Taqdeer e insane

All Rights Reserved ©

Summary

Ek aisi kahani jahan mohabbat, kismat aur zindagi ke imtehaan ek doosre se takrate hain. Kuch rishte dil se bante hain, aur kuch sirf taqdeer se… lekin har faisla zindagi ko nayi raah par le jata hai. 🏷️ Tags: Romance, Drama, Family, Emotional, Urdu Novel

Genre
Action
Author
Arfa
Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
13+

Chapter 1and2 taqdeer e insane

”تقدیر انسان“

سردیوں کی وہ نرم سی صبح تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی کی فضا میں ہلکی ہلکی خنکی گھلی ہوئی تھی، اور سورج کی سنہری کرنیں آہستہ آہستہ پورے گھر کو روشن کر رہی تھیں۔

گھر کے اندر داخل ہوتے ہی نیچے والا پورشن شروع ہوتا تھا۔سامنے ہی ایک وسیع سا لاؤنج تھا، جس کی ایک دیوار مکمل شیشے کی بنی ہوئی تھی (glass wall)، جہاں سے باہر کی نرم صبح کی روشنی اندر آ رہی تھی۔

لاؤنج کے ساتھ ہی دائیں سائیڈ پر ایک خوبصورت سا aesthetic kitchen تھا، اور اس کے قریب ہی ایک ڈائننگ ایریا تھا جہاں فیملی اکثر ساتھ بیٹھتی تھی۔اسی فلور پر دو کمرے تھے۔: ایک کمرا ماں باپ کا تھا اور ایک شاید اضافی تھا۔

سیڑھیاں اسی لاؤنج سے اوپر جاتی تھیں، جو گھر کو دو حصوں میں جوڑتی تھی۔

اوپر والا پورشن زیادہ پرائیویٹ اور پرسکون تھا۔۔۔

سیڑھیاں ختم ہوتے ہی ایک چھوٹا سا لاؤنچ تھا، جو فیملی کے پرائیویٹ وقت کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس فلور پر دو کمرے تھے۔ دونوں اپنے سامنے۔

دائیں طرف والا دروازہ کھول کر اندر جھانکو کو وہ شیشے کے سامنے کھڑی جلدی جلدی تیار ہو راہی تھی۔ کمرے میں ایک بالکونی تھی۔ جہاں سے صبح کی ہلکی دھوپ اندر اتی۔ اور ٹھنڈی ہوا پورے کمرے

کو نرم سا بنا راہی تھی۔۔۔

ایرا کا کمرہ سادہ مگر بہت صاف ستھرا تھا۔

بیڈ دائیں سائیڈ پر تھا، سامنے آئینہ، اور گیلری کا دروازہ ہلکی روشنی اندر لا رہا تھا۔

صبح کی وہ نرم سنہری روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی… جیسے اندھیرا آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ رہا ہو۔

ایرا جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی… یونیورسٹی کا وقت ہو رہا تھا۔

وہ ایک medical student تھی، اور اس کی زندگی ہمیشہ وقت کے ساتھ دوڑتی تھی۔

اس نے بیگ اٹھایا، آئینے میں ایک آخری نظر ڈالی، اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گئی…

دروازہ کھولتے ہی سامنے وہی چھوٹا سا اوپر والا لاؤنج تھا، اور وہاں سے سیڑھیاں نیچے پورے گھر کو جوڑ رہی تھیں۔

نیچے سے روزمرہ زندگی کی آوازیں آ رہی تھیں…

اور دن نے اپنا سفر شروع کر دیا تھا۔

نیچے لاؤنج میں صبح کا سماں تھا…

ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگ چکا تھا اور گھر کے سب لوگ اکٹھے بیٹھے تھے۔

ایرا کے ابو، امی اور اس کے بھائی سب ٹیبل پر موجود تھے۔

ہلکی ہلکی باتوں کے ساتھ گھر میں ایک عام سی مگر گرمجوش صبح چل رہی تھی۔

اسی دوران سیڑھیوں سے جلدی جلدی قدموں کی آواز آئی…

ایرا تیزی سے نیچے آ رہی تھی، بیگ کندھے پر ڈالے، اور چہرے پر وہی جلدی والا انداز۔

وہ سیدھا ٹیبل کے پاس آئی اور بولی:

“پاپا، مجھے دیر ہو رہی ہے۔ کیا اپ مجھے یونیورسٹی چھوڑ دے نگے۔”

اس کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کی امی فوراً بول پڑیں:

“رکو پہلے ناشتہ کرو، تمہیں میں بغیر ناشتہ کیے نہیں جانے دوں گی!”

وہ وہی ٹپیکل ماں والا انداز تھا—پیار بھی، فکر بھی اور ضد بھی۔

ایرا نے جلدی سے بیگ ٹھیک کیا اور کہا:

“مما آپ کو پتہ ہے نا آج سر احد کی ہی پہلی کلاس ہے، آپ کو پتہ ہے وہ کتنے سخت ہے لیٹ آنے پر کلا س میں ہی نہیں انے دیتے… اور ویسے بھی آج میرا یونیورسٹی ٹیسٹ ہے، میں وہاں جا کر ناشتہ کر لوں گی۔۔۔۔۔

وہ تیزی سے بولتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

جاتے جاتے اس نے اپنے ابو کی طرف دیکھا اور کہا

"پاپا میں باہر اپ کا انتظار کر راہی ہو"۔۔

سلطان شاہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا:

اس کے پیچھے امینہ شاہ نے ہلکی سی فکر بھری اواز سے کہا:

“یا اللہ… یہ لڑکی اپنا خیال ہی نہیں رکھتی، کیا کروں میں اس کا؟”

سیڑھیوں کے پاس ایرا کے بھائی کھڑے تھے زوہان جوتے پہن رہا تھا اور زویان نے کندھے پر اپنا بیگ درست کرتے ہوئے سمینہ شاہ سے کہا۔

“امی، آپ بھی جانتی ہیں نا… یہ ایسے ہی ہے، کبھی نہیں بدلتی…”

ایرا باہر جاتے ہوئے اپنے بھائی کی کمر پر ایک چھوٹا لگایا۔

اور ایرا کے قدم گھر سے باہر نکل چکے تھے…

دن اس کے ساتھ دوڑنے کو تیار تھا۔

★★★★

کراچی کی سڑکوں پر صبح کا شور بڑھ رہا تھا…ٹریفک کی ہلکی ہلکی آوازیں، گاڑیوں کے ہارن، اور دن کا آغاز۔

ایرا سلطان شاہ اپنی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔اس کے ہاتھ میں اس کا بیگ اور ہمیشہ کی طرح چہرا نقاب سے ٹھکا ہوا تھا۔ سورج کی نرم سنہری روشنی جیسے ہی ایرا کے چہرے پر پڑی، اس کی گہری براؤن آنکھوں نے آہستہ آہستہ اپنا رنگ بدلنا شروع کر دیا۔چند لمحوں میں وہ آنکھیں شہد جیسی سنہری محسوس ہونے لگیں…

اتنی دلکش، اتنی پُرسکون، کہ جیسے ان میں پوری سرد صبح سمٹ آئی ہو۔ٹھنڈی ہوا اس کے نقاب سے ٹکرا رہی تھی جبکہ سورج کی وہ مدھم روشنی اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک پیدا کر رہی تھی۔

وہ منظر چند لمحوں کے لیے اتنا حسین تھا…

کہ جیسے وقت اچانک تھم گیا ہو،

اور دنیا خاموش ہو کر صرف اسے دیکھ رہی ہو۔

یونیورسٹی کا مین گیٹ اونچا اور شاندار سا تھا، اوپر بڑے بڑے حروف میں "Gulberg National university"لکھا ہوا تھا۔ گیٹ کے دونوں طرف ہرے بھرے درخت ایسے کھڑے تھے جیسے ہر آنے والے کو خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔اندر قدم رکھتے ہی ایک بڑا سا کیمپس پھیل جاتا تھا۔ کہیں لان میں گھاس اتنی صاف اور سبز تھی کہ جیسے کسی نے اسے ہر صبح سنوارا ہو۔

وہاں کچھ اسٹوڈنٹس بیٹھے ہنس رہے تھے، کچھ ہاتھوں میں کتابیں لیے سنجیدہ بحث میں لگے ہوئے تھے۔ایک طرف لمبی سی بلڈنگ تھی جس کی بڑی بڑی کھڑکیوں سے دھوپ اندر آ رہی تھی۔ کلاسز کے اندر سے کبھی کبھی ٹیچر کی آواز اور کبھی اسٹوڈنٹس کی ہلکی ہلکی ہنسی باہر تک آ جاتی تھی۔راستے کے بیچوں بیچ سفید پتھروں سے بنی پاتھ وے تھی جس کے دونوں طرف بینچز رکھے ہوئے تھے۔

کچھ بینچز پر جوڑوں کی طرح بیٹھے دوست باتوں میں مگن تھے، اور کچھ اکیلے ہی ہیڈفون لگا کر اپنی دنیا میں گم تھے۔ہوا میں ایک عجیب سا ملا جلا سا ماحول تھا—

کہیں کیفے ٹیریا سے کافی کی خوشبو آ رہی تھی، کہیں کتابوں اور کاغذوں کی مہک، اور کہیں نوجوانوں کی آوازیں جو پورے کیمپس کو زندہ رکھے ہوئے تھیں۔

ایرا یونیورسٹی ممیں داخل ہوئ۔ ایرا ابھی گیٹ سے اندر داخل ہوئی ہی تھی کہ سامنے اسے فجر کھڑی نظر آئی۔

ہاتھ باندھے، چہرے پر ہلکی سی خفگی لیے وہ کافی دیر سے شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی۔

ایرا نے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا، فجر فوراً بول پڑی:

“ایرا! میں کب سے یہاں تمہارا انتظار کر رہی ہوں، اتنی لیٹ؟ حد ہے یار!”

ایرا نے پرسکون انداز میں اپنی گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“یار… ہو جاتی ہے کبھی کبھی late، ابھی اتنا serious ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

”کیا مطلب serious ہونے کی ضرورت نہیں ہے؟”وہ تقریباً شکایتی انداز میں بولی۔

“تمہیں اندازہ بھی ہے آج test ہے؟ اور اوپر سے تم ایسے آرام سے آ رہی ہو جیسے picnic پر آئی ہو!”

"اگر مجھےاگر مجھے پکنک پر انا ہی ہوا تو کیا میں ادھر اؤں گی ہرگز نہیں میں پاگل ہوں کیا جو اپنا ا سٹریس کم کرنے کے لیے جہاں سے مجھے سٹریس مل رہا ہے وہیں ا جاؤں گی حد ہے ویسے۔ "ایرا نے کہا۔

فجر چڑتے ہوئے بولی،ایرا! تم سے بات کرنے سے اچھا ہے میں کہیں چلی ہی جاؤں، میرا دماغ خراب ہو رہا ہے تمہاری باتوں سے!

”ایرا نے بالکل سنجیدہ انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا،

“جاؤ پھر، یہاں یونیورسٹی میں اتنی جگہ ہے، کیمپس بھی ہے، لان بھی ہیں… جہاں دل کرے چلی جاؤ۔ میں تمہیں روکوں گی نہیں۔

”یہ سن کر فجر نے آنکھیں بڑی کر کے کہا،“اللہ! ایرا، تمہارا کیا ہوگا؟ تم ایسی کیوں ہو؟”

ایرا نے ٹھنڈے سے لہجے میں جواب دیا،“جیسی بھی ہوں، بس ایسی ہی رہوں گی۔ اگر برداشت کرنا ہے تو ایسے ہی کرو مجھے۔ ٹھیک ہے؟”

ا

یک لمحے کو دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہیں… پھر اچانک دونوں ہنس پڑیں۔

فجر ہنستے ہوئے بولی،“تم واقعی پاگل ہو!”

