Chapter 12
قسط نمبر 12
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
رات بھر جاگ کر پڑھتے ہوئے عنایہ کو یہ بھی احساس نہ رہا کہ کب اس کی پلکیں بوجھل ہوئیں اور وہ کتابوں کے درمیان ہی سو گئی۔ بستر پر نوٹس بکھرے ہوئے تھے، ٹیبل لیمپ کی زرد روشنی اب بھی کمرے میں خاموشی سے جل رہی تھی، جیسے اس کی محنت کی گواہی دے رہی ہو۔ چند ہفتوں بعد اس کے امتحان تھے اور پھر اگلے ہی ہفتے اس کی شادی… زندگی نے جیسے ایک ساتھ کئی موڑ اس کے سامنے لا کھڑے کیے تھے۔
صبح نیہا آہستہ سے کمرے میں داخل ہوئی۔ دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر اپنی بڑی بہن عنایہ پر پڑی تو لبوں پر ہلکی سی اداس مسکراہٹ آگئی۔ عنایہ بےخبری سے سو رہی تھی، چہرے پر تھکن صاف جھلک رہی تھی۔
نیہا دھیرے دھیرے آگے بڑھی۔
بستر پر پھیلی کتابیں سمیٹیں، ایک ایک نوٹ احتیاط سے اٹھایا، پھر ٹیبل لیمپ بند کرکے کتابیں اسٹڈی ٹیبل پر رکھ دیں۔ اس نے الماری سے چادر اٹھائی اور بہت نرمی سے عنایہ پر ڈال دی، جیسے ماں اپنے بچے کو ڈھانپتی ہے۔
کچھ لمحے وہ خاموش کھڑی اپنی بہن کو دیکھتی رہی۔ دل عجیب بوجھل ہو رہا تھا۔ یہی کمرہ، یہی راتوں کی پڑھائیاں، یہی ہنسنا بولنا… سب بدلنے والا تھا۔ چند ہفتوں میں اس کی بڑی آپا اس گھر سے رخصت ہو جانے والی تھی۔
اور پھر آپی کی شادی کے ساتھ خود نیہا کا بھی نکاح تھا۔
یہ سوچ کر اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے جھک کر عنایہ کے ماتھے سے بکھرے بال ہٹائے اور بہت دھیمی آواز میں بولی،
"آپ کے بغیر یہ گھر کبھی ویسا نہیں لگے گا جیسے آج لگتا ہے ، باجی…"
پھر جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کیں، بیگ اٹھایا اور یونیورسٹی جانے سے پہلے ایک بار مڑ کر اپنی بہن کو دیکھا۔
دل جیسے وہیں چھوڑ کر جا رہی ہو۔
*°*°*°*°*°*
رات بھر حازم کے کمرے کی لائٹ جلتی رہی تھی۔ حور شاید ہی ٹھیک سے سوئی ہو۔ وہ خود بھی رات بھر جاگ کر ٹیسٹ کی تیاری کرتی رہی. حور صبح سے حازم کو دیکھ کر کافی پریشان تھی. کبھی وہ جا کر بھائی کا ماتھا چیک کرتی، کبھی پانی کا گلاس بدلتی، کبھی چپ چاپ ان کے پاس بیٹھ جاتی۔ بخار کچھ کم تو ہوا تھا مگر اس کا دل اب بھی بےچین تھا۔ اسکا دنیا میں صرف ایک ہی رشتہ تھا اسکا بڑا بھائی حازم.
کئی بار فون ہاتھ میں لے کر رکھا، پھر آخر ہمت کرکے سعد کا نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف چند رنگز کے بعد کال اٹھائی گئی۔
“السلام علیکم! سعد بھائی ؟
(حور کی آواز میں گھبراہٹ تھی)
وعلیکم السلام! حور بیٹا!
