ذہنی قید (ازقلم سیدہ حسباء بخاری) by syeda hasba at Inkitt
Customize readability
Aa

ذہنی قید (ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

All Rights Reserved ©

Summary

کیا بچپن کے سائے کبھی پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کچھ یادیں جوانی کی دہلیز تک زہر بن کر ساتھ آتی ہیں، اور جب سوشل میڈیا کی چکا چوند ان اندھیروں سے ملتی ہے، تو انجام ہولناک ہوتا ہے۔یہ کہانی ہے ایک خوبرو نوجوان اور ایک حسین دوشیزہ اور چند ایسے راز جو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ۔۔۔"

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Chapter 16

قسط نمبر 16

(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

سعد کی والدہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی رابعہ بیگم کے قریب آئیں۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی، جیسے وہ کوئی بہت بڑا فیصلہ کر چکی ہوں۔

وہ رابعہ بیگم کے سامنے رکیں اور دھیمی مگر مضبوط آواز میں بولیں،

"اب حالات ہمارے اختیار سے باہر ہو چکے ہیں۔"

(رابعہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا)

سعد کی والدہ زینب بیگم نے ایک گہرا (سانس لیا اور کہا)

"اس وقت ہماری عزت، عنایہ کی عزت اور دونوں خاندانوں کی عزت بچانے کا صرف ایک ہی راستہ باقی ہے..."

ہال میں موجود چند لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں۔

(انہوں نے ٹھہر کر کہا)

"اور وہ کام صرف ایک شخص کر سکتا ہے..."

حازم......

اگرحازم کی شادی عنایہ سے ہو جاۓ تو ہماری عزت بچ جاۓ گی.

(

سب زینب بیگم کو دیکھ رے تھے)

حازم متوجہ ہوا اپنا نام سن کر اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا.حازم ساکت کھڑا تھا.

حازم کی نظر عنایہ پر پڑی. دلہن کے لباس میں ملبوس عنایہ اسٹیج پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں کی مہندی اب بھی اتنی ہی گہری تھی، مگر آنکھوں کی چمک بجھ چکی تھی۔ وہ سامنے دیکھ رہی تھی مگر جیسے کچھ دیکھ ہی نہ رہی ہو۔ اس کے دل و دماغ نے شاید اب تک یہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ رضا واقعی اسے اس لمحے تنہا چھوڑ گیا ہے۔ اسکی زندگی کا فیصلہ یو اچانک کیا جا رہا تھا. یہ معاشرہ ایسی لڑکی کو قبول نہیں کرتا. سب لڑکی کے کردار پر بات کرتے ہے لڑکا ظالم ہو کر بھی بھُلا دیا جاتا ہے. لیکن یہ سب لڑکی کی ذات کا حصہ بن کے رہے جاتا ہے۔ ایک تلخ یاد....

اس کے برابر میں دلہن بنی نیہا بیٹھی تھی۔ بار بار اپنی بڑی بہن کو دیکھتی اور آنکھوں میں بھر آنے والے آنسو روکنے کی کوشش کرتی۔ اس کی اپنی خوشی جیسے کہیں کھو گئی تھی۔

"آپی... سب ٹھیک ہو جائے گا..."

(نیہا نے لرزتی آواز میں کہا)

مگر عنایہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

ثناء اور زہرا دونوں اس کے قریب بیٹھی تھیں۔

"عنایہ... پلیز کچھ تو بولو..." زہرا نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔

"تم اتنی مضبوط ہو... ایسے ہمت نہیں ہارتے..." ثناء نے نم آنکھوں سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

مگر عنایہ کا وجود جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔

دوسری طرف رابعہ بیگم کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ زینب بیگم بار بار انہیں تسلی دے رہی تھیں۔

"بہن... اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ وہ بہتر کرے گا۔"

رابعہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

"میں نے اپنی بیٹی کے لیے یہ دن نہیں سوچا تھا زینب..."

ادھر فاضل صاحب اور آسیہ بیگم شرمندگی سے نظریں جھکائے بیٹھے تھے۔

آسیہ بیگم کی سسکیاں رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔

"ہم نے تو اسے کبھی غیر نہیں سمجھا... اپنی بیٹی سے بڑھ کر چاہا ہے..." ان کی آواز ٹوٹ گئی۔

فاضل صاحب نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں۔

ان کا اپنا بیٹا آج انہیں لوگوں کے سامنے رسواءکر گیا تھا۔

ہال میں موجود مہمان طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ ہر نگاہ میں سوال تھا۔

سعد یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔

اس کے قریب حازم اور ساحل کھڑے تھے۔ساحل عنایہ کی سہیلی زہرا کا شوہر تھا.

حازم کے چہرے پر حیرت اور غصہ دونوں موجود تھا۔ اسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ رضا ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔

اچانک فاضل صاحب اٹھے۔

کانپتے قدموں کے ساتھ سعد کے سامنے

آ کر رُک گئے۔

پورا ہال جیسے خاموش ہو گیا۔

"بیٹا..." ان کی آواز بھر گئی۔

سعد فوراً احتراماً کھڑا ہو گیا۔

فاضل صاحب نے لرزتے ہاتھ جوڑ دیے۔

"انکل!" سعد گھبرا گیا۔

مگر فاضل صاحب کے آنسو بہہ نکلے۔

"ہماری عزت... ہمارے خاندان کی عزت آج تمہارے ہاتھ میں ہے۔"

ہال میں موجود ہر شخص دم بخود رہ گیا۔

"رضا نے جو کیا... اس کا ازالہ تو کبھی نہیں ہو سکتا۔ مگر اس معصوم بچی کی زندگی برباد ہونے سے بچا لو۔"

(فاضل صاحب کی آواز کانپ رہی تھی)

سعد کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

فاضل صاحب نے ایک لمحے کو حازم کی طرف دیکھا پھر دوبارہ سعد کی جانب متوجہ ہوئے۔ سعد کے والد صابر صاحب نے حازم کے کاندھے پر ہاتھ رکھا وہ اس  بات سے متفق تھے.

