Chapter 20
قسط نمبر 20
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
عنایہ خوشی سے دمکتی ہوئی اپنے میکے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر وہی بےساختہ مسکراہٹ تھی جو مدتوں بعد لوٹی تھی۔ اس کے برابر حازم اپنی ہمیشہ والی باوقار، پُررعب اور سنجیدہ شخصیت کے ساتھ کھڑا تھا۔ سیاہ سوٹ میں ملبوس، سیدھی قامت، پُرسکون نگاہیں... دونوں ایک ساتھ ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی شاہی محل سے شہزادہ اور شہزادی چلے آئے ہوں۔
اندر ڈرائنگ روم میں عنایہ کی والدہ خاموشی سے بیٹھی آنسو پونچھ رہی تھیں۔ بیٹی کی یاد نے دل کو بوجھل کر رکھا تھا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
نیہا جلدی سے اٹھی اور دروازہ کھولا۔
"عنایہ باجی...!"
اس کی خوشی بھری چیخ بے اختیار نکلی۔
اگلے ہی لمحے عنایہ ہنستی ہوئی اندر داخل ہوئی اور نیہا لپک کر اسے گلے لگا
"میری بہن...!"
دونوں بہنیں چند لمحے ایک دوسرے سے لپٹی رہیں۔
نیہا کے پیچھے حازم بھی خاموش وقار کے ساتھ اندر آیا۔
عنایہ کی والدہ نے جیسے ہی بیٹی کو دیکھا، ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔
"میری بچی...!"
وہ تقریباً دوڑتی ہوئی آئیں اور عنایہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔عنایہ بھی بچوں کی طرح اپنی ماں سے لپٹ گئی۔
"امی... بہت یاد آ رہی تھی آپ کی۔"
والدہ نے اس کا ماتھا، رخسار اور پیشانی بار بار چومے۔
"اللہ میری بچی ہمیشہ خوش رکھے... میری جان آ گئی۔"
عنایہ نے محبت سے جھک کر اپنی والدہ کے دونوں ہاتھ چوم لیے۔
"اللہ آپ کو سلامت رکھے، امی۔"
تینوں کی آنکھیں نم تھیں، مگر ان آنسوؤں میں صرف خوشی تھی۔
نیہا نے مسکراتے ہوئے حازم کی طرف دیکھا۔
"بھائی، آپ پلیز بیٹھیں... میں ابھی چائے لے کر آتی ہوں۔"
حازم نے ہلکی سی گردن ہلائی۔
"جی، شکریہ۔"
وہ نفاست سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ ایک ٹانگ دوسری پر رکھے، بالکل ایک کامیاب بزنس مین کے اعتماد کے ساتھ۔ اس نے احتراماً سلام کیا۔
"السلام علیکم۔"
عنایہ کی والدہ نے جواب دیا۔
"وعلیکم السلام، خوش رہو بیٹا۔"
انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔"اللہ تمہیں ہمیشہ عزت دے... ہمیشہ سلامت رکھے، میرے شہزادے۔"
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہیں، پھر ان کی آواز بھرّا گئی۔
"جس وقت سب نے میری بیٹی کو تنہا چھوڑ دیا تھا... جب اپنے ہی منہ موڑ گئے تھے... اس وقت تم نے اس کی عزت کو اپنی عزت بنایا۔ میری بیٹی کو نام دیا، سہارا دیا... اللہ تمہیں ہر خوشی عطا کرے۔"
حازم نے نظریں جھکا لیں۔
"آمین۔"
صرف ایک لفظ... مگر اس ایک لفظ میں مکمل عاجزی تھی۔
عنایہ کی نظریں بےاختیار حازم پر جا ٹھہریں۔ اس کے ہونٹوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ آ گئی۔
اسی دوران نیہا ٹرے اٹھائے واپس آ گئی۔
اس نے ٹیبل پر پانی کی بوتل، بسکٹ، چائے اور ہلکے پھلکے اسنیکس سجا دیے۔
"بھائی، یہ سب آپ کے لیے ہے۔ پہلے چائے پیجیے۔"
"شکریہ، نیہا۔"
حازم نے کپ اٹھایا اور آہستگی سے ایک گھونٹ لیا۔
ادھر عنایہ اپنی والدہ اور نیہا سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔
"امی، آپ نے دوا وقت پر لی نا؟"
"جی میری بچی، اب تو تمہیں دیکھ لیا ہے، آدھی بیماری ویسے ہی ختم ہو گئی۔"
سب ہنس پڑے۔
باتوں کے دوران عنایہ کبھی چپکے سے حازم کی طرف دیکھ لیتی۔
ہر بار اسے چائے پیتے یا خاموش بیٹھے دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آ جاتی۔
اور حازم...
وہ بظاہر پوری سنجیدگی سے چائے پی رہا تھا، مگر اس کی نظریں بار بار عنایہ کی طرف اٹھ جاتیں۔ وہ محسوس بھی نہ ہونے دیتا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
وہ صرف عنایہ کے چہرے پر بکھری خوشی کو دیکھ رہا تھا۔
یہ پہلی بار تھا...