سب خیریت ہے؟
سعد کی آواز میں حیرانی تھی، کیونکہ
حور نے شاید پہلی بار اسے خود کال کی تھی۔
سعد بھائی آپ… مصروف تو نہیں ہیں؟
(حور کافی پریشانی سے بولی)
نہیں! خیریت؟ سب ٹھیک ہے نا؟
(سعد پریشانی سے بولا)
یہ سنتے ہی حور چند لمحے خاموش رہی، جیسے لفظ ڈھونڈ رہی ہو۔ پھر آہستگی سے بولی،
“بھائی کی طبیعت ٹھیک نہیں…
رات سے بخار ہے انھیں۔ پوری رات سوئے بھی نہیں۔
(وہ ایک سانس میں سب بول گئی)
اب کیسا ہے بخار؟ ڈاکٹر کو دکھایا؟
(سعد فوراً سنجیدہ ہوگیا)
دوائی لی ہے انھوں نے… ابھی سو رہے ہیں۔ اس نے بےبسی سے کہا، بس… مجھے فکر ہو رہی تھی۔
اس کی آواز اتنی معصوم اور پریشان تھی کہ سعد کے چہرے پر بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
حور بیٹا! تم ایسے گھبرا رہی ہو جیسے حازم کو کچھ بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہو۔
بخار ہی تو ہے، ٹھیک ہو جائیں گا۔
(سعد تسلی دینے کے انداز میں بولا حقیقتاً وہ خود بھی سن کر پریشان تو ہوا تھا)
وہ کبھی بیمار نہیں ہوتے نا… اس لیے ڈر لگ رہا ہے۔
(حور نے فوراً دھیرے سے کہا)
کچھ لمحے سعد خاموش رہا، پھر نرمی سے بولا،
اچھا سنو گڑ یا پریشان مت ہو۔ میں آتا ہوں گھر۔ ویسے بھی اگر حازم کو پتا چلا کہ اس کی چھوٹی بہن پریشان بیٹھی ہے، تو وہ خود ہی اٹھ کر ٹھیک ہو جائے گا۔
(حور مسکرا دی)
آپ آ جائیں سعد بھائی …
(اس نے آہستہ سے کہا)
بس تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں۔
اور ہاں بیٹا ، خود بھی کچھ کھا لو۔ صرف بھائی کی فکر میں خود بیمار مت ہو جانا۔
کال بند ہوئی تو حور نے فون سینے سے لگا لیا۔ دل کو جیسے تھوڑا سا سکون مل گیا تھا۔
*°*°*°*°*°*
رضا بالکونی میں کھڑا فون کی اسکرین کو مسلسل دیکھ رہا تھا۔ بار بار ایک ہی نمبر سامنے آ رہا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور کال اٹھا لی۔
"ہیلو…"
دوسری طرف کی بات سنتے ہی اُس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
"میں نے کہا نا… ابھی یہ ممکن نہیں ہے۔"
(اُس کی آواز دھیمی مگر پریشان تھی)
اتنے میں اُس کی چھوٹی بہن عینی کمرے میں آئی اور شرارتی انداز میں بولی،
“او ہوو… دلہے راجا اتنے سیریس کیوں ہیں؟ کہیں عنایہ بھابھی سے خفیہ باتیں تو نہیں ہو رہیں؟”
رضا نے اُس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ خاموشی سے کال بند کی اور فون ایک طرف رکھ دیا۔
“اچھا جی، اب اگنور بھی کریں گے؟ شادی ہے آپ کی تو بہن کو ابھی سے بھول گئے! تھوڑا خوش ہونا سیکھیں۔
وہ اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے تنگ کرنے لگی۔
(رضا نے بس ہلکی سی مصنوعی مسکراہٹ دی)
"ہم" … بس شادی کے کاموں میں ہی مصروف ہوں.