ایرا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،“اور تمہیں ابھی بھی امید ہے کہ میں بدل جاؤں گی؟”

اور دونوں کی ہنسی پورے ماحول میں گونج گئی…

دونوں ہنستے ہوئے باتیں کرتی رہیں اور اپنے لیکچرز اٹینڈ کرنے چلی گئیں۔ پھر یونیورسٹی کا باقی دن کلاسز اور مصروفیات میں گزر گیا۔

★★★★

کچھ گھنٹے بعد…

یونیورسٹی کے باہر کا ماحول اب نسبتاً پرسکون ہو چکا تھا۔ دونوں ہنستے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے باہر آئیں اور ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔

فجر خوشی سے بولی،“یار ایرا! مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا، آج میرا ٹیسٹ اتنا اچھا ہو گیا ہے!”

ایرا نے مسکراتے ہوئے کہا،“ہاں یار، میرا بھی یہی حال ہے، مجھے بھی نہیں لگ رہا کہ ٹیسٹ اتنا اچھا جاۓ گا۔”

فجر نے ہلکی سی سانس لیتے ہوئے کہا،“پتہ ہے میں نے پوری رات بیٹھ کر یہ ٹیسٹ یاد کیا تھا۔ اتنا ڈر لگ رہا تھا مجھے، خاص طور پر سر احد کا ٹیسٹ تھا… اور تمہیں تو پتہ ہے وہ کتنے سخت ہیں۔”

ایرا نے فوراً سر ہلاتے ہوئے کہا،“ہاں یار، مجھے پتہ ہے سر احمد کتنے سخت ہیں۔”

پھر ایرا نے ہنستے ہوئے کہا،“یار ہم نے آج اتنا اچھا ٹیسٹ دیا ہے تو ہمیں کوئی نہ کوئی ریوارڈ تو ملنا چاہیے!”

فجر فوراً بولی،“ہاں بالکل! ریوارڈ تو بنتا ہے ہمارا!”

اسی وقت ایرا نے سامنے اشارہ کیا،“وہ دیکھو، سامنے ایک نیا کیفے کھلا ہے۔ وہاں چل کے کچھ کھا لیتے ہیں۔”

فجر نے خوشی سے کہا،“اوکے ٹھیک ہے، چلتے ہیں!"

ایرا نے کہا،“چلو پہلے اپنی گھر میسج کر دیتے ہیں، پھر چلتے ہیں۔”

دونوں نے اپنے فون نکالے اور گھر اطلاع دے کر، اجازت ملنے کے بعد ہنستے ہوئے اس نئے کیفے کی طرف چل پڑیں…

فجر اور ایرا باتیں کرتے کرتے کیفے کے سامنے پہنچ چکی تھیں۔

سامنے ایک بہت خوبصورت اور جدید طرز کا کیفے تھا۔ اس کا بڑا شیشے کا دروازہ باہر کی روشنی کو اندر آنے دے رہا تھا۔ پورا فرنٹ شیشے کی دیواروں پر مشتمل تھا جن کے اندر ہلکی ہلکی زرد روشنیاں جل رہی تھیں جو اس وقت کو پرسکون اور خوبصورت بنا رہی تھیں۔

دروازے کے اوپر سادہ مگر خوبصورت انداز میں روشنیوں سے کیفے ایلیٹ نام لکھا ہوا تھا۔ باہر چھوٹے چھوٹے پودے ترتیب سے رکھے تھے جو جگہ کو اور زیادہ دلکش بنا رہے تھے۔ اندر سے کافی اور چاکلیٹ کی ہلکی خوشبو باہر تک آ رہی تھی۔

جب دونوں اندر داخل ہوئیں تو دروازے کی ہلکی سی گھنٹی کی آواز نے ماحول کو اور بھی اچھا بنا دیا۔

اندر کا منظر باہر سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔ لکڑی کے میز، نرم سی روشنیاں، شیشے کی دیواروں سے باہر نظر آتا شہر، اور پس منظر میں ہلکی سی موسیقی چل رہی تھی جو پورے ماحول کو بہت پر سکون بنا رہی تھی۔

فجر نے چاروں طرف دیکھا اور ایک کونے والی آرام دہ سی میز کی طرف اشارہ کیا۔

“ہم یہیں بیٹھتے ہیں!”

ایرا نے خاموشی سے سر ہلایا اور دونوں جا کر اس میز پر بیٹھ گئیں۔

فجر نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور خوشی سے بولی:

“پہلے آرڈر دیتے ہیں پھر آرام سے باتیں کریں گے۔”

ایرا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سامنے رکھا ہوا مینو اٹھایا۔

فجر اور ایرا کافی کے لیے بیٹھ چکی تھیں۔ دونوں کے درمیان ہلکی ہلکی بات چیت چل رہی تھی، اور ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے حالات کا ذکر بھی آ گیا۔

فجر نے میز پر جھک کر تھوڑا سا غصے سے کہا۔

“یار دیکھو نا، یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟ ہم جو چیزیں ہسپتال میں سیکھ رہے ہوتے ہیں، وہی چیزیں ہمیں یونیورسٹی بلا کر دوبارہ کروائی جاتی ہیں۔ جیسے ہم کچھ سمجھ ہی نہیں رکھتے۔”

ایرا نے مینو ایک طرف رکھتے ہوئے نرمی سے جواب دیا۔

“ہاں یار، تھوڑا مشکل تو ہوتا ہے۔ مگر کیا کریں، ایک دن کی ہی بات ہے۔ ہم ہفتے میں ایک دن آ جاتے ہیں، باقی دن تو اپنی ہاؤس جاب اور پریکٹس میں ہی ہوتے ہیں۔”

ایرا نے ٹھوڑی دیر بعد پھر سے بات کا اغاز کیا۔

“لیکن یار یہ سوات کیوں لے جا رہے ہیں ہمیں؟ کیا چکر ہے یہ؟”

فجر نے ہاتھ ہلا کر کہا۔

“کوئی چکر نہیں ہے بیٹا، بس ان کا اپنا ہی تماشہ ہے۔ اب ہمیں سوات لے جائیں گے ٹریننگ کے لیے۔”

ایرا نے بھنویں سکیڑیں۔

“ٹریننگ؟ کون سی ٹریننگ؟”

فجر نے کندھے اچکائے۔

“پتہ نہیں…

ایرا تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی۔

وہ ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ صرف ہسپتال کی سہولتوں پر نہیں رہنا چاہیے… بلکہ ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ کبھی ایسے حالات بھی آ سکتے ہیں جہاں ہمارے پاس سب کچھ نہ ہو، مگر ہمیں پھر بھی لوگوں کی جان بچانی ہو۔”

فجر نے اس کی بات سنی اور سر ہلایا۔

“ہاں… شاید یہی بات ہے۔ اور ویسے بھی جب ہم ڈاکٹر بن جائیں گے تو کیمپ وغیرہ تو لگانے ہی پڑیں گے نا۔ اگر اسی فیلڈ میں جانا ہے تو یہ سب تو سیکھنا ہی پڑے گا۔”

ایرا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کپ اٹھایا۔

فجر اور ایرا کافی پینے کے بعد کیفے سے باہر نکل آئیں۔ دونوں ابھی باتوں میں ہی مصروف تھیں اور آہستہ آہستہ سڑک کے کنارے چل رہی تھیں۔

ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی اور سڑک پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق چل رہا تھا۔

اچانک ایک بڑی اور مہنگی برانڈ کی گاڑی تیزی سے ان کے قریب سے گزری۔

اسی لمحے سڑک پر موجود گندا پانی اور ہلکی سی کیچڑ گاڑی کے ٹائروں سے اچھل کر سیدھا ایرا اور فجر پر آ گرا۔

فجر ایک دم چیخ اٹھی۔

“یا اللہ! یہ کیا ہو گیا؟”

ایرا کچھ لمحے خاموش رہی۔ اس کے کپڑوں پر پانی کے چھینٹے پڑ چکے تھے۔

وہ بغیر کچھ کہے آہستہ سے سڑک کے کنارے سے ایک پتھر اٹھاتی ہےاور وہ پتھر زور سے گاڑی کے پیچھے والے شیشے پر مار دیتی ہیں۔

ایک تیز آواز کے ساتھ شیشہ چکنا چور ہو گیا۔

گاڑی فوراً جھٹکے سے رک گئی۔

فجر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

“یا اللہ… ایرا! تم نے کیا کر دیا؟”

ایرا نے بالکل پرسکون انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“میں نے کیا کیا ہے؟ مجھے تو نہیں لگتا میں نے کچھ بھی کیا ہے۔”

اسی لمحے گاڑی کا دروازہ کھلا…

اس میں سے ایک لڑکا باہر نکلا۔۔۔۔۔۔

اس نے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا جو اس پر بہت نفاست سے فِٹ بیٹھ رہا تھا۔ اس کی شخصیت میں ایک الگ ہی رعب تھا، جیسے وہ کسی عام انسان سے زیادہ کسی اثر و رسوخ والے گھرانے سے تعلق رکھتا ہو۔

اس کا قد لمبا اور مضبوط تھا، اور چال میں خوداعتمادی جھلک رہی تھی۔ چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اس کے نقش و نگار کو اور بھی زیادہ نمایاں بنا رہی تھی۔ تیز اور گہری آنکھیں، سیدھی ناک اور متوازن چہرہ—ہر چیز میں ایک قدرتی کشش تھی۔

وہ ہینڈسم تھا… مگر صرف شکل سے نہیں، بلکہ اس کے انداز میں بھی ایک سخت سنجیدگی تھی۔

اس نے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف ایک نظر ڈالی، پھر آہستہ سے نظر اٹھا کر سیدھا ایرا کو دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور حیرت بھی۔

جیسے جیسے وہ قریب آ رہا تھا، اس کا رعب اور بھی واضح ہوتا جا رہا تھا۔ لمبا قد، پرسکون مگر سخت چہرہ، اور وہی تھری پیس سوٹ جس میں وہ کسی پروفیشنل شخصیت کی طرح لگ رہا تھا۔

اس کے قریب آتے ہی فجر نے آہستہ سے ایرا کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی۔

“یا اللہ… یہ لڑکا کتنا ہینڈسم ہے!”

ایرا نے فوراً آنکھیں گھما کر اسے دیکھا، اور دل ہی دل میں سوچا:

“یا اللہ… اس لڑکی کا کیا ہوگا…”

اتنے میں وہ لڑکا بالکل ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

اس نے ایک نظر ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف ڈالی، پھر سیدھا ایرا کو دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔

“یہ آپ نے کیا کیا ہے؟”

ایرا نے بغیر کسی جھجک کے، بالکل پرسکون مگر تیز انداز میں جواب دیا۔

“آپ اندھے ہیں کیا؟ آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ کیا ہوا ہے؟”

لڑکے کی بھنویں فوراً سکڑ گئیں۔

ایرا نے بات وہیں نہیں روکی، وہی طنزیہ انداز میں بولی۔

“ارے میں بھی نہ ایک اندھے اے پوچھ راہی ہوں کہ وہ اندھا ہے کہ نہیں کیونکہ اگر آپ اندھے نہیں ہوتے تو آپ گاڑی اس طرح نہیں چلا رہے ہوتے۔”

وہ تھوڑا سا جھکی، اور طنز بڑھاتے ہوئے کہا:

“ویسے تمہیں پتہ ہے فجر ؟ آج کل تو اندھوں کو بھی گاڑی چلانے کا لائسنس مل جاتا ہے۔”

یہ سن کر فجر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

وہ ایرا کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے سوچ رہی ہو کہ اب یہ لڑکی اگلا جملہ کیا بولے گی۔

اور لڑکا…

اس کی آنکھوں میں غصہ اور حیرت دونوں ایک ساتھ آ گئے تھے۔

اس نے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف دیکھا، پھر ایرا کو سیدھا دیکھ کر کہا:

“آپ نے یہ کیوں کیا؟”

ایرا نے بغیر جھجک کے جواب دیا:

“آپ نے ہمارے کپڑے گندے کیے تھے، اسی لیے یہ سب ہوا۔”

لڑکے کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔

“صرف کپڑوں کی وجہ سے آپ نے میری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا؟”

ایرا نے ٹھنڈے لہجے میں کہا:

“ہاں کیونکہ جب اپ اندھوں کی طرح گاڑی چلاۓ گے تو یہ سب تو ہوگا ہی نہ۔

ایرا معصومیت سے کہا۔

"اب اپ کا ارادہ ہمیں گھورنے کا ہی ہیں یہ اپ یہاں سے تشریف بھی لیے کر جاۓ گے"۔

ایرا نے ایان کو دیکھتے ہوئے کہا جو کب سے اسے گھورے ہی جا رہا تھا۔

ایان نے پہلے ایرا کو دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی کو دیکھا اور اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ کہا۔

“اپ کو تو میں دیکھ لونگا، کیونکہ ایان خان اپنا بدلہ ضرور لیتا ہے۔”

"تو دیکھ لینا ہم تو یہی ہیں ارے اپ کیسے دیکھیں گے اپ تو اندھے ہیں نا مگر کوئی بات نہیں جب اپ کی انکھیں ٹھیک ہو جائیں نا تب اپ ہمیں دیکھ لیے گا"۔

ایرا نے تپا دینے والی مسکراہٹ لیے کہا۔

ایان کوئی دیر تک اس کی بات کا جواب ڈھونڈتا رہا جواب نہ ملنے پر وہ چیخا اور پیر پٹکتا وہاں سے چلا گیا۔

کچھ ہی لمحوں میں وہ گاڑی میں بیٹھا اور آہستہ آہستہ وہاں سے روانہ ہو گیا۔

گاڑی جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوئی، فجر نے ایرا کی طرف دیکھا اور ہلکے سے مسکرا کر بولی،

“ایرا… تم نے تو کمال ہی کر دیا یار!”