"اپنے دوست سے کہو... اگر وہ چاہے... تو ہماری بیٹی کو اپنا لے۔"

یہ سنتے ہی پورے ہال میں جیسے سناٹا چھا گیا۔

تمام نظریں ایک ساتھ حازم پر جا ٹھہریں۔

حازم کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔

اسے شاید اس بات کی توقع نہ تھی۔

"انکل..."

( اس کے لبوں سے بمشکل نکلا)

سعد نے گہرا سانس لیا اور حازم کے قریب آ گیا۔

"حازم..."

حازم نے اپنے دوست کی طرف دیکھا۔

"میں جانتا ہوں یہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔"

(سعد کی آواز میں التجا تھی)

"لیکن میں تمہیں بچپن سے جانتا ہوں۔"

وہ ایک لمحے کو رُکا۔

"میں جانتا ہوں تم کسی کا دل نہیں توڑتے۔"

حازم خاموش کھڑا رہا۔

(سعد نے آہستہ سے کہا)

"اس وقت اگر کوئی عنایہ کو عزت، تحفظ اور احترام دے سکتا ہے... تو وہ تم ہو۔"

حازم کی نظریں بے اختیار اسٹیج پر جا ٹھہریں۔

سرخ لباس میں بیٹھی عنایہ بے جان سی لگ رہی تھی۔

اس لمحے پہلی بار عنایہ نے بھی سر اٹھایا۔

اس کی نم آنکھیں سیدھی حازم سے جا ملیں۔

دو زخمی نگاہیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔

ایک کی دنیا ابھی ابھی اجڑی تھی۔

دوسرا اچانک ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا ہوا تھا جہاں ایک فیصلہ کئی زندگیاں بدل سکتا تھا۔

ہال میں موجود ہر شخص سانس روکے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔کسی کی آنکھ میں امید تھی۔کسی کی آنکھ میں دعا۔اور کسی کی آنکھ میں خوف۔

مگر حازم...

وہ صرف عنایہ کی آنکھوں میں چھپی ہوئی ٹوٹ پھوٹ دیکھ رہا تھا۔

اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ آج صرف ایک لڑکی کی شادی نہیں رکی...

بلکہ ایک دل سب کے سامنے ٹوٹا ہے۔

اور اب سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔

جیسے اگلا لفظ...

اگلا فیصلہ...

صرف وہی کر سکتا ہو۔

*°*°*°*°*°*

قاضی صاحب نکاح کی مسند پر بیٹھ چکے تھے۔

ہال میں موجود ہر شخص حیران تھا۔ چند گھنٹے پہلے تک جہاں خوشیوں کی رونق تھی، اب وہاں ایک عجیب سی سنجیدگی اور اداسی نے ڈیرے جما لیے تھے۔

عنایہ سجی ہوئی حازم کے پہلو میں بیٹھی تھی۔

مگر وہ یہاں ہو کر بھی جیسے یہاں نہیں تھی۔

اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے اردگرد سب کچھ دھندلا گیا ہو۔ چند گھنٹے پہلے تک وہ رضا کی دلہن بننے والی تھی اور اب...

اب وہ ایک ایسی حقیقت کے سامنے بیٹھی تھی جسے اس کا دل ماننے سے انکار کر رہا تھا۔وہ اس شخص کی اچانک ہونے جا رہی تھی جسے وہ ٹھیک سے جانتی بھی نہیں تھی۔

اس کا جسم بُری طرح کانپ رہا تھا۔

حازم بھی خاموش بیٹھا تھا۔اس کے دل میں بھی عجیب کیفیت برپا تھی۔

وہ کافی دیر سے عنایہ کو چاہتا تھا، خاموشی سے، بنا کسی توقع کے۔

اس نے ہمیشہ خود کو یہی سمجھایا تھا کہ عنایہ رضا کی امانت ہے اور اسے کبھی اپنی خواہشات کو دل سے باہر نہیں آنے دینا چاہیے۔

مگر آج...

قسمت اسے ایک ایسے موڑ پر لے آئی تھی جس کا تصور بھی اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔

اس کی محبت بغیر کسی جدوجہد کے، بغیر کسی مطالبے کے، اس کے سامنے بیٹھی تھی۔

لیکن یہ وہ لمحہ نہیں تھا جس کا اس نے خواب دیکھا تھا۔

کیونکہ عنایہ کی آنکھوں میں خوشی نہیں، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی نمی تھی۔

قاضی صاحب کی پُرسکون آواز ہال میں گونجی۔

"عنایہ بنتِ عامر ، آپ کا نکاح حازم آرزان ابنِ یوسف آرزان کے ساتھ  با عوض حق مہر پچاس لاکھ روپے سکہ رائج اُلوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"

(عنایہ کا سانس جیسے رُک گیا)

اس کی پلکوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ گیا۔

پورا ہال حازم کی طرف دیکھنے متوجہ تھا. سب تجسس میں گِرے تھے.

مگر وہ جیسے وہ کچھ اور سننا چا رہی تھی۔ کاش یہ سب اسکا خواب ہو.

قاضی صاحب نے دوبارہ سوال دہرایا۔

"بیٹی، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"

حازم نے بے اختیار ایک نظر عنایہ پر ڈالی۔

اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔

رابعہ بیگم نے آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام لیا۔ان کی آنکھیں بھی اشک بہا رہی تھیں۔

"بیٹا..."

