#The hidden secret
رات کے سائے گہرے ہو رہے ہوتے ہیں
شاہ حویلی رات کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے اور حویلی ہلکی ہلکی روشنیوں سے جگمگا رہی ہوتی ہے
حویلی کا پچھلا حصہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے حویلی کی پچھلی طرف سے ایک سایہ نمودار ہوا وہ شخص بڑی مہارت سے حویلی کی پچھلی دیوار عبور کر کے دبے قدموں داخل ہواـ اور حویلی کی بیک سائیڈ میں چھلانگ لگائی ـاور دبے قدموں اندر کی طرف بڑھنے لگا ـ
اس کے بھورے بال اس کی چوڑی پیشانی پر پھیلے ہوتے ہیں سرخ و سفید رنگت بھوری کانچ جیسی آنکھیں
جو محل کی روشنیوں چمک رہی ہوتی ہیں اس کا چہرہ ہر قسم کہ تاثر سے پاک تھا اس کے چہرے کی سر دمہری اس کی شخصیت کو اور بھی سحر انگیز بنا رہی تھی ـ
وہ ہر قدم اپنے باروعب انداز میں اٹھا رہا تھا وہ مکمل طور پر بلیک لباس میں تھا اور سر پر ہوڈی پہن رکھی تھی ـ اور چہرے کو نقاب کے حالے میں چھپا رکھا تھا
وہ محل کی راہداریوں سے چلتا ہوا پچھلے کمرے میں داخل ہوتا ہے اور ور رک کر اپنے ارد گر کا جائزہ لیتا ہے اور کمرے میں موجود ایک پرانی تصویر جوں ہی ہٹاتا ہے وہ بھی پیچھے کی طرف خود بخود دھکیلی جاتی ہے وہ دیکھنے میں ایک پر اسرار تہ خانہ معلوم ہوتا ہے وہ شخص یہ کام بڑی مہارت سے سر انجام دیتا ہے ـ اور اس کے بھاری بوٹوں کی دھمک میں بھی ایک عجیب سا روعب ہو تا ہے ـ
محل کہ در و دیوار بھی اس شخص سے مانوس لگتے ہیں وہ اپنی مغرور چال چلتا ہوا اندر داخل ہوتا ہے اور دروازہ اس کے اندر داخل ہونے کے بعد بند ہو جاتا ہے اخر کون تھا وہ شخص؟
اور وہ اس طرح رات کے اندھیرے میں کیوں داخل ہو رہا تھا؟یا پھر یہ اس کا روز کا معمول تھاـ یا پھر اس کے پیچھے بھی ایک راز چھپا ہےـ
حویلی کہ چاروں طرف مکمل پہرا تھا اور صرف حویلی کی پچھلی طرف کوئی پہرا نہ تھا یا پھر یہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش تھی حویلی کے اندر اس ٹائم معمول کی گہما گہمی تھی ـ شاہ حویلی کے مقین اپنے مخصوص کاموں میں لگے ہوئے تھے ـاور دوسری طرف کچن میں بھی عجیب سی گہما گہمی تھی ـ کچن کے ملازمین بھی تیزی سے اپنا اپنا کام کر رہے تھے ـاور کچن میں اس ٹائم رونق لگی ہوئی تھی ـ اور شاہ نواز شاہ اپنے مخصوص باروعب اور شاہانہ انداز میں ہال میں موجود صوفے پر براجمان تھے اور ہاتھ میں اخبار تھا اور شاید وہ مطالعے میں مصروف تھے
کچن سے مختلف کھانوں کی مہک اٹھ رہی تھی ـاور دوسری طرف ہال
کی سیڑھیوں سے ماہ رخ جس کا رخ کچن کی طرف تھا کہ کسی سےاس کی زوردار ٹکر ہوئی اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جیسےکسی پتھر سے سر ٹکرا گیاہو اور گرنے ہی والی تھی کہ اسے کسی مضبوط ہاتھوں نے گرفٹ میں لے لیا وہ ہوا میں جھول گئی اس نے گرنے کے خوف سے آنکھیں میچ لی اور مقابل بھی اس ہو نے والے اچانک حملے سے حیران تھاـ