عینی فوراً رُک گئی۔
“کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے؟”
ہاں… کچھ نہیں۔
(رضا نے نظریں چرا کر کہا)
رضا بھائی، آپ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔
رضا چند لمحے خاموش رہا پھر دھیمی آواز میں بولا،
بس کچھ مسئلے چل رہے ہیں سب کاموں کو مینج کرنا ہے. وقت بھی کم ہے…
(رضا بولا)
سب ٹھیک ہو جائے گا بھائی۔
(عینی بولی)
اُس کی بہن عینی خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔ پہلی بار شادی کا ذکر ہونے پر بھی اُس کی آنکھوں میں وہ خوشی نہیں تھی جو ہونی چاہیے تھی۔ جبکہ باہر پورے گھر میں شادی کی تیاریوں کا شور اب بھی گونج رہا تھا. آسیہ بیگم اور فاضل صاحب سب خوش تھے.
رضا شادی کی تیاریوں کی وجہ سے تھوڑا پریشان تھا. شادی پر تو بہت خوش تھا.
آ خر کار اُسے اسکے بچپن کی محبت جو ملنے والی تھی.
*°*°*°*°*°*
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ڈور بیل بجی تو حور فوراً دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھولا تو سامنے سعد کھڑا تھا۔ چہرے پر ہلکی سی فکر تھی۔
کیسا ہے اب حازم؟
(اندر آتے ہی اس نے پوچھا)
بھائی سو رہے ہیں ابھی…
(حور نے دھیمی آواز میں جواب دیا)
سعد سیدھا حازم کے کمرے کی طرف بڑھا ۔ کمرے میں ہلکی سی خاموشی تھی۔ حازم دوائی کے اثر سے گہری نیند میں تھا۔ سعد نے اس کا ماتھا چیک کیا۔
بخار تو پہلے سے کم لگ رہا ہے۔
(اس نے آہستہ سے کہا)
حور دروازے کے پاس خاموش کھڑی بھائی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر وہی بےچینی اب بھی موجود تھی۔
سعد نے مڑ کر اسے دیکھا۔
گڑ یا تم نے شاید خود آرام نہیں کیا؟
حور نے نفی میں سر ہلایا۔
"نیند نہیں آ رہی تھی…"
کیوں؟
(وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرےکمرے میں داخل ہوتی ہوئے بولی)
بھائی کو ایسے کبھی نہیں دیکھا۔
وہ ہمیشہ میرا خیال رکھتے ہیں…
اور آج انھیں اس حال میں دیکھ کر عجیب لگ رہا ہے۔
سعد کے چہرے پر نرمی آگئی۔
وہ کمرے میں حور کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
" حور بیٹا، بھائی بہن کا رشتہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ تھوڑی سی تکلیف بھی ہو نا، تو دل ضرورت سے زیادہ ڈر جاتا ہے۔"
حور خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی۔
(سعد پھر ہلکا سا مسکرایا)
"لیکن سچ بتاؤں؟ حازم بہت لکی ہے۔ ہر کسی کو ایسی بہن نہیں ملتی جو دن بھر پریشانی میں کھانا پینا بھول جاۓ۔"
یہ سنتے ہی حور کی آنکھیں نم سی ہوگئیں۔ اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
وہ بھائی ہی تو میرے سب کچھ ہیں…
(اس کی آواز بمشکل سنائی دی)
اور آپ بھی حازم کی سب کچھ ہو۔
اس لیے اب اتنی فکر چھوڑو۔ دیکھنا بالکل ٹھیک ہو جائے گا تمہارا بھائی۔
(سعد نے بہت شفقت سے کہا)
حور نے ایک نظر سوئے ہوئے حازم پر ڈالی، پھر خاموشی سے مسکرا دی۔ جیسے دل کو آخرکار تھوڑا سا سکون مل گیا ہو۔
چلو بیٹا اب جا کے کچھ دیر آرام کر لو میں یہی حازم کے پاس ہوں.
(سعد بولا)
جی بھائی جیسا آپ کہیں.
(حور نے بات کی پیروی کی)
حور کمرے سے جا چکی تھی.
(سعد بہن بھائی کی بے انتہا محبت دیکھ کر بہت حیران تھا.