( ان کی آواز لرز گئی)

"کبھی کبھی اللہ وہ راستہ چنتا ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا، مگر وہی ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔"

عنایہ نے بے بسی سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔

اس کے ہونٹ کانپے۔

پھر اس نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔

قاضی صاحب نے تیسری مرتبہ پوچھا۔

"بیٹی، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"

اس بار عنایہ کی آواز بمشکل نکلی۔

"ج... جی... قبول ہے۔"

یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔

نکاح نامہ اس کے سامنے رکھا گیا۔

اس نے لرزتے ہاتھوں سے نکاح نامہ ہاتھوں میں لیا۔

ایک آنسو کاغذ پر گرا اور سیاہی میں جذب ہو گیا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے دستخط کر دیے۔

قاضی صاحب نے اب رُخ حازم کی طرف کیا۔

"حازم آرزان ابنِ یوسف آرزان، آپ کا نکاح عنایہ بنتِ عامر کے ساتھ با عوض حق مہر پچاس لاکھ روپے سکہ رائج اُلوقت کیا جا رہا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"

حازم چند لمحے خاموش رہا۔

اس کی نگاہ عنایہ پر ٹھہر گئی۔

وہ لڑکی جسے وہ دل سے چاہتا تھا، آج اس کی شریکِ حیات بن رہی تھی۔

مگر اس لمحے اسے اپنی خوشی پر بھی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔

کیونکہ عنایہ کے دل پر جو گُزر رہی تھی، وہ اسے صاف محسوس کر سکتا تھا۔

(حازم نے گہرا سانس لیا)

اور مضبوط لہجے میں کہا۔

"جی، مجھے قبول ہے۔"

حازم نے کاغذات پر دستخط کیے.

قاضی صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ

آ گئی۔

"مبارک ہو بیٹا۔"

ہال میں آہستہ آہستہ دعاؤں کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔قاضی صاحب نے دعا کروائی۔ سب نے ہاتھ اٹھا لیے۔

(نیہا اور سعد بھی ساتھ بیٹھے تھے)

چند لمحے پہلے ان کا نکاح ہوا تھا اور اب عنایہ اور حازم بھی ایک مقدس رشتے میں بندھ چکے تھے۔

دعا ختم ہوئی تو رابعہ بیگم خود کو روک نہ سکیں۔

وہ فوراً عنایہ کے پاس آئیں اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

"میری بچی..."

(ان کی آواز رندھ گئی)

"مجھے معاف کر دینا اگر آج تمہیں کسی تکلیف سے گزرنا پڑا۔"

(عنایہ پھوٹ پڑی)

اس نے ماں کے ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر چوم لیے۔

"امّی..."

(بس اتنا ہی کہہ سکی)

پھر ان کے گلے لگ کر رو پڑی۔

وہ ماں کی آغوش میں ویسے ہی سمٹ گئی جیسے بچپن میں ڈر جانے پر سمٹ جایا کرتی تھی۔

ادھر سعد آگے بڑھا اور حازم کو مضبوطی سے گلے لگا لیا۔

کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔

"تم نے آج صرف میرا نہیں... دو خاندانوں کا مان رکھ لیا ہے۔"

( سعد نے بھاری آواز میں کہا)

(حازم ہلکا سا مسکرایا)

"دوستوں کے درمیان شکریہ نہیں ہوتا۔"

سعد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

"پھر بھی... میں یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔"

( سعد پھر ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولا)

"اور سنو..."

"جی؟"

(حازم متوجہ ہوا)

"میری لاڈلی سالی کا بہت خیال رکھنا۔"

حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔لیکن عنایہ کی تکلیف محسوس کرتے ہی اسکی مسکراہٹ تھم گئی.

اس نے عنایہ کی طرف دیکھا۔

پھر سعد کی طرف۔

"ان شاء اللہ۔"

سعد نے شرارت سے کندھے پر ہاتھ مارا۔

"اب ہم صرف دوست نہیں رہے۔"

(سعد بولا)

"جی۔"

"رشتہ دار بھی بن گئے ہیں۔"

(سعد کی آواز میں سکون تھا)

دونوں ہلکا سا مسکرا دیے۔

دوسری طرف آسیہ بیگم اور فاضل صاحب ایک کونے میں کھڑے تھے۔

ان کے چہروں پر شدید ندامت تھی۔

آسیہ بیگم کی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔

وہ دور بیٹھی عنایہ کو دیکھ رہی تھیں۔

جیسے اپنی ہی بیٹی کو دکھ میں دیکھ رہی ہوں۔ فاضل صاحب نے نظریں جھکا لیں۔

ان کے دل پر اپنے بیٹے کے عمل کا بوجھ صاف دکھائی دے رہا تھا۔

اسی دوران سعد کی بہن جیا آگے بڑھی۔وہ سیدھا نیہا کے پاس آئی اور اسے گلے لگا لیا۔

"مبارک ہو بھابھی۔"

(جیا خوش تھی)

نیہا کی آنکھوں میں نمی تھی مگر اس نے مسکرا کر اسے گلے لگا لیا۔

ثناء اور زہرا بھی عنایہ کے گرد موجود تھیں۔

دونوں اسے حوصلہ دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اور حازم...

اسکی نظر بے ساختہ عنایہ کی جانب اُٹھ رہی تھی۔ عنایہ اب بھی اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر تھی.

حازم  کو معلوم تھا کہ یہ رشتہ تو آج بندھ گیا ہے۔

مگر عنایہ کے دل تک پہنچنے کا سفر ابھی شروع ہونا ہے۔

اور وہ دل جو آج ٹوٹا ہے...

اسے جوڑنے میں شاید برسوں لگ جائیں۔مگر اس نے دل ہی دل میں ایک عہد کیا۔وہ عنایہ کو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گا۔

چاہے اسے اس کی محبت حاصل ہو یا نہ ہو...