ماہ رخ کو جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ گرنے سے بچ گئی ہے تو خوف اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات سے مقابل کو دیکھا اور اپنی گھبراہٹ کو چھپانے کے لیے چہرے پر مصنوعی غصے سے دیکھا کہ جیسے سارا قصور سامنے والے کا ہو
اور اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں سے گھورے جا رہی تھی
مقابل بھی تو ما ہا ڈھیٹ تھا
اپنے نام کا ایک ،دائم شاہ اس حویلی کا سب سے چھوٹا سپو ت
بےباک، بلا کا حسین وہ بھی کہاں ہار ماننے والا تھا اس نے بھی ماہ رخ کی گھو ریو ں کو نظر انداز کیا اور ڈھٹائی سے ماہ رخ کو دیکھنے میں مصروف تھاـ اور بدلے میں ماہ رخ کو سپٹانے پر مجبور کر دیا ـ ماہ رخ اس کے نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا ـ دائم شاہ اس کے چہرے کے ایکسپریشن سے لطف اندوز ہو رہا تھا ـاسے تو مانو ماہ رخ کو چھیڑنے میں مزہ آ رہا تھا ـ ماہی نے آخر کار تنگ آکر کر کا چھوڑیں مجھے داہم شاہ نے پیچھے دیکھا اور اس سے پوچھا واقعی میں چھوڑ دوں اور ماہی نے بھی خاصے تپے ہوئے انداز میں کہا ہاں تو چھوڑ بھی دیں کوئی دیکھ لے گا ـ وہ کیا ہے نا میں تو چھوڑ دوں ابھی لیکن پھر بعد میں میرا کیا ہوگا کک کیا مطلب ـ
مطلب یہ کہ اپ سیڑھیوں سے گر جائیں گی ـ ماہی نے جونہی پیچھے دیکھا تو جلدی سے آنکھیں میچ لی اور اور زیادہ مظبوطی سے داہم شاہ کو کالر سے پکڑ لیا اور داہم شاہ تو دیکھتا ہی رہ گیا ـ اب بتاؤ چھوڑ دوں ماہی نے ہکلا لاتے ہوئے کہا نن نہیں ـداہم شاہ نے مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کی اور اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر تے ہوئے احتیاط سے سیڑھی پر کھڑا کر دیا اور ماہی نے فٹ سے آنکھیں کھولی اور سیڑھیوں پر رکے بغیر کچن کی طرف سپیڈ لگائی اور ابھی وہ وہی کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ـ
اس وقت رات کے کھانے کا ٹائم تھا اور تقریباً خواتین کاموں میں مصروف تھی اور اس وقت تقریباً سبھی مرد حضرات لاونج میں موجود تھے اور ہلکی پھلکی گفتگو میں مشغول تھےاور زرمین شاہ ملازمین کو ان کا کام سمجھا رہی تھی اور ساتھ میں کھانے پینے کی اشیاء کا جائزہ بھی کے رہی تھی جو کہ ان کی ڈیلی کی روٹیںن میں شامل تھا ـ اور ساتھ میں ہی نرمین شاہ اور میشل شاہ کسی کام میں مصروف تھیں اور ساتھ ساتھ ملازمین کو بھی دیکھ رہی تھیں ـ ماما جان آج ڈنر میں کیا بنا ہے وہ ہانپتی ہوئی آئی اور آ کر کچن کی کٹنگ ایریا میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی ـ