ایرا نے فوراً کہا۔ "میرا چھوڑو یہ تمہیں کیا ہو گیا تھا اسے دیکھ کر۔۔”

فجر نے کہا، “کچھ بھی تو نہیں ہوا تھا ۔”

ایرا نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا جن پر کیچڑ کے چھینٹے تھے اور چڑ کر بولی،

“یار گھر چلتے ہیں… یہ کیچڑ نے میرا پورا موڈ خراب کر دیا ہے۔”

فجر نے بھی ہلکی سی ہنسی کے ساتھ سر ہلایا، “ہاں چلو، یہاں کھڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”

دونوں آہستہ آہستہ باتیں کرتی ہوئی سڑک پر چلنے لگیں۔ دسمبر کی ٹھنڈی ہوا ان کے چہروں سے ٹکرا رہی تھی اور ماحول اب آہستہ آہستہ پرسکون ہوتا جا رہا تھا۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں اپنے اپنے گھروں کے راستے پر الگ ہو گئیں…

ایرا جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوئی، گارڈن میں دونوں بھائی کرکٹ کھیل رہے تھے۔ گیند کی ٹَک ٹَک اور ان کی ہنسی پورے ماحول میں گونج رہی تھی۔

گیٹ سے اندر آتے ہی زوہان کی نظر ایرا پر پڑی اور وہ فوراً بولا،

“اپی! کیا آپ اور فجر اپی آج ہولی کھیل رہے تھے؟”

ایرا نے فوراً منہ بنایا اور تیز لہجے میں کہا،

“کیوں؟ تمہیں میں پاگل نظر آتی ہوں جو فجر کے ساتھ ہولی کھیلوں گی؟”

زویان ہنستے ہوئے قریب آیا،

“ارے اپی، آپ اسے چھوڑیں… یہ ہے ہی پاگل۔”

یہ سن کر زوہان نے فوراً اسے گھورا،

“کیا مطلب میں پاگل ہوں؟ بندا اس گھر میں کچھ پوچھ بھی نہیں سکتا؟”

ایرا نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا،

“ابھی تم دونوں نے لڑائی شروع نہیں کرنی!”

دونوں فوراً خاموش ہو گئے، مگر ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ بناتے رہے۔

پھر زویان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا،

“اچھا چھوڑیں یہ سب… آپ یہ بتائیں کہ آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے؟”

زوہان نے بھی جلدی سے کہا،

“ہاں ہاں اپی، بتائیں نا… میں بھی سنوں!”

ایرا نے ایک لمبی سانس لی اور پھر دونوں کو پورا واقعہ سنایا—ایان، لڑائی، گاڑی اور کیچڑ والا سارا سین۔

جیسے جیسے وہ بات کرتی گئی، دونوں کے چہروں پر دلچسپی بڑھتی گئی۔

کہانی ختم ہوئی تو زوہان فوراً بولا،

“واہ اپی! آج تو آپ نے کمال کر دیا، آپ نے واقعی ہمارا نام روشن کر دیا۔”

زویان فوراً بولا،

“اوور ایکٹنگ کی دکان ہو تم!”

زوہان نے فوراً جواب دیا،

“اچھا بچو! تمہیں خوشی نہیں ہو رہی؟”

زویان ہنستے ہوئے بولا،

“خوشی ہو رہی ہے، لیکن پاگل پن کے ساتھ نہیں دکھا سکتے نا!”

ایرا نے فوراً دونوں کو ہاتھ سے روکا،

“اچھا بس! تم دونوں نے کہہ دیا نا، بس!”

پھر وہ خود بھی ہلکی سی مسکرا دی اور بولی،

“ویسے… مجھے پتہ ہے میں نے آج بہت اچھا کیا ہے۔”

دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔

اتنے میں ہی ایرا کی امی سمینہ شاہ گارڈن میں آ پہنچیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ سب کی باتیں سن چکی ہیں۔

انہوں نے ایرا کو دیکھتے ہی پکارا،

“ایرا!”

ایرا نے جیسے ہی امی کو دیکھا، فوراً سیدھی ہو گئی۔ اس کے بھائی زوہان اور زویان بھی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

سمینہ شاہ کی نظر ایرا کے کپڑوں پر پڑی جن پر کیچڑ کے چھینٹے تھے، اور ان کے انداز سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ پوری بات جان چکی ہیں۔

ایرا نے فوراً کہا،

“جی امی…”

سمینہ شاہ نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا،

“یہ کیا کر کے آئی ہو بیٹا؟”

ایرا نے جلدی سے جواب دیا،

“امی کچھ بھی تو نہیں کیا…”

ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ زوہان فوراً بول پڑا،

“امی امی! اپی گاڑی کا شیشہ توڑ کر آئی ہے کسی کا!”

ایرا نے فوراً اسے گھورا،

“زوہان!”

زوہان نے منہ بنایا،

“ہاں تو سچ ہی تو بول رہا ہوں…”

زویان نے بھی فوراً کہا،

“، منہ میں کچھ رہتا بھی ہیں تمہارے!”

سمینہ شاہ نے ایرا کی طرف دیکھا اور سخت لہجے میں بولیں،

“ایرا یہ کیا حرکت ہے؟ کپڑوں پر کیچڑ لگا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کسی کی گاڑی کا شیشہ ہی توڑ دو!”

ان کا انداز وہی روایتی ماں والا تھا—

ایرا نے فوراً صفائی دی،

“وہہ امی کیا ہی کہنے اپ کے مطلب لوگ کچھ بھی کہے مگر ہم منہ پر تالے لگا کر بیٹھے راہے نہیں بھائی اتنی اچھی نہیں ہو میں۔۔”

"ایرا کیا بنے کا تمہارا اخر۔ "

سمینہ شاہ افسوس سے کہا۔

"اپ بھی نا امی میں کیا کیو سبزی ہو جو میرا کچھ بنے گا"۔

ایرا معصومیت سے کہا۔

ایرا کی بات پر زوہان اور زویان دونوں کا قہقہہ لگا تھا۔

سمینہ شاہ نے اسے غور سے دیکھا، پھر گہرا سانس لیا۔

“اچھا… اب جاؤ، اوپر جا کر کپڑے چینج کرو۔”

ایرا نے سر ہلایا اور چپ چاپ اوپر چلی گئی۔

زوہان نے ہلکے سے مسکرا کر کہا،

“واہ امی، آج تو آپ نے اپی کو چھوڑ دیا!”

سمینہ شاہ نے فوراً جواب دیا،

“میں اسکی ماں ہوں، کوئی جن نہیں۔ میری بچی ہے، اس کے کپڑے بھی بھیگے ہوئے ہیں، اتنی سردی میں مجھے فکر نہیں ہوگی؟”

زویان نے فوراً ہنستے ہوئے کہا،

“اچھا امی، بڑی فکر ہو رہی ہے بیٹی کی!”

سمینہ شاہ نے دونوں کو گھورا،

“بس بس! اب کرکٹ ختم۔ اندر آؤ، بہت ہو گیا۔”

اور پھر وہ تینوں آہستہ آہستہ گھر کے اندر چلے گئے۔

ایرا جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوئی، اس نے دروازہ اندر سے بند کیا اور ایک لمحے کے لیے خاموش کھڑی ہو گئی۔ پھر وہ آہستہ سے آئینے کے سامنے آ گئی۔

اس کی نظر اپنے ہی عکس پر پڑی، اور وہ ہلکے سے منہ بنا کر اپنی الماری کی طرف بڑھی۔ وہاں سے اس نے کپڑے نکالے اور بغیر کچھ کہے واش روم میں چلی گئی۔

ایرا جب واش روم سے فریش ہو کر باہر آئی تو کمرے کی ہلکی سی روشنی میں اب وہ واضع تھی۔ اس کے بال نم سی تازگی کے ساتھ کھلے ہوئے تھے، لمبے، گھنے اور ریشم جیسے، جو اس کی پشت پر نرمی سے بکھر رہے تھے۔ ہر حرکت کے ساتھ ان میں ہلکی سی جنبش آتی، جیسے وہ اس کی خاموش موجودگی کا حصہ ہوں۔

اس کی آنکھیں—گہری براؤن—اب بھی وہی سکون رکھتی تھیں۔ ان میں تھکن بھی تھی، خاموشی بھی، اور ایک عجیب سا ٹھہراؤ بھی، جیسے وہ بہت کچھ محسوس کر کے بھی سب کچھ اپنے اندر ہی رکھ لیتی ہو۔

اس کے چہرے کے نقوش زیادہ نمایاں یا چمکدار نہیں تھے، مگر پھر بھی کچھ ایسا تھا جو نظر کو روک دیتا تھا۔ کوئی بناوٹ نہیں، کوئی دکھاوا نہیں—بس ایک سادہ سی صورت، جس میں ایک غیر محسوس سی کشش چھپی ہوئی تھی۔ ایسی کشش جو چیختی نہیں، مگر دیکھنے والے کو خاموشی سے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

کبھی کبھی اللہ تعالیٰ انسان کو بہت زیادہ نمایاں خوبصورتی نہیں دیتا، مگر اس کے چہرے میں ایک ایسی تاثیر ضرور رکھ دیتا ہے جو آنکھوں کو روک لے۔ ایک ایسا ٹھہراؤ، ایک ایسی خاموش سی کشش جو دیکھنے والے کو ایک لمحے کے لیے ساکت کر دے۔

ایرا بھی ایسی ہی تھی—خاموش، سادہ، مگر اپنی موجودگی میں غیر معمولی طور پر محسوس ہونے والی۔

★★★★

دسمبر کی شام آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی۔ کراچی کی اونچی شیشے والی عمارتوں پر رات کی ہلکی سی چادر تن چکی تھی، اور کمپنی کے glass tower کے اندر روشنیوں کا ایک نرم سا جال بچھ گیا تھا۔

یہ عمارت باہر سے جتنی پُررعب دکھائی دیتی تھی، اندر سے اتنی ہی پُرسکون اور باوقار محسوس ہوتی تھی۔

جیسے ہی کوئی اندر داخل ہوتا، سب سے پہلے ایک کشادہ سا لابی ایریا سامنے آتا۔ سفید اور کالے ماربل کا فرش اوپر لگی نرم سنہری روشنی میں ہلکا سا چمک رہا تھا۔ دیواروں پر جدید انداز کے ڈیزائن اور بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے جو پوری جگہ کو ایک نفیس اور مہنگا سا انداز دے رہے تھے۔

