Customize readability
Aa

ذہنی قید (ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

All Rights Reserved ©

Summary

کیا بچپن کے سائے کبھی پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کچھ یادیں جوانی کی دہلیز تک زہر بن کر ساتھ آتی ہیں، اور جب سوشل میڈیا کی چکا چوند ان اندھیروں سے ملتی ہے، تو انجام ہولناک ہوتا ہے۔یہ کہانی ہے ایک خوبرو نوجوان اور ایک حسین دوشیزہ اور چند ایسے راز جو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ۔۔۔"

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Chapter 19

قسط نمبر 19

(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

کافی عرصے بعد حازم نے اپنی پینٹنگ گیلری کا رخ کیا۔

دروازہ کھلتے ہی رنگوں اور آئل پینٹس کی مانوس خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔ پورے کمرے میں خاموشی یوں بسی ہوئی تھی جیسے برسوں سے کسی کا انتظار کر رہی ہو۔ رنگوں کی پیلیٹ پر سوکھے ہوئے رنگ اپنی جگہ جم چکے تھے، برش بےحس ہو کر ایک کونے میں پڑے تھے، جبکہ ایزلز پر سجی بےشمار پینٹنگز آج بھی ویسے ہی محفوظ کھڑی تھیں، جیسے ان کے مالک نے انہیں وقت کے حوالے ہی نہ کیا ہو۔

حازم دھیرے دھیرے ہر پینٹنگ پر نظر ڈالتا آگے بڑھتا رہا، مگر اس کے قدم آخرکار اسی ایک تصویر کے سامنے آ کر رک گئے... عنایہ کی تصویر۔

کمرے میں اس کے ہلکے قدموں کی مدھم چاپ گونج رہی تھی۔

اس نے نہایت احتیاط سے تصویر پر پڑا سفید کپڑا تھاما اور آہستہ آہستہ نیچے کر دیا۔

وہی چہرہ...

وہی معصوم آنکھیں...

وہی خاموش مسکراہٹ...

فرق صرف اتنا تھا کہ اب وہ لڑکی حقیقت میں اس کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی، مگر پھر بھی وہ اس سے باتیں کرنے اس کی تصویر کے پاس آ گیا تھا۔ وہ اس کے اتنے قریب ہو کر بھی نجانے کیوں اسے میلوں دور محسوس ہوتی تھی۔

(حازم کافی دیر تک خاموشی سے تصویر کو دیکھتا رہا، پھر مدھم آواز میں بولا )

"آپ بولتی کیوں نہیں ہیں...؟ کیا آپ نے بولنا چھوڑ دیا ہے؟"

اس کی نظریں تصویر کی آنکھوں میں اتر گئیں۔

"آپ کی یہ خوبصورت آنکھیں... ہر لمحہ میرے دل کی دھڑکن بڑھا دیتی ہیں... اور آپ کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔"

وہ ایک لمحے کو رکا، پھر بےاختیار پکارا،

"عنایہ..."

اس کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر کئی بار لوٹ کر آئی۔

حازم نے لرزتے ہاتھ آگے بڑھائے اور انگلیوں کی پوروں سے تصویر کے رخسار کو چھوا، جیسے کینوس نہیں، حقیقت میں عنایہ کو محسوس کر رہا ہو۔

وہ خود سے سرگوشی کرنے لگا،

"اب تو میں آپ کی پینٹنگ کو چھو سکتا ہوں... ورنہ آپ تو میرے پاس ہو کر بھی مجھ سے بہت دور رہتی ہیں... نا؟"

اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

یہ وہی حازم تھا جو لفظوں سے زیادہ خاموشی کو اپنا ساتھی بنائے رکھتا تھا، مگر آج ایک لڑکی نے اس کی برسوں پرانی خاموشی توڑ دی تھی۔

"عنایہ... اب تو آپ مجھ سے ڈریں گی نہیں نا؟ میں اب ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا... آپ کا حازم۔"

یہ کہتے ہوئے وہ خود ہی بچوں کی سی خوشی محسوس کرنے لگا۔

پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔

"روکیے... میں ابھی اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے کافی بنا کر لاتا ہوں... اوکے؟"

جیسے واقعی تصویر اسے جواب دینے والی ہو۔

وہ ہمیشہ کی طرح نہایت احتیاط سے دوبارہ تصویر پر کپڑا ڈالنے لگا۔ شاید وہ اب بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی عنایہ کو اس کے علاوہ کوئی اور دیکھے۔

کپڑا ٹھیک کرتے ہوئے اس نے ایک آخری نظر تصویر پر ڈالی، پھر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

مگر کمرے سے نکلتے ہوئے بھی اس کی نظریں بار بار پلٹ کر اسی ڈھکی ہوئی تصویر کو دیکھتی رہیں...

گویا اس کا دل ابھی بھی وہیں، اسی کینوس کے سامنے رہ گیا ہو۔

*°*°*°*°*°*

رات اپنی خاموش چادر آہستہ آہستہ زمین پر بچھا چکی تھی۔ کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلکے ہلکے جنبش دے رہی تھی، جبکہ نیہا اپنے کمرے کی روشنی مدھم کیے موبائل کان سے لگائے بیٹھی تھی۔ دوسری جانب سعد کی آواز ہمیشہ کی طرح اس کے دل کو سکون دے رہی تھی۔

"کیسی ہو؟"

"الحمدللہ... آپ سنائیں؟"

"میں تو ٹھیک ہوں، لیکن ایک بات کہوں؟"

(نیہا ہلکا سا مسکرائی)

"جی، کہیے۔"

(سعد چند لمحے خاموش رہا، جیسے مناسب لفظ ڈھونڈ رہا ہو)

"نکاح والے دن... تم واقعی بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔"

نیہا کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔

"اچھا؟"

"اچھا نہیں... بےحد خوبصورت۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سفید دعا نے انسانی روپ اختیار کر لیا ہو۔ میں تو بس تمہیں ہی دیکھتا رہ گیا تھا۔"

نیہا کی پلکیں جھک گئیں۔

"آپ بھی نا..."

