"تیرا عشق، میری پناہ"
“عین”
شہمیر (مرکزی کردار - ہیرو):
ایک مغرور، سخت مزاج اور بارعب نوجوان، جو خاندانی دشمنی اور دیرینہ عناد کے باعث میرب سے شدید نفرت کرتا ہے۔
میرب (مرکزی کردار - ہیروئن):
ایک انتہائی معصوم، نرم دل اور سادہ لوح لڑکی، جو اس خاندانی نفرت اور پسِ پردہ ہونے والی سازشوں سے بالکل بے خبر ہے۔
شہمیر کی والدہ (ساس):
جو میرب کو اپنے ازلی دشمن کی بیٹی سمجھ کر سخت ناپسند کرتی ہیں اور گھر میں اس پر ہر ممکن سختی روا رکھتی ہیں۔
میرب کے والدین:
نہایت شریف نفس اور کمزور لوگ، جو خاندانی دشمنی اور حالات کے جبر کے آگے بالکل مجبور ہیں۔
احسن / سمیر (ولن - شہمیر کا دوست):
یہ شہمیر کا نہایت قریبی اور قابلِ اعتماد دوست بنتا ہے، مگر باطن میں ایک منافق شخص ہے۔ وہ میرب پر بدنگاہ رکھتا ہے اور شہمیر اور میرب کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے
مرکزی خیال
“یہ کہانی ہے نفرت کی تپش میں سلگتی ہوئی ایک ایسی محبت کی، جہاں برسوں پرانی خاندانی دشمنی اور انتقام کی آگ دو دلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ شہمیر، جو نفرت اور غرور کی علامت ہے، معصوم اور سادہ لوح میرب کو اپنے غیظ و غضب کا نشانہ بناتا ہے۔ لیکن جہاں ایک منافق دوست کی بدنیتی اور ساس کی بے جا سختی میرب کی زندگی کو آزمائش بنا دیتی ہے، وہی میرب کی بے لوث معصومیت اور صبر، شہمیر کے دل کی سنگلاخ زمین کو پگھلا دیتے ہیں۔ یہ ناول اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح انا اور عداوت کے طوفانوں سے گزر کر، شہمیر کی یہی نفرت آگے چل کر میرب کے لیے دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔”
رات کے بارہ بج رہے تھے جب گاڑی ایک بہت بڑی اور عالیشان حویلی کے سامنے آ کر رکی۔ باہر گھپ اندھیرا تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور شہمیر نہایت تلخ چہرے کے ساتھ باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر شادی کی کوئی خوشی نہیں تھی، بلکہ وہاں صرف اور صرف غصہ اور خاندانی انا کی جھلک تھی۔
“اترو!” شہمیر نے سرد اور گرجدار آواز میں گاڑی کے اندر دیکھتے ہوئے کہا۔
اندر میرب بیٹھی ہوئی تھی، جو سرخ رنگ کے بھاری عروسی لباس میں ملبوس تھی اور گھونگھٹ نکالے خوف سے کانپ رہی تھی۔ وہ اتنی معصوم اور سادہ لوح تھی کہ اسے اس خاندانی عداوت کی گہرائی کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ شہمیر کی سخت آواز سن کر اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا دوپٹہ سنبھالا اور آہستہ سے گاڑی سے باہر قدم رکھا۔
جیسے ہی وہ دونوں حویلی کے ہال میں داخل ہوئے، سامنے شہمیر کی والدہ (میرب کی ساس) صوفے پر بیٹھی ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر بھی کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔
“آ گئیں تم؟” ساس نے تلخی سے میرب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ “یاد رکھنا لڑکی، تم اس گھر میں کوئی ملکہ بن کر نہیں آئیں۔ تم ہمارے دشمن کی بیٹی ہو، اور تمہاری جگہ اس گھر کے ایک کونے میں ہے۔”
میرب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بے بسی سے شہمیر کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اپنی ماں کو روکے گا، لیکن شہمیر نے بے رخی سے اپنا رخ موڑ لیا اور بولا:
“امی، اس سے زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے اس کے کمرے کا راستہ دکھا دیں، میں ابھی باہر جا رہا ہوں۔”
شہمیر بغیر مڑے حویلی سے باہر نکل گیا اور میرب اس بڑے، اجنبی گھر میں بالکل اکیلی کھڑی روتی رہ گئی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی معصومیت کو کتنے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شہمیر کے جانے کے بعد، حویلی کے اس وسیع و عریض ہال میں صرف میرب کے رونے کی دھیمی دھیمی آواز گونج رہی تھی۔ اس کی ساس نے ایک گہرا اور ناگوار سانس لیا اور اپنے پاس کھڑی ملازمہ کو اشارہ کیا۔