ہر چیز بےحد ترتیب سے موجود تھی۔

ایک طرف ریسیپشن تھا جہاں لوگ دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے، جبکہ دوسری طرف شیشے کی دیواروں کے پیچھے مختلف دفاتر نظر آ رہے تھے۔ کہیں لوگ لیپ ٹاپ پر مصروف تھے، کہیں کسی میٹنگ کی تیاری ہو رہی تھی، اور کہیں خاموشی سے فائلیں ترتیب دی جا رہی تھیں۔

مگر اس پوری جگہ کی سب سے خاص بات اس کی خاموشی تھی۔

یہ سنسانی والی خاموشی نہیں تھی، بلکہ وہ خاموشی جو صرف ان جگہوں پر محسوس ہوتی ہے جہاں ہر شخص اپنے کام میں مکمل سنجیدہ ہو۔

اوپر والے فلورز تقریباً مکمل شیشوں پر بنے ہوئے تھے۔ دسمبر کی شام میں کراچی شہر کی روشنیاں ان شیشوں سے صاف دکھائی دیتی تھیں، جیسے پورا شہر اس عمارت کے نیچے سانس لے رہا ہو۔


کانفرنس روم بھی عام کمروں جیسا نہیں تھا۔ بڑی بڑی شیشے کی دیواریں، درمیان میں لمبی سیاہ میز، مدھم سنہری روشنیاں اور سامنے پورے شہر کا منظر… وہاں بیٹھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے شہر کی آدھی دنیا آپ کے قدموں کے نیچے ہو۔

میٹنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ ٹیبل کے گرد بیٹھے لوگ اپنی فائلیں سمیٹنے لگے، اسکرین آف ہو گئی، اور کمرے میں وہ پروفیشنل سی خاموشی واپس آ گئی جو ہر کامیاب میٹنگ کے بعد رہ جاتی ہے۔

ایان اپنی جگہ پر چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس نے فائل بند کی، گھڑی دیکھی اور کرسی سے اٹھ گیا۔

وہ ابھی کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ اس کا موبائل بج اٹھا۔

اس نے اسکرین پر نظر ڈالی—زارار۔

وہ فوراً کال اٹھا لیتا ہے۔

“ہاں بولو.”

دوسری طرف سے زارار کی جلدی بھری آواز آئی،

“لالا! آپ سوات کب جارہے ہیں۔ مجھے تو ابھی بھی یہاں کام ہیں۔

ایان نے ہلکے سے سانس لیا، پھر پرسکون مگر واضح لہجے میں کہا،

“ہاں کام تو مجھے بھی ہیں۔ میں داجی سے خود بات کر لونگا ۔ پھر ہم ساتھ ہی سوات چلے گے۔ ”

زارار کچھ لمحہ خاموش ہوا، پھر بولا،

“لالا کیا کچھ ہوا ہیں۔”زارار کو اسکی اواز کچھ الگ لگتی ہیں

"ارے کیا ہی کیا ہی بتاؤں اج کسی پاگل سے ٹکرا گیا تھا وہ تو اتنی بڑی پاگل تھی کہ اس نے میری گاڑی کا شیشہ ہی توڑ دیا اور وجہ کیا تھی کہ میری گاڑی سے ان کے کپڑوں پر کیچڑ گیا تھا۔"

ایان تو جیسے پھٹ پڑا تھا۔

"لالا اخر کون تھی وہ لڑکی جس نے ایان خان زیادہ سے پنگا لے لیا ہوگی تو کوئی ہمت والی جس نے اپ کو بھی چپ کرا دیا۔"

زارار نے ہستے ہوۓ کہا۔

"اچھا چلو اب زیادہ دماغ مت کھاؤ رات میں بات کرتا ہوں تم سے۔ "

یہ کہہ کر ایان فورا فون بند کر دیتا ہے۔

دوسری طرف ضرار فون کو دیکھ کر بس یہی سوچ پاتا ہے کہ بندہ دوسرے کو بولنے کا موقع تو دے منہ پر ہی فون بن کردیا۔

ایان ہاتھ میں فون لیے چند لمحے خاموش رہا۔ باہر glass wall کے پار دسمبر کی شام اب مکمل رات میں بدل رہی تھی، اور شہر کی روشنیاں نیچے کسی اور ہی دنیا کا منظر دکھا رہی تھیں۔

ایان کی نظر ایک لمحے کو ان روشنیوں پر ٹھہری رہی… پھر وہ آہستہ سے آگے بڑھ گیا۔

★★★★

سوات کی سرد ہواؤں میں ایک عجیب سا سکون گھلا ہوا تھا۔ دسمبر کے دن اپنی پوری ٹھنڈک کے ساتھ وادی پر پھیلے ہوئے تھے۔ دور دور تک بلند پہاڑ سفید دھند کی ہلکی تہہ میں چھپے ہوئے نظر آتے تھے، جبکہ سورج کی مدھم روشنی ان چوٹیوں پر پڑ کر ایک نرم سا سنہری منظر بنا رہی تھی۔

ہوا ٹھنڈی ضرور تھی، مگر اس میں ایک عجیب سی تازگی تھی… ایسی جو انسان کے اندر تک اتر جائے۔

سڑکوں کے کنارے لمبے درخت خاموشی سے کھڑے تھے، اور ان کے درمیان سے گزرتی ہوئی سڑک سیدھا ایک بڑی سی حویلی کی طرف جاتی تھی۔

وہ حویلی دور سے ہی اپنی شان ظاہر کر دیتی تھی۔

سفید رنگ کی بلند و بالا حویلی، جس کی دیواروں پر پڑتی دھوپ اسے اور بھی پُروقار بنا رہی تھی۔

سامنے ایک بڑا سا سیاہ گیٹ تھا، جس پر نفیس نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ گیٹ کے دونوں طرف لمبے درخت اور ہلکی سنہری لائٹس لگی ہوئی تھیں جو شام ہوتے ہی پورے ماحول کو خواب جیسا بنا دیتی تھیں۔

گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایک وسیع باغ نظر آتا تھا۔

ہر طرف ہرے بھرے پودے، رنگ برنگے پھول، اور درمیان میں بنا ہوا پتھروں کا خوبصورت راستہ جو سیدھا حویلی کے مرکزی دروازے تک جاتا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے ساتھ پھولوں کی ہلکی خوشبو پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔

حویلی اندر سے بھی اتنی ہی شاندار تھی۔

بڑے بڑے شیشے، بلند چھتیں، سفید دیواروں پر سنہری کام، اور ہر طرف ایک نفیس سی خاموشی۔ دن کی روشنی ان شیشوں سے اندر آ کر پورے ہال میں نرم سی چمک بکھیر رہی تھی۔

حویلی کے اوپری حصے میں واقع وہ کمرہ باقی کمروں سے مختلف محسوس ہوتا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک عجیب سا وقار اور سکون پورے ماحول میں محسوس ہوتا تھا۔

کمرہ بہت بڑا تھا۔ سفید اور ہلکے سنہری رنگ کی دیواریں، بلند چھت، اور ایک طرف لگے ہوئے بڑے بڑے شیشے جن سے باہر سوات کی ٹھنڈی شام صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ہلکی دھند پہاڑوں کے گرد پھیلی ہوئی تھی جبکہ ڈوبتی ہوئی شام کی روشنی شیشوں سے اندر آ کر کمرے میں نرم سا سنہری عکس بکھیر رہی تھی۔

کمرے میں ہر چیز نفاست سے سجی ہوئی تھی۔

ایک طرف لکڑی کی بڑی سی بک شیلف تھی، جس میں پرانی کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں۔ درمیان میں گہرے رنگ کے شاہانہ صوفے رکھے تھے، جبکہ دیواروں پر لگی warm lights پورے ماحول کو اور بھی پُرسکون بنا رہی تھیں۔

وہ کمرہ دیکھتے ہی محسوس ہو جاتا تھا کہ یہاں کوئی عام انسان نہیں رہتا…

بلکہ کوئی ایسی شخصیت رہتی ہے جس کی

خاموشی میں بھی رعب ہو، اور محبت میں بھی وزن۔

حیدر خان… جنہیں گھر کے سب لوگ محبت سے “داجی” کہتے تھے۔

وہ اس وقت ایک بڑے سے صوفے پر بیٹھے فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، اور آواز میں وہی مانوس سی گرمجوشی۔

“اچھا اچھا… ٹھیک ہے پھر، اپنا خیال رکھنا۔”

وہ ہلکے سے ہنسے۔

“اللہ حافظ۔”

فون بند کرتے ہوئے ان کے چہرے پر اب بھی ہلکی مسکراہٹ موجود تھی۔

سامنے والے صوفے پر شہرام، اہل اور زاویان بیٹھے ہوئے تھے۔ تینوں کے انداز الگ تھے مگر نظریں داجی کی طرف ہی تھیں.

افون بند ہوتے ہی اہل نے کہا۔

"بس ایان لالا یا زارار لالا کی کول اجائے داجی کی خوشی چیک کرو۔ غالبن داجی ہم بھی اپ ہی کے ہوتے ہیں۔ "

"وہ تم لوگوں کی طرح نہیں ہیں تم کر تو گھر کو ہی میدان جنگ بنا دیتے ہو۔"

داجی نے سنجیدگی سے کہا۔

"داجی میں نے کیا کیا ہیں۔ میں تو کل رات ہی ایا ہوں"۔۔۔

ذاویان کہتا ہے۔

"داجی اپ مان لیجیۓ کے اپ ان سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔"

شہرام نے زاویان کی بات کاٹتے ہوۓ کہا۔

"ہاں! کرتا ہوں ان سے زیادہ پیار کیوں کے وہ اس گھر کے پہلے پہلے بچے ہیں"۔

داجی پیار سے انہیں کہا ۔۔۔

اچھا یہ سب چھوڑے یہ بتائیں وہ لوگ کب ارادے ہیں۔

زاویان کل ہی یورپ سے ایا تھا۔ اب اسے ایان روحان، زارار ان سے ملنا تھا۔

وہ لوگ کچھ دن میں اۓ گے ۔ انہیں ابھی کچھ کام ہیں۔

داجی کہتے ہیں۔

یہ کیا بات ہوئی میں اگیا۔ گھر میں شادی ہیں اور ان لوگوں کے کام ہی نہیں خاتم ہو راہے۔

زاویان منہ بنا کر کہتا ہیں۔

میں بھی کل کراچی جا راہا ہوں۔ مجھے کیسی کو شادی کی دعوت دینی ہیں میں انہیں ساتھ لے کر اونگا تو کمرے تیار رکھنا۔

"داجی کاہی یہ وہ ہی فیملی تو نہیں جن کے بارے میں اپ نے بتایا تھا۔"

اہل تجسس سے کہتا ہیں۔۔

"ہاں! وہ بچی اسے تو اتنی نہیں چلو اسی بہانے ہی سہی اجاۓ۔۔ "

داجی پیار سے کہتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے چلے جاتے ہیں۔

"کوئی مجھے بھی بتاۓ گا کے کیا ہو راہا ہیں یہاں۔؟ "

زاویان جو حیرانی سے یہ ساری کاروائی دیکھ راہا تھا فوراً بالا۔

"اپ بھی تو ہو یہاں پر ہم تو بھول ہی گۓ تھے"۔

شہرام زاویان کو دیکھ کر کہتا ہے۔

"اب اپنی منحوس شکلوں سے دیکھنا بند کرو اور بتاؤ"۔

زاویان دانت پیس کر کہتا ہے۔

"اچھا بتاتے ہیں اسی بیکار شکل تو نہ بناۓ۔ "

اہل زاویان کو دیکھ ہستے ہوۓ کہتا ہے۔

"دیکھو یہ جو بچی ہیں نہ اس نے داجی کی جان بچائی تھی دو سال پہلے داجی نے بتایا تھا نہ اس کے باد سے داجی اسے بہت اٹیچ ہیں اور تب سے کراچی بھی بہت جاتے ہیں اور پھر اکر کہتے ہیں وہ بچی تو بہت سمجھدار ہیں۔ اور خاص بات یہ کہ یہ اس کی باتیں زیادہ تر داجی ایان لالا کے سامنے کرتے ہیں۔ داجی ایان لالا کی شادی ان سے ہی کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات ایان لالا کے علاوہ سب کو سمجھ اتی ہیں۔ "

