ذہنی قید (ازقلم سیدہ حسباء بخاری) by syeda hasba at Inkitt
Customize readability
Aa

ذہنی قید (ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

All Rights Reserved ©

Summary

کیا بچپن کے سائے کبھی پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کچھ یادیں جوانی کی دہلیز تک زہر بن کر ساتھ آتی ہیں، اور جب سوشل میڈیا کی چکا چوند ان اندھیروں سے ملتی ہے، تو انجام ہولناک ہوتا ہے۔یہ کہانی ہے ایک خوبرو نوجوان اور ایک حسین دوشیزہ اور چند ایسے راز جو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ۔۔۔"

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Chapter 18

قسط نمبر 18

(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

عنایہ نے جھجکتے ہوئے اپنے ننھے ننھے قدم اٹھائے اور حازم کے ساتھ کمرے سے باہر آ گئی۔ حازم کے لمبے قد کے پیچھے وہ یوں چھپی ہوئی تھی جیسے کسی محفوظ سائے میں پناہ لیے کھڑی ہو۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ، حیرت اور خاموشی ایک ساتھ سمٹ آئی تھیں۔

جیسے ہی وہ حازم کے عقب سے نکل کر سامنے آئی، حور کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں۔ وہ کافی دیر سے بےچینی کے عالم میں کبھی ادھر چلتی، کبھی اُدھر، دونوں کا انتظار کر رہی تھی۔ عنایہ کو دیکھتے ہی اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھر گئی۔

حازم نے نرم لہجے میں دونوں کا تعارف کروایا۔

"حور! یہ عنایہ ہیں... میری اہلیہ۔ تم ان سے پہلے بھی مل چکی ہو، مگر آج میں چاہتا ہوں کہ تم انہیں اس گھر کا حصہ سمجھ کر اپناؤ۔"

پھر حازم نے عنایہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا،

"اور عنایہ، یہ میری چھوٹی بہن حور ہے۔ میری جان ہے۔"

حازم نے محبت سے حور کے سر پر ہاتھ رکھا۔

"حور، آج سے عنایہ تمہاری بھابھی ہیں۔ ان کا بہت خیال رکھنا۔ یہ اب ہمارے گھر اور ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔"

حور نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔ اگلے ہی لمحے وہ چند قدم آگے بڑھی اور خلوص سے عنایہ کے قریب آ کھڑی ہوئی۔

"السلام علیکم، بھابھی۔"

(حُور بولی)

عنایہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ اسکی مسکراہٹ کے پچھے ایک تلخ حقیقت چھپی تھی.

"وعلیکم السلام۔"گڑ یا

حور نے بے اختیار آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ اس معصوم سی محبت میں کوئی بناوٹ نہ تھی۔ عنایہ کے دل پر چھائی ہوئی اجنبیت کی دھند جیسے لمحہ بھر کو ہلکی پڑ گئی۔ اس نے بھی دھیرے سے حور کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔

ابھی دونوں کے درمیان ہلکی پھلکی گفتگو جاری ہی تھی کہ مرکزی دروازہ کھلنے کی آواز گونجی۔

سب کی نظریں ایک ساتھ دروازے کی جانب اٹھیں۔

سعد، نیہا اور رامو کاکا اندر داخل ہوئے۔ رامو کاکا کے ہاتھوں میں ناشتے کے بڑے بڑے تھیلے تھے، جن سے تازہ پراٹھوں اور لزیز کھانوں کی خوشبو پورے گھر میں پھیلنے لگی۔

(سعد نے مسکراتے ہوئے کہا)

"رامو کاکا، ناشتے کی تمام چیزیں میز پر سجا دیجیے۔"

"جی بیٹا۔"

رامو کاکا ادب سے جواب دے کر کھانے کی میز کی طرف بڑھ گئے اور ایک ایک کر کے تمام برتن ترتیب سے رکھنے لگے۔

ادھر عنایہ کی نظر جیسے ہی نیہا پر پڑی، اس کی آنکھوں میں برسوں کی اپنائیت جھلک اٹھی۔ وہ بےاختیار اس کی طرف بڑھی اور اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا۔

نیہا نے بھی محبت سے اس کی پشت تھپتھپائی۔

"کیسی ہیں آپی؟"

عنایہ نے مدھم آواز میں صرف اتنا کہا،

"ٹھیک ہوں..."

مگر اس کی آواز میں چھپی گھبراہٹ نیہا سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔

دوسری جانب حازم آگے بڑھا اور سعد سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔

"آنے کا شکریہ۔ لیکن اس سب کی کیا ضرورت تھی"

(حازم ناشتے کی طرف اشارہ کر تے ہوۓ بولا)

سعد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"شکریہ کیسا؟ اپنے ہی گھر آئے ہیں۔"

اور ہاں یہ سب تو رسم کا حصہ ہے نا؟

(سعد مسکرایا)

(حازم نے ہاں میں سر ہلایا)

عنایہ خاموش کھڑی دونوں کو دیکھتی رہی۔ ابھی تک اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک دن پہلے تک اس کی زندگی ایک معمول کے مطابق چل رہی تھی اور اب وہ اچانک ایک نئے رشتے، نئے گھر اور نئے لوگوں کے درمیان کھڑی تھی۔

یہ نکاح، یہ گھر، یہ نئے رشتے... سب کچھ اس کے لیے کسی خواب کی مانند تھا، ایسا خواب جس کی تعبیر کو وہ ابھی تک سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ دل بار بار سوال کرتا کہ یہ سب اتنی اچانک کیسے ہو گیا، مگر ہر سوال خاموشی کی دبیز چادر اوڑھ لیتا۔

(حازم نے ماحول کا بوجھ محسوس کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا)

"آئیے، سب لوگ ناشتے کی میز پر چلتے ہیں۔"

سب خاموشی سے کھانے کی میز کی طرف بڑھ گئے۔ حور عنایہ کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی، جیسے اسے ایک لمحے کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑنا چاہتی ہو۔

حازم نے آگے بھر کر عنایہ کی کرسی کو  عنایہ کے بیٹھنے کے لیے پیچھے کی طرف کھینچا تاکہ عنایہ کو اپنائیت کا احساس دلا سکے. حازم عنایہ کا ہر طرح سے خیال رکھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا.