"سچ کہہ رہا ہوں۔ اس دن دل نے پہلی بار پوری یقین سے کہا تھا... یہ لڑکی صرف میری قسمت میں لکھی گئی ہے۔ اور دیکھو، میں نے آخرکار تمہیں اپنا بنا ہی لیا۔"

نیہا کے رخسار گلابی ہو گئے۔ وہ خاموش رہی تو سعد ہنس پڑا۔

"اتنی خاموش کیوں ہو؟ میری بیوی شرما رہی ہے کیا؟"

"میں... میں نہیں شرما رہی۔"

"اچھا؟ پھر آواز اتنی دھیمی کیوں ہوگئی؟"

نیہا نے نظریں چرا لیں، حالانکہ سعد اسے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔

چند لمحوں بعد اس کے چہرے کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ ماند پڑ گئی۔

"سعد..."

"ہمم؟"

"عنایہ آپی کی فکر ہو رہی ہے۔

حازم بھائی نے... ان سے کچھ کہا؟ وہ ٹھیک ہیں نا؟"

سعد کی آواز اس بار پہلے سے زیادہ سنجیدہ مگر پُرسکون تھی۔

"نیہا... پریشان مت ہو۔"

"لیکن..."

"حازم میرا بچپن کا دوست ہے۔ میں اسے برسوں سے جانتا ہوں۔ وہ دل کا بہت اچھا انسان ہے۔ شاید اپنے جذبات دوسروں کی طرح ظاہر نہ کر پاتا ہو، مگر کسی کو تکلیف دینا اس کی فطرت نہیں۔"

(نیہا خاموشی سے سنتی رہی)

"مجھے یقین ہے، وقت کے ساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔ عنایہ آپی بھی اس رشتے کو قبول کر لے گی، اور حازم انھیں کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دے گا۔"

نیہا نے گہرا سانس لیا۔

"سچ؟"

"مجھے اپنے دوست پر پورا بھروسا ہے... اور تم بھی رکھو۔"

(سعد متمین تھا)

نیہا کی آنکھوں میں نمی تو اب بھی تھی، مگر اس نمی میں اطمینان شامل ہو چکا تھا۔

"شکر ہے... کم از کم میری بہن کے نصیب میں ایک اچھا انسان آیا ہے، چاہے حالات نے انہیں اس رشتے تک کتنے ہی عجیب انداز میں کیوں نہ پہنچایا ہو۔"

"بالکل۔ اللہ نے جو فیصلے لکھے ہوتے ہیں، ان کی حکمت اکثر ہمیں دیر سے سمجھ آتی ہے۔"

کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔

(پھر سعد نے جان بوجھ کر ماحول بدلتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا)

"ویسے... اب میری بیوی صرف اپنی بہن کی باتیں ہی کرے گی، یا اپنے شوہر کو بھی تھوڑا سا وقت دے گی؟"

(نیہا بےاختیار ہنس پڑی)

"آپ کو ہر بات میں اپنی تعریف کروانی ہوتی ہے۔"

"تعریف نہیں... حق مانگ رہا ہوں۔"

"اچھا؟ کون سا حق؟"

"یہی کہ تم روز کم از کم ایک بار کہو کہ تمہیں اپنے شوہر کی یاد آتی ہے۔"

(نیہا نے ہونٹ دانتوں تلے دبا لیے)

"ایسی باتیں نہیں کرتے..."

"کیوں؟ بیوی سے محبت کا اظہار کرنا منع ہے کیا؟"

"سعد..."

"جی،  محترمہ؟"

"آپ بہت تنگ کرتے ہیں۔"

"اور تم بہت پیاری لگتی ہو جب شرماتی ہو۔"

نیہا نے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس کی۔

"بس... اب میں فون رکھ رہی ہوں۔"

"ارے! ابھی تو—"

"اللہ حافظ..."

اتنا کہہ کر اس نے جلدی سے کال کاٹ دی۔

فون بند ہونے کے باوجود سعد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ باقی تھی، جبکہ دوسری طرف نیہا موبائل کو اپنے سینے سے لگا کر شرم سے مسکرا رہی تھی۔

کبھی کبھی چند سچے لفظ... محبت کو کسی اقرار سے بھی زیادہ خوبصورت بنا دیتے ہیں۔

*°*°*°*°*°*

کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھلا اور حازم ہاتھ میں دو مگ کافی لیے اندر داخل ہوا۔حازم نے کافی اپنے ہاتھوں سے تیار کی تھی.

اس کی نظریں بےاختیار عنایہ کو تلاش کرنے لگیں، مگر کمرہ خالی تھا۔

وہ خاموشی سے آگے بڑھا اور کافی کا ایک مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔

اسی لمحے غسل خانے کا دروازہ کھلا۔

آہٹ پر حازم بے ساختہ پلٹا۔

عنایہ بھیگے ہوئے بالوں کو تولیے میں لپیٹے کمرے میں داخل ہوئی۔ چند گیلے قطرے اس کی گردن سے پھسلتے ہوئے دوپٹے کے کنارے تک آ رہے تھے۔ نہانے کے بعد اس کا چہرہ پہلے سے زیادہ شفاف لگ رہا تھا۔

جونہی اس کی نظر حازم پر پڑی، وہ ایک دم ٹھٹک گئی۔ اس کے قدم جیسے اپنی جگہ رُک گئے۔

اس نے خاموشی سے نظریں جھکا لیں اور جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

ہیئر ڈرائر کی ہلکی سی آواز کمرے کی خاموشی میں گھل گئی۔

ادھر حازم...

وہ بس اسے دیکھتا رہ گیا۔

گویا وقت چند لمحوں کے لیے ٹھہر گیا ہو۔

اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے اردگرد کی ہر آواز مدھم پڑ گئی ہو، صرف ڈرائر کی سرگوشی اور اپنے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی ہو۔

ایک لمحے بعد اس نے گہرا سانس لیا اور نظریں جھکا لیں۔

"نہیں... اسے یوں مت دیکھو..."

