Chapter 1#the hidden secrets #janoon-e-ishq novel
رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے شاہ حویلی میں اس وقت تقریباً سبھی مرد حضرات موجود تھے اور خواتین رات کے کھانے کا اہتمام کرنے میں مصروف تھیں ـ
اور مرد حضرات لاونج میں بیٹھے ہلکی پھلکی گفتگو میں مصروف تھے ـ
اور شاہ نواز شاہ اس حویلی کے سربراہ ،جواپنےروب اور دبدبے کی وجہ سے جانے جاتے تھے اپنے مخصوص انداز میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے سنجیدگی سے کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھے ـ
اور اتنے میں ماہ رخ شاہ اپنی ہی دھن ہی میں مصروف انداز میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی کہ اس کی کسی سے زوردار ٹکر ہوئی ـاور یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ لڑکھڑا گئی اور مقابل کے بازؤں میں جھول گئی ـاورگرنے کے خوف سے آنکھیں میچ لی ـ
داہم شاہ خود بھی اس حملے کے لیے تیار نہ تھا ـ اس نے وقت رہتے ہی ماہ رخ کو اپنے مظبوط بازؤں میں قید کر لیا ـاور غور سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا ـ ماہ رخ نے جب خود کو کسی مضبوط حصار میں پایا تو آہستہ سے آنکھیں کھولی اس کی سیاہ آنکھیں گرنے کے خوف سے پھیلی ہوئی تھی ـاور خود کو داہم شاہ کے اتنا قریب دیکھ کر تو مانو اس کی حالت غیر ہوگئی اور اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اپنی چھوٹی سی ناک کو مصنوعی غصے سے سرخ کر دیا ـ داہم تو مزے سے اس کے چہرے کے ایکسپریشن نوٹ کر رہا تھا اور اس کے چہرے کے آتے جاتے رنگوں سے محفوظ ہو رہا تھا اس کے گال دہک کر لال ہو گئے تھے ـ لیکن وہ بھی تو داہم شاہ تھا اس نے بھی گھوریوں کی پروا کیے بغیر اس کے چہرے کو بڑے غور سے دیکھا ـ اب ماہ رخ کو جب اپنا اپ چھڑوانا مشکل لگا تو تپ کر بولی اـ اـ اـ ایسے کیا دکھ رہے ہیں ـ شرم کے مارے تو اس کے الفاظ ہلک میں ہی اٹک گئے ـاور اوپر سے وہ حال کی سیڑھیوں کے بیچوں بیچ موجود تھے ـ یہی دیکھ رہا ہوں کہ غصے میں بھی کوئی کتنا خوبصورت لگتا ہے ـ ماہ رخ نے نا سمجھی سے ہکلاتے ہوئے پوچھا ـکـکـ ـکیا مطلب ہے اـ آ پ کا اور چھوڑیں مجھے پہلے تو وہ اس کی معصومیت پر ہلکا سا مسکرایا اور پھر چھیڑنے کے انداز میں پوچھا چھوڑ دوں میں اور تصدیق کرنے کے انداز میں ایک اور آئی برو ریز کی ماہ رخ نے معصومیت سے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا ـ اور پہلے تو وہ رکا اور پھر ہلکی سی گرفت ڈھیلی کر دی جب ماہ رخ نے پیچھے کی جانب دیکھا تو پھر داہم کی شرٹ کو مظبوطی سے تھامے اور قریب ہو گئی ـ ۔ اور ور خوف کے مارے جلدی سے نا میں سر ہلایا اور اس وقت اسے اپنی حالت کا اندازہ نہیں تھا اور وہ مقابل کی دھڑکنیں اپنی قربت سے بڑھانے کا سبب بن گئی اور داہم نے بڑی مشکل سے خود کو قابو پاتے ہوئے اب مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر کے احطیاط سے اسے سیڑھیوں پر اتار دیا ـ ۔ ۔ ماہ رخ نے سکھ کا سانس لیا اور خود تیزی سے کچن میں چلی گئی ـاور اس بات سے انجان کے وہ داہم شاہ کے دل کی دنیا میں ہل چل مچا گئی ہے اور وہ ابھی تک اس کے سحر میں جکڑ ا ہوا تھا کہ اسے کسی نے جکڑ لیا ـ اور داہم شاہ نے چونک کر پیچھے دیکھا ـ تو زاہم شاہ اپنی عقابی اور شرارتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ـ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر داہم شاہ نے اسی گھوری سے نوازا ـاور زاہم شاہ بھی تو اپنے نام کا ایک تھا ـاس نے گھوری کی پروا کیے بغیر اور قریب ہو کر اپنے چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجا کر بولا کہ ویسے میں نے کچھ نہیں دیکھا ـ سامنے والا بھی کوئی اور نہیں داہم شاہ ہی تھا وہ بھی کون سا کسی سے کم تھا ـ شرم تو مانو اس کو چھو کر ہی نہیں گزری تھی ـاس نے بھی اپنے لا پرواہ انداز میں کندھے اچکائے لالہ یار کیا ہو گیا ہے آپ کو ؟ کیوں مجھ معصوم کے پیچھے پڑ گئے ہیں آ خر میں نے ایسا بھی کیا کر دیا وہ تو میں نے اسے نیچے گرنے سے بچا یا ہے اور اوپر سے آپ بھی مجھے ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے پتا نہیں میں نے کیا کر دیا ہے ـ بس لا لہ اب آپ بدل گے ہیں ـ دائم شاہ نے بچوں کی طرح منہ بسورا اور رخ دوسری طرف موڑ لیا ـزاہم شاہ تو اس کی نا ٹنگی کو دیکھ کر حیران رہ گیا ـ
اور جو بھی ہو وہ اپنے چھوٹے شاہ کی نا راضگی تو افورڈ نہیں کر سکتا تھا اس نے جلدی سے داہم شاہ کے گرد اپنا مظبوط حصار قائم کیا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا ـچھوٹے شاہ میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا کہ تم ناراض ہو گئے ہو ـ پھر بھی اسے اپنی طرف متوجہ نہ ہوتے دیکھ زاہم شاہ تو مانو شاک میں تھا مطلب کہ وہ سارا دن ان سب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر تا رہتا تھا لیکن اپنی باری اس کی طرف دیکھنا بھی گناہ تھا وہ تو بس اندر ہی اندر بس سوچ سکتا تھا اپنے لاڈلے کو کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی ـ اچھا نا سوری بابا تو داہم شاہ کھل کر مسکرایا اور خود بھی اپنے بھائی کے گرد حصار قائم کر لیا ـ لالہ ایسی بات نہیں ہے میں تو بس مزاق کر رہا تھا ـزاہم شاہ بھی گہرا مسکرا دیا مجھے بھی پتا ہے اور دونوں نیچے اتر کر ہال میں موجود صوفوں میں سے ایک پر بیٹھ گئے ـ اور دا جی یعنی کے شاہنواز شاہ جسے سب بچے دا جی بلاتے ہیں داجی کو دونوں نے سب سے پہلے سلام کیا اور اس کے بعد شاہنواز شاہ نے ان سے شاہمیر شاہ کا پوچھا کیوں کہ وہ دو دنوں سے حویلی نہیں آیا تھا ـ شاہمیر شاہ جو پولیس میں ایس پی کے عہدے پر فائز ، حسن میں بے مثال سنہری آنکھوں والا شہزادہ سرخ و سفید رنگت اونچا لمبا قد کسرتی بدن اور اپنے کام سے وفادار ـ داجی نے ابھی اپنی بات مکمل ہی نہیں کی تھی کہ شاہمیر شاہ ہال کے دروازے سے داخل ہوتا ہوا دیکھائی دیا ـ اپنے مزاج سے ہٹ کر چہرے پر مدہم سی مسکراہٹ سجائے ہوئے چلتا ہوا داجی کے سامنے آ کر رکا ادب سے جھک کر داجی کے دونوں ہاتھوں کو عقیدت سے چوما اور داجی نے بھی ان کو تھپکی دی ـاور ساتھ میں دعائیں بھی دی ـاس کے بعد شاہمیر شاہ زاہم شاہ اور داہم شاہ سے بالغیر ہوا ـ اور باقی سب بڑوں اور خواتین سے ملنے کے بعد داجی کے کہنے پر فریش ہونے کے لیے اوپر کی جانب قدم بڑھائے مگر جو نہی اپنے کمرے کے قریب پہنچا تو اپنے ساتھ والے روم کے بند دروازے پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹ گئی اور اس کی جگہ پر غم اور دکھ نے لے لی شاید ماضی کے بوجھ تلے دب گئی ـ