نیہا بھی محبت بھری نگاہوں سے عنایہ کو دیکھتی رہی، جبکہ سعد خاموشی سے پورے منظر کا جائزہ لے رہا تھا۔

ناشتے کی میز پر سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ گرم چائے کی بھاپ فضا میں گھل رہی تھی، مگر ہر شخص کے دل میں اپنے اپنے خیالات کی ایک الگ دنیا آباد تھی۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، کسی کی آنکھوں میں تشویش، اور کسی کے دل میں نئے رشتوں کو قبول کرنے کی خاموش دعا۔

*°*°*°*°*°*°*

کمرے کی فضا پر اداسی کی دبیز چادر تنی ہوئی تھی۔ کھڑکی سے چھن کر آنے والی مدھم روشنی بھی جیسے اس کمرے کے غم میں شریک ہو گئی تھی۔ بستر پر نیم دراز ضعیفہ کی سانسیں بے ترتیب تھیں اور ان کے ہونٹ مسلسل کچھ بے ربط الفاظ دہرا رہے تھے۔

"نہیں... اسے لے کر مت جاؤ... میری بچی..."

ان کی کپکپاتی آواز سن کر علیزے کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔

وہ ضبط کے ساتھ چمچ میں نوالہ بھر کر ان کے لبوں تک لائی۔

"امی جان... بس ایک لقمہ اور۔ میری خاطر۔"

ضعیف ہاتھ لرزتے ہوئے اس کے ہاتھ پر آ ٹکے۔ علیزے نے وہ ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیوں میں سمیٹ لیے، جیسے یوں وہ انہیں ہر دکھ سے بچا لے گی۔

(اس کی آنکھیں نم تھیں مگر وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی)

"آپ فکر نہ کریں... میں آپ کا بہترین علاج کرواؤں گی۔ آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔ پھر ہم پہلے کی طرح ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں گے... آپ مجھے ڈانٹیں گی بھی... مگر یوں خاموش نہیں رہیں گی۔"

یہ کہتے کہتے اس کی آواز بھرا گئی۔

اس نے پانی کے ساتھ دوا ان کے لبوں سے لگائی۔

"یہ دوا لے لیجیے... اس سے آپ کو سکون ملے گا۔"

بزرگ خاتون نے بڑی مشکل سے دوا نگلی۔ علیزے نے محبت سے ان کی پیشانی چومی، لحاف درست کیا اور چند لمحے انہیں بے بسی سے دیکھتی رہی۔ پھر کانپتے قدموں سے کمرے سے باہر

آ گئی۔

دروازہ بند ہوتے ہی اس کا ضبط بھی ٹوٹنے لگا۔

اس نے لرزتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا اور زیشان کا نمبر ملا دیا۔

پہلی ہی گھنٹی پر دوسری جانب سے کال وصول کر لی گئی۔

"السلام علیکم، علیزے؟"

زیشان کی پُرسکون آواز سنتے ہی علیزے نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔

"ز... زیشان... کیا آپ... ابھی گھر آ سکتے ہیں؟ امی جان کی طبیعت... بہت خراب ہے۔"

اس کی آواز میں چھپی کپکپاہٹ ہر لفظ کے ساتھ واضح ہوتی جا رہی تھی۔

دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی چھائی، پھر زیشان کی مضبوط مگر نرم آواز ابھری۔

"علیزے... میری بات غور سے سنو۔ گھبرانا نہیں۔ میں ابھی نکل رہا ہوں، چند ہی لمحوں میں تمہارے پاس ہوں گا۔ تم اکیلی نہیں ہو۔ جب تک میں پہنچتا ہوں، امی جان کے پاس رہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔"

زیشان کے تسلی بھرے لہجے نے جیسے اس کے بکھرتے حوصلے کو سہارا دے دیا، مگر آنکھوں میں ٹھہرے آنسو اب مزید قید نہ رہ سکے۔

"جی..."

بس یہی ایک لفظ ادا کر سکی۔

فون بند ہوتے ہی اس کے ہاتھوں سے موبائل ڈھیلا ہو کر گود میں آ گرا۔

وہ آہستہ آہستہ دیوار کے سہارے زمین پر بیٹھ گئی۔

اگلے ہی لمحے اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔

وہ بچوں کی طرح سسک سسک کر رونے لگی۔

اس دنیا میں اس کے لیے اگر کوئی اپنی جان سے بڑھ کر تھا تو وہ یہی بوڑھی عورت تھی۔

اسے اپنے ماں باپ کا چہرہ تک یاد نہ تھا۔

وہ کبھی ان سے ملی ہی نہیں تھی، نہ ہی ان کے بارے میں کچھ جانتی تھی۔

جس عورت نے اپنی مامتا کی چادر میں اسے سمیٹا، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، بیمار راتوں میں اس کے سرہانے جاگی، اس کے ہر آنسو کو اپنی دعا میں چھپا لیا... علیزے کے لیے وہی اس کی ماں تھی، وہی اس کی دنیا تھی، وہی اس کی کل کائنات تھی۔

آج پہلی بار اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اگر یہ سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا تو وہ زندگی کے ہجوم میں بالکل تنہا رہ جائے گی۔

اس نے بھیگی پلکیں بند کیں اور لرزتے لبوں سے بس ایک ہی دعا نکلی۔

"یا اللہ... میری امی جان کو مجھ سے جدا نہ کرنا... میرے پاس ان کے سوا کوئی نہیں...