وہ اس کا احترام، اس کا اعتماد اور اس کی مسکراہٹ ضرور واپس لانے کی کوشش کرے گا۔

اور شاید...

محبت کی اصل آزمائش بھی یہی ہوتی ہے۔

*°*°*°*°*°*

ادھر حویلی کے پُرسکون ماحول میں رات اپنی سیاہ چادر پھیلا چکی تھی۔

گھر کے وسیع راہداریوں میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ دیواروں پر لگی مدھم روشنیاں سنسان فضا کو اور بھی خاموش بنا رہی تھیں۔

(حور اپنے کمرے میں بیٹھی تھی)

اس کے سامنے کہانیوں کی ایک کتاب کھلی ہوئی تھی، مگر اس کی توجہ بار بار دروازے کی طرف جا رہی تھی۔

حازم کو گئے کافی وقت گزر چکا تھا۔

جاتے ہوئے اس نے حور کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا،

"شہزادی، اچھے بچوں کی طرح کھانا کھا لینا اور پھر سو جانا۔"

تب حور نے منہ پھلا کر جواب دیا تھا،

"نہیں، مجھے آپ کی کہانی سن کر ہی نیند آتی ہے۔"

(اور حازم مسکرا دیا تھا)

اب وہی بات یاد کر کے حور نے اداس سی نظر دروازے پر ڈالی۔

اسی دوران رامو کاکا دودھ کا گرم گلاس لے کر کمرے میں داخل ہوئے۔

"ارے میری گڑ یا رانی ابھی تک جاگ رہی ہیں؟"

(حور فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی)

"رامو کاکا! بھائی جان ابھی تک نہیں آئے؟"

رامو کاکا نے شفقت سے مسکراتے ہوئے دودھ کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔

"بیٹا، حازم صاحب کے دوست سعد بیٹے کا نکاح ہے آنے میں دیر ہو جائے گی شادیوں میں دیر ہو جایا کرتی ہے میری بچی تم سو جاؤ ۔"

(حور نے ہونٹ سکیڑے)

"مگر انہوں نے مجھے کہانی سنانی تھی۔"

"کہانی تو کل بھی سنی جا سکتی ہے۔"

"نہیں، کل والی کہانی الگ ہوگی۔

آج والی تو آج ہی سننی تھی۔"

(رامو کاکا بے اختیار ہنس پڑے)

"آپ تو بالکل اپنے بھائی جان جیسی ضدی ہیں۔"

(حور نے فوراً گردن اکڑا لی)

"میں ضدی نہیں ہوں۔"

"اچھا جی؟"

"جی ہاں!"

رامو کاکا نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر پیار دیا۔

"چلیں مان لیا۔ اب یہ دودھ پی لیجیے شہزادی ۔"

(حور نے فرمانبرداری سے گلاس تھام لیا)

دودھ پیتے پیتے بھی اس کی باتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔

کبھی اسکول کا کوئی قصہ سناتی، کبھی اپنی سہیلیوں کی باتیں، کبھی حازم کے بچپن کے قصے جو وہ رامو کاکا سے بار بار سنا کرتی تھی۔

رامو کاکا صبر سے اس کی ہر بات سنتے رہے۔

آخرکار جب دودھ ختم ہو گیا تو انہوں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"اب سو جائیے بیٹا۔"

(حور نے معصومیت سے پوچھا)

"اگر بھائی جان آ گئے تو مجھے جگا دیں گے؟"

(رامو کاکا کا دل بھر آیا)

"اگر آپ سو رہی ہوں گی تو وہ خود آ کر آپ کے ماتھے پر بوسہ دیں گے۔"

حور کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ

آ گئی۔

"اچھا... پھر ٹھیک ہے۔"

(رامو کاکا نے کمبل درست کیا اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے)

"اللہ حافظ، گڑ یا رانی۔"

"اللہ حافظ، کاکا۔"

دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں دوبارہ خاموشی اُتر آئی۔

(حور نے کتاب اپنے سینے سے لگا لی)

اس کی نظریں چند لمحے دروازے پر ٹکی رہیں، جیسے ابھی حازم اندر آ جائے گا اور ہمیشہ کی طرح اسے کوئی نئی کہانی سنائے گا۔

مگر انتظار کرتے کرتے اس کی پلکیں بوجھل ہونے لگیں۔

وہ کروٹ بدل کر تکیے سے لگ گئی۔

کتاب اب بھی اس کے ہاتھوں میں تھی۔

چند لمحوں بعد اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور کتاب آہستہ سے بستر پر سرک گئی۔

آنکھیں بند ہوئیں تو آخری خیال بھی اپنے بھائی کا ہی تھا۔

اور پھر وہ معصوم سی بچی انتظار کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلی گئی۔

کمرے کی مدھم روشنی میں اس کا پُرسکون چہرہ دکھائی دے رہا تھا، جبکہ باہر پورا گھر خاموش کھڑا حازم کی واپسی کا منتظر تھا۔

اور رامو کاکا...

اب بھی وقتاً فوقتاً مرکزی دروازے کی جانب دیکھ لیتے تھے۔

شاید انہیں بھی اپنے بیٹے جیسے حازم کے لوٹ آنے کا انتظار تھا۔

*°*°*°*°*°*

رات اپنی خاموش چادر اوڑھے شہر پر اُتر چکی تھی۔

امَل اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں وہی یادیں تیر رہی تھیں جو گزشتہ چند دنوں سے اس کی نیند، اس کا چین اور اس کے خیالوں کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔

(اس نے آہستگی سے اپنا موبائل اٹھایا)

اسکرین روشن ہوئی تو حازم کی تصویر سامنے آ گئی۔

امَل کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔

اس نے انگلیوں سے تصویر کو چھوا، جیسے وہ تصویر نہیں بلکہ خود حازم ہو۔اسے وہ رات لفظ بہ لفظ، لمحہ بہ لمحہ یاد تھی۔کس طرح وہ حازم کو اپنے فلیٹ تک لے کر آئی تھی۔

اس کا غصہ...