یہ ہے ہماری زمل شاہ نرمین شاہ جو کہ مصروف انداز میں سبزی کاٹ رہی تھیں اس کے اس طرح آنے پر چونکی اور میشل شاہ جو کہ ان کے ساتھ ہیلپ کرا رہی تھیں ـ نرمین شاہ کو دیکھ کر مسکرا دیں جو کہ زمل شاہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ـ اور میشل شاہ نے اس کی جلد بازی کو دیکھ کر جواب دیا کہ بیٹا ڈونٹ وری آپ کی پسند کا سب کچھ ہوگا اور ہاں بریانی لازمی ہو گی ـ وہ اس کے چہرے کے ایکسپریشن تو پڑھ ہی چکی تھی کہ وہ دراصل کیا پوچھنا چاہتی ہے ـ اور اتنی میں اسی انداز میں رمل شاہ دھڑام سے کچن میں آئی اور سامنے اپنی ماما جان کو دیکھ کر رک گئی جو کہ اسے ہی گھور رہی تھی ـ اور رمل شاہ نے اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے اپنے اذلی انداز میں دانت نکالے ووہ میں آپ کو ڈھونڈ رہی تھی ـ اس نے جلدی سے بولنا شروع کیا کیوں مجھے کیوں ڈھونڈ رہی تھیں آپ آج سے پہلے تو میری کبھی یاد نہیں آئی اور میں نے میں جانا ہے اور یہ تو بات طے تھی کہ جہاں زمل شاہ ہو وہاں رمل شاہ نا ہو اور قدرت نے بھی شاید ان دونوں کو اس لیے ٹوئنز بنایا تھا اور ان دونوں میں زرا برابر بھی فرق نہیں تھاـ
ان کی عادات ،شکل وصورت میں رتی برابر بھی فرق نہیں تھا ان دونوں کو پہچاننا ممکن نہ ہوتا اگر ان کی آنکھوں کے کلر میں فرق نا ہوتاـ اور ان دونوں کی حرکتوں سے پوری حویلی تنگ تھی اور تو اور ان دونوں کے شر سے سکول اور کالج والے بھی محفوظ نہیں تھے ـ اور ان کی ماں بھی ان دونوں سے پناہ مانگتی ہیں ـ اور ان کی ہائٹس بھی چھوٹی ہیں جس کی وجہ سے ان کے بھائی داہم شاہ اور زاہم شاہ ان کو چھوٹی آفتیں بلاتے ہیں اور ان سے ایک سال چھوٹی بہن روحا شاہ بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکی وہ ان دونوں کے مقابلے میں بہت ہی نازک اور حساس طبیعت کی مالک ہے اور یہ دونوں تو مانو اس بیچاری کے پیچھے ہیں اور بچن میں بھی ایک بار نرمین شاہ اسے روم میں سلا کر باہر کسی کام سے آئیں تھیں ـ اور پیچھے ان دونوں نے مل کر روحا کو الٹا لیٹا کر اس پر خود بیٹھ گئی اور اس وقت شاید اگر دریاب شاہ وقت پر نہ پہنچتے تو نا جانے کیا سے کیا ہو جاتا کیوں کہ روحا شاہ پہلے ہی کمزور تھی اور ان دونوں کے ایسا کرنے سے اس کا سانس بند ہو گیا اور روحا شاہ کو ہاسپیٹل میں بھی پورے تین گھنٹے بعد ہوش آیا تھا اور نرمین شاہ کا تو رو رو کر برا حال تھا ـ اور باقی سب تو ان ایک سال کی فتنییوں کو دیکھ رہے تھے ـ اور آج بھی سوچ کر جھر جھری لے اٹھتے تھے ـ
اور بس یہی ہی نہیں زمل شاہ اپنے ایک منٹ بڑا ہونے کا بھی پورا فائدہ اٹھاتی تھی اور آرٹیفشل لینز کا کسی کو آج تک فایدہ ہوا ہو یا نہیں پر ان دونوں کو بہت ہوا تھا اور نا جانے کتنے ہی لوگوں کو ان دونوں نے مل کر خوب ڈرایا تھا ایک ہی لڑکی بن کر حویلی والے تو بس ہنس ہنس کر دوھرے ہو جاتے تھے ـ داہم شاہ اور زاہم شاہ بھی ان دونوں سے محفوظ نہ تھے ـ اور باقی سب کا یہ ماننا