*°*°*°*°*°*°*

ناشتے سے فارغ ہو کر حازم اور سعد لان کی نرم، شبنم آلود گھاس پر آہستہ آہستہ چہل قدمی کر رہے تھے۔ صبح کی خوشگوار ہوا درختوں کی شاخوں کو ہولے ہولے جنبش دے رہی تھی، مگر ان دونوں کے دلوں میں چلنے والی بے چینی کسی خزاں سے کم نہ تھی۔

(چند لمحے خاموشی میں گزرے، پھر حازم نے اپنی نظریں سامنے پھیلے سبزہ زار پر جمائے دھیمے لہجے میں کہا)

"سعد... کل رات جو کچھ ہوا... اس کے بعد سے میں مسلسل یہی سوچ رہا ہوں۔"

سعد نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔

(حازم نے ایک گہرا سانس لیا)

"عنایہ کی پوری زندگی ایک ہی لمحے میں بدل گئی۔ جس لڑکی نے اپنے مستقبل کے لیے کچھ اور خواب سجا رکھے ہوں، وہ اتنا بڑا سانحہ آخر اتنی جلدی کیسے بھلا سکتی ہے؟"

اس کی آواز میں ہمدردی بھی تھی اور ایک انجانی سی کسک بھی۔

"میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں کہ وہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھے، خود کو اجنبی محسوس نہ کرے... مگر یہ سب جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اتنا آسان نہیں۔"

وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں اداسی صاف جھلک رہی تھی۔

"عنایہ بہت اچھی لڑکی ہے... اور اب میری بیوی بھی۔ میں اسے وقت دوں گا، اس کے ہر خوف کو سمجھوں گا۔ مجھے یقین ہے، ایک دن وہ دل سے مجھے اپنا لے گی۔"

یہ کہتے ہوئے حازم خود چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔

اسے آج بھی کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سب کسی اور کی زندگی میں ہو رہا ہو۔

وہ شخص جس نے کبھی شادی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تک نہ تھا... آج کسی کا شوہر تھا، کسی کی ذمہ داری اس کے نام لکھی جا چکی تھی۔ تقدیر نے ایک ہی رات میں اس کی زندگی کا رخ اس طرح موڑا تھا کہ وہ خود بھی ابھی تک اس تبدیلی کو پوری طرح سمجھ نہ سکا تھا۔

اپنے ہی خیالوں میں گم چلتے چلتے وہ اچانک رکا۔

اس نے سعد کی طرف رخ کیا۔

"اچھا یہ بتاؤ... آنٹی کیسی ہیں؟ عنایہ سے ملنے بھی نہیں آئیں۔"

سعد کے چہرے کی رنگت یکایک بدل گئی۔

اس نے نظریں چرا لیں۔

"کل رات سے ان کی طبیعت کافی خراب ہے۔ ڈاکٹر کو بھی دکھایا ہے۔"

حازم کی پیشانی پر فکر کی شکن ابھری۔

"کیا؟ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟"

(سعد نے دھیمے لہجے میں جواب دیا)

"عنایہ کو بھی کچھ معلوم نہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ اس وقت مزید پریشان ہو۔ ابھی تو وہ خود بہت کچھ سہنے کی کوشش کر رہی ہے... اس لیے پلیز، اس کے سامنے اس بات کا ذکر مت کرنا۔"

(حازم نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا)

اس کی آنکھوں میں تشویش صاف دکھائی دے رہی تھی۔

"اللہ انہیں صحت دے۔ اور سنو..."

اس نے نہایت خلوص سے اپنا دایاں ہاتھ سینے پر رکھا۔

"اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو، بلا جھجھک مجھے بتانا۔ میں ہر وقت حاضر ہوں۔ آج ہی آنٹی کی عیادت کے لیے آؤں گا۔ وہ صرف عنایہ کی والدہ نہیں، میری بھی بڑی ہیں۔"

سعد نے چند لمحے خاموشی سے حازم کو دیکھا۔

اس کے دل پر عجیب سا سکون اتر آیا۔

وہ جانتا تھا، حازم کے یہ الفاظ محض رسمی تسلی نہیں تھے، بلکہ اس کے دل کی آواز تھے۔

بے اختیار اس نے آگے بڑھ کر حازم کو مضبوطی سے گلے لگا لیا۔

"شکریہ، دوست..."

(سعد کی آواز بھرا گئی)

"مجھے یقین ہے، اللہ سب بہتر کرے گا۔ عنایہ بھی ایک دن سب کچھ سمجھ جائے گی۔ وہ تمہارے خلوص، تمہاری عزت اور تمہاری محبت کو ضرور محسوس کرے گی۔ بس اسے تھوڑا وقت چاہیے۔"

حازم نے بھی اس کی پشت پر ہلکی سی تھپکی دی۔

"میں اس سے کسی جلدی کی توقع نہیں رکھتا، سعد۔ کچھ رشتے زبردستی نہیں، صرف اخلاص اور صبر سے دلوں میں جگہ بناتے ہیں... اور میں انتظار کرنا جانتا ہوں۔"

صبح کی نرم ہوا ایک بار پھر دونوں کے وجود سے ٹکرائی۔

دونوں خاموش تھے، مگر اس خاموشی میں امید کی ایک مدھم سی کرن ضرور موجود تھی، جیسے آنے والا وقت ان کے بکھرے ہوئے رشتوں کو آہستہ آہستہ پھر سے جوڑ دے گا۔

*°*°*°*°*°*°*

کمرے میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

عنایہ نیہا کے گلے سے لگی اس طرح رو رہی تھی جیسے اس کے دل میں برسوں کا جمع درد آنسو بن کر بہہ نکلا ہو۔ اس کی سسکیاں نیہا کے دل کو بھی زخمی کر رہی تھیں، مگر وہ خود کو مضبوط کیے ہوئے تھی۔

اس نے محبت سے عنایہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور نہایت نرمی سے بولی،

"بس کر دیں، عنایہ آپی... اتنا مت روں۔"

عنایہ کی ہچکیاں مزید تیز ہو گئیں۔

"رضا... مجھے برباد کر کے چلا گیا، نیہا۔ میری پوری زندگی ختم ہو گئی..."