سعد حازم کے کمرے میں ہی موجود تھا. حازم کے اُٹھنے کا انتظار کرنے لگا.)
*°*°*°*°*°*
شام ڈھلنے کے قریب تھی۔
آسمان پر ہلکے نارنجی رنگ بکھر رہے تھے اور پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ موسم میں عجیب سی نرمی تھی، جیسے ہوا بھی کسی خاموش احساس میں ڈوبی ہوئی ہو۔
عنایہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑی گرم کافی کے گھونٹ لے رہی تھی۔ باہر ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے اُس کے چہرے پر ہلکی سی اداسی تھی۔ شاید آنے والی جدائی کا خیال دل میں کہیں خاموشی سے جگہ بنا چکا تھا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
عنایہ نے کافی کا آخری گھونٹ لیا، کپ میز پر رکھا اور آہستہ قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی۔
ادھر کچن میں اُس کی والدہ کھانا بنانے میں مصروف تھیں جبکہ نیہا یونیورسٹی سے اب تک لوٹی نا تھی۔
جیسے ہی عنایہ نے دروازہ کھولا…
اُس کے قدم وہیں رُک گئے۔
سامنے اُس کا بھائی کھڑا تھا۔
کئی مہینوں بعد… ہوسٹل سے اپنی تعلیم مکمل کر کے گھر لوٹا ہوا۔ کندھے پر بیگ، چہرے پر سفر کی تھکن اور آنکھوں میں اپنوں سے ملنے کی نمی لیے۔
علی!
(عنایہ کے لبوں سے بس اتنا ہی نکل سکا)
اُس نے اگلے ہی لمحے بیگ زمین پر رکھا اور بنا کچھ کہے اپنی بہن کو بانہوں میں بھر لیا۔
وہ گرفت عجیب تھی… برسوں کی دوری، تھکن، یادیں اور محبت سب ایک ساتھ سمٹ آئے تھے۔
عنایہ کی آنکھیں بے اختیار بھر آئیں۔ باپ کے جانے کے بعد اُس نے صرف بہن کا کردار نہیں نبھایا تھا… وہ اس گھر کا سہارا بن گئی تھی۔
کبھی ماں کی ڈھارس، کبھی نیہا کی سرپرست اور کبھی اپنے بھائی کے لیے باپ جیسی مضبوطی۔
"تم نے بتایا کیوں نہیں کہ آج آ رہے ہو…" (عنایہ نے نم آواز میں کہا)
علی ہلکا سا مُسکرایا مگر اُس کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں۔
" سوچا… اچانک آ کر دیکھوں… میری بہن اب بھی ویسے ہی دروازے پر انتظار کرتی ہے یا نہیں…"
اتنے میں کچن سے برتن رکھنے کی آواز آئی۔ رابعہ بیگم شاید آواز پہچان چکی تھیں۔ وہ جلدی سے باہر آئیں اور اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی اُن کے ہاتھ کانپ گئے۔
"علی میرا بچہ…"
بیٹے نے فوراً آگے بڑھ کر ماں کے ہاتھ تھام لیے۔ اگلے ہی لمحے وہ اُن کے گلے لگ چکا تھا۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"میرا بچہ… آخر آ ہی گیا…"
گھر کے اُس چھوٹے سے دروازے کے پاس دونوں ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے تھے۔ جیسے برسوں کی تھکن، جدائیاں اور ادھورے پن کو آج چند لمحوں کی قربت نے سکون دے دیا ہو۔
اور عنایہ …
وہ خاموشی سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔
شاید پہلی بار اُسے محسوس ہوا تھا کہ
جیسے چھوٹا بھائی نہیں بلکہ سامنے باپ کھڑا ہو.وہ کافی بڑا ہو چکا تھا.