اس کی سرخ آنکھیں...

اس کی خاموش نظریں...

اور وہ چند لمحے جو امَل کے لیے پوری زندگی سے زیادہ قیمتی بن گئے تھے۔

حازم شاید ان لمحوں کو یاد بھی نہ کرتا ہو۔ شاید اسے ان کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو۔

مگر امَل کے لیے وہ یادیں کسی خزانے سے کم نہ تھیں۔

کچھ محبتیں وصال نہیں مانگتیں، وہ صرف ایک یاد، ایک احساس اور ایک اُمید کے سہارے برسوں زندہ رہ سکتی ہیں۔وہ انہی یادوں میں گم تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

اگلے ہی لمحے ملازمہ کافی کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئی۔

(امَل چونک گئی)

اس نے فوراً موبائل بند کر کے اپنے قریب رکھ لیا۔

"بی بی جی، کافی..."

(ملازمہ نے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا)

" بیگم صاحبہ آپ کو نیچے بلا رہی ہیں۔"

امَل نے سنے بغیر ہی ہلکا سا سر ہلایا۔

"ہمم... ٹھیک ہے۔"

(ملازمہ چند لمحے کھڑی رہی، پھر خاموشی سے کمرے سے نکل گئی)

دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو امَل نے فوراً دوبارہ موبائل اٹھا لیا۔

اسکرین پر حازم کی تصویر جگمگا رہی تھی۔

اس کے گالوں پر شرمیلی سی سرخی پھیل گئی۔ وہ بستر پر لیٹ گئی بکھرے بال تکیے پر پھیل گئے۔نظریں چھت پر تھیں مگر دل کہیں اور بھٹک رہا تھا۔

اس نے دوبارہ تصویر کو دیکھا۔

پھر موبائل کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

اس کی پلکیں دھیرے دھیرے بند ہونے لگیں۔

لبوں پر مسکراہٹ تھی۔

دل میں ہزاروں خواب تھے۔

اور وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھی کہ جس شخص کی یادوں کے سہارے وہ اپنی راتیں گزار رہی ہے...

وہ اب کسی اور کا ہو چکا تھا۔

حازم کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہو چکا تھا۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھی.  امَل اپنی یکطرفہ محبت کے حسین فریب میں جی رہی تھی۔

ایک ایسی محبت...

جو جواب نہیں مانگتی تھی،صرف یادوں کے چراغ جلا کر دل کے ویران کمروں کو روشن رکھتی تھی۔

*°*°*°*°*°*

ہال کے باہر رخصتی کا منظر اپنی تمام تر اُداسی کے ساتھ بکھرا ہوا تھا۔ روشنیوں سے جگمگاتی عمارت کے سامنے گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں جبکہ ہر آنکھ نم اور ہر دل بوجھل تھا۔

عنایہ سرخ جوڑے میں ملبوس خاموش کھڑی تھی۔ چند گھنٹوں پہلے تک وہ رضا کی دلہن بننے والی تھی، مگر قسمت نے ایک ہی پل میں سب کچھ بدل دیا تھا۔ آج وہ حازم کی زوجہ تھی۔ اتنی بڑی تبدیلی کو قبول کرنا اس کے لیے آسان نہیں تھا۔

(سعد، حازم کے قریب کھڑا دھیمے لہجے میں بولا)

"حازم... میری سالی نہیں، یہ میری بہن جیسی ہے۔ آج میں نے تمہیں اپنا بہنوئی بنایا ہے۔ میری ایک گزارش ہے... اس کا بہت خیال رکھنا۔"

(حازم نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا)

"فکر مت کرو، سعد۔"

ساحل بھی وہیں موجود تھا، خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

ادھر رابعہ بیگم اپنی بیٹی کے پاس آئیں۔ عنایہ کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہیں۔ پھر نم آنکھوں کے ساتھ حازم کی طرف متوجہ ہوئیں۔

"بیٹا... میری بچی بہت نازوں سے پلی ہے۔ اس کا بہت خیال رکھنا۔"

نیہا بہن کو ملی وہ اپنے نم آنکھوں کو چھپانے کی ناکام کوشش میں لگی تھی.

(حازم نے احترام سے سر جھکا لیا)

"آپ بے فکر رہیں، آنٹی۔ جب تک میری سانس باقی ہے، عنایہ کو کسی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پرے گا۔"

رابعہ بیگم کی آنکھیں مزید بھر آئیں۔

اسی دوران رضا کے والد فاضل صاحب دھیرے دھیرے چلتے ہوئے عنایہ کے پاس آئے۔ شرمندگی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ انہوں نے کانپتے ہاتھ سے عنایہ کے سر پر شفقت رکھی۔

"بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ رضا شادی والے دن ایسا قدم اٹھائے گا۔ میری بچی... تمہارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔"

یہ سنتے ہی عنایہ کی پلکوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر رخسار پر بہہ گیا۔ جو اب اسکا مقدر بن چکا تھا.

حازم نے وہ منظر دیکھا تو اس کے دل میں عجیب سی کسک اٹھی۔

وہ اس کی بیوی تھی...

اس کے نام سے منسلک ہو چکی تھی...