(یہ کہتے ہی اس کی آواز ٹوٹ گئی)

نیہا نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور اس کی بھیگی پلکوں سے آنسو صاف کیے۔

"نہیں، آپی۔ آپ کی زندگی ختم نہیں ہوئی۔ اگر وہ واقعی آپ سے محبت کرتا، اگر وہ اچھا انسان ہوتا، تو شادی کے دن آپ کو اس طرح بے آسرا چھوڑ کر کبھی نہ جاتا۔ جو شخص مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دے، وہ محبت کے نام کا بھی حق دار نہیں ہوتا۔"

عنایہ خاموشی سے سنتی رہی۔

نیہا نے ایک گہرا سانس لیا۔

"اور حازم بھائی..."

اس کے لہجے میں بے اختیار احترام اتر آیا۔

"وہ بہت اچھے انسان ہیں، عنایہ باجی۔ انہوں نے کبھی شادی کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا، مگر صرف ایک خاندان کی عزت بچانے کے لیے، ایک بے سہارا لڑکی کی زندگی سنوارنے کے لیے، بغیر کسی سوال کے آپ کو اپنا لیا۔"

عنایہ کی پلکیں لرز اٹھیں۔

"وہ آپ کو عزت دیں گے، ہر خوشی دینے کی کوشش کریں گے۔ میں انہیں جانتی ہوں... وہ دل کے بہت صاف انسان ہیں۔"

عنایہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

وہ صرف خاموشی سے روتی رہی۔

اسے اس حقیقت کا احساس تو تھا کہ حازم ایک باوقار اور نیک سیرت انسان ہے، مگر اس کے دل کے زخم ابھی اتنے تازہ تھے کہ کسی بھی حقیقت کو قبول کرنا اس کے لیے آسان نہ تھا۔

(کچھ دیر بعد اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور دھیمی آواز میں پوچھا)

"امی کہاں ہیں؟ وہ ابھی تک مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئیں؟"

یہ سوال سنتے ہی نیہا کا دل ایک لمحے کو کانپ اٹھا۔

اسے اپنی ماں کی بگڑتی ہوئی طبیعت یاد

آ گئی، مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے چہرے پر مصنوعی اطمینان سجا لیا۔

"ہم دونوں تو ابھی آئے ہیں نا۔ پہلے ناشتے دینے کے لیے ۔ امی بھی آ جائیں گی، آپ سے ضرور ملیں گی۔"

اس نے نہایت مہارت سے بات کا رخ بدل دیا۔

وہ ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ پہلے ہی غم میں ڈوبی عنایہ پر ایک اور پریشانی کا بوجھ ڈال دے۔

ادھر ماں گزشتہ رات سے اپنی بیٹی کی فکر میں ایک پل سکون سے نہ سو سکی تھیں، مگر عنایہ اس حقیقت سے بے خبر تھی۔

دونوں بہنوں کی باتیں ابھی جاری تھیں کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

عنایہ نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے۔

"آ جائیے۔"

دروازے کے باہر سے حور کی چہکتی ہوئی آواز آئی۔

"بھابھی... ہم اندر آ سکتے ہیں؟"

عنایہ کے لبوں پر پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

"جی، آ جاؤ بیٹا۔"

دروازہ کھلا اور حور ملازم کاکا، کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔

کاکا ایک خوب صورت ٹرالی دھکیل رہے تھے، جس پر چائے، بسکٹ، کیک، تازہ پھل اور طرح طرح کی لذیذ اشیاء نہایت سلیقے سے سجائی گئی تھیں۔

انہوں نے خاموشی سے ٹرالی ایک جانب رکھی، سلام کیا اور واپس چلے گئے۔

(حور خوشی سے بولی)

"بھابھی... نیہا آپی... یہ سب آپ دونوں کے لیے ہے۔"

(نیہا بے اختیار مسکرا دی)

"ارے بیٹا! ہم تو ابھی ناشتہ کر کے آئے ہیں، اتنا سب کچھ کس لیے؟"

(حور معصومیت سے آگے بڑھی، نیہا کے قریب آ کر مسکراتے ہوئے بولی)

"آپی! آج آپ پہلی بار ہمارے گھر آئی ہیں۔ اتنا تو بنتا ہے نا۔"

(اس کی معصوم ادا پر نیہا بے اختیار ہنس پڑی)

عنایہ نے بھی پہلی مرتبہ دل کے بوجھ کے باوجود مسکرانے کی کوشش کی۔

حور کی نظر اچانک عنایہ کی سرخ آنکھوں پر پڑی۔

اس کی معصوم پیشانی پر فکر کی لکیر ابھر آئی۔

وہ فوراً عنایہ کے قریب آ بیٹھی۔

"بھابھی... آپ ٹھیک ہیں نا؟ آپ کی آنکھیں تو بہت لال ہیں۔"

عنایہ نے اپنی نمی چھپاتے ہوئے پیار سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔

"جی، میری بچی۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم بھی ہمارے پاس بیٹھو۔"

حور نے اثبات میں سر ہلایا اور انہی کے ساتھ بیٹھ گئی۔

کچھ ہی دیر میں نیہا نے اس سے باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

"اچھا یہ بتاؤ، میری گڑ یا، پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟"

(حور کی آنکھیں چمک اٹھیں)

"میں..." اس نے شوق سے اپنی پڑھائی، اسکول، پسندیدہ مضامین اور شرارتوں کے قصے سنانے شروع کر دیے۔

اس کی معصوم باتوں پر نیہا بار بار مسکرا دیتی، کبھی حیران ہوتی اور کبھی بے اختیار ہنس پڑتی۔

عنایہ خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

کمرے میں کچھ دیر پہلے تک جو غم کی گھٹن بسی ہوئی تھی، حور کی معصوم ہنسی نے اس میں جیسے زندگی کی ایک نرم سی کرن بھر دی تھی۔

عنایہ نے دل ہی دل میں محسوس کیا کہ بعض لوگ شور مچا کر نہیں، اپنی معصوم موجودگی سے دلوں کے زخموں پر مرہم رکھ دیتے ہیں... اور حور بھی شاید انہی لوگوں میں سے ایک تھی۔

*°*°*°*°*°*°*

علیزے ابھی تک ہسپتال کی راہداری میں بے جان سی بیٹھی تھی۔ آنکھوں کے آنسو اگرچہ تھم چکے تھے، مگر دل کے اندر برپا طوفان ہر گزرتے لمحے کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔

زیشان اس کے قریب خاموش کھڑا تھا۔ وہ جانتا تھا، اس وقت الفاظ کسی زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔

اچانک علیزے کو کچھ یاد آیا۔

اس نے گھبراہٹ میں اپنا بیگ کھولا، موبائل نکالا اور چند لمحے اس کی سکرین کو خاموش نظروں سے دیکھتی رہی۔

اس کی انگلیاں ایک نمبر پر جا کر ٹھہر گئیں۔

"حضرتِ حازم۔"

اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

وہ پہلے ہی حازم سے بے شمار قرض لے چکی تھی۔ ہر مشکل گھڑی میں اسی شخص نے خاموشی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ مگر آج... آج پھر اسے اسی دروازے پر دستک دینی تھی۔

اس نے بے اختیار آنکھیں موند لیں۔

"یا اللہ... ایک بار پھر مجھے شرمندہ نہ ہونا پڑے..."

لرزتے ہاتھوں سے اس نے کال ملا لی۔

پہلی گھنٹی بجتی رہی...

دوسری گھنٹی پر دوسری جانب سے کال وصول کر لی گئی۔

"جی، علیزے ؟"

حازم کی ہمیشہ کی طرح سنجیدہ اور پُرسکون آواز سنائی دی۔

بس یہی آواز سنتے ہی علیزے کا ضبط پھر بکھر گیا۔

"س... سر..."

اس کے بعد الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے۔

(حازم خاموشی سے سنتا رہا)

کچھ لمحوں بعد علیزے نے ٹوٹتی آواز میں سارا ماجرا بیان کر دیا۔

"امی جان کی طبیعت بہت خراب ہے... ڈاکٹر نے فوراً علاج شروع کرنے کو کہا ہے... مگر... مگر میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، سر۔ میں... میں جانتی ہوں، میں پہلے ہی آپ کی بہت مقروض ہوں... شاید مجھے دوبارہ آپ کو فون نہیں کرنا چاہیے تھا... لیکن اس وقت... اس وقت مجھے آپ کے سوا کوئی سہارا نظر نہیں آیا۔"

آخری جملہ کہتے کہتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

دوسری جانب چند لمحوں کی خاموشی رہی۔

پھر حازم کی مضبوط مگر غیر معمولی اطمینان بخش آواز ابھری۔

"علیزے... میری بات غور سے سنو۔"

وہ بے اختیار خاموش ہو گئی۔

"سب سے پہلے رونا بند کرو۔ تم اس وقت اپنی امی کے لیے مضبوط رہو۔ پیسوں کی فکر بالکل مت کرو۔ میں ابھی اپنے ڈرائیور کے ساتھ آدمی ہسپتال بھیج رہا ہوں۔ وہ تمام بل ادا کر دے گا۔ تم صرف اسے ریسیپشن پر مل لینا۔"

علیزے کچھ کہنا چاہتی تھی۔

"سر... مگر میں..."

(حازم نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نرمی سے کہا)

"اس وقت شکریہ یا معذرت کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہاری پہلی ذمہ داری اپنی امی ہیں۔ باقی باتیں بعد میں ہو جائیں گی۔"

اتنا کہہ کر اس نے کال منقطع کر دی۔

علیزے موبائل کو خاموش نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی۔

اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے ڈوبتے وجود کو سہارا دے دیا ہو، مگر دل کا خوف اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔

اس کی تمام سوچیں صرف ایک سوال کے گرد گھوم رہی تھیں...

"کیا امی جان ٹھیک ہو جائیں گی؟"

اس کے چہرے پر پھیلی پریشانی صاف بتا رہی تھی کہ وہ اندر ہی اندر کتنی ٹوٹ چکی ہے۔

زیشان نے آہستہ سے اس کے قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"علیزے..."

وہ خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

"پریشان مت ہو۔ سر ہیں نا... وہ سب سنبھال لیں گے۔ اب امی جان کا علاج بھی فوراً شروع ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔"

اس نے چند لمحے رک کر ہاتھ میں پکڑا ہوا جوس اس کی طرف بڑھایا۔

"صبح سے تم نے ایک لقمہ تک نہیں کھایا۔ اگر تم خود کو ہی کمزور کر لو گی تو امی جان کا سہارا کون بنے گا؟

پلیز... کچھ کھا لو۔"

علیزے نے نفی میں سر ہلایا۔

"مجھے کچھ نہیں چاہیے..."