*°*°*°*°*°*
حازم کافی دیر بعد نیند سے جاگا۔ بخار پہلے سے کچھ کم تھا مگر جسم میں اب بھی شدید تھکن محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو کمرے میں ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ سامنے صوفے پر سعد بیٹھا فون دیکھ رہا تھا۔
چند لمحے حازم اسے خاموشی سے دیکھتا رہا، پھر بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
"تو یہاں کیا کر رہا ہے؟"
(اس کی بھاری آواز اب بھی کمزور لگ رہی تھی)
سعد نے فوراً فون ایک طرف رکھا اور مُسکرا کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
"واہ، بندہ بخار میں بھی اتنا غصہ لگ سکتا ہے، یہ آج پتا چلا۔"
حازم نے تکیے سے ٹیک لگائی۔
"غصہ نہیں… حیران ہوں۔ تجھے کس نے بتایا میں بیمار ہوں؟"
(سعد نے معنی خیز انداز میں دروازے کی طرف دیکھا)
"تمہاری چھوٹی بہن حور نے۔"
حازم فوراً سمجھ گیا۔
“حور نے تمہیں فون کیا تھا؟”
" ہاں بھائی، اور ایسے پریشان ہو رہی تھی جیسے تم ICU میں ہو۔"
حازم نے بےاختیار گہرا سانس لیا اور نظریں جھکا لیں۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی آئی، جیسے اسے اندازہ ہو کہ اس کی بہن کتنی جلدی گھبرا جاتی ہے۔
"بچی ہے وہ…اس نے دھیرے سے کہا۔
“بچی نہیں، بہت خیال رکھتی ہے تمہارا۔
(سعد صوفے پر واپس بیٹھ گیا)
صبح سےپریشانی میں بھوکی بیٹھی تھی تمہارے لیے۔
حازم چند لمحے خاموش رہا۔ اس کے سنجیدہ چہرے پر ایک نرم سا تاثر آیا مگر اس نے ہمیشہ کی طرح اپنے جذبات چھپا لیے۔
"ویسے بخار ہی ہے، مر نہیں رہا میں۔"
(حازم بولا)
"یہی مسئلہ ہے تمہارا۔ بندہ مرنے لگے تب بھی کہے گا ‘میں ٹھیک ہوں’۔"
(سعد زور سے ہنس پڑا)
حازم نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکنے کی کوشش کی مگر کمزوری سے خود ہی ہنس دیا۔
"چپ کر۔"
کمرے کا ماحول آہستہ آہستہ ہلکا ہونے لگا تھا۔
سعد کبھی یونیورسٹی کے قصے سناتا،جو وقت دونوں نےساتھ گزارا تھا. کبھی دوستوں کی باتیں۔ حازم بھی درمیان درمیان میں مختصر جواب دیتا مگر اس کے چہرے کی سختی اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
اسی دوران رامو کاکا ٹرے میں سوپ لے کر اندر آئے۔
"بابا، یہ سوپ پی لیں۔ بی بی جی صبح سے پریشان پھر رہی تھی آپ کے لیے۔سعد بیٹے نے اسے تسلی دی کے وہ یہاں آپ کے پاس ہے تو آرام کرنے کو گئی تھی"
حازم نے بےبسی سے آنکھیں بند کیں۔
"سب نے مل کر مجھے مریض بنا دیا ہے۔"
(سعد ہنس دیا)
"کیونکہ تم ہو ہی ڈرامے باز مریض۔"
رمو کاکا نے پھر سعد کی طرف دیکھا۔
" بیٹا، آپ بھی رات کا کھانا کھا کر جائیے گا۔ بی بی جی نے خاص کہا ہے۔"
جی کاکا، اب اتنا حکم آیا ہے تو ماننا پڑے گا۔
(سعد مسکرا کر بولا)
رامو کاکا کے جاتے ہی سعد نے اچانک یاد آنے والے انداز میں کہا،
اوہ ہاں، ایک ضروری بات تو میں بھول ہی گیا تھا۔
حازم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
میرا نکاح ہے، حضور آپ تو جانتے ہیں.
