فوراً اُس کے پیچھے بھاگا اور چند قدم بعد اُسے پکڑ لیا۔

گھر کے تمام افراد حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

جبکہ ڈینز آراس زور زور سے ہنس رہا تھا۔

بورہ نے سلین کو دوبارہ اپنے کندھے پر اُٹھایا، مگر وہ اب بھی مسلسل چیخ رہی تھی۔

“مجھے چھوڑو! میں یہاں نہیں رہوں گی!”

اتنے میں کان آراس سرد لہجے میں بولا،

“یہاں تمہیں کوئی نہیں سن سکتا…”

وہ چند قدم اُس کے قریب آیا۔

“اور اگر سن بھی لے… تو کچھ کر نہیں سکتا۔”

ہال میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔

مگر اس بار خاموشی کے پیچھے خوف بھی شامل تھا۔

بورہ نے سلین کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا، جبکہ سلین مسلسل اُس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“مجھے چھوڑو… میں تم سے نفرت کرتی ہوں!”

بورہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر اُس نے آہستہ سے اُس کے قریب جھک کر کہا،

“نفرت کر لو… مگر اب تم صرف میری ہو، سلین مائرے۔”

سلین کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

اور اُسی لمحے آراس حویلی کے بڑے دروازے بند ہو گئے۔

جیسے اُس کی آزادی ہمیشہ کے لیے چھین لی گئی ہو۔


💔📖 باب 1 ختم

“کبھی کبھی عشق پہلی نظر میں نہیں… پہلی قید میں شروع ہوتا ہے۔”