(زیشان نے دھیمے لہجے میں کہا)

"مجھے معلوم ہے تمہارا دل نہیں چاہ رہا، مگر کبھی کبھی اپنے لیے نہیں، اپنے اپنوں کے لیے بھی کھانا پڑتا ہے۔ امی جان کو جب ہوش آئے گا تو کیا وہ تمہیں اس حال میں دیکھ کر خوش ہوں گی؟"

علیزے کی پلکیں پھر بھیگ گئیں۔

اس نے خاموشی سے جوس کا گلاس تھام لیا، مگر اس کی نظریں اب بھی ہسپتال کے اُس دروازے پر جمی تھیں، جس کے پیچھے اس کی پوری دنیا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی۔

*°*°*°*°*°*°*

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

عنایہ ، جو شال اپنے گرد لپیٹے کمرے کی بڑی کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی، چونک اٹھی۔ اس کی نظریں باہر سڑک پر چلتے لوگوں میں الجھی ہوئی تھیں۔ ہر شخص جیسے اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا، مگر وہ... وہ تو اپنی منزل سے ہی ناواقف تھی۔

دوسری دستک کے ساتھ اس نے بے اختیار اپنی شال درست کی۔

"آئیے۔"

دروازہ کھلا اور حازم اندر داخل ہوا۔

ابھی چند لمحے پہلے ہی وہ سعد اور نیہا کو رخصت کر کے لوٹا تھا۔

کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی نگاہ عنایہ پر ٹھہر گئی۔ کھڑکی سے چھن کر آنے والی مدھم دھوپ اس کے وجود پر بکھری ہوئی تھی، مگر اس کے چہرے پر اداسی کی ایسی پرچھائیاں تھیں جنہیں کوئی روشنی مٹا نہیں سکتی تھی۔

حازم آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آ کر برابر میں کھڑا ہو گیا، مگر اتنے فاصلے پر کہ اس کی تنہائی میں مداخلت بھی نہ ہو اور وہ خود کو اکیلا بھی محسوس نہ کرے۔

چند لمحوں تک خاموشی دونوں کے درمیان سانس لیتی رہی۔

آخرکار حازم نے ہی سکوت کو توڑا۔

"عنایہ... گاڑی تیار ہے۔ ہم بازار جا رہے ہیں۔ آپ کے لیے کچھ جوڑے اور ضرورت کی دوسری چیزیں لینی ہیں۔"

عنایہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر ہلکا سا سر ہلایا۔

"جی۔"

بس ایک لفظ... مگر اس ایک لفظ میں کتنی تھکن، کتنی بے بسی اور کتنی ٹوٹی ہوئی امیدیں پوشیدہ تھیں، شاید وہ خود بھی نہ جانتی تھی۔

حازم نے نظریں اس پر ڈالنے کی بجائے کھڑکی سے باہر دوڑتی دنیا پر جما دیں۔

"آپ پریشان نہ ہوں۔ یہ گھر... اب آپ کا بھی ہے۔ آپ جیسے چاہیں، ویسے رہ سکتی ہیں۔ کسی قسم کی جھجک محسوس مت کیجیے گا۔"

اس نے جان بوجھ کر عنایہ کی طرف نہیں دیکھا۔

وہ جانتا تھا، اگر اس نے ان بے بس آنکھوں میں جھانک لیا تو شاید اپنے دل کو سنبھال نہ سکے۔

اور عنایہ...

وہ بھی خاموش رہی۔

شاید کچھ رشتے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے، اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں خاموشی ہی ڈھانپ سکتی ہے۔

ایک ہی کمرے میں کھڑے وہ دو انسان...

جو نکاح کے بندھن میں بندھ چکے تھے، مگر قسمت نے ابھی تک ان کے دلوں کو ایک دوسرے کا ہم سفر بننے کی اجازت نہ دی تھی۔

ایک ایسا رشتہ...

جو وجود تو رکھتا تھا، مگر ابھی تک مکمل نہ ہو سکا تھا۔

حازم اس کے درد کو بانٹنا چاہتا تھا، مگر اس پر اپنا حق جتائے بغیر۔

اور عنایہ اپنے ٹوٹے ہوئے ماضی کو سینے سے لگائے کھڑی تھی، جیسے نئے سفر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے سے بھی خوف زدہ ہو۔

کمرے میں پھر خاموشی اتر آئی...

مگر اس خاموشی میں پہلی بار ایک انجانا سا احساس شامل تھا۔

جبر کا نہیں...

تحفظ کا۔

*°*°*°*°*°*°*

حازم اور عنایہ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ اس بار بھی عنایہ نے حسبِ معمول اگلی نشست کے بجائے پچھلی سیٹ کا انتخاب کیا۔ گاڑی میں مدھم سی موسیقی چل رہی تھی، جسے حازم اکثر سفر کا ساتھی بنایا کرتا تھا، مگر آج اس کی زندگی میں ایک نئی ہستی شامل ہو چکی تھی۔ آج صرف اس کی اپنی پسند اہم نہیں رہی تھی، اس لیے اس نے خاموشی سے میوزک بند کر دیا۔

گاڑی اپنی منزل کی جانب دھیرے دھیرے رواں تھی۔ کھڑکیاں بند تھیں اور عنایہ کی نظریں ہمیشہ کی طرح باہر گزرتے مناظر میں الجھی ہوئی تھیں، جبکہ حازم بار بار ریئر ویو مرر میں بے ساختہ اسے دیکھ رہا تھا۔