تھا کہ جب یہ اپنے گھروں کی ہو جائیں گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا ـ اور اب یہ تو وقت ہی بتائے گا ـ کے سب ٹھیک رہتا ہے یا خراب🤭اور دوسری طرف زمان شاہ کے تین بیٹے شاہمیر شاہ ،دارم شاہ اور اریز شاہ اور بیٹیاں ماہ رخ شاہ ،زویا شاہ اور پریشے شاہ ہیں اور ان کو بھی کسی سے کم نا سمجھیں اور جہاں یہ سب لڑکیاں مل جائیں وہاں کسی کی خیر نہیں ہوتی ـ اور آج بھی ان کی وجہ سے خاص مہمانوں کے سامنے بہت ہی عزت ہوئی تھی اور نرمین شاہ نے سزا کے طور پر ان کا کھانا روک دیا تھا ـ
اور اب یہ دونوں اسی سلسلے میں یہاں موجود تھیں ـ اور چونکہ ان کی آنی ہی کھانے کی انچارج تھی تو ان کی سفارش پر ہی ان کی مما کے غصے کو بریک لگی تھی ـ اور اب جب ان دونوں کا کام ہو گیا تو وہ کچن سے نو دو گیارہ ہوئی اور راستے میں آتی ہوئی ماہ رخ سے ان کی ٹکر ہوئی اور ماہ رخ گرنے ہی والی تھی کہ ان دونوں نے سنبھالا اب ماہ رخ نے جب ان دونوں کو دیکھا تو دل ہی دل میں بڑ بڑائی ایک تو ان بہن بھائیوں کو ٹکرانے کے علاؤہ اور کوئی کام نہیں ہے رمل شاہ نے کہاں ماہی ٹھیک ہو لگی تو نہیں تو ماہ رخ نے ہوش میں آتے ہی جلدی سے نفی میں سر ہلایا اور زمل شاہ جو ماہی کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ماہی یار ویسے تم لال ٹماٹر کیوں بنی ہوئی ہو تو ماہی نے ہکلا کر کہا کک کچھ بھی تو نہیں میں ٹھیک ہوں اور جلدی سے کچن میں بھاگ گئی ان دونوں نے ماہی کی سپیڈ کو دیکھا تو قہقہہ لگایا کیوں کہ وہ پیچھے داہم شاہ کو تو دیکھ ہی چکی تھیں اور سر جھٹک کر وہ باہر کی طرف بڑھ گئی کیونکہ ابھی انہیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا تھا جو کہ دوبارہ سے ان کا کھانا بند ہو جائے اور داہم شاہ بھی ان دونوں کو دیکھ کر گہرا مسکرایا اور اپنی گردن رب کرتے ہوئے اپنے پیچھے کسی کی آواز پر مڑا اب ایک طرف سے تو بچ ہی گیا تھا لیکن اب دوسری طرف سے بھی نمٹنا تھا ـ زاہم شاہ کی آواز پر وہ پلٹا اور زاہم شاہ نے کہا واہ جی واہ آج تو کچھ اور ہی چل رہا ہے داہم شاہ نے کہا لالہ کیا چل رہا ہے اسنے اپنی آئی برو ریز کی اور مصنوعی ناراضگی سجا لی زاہم شاہ نے کہا اچھا چھوڑ میں بھی کچھ نہیں دیکھا ـ اور لالہ میں نے کچھ کیا بھی نہیں ہے اور اپنا منہ پھلائے رش دوسری طرف کر لیا آخر کار وہ بھی تو چھوٹے اوع اور لاڈلے ہونے کا فایدہ اٹھا نا جانتا تھا اور یہ بھی کے اس کے لالہ سے ناراضگی برداشت نہیں ہونی اور وہ صحیح بھی تو تھا زاہم شاہ نے جب داہم شاہ کی ناراضگی برداشت نہیں ہونی تھی اور اس نے جلدی سے اسے اپنے مظبوط حصار میں لے کر کہا اچھا نہ بابا سوری آپ نے کچھ نہیں کیا اب خوش تو داہم شاہ نے بھی اپنے بھائی کو گلے لگا لیا اور وہ دونوں نیچے ہال میں داجی کی طرف بڑھ گئے ـ