اس نے خود کو خاموشی سے سمجھایا۔

عنایہ نے آئینے میں نظر اٹھائی تو اس کی نگاہ بستر پر پڑی۔ حازم اب اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا، جیسے جان بوجھ کر اسے آسانی دے رہا ہو۔

عنایہ نے جلدی جلدی بال خشک کیے۔

وہ اس کمرے میں موجود اس شخص سے نہیں... اپنے ماضی سے خوفزدہ تھی۔

رضا کے دیے ہوئے زخموں نے اس کے دل میں یہ یقین بٹھا دیا تھا کہ شاید ہر مرد ایک جیسا ہوتا ہے۔

اسی لیے وہ ہر لمحہ خود کو سمیٹ لینے کی کوشش کرتی تھی۔

بال خشک کرکے وہ آہستہ قدموں سے واپس بستر کی طرف آئی۔

حازم اب تکیے سے ٹیک لگائے موبائل اور سامنے کُھلے لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔

کم از کم دیکھنے میں تو یہی لگ رہا تھا۔

حقیقت مگر یہ تھی کہ اس کی پوری توجہ اپنے سامنے بیٹھی لڑکی پر تھی۔

اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر کافی کا مگ بڑھایا۔

"کافی... ٹھنڈی ہونے سے پہلے پی لیجیے۔"

(عنایہ نے خاموشی سے مگ تھام لیا)

مگ پکڑتے ہوئے اس کی نرم انگلیاں لمحہ بھر کے لیے حازم کی انگلیوں سے چھو گئیں۔

وہ فوراً گھبرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ گئی۔

مگر اتنی سی چھونے کی کیفیت بھی حازم کے دل میں جیسے ہلچل مچا گئی۔

اس کے دل کی دھڑکن ایک بار پھر بے ترتیب ہو گئی۔

وہ حازم... جس کی دنیا برسوں تک صرف اس کی چھوٹی بہن کے گرد گھومتی رہی تھی... آج ایک لڑکی کی معمولی سی قربت بھی اس کے سکون کو منتشر کر دیتی تھی۔

یہ تبدیلی اس کے لیے بھی نئی تھی...

اور شاید خوبصورت بھی۔

دونوں خاموشی سے کافی پیتے رہے۔

کمرے میں صرف لیپ ٹاپ کی کی بورڈ پر چلتی انگلیوں کی مدھم آواز تھی۔

کافی ختم کرنے کے بعد عنایہ نے مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔

پھر حسبِ معمول دونوں کے درمیان فاصلے قائم کرنے لگی۔

اس نے ایک ایک کرکے تکیے اٹھائے اور درمیان میں رکھنے لگی۔

حازم نے اس بار پہلی مرتبہ نظریں اس کی طرف اٹھائیں۔

اس کی آواز پرسکون تھی، مگر لہجہ غیرمعمولی طور پر سنجیدہ۔

"اگر یہ دیوار آپ کے دل کو سکون دیتی ہے... تو ضرور بنائیے۔"

عنایہ کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔

حازم نے نظریں دوبارہ لیپ ٹاپ پر جما لیں۔

"لیکن ایک بات یاد رکھیے..."

(وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر دھیمے لہجے میں بولا)

"اعتماد تکیوں کی دیواروں سے نہیں بنتا... وقت اور کردار سے بنتا ہے۔"

عنایہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

وہ خاموشی سے آخری تکیہ بھی رکھ کر لیٹ گئی۔

اس کی پلکیں بند تھیں، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

حازم نے لیپ ٹاپ بند کیا۔

کمرے میں صرف اسکرین کی ہلکی نیلی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جس میں اس کی سنجیدہ آنکھیں پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہو رہی تھیں۔

اس نے ایک نظر عنایہ کی طرف دیکھا۔

وہ تکیوں کی دیوار کے اُس پار سمٹی ہوئی لیٹی تھی۔

صرف لیپ ٹاپ بند ہونے سے پہلے کی مدھم روشنی چند لمحے اس کے چہرے پر ٹھہری، پھر وہ بھی ختم ہو گئی۔ حازم نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔

خاموشی دوبارہ دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئی...

فرق صرف اتنا تھا کہ اس رات ایک دیوار تکیوں کی تھی...

اور دوسری دو زخمی دلوں کے درمیان۔

*°*°*°*°*°*

کمرے میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مدھم سی روشنی میں ہر شے دھندلی دکھائی دے رہی تھی۔ حازم بستر کے ایک طرف کروٹ لیے گہری نیند میں محوِ خواب تھا، جبکہ عنایہ بھی دوسری جانب کروٹ بدلے سو رہی تھی۔

اچانک عنایہ کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے بالکل قریب کسی کی سانسوں کی ہلکی ہلکی آواز گونج رہی ہو۔ وہ چونک کر ایک دم جاگ اٹھی۔ اس کا دل بےاختیار تیزی سے دھڑکنے لگا۔ کمرے میں نیم تاریکی تھی، صرف باہر سے آتی مدھم سی روشنی ماحول کو مزید پراسرار بنا رہی تھی۔

اس نے گھبراہٹ میں فوراً بیڈ کے پاس رکھا لیمپ آن کر دیا۔ زرد سی روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ اس کی نظریں بےچینی سے ہر طرف گھومیں، مگر کمرے میں کوئی بھی موجود نہ تھا۔

اس کی نظر حازم پر پڑی جو اس سے پشت کیے، بدستور گہری نیند میں سو رہا تھا۔ عنایہ کے دل میں انجانا سا خوف اتر آیا۔

اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ حازم کی طرف بڑھایا، مگر جیسے ہی اس کی انگلیاں اس کے کندھے کو چھونے کے قریب پہنچیں، وہ گھبرا کر فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ گئی۔

"ح... حازم..."

(اس نے بہت دھیمی آواز میں پکارا)

مگر حازم اتنی گہری نیند میں تھا کہ اسے کچھ سنائی ہی نہ دیا۔

عنایہ نے بےاختیار لب کاٹ لیے۔ خوف اب بھی اس کے دل میں موجود تھا۔ وہ آہستہ سے دوبارہ لیٹ گئی، مگر اس نے بیڈ لیمپ بند نہ کیا۔

شاید یہ میرا خواب تھا.