اچانک اس کی نظر عنایہ پر ٹھہری۔

وہ اپنے بازو شال میں سمیٹے ہلکے ہلکے بازو سہلا رہی تھی، جیسے اے سی کی ٹھنڈک اسے محسوس ہو رہی ہو۔ حازم نے بنا کچھ کہے فوراً اے سی کی رفتار کم کر دی۔ گاڑی کی رفتار تو پہلے ہی آہستہ تھی۔ شاید وہ دل ہی دل میں چاہتا تھا کہ آج کا یہ سفر کبھی ختم نہ ہو، مگر وقت کسی کی خواہشوں پر کب رکا کرتا ہے۔

اب اس نے آئینہ اس زاویے پر کر لیا تھا جہاں سے وہ عنایہ کو زیادہ واضح دیکھ سکتا تھا۔ عنایہ کو بھی اس کی مسلسل نظریں محسوس ہونے لگیں۔ بےاختیار اس کی نگاہ آئینے پر جا ٹھہری۔

ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے وقت ساکت ہو گیا ہو۔

عنایہ کے دل میں انجانی سی لہر اٹھی، مگر اگلے ہی لمحے اس نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔

اسی لمحے موبائل فون کی تیز گھنٹی نے گاڑی کی خاموش فضا کو چیر دیا۔

فون عنایہ کا تھا۔

اسکرین پر زہرا کا نام جگمگا رہا تھا۔

عنایہ نے ایک نظر فون کو دیکھا اور کال کاٹ دی۔ شاید اس وقت وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی... یا شاید حازم کی موجودگی اسے جھجھک میں مبتلا کر رہی تھی۔

چند ہی لمحوں بعد دوبارہ فون بج اٹھا۔

(اس بار حازم نے نظریں سڑک پر رکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا)

"اٹھا لو... شاید ضروری کال ہو۔"

عنایہ نے خاموشی سے آئینے میں ایک نظر حازم کو دیکھا، پھر کال ریسیو کر لی۔

"عنایہ! کیسی ہو؟"

دوسری طرف زہرا کی پریشان آواز تھی۔

"ٹھیک ہوں۔" عنایہ نے مختصر سا جواب دیا۔

"الحمدللہ... میں بہت پریشان تھی۔ ابھی میں پاکستان ہی میں ہوں۔ تم جانتی ہو نا، میں تم سے ملنے ضرور آؤں گی۔ اور تم بھی حازم بھائی کے ساتھ ہمارے گھر دعوت پر آنا۔ یہ میری اور ساحل دونوں کی خواہش ہے۔"

گاڑی میں مکمل خاموشی تھی، اس لیے زہرا کی آواز حازم تک بھی صاف پہنچ رہی تھی۔

اب حازم کو صرف عنایہ کے جواب کا انتظار تھا۔

(مگر عنایہ نے بات حسبِ عادت صرف آہستہ سے کہا)

"ہمم..."

پھر قدرے سپاٹ لہجے میں بولی،

"میں بعد میں بات کرتی ہوں۔"

اور اس نے کال ختم کر دی۔

فون رکھتے ہوئے اس کے چہرے پر ہلکی سی جھنجھلاہٹ نمایاں تھی، مگر حازم کو اس کا یہ معصوم سا غصہ بے حد اچھا لگا۔ اس کے لبوں پر بےاختیار ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھری، جسے اس نے فوراً اپنے اندر ہی چھپا لیا۔

عنایہ دوبارہ کھڑکی سے باہر گزرتے لوگوں کو دیکھنے لگی، جبکہ حازم بظاہر پوری توجہ سے گاڑی چلا رہا تھا...

مگر حقیقت یہ تھی کہ اس کی تمام تر توجہ سڑک پر نہیں، بلکہ اس خاموش لڑکی پر مرکوز تھی، جو اس کی زندگی کا حصہ تو بن چکی تھی، مگر اب بھی اس سے کتنی دور تھی۔

8

شاپنگ مال کی روشن راہداریوں میں لوگوں کا معمول کا ہجوم تھا۔ کہیں بچوں کی ہنسی گونج رہی تھی تو کہیں مختلف برانڈز کے شوروم اپنی چمکتی روشنیوں سے آنے والوں کو متوجہ کر رہے تھے۔

عنایہ حازم سے چند قدم آگے چل رہی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں مختلف برانڈز کے بھاری شاپنگ بیگز تھے۔ وہ جان بوجھ کر زیادہ خریداری کر رہی تھی، شاید اپنے اندر کی بےچینی کو مصروفیت میں چھپانے کے لیے...

یا حازم کو تنگ کرنا اسکا مقصد تھا شاید خود کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ کسی پر بوجھ نہیں بنے گی۔اپنا سامان بمشکل اٹھاۓ ہوۓ تھی.

حازم خاموشی سے اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ اس کے اپنے ہاتھ بھی کئی شاپنگ بیگز سے بھرے ہوئے تھے، مگر اس کی نظریں بار بار عنایہ کے ہاتھوں میں جھولتے بھاری شاپرز پر جا ٹھہرتیں۔

اس نے دیکھا، عنایہ ہر چند قدم بعد انگلیوں کی گرفت بدلتی، جیسے وزن اس کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہو، مگر ضد ایسی تھی کہ کسی سے مدد مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

آخرکار حازم نے چند تیز قدم بڑھائے۔

"عنایہ..."

