باب اول: ایک سادہ سی لڑکی
ہر کہانی کی ابتدا کسی نہ کسی خواب سے ہوتی ہے، مگر کچھ خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں حقیقت بننے سے پہلے بے شمار آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے...
ایک عام سے متوسط گھرانے کی ایک لڑکی، جس کی زندگی نہ محلوں میں گزری، نہ آسائشوں میں۔ اس کے حصے میں سادہ سا گھر، محدود وسائل، مگر محبت سے بھرپور خاندان آیا۔ بچپن کی ہنسی، ماں کی شفقت، بہن بھائیوں کی شرارتیں اور والد کی دعائیں... یہی اس کی دنیا تھی۔
وقت نے خاموشی سے اسے بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔ عمر تو ابھی کم تھی، مگر حالات نے اسے وقت سے پہلے سمجھدار بنا دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی صرف خوابوں کا نام نہیں، ذمہ داریوں کا بھی دوسرا نام ہے۔
ہر صبح اذان کے ساتھ آنکھ کھلتی۔ وضو، نماز، پھر امی کے ساتھ گھر کے کام۔ گیس بند ہونے کے خوف سے جلدی جلدی سب کے لیے ناشتہ تیار کرنا، گھر کو سنبھالنا، پھر خود کالج کے لیے تیار ہونا۔ زندگی ایک مسلسل سفر تھی، جس میں آرام کے لیے شاید ہی کبھی وقت ملتا۔
اس کے پاس محلے کے بچے قرآنِ پاک پڑھنے آتے۔ ان کے معصوم چہروں میں اسے سکون ملتا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ علم بانٹے، کیونکہ اسے یقین تھا کہ علم انسان کی اصل دولت ہے۔
کالج سے واپسی پر چند لمحے آرام کرنا بھی نصیب نہ ہوتا۔ کپڑے بدل کر ٹیوشن چلی جاتی، پھر رات گئے تک پڑھائی۔ اس کی زندگی میں مصروفیت بہت تھی، مگر شکایت کبھی نہیں تھی۔ وہ ہر نئی صبح کو اللہ کی نعمت سمجھ کر قبول کرتی تھی۔
اس کے دل میں بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح خواب تھے۔ ایک کامیاب ٹیچر بننے کا خواب، اپنے والدین کا سہارا بننے کا خواب، اور ایک ایسی زندگی کا خواب جس میں محبت، عزت اور سکون ہو۔
مگر اسے کیا معلوم تھا کہ قسمت اس کے لیے ایک ایسا راستہ لکھ چکی ہے، جہاں محبت بھی ہوگی، جدائی بھی... خوشیاں بھی ہوں گی اور آنسو بھی۔
یہ تو صرف ابتدا تھی۔
اصل امتحان ابھی باقی تھا...
جاری ہے... 🌹