(عنایہ خود سے مخاطب ہوئی)

جلتی ہوئی روشنی میں خود کو کچھ محفوظ محسوس کرتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں، اور کب دوبارہ نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا، اسے خود بھی احساس نہ ہوا۔

*°*°*°*°*°*

حازم حسبِ معمول اپنے دفتر میں داخل ہوا۔ آج حازم شادی کے بعد پہلی بار آفس آیا. لیکن دل اسکا گھر ہی رہ چکا تھا. اس کے پُروقار قدم سیدھے اس کے کیبن کی جانب بڑھے۔ دروازہ بند ہوتے ہی وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سامنے میز پر رکھی فائلیں اس کی منتظر تھیں، مگر اس کی گہری نگاہیں جیسے کسی اور سوچ میں گم تھیں۔

چند لمحوں بعد دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

"اجازت ہے، سر؟"

"آ جاؤ۔"

حازم کی مختصر مگر رعب دار آواز ابھری۔

دروازہ کھلا اور زیشان اندر داخل ہوا۔ وہ احتراماً سیدھا کھڑا ہوگیا۔

"سر، آپ نے بلایا تھا؟"

"ہاں۔"

حازم نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بغیر سنجیدگی سے کہا، پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس کی نظریں زیشان پر جم گئیں۔

"علیزے کی والدہ کی طبیعت اب کیسی ہے؟"

یہ سوال سنتے ہی زیشان جیسے یکدم ساکت رہ گیا۔ اسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ حازم یہی پوچھے گا، مگر پھر بھی اس کے دل میں ایک انجانی سی حیرت جاگ اٹھی۔

"سر کو علیزے کے بارے میں اتنا کیسے معلوم ہے...؟ کیا وہ میرے اور علیزے کے متعلق بھی کچھ جانتے ہیں؟"

سوچوں کے اسی گرداب میں چند لمحے گزر گئے۔

حازم کی گہری نگاہیں بدستور اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔

"میں نے کچھ پوچھا ہے، زیشان۔"

اس کی بھاری آواز نے زیشان کو چونکا دیا۔

"ج... جی سر۔" اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔ "اب الحمدللہ پہلے سے کافی بہتر ہیں۔ علاج باقاعدہ شروع ہو چکا ہے، ڈاکٹرز بھی مطمئن ہیں۔"

حازم نے خاموشی سے اس کی بات سنی۔ پھر پہلی بار اس نے میز پر پڑی فائل سے نظریں ہٹا کر مکمل توجہ زیشان پر مرکوز کی۔

"اچھا۔"

بس ایک لفظ... مگر لہجے میں ایسا وقار تھا کہ مزید کسی وضاحت کی گنجائش باقی نہ رہی۔

چند ثانیے خاموشی چھائی رہی۔

(پھر حازم نے نہایت مختصر انداز میں کہا)

"تم جا سکتے ہو۔"

"اوکے سر۔"

زیشان نے ہلکا سا سر جھکایا، مگر کیبن سے باہر نکلتے ہوئے بھی اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔

"آخر سر کو علیزے اور اس کی والدہ کے بارے میں اتنی تفصیل کیسے معلوم ہے...؟ اور کیا وہ میرے دل کا حال بھی جانتے ہیں...؟"

دروازہ آہستگی سے بند ہوا، جبکہ حازم ایک بار پھر خاموشی سے سامنے رکھی فائل پر نظریں جما چکا تھا۔ اس کے سنجیدہ چہرے سے یہ اندازہ لگانا ناممکن تھا کہ اس کے ذہن میں اس وقت کون سے منصوبے جنم لے رہے تھے۔

*°*°*°*°*°*

لاہور میں اپنے کام نمٹا کر امل رات گئے کراچی واپس لوٹی تھی۔ مسلسل سفر کی تھکن ابھی اس کے وجود پر طاری تھی کہ صبح ہوتے ہی اس نے سعد کو کال کی۔

اس نے اسکرین پر نظر ڈالی۔

"سعد کالنگ..."

ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری اور دوسری طرف سے کال وصول کر لی گئی ۔

"السلام علیکم، سعد۔ کیسے ہو؟"

"وعلیکم السلام۔ الحمدللہ، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ، کیسی ہو؟"

"میں بھی خیریت سے ہوں۔"

(چند لمحے خاموشی رہی، پھر امل خوش دلی سے بولی)

"بہت بہت مبارک ہو تمہارے نکاح کی۔ معذرت چاہتی ہوں، میں آ نہ سکی۔ شہر سے باہر تھی، کل رات ہی کراچی واپس پہنچی ہوں۔"

"خیر مبارک۔" سعد کے لہجے میں خوشی نمایاں تھی۔

(امل نے شرارت سے کہا)

"تو سناؤ... ہماری بھابھی صاحبہ کیسی ہیں؟"

نیہا کا نام آتے ہی سعد کا چہرہ بےاختیار کھل اٹھا۔

"الحمدللہ، وہ بھی بالکل خیریت سے ہیں۔"

(پھر جیسے اسے اچانک کچھ یاد آیا، وہ خوش دلی سے بولا)

"اور ہاں... کل رات میرا ہی نہیں، حازم کا بھی نکاح ہوا ہے۔ اسے بھی ضرور مبارک باد دینا۔"

امل کے چہرے کی مسکراہٹ ایک ہی لمحے میں ماند پڑ گئی۔

"ک... کیا کہا تم نے؟"

(اس کی آواز کپکپا گئی)

"حازم کی... شادی؟"

"ہاں۔ تم جانتی ہو نا میری سالی عنایہ کو؟

حازم کی شادی اسی سے ہوئی ہے۔"

امل کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے قدموں سے زمین کھینچ لی ہو۔ سانس سینے میں اٹک گئی، آنکھیں بے یقین ہو کر پھیل گئیں۔

"نہیں..."

(وہ بےساختہ بڑ بڑائی)

"نہیں سعد... یہ نہیں ہو سکتا... حازم ایسا نہیں کر سکتا..."