اس کی دھیمی آواز پر عنایہ نے پلٹ کر دیکھا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی، حازم اس کے بالکل قریب آ چکا تھا۔

اس نے خاموشی سے اس کے ہاتھوں سے شاپنگ بیگز پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور نیچے کی جانب جھکا عنایہ اس کے آگے ایک چھوٹی بچی معلوم ہو رہی تھی۔

بیگز لیتے ہوئے عنایہ بےاختیار ایک قدم اس کی طرف کھنچ آئی۔

دونوں کے درمیان فاصلہ لمحہ بھر میں سمٹ گیا۔

عنایہ کی سانس جیسے ایک پل کو رک گئی۔

اس نے نظریں اٹھا کر حازم کو دیکھا۔

حازم کی گہری نظریں پوری سنجیدگی سے اسی کے چہرے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔

وقت جیسے چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگیا۔

پھر اچانک عنایہ کو احساس ہوا کہ وہ گھر میں نہیں... ایک بھرے ہوئے شاپنگ مال کے درمیان کھڑی ہے، جہاں بےشمار نظریں آس پاس موجود تھیں۔

اس نے گھبرا کر فوراً ایک قدم پیچھے ہٹایا اور نظریں چرا لیں۔

"نہیں... میں خود اٹھا لوں گی۔"

اس نے شاپرز واپس لینے کی کوشش کی۔

مگر بھاری وزن اس کے ہاتھوں سے سنبھالا نہ گیا۔

حازم نے بنا کسی زور آزمائی کے شاپرز اپنی گرفت میں لے لیے۔

"ضد مت کریں۔"

لہجہ نرم تھا، مگر انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

"میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔" عنایہ نے آہستہ مگر خفگی سے کہا۔

حازم کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔

"بیوی کا بوجھ... بوجھ نہیں ہوتا۔"

عنایہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، مگر اگلے ہی لمحے خفگی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

وہ تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔

اور حازم...

وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگا۔

دونوں ہاتھوں میں بےشمار شاپنگ بیگز اٹھائے، اس انداز سے جیسے کوئی باڈی گارڈ اپنے وی آئی پی کے پیچھے چل رہا ہو۔

یہ منظر دیکھ کر قریب سے گزرتی دو لڑکیاں مسکرا دیں۔

"کتنا کیرنگ ہسبنڈ ہے..."

(دوسری نے دھیرے سے کہا)

عنایہ نے ان کی سرگوشی سن لی۔

اس کے کانوں کی لو سرخ ہوگئی، مگر اس نے بنا پلٹے اپنی رفتار مزید تیز کر دی۔

حازم کی مسکراہٹ اس بار ذرا گہری ہوگئی۔

مال سے نکلنے سے پہلے وہ اسی آئس کریم پارلر کے سامنے رکا جہاں چند مہینے پہلے وہ عنایہ کو دوسری بار دیکھ پایا تھا۔

"چلیں۔"

(اس نے مختصر سا کہا)

عنایہ نے بے دلی سے اس کی طرف دیکھا، مگر خاموشی سے اس کے ساتھ چل دی۔

چند ہی لمحوں بعد دونوں کے ہاتھوں میں آئس کریم تھی۔

حازم نے ایک دو مرتبہ چپکے سے عنایہ کے چہرے کو دیکھا۔

پہلے کی نسبت اس کے چہرے کی سختی کچھ کم ہو چکی تھی۔

وہ خاموشی سے آئس کریم کھا رہی تھی۔

حازم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔

کم از کم اس کی ناراضی کچھ دیر کے لیے ہی سہی، ہلکی تو ہوئی تھی۔

اس نے کاؤنٹر کی طرف رخ کیا۔

"چار آئس کریم پیک بھی کر دیجیے۔"

عنایہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

"گھر پر حور اور کاکا کے ساتھ کھائیں گے۔"

(اس نے مختصر سا جواب دیا)

چند لمحوں بعد وہ مال کی پارکنگ میں موجود تھے۔

حازم نے گاڑی کی ڈگی کھولی اور نہایت ترتیب سے تمام شاپنگ بیگز اندر رکھ دیے۔

پھر پیک کی ہوئی آئس کریم احتیاط سے ایک الگ جگہ رکھی تاکہ پگھلے نہیں۔

وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر ایک طرف ہٹ گیا۔

اس بار اس نے کچھ نہیں کہا۔

عنایہ نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا۔

پھر خاموشی سے آ کر اگلی نشست پر بیٹھ گئی۔

حازم کی نگاہ چند لمحے اسی پر ٹھہری رہی۔

بغیر کچھ کہے اس نے دروازہ بند کیا، ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا، گاڑی اسٹارٹ کی اور مسکراتی شام کو اپنے ساتھ لیے وہ دونوں ایک بار پھر خاموش سفر پر روانہ ہو گئے۔

جاری ہے.....

Let syeda hasba know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Milky Treasures on a Healing Love

Booklover_rdx: A different but good story. Basically a love story with a twist- i enjoyed every word of it

Read Now
The Easter Bunny

Lynne: Beautiful short story with a happy ending.luved it.

Read Now
The Grumpy Next Door

Jane: A lovely story with good characters.

Read Now
Claimed By The Wrong Prince

Sasha: What a beautiful story, he was the perfect prince

Read Now
Bear Roberts

Gabby: I’m working with **Lorey**, a platform that turns novel characters and scenes into interactive experiences readers can play.We can help you:- Turn your story into character profiles- Preserve each character’s voice and relationships- Create an interactive scene for you to reviewYour story won’t be ...

Read Now
Beyond the Ice Wall

LovetoreadStephanie: I am actually really impressed by this book. How a conspiracy theory can be made in an original, heartwarming and dreamy romance! I am so happy it's a series! I can't stop imagining the world and how I wished it was true 😍

Read Now
The Alpha's Exiled Mate

Mokatoka: Say what????? God! Is it over???

Read Now
Ruthless Lord

gdmee04: Great story line well written

Read Now
PARIS IN THE DARK

Sasha: Love this kind of romantic stories, very good one.

Read Now