(سعد نے فخر سے کہا)
"اور اب جب میں خود تمہارے گھر آیا ہوں اسی بہانے دعوت دے رہا ہوں تو بہانہ نہیں چلے گا۔ تمہیں آنا ہے، سمجھ گئے ؟"
حازم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر پیچھے ٹکایا۔
"اس وقت بھی دعوت کا پیغام چین نہیں تمہیں۔"
"بالکل نہیں۔"
(سعد فوراً بولا)
"اور دیکھ، بہت مزہ آنے والا ہے۔ خوب ہنگامہ ہوگا۔"
حازم نے پہلی بار کھل کر ہلکا سا مسکرایا۔
" ٹھیک ہے… آ جاؤں گا۔"
(بس یہی سننا تھا! سعد نے خوش ہو کر کہا) ۔
"ورنہ میں نکاح سے پہلے یہاں آ جاتا تمہیں اٹھانے۔"
کمرے میں ہلکی ہنسی گونجی۔ کئی دنوں بعد شاید حازم کے چہرے پر ایسی نرم مسکراہٹ آئی تھی، اور دروازے کے باہر کھڑی حور یہ سب دیکھ کر خاموشی سے مطمئن ہوگئی۔
جو تقریباً کچھ دیر پہلے ہی کمرے سے لوٹی تھی.
*°*°*°*°*°*
نیہا یونیورسٹی میں آج بہت تھک چکی تھی۔ اضافی کلاسز کی وجہ سے وہ معمول سے کافی دیرمیں گھر پہنچی تھی۔ گھر کا ماحول ہمیشہ کی طرح پُرسکون تھا۔ جیسے ہی اُس نے اپنا بیگ صوفے پر رکھا، زکیہ بی پانی لے کر آگئی۔
نیہا تھکی ہوئی سی صوفے پر بیٹھ گئی اور فوراً اپنے دن بھر کی باتیں رابعہ بیگم کو بتانے لگی۔ وہ بچوں کی طرح مسلسل بولے جا رہی تھی. جبکہ اُس کی والدہ سامنے بیٹھی مُسکرا کر سب سن رہی تھیں۔
"اچھا بابا… ذرا ریلیکس ہو جاؤ"
(والدہ نے پیار سے کہا)
اتنے میں اچانک کسی نے پیچھے سے
آ کر نیہا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔
نیہا بغیر سوچے مُسکرا کر بولی،
“عنایہ آپی بس کریں… واقعی بہت تھک گئی ہوں میں…"
مگر جیسے ہی اُس نے ہاتھ ہٹائے اور پیچھے مُڑ کر دیکھا، اُس کا چھوٹا بھائی علی سامنے کھڑا تھا۔
نیہا ایک لمحے کے لیے بالکل خاموش رہ گئی۔ اُسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ علی ہاسٹل سے واپس آچکا ہے۔ حیرانی اور خوشی ایک ساتھ اُس کے چہرے پر اُبھر آئیں۔
" علی…!"