(اس کی آواز اچانک بلند ہو گئی)

"وہ... وہ صرف میرا ہے!"

یہ کہتے ہی اس نے کانپتے ہاتھوں سے کال منقطع کر دی۔

اگلے ہی لمحے موبائل پوری قوت سے فرش پر دے مارا۔

زور دار آواز کے ساتھ فون کئی ٹکڑوں میں بکھر گیا۔

لیکن امل کا طوفان ابھی رکا نہیں تھا۔

وہ پاگلوں کی طرح کمرے میں رکھی ہر چیز اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر سجی قیمتی عطر کی شیشیاں، میک اپ کا سامان، تصویری فریم... سب ایک ایک کر کے فرش پر گرتے اور چکنا چور ہوتے گئے۔

پورا کمرہ شیشے کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔

شور سن کر اس کی والدہ گھبراہٹ میں دوڑتی ہوئی اندر آئیں۔

سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے قدم وہیں رُک گئے۔

"امل...!"

(ان کے لبوں سے لرزتی ہوئی آواز نکلی)

"بیٹا... یہ کیا کر رہی ہو؟ سب خیریت تو ہے؟"

یہ سنتے ہی امل کے ضبط کا آخری بند بھی ٹوٹ گیا۔

وہ ایک ننھی بچی کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، جیسے اس کا سب سے عزیز کھلونا اس سے ہمیشہ کے لیے چھن گیا ہو۔

مگر آج ٹوٹنے والا کھلونا نہیں...

اس کا دل تھا۔

ایسا دل جو بغیر کسی آواز کے ہزاروں ٹکڑوں میں بکھر چکا تھا۔

وہ بےجان سی فرش پر بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھیں مسلسل رونے سے سرخ ہو چکی تھیں، سانسیں بے ترتیب تھیں اور لب شدتِ صدمہ سے کانپ رہے تھے۔

اس کی والدہ فوراً اس کے قریب آئیں، اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا۔

"میری بچی... آخر ہوا کیا ہے؟ ابھی تو سب ٹھیک تھا۔ مجھ سے بات کرو۔"

امل نے بمشکل لب ہلائے۔

"م... ماما..."

آواز حلق میں اٹک گئی۔

وہ بچوں کی طرح سسکی۔

"ح... حازم..."

بس اتنا ہی کہہ سکی۔

اگلے ہی لمحے اس کے وجود سے ایک دردناک چیخ بلند ہوئی۔

"حازم...!"

وہ اپنی ماں سے لپٹ کر اس شدت سے رونے لگی کہ جیسے برسوں کا ضبط ایک ہی لمحے میں بہہ نکلا ہو۔

ہچکیوں کے درمیان وہ بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی۔

"وہ میرا تھا، ماما... صرف میرا... اس نے کسی  وہ اور کا کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے تو اپنی پوری زندگی میں صرف اسی کو مانگا تھا... صرف اسی کو چاہا تھا... پھر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟"

اس کی والدہ نے لرزتے ہاتھوں سے اس کے بال سہلائے۔ ان کی اپنی آنکھیں بھی نم ہو چکی تھیں، مگر اس وقت وہ صرف اپنی ٹوٹتی ہوئی بیٹی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

"صبر کرو، میری بچی... اللہ جو فیصلہ کرتا ہے، اس میں ضرور کوئی حکمت ہوتی ہے۔"

مگر امل جیسے سن ہی نہ رہی تھی۔

وہ اپنی ماں کے سینے سے لپٹی، بےاختیار روتی رہی، جبکہ اس کے دل کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی خاموش چیخیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔

*°*°*°*°*°*

عنایہ کی آنکھ اچانک کھلی۔ وہ کافی دیر سے سو رہی تھی، حالانکہ اسے دن کے وقت سونے کی عادت نہیں تھی۔ شاید گزشتہ رات کی پریشانی اور ذہنی تھکن نے اسے گہری نیند میں دھکیل دیا تھا۔

وہ آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ کمرے میں ہلکا سا اندھیرا تھا۔ آج اس نے خود ہی کھڑکیوں کے پردے اور شیشے بند کر دیے تھے تاکہ باہر کی آوازیں اس کی نیند میں خلل نہ ڈالیں۔ اس نے ایک نظر پورے کمرے پر دوڑائی، مگر وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔

"حازم...؟" اس کے لبوں سے بے اختیار سرگوشی نکلی، مگر جواب میں صرف خاموشی ملی۔

اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید وہ کسی کام سے باہر گئے ہوں۔ بہرحال، یہ ان کا ہی گھر تھا، انہیں ہر وقت اس کے پاس رہنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

عنایہ بستر سے اتری، جلدی سے اپنے بکھرے ہوئے بال پونی ٹیل میں باندھے، چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور ایک ہلکا سا دوپٹہ اوڑھ لیا۔ پھر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔

پورے گھر میں غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا، مگر کوئی نظر نہ آیا۔ اسے ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے گھر میں اس کے علاوہ کوئی موجود ہی نہ ہو۔

پیاس محسوس ہونے پر وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔

کچن میں پہنچتے ہی رامو کاکا ناشتے کی تیاری میں مصروف تھے۔ انہوں نے جیسے ہی عنایہ کو دیکھا، محبت سے مسکرا اٹھے۔

"ارے بیٹا، آپ جاگ گئیں؟ کافی دیر آرام کرتی رہیں۔ آئیے، میں آپ کے لیے ناشتے کی تیاری کر رہا ہوں۔ بتائیے، کیا کھائیں گی؟"

عنایہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔

"نہیں کاکا، مجھے بھوک نہیں ہے... بس ایک کپ چائے دے دیجیے۔"

(رامو کاکا نے فوراً اعتراض کیا)

"یہ کیسے ہو سکتا ہے، بیٹا؟ خالی چائے پی کر نہیں رہنے دوں گا۔ حازم صاحب کو پتا چلا تو سب سے پہلے مجھ سے ہی ناراض ہوں گے۔ آپ بتائیں، آپ کیا پسند کریں گی؟ میں وہی بنا دیتا ہوں۔"