اہل اسے پوری بات بتاتا ہے۔

"کیا سچ میں؟"

زاویان حیرانی سے پوچھتا ہے۔

"ہاں بابا۔۔"

شہرام سنجیدگی سے کہتا ہے۔

"چلو چلتے ہیں یہاں سے"۔

اہل کے کہنے پر تینوں کمرے سے نکل جاتے ہیں۔

وہ تینوں اب لاونچ میں اگر تھے جہاں پہلے ہی سب مجود تھے ایک صوفے پر زینب بیگم، امینہ بیگم، دعا بیگم بیٹھیں تھی۔ اور دوسرے صوفے پر ارحا، بسما، زارا، نور، مشال، بیٹھیں تھی۔

لاونچ میں داخل ہوتے ہی تینوں نے سلام کیا۔

سلام کے باد تینوں صوفے پر بیٹھ گۓ۔ بیٹھتے ہی شہرام نے کہا۔

"اور کیسے ہیں سب۔ "

شہرام کی بات پر بسما نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔

"اب تک تو ٹھیک تھے اگے کا اللہ ہی حافظ ہیں"۔

بسما کی بات پر شہرام نے اسی کے انداز میں کہا۔

"تم بھی ادھر ہو۔ ویسے میرا بھی یہی خیال ہیں۔ "


*ہو گیا تمہارا, اگر ہوگیا ہو تو اپنا منہ بند کر لو۔ "

بسما نے منہ بنا کر کہا۔۔

"بس! اب تم دونوں میں سے کیسی کی اواز نہیں اۓ۔ دن بھر لڑتے رہتے ہیں۔ *

زینب بیگم نے دونوں کو جھڑکا۔ انکی دانٹ پر دونوں چپ ہوگۓ۔

یہ حویلی حیدر خان کی تھی۔ حیدر خان کی پانچ اولادیں تھی۔ پہلی اولاد اباس خان تھے۔ جنکی وفات ہوگئ تھی۔ ان کی بیوی زینب خان اسی حویلی میں رہتی تھی۔ انکے تین بچے تھے روحان خان جو سگا تو نہیں تھا پر سگے سے بڑ کر تھا۔ ایان اور زارا خان۔ ایان خان اس علاقے کا سردار تھا۔ حیدر خان کے دوسرے بیٹے زمان خان تھے ان کی بیوی امینہ خان تھی انکے بھی تین ہی اولادیں تجی پہلی زارار، پھر شہرام اور پھر ارحا، خان۔ حیدر خان کے تیسرے بیٹے شہریار خان تھے ان کی بھی تین ہی اولادیں تھی پہلی زاویان جو بھر ہی رہتا تھا کل ہی ایا تھا۔ دوسری اہل اور پھر بسما۔

حیدر خان کی دو بیٹیاں بھی تھی جن کی شادی ایک ہی گھر میں ہوئی تھی۔ مگر ایک ایکسیٹینٹ میں دونوں کی وفات ہو گئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد سے ہی ان دونوں کی بیٹیاں بھی ایسی حویلی میں رہتی تھی۔ حیدر خان کی چوتھی بیٹی روشنا خان تھی ان کے شوہر امن خان تھے ان کی بیٹی میشال خان تھی جس کی شادی ہونے والی تھی۔ حیدر خان کی پانچویں اور اخری اولاد رائینہ خان ان کے شوہر زریان خان تھے ان کی بیٹی نور خان تھی۔

"اچھا لالا یہ بتائیں میں کیسی لگ رہی ہوں۔ "

ارحا نے شہرام سے پوچھا یہ سوٹ اسے شہرام نے لا کر دیا تھا۔

"ماشاءاللہ سے بالکل چڑیل لگ رہی ہو۔ "

شہرام کچھ بولتا اس سے پہلے ہی اہل بول پڑا۔

"اپنی زہریلی زبان بند رکھو ورنہ ایکسیڈنٹ سے تو بچ گئے ہو میرے ہاتھوں سے نہیں بچو گے۔ "

ارحا دانت پیس کر کہا ۔

اہل کا کچھ دن پہلے ہی ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا جس کا دانہ ارحا اتنے دن سے دے رہی تھی

ا"چھا میں بھی دیکھوں کہ تمہارے لکڑی جیسگے ہاتھ اخر میرا کیا ہی بگاڑ لیں گے۔"

اہل نے باقاعدہ چیلنج کیا تھا۔

"لالا اس چلگوزے کی شکل والے کو سمجھالے ورنہ۔۔۔"

ارحا نے اتنا ہی کہا اور وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کا کام تو ہوگیا۔

"تم کیا حور پری ہو چڑیل کہیں کی۔۔ "

اہل نے دانت پیس کر کہا۔

"کوئی شک ہے کیا کسی سے بھی پوچھ لو کہ میں حور پری ہوں یا نہیں۔ "

ارحا نے اتراتے ہوۓ کہا۔

"کیا مسئلہ ہے تم دونوں کے ساتھ تم چار جہاں ہو وہاں سکون کا تو کوئی نام ہی نہیں ہو سکتا اب کوئی بھی نہیں بولے گا ادھر سکون سے بیٹھے رہو۔ "

اس بار امینہ بیگم نے کہا

"مورے میں نے کیا کیا ہے یہی ہے ہر جگہ اپنی پکوڑے جیسی ناک گھسا لیتا ہے ۔ "

ارحا نے منہ بنا کر کہا۔

"دیکھ لیں تائی جان یہ کس طرح اپنی زہریلی زبان سے زہر اگل رہی ہے۔ "

اہل بھی کہا پیچھے رہ سکتا تھا۔

"یہ دیکھو ان کو ان لوگوں کی لڑائی نہیں ختم ہوتی اور بابا جان ان کے ہوتے ہوئے گھر میں مہمان لا رہے ہیں۔"

زینب بیگم نے افسوس سے کہا۔

"مورے کون ارہا ہے۔ "

اس پوری گفتگو میں زارا نے پہلی بار بولا تھا۔

"تم بولتی بھی ہو؟"

یہ کہنے والا زاویان تھا۔

اسکے اس طرح کہنے ہر سب کا بے ساختہ قہقہہ گونجا تھا۔

"اپ کو اس نے کہا میں نہیں بولتی دیکھیں میں اپ سے بات کر رہی ہوں مطلب میں بولتی ہوں۔ "

زارا نے معصومیت سے کہا۔

اس کی بات پر زاویان کا تو منہ ہی کھول گیا تھا۔ وہ یہ تو جانتا تھا کے وہ معصوم ہیں ہر اتنی۔

"زارا کیا ہو گا تمہارا۔"

نور نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

"کیوں کیا ہوا ہیں۔"

زارا نے پوچھا۔

"اس کا مطلب ہیں کے اتنا معصوم ہونا بھی اچھا نہیں ہیں۔"

بسما نے اسے سمجھانا چہا۔۔

"ہاں ہاں اس کا مطلب ہے کہ تم اس کی طرح چالاک بن جاؤ۔ ""

شہرام نے کہا۔

"ایک تو ان کا ہر بات نمی ٹانگ اڑانا تو جیسے فرض ہو گیا ہے۔ "

بسما نے غصے سے کہا۔

"اچھا ہیں میں یہاں نہیں تھا ورنہ میں تو پاگل ہی ہو جاتا۔ "

زاویان نے شکر ادا کیا۔

"پتا نہیں جو اراہے ہیں ان کا کیا ہوگا۔"

زاویان نے مزاق میں کہا۔

"میں تو بہت ایکسائٹڈ ہوں دیکھنے کے لیے کیسا کون ہے جس کی تعریف داجی کرتے ہیں۔ "

اہل نے پرجوش لہجے میں کہا۔

'اس چلغوزے نے پہلی بار کچھ اچھا کہا ہے۔ "

ارحا نے بھی پرجوش لہجے میں کہا۔

"ارحا کی بات میں اہل کچھ کہتا اس سے پہلے ہی دعا ببیگم بول پڑی۔"

اچھا چلو کھانا کھانے۔

ان بات پر سب وہاں سے چلے گۓ اور پیچھے وہ تینوں ہی رہ گۓ تھے۔


"کوئی مجھے اس گھر میں کچھ بولنے کیوں نہیں دیتا۔ "

اہل نے غصے سے کہا۔

"تم اپنا غم بعد میں بنا لینا چلو نا کھانا کھانے چلتے ہیں مجھے ویسے بھی بہت بھوک لگی ہے۔ "

زاویان نے اہل کو کہا۔ اور پھر تینوں ادھر سے چلے گیا۔

اب ادھر خاموشی کا راج تھا۔

★★★★

رات کی تاریکی اپنے عروج پر تھی۔ باہر ٹھنڈی ہوائیں خاموشی کو اور زیادہ گہرا کر رہی تھیں۔ مگر اُس کے کانوں میں اب بھی چیخوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

“سب تمہاری غلطی ہے!”

“تم نے اُسے مار دیا!”

“اگر تم نہ ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا!”

ہر آواز جیسے اُس کے وجود کو چیر رہی تھی۔ ہر الزام اُس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ بھاگنا چاہتی تھی… مگر قدم جیسے زمین میں دھنس گئے تھے۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔

سانس بری طرح پھول رہی تھی۔ چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا جبکہ آنسو اب بھی اُس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ کمرے کی نیم تاریکی میں اُس نے بےچینی سے اِدھر اُدھر دیکھا، جیسے خود کو یقین دلانا چاہتی ہو کہ وہ سب صرف ایک خواب تھا… صرف ایک ڈراؤنا خواب۔

اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو تھاما اور آہستہ سے بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ باہر چلتی ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلا رہی تھی، مگر اُس کے اندر جیسے آگ جل رہی تھی۔

ایرا نے نظریں جھکا لیں۔

لوگ کہتے ہیں ماضی وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے…

مگر شاید لوگ غلط کہتے ہیں۔

ماضی کبھی ختم نہیں ہوتا…

بس وقت کے ساتھ اپنی شکل بدل لیتا ہے۔

ایرا نے گہرا سانس لیا اور کانپتے ہاتھوں سے سامنے رکھا جگ اٹھایا۔ پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے بھی اُس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ ٹھنڈا پانی حلق سے اترا تو جیسے اُس کی بکھری سانسوں کو کچھ سکون ملا۔

وہ آہستہ سے اٹھی اور کمرے سے جڑی بالکنی کی طرف بڑھ گئی۔

بالکنی چاروں طرف سے ہلکے سفید پردوں میں گھری ہوئی تھی۔ رات کی ٹھنڈی ہوا اُن پردوں کو آہستگی سے ہلا رہی تھی۔ بس ایک چھوٹی سی جگہ کھلی تھی جہاں سے باہر کا دھندلا سا منظر نظر آ رہا تھا۔ دور آسمان پر چاند ادھورا سا چمک رہا تھا۔

وہ وہاں رکھی چیئر پر جا بیٹھی۔ گھٹنوں کو اپنے قریب سمیٹ کر اُس نے نظریں خلا میں جما دیں۔

کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ وہ اپنی تقدیر سے بھاگ جائے گا…

مگر تقدیر عجیب ہوتی ہے۔

یہ انسان کا ہاتھ کبھی مکمل چھوڑتی نہیں۔

بس خاموشی سے اُس کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔

وقت گزر جاتا ہے… لوگ بدل جاتے ہیں… راستے بدل جاتے ہیں…

مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو قسمت انسان کی روح پر لکھ دیتی ہے۔

اور روح پر لکھی چیزیں کبھی نہیں مٹتیں۔

ایرا کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

شاید ماضی کتاب کے بند صفحوں جیسا نہیں ہوتا…

کہ جب چاہو بند کر دو۔

ماضی تو اُس خوشبو کی طرح ہوتا ہے…

جو بظاہر ختم ہو جاتی ہے، مگر کبھی کبھی اچانک ہوا میں پھر سے محسوس ہونے لگتی ہے۔

وہ خاموشی سے آسمان کو دیکھتی رہی۔ رات مزید گہری ہوتی گئی۔ ٹھنڈی ہوا اُس کے چہرے سے ٹکراتی رہی۔