مگر پھر بھی وہ اس کو چھو نہیں سکتا تھا، اس کے آنسو پونچھ نہیں سکتا تھا۔ عنایہ اور اس کے درمیان ایک ایسا فاصلہ موجود تھا جسے وقت کے سوا کوئی تور نہیں سکتا تھا۔

آخرکار رخصتی کا وقت آ گیا۔

عنایہ نے لرزتے قدموں کے ساتھ سب سے الوداعی ملاقات کی اور حازم کی سیاہ رنگ کی بڑی گاڑی کی پچھلی نشست پر جا بیٹھی۔

حازم ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔

راستے بھر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔

عنایہ کھڑکی کے پار اندھیری سڑکوں کو بے معنی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سوچیں منتشر تھیں، دل زخمی تھا اور قسمت پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

حازم وقفے وقفے سے نظریں چرا کر گاڑی کے شیشے سے اسے دیکھ لیتا۔

عروسی جوڑے میں ملبوس وہ غیر معمولی حد تک حسین لگ رہی تھی، مگر اس کے چہرے کی اداسی اس حسن پر ایک درد بھرا پردہ ڈال رہی تھی۔کچھ دیر بعد حازم نے اشارے کے قریب گاڑی روک دی۔

وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا، پھر (دھیمے لہجے میں بولا،)

"آپ ٹھیک ہیں؟"

(عنایہ نے کوئی جواب نہ دیا)

اسی لمحے اس کی آنکھ سے ایک اور آنسو نکلا اور اس کے ہاتھ کی پشت پر آ گرا۔حازم کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔وہ فوراً گاڑی سے اترا اور قریب موجود دکان کی طرف چلا گیا۔چند منٹ بعد واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں جوس کی بوتل تھی۔

اس نے بوتل عنایہ کی طرف بڑھائی۔

"یہ پی لیجیے... شاید طبیعت کچھ بہتر محسوس ہو۔"

عنایہ نے ایک لمحہ بوتل کو دیکھا، پھر نظریں موڑ لیں۔

"مجھے نہیں پینا۔"

اس کی آواز میں ایسی تھکن اور شکستگی تھی کہ حازم کچھ کہہ نہ سکا۔اس نے خاموشی سے بوتل ایک طرف رکھ دی۔پھر گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی اور سڑک پر ڈال دی۔ گاڑی اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی۔ ایک طرف عنایہ تھی، جو اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کا ماتم کر رہی تھی۔

اور دوسری طرف حازم تھا، جو خاموشی سے اپنی نئی نویلی دلہن کے ہر آنسو کو محسوس کر رہا تھا، مگر ابھی اس کے درد میں شریک ہونے کا حق حاصل نہیں کر سکا تھا۔

رات کی تاریکی میں گاڑی آگے بڑھ رہی تھی، اور اس کے ساتھ دو زندگیاں بھی ایک ایسے سفر پر روانہ ہو چکی تھیں جس کا انجام دونوں کے لیے ابھی نامعلوم تھا۔

*°*°*°*°*°*

عنایہ کی رخصتی کے بعد گھر جیسے یکدم ویران ہو گیا تھا۔

زہرا بھی واپس اپنے پاکستان والےگھر

میں آ چکی تھی۔ رات کافی گزر چکی تھی۔ کمرے میں ہلکی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ایک ایک کر کے اپنی جیولری اُتار رہی تھی۔ کانوں سے جھمکے اُتارتے ہوئے اچانک اس کی نظریں آئینے میں اپنے عکس پر جم گئیں۔

بستر پر ساحل ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور خاموشی سے آئینے میں نظر آنے والی زہرا کو دیکھ رہا تھا۔

(چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زہرا نے دھیمی آواز میں کہا)

"ساحل... عنایہ کے ساتھ بہت بُرا ہوا۔"

ساحل کی نظریں نرم پڑ گئیں۔

"اُس نے کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا۔ ہمیشہ سب کے لیے اچھا سوچا، لیکن آج... ایک ہی لمحے میں اس کی پوری زندگی بدل گئی۔"

(زہرا کی آواز بھر آئی تھی)

"میں جب اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی تو دل ٹوٹ رہا تھا۔"

(ساحل نے گہرا سانس لیا اور نرمی سے بولا،)

"جو ہونا تھا، ہو گیا زہرا۔ اب ماضی کو بدل تو نہیں سکتے۔"

(وہ چند لمحے رُکا پھر بولا)

"اور ویسے بھی... حازم بہت اچھا لڑکا ہے۔"

(زہرا نے آئینے میں سے اس کی طرف دیکھا)

"واقعی؟"

"ہاں۔" ساحل ہلکا سا مسکرایا۔ "

میں اسے جانتا تو نہیں ہوں لیکن اس میں کچھ تو خاص ہے عنایہ کو ضرور نظر آۓ گا سعد کا دوست ہے کچھ سوچ کے ہی فیصلہ کیا ہو گا سب نے تم پریشان مت ہو۔

(اس کی آواز میں یقین تھا)

"اگر رضا اچھا انسان ہوتا تو شادی والے دن عنایہ کو چھوڑ کر نہ جاتا۔ لیکن حازم... وہ عنایہ کا خیال رکھے گا۔ مجھے پورا یقین ہے۔"

(زہرا کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا)

"اللہ کرے ایسا ہی ہو۔"

"ہو گا۔"

(ساحل نے اطمینان سے کہا)

"عنایہ ان شاء اللہ خوش رہے گی۔"

(زہرا نے خاموشی سے سر ہلا دیا)

کمرے میں چند لمحوں کے لیے سکون چھا گیا۔

پھر اچانک ساحل کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں اور اس کے لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ ابھری۔

"ویسے ایک بات کہوں؟"

زہرا نے بھنویں اٹھائیں۔

"کیا؟"

"آج تم بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔"

زہرا کا ہاتھ وہیں رُک گیا۔

"ساحل..."