عنایہ ان کی اپنائیت دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دی۔

"اچھا... پھر جو بھی ہلکا پھلکا بنا ہے، وہی دے دیجیے۔"

"بس یہی تو اچھی بات ہے۔ ابھی لایا۔"

رامو کاکا ناشتے کی تیاری میں لگ گئے جبکہ عنایہ کی نظریں پورے گھر میں کسی کو تلاش کر رہی تھیں۔

آخر وہ خود کو روک نہ سکی۔

"کاکا... حازم کہاں ہیں؟"

(رامو کاکا نے پلیٹ میز پر رکھتے ہوئے جواب دیا)

"وہ صبح سویرے ہی نکل گئے تھے، بیٹا۔ دو آدمیوں کے ساتھ کسی ضروری کام سے گئے ہیں انکی میٹنگز ہوتی رہتی ہیں۔"

(عنایہ نے اثبات میں سر ہلایا، پھر کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا)

"آپ یہاں کتنے عرصے سے کام کر رہے ہیں؟"

رامو کاکا کے چہرے پر پرانی یادوں بھری مسکراہٹ آ گئی۔

"بیٹا، میں تو حازم صاحب کے بچپن سے اس گھر میں ہوں۔ جب ان کی والدین حیات تھیں، تب سے انہی کی خدمت کر رہا ہوں۔ اپنی پوری زندگی اسی گھر کے نام کر دی ہے۔ میری اپنی ایک فیملی ہے جو میرے آبائی گاؤں ہوتی ہے۔

میری بھی ایک بیٹی ہے بالکل تمھارے جیسی. کاکا کی آنکھیں بھر آئیں. شاید انھیں اپنا خاندان یاد آ گیا تھا۔

*°*°*°*°*°*

دفتر کی مصروفیات ختم ہوتے ہی حازم عمارت سے باہر نکلا۔ شام کی سنہری روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر آج اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی۔ ڈرائیور نے فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا۔ حازم جیسے ہی سیٹ پر بیٹھا، اس کی نظر ساتھ رکھے خوبصورت تحائف پر گئی۔جو اس نے عنایہ کے لیے خریدے تھا.۔

گاڑی رنگ برنگے گفٹ باکسز سے بھری ہوئی تھی۔ ایک طرف سرخ اور سفید گلابوں کا نہایت دلکش گلدستہ رکھا تھا، جس کی خوشبو پورے ماحول میں رچی ہوئی تھی۔ سب سے الگ ایک نفیس مخملی ڈبہ رکھا تھا، جس میں عنایہ کے لیے خاص طور پر بنوایا گیا سونے کا خوبصورت جیولری سیٹ موجود تھا۔ حازم نے بڑے غور سے وہ ڈبہ ہاتھ میں لیا، ہلکا سا مسکرایا اور پھر احتیاط سے واپس رکھ دیا۔

"آج میری ضد پوری ہوگی، عنایہ..."

اس نے دل ہی دل میں کہا۔

گاڑی سیدھی حور کے اسکول جا پہنچی۔

چھٹی ہو چکی تھی۔ حور اپنے دوستوں سے باتیں کرتی ہوئی باہر آئی تو اپنے بھائی کو دیکھ کر خوشی سے دوڑتی ہوئی اس کے پاس آ گئی۔

"بھائی!"

حازم نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"چلو، شہزادی! گھر چلتے ہیں۔"

حور خوشی خوشی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ بیٹھتے ہی اس کی نظر ان خوبصورت تحائف پر جا ٹھہری۔ خاص طور پر مخملی ڈبے پر۔ اس کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

حازم نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور فوراً سمجھ گیا کہ اس کی چھوٹی بہن سب بھانپ چکی ہے۔

(وہ جان بوجھ کر کھانس کر بولا)

"ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟"

(حور نے ہنسی روکتے ہوئے کہا)

"کچھ نہیں... بس یہ والا ڈبہ بہت خوبصورت ہے۔"

حازم نے فوراً وہ ڈبہ اپنی طرف کھسکا لیا، جیسے کوئی راز چھپا رہا ہو۔

"یہ... تمہاری بھابھی کے لیے ہے۔"

حور نے شرارت سے آنکھیں سکیڑ دیں۔

"اوہ... تو بھائی جان سرپرائز کی تیاری کر رہے ہیں؟"

حازم کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔

"ہاں... لیکن یہ بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔ عنایہ کو ذرا بھی اندازہ نہیں ہونا چاہیے۔"

حور نے فوراً اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی۔

"پرومس! بھابھی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔ آج تو مزہ آئے گا۔"

حازم نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور گاڑی گھر کی طرف بڑھ گئی۔

*°*°*°*°*°*

گھر پہنچتے ہی ڈرائیور اور گارڈ تمام تحائف اٹھا کر اوپر کمرے میں لے گئے۔

گارڈز بھی حازم کے پیچھے خاموشی سے کمرے میں داخل ہوۓ۔

ایک ایک کر کے سارے گفٹ باکس بستر پر ترتیب سے سجا دیے گئے۔ سب سے درمیان میں وہ مخملی ڈبہ رکھا گیا، جس میں سونے کا سیٹ موجود تھا۔ گلابوں کا خوبصورت گلدستہ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا، ایک لمحہ سب کچھ دیکھ کر مطمئن ہوا، پھر کمرے کی لائٹ بند کی اور آہستگی سے باہر نکل آیا۔

کمرہ غیر معمولی خاموش تھا۔

اسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ عنایہ یہاں نہیں ہے۔

اسی لمحے کچن کی سمت سے اس کی نرم، دھیمی ہنسی اور رامو کاکا سے باتوں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

حازم کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔

اسی دوران حور کچن میں داخل ہوئی۔

"السلام علیکم، بھابھی!"

عنایہ حور نے پلٹ کر دیکھا تو مسکرا دی۔

"وعلیکم السلام، حور!"