“سکینہ! اسے اوپر کونے والے کمرے میں چھوڑ آؤ۔ اور ہاں، صبح اسے وقت پر جگا دینا، اس گھر کے کچھ اصول ہیں جو اسے پہلے دن سے ہی سیکھنے ہوں گے۔” ساس نے سرد لہجے میں حکم دیا اور خود اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
میرب نے کانپتے ہوئے اپنے بھاری لہنگے کو سمیٹا اور ملازمہ کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ حویلی کی دیواروں پر لگی پرانی تصویریں اور وہاں کی خاموشی اس کے معصوم دل میں خوف بڑھا رہی تھی۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں صرف ایک سادہ سا بستر اور چند ضروری اشیاء تھیں۔ یہ کسی نئی نویلی دلہن کا کمرہ ہرگز نہیں لگ رہا تھا۔
وہ بستر کے ایک کونے پر بیٹھ گئی اور گھونگھٹ ہٹا کر اپنی سرخ اور سوجی ہوئی آنکھوں سے کمرے کو دیکھنے لگی۔ وہ بس یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے والدین نے کس مجبوری کے تحت اسے اس آگ میں جھونک دیا، جہاں قدم قدم پر صرف نفرت تھی۔
اگلی صبح، جب سورج کی پہلی کرن کمرے میں پہنچی، تو دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔ میرب، جو رات بھر روتے روتے چند لمحوں کے لیے ہی سوئی تھی، ہڑبڑا کر اٹھی۔
جب اس نے دروازہ کھولا تو سامنے شہمیر کا دوست (احسن) کھڑا تھا۔ وہ شہمیر سے ملنے حویلی آیا تھا، لیکن صبح سویرے میرب کو اس حالت میں، بکھرے بالوں اور معصوم چہرے کے ساتھ دیکھ کر اس کی نظروں میں ایک عجیب سی چمک اور بدنیتی ابھر آئی۔
“اسلام علیکم بھابھی! میں احسن ہوں، شہمیر کا سب سے پکا دوست۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا، لیکن اس کی نظریں میرب کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔
میرب نے گھبرا کر اپنے دوپٹے کو درست کیا اور نظریں جھکا لیں۔ وہ احسن کی ان نظروں کے پیچھے چھپی منافقت اور برے ارادوں سے بالکل ناواقف تھی، لیکن اسے ایک عجیب سی بے چینی کا احساس ہونے لگا۔
اسی وقت راہداری کے دوسرے کونے سے شہمیر کی بھاری قدموں کی آواز سنائی دی، جو رات بھر باہر رہنے کے بعد ابھی واپس لوٹا تھا
شہمیر جیسے ہی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا، اس کی نظر احسن اور میرب پر پڑی۔ احسن کو میرب کے کمرے کے باہر کھڑا دیکھ کر شہمیر کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور اس کی آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔
“احسن! تم یہاں اوپر کیا کر رہے ہو؟” شہمیر کی گرجدار آواز راہداری میں گونجی۔
احسن نے فوراً اپنے چہرے پر ایک جھوٹی مسکراہٹ سجائی اور انتہائی معصومیت سے مڑا۔ “ارے شہمیر یار! تم رات بھر غائب تھے، میں بس تمہیں ڈھونڈتے ہوئے اوپر آ گیا تھا۔ بھابھی نظر آئیں تو میں نے سوچا سلام دعا کر لوں۔”
شہمیر نے ایک گہری اور سرد نظر احسن پر ڈالی، پھر میرب کی طرف دیکھا جو خوف کے مارے دیوار سے لگی کھڑی تھی اور اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ شہمیر کا غصہ میرب کو دیکھ کر مزید بڑھ گیا۔
“تم اندر جاؤ!” شہمیر نے میرب کو سخت لہجے میں حکم دیا۔ میرب نے بغیر کوئی لفظ بولے فوراً کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔
باہر کھڑے احسن نے شہمیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیمی آواز میں بولا، “یار شہمیر، غصہ کم کرو۔ مانا کہ یہ تمہارے دشمن کی بیٹی ہے، لیکن ہے بہت معصوم۔ بیچاری ڈری ہوئی ہے۔”
احسن بظاہر ہمدردی جتا رہا تھا، لیکن اندر ہی اندر وہ شہمیر کے دل میں میرب کے لیے نفرت کو برقرار رکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ خود میرب کے قریب ہونے کا موقع ڈھونڈ سکے۔ شہمیر نے احسن کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا اور سرد مہر سے بولا:
“میری گھریلو زندگی میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے احسن۔ چلو، نیچے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”