سوچتے سوچتے…

پتہ ہی نہیں چلا کب اُس کی پلکیں بوجھل ہوئیں…

اور وہ وہیں چیئر پر بیٹھی بیٹھی نیند کی آغوش میں چلی گئی۔

رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا جب کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھلا۔

سلطان شاہ دھیرے قدموں سے اندر داخل ہوئے۔ کمرے میں مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی، مگر بیڈ خالی تھا۔ اُن کی نظر فوراً بالکنی کی طرف گئی جہاں پردے ہلکی ہوا کے ساتھ لہرا رہے تھے۔

وہ آہستہ سے وہاں بڑھے۔

بالکنی میں رکھی چیئر پر ایرا سکون سے بیٹھی سو رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر بکھرے بال، خشک آنسوؤں کے نشان اور تھکن جیسے صاف بتا رہے تھے کہ وہ کتنی لڑائیاں خاموشی سے لڑ رہی تھی۔

سلطان شاہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

وہ اُس کے قریب بیٹھ گئے اور لرزتے ہاتھ سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

“میرا بچہ…” اُن کی آواز بےحد دھیمی تھی۔

“مجھے معاف کر دینا…”

وہ چند لمحے خاموش رہے، جیسے الفاظ ڈھونڈ رہے ہوں۔

“مانتا ہوں… ایک لمحے کے لیے میرا یقین ڈگمگا گیا تھا۔ مگر سچ یہ ہے کہ میں دنیا میں سب سے زیادہ تم پر بھروسہ کرتا ہوں۔”

اُنہوں نے نم آنکھوں سے ایرا کو دیکھا

“تم نے بہت کچھ سہا ہے… شاید اُس سے بھی زیادہ جتنا میں سمجھ سکا…”

ہوا کا ایک جھونکا آیا تو سلطان شاہ نے فوراً قریب پڑی چادر اٹھا کر نرمی سے اُس کے اوپر ڈال دی۔

کچھ لمحے وہ اُسے خاموشی سے دیکھتے رہے… پھر گہرا سانس لے کر اٹھے، کمرے کی لائٹ مدھم کی اور دروازہ آہستگی سے بند کر کے وہاں سے چلے گئے۔

جبکہ ایرا بےخبر، اُسی خاموش رات میں سکون سے سو رہی تھی۔

★★★

گودام کے باہر غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

سیاہ جیکٹ میں ملبوس شخص نے عمارت کا بغور جائزہ لیا۔ اسے ملنے والی اطلاع کے مطابق آج کئی مہینوں سے جاری تعاقب کا ایک اہم سراغ ملنے والا تھا۔

جیسے ہی وہ آگے بڑھا، چار آدمی اس کا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے۔

"یہیں رک جاؤ۔"

ایک آدمی نے سخت لہجے میں کہا۔

سیاہ جیکٹ میں ملبوس شخص کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

"تم لوگ ہمیشہ غلط آدمی کا راستہ روکتے ہو۔"

پہلا آدمی غصے سے اس کی طرف لپکا۔

اس نے فوراً اس کا ہاتھ روکا اور ایک زور دار مکا اس کے پیٹ پر دے مارا۔ آدمی درد سے دوہرا ہو گیا۔

دوسرا شخص حملہ کرنے بڑھا تو اس نے گھوم کر اس کے کندھے پر کہنی ماری۔ حملے کی شدت سے وہ لڑکھڑا کر پیچھے جا گرا۔

تیسرا آدمی پیچھے سے حملہ آور ہوا مگر وہ بروقت جھک گیا۔ حملہ خالی گیا۔

"بہت سست ہو۔"

اس نے سرد لہجے میں کہا اور اسے زور سے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔

چند ہی لمحوں میں چاروں آدمی زمین پر پڑے کراہ رہے تھے۔

اس نے سکون سے اپنی جیکٹ درست کی اور گودام کے اندر داخل ہوگیا۔

اندر خاموشی تھی۔

بکھرے ہوئے کاغذات...

خالی کرسیاں...

اور چھت سے لٹکتا ایک مدھم بلب۔

بس اتنا ہی۔

اس کی نظریں پورے ہال میں گھومیں۔

"جیسے سوچا تھا..."

اس نے آہستہ سے کہا۔

"تم یہاں نہیں ہو۔"

تبھی اس کا فون بج اٹھا۔

نامعلوم نمبر۔

اس نے فوراً کال ریسیو کی۔

"کافی تیزی سے پہنچ گئے تم۔"

دوسری جانب سے پُراعتماد آواز سنائی دی۔

اس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔

"کب تک چھپتے رہو گے؟"

اگلے ہی لمحے دوسری طرف سے قہقہے کی آواز گونجی۔

"دلچسپ بات ہے..."

"تم مجھے پکڑنے نکلے ہو، Falcon... مگر آج تک مجھے دیکھا تک نہیں۔"

کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔

پھر Falcon کی ٹھنڈی آواز گونجی۔

"شکاری کو شکار تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔"

دوسری جانب خاموشی چھا گئی۔

Falcon نے اپنی نظریں اندھیرے میں جما دیں۔

"آج نہیں تو کل..."

"کل نہیں تو پرسوں..."

"لیکن جس دن تم میرے سامنے آئے..."

اس کی آواز غیر معمولی حد تک سرد ہوگئی۔

"وہ تمہارا آخری آزاد دن ہوگا۔"

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر کال منقطع ہوگئی۔

Falcon نے فون جیب میں رکھا اور خالی گودام پر ایک آخری نظر ڈالی۔

اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

"بھاگ لو..."

وہ دھیمی آواز میں بولا۔

"کیونکہ اب میں تمہارے بہت قریب پہنچ چکا ہوں۔"

اگلے ہی لمحے وہ مڑا اور اندھیرے میں گم ہو گیا۔

★★★★

گھر کا ماحول ہمیشہ کی طرح پُرسکون اور خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ڈرائنگ روم میں ہلکی ہلکی ہنسی کی آوازیں گونج رہی تھیں جبکہ میز پر چائے کے ساتھ سموسے، بسکٹ اور پکوڑے رکھے تھے۔

سلطان شاہ آرام سے صوفے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے جبکہ سمینہ شاہ سب کو پلیٹیں دے رہی تھیں۔

“مما! میرے لیے بھی چٹنی رکھیں نا!” زوہان نے فوراً کہا۔

“تمہارا بس چلے تو پوری پلیٹ چٹنی کی کھا جاؤ۔” زویان نے ہنستے ہوئے کہا۔

“اور تم جیسے بہت شریف ہو۔” زوہان نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔

“بس کرو تم دونوں!” سمینہ شاہ نے گھورتے ہوئے کہا، “ہر وقت لڑتے ہی رہتے ہو۔”

ایرا ہلکا سا مسکرائی۔ اسے اپنے گھر کا یہ شور ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔

اسی دوران اس نے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا، “بابا… مجھے آپ سب کو کچھ بتانا تھا۔”

سلطان شاہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ “ہاں بیٹا؟”

“میرا اگلے مہینے سوات میں میڈیکل کیمپ لگ رہا ہے۔”

“سوات میں؟” سمینہ شاہ فوراً بولیں، “وہ کیوں بھلا؟”

ایرا نے آہستہ سے جواب دیا، “مما وہ ہماری تربیت کا حصہ ہے۔ جب ہم مکمل ڈاکٹر بن جائیں گے نا تو ایسے کیمپ سنبھالنے ہوتے ہیں، اس لیے ابھی سے سکھایا جاتا ہے۔”

سلطان شاہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا، “اچھا… یہ بات ہے۔”

“اور…” ایرا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “داجی کا بھی فون آیا تھا۔”

“داجی؟!” زوہان فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

“جی!” ایرا ہنسی، “وہ کہہ رہے تھے کہ آج رات وہ آ رہے ہیں۔ ان کی پوتی کی شادی ہے اور وہ ہمیں بہت کہہ رہے تھے کہ ہم سب سوات آئیں۔”

“سچ؟!” زویان خوشی سے بول اٹھا، “ہم سوات جائیں گے؟!”

“واہ!” زوہان بھی خوشی سے چلایا۔

سمینہ شاہ نے فوراً دونوں کو گھورا۔ “کوئی کہیں نہیں جا رہا۔ ہم ایسے کسی کے گھر جا کر کیسے رہ سکتے ہیں؟”

“مما پلیز!” دونوں بھائی ایک ساتھ بولے۔

“نہیں۔”

“مما چلیں نا، بڑا مزہ آئے گا!” زوہان نے منت کرتے ہوئے کہا۔

“تم لوگوں کو کالج نہیں جانا؟” سمینہ شاہ نے بازو باندھتے ہوئے کہا۔

ایرا فوراً بولی، “مما یہ کون سا پہلی بار کالج نہیں چھوڑیں گے۔”

“ہاں!” زویان فوراً بولا، “ہم چھٹی کی درخواست دے دیں گے۔”

“بالکل دے دیں گے!” زوہان نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔

سلطان شاہ ہنسی روکنے لگے جبکہ سمینہ شاہ نے بے بسی سے سب کو دیکھا۔

ایرا آہستہ سے ان کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔ “مما… چل لیتے ہیں نا۔ ویسے بھی میرا میڈیکل کیمپ وہاں لگنے والا ہے۔ ہم کچھ دن پہلے چلے جاتے ہیں۔ آپ لوگ سوات گھوم بھی لیں گے… پھر بعد میں تو میں اپنے کیمپ میں مصروف ہو جاؤں گی۔”

سمینہ شاہ کچھ کہنے ہی والی تھیں کہ دونوں بھائی دوبارہ شروع ہو گئے۔

“مما پلیز!”

“مان جائیں نا!”

“ہم بالکل تنگ نہیں کریں گے!”

“جھوٹ!” ایرا فوراً بولی۔

“اوئے!” دونوں نے ایک ساتھ اسے گھورا۔

کمرے میں ہنسی گونج گئی۔

آخرکار سلطان شاہ نے ہار مانتے ہوئے کہا، “چلو… چل لیتے ہیں۔”

“واقعی؟!” دونوں بھائی خوشی سے اچھل پڑے۔

زوہان تو خوشی میں صوفے سے ہی نیچے اتر گیا جبکہ ایرا ہنستے ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

سمینہ شاہ نے حیرت سے سلطان شاہ کو دیکھا۔ “آپ نے واقعی مان لیا؟”

“اتنا کہہ رہے ہیں سب… اب میں اکیلا کیا کرتا؟”

زویان فوراً ان کے گلے لگ گیا۔ “بابا آپ سب سے اچھے ہیں!”

سلطان شاہ ہنس پڑے۔

“چلیں پھر!” ایرا اچانک بولی، “اس خوشی میں آئس کریم کھانے چلتے ہیں!”

“ہاں!” دونوں بھائی ایک ساتھ چلائے۔

سمینہ شاہ نے ماتھا پکڑ لیا۔ “یا اللہ… یہ بچے مجھے پاگل کر دیں گے۔”

“مما جلدی کریں نا!” زوہان نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“میں کہیں نہیں جا رہی۔”

“ممااا…” تینوں ایک ساتھ بولے۔

سلطان شاہ ہنستے ہوئے کھڑے ہوئے۔ “چلو بھئی، آج ان لوگوں کی بات مان لیتے ہیں۔”

اور اگلے ہی لمحے پورا گھر شور، ہنسی اور خوشیوں سے بھر گیا…

کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ سوات کا یہ سفر ان سب کی زندگیاں بدلنے والا تھا۔

★★★★

آئس کریم کھاتے ہوئے ایرا اور فجر ریسٹورنٹ سے باہر نکل رہی تھیں کہ اچانک کسی سے ٹکرانے کے باعث ایرا کے ہاتھ سے آئس کریم چھوٹ گئی اور

سیدھی زمین پر جا گری۔

ایرا نے چند لمحے افسوس سے زمین پر پڑی اپنی آئس کریم کو دیکھا۔ آئس کریم اس کا پہلا پیار تھی، اور اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کے دل پر جیسے قیامت گزر گئی۔

پھر اس نے غصے سے سر اٹھایا۔

سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہی اس کا غصہ کئی گنا بڑھ گیا۔

"آپ...؟ آپ ہمارے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟"

ایان پہلے تو اس اچانک حملے پر کچھ نہ سمجھ سکا، مگر اگلے ہی لمحے آواز پہچانتے ہی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔

"اوہ، تو پھر آپ ہیں۔"

ایرا کو اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مزید غصہ آیا۔

"آپ نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے نا؟ جان بوجھ کر میری آئس کریم گرائی ہے!"