حور دوڑ کر اس کے گلے لگ گئی۔ عنایہ نے پیار سے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرا۔

"آج بہت تھک گئی ہوں، بھابھی... میرا ٹیسٹ تھا۔ اب تو سیدھا جا کر سوؤں گی۔"

پھر وہ رامو کاکا کی طرف مڑی۔

"کاکا! پلیز میرا کھانا بعد میں کمرے میں دے دیجیے گا۔"

"جی بیٹا۔"

حور نے ایک بار پھر عنایہ کو مضبوطی سے گلے لگایا۔ اس کے چہرے پر دبی دبی سی خوشی تھی، جسے عنایہ صرف امتحان ختم ہونے کی خوشی سمجھ بیٹھی۔

"اچھا بھابھی... اللہ حافظ!"

"اللہ حافظ۔"

حور مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی، جبکہ اس کے دل میں صرف ایک ہی خیال تھا۔

"جلدی سے بھابھی کو سرپرائز ملے..."

کچن کے دروازے سے ذرا ہٹ کر حازم خاموش کھڑا تھا۔

اس کی تمام توجہ صرف ایک وجود پر مرکوز تھی۔

عنایہ...

گلابی رنگ کے خوبصورت سوٹ میں ملبوس، جسے چند روز پہلے وہ خود خرید کر لایا تھا۔ یہی لباس بازار میں عنایہ کو سب سے زیادہ پسند آیا تھا، اور آج اسے وہی پہنے دیکھ کر حازم کی نگاہیں جیسے وہیں ٹھہر گئی تھیں۔

وہ رامو کاکا سے کھانے اور ککنگ کی باتیں کر رہی تھی۔

کبھی ہنس دیتی...

کبھی بال کان کے پیچھے کرتی...

کبھی دوپٹہ سنبھالتی...

حازم کو ان کی کوئی بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔

وہ صرف عنایہ کو دیکھ رہا تھا۔

اس کے ریشمی بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی معصوم ہنسی پورے کچن کو روشن کر رہی تھی۔

حازم کے دل میں عجیب سی راحت اتری۔

"شکر ہے... یہ مسکرائی تو سہی۔ میرے سامنے تو کبھی یوں دل کھول کر نہیں ہنستی..."

وہ چند لمحے اسی سکون سے اسے دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے کچن میں داخل ہو گیا۔

عنایہ نے جیسے ہی اسے دیکھا، فوراً چونک کر اپنا دوپٹہ درست کیا اور ادب سے کھڑی ہو گئی۔

"السلام علیکم۔"

"وعلیکم السلام۔"

(حازم نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا)

(رامو کاکا بولے)

"بابا، کھانا لگا دوں؟"

(حازم نے نفی میں سر ہلایا)

"نہیں کاکا... آج ہم باہر کھانا کھائیں گے۔"

عنایہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

"باہر؟ مگر... کہاں جانا ہے؟"

(حازم نے جان بوجھ کر چند لمحے خاموش رہ کر اسے دیکھا، پھر ہلکی سی شرارت سے بولا)

"تیار ہو جائیے... آپ کو آپ کی امی کے گھر لے جا رہا ہوں۔"

ایک لمحے کے لیے عنایہ جیسے ساکت رہ گئی۔

"امی... کے پاس؟"

اس کی آنکھوں میں بے اختیار چمک اتر آئی۔

"سچ؟"

حازم مسکرا دیا۔

"جی، بالکل سچ۔"

عنایہ کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

"میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں!"

وہ جلدی جلدی اپنے کمرے کی طرف بھاگی،اور واپس لوٹ آئی اور چند ہی لمحوں بعد دوپٹہ سنبھالتی ہوئی واپس

آ گئی۔

"میں تیار ہوں..."ابھی تو ڈریس بدلا تھا.

اس کی آواز میں بچوں جیسی خوشی تھی۔

حازم نے خاموشی سے گاڑی کا دروازہ کھولا، ہلکا سا جھک کر ہاتھ سے اشارہ کیا۔

"تشریف لائیے، بیگم۔"

عنایہ چونک کر مسکرا دی۔

وہ آہستگی سے گاڑی میں بیٹھی تو حازم نے نہایت احتیاط سے دروازہ بند کیا، جیسے کسی قیمتی امانت کو سنبھال رہا ہو۔

پھر خود دوسری طرف جا کر بیٹھ گیا۔

گاڑی آہستہ آہستہ گھر سے نکل گئی... جبکہ کمرے میں رکھے تحائف خاموشی سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے، جب عنایہ کی حیرت خوشی میں بدلنے والی تھی۔

*°*°*°*°*°*

ہسپتال کے کمرے میں عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

صرف مانیٹر کی مسلسل بیپ... بیپ... اور ڈرپ سے گرتے قطروں کی مدھم آواز اس خاموشی کو توڑ رہی تھی۔

بیڈ پر علیزے کی والدہ نیم بے ہوشی کی حالت میں لیٹی تھیں۔ ان کے ہاتھ کی نس میں ڈرپ لگی ہوئی تھی، چہرہ زرد اور بے حد کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ عمر اور بیماری نے جیسے ان کے وجود سے ساری طاقت چھین لی تھی۔

علیزے ان کے سرہانے رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی والدہ کا کمزور ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا، جیسے ڈر ہو کہ اگر اس نے گرفت ڈھیلی کی تو یہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے اس سے چھوٹ جائے گا۔

اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔

(وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی)

"امی... پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائیے گا۔ آپ اتنی جلدی میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گی نا۔ آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں گا میں تنہا نہیں رہ سکتی.."

اس نے ان کے ہاتھ کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔

"آپ جانتی ہیں... میں نے تو اپنے اصل ماں باپ کو کبھی دیکھا ہی نہیں۔ مجھے آج تک نہیں معلوم کہ میں کس کی بیٹی ہوں... میری پہچان کیا ہے... میرا اپنا کون ہے..."

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

"آپ ہی نے مجھے نام دیا... آپ ہی نے مجھے ماں کی محبت دی... آپ ہی نے مجھے پال پوس کر بڑا کیا۔ اگر آج آپ بھی مجھے چھوڑ دیں گی... تو میں بالکل اکیلی ہو جاؤں گی، امی..."