وہ فوراً اُٹھ کر اُس کے گلے لگ گئی۔ اتنے دنوں کی دوری جیسے ایک ہی لمحے میں ختم ہوگئی ہو۔ نیہا کی آنکھوں میں خوشی چمک رہی تھی. جبکہ علی بھی مسکراتے ہوئے اپنی بہن کو مضبوطی سے گلے لگائے کھڑا تھا۔
تم بغیر بتائے آگئے؟
(نیہا نے ہلکا سا اُس کے کندھے پر مارتے ہوئے کہا) ۔
سرپرائز دینا تھا،
(علی ہنستے ہوئے بولا) ۔
نیہا نے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا اور پیار سے اُس کی پیشانی چومی۔
تب تک عنایہ بھی اُن دونوں کے پاس آگئی۔ اُس نے مسکراتے ہوئے دونوں بہن بھائیوں کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ تینوں ایک دوسرے کے گلے لگے کھڑے تھے، جیسے گھر کی ساری رونق واپس آگئی ہو۔
دور بیٹھی اُن کی والدہ یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ اُن کی آنکھیں خوشی سے نم ہوچکی تھیں۔ کتنے عرصے بعد آج اُن کے سب بچے ایک ساتھ گھر میں موجود تھے… بس اُن کے والد کی کمی تھی جو ہر خوشی میں محسوس ہوتی تھی۔
*°*°*°*°*°*
رات کے کھانے کا وقت تھا۔ پورا گھر ڈائننگ ٹیبل پر اِکٹھا تھا۔ گرم گرم کھانوں کی خوشبو ماحول میں پھیلی ہوئی تھی مگر رضا آج غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھا پلیٹ میں چمچ گھما تو رہا تھا مگر اُس کی سوچیں کہیں اور تھیں۔
آسیہ بیگم نے کھانا پلیٹ میں ڈالتے ہوئے غور سے اپنے بیٹے کو دیکھا اور نرمی سے بولیں،
"بیٹا خیریت ہے؟ آج کچھ پریشان لگ رہے ہو۔"
رضا جیسے اچانک خیالوں سے باہر آیا۔ ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر لا کر بولا،
"جی امی، سب ٹھیک ہے۔ بس تھوڑا تھک گیا ہوں۔"
فاضل صاحب جو خاموشی سے بیٹے کو دیکھ رہے تھے، ہلکا سا مسکرائے۔
"ہمیں لگتا ہے ہمارا بیٹا واقعی بڑا ہوگیا ہے۔ پہلے ذرا سی بات پر شور مچاتا تھا، اب خاموش ہو کر پریشانیاں خود سہنے لگا ہے۔"
سب کے چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
وہ مزید بولے،
“بیٹا، زندگی میں ذمہ داریاں آتی رہتی ہیں۔ چند دنوں میں تمہاری شادی بھی ہے۔ انسان جتنا بھی مضبوط ہو، کبھی کبھی دل گھبرا ہی جاتا ہے۔ مگر یاد رکھو، گھر والے انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی پریشانی ہو تو ہمیں بتاؤ، اکیلے مت سوچا کرو۔”
رضا نے نظریں جھکا کر ہلکا سا سر ہلایا۔ اُس کے دل کو واقعی سکون محسوس ہوا۔
(اتنے میں اُس کی چھوٹی بہن عینی شرارتی انداز میں بولی)
"ہائے ہائے… بھائی تو ابھی سے عنایہ بھابھی کے خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں!"
چپ کرو تم!
رضا نے فوراً مصنوعی غصے سے کہا۔
مگر وہ کہاں رکنے والی تھی۔
"امی دیکھیں نا، بھائی کو کھانے سے زیادہ بھابھی یاد آرہی ہیں!"
یہ سنتے ہی سب زور سے ہنس پڑے۔ آسیہ بیگم نے بھی مسکراتے ہوئے کہا،
" بس اب میرے بیٹے کو زیادہ نہ چھیڑو۔"
" کیوں نہ چھیڑیں؟ کل کو تو بھائی ہمیں بھول ہی جائیں گے،
اُس نے منہ بنا کر کہا۔
ایسا کبھی نہیں ہوگا،
(رضا نے فوراً جواب دیا)
فاضل صاحب مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے رہے۔ گھر میں قہقہوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ چند لمحے پہلے کی خاموشی اب خوبصورت اپنائیت میں بدل چکی تھی۔
کھانے کے اختتام پر اُن کے والد نے نہایت شفقت سے کہا،
"یاد رکھو، گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی ہر پریشانی بھول جاتا ہے۔ رشتے اگر محبت اور عزت سے نبھائے جائیں تو زندگی کی ہر مشکل آسان لگنے لگتی ہے۔"
سب خاموشی سے اُن کی بات سنتے رہے جبکہ ماحول میں عجیب سا سکون اور محبت پھیل گئی تھی۔
جاری ہے......