ایان کے ذہن میں فوراً ایک شرارتی خیال آیا۔ اس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔

"ہاں، میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ کیا کر لیں گی آپ؟"

وہ ذرا قریب جھکتے ہوئے بولا،

"میں نے کہا تھا نا، ایان خانزادہ اپنا بدلہ کبھی نہیں بھولتا۔"

ایرا کو اس کی بات پر شدید غصہ آیا، مگر اچانک اس کی نظر ایان کے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر پڑی۔

اس کے چہرے پر آہستہ آہستہ ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری۔

ایان نے اس کی آنکھوں میں چمک دیکھی تو الجھ گیا۔

"لگتا ہے پہلی بار کسی کو بدلہ لیتے دیکھا ہے۔ صدمے میں تو نہیں چلی گئیں آپ؟"

ایرا نے انتہائی پرسکون لہجے میں جواب دیا۔

"ہر بار بدلہ لینا اچھا نہیں ہوتا، مسٹر خانزادہ۔ کبھی کبھی بدلہ مہنگا بھی پڑ جاتا ہے۔"

"کیا مطلب؟"

ایان نے بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا۔

ایرا کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔

"اتنی بھی جلدی کیا ہے؟ ابھی بتاتی ہوں۔"

اگلے ہی لمحے اس نے بجلی کی سی تیزی سے ایان کے ہاتھ سے موبائل چھینا اور پوری طاقت سے زمین پر دے مارا۔

ٹھااااااک!

موبائل زمین سے ٹکرایا اور چند ہی لمحوں میں چکنا چور ہو گیا۔

یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ ایان کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔

وہ حیرت سے کبھی ٹوٹے ہوئے موبائل کو دیکھتا اور کبھی ایرا کو۔

"یہ... یہ آپ نے کیا کیا؟!"

اس نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔

ایرا نے شان سے بازو باندھے۔

"میں نے کیا کیا؟"

پھر زمین پر پڑے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔

"میں نے تو صرف حساب برابر کیا ہے۔"

فجر نے فوراً اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا تاکہ اس کی ہنسی باہر نہ نکل جائے۔

اتنے میں پیچھے سے ایک آواز سنائی دی۔

"ایان، کیا ہوا؟"

روحان ان کے قریب آ کر رکا، مگر اگلے ہی لمحے اس کی نظر زمین پر بکھرے موبائل کے ٹکڑوں پر پڑی۔

اس نے مشکل سے اپنی ہنسی روکی۔

"اوہ ہو... یہ کیا ہو گیا؟"

ایان نے فوراً شکایتی انداز میں کہا،

"دیکھو نا! اس پاگل لڑکی نے میرا موبائل توڑ دیا!"

روحان نے لب بھینچے تاکہ قہقہہ نہ نکل جائے۔

دوسری طرف فجر کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی۔

وہ ایرا کے قریب آ کر دھیرے سے بولی،

"ایرا، میرا خیال ہے اب ہمیں نکل جانا چاہیے۔"

ایرا نے سر ہلایا۔

"بالکل، ہمارا کام تو ہو گیا۔"

پھر روحان کی طرف دیکھ کر بولی،

"اب یہ مسئلہ تم سنبھالو۔"

یہ کہہ کر دونوں لڑکیاں وہاں سے چل پڑیں۔

انہیں جاتا دیکھ کر ایان نے فوراً آواز لگائی۔

"ارے! کہاں جا رہی ہیں؟ میری بات تو سنو!"

مگر دونوں نے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔

ایان ان کے پیچھے جانے لگا تو روحان نے جلدی سے اس کا بازو پکڑ لیا۔

"ارے بھائی، سکون کرو۔ پہلے سانس لو۔"

"میرا موبائل ٹوٹ گیا ہے!"

"پتا ہے، پورا شہر سن چکا ہے۔"

روحان نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا۔

"چلو اندر چلتے ہیں، بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔"

ایان نے ایک آخری نظر دور جاتی ہوئی ایرا پر ڈالی، پھر بے بسی سے آہ بھرتے ہوئے روحان کے ساتھ دوبارہ ریسٹورنٹ کے اندر چلا گیا۔

دونوں ریسٹورنٹ کے اندر آ گئے اور ایک خالی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔

ایان اب بھی اپنے ٹوٹے ہوئے موبائل کو گھور رہا تھا، جیسے صرف گھورنے سے وہ دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا۔

"تم نے مجھے روکا کیوں تھا؟" اس نے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ "ذرا میں بھی تو اسے سناتا۔"

روحان نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔

"چھوڑو بھی یار۔ لڑکیاں تھیں۔ اب کیا تم ان سے لڑتے ہوئے اچھے لگتے؟"

ایان نے فوراً اسے گھورا۔

"لڑکیاں نہیں تھیں، آفت تھیں آفت!"

روحان کی ہنسی پھر چھوٹ گئی۔

"پہلی بار ٹکرائی تو میری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا،"

ایان نے انگلیوں پر گنواتے ہوئے کہا، "اور وجہ؟ کیونکہ ان کے کپڑے گندے ہو گئے تھے۔"

روحان نے سر جھکا لیا تاکہ ایان اس کی مسکراہٹ نہ دیکھ سکے۔

"اور آج دوسری بار ملی تو میرا موبائل توڑ دیا۔ وہ بھی صرف ایک جھوٹ پر!"

"کون سا جھوٹ؟"

"بس اتنا کہہ دیا تھا کہ میں نے جان بوجھ کر اس کی آئس کریم گرائی ہے۔"

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر اچانک روحان کا زور دار قہقہہ ریسٹورنٹ میں گونج اٹھا۔

"تم نے جھوٹ بولا ہی کیوں؟"

ایان نے خفگی سے اسے دیکھا۔

"اور کیا کرتا؟"

روحان نے ہنستے ہوئے سر ہلایا۔

"اسی لیے کہتے ہیں انسان کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔"

"تمہیں آج اتنی ہنسی کیوں آ رہی ہے؟"

ایان نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

روحان نے پانی کا گلاس اٹھایا۔

"یار، سین ہی ایسا تھا۔ کیا کروں؟"

اس نے دوبارہ ہنسی دبائی۔

"ماننا پڑے گا، لڑکی دم دار ہے۔"

ایان نے بھنویں چڑھائیں۔

"دم دار؟"

"بالکل۔"

روحان نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔

"دو بار تم سے ملی ہے، اور دونوں بار تمہارا نقصان کر کے گئی ہے۔ پہلی بار گاڑی کا شیشہ، دوسری بار موبائل۔ ہمت تو ہے اس میں۔"

ایان نے گہرا سانس لیا۔

"میں تمہارے ساتھ اس لیے نہیں بیٹھا کہ تم اس کی تعریفیں کرتے رہو اور میں سنتا رہوں۔"

"اچھا بابا، چھوڑو۔"

روحان نے ہاتھ اٹھا کر ہتھیار ڈالنے کا اشارہ کیا۔

"ویسے میں تم سے ملنے ایک ضروری بات کے لیے آیا تھا۔"

ایان کی توجہ فوراً اس کی طرف ہوئی۔

"کیا ہوا؟"

"میں آج رات سوات جا رہا ہوں۔"

ایان نے سر ہلایا۔

"اچھا۔"

"تم اور ضرار تو ایک دو دن بعد آ رہے ہو نا؟"

"ہاں، ہم دونوں ساتھ ہی آئیں گے۔"

روحان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔

"میں سوچ رہا ہوں پہلے جا کر دیکھ لوں وہاں کیا انتظامات چل رہے ہیں۔ آخر شادی کا گھر ہے، کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہو رہی ہوگی۔"

ایان ہلکا سا مسکرایا۔

"یہ بھی ٹھیک ہے۔ جا کر دیکھ لو کیا حال ہے وہاں کا، پھر مجھے رپورٹ دینا۔"

"فکر نہ کرو، پوری تفصیل دوں گا۔"

دونوں ہلکا سا ہنس پڑے۔

کچھ ہی دیر بعد باتوں کا رخ سوات، شادی کی تیاریوں اور پرانے دوستوں کی طرف مڑ گیا، اور وہ اپنی گفتگو میں مگن ہو گئے۔

چند دن بعد...

سوات ایئرپورٹ پر...

ایان اور ضرار اپنا سامان لیے ایئرپورٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ دونوں راستے بھر مختلف باتوں میں مصروف رہے تھے۔

"آخرکار پہنچ ہی گئے۔" ضرار نے گردن گھماتے ہوئے کہا۔

"ہاں" ایان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

ابھی دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ سامنے سے تین نوجوان ان کی طرف آتے دکھائی دیے۔

اہل، شہرام اور زاویان۔

"السلام علیکم!" اہل نے قریب آتے ہی کہا۔

"وعلیکم السلام!" ایان اور ضرار نے جواب دیا۔

اتنے میں ضرار کی نظر زاویان پر پڑی۔

"اور سناؤ، کیسے ہو؟"

زاویان نے فوراً منہ بنا لیا۔

"لالا، پہلے اس ڈاکٹر صاحب سے کہیں مجھ سے بات نہ کریں۔"

"اب میں نے کیا کیا ہے؟" ضرار نے حیرانی سے پوچھا۔

"کیا کیا ہے؟" زاویان فوراً بول پڑا۔ "میں اتنے دنوں سے سوات میں ہوں اور تم کو اتنی فرصت نہیں ملی کہ ایک فون ہی کر لیتے۔ حال چال ہی پوچھ لیتے۔ بڑے کہتے ہو میرا بھائی ہے، میرا دوست ہے!"

اہل اور شہرام ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر ہنسنے لگے۔

مگر زاویان رکا نہیں۔

"ڈاکٹر صاحب کے پاس تو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے وقت ہے، بس میرے لیے نہیں۔"

"ارے بس بھی کرو!" ضرار ہنستے ہوئے بولا۔ "دوسرے کو بولنے کا موقع بھی دے دو۔"

"مجھے کچھ نہیں سننا۔"

"پہلی بات، میں صرف ڈاکٹر نہیں ہوں۔"

"جی ہاں، یہ بات تو پورا خاندان جانتا ہے۔" شہرام فوراً بولا۔

سب کی ہنسی نکل گئی۔

"میں کاروبار بھی سنبھالتا ہوں، اس لیے مصروفیات زیادہ ہوتی ہیں۔ وقت نکالنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔"

"یہ بہانے کسی اور کو سنانا ۔" زاویان نے بازو باندھتے ہوئے کہا۔

کافی دیر سے خاموش کھڑا ایان آخر بول پڑا۔

"تم دونوں کو گھر بھی جانا ہے یا یہیں ایک دوسرے سے شکوے شکایتیں کرتے رہنا ہے؟"

"دیکھا!" زاویان فوراً بولا۔ "ایان بھائی بھی تنگ آ چکے ہیں۔"

"میں تنگ نہیں آیا۔" ایان نے خشک لہجے میں کہا۔ "میں صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر تم دونوں کی بحث ختم ہو گئی ہو تو گھر بھی چلیں۔"

اس بار سب زور سے ہنس پڑے۔

"چلو پھر۔" اہل نے کہا۔ "باقی لڑائی حویلی پہنچ کر کر لینا۔"

یہ کہتے ہوئے سب اپنا سامان اٹھا کر گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔

وہ لوگ سوات کے راستوں سے سفر کرتے اب حویلی پہنچہ چونکہ تھے۔ حویلی میں داخل ہوتے ہی لونچ میں گھر کر سب لوگ موجود تھے سواۓ حیدر خان کے۔

"اگۓ تم لوگ! "زینب بیگم نے انکو دیکھتے ہی فورنیا کہا۔

”نہیں بی جان ابھی کہا ابھی تو ہم راستے میں ہیں۔“

ضرار نے ہستے ہوۓ کہا۔

””کبھی نہیں سدھرنا تم ڈاکٹر نبی گۓ ہو مگر عقل نہیں ہیں۔ “ زینب بیگم نے اس کان ہلکے سے کھینچتے ہوۓ کہا۔

”ارے نی جان چوڑدے بیچارے کو ویسے ہی کوئی لڑکی نہیں مل راہی اگر اپ اسکے کان لمبے کردے گئی تو کیسے میلے گی بیچارے کو لڑکی۔ “ضرار کچھ کہتا اسے پہلے ہی ذاویان بول پڑا۔

بند کرو اپنی منحوس زبان جب بولتے ہو الٹا ہی بولتے ہو۔ ضرار نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔ زینب بیگم اس کا کان اب چھوڑ چوکی تھی۔

”ہاں لالا بھلا کوئی نہیں میلے گی میرے لالا کو کوئ لڑکی لڑکیاں تو مرتی ہیں میرے لالا پر۔ “ارحا بے ضرار کے پاس اکر کہا۔

”ارے میری گڑیا کیسی ہیں۔ “ضرار نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ اس پر جان دیتا تھا۔ وہ اس کی ایک ہی تو بہن تھی۔

”اگئی اپ کو میری یاد۔ “ ارحا نے ابھی بات مکمل بھی نہیں کی تھی کے ضرار بول پڑا۔

””اگر تم مجھے سے فون نہ کرنے کی وجہ سے ناراض ہو تو میں کچھ نہیں کر سکتا ایک تو پتا نہیں سب کو کیا ہو گیا ہیں۔ مگر میں تمہیں ابھی سے ہی سوری کہہ راہا ہوں۔“ ضرار نون اسٹوپ بولے جارہا تھا.