اس کے آنسو ٹپ... ٹپ... کر کے ان کی ہتھیلی پر گرنے لگے۔

اچانک اس نے محسوس کیا...

والدہ کی انگلیاں ہلکی سی حرکت کر رہی تھیں۔

"امی!"

علیزے نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اور بے اختیار ان کے قریب جھک گئی۔

(ان کی پلکیں آہستہ آہستہ کھلیں)

کمزور سی مسکراہٹ ان کے لبوں پر ابھری۔

"میری بچی..."

علیزے نے فوراً ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔

"امی... آپ ٹھیک ہیں نا؟ آپ نے تو مجھے ڈرا دیا تھا..."

وہ ہلکا سا مسکرائیں۔

"پاگل لڑکی... تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کچھ ہو سکتا ہے کیا؟"

یہ سنتے ہی علیزے پھر رو پڑی۔

انہوں نے بڑی مشکل سے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھایا اور اس کے سر پر رکھا۔

"بس ایک خواہش ہے میری..."

علیزے نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

"امی... ابھی کوئی خواہش نہیں... پہلے آپ ٹھیک ہو جائیں۔"

(وہ آہستہ سے بولیں)

"میری بات سنو، علیزے..."

علیزے خاموش ہو گئی۔

"میں چاہتی ہوں... اپنی زندگی میں تمہاری شادی دیکھ لوں۔"

علیزے کی آنکھیں بھر آئیں۔

"امی..."

انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔

"مجھے نہیں معلوم میری سانسیں کتنی باقی ہیں۔ بیماری نے مجھے بہت تھکا دیا ہے۔ میں ہر وقت یہی سوچتی ہوں کہ اگر میں نہ رہی... تو میری بچی کا کیا ہوگا؟"

ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

"یہ دنیا بہت ظالم ہے، علیزے۔ میں تمہیں اس دنیا کے حوالے اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی۔"

علیزے نے زور سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔

"امی... پلیز ایسی باتیں نہ کریں..."

انہوں نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔

"زیشان... بہت اچھا لڑکا ہے۔"

علیزے خاموش ہو گئی۔

"وہ مجھے شروع سے پسند ہے۔ اور ایک بات میں نے کئی بار محسوس کی ہے..."

وہ ہلکا سا مسکرائیں۔

"اس کی آنکھوں میں تمہارے لیے محبت دیکھی ہے میں نے... کئی مرتبہ دیکھی ہے۔"

علیزے کی پلکیں جھک گئیں۔

"بیٹا... میں تمہیں پہلے بھی کئی بار کہہ چکی ہوں..."

"جو انسان تم سے سچی محبت کرے... اسے کبھی ٹھکرانا نہیں چاہیے۔"

"دنیا میں ہر کسی کو ایسا نصیب نہیں ملتا کہ کوئی اسے دل سے چاہنے والا مل جائے۔ اگر ایک مخلص انسان تمہاری زندگی میں آ جائے... تو یہی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔"

انہوں نے اس کا ہاتھ دبایا۔

"اس لیے... زیشان کو رد مت کرنا۔ اگر وہ تمہیں خوش رکھ سکتا ہے... تو اس کا ہاتھ تھام لینا۔ مجھے یقین ہے وہ تمہیں کبھی رونے نہیں دے گا۔"

چند لمحے خاموش رہ کر وہ دھیرے سے بولیں،

"اور اگر اللہ نے چاہا... اور میری زندگی رہی... تو میں اپنی بیٹی کو دلہن بنتے ہوئے ضرور دیکھوں گی..."

ان کی آواز لرز گئی۔

"لیکن اگر..."

"امی!"

علیزے نے بے اختیار چیخ کر ان کی بات کاٹ دی۔

"خدا کے لیے ایسی باتیں نہ کریں!"

وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اس کے آنسو مسلسل اس کی والدہ کے ہاتھ پر گر رہے تھے۔

"آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتیں... میں آپ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں... آپ ہی میری دنیا ہیں..."

والدہ نے کمزور سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے آنسو صاف کیے۔

"بس... میری بچی..."

"چپ ہو جاؤ..."

"تمہیں روتا ہوا دیکھ کر مجھے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔"

علیزے نے ہچکیوں کے درمیان نفی میں سر ہلایا، مگر آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

کچھ لمحوں بعد اس نے جلدی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، آنسو صاف کیے اور خود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کی۔

"میں... ابھی آتی ہوں، امی..."

یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی، کیونکہ اب اس کے لیے وہاں مزید ٹھہرنا ممکن نہیں تھا۔

دروازہ بند ہوتے ہی اس کی والدہ نم آنکھوں سے اسی بند ہوتے دروازے کو دیکھتی رہ گئیں۔

ان کے لب خاموشی سے دعا مانگ رہے تھے...

"یا اللہ... میری بچی کی حفاظت فرمانا... اسے کبھی تنہا مت چھوڑنا۔"

جاری ہے......

Let syeda hasba know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Milky Treasures on a Healing Love

Booklover_rdx: A different but good story. Basically a love story with a twist- i enjoyed every word of it

Read Now
The Easter Bunny

Lynne: Beautiful short story with a happy ending.luved it.

Read Now
The Grumpy Next Door

Jane: A lovely story with good characters.

Read Now
Claimed By The Wrong Prince

Sasha: What a beautiful story, he was the perfect prince

Read Now
Bear Roberts

Gabby: I’m working with **Lorey**, a platform that turns novel characters and scenes into interactive experiences readers can play.We can help you:- Turn your story into character profiles- Preserve each character’s voice and relationships- Create an interactive scene for you to reviewYour story won’t be ...

Read Now
Beyond the Ice Wall

LovetoreadStephanie: I am actually really impressed by this book. How a conspiracy theory can be made in an original, heartwarming and dreamy romance! I am so happy it's a series! I can't stop imagining the world and how I wished it was true 😍

Read Now
The Alpha's Exiled Mate

Mokatoka: Say what????? God! Is it over???

Read Now
Ruthless Lord

gdmee04: Great story line well written

Read Now
PARIS IN THE DARK

Sasha: Love this kind of romantic stories, very good one.

Read Now