اس نے کافی دیر دروازے کو گھورا اور پھر اپنی سوچوں کو جھٹک کر اپنے روم کے دروازے کا ہینڈل گھمایا اور اندر داخل ہوگیا ـاور کمرے کے باہر ہی دو نفوسوں کو افسردہ چھوڑ گیا ـ وہ تھے دارم شاہ اور اریز شاہ وہ دونوں جو نیچے ہی جا رہے تھے شاہمیر شاہ کو دیکھ کر ملنے کی غرض سے آگے بڑھنے ہی والے تھے مگر انہوں نے پہلے شاہمیر شاہ کے افسردہ چہرے کو دیکھا اور اس کی توجہ کا مرکز دیکھ کر ان کے بھی چہرے مدھم پڑ گئے جیسے کسی نے بہت پرانی یاد کو تازہ کر دیا ہو ـ
اور جب شاہمیر شاہ اپنے روم میں چلا گیا تو انہوں نے بعد میں ملنے کا ارادہ کر کے اسے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دینا ہی بہتر سمجھا ـ اور پھر وہ دونوں بھی نیچے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئے ـ اکثر اوقات ہمیں الفاظوں کی ضرورت نہیں ہوتی کبھی دل تنہا رہنا پسند کرتا ہے ـ اور اتنے میں خواتین نے ملازمین کی مدد سے کھانا ڈائنگ ٹیبل پر لگانا شروع کر دیا ـاور دیکھتے ہی دیکھتے سب لوگ ڈائنگ ٹیبل کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے ـ اریز شاہ اور دارم شاہ نے انٹر ہوتے ہی سب کو بلند آواز میں سلام کیا ـاور آگے بڑھ کر داجی کے ہاتھوں کو عقیدت سے چوم لیا ـاور اس کے بعد فلک شاہ اور سناء شاہ کو بھی گلے لگایا ـاس کے بعد اپنی اپنی جگہ پر براجمان ہو گئے ـ اور اس کے ساتھ ہی داہم شاہ اور زہم شاہ بیٹھے تھے اور اتنے میں شاہمیر شاہ جو کہ ابھی فریش ہو کر آیا تھا ـ ساتھ ہی اپنی جگہ سنبھالی ـاور شاہنواز شاہ کے دائیں جانب ان کے بڑے بیٹے زریاب شاہ اور ان کے ساتھ دونوں چھوٹے بیٹے زمان شاہ اور دریاب شاہ تھے اور جب کے ان کے سامنے فلک شاہ،سناء شاہ ،اور ان کی بہوئں زرمین شاہ ،جوریاشاہ ،نرمین شاہ اور ساتھ میں لڑکیاں رمل شاہ ،زمل شاہ ،زوحا شاہ اور ماہ رخ شاہ ،پریشے شاہ اور روحا شاہ تھی ـ لیکن ہمیشہ کی طرح شاہنواز شاہ کے بلکل سامنے والے چئر خالی تھی ـ جسے دیکھ کر شاہنواز شاہ نے ضبط سے آنکھیں بند کی اور صرف شاہنواز شاہ ہی نہیں بلکہ حویلی کے تمام مکینوں کا یہی حال تھا ـداہم شاہ نے ہمیشہ کی طرح ماحول میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے اذلی انداز میں داجی کو مخاطب کیا ـ داجی مجھ معصوم پر ترس نہیں آتا تو نا صحیح لیکن میرے پیٹ میں پلنے والے بہادر سپا سالاروں کا ہی خیال کر لیں جو ہمیشہ مجھے بھوک کا احساس دلاتے ہیں اور ان کی وجہ سے آج میں زندہ ہوں ـ ورنہ آپ لوگوں کو کھانے کی فکر ہی نہیں ہے ـ داہم نے اپنے نا نکلنے والے آنسوؤں کو صاف کیا ـاور سب کے چہرے پر دبی دبی ہنسی تھی ـ