"سچ کہہ رہا ہوں۔" وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ "ساری تقریب میں میری نظریں بار بار تم پر جا کر رُک جاتی تھی۔"

زہرا کے گالوں پر ہلکی سی سُرخی پھیل گئی۔

"آپ بھی نا... ساحل"

(وہ مڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگی)

ساحل نے جان بوجھ کر مزید چھیڑا۔

"ارے! میں نے کون سی غلط بات کہہ دی؟ اپنی بیوی کی تعریف ہی تو کر رہا ہوں۔"

(زہرا شرم سے نظریں جھکا گئی)

"بس... اب رہنے دیں۔"

یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے نکلنے لگی۔

(ساحل فوراً سیدھا ہو کر بولا)

"ارے ارے! کہاں جا رہی ہو؟ ابھی تو بات مکمل نہیں ہوئی۔"

مگر زہرا تب تک دروازے تک پہنچ چکی تھی۔جاتے جاتے اس نے پلٹ کر ایک نظر ساحل کو دیکھا اور ہونٹوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ لیے باہر نکل گئی۔

دروازہ بند ہوا تو ساحل بے اختیار مسکرا اٹھا۔

کمرے میں اب خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں محبت کی ایک دلکش مٹھاس گھلی ہوئی تھی۔

*°*°*°*°*°*

چند ہی دیر بعد گاڑی ایک شاندار اور وسیع و عریض گھر کے سامنے آ کر رُکی۔

رات کی روشنی میں سفید رنگ کی عالیشان عمارت اور بھی دلکش لگ رہی تھی۔ پورا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا جبکہ بلند و بالا گیٹ اس کی شان میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔

حازم نے ہارن بجایا۔

چند لمحوں بعد ایک گارڈ تیزی سے چلتا ہوا آیا اور احترام سے گیٹ کھول دیا۔

سیاہ رنگ کی گاڑی آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئی اور گھر کے مرکزی حصے کے سامنے جا کر رُک گئی۔

گارڈ فوراً آگے بڑھا اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔

حازم گاڑی سے باہر نکلا۔ اس نے ایک ہاتھ سے اپنے کوٹ کی سلوٹیں درست کیں اور گہرا سانس لیا۔

پھر وہ گاڑی کی دوسری جانب بڑھا۔

دروازہ کھولتے ہی اس کی نظریں اندر بیٹھی عنایہ پر جا ٹھہریں۔

عنایہ ابھی بھی خاموش اور گم صم بیٹھی تھی، جیسے اردگرد کی دنیا سے بے خبر ہو۔

(حازم نے نرم لہجے میں اسے پکارا)

"عنایہ..."

عنایہ نے آہستہ سے سر اٹھایا اور ایک نظر حازم کو دیکھا۔

بس ایک لمحہ...

اور حازم کو یوں محسوس ہوا جیسے وقت اپنی رفتار بھول گیا ہو۔

وہ بے حد حسین لگ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں چھپی اداسی اس حسن کو اور بھی دل گداز بنا رہی تھی۔

حازم نے فوراً اپنی نظریں سنبھالیں۔

وہ جانتا تھا کہ اس وقت عنایہ کس کرب سے گزر رہی ہے۔

"آئیے..."

(اس نے دھیرے سے کہا)

عنایہ نے خاموشی سے سر ہلایا اور بھاری لہنگا سنبھالتے ہوئے گاڑی سے باہر اتر آئی۔

حازم اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

مگر ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ عنایہ کی نگاہوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔

اس کا سر بُری طرح چکرایا۔

اس کے قدم لڑکھڑائے اور وہ زمین پر گرنے لگی۔

"عنایہ!"

(حازم چونک کر آگے بڑھا)

اس نے فوراً اپنے مضبوط بازوؤں میں اسے تھام لیا۔ مگر تب تک عنایہ بے ہوش ہو چکی تھی۔

(حازم کے چہرے کا رنگ بدل گیا)

"عنایہ... آنکھیں کھولیے۔"

اس نے پریشانی سے اس کے رخسار تھپتھپائے۔

"عنایہ، میری بات سنیے..."

(مگر کوئی جواب نہ ملا)

اس کے چہرے پر غیر معمولی زردی پھیلی ہوئی تھی۔

اس بھول رات میں ذہنی دباؤ، رونا، بھوک اور مسلسل تھکن شاید اب اس کے جسم سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔

حازم نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔

اس نے احتیاط سے عنایہ کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔

بھاری عروسی لباس کے باوجود اس نے اسے اس طرح سنبھالا جیسے کوئی قیمتی امانت ہو۔

کمرے کی جانب بڑھتے ہوئے وہ مسلسل اسے آواز دیتا جا رہا تھا۔

"عنایہ... آنکھیں کھولیے۔"

اس کی آواز میں بے چینی نمایاں تھی۔

"کیا ہوا ہے آپ کو؟"

عنایہ کی پلکیں ہلکی سی جنبش کرتی تھیں مگر دوبارہ بند ہو جاتیں۔

حازم کا دل انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے قدم تیز کیے اور عنایہ کو اٹھائے سیدھا کمرے کے اندر داخل ہو گیا۔ اس وقت اسے نہ گھر کی سجاوٹ یاد تھی، نہ لوگوں کی موجودگی کا احساس۔یہ سب حادثاتی توڑ پر ہوا تھا.

اس کی تمام تر توجہ صرف اپنی بے ہوش دلہن پر مرکوز تھی، جو اس کی بانہوں میں بے حس و حرکت پڑی تھی۔

رامو کاکا نے حازم کو اندر آتے دیکھا تھا لیکن وہ لڑکی کون تھی جو دلہن کے لباس میں حازم کی گرفت میں تھی یہ ایک بہت بڑا سوال تھا جس کے جواب سے بے خبر تھے. رامو کاکا حازم کو پریشان دیکھ کر تیزی سے کمرے کی جانب بڑھ دیے.