کمرے کے اندر، میرب دروازے سے پیٹھ لگائے نیچے بیٹھ گئی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس گھر میں اس کا محافظ کون بنے گا، جہاں ساس کی سختی، شوہر کی نفرت اور ایک اجنبی شخص کی عجیب نظریں اس کا استقبال کر رہی تھیں۔
شہمیر نیچے احسن کو رخصت کرنے کے بعد انتہائی غصے میں واپس اوپر آیا اور سیدھا میرب کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ میرب جو فرش پر بیٹھی رو رہی تھی، اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو کر کھڑی ہو گئی۔
“ابھی اس گھر میں تمہارا پہلا دن ہے اور تم نے اپنے ڈھنگ دکھانے شروع کر دیے؟” شہمیر نے اس کے قریب آتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔ “ہمارے خاندان کی عورتیں غیر مردوں کے سامنے اس طرح بکھرے بالوں کے ساتھ نہیں آتیں۔”
میرب نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا، “میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ وہ تو بس۔۔۔”
“خاموش رہو!” شہمیر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “تمہاری سزا یہ ہے کہ آج سے تم اس گھر میں کسی مہرانی کی طرح آرام نہیں کرو گی۔ نیچے جاؤ، امی کا سامنا کرو اور گھر کے سارے کاموں میں ملازموں کا ہاتھ بٹاؤ۔ جب تک تم اپنی حد نہیں سیکھ جاتیں، تم اس حویلی کے کسی آرام کی حقدار نہیں ہو۔”
میرب نے خاموشی سے اپنے آنسو پونچھے اور سر جھکا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ نیچے ہال میں پہنچی جہاں اس کی ساس پہلے سے موجود تھیں، جو اسے دیکھ کر مزید سخت رویہ اپنانے کے لیے تیار تھیں۔
شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے اور حویلی کے باورچی خانے میں کام کرتے کرتے میرب کے نازک ہاتھ تھک چکے تھے۔ وہ ساس کے حکم کے مطابق دن بھر ملازموں کے ساتھ کام کرتی رہی تھی، جس کی وجہ سے اس کے پاؤں بھی شل ہو رہے تھے۔ وہ کچن کے ایک کونے میں کھڑی پانی کا گلاس بھر رہی تھی کہ اچانک تھکن اور کمزوری کی وجہ سے اس کا سر چکرایا اور گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔
کانچ ٹوٹنے کی تیز آواز سن کر شہمیر، جو اسی وقت ہال سے گزر رہا تھا، فوراً کچن کی طرف لپکا۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔ میرب فرش پر بیٹھی کانچ کے ٹکڑے سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ اسی جلدی میں کانچ کا ایک تیز ٹکڑا اس کی انگلی پر لگ گیا اور وہاں سے خون ٹپکنے لگا۔
“آہ!...” میرب کے منہ سے ایک دھیمی سی سسکاری نکلی۔
شہمیر کا غصہ ایک پل میں غائب ہو گیا اور اس کے دل میں ایک عجیب سی ٹیس اٹھی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور میرب کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“تمہیں کام کرنے کا طریقہ بھی نہیں معلوم؟” شہمیر نے اگرچہ لہجہ سخت رکھنے کی کوشش کی، لیکن اس کی آواز میں اب وہ پرانی تلخی نہیں تھی، بلکہ ایک چھپی ہوئی فکر تھی۔
اس نے میرب کا نازک اور کانپتا ہوا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیا۔ میرب نے گھبرا کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی، لیکن شہمیر کی گرفت مضبوط تھی۔ اس نے اپنی جیب سے صاف رومال نکالا اور بہت نرمی سے میرب کی زخمی انگلی پر لپیٹ دیا۔
جب شہمیر نے نظریں اٹھائیں، تو میرب کی بڑی بڑی، معصوم آنکھیں سیدھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھیں، جن میں صرف خوف اور بے بسی تھی۔ شہمیر کو پہلی بار احساس ہوا کہ خاندانی دشمنی اپنی جگہ، لیکن یہ لڑکی واقعی بالکل بے قصور ہے۔ اس کے دل کی سنگلاخ زمین پر نرمی کی پہلی پھوار پڑی تھی۔
“چلو، اٹھو اب۔ باقی کام ملازم کر لیں گے، تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو،” شہمیر نے دھیمی اور نرم آواز میں کہا اور اسے اٹھنے کا سہارا دیا۔
اپنے کمرے میں واپس آنے کے بعد بھی میرب کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ بار بار اپنی انگلی پر بندھے شہمیر کے رومال کو دیکھ رہی تھی۔ شہمیر کے لہجے میں جو تھوڑی سی نرمی آئی تھی، اس نے میرب کے خوفزدہ دل کو ایک چھوٹی سی امید دے دی تھی۔