اچھا چلے میں نے اپ کو معاف کیا۔ ارحا نے ہستے ہوۓ کہا۔

”پھر تو میری گڑیا بھی مجھ سے ناراض ہو گئی نہ“۔ ایان نے زارا کے پاس اتے ہوۓ کہا۔

نہیں لالا میں اپ سے ناراض نہیں ہوسکتی۔ زارا نے ایان کے گلے لگتے ہوۓ کہا۔

اگے برخردار زمان خانزادہ اور شہریار خانزادہ داخلی دروازے سے اندر اۓ ہی تھے ان دونوں کی نظر ایان اور ضرار پے گئی ان دونوں کو دیکھ کر ان کے چہروں پر چمک اگئی تھی۔ عباس خان کی وفات کے بعد زمان اور شہریار خان نے ایان کو اپنے بیٹے کی طرح ہی پالا تھا۔

"کیسے ہیں چچا جان" ۔ ایان نے زمان اور شہریار خان کو دیکھتے ہوئے کہا۔ عباس خان کی وفات کے بعد ایان کے لیے وہ دونوں باپ کی طرح ہی تھے۔

وہ لوگ اب باتوں میں مصروف تھے۔

کچھ دیر بعد ایان نے اہل سے پوچھا۔ اہل داجی کہا ہیں۔ ایان کی بات پر اہل پورا کا پورا ایان کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ لالا داجی تو کراچی میں ہیں انہیں کیسی کو شادی دعوت دینی تھی۔

داجی کراچی میں ہیں اور مجھے پتا ہی نہیں ہیں وہاں بھائی!. ایان حیران لگتا تھا۔

اب سب واپس باتوں میں مصروف ہو گۓ تھے

"کیا کہانی اتنی ہی سیدھی ہیں جتنی لگ راہی ہیں۔کچھ چیزیں جتنی سیدھی لگتی ہیں اتنی ہوتی نہیں ہیں۔ "

★★★★★★

کراچی ایئرپورٹ ہمیشہ کی طرح لوگوں کے ہجوم سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں کوئی اپنے پیاروں کو رخصت کر رہا تھا تو کہیں برسوں بعد ملنے والے ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔ کسی کے چہرے پر جدائی کی اداسی تھی تو کسی کی آنکھوں میں نئے سفر کی چمک۔ لاؤڈ اسپیکر پر وقفے وقفے سے اعلانات گونج رہے تھے جبکہ مسافر اپنے سامان کے ساتھ اپنی اپنی منزلوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔

ایرا اپنی فیملی کے ساتھ ویٹنگ ایریا میں موجود تھی۔ اس کے چہرے پر ایک الگ ہی قسم کا جوش تھا۔ آخر پہلی بار وہ سوات جا رہی تھی، وہ بھی ایک ایسی شادی میں جس کے بارے میں داجی نے اتنی تعریفیں کی تھیں کہ اس کا تجسس دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔

داجی ان کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ ایرا چند لمحے انہیں دیکھتی رہی پھر ان کے پاس آ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔

"داجی، ایک بات پوچھوں؟"

داجی نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

"پوچھو بیٹا۔"

"وہاں کی شادیاں کیسی ہوتی ہیں؟ مطلب سوات میں؟"

یہ سنتے ہی داجی کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک ابھری۔

"بہت خوبصورت ہوتی ہیں بیٹا۔ رسم و رواج بھی ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ ویسے تو تیاریاں کافی پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں لیکن اب تک تو ڈھول بھی بجنا شروع ہو گئے ہوں گے۔"

"سچ؟" ایرا کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔

"جی ہاں۔ پورا گھر مہمانوں سے بھر جاتا ہے، ہر طرف رونق ہی رونق ہوتی ہے۔"

ایرا نے پرجوش انداز میں دونوں ہاتھ آپس میں باندھے۔

"واہ! کتنا مزہ آئے گا نا وہاں کی شادی دیکھنے میں! میں نے تو ایسی روایتی شادی کبھی دیکھی ہی نہیں۔"

ابھی داجی کچھ کہتے کہ قریب ہی کھڑا زوہان ان کی باتیں سنتے ہوئے فوراً بول پڑا۔

"اپی! آپ شادی کو چھوڑیں ذرا۔"

ایرا نے بھنویں اچکاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

"کیوں؟"

"آپ اس بات پر فوکس کریں کہ سوات گھومنے میں کتنا مزہ آئے گا۔"

اس نے جوش سے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔

"پہاڑ، وادیاں، جھرنے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا... میں تو ابھی سے ایکسائٹڈ ہوں!"

ایرا ہنس پڑی۔

"تمہیں بس گھومنے پھرنے کی پڑی رہتی ہے۔"

"اور نہیں تو کیا!" زوہان نے فوراً جواب دیا۔ "آپ شادی دیکھ لینا، میں سوات دیکھوں گا۔"

"جیسے تمہیں اکیلے گھومنے دیا جائے گا!" ایرا نے چھیڑتے ہوئے کہا۔

"کیوں نہیں؟ میں اب بچہ نہیں ہوں۔"

"ہاں ہاں، بالکل نہیں ہو۔" ایرا نے ہنسی دباتے ہوئے کہا، "صرف حرکتیں بچوں والی کرتے ہو۔"

اس کی بات پر پاس کھڑے گھر والے بھی مسکرا دیے جبکہ زوہان نے ناراضی کا ڈرامہ کرتے ہوئے منہ بنا لیا۔

داجی ان دونوں کی نوک جھونک دیکھ کر بے اختیار ہنس پڑے۔

"تم دونوں نہ کبھی نہیں سدھرو گے۔"

ایرا اور زوہان نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے۔

اسی لمحے فلائٹ کا اعلان ہوا۔

"تمام مسافر حضرات توجہ فرمائیں..."

اعلان سنتے ہی سب متوجہ ہو گئے۔

"لگتا ہے ہماری فلائٹ کا وقت ہو گیا۔" ایرا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"چلو بھئی!" زوہان نے فوراً اپنا بیگ سنبھالا۔ "آخرکار سوات ہمارا انتظار ختم ہونے والا ہے۔"

ایرا نے ایک نظر شیشے کے پار کھڑے جہاز پر ڈالی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس جاگا، جیسے یہ سفر صرف ایک شادی تک محدود نہ ہو بلکہ اس کی زندگی میں بہت کچھ بدلنے والا ہو۔

اور شاید اسے خود بھی ابھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔

★★★★★

سوات...

رات کی سیاہی پورے علاقے پر اپنے سائے پھیلا چکی تھی۔ ٹھنڈی ہوا درختوں کی شاخوں سے ٹکرا کر سیٹیاں بجاتی گزر رہی تھی جبکہ دور پہاڑ اندھیرے میں خاموش کھڑے کسی راز کے محافظ معلوم ہوتے تھے۔

شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ایک پرانی عمارت کے اندر غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

کمرے میں موجود چند آدمی سر جھکائے کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر بےچینی صاف جھلک رہی تھی، جیسے وہ کسی فیصلے کے منتظر ہوں۔

"سر، وہ لوگ کراچی سے روانہ ہو چکے ہیں۔"

ایک آدمی نے دھیمی آواز میں اطلاع دی۔

چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔

پھر وہ شخص آہستہ سے اپنی کرسی سے اٹھا اور میز کی طرف بڑھا۔

اس کے قدموں کی آواز سنسان کمرے میں گونج رہی تھی۔

میز پر ایک تصویر رکھی تھی۔

اس نے خاموشی سے تصویر کو ہاتھ میں اٹھایا۔

تصویر میں ایک لڑکی آسمانی رنگ کے لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔ چہرے پر سیاہ نقاب تھا جبکہ ہلکی ہوا اس کے دوپٹے کے کناروں کو اڑا رہی تھی۔

مگر اس تصویر کی سب سے خاص چیز اس کی آنکھیں تھیں۔

گہری، روشن اور بےحد پُرسکون آنکھیں...

ایسی آنکھیں جنہیں وہ برسوں گزر جانے کے باوجود فراموش نہیں کر سکا تھا۔

کچھ لمحوں تک وہ خاموشی سے تصویر کو دیکھتا رہا۔

پھر پہلی بار اس کے چہرے کی سختی میں نرمی سی اتر آئی۔

اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

ایسی مسکراہٹ جو شاید برسوں بعد اس کے چہرے پر آئی تھی۔

اس نے تصویر پر انگلی پھیری، جیسے کسی انمول یاد کو چھو رہا ہو۔

"آخرکار..."

وہ آہستہ سے بولا۔

اس کی آواز میں عجیب سا سکون تھا۔

"پانچ سال..."

اس نے سرگوشی کی۔

"پورے پانچ سال بعد..."

اس کی نظریں تصویر سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔

"ایرا سلطانی شاہ..."

اس نے نام اس طرح ادا کیا جیسے برسوں سے دل میں محفوظ کوئی امانت واپس مل گئی ہو۔

کمرے میں کھڑے آدمی حیران نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے مگر کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کوئی سوال کر سکے۔

وہ شخص جیسے ان سب سے بےخبر تھا۔

اس کی تمام توجہ صرف تصویر پر مرکوز تھی۔

"تمہیں کیا لگا تھا؟"

اس کے لبوں پر پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی۔

"کہ کہانی اتنی جلدی ختم ہو جائے گی؟"

اس نے آہستہ سے سر ہلایا۔

"نہیں..."

اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری۔

"ابھی تو بہت کچھ باقی ہے۔"

اس نے تصویر کو سینے کے قریب کرتے ہوئے گہری سانس لی۔

"قسمت نے ایک بار پھر ہمارے راستے ایک کر دیے ہیں، ایرا سلطانی شاہ۔"

کمرے کی فضا مزید بوجھل ہو گئی۔

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر دھیمی مگر پُراعتماد آواز میں بولا،

"اور میں اپنی ادھوری کہانیاں کبھی نہیں چھوڑتا..."

اس نے تصویر کو دوبارہ میز پر رکھا۔

اس کے ہونٹوں پر اب بھی وہی پراسرار مسکراہٹ موجود تھی۔

جیسے اسے آنے والے ہر موڑ کا پہلے سے علم ہو۔

باہر تیز ہوا چلنے لگی۔

اور شاید یہ صرف موسم نہیں تھا...

بلکہ ایک ایسے طوفان کی ابتدا تھی جس سے بہت سی زندگیاں بدلنے والی تھیں۔

جاری ہے…