*°*°*°*°*°*

ادھر عنایہ کی رخصتی کو کچھ ہی دیر گزری تھی، مگر گھر کی فضا اب بھی سوگوار محسوس ہو رہی تھی۔

ہر طرف ایک عجیب خاموشی پھیلی ہوئی تھی، ایسی خاموشی جس میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔

نیہا چند لمحے پہلے سعد سے بات کر کے اپنی والدہ کے کمرے میں آئی تھی۔ سعد نے اسے بار بار یقین دلایا تھا کہ حازم ایک بہترین انسان ہے، ذمہ دار ہے اور عنایہ کو کبھی تکلیف نہیں دے گا۔

مگر دل کے زخم یقین سے نہیں، وقت سے بھرتے ہیں۔

رابعہ بیگم بستر پر نیم دراز تھیں۔ شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا اور دوا لینے کے بعد اب وہ کچھ بہتر محسوس کر رہی تھیں۔

نیہا ان کے سرہانے بیٹھی تھی جبکہ علی بھی قریب ہی موجود تھا۔

رابعہ بیگم کی آنکھیں مسلسل نم تھیں۔

وہ کبھی چھت کو دیکھتیں اور کبھی دروازے کی طرف، جیسے ابھی عنایہ اندر آ جائے گی۔

(اچانک ان کے لب لرزے)

"میری بچی کے ساتھ یہ کیا ہو گیا، نیہا؟"

(ان کی آواز ٹوٹ گئی)

"میں نے تو اس کی خوشیوں کے کتنے خواب دیکھے تھے۔"

نیہا نے فوراً ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

"امی... اللہ کی رضا میں راضی رہیں۔"

"کیسے راضی رہوں؟" رابعہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "صبح تک سب کچھ ٹھیک تھا۔ میری بیٹی دلہن بنی بیٹھی تھی۔ ہر طرف خوشیاں تھیں۔ پھر ایک لمحے میں سب کچھ بکھر گیا۔"

(ان کی سسکی نکل گئی)

"میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ رضا ایسا کرے گا۔"

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ علی نے بھی نم آنکھوں سے نظریں جھکا لیں۔

(رابعہ بیگم پھر بولیں)

"عنایہ نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔ ہمیشہ سب کے لیے اچھا سوچا، سب کا خیال رکھا۔ پھر اس کے نصیب میں اتنا بڑا امتحان کیوں آیا؟"

نیہا کا اپنا دل بھی رو رہا تھا، مگر وہ اپنی ماں کے سامنے مضبوط بنی ہوئی تھی۔

(اس نے ان کے آنسو صاف کیے)

"امی... عنایہ باجی اکیلی نہیں ہے۔ ہم سب اس کے ساتھ ہیں۔"

"مگر اس کا دل؟" رابعہ بیگم نے درد بھرے لہجے میں کہا۔ "اس کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی؟"

(نیہا کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں)

"مجھے معلوم ہے امی... لیکن حازم بھائی بہت اچھے انسان ہیں۔"

رابعہ بیگم خاموشی سے اسے دیکھنے لگیں۔

(نیہا نے دھیرے سے کہا)

"ہم پہلے بھی ان سے مل چکے ہیں۔ وہ باوقار ہیں، سمجھدار ہیں اور عنایہ باجی کی عزت کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے وہ کبھی عنایہ باجی کو تنہا محسوس نہیں ہونے دیں گے۔"

(رابعہ بیگم نے ایک گہری سانس لی، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا)

"بیٹی... ماں کا دل ہے۔"

(ان کی آواز لرز گئی)

"جب اولاد کو تکلیف پہنچتی ہے تو ماں کا سینہ بھی چھلنی ہو جاتا ہے۔"

(نیہا فوراً جھک کر ان کے گلے لگ گئی)

"امی، ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

(رابعہ بیگم نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا)

"مجھے اپنی بچی کی فکر کھائے جا رہی ہے۔" "وہ خوش رہے گی، امی۔" نیہا نے نم لہجے میں کہا۔ "اللہ نے اگر ایک دروازہ بند کیا ہے تو یقیناً اس سے بہتر دروازہ کھولا بھی ہو گا۔"

رابعہ بیگم کی پلکوں سے ایک اور آنسو ڈھلک گیا۔

"بس یہی دعا ہے... میری عنایہ کو کبھی کسی دکھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔

علی کا دل تڑپ رہا تھا.

ماں اور بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگے بیٹھے تھے۔

ایک کے دل میں بیٹی کی جدائی کا درد تھا اور دوسری کے دل میں ماں کے ٹوٹتے حوصلے کو سنبھالنے کی فکر۔

مگر تینوں کی دعائیں ایک ہی شخص کے لیے تھیں...

عنایہ کے لیے۔

جاری ہے........

Let syeda hasba know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Milky Treasures on a Healing Love

Booklover_rdx: A different but good story. Basically a love story with a twist- i enjoyed every word of it

Read Now
The Easter Bunny

Lynne: Beautiful short story with a happy ending.luved it.

Read Now
The Grumpy Next Door

Jane: A lovely story with good characters.

Read Now
Claimed By The Wrong Prince

Sasha: What a beautiful story, he was the perfect prince

Read Now
Bear Roberts

Gabby: I’m working with **Lorey**, a platform that turns novel characters and scenes into interactive experiences readers can play.We can help you:- Turn your story into character profiles- Preserve each character’s voice and relationships- Create an interactive scene for you to reviewYour story won’t be ...

Read Now
Beyond the Ice Wall

LovetoreadStephanie: I am actually really impressed by this book. How a conspiracy theory can be made in an original, heartwarming and dreamy romance! I am so happy it's a series! I can't stop imagining the world and how I wished it was true 😍

Read Now
The Alpha's Exiled Mate

Mokatoka: Say what????? God! Is it over???

Read Now
Ruthless Lord

gdmee04: Great story line well written

Read Now
PARIS IN THE DARK

Sasha: Love this kind of romantic stories, very good one.

Read Now