رات کے وقت، شہمیر کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں مرہم کی ایک ٹیوب تھی۔ وہ خاموشی سے میرب کے قریب آیا، جو بستر کے کنارے سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔
“ہاتھ آگے کرو،” شہمیر نے دھیمے لہجے میں کہا۔
میرب نے ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ شہمیر نے بہت آرام سے پرانا رومال کھولا اور اس کے زخم پر مرہم لگانے لگا۔ اس کا لمس اس بار بہت نرم تھا، جیسے وہ میرب کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔
“میں نے تمہارے ساتھ جو سختی کی۔۔۔” شہمیر نے اپنی نظریں زخم پر ٹکائے ہوئے بات شروع کی، “وہ اس نفرت کا نتیجہ تھی جو میں بچپن سے اپنے اندر پال رہا ہوں۔ لیکن مجھے اب اندازہ ہو رہا ہے کہ اس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔”
میرب نے حیرت اور نم آنکھوں سے شہمیر کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا۔
“کیا آپ اب مجھ سے ناراض نہیں ہوں گے؟” میرب نے بہت معصومیت سے پوچھا۔
شہمیر نے ایک گہرا سانس لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا، “میں کوشش کروں گا کہ تمہیں اس گھر میں دوبارہ کوئی تکلیف نہ پہنچے۔”
ابھی ان کے درمیان یہ برف پگھل ہی رہی تھی کہ اچانک کمرے کے دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ باہر شہمیر کی والدہ کی غصے بھری آواز سنائی دی، جو اس دھیمے سے سکون کو دوبارہ ختم کرنے کے لیے تیار تھیں۔
شہمیر نے ایک لمحے کے لیے میرب کا ہاتھ چھوڑا اور اٹھ کر دروازہ کھولا۔ باہر اس کی والدہ سخت چہرے کے ساتھ کھڑی تھیں۔
“شہمیر! مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے، ابھی نیچے آؤ،” انہوں نے اندر بیٹھی میرب پر ایک سرد نظر ڈالتے ہوئے کہا اور خود نیچے چلی گئیں۔
شہمیر میرب کو وہیں چھوڑ کر نیچے ہال میں آیا، جہاں اس کی والدہ بے چینی سے ٹہل رہی تھیں۔ جیسے ہی شہمیر قریب پہنچا، انہوں نے اس کے سامنے ایک پرانا، زرد پڑا ہوا خط رکھ دیا۔
“یہ کیا ہے امی؟” شہمیر نے الجھن سے پوچھا۔
“یہ وہ سچ ہے شہمیر، جو تمہارے باپ نے مرنے سے پہلے مجھ سے چھپایا تھا،” ان کی آواز میں غصہ اور خوف دونوں تھے، “تم جس لڑکی کو اپنے دشمن کی بیٹی سمجھ کر اس گھر میں لائے ہو، اس کے خاندان کا ہمارے خاندان سے صرف دشمنی کا رشتہ نہیں ہے۔ اس خط کو پڑھو، تمہیں معلوم ہوگا کہ بیس سال پہلے میرب کے باپ نے ہمارے خاندان پر جو احسان کیا تھا، وہ ایک بہت بڑا فریب تھا یا کوئی گہرا راز!”
شہمیر نے لرزتے ہاتھوں سے وہ خط اٹھایا۔ جیسے جیسے وہ خط کی سطریں پڑھتا گیا، اس کے چہرے کے تاثرات بدلتے گئے۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسا سچ ابھر رہا تھا جس نے اس کے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا راز تھا جو اگر میرب کے سامنے آ جاتا، تو وہ جیتے جی مر جاتی۔
شہمیر گہرے جھٹکے کی حالت میں واپس اوپر اپنے کمرے میں آیا۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور میرب بستر پر لیٹی سو چکی تھی۔ اس کا معصوم چہرہ چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا، اور اس کی زخمی انگلی پر ابھی بھی وہ مرہم لگا ہوا تھا جو شہمیر نے لگایا تھا۔
شہمیر آہستہ سے اس کے قریب بیڈ پر بیٹھا۔ اس کا دل میرب کے لیے ایک عجیب سی تڑپ اور گہری محبت سے بھر رہا تھا۔ اب وہ صرف اس کا شوہر نہیں تھا، بلکہ اس پر ایک ایسا بوجھ تھا جو اسے میرب کا محافظ بننے پر مجبور کر رہا تھا۔
اس نے بہت نرمی سے میرب کے ماتھے پر بکھرے بال پیچھے کیے اور دھیمی آواز میں خود سے بولا: “میں تمہیں کبھی اس سچائی کی آنچ بھی نہیں لگنے دوں گا، میرب۔ اب چاہے پوری دنیا ایک طرف ہو جائے، تم صرف میری پناہ میں رہو گی۔”
وہ نہیں جانتا تھا کہ احسن حویلی کے پچھلے حصے میں کھڑا کھڑکی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، اور اس کے ہاتھ میں بھی اسی راز کا ایک حصہ تھا، جسے وہ شہمیر اور میرب کو برباد کرنےکے لیے استعمال کرنے والا تھایا ہے۔