جب اس نے عنایہ کو اپنی ماں اور بہن کے ساتھ اس بےفکری سے ہنستے، مسکراتے اور زندہ دل انداز میں دیکھا تھا۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔
"شاید... اس کی یہ مسکراہٹ ہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔"
مگر یہ خیال بھی اس نے اپنے چہرے پر آنے نہ دیا۔
اس نے خاموشی سے چائے کا ایک اور گھونٹ لیا، جبکہ سامنے بیٹھی عنایہ اپنی دنیا میں مگن تھی... اور اس کی وہ بےساختہ مسکراہٹ حازم کی نگاہوں میں خاموشی سے محفوظ ہوتی جا رہی تھی۔
*°*°*°*°*°*
حازم عنایہ کو اُس کے گھر چھوڑ کر واپس لوٹا تو شام ڈھلنے لگی تھی۔ اُس کے ہاتھوں میں کئی شاپنگ بیگز تھے جن میں عنایہ کے لیے خریدے گئے کچھ اور تحائف کے ساتھ ساتھ گھر والوں کے لیے چاکلیٹس، کینڈیز اور چھوٹی بہن کی پسندیدہ ٹافیاں بھی موجود تھیں۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اُس نے سب سے پہلے بہن کے کمرے کا رُخ کیا۔
دروازہ ہلکا سا کھلا تھا۔ اندر اُس کی چھوٹی بہن اپنی کتابوں کے درمیان بیٹھی پوری توجہ سے پڑھ رہی تھی۔ سامنے ریاضی کی کتاب، کاپی اور پینسلیں بکھری ہوئی تھیں۔ وہ بار بار کسی سوال کو دیکھتی اور پھر پریشانی سے ماتھا سہلا دیتی۔
"بھائی...!" اُس نے حازم کو دیکھا تو فوراً چہرہ کھل اٹھا، "میرے پیپر شروع ہونے والے ہیں ، پلیز میری ہیلپ کریں نا۔ مجھے یہ سوال بالکل سمجھ نہیں آ رہا۔"
حازم کے ہونٹوں پر بے اختیار نرم سی مسکراہٹ آگئی۔
وہ اُس کے قریب آیا، محبت سے اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں، پھر جھک کر اُس کی پیشانی کو بوسہ دیا۔
"پہلے یہ دیکھو، تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔"
اُس نے بیگ سے رنگ برنگی چاکلیٹس اور کینڈیز نکال کر اُس کے سامنے رکھ دیں۔
"واہ...! میری فیورٹ!" حورین بچوں کی طرح خوش ہو کر بولی۔
حازم نے ہلکا سا مسکرا کر اُس کی کتاب اپنے ہاتھ میں لی، کاپی کھولی اور کرسی کھینچ کر اُس کے برابر بیٹھ گیا۔
"اچھا، بتاؤ کون سا سوال کرنا ہے؟"
اُس نے فوراً کاپی میں ایک سوال پر انگلی رکھ دی۔
حازم کی شخصیت پڑھاتے وقت بالکل بدل جاتی تھی۔ اُس کے چہرے پر سنجیدگی، لہجے میں ٹھہراؤ اور انداز میں بے حد صبر آ جاتا۔ وہ ہر قدم آہستہ آہستہ سمجھاتا، ہر فارمولا آسان لفظوں میں بیان کرتا اور بار بار پوچھتا کہ بات سمجھ آئی یا نہیں۔
چھوٹی بہن خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔ہر بار اُسے یہی محسوس ہوتا کہ دنیا کا سب سے بہترین بھائی اُس کے سامنے بیٹھا ہے۔
کچھ دیر بعد سوال مکمل ہوگیا۔
"اب سمجھ آیا؟"
"جی بھائی، اب تو بہت آسان لگ رہا ہے۔"
حازم نے مسکرا کر دوبارہ اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"شاباش... میری بہن بہت اچھے نمبر لے کر آئے گی۔"
(وہ اُٹھتے ہوئے بولا)
"میں پہلے کپڑے بدل کر آتا ہوں، آج کافی تھک گیا ہوں۔ ابھی ابھی تمہاری بھابھی کو اُن کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔"
یہ سنتے ہی اُس کی بہن کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
"بھابھی کب آئیں گی واپس؟"
حازم کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔
"بس کل۔ میں اُنہیں لینے جاؤں گا۔ اُن کے لیے سارے گفٹس خرید لیے ہیں۔ پہلی بار جب وہ اس گھر میں آئی تھیں تو سب کچھ اچانک ہوا تھا، اُن کا ویسا استقبال نہیں کر سکے تھے جیسا ہونا چاہیے تھا۔"
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر نرم لہجے میں بولا،
"لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ اس بار ہم مل کر جائیں گے۔ اُن کے لیے خاص استقبال کریں گے۔ میں اُن کا کمرہ بھی اچھی طرح تیار کرواؤں گا، تحفے بھی دوں گا، تاکہ اُنہیں ہمیشہ یاد رہے کہ یہ گھر اُن کا اپنا گھر ہے۔"
چھوٹی بہن خوشی سے کھل اٹھی۔
"سچ بھائی؟ میں بھی چلوں گی نا؟"
"بالکل۔ جیسے ہی تم کل اسکول سے واپس آؤ گی، ہم دونوں ساتھ چلیں گے آپکی بھابھی کو لینے۔"
حورین کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔
وہ فوراً اپنی کرسی سے اُٹھی اور دوڑ کر اپنے بھائی کے گلے لگ گئی۔
"بھائی... کل تو بہت مزہ آئے گا۔ مجھے ابھی سے کل کا انتظار ہے۔"
حازم نے ہلکے سے اُس کی پشت تھپتھپائی اور مسکرا کر کہا،
"اب انتظار کرنے کے بجائے پہلے اپنی تیاری مکمل کرو۔ مجھے وعدہ چاہیے کہ کل سے پہلے میتھ کا کوئی سوال مشکل نہیں لگے گا۔"
وہ فوراً ہنس پڑی۔
"وعدہ...! اور کل ہم میری پیاری بھابھی کو گھر لے کر آئیں گے۔"
اس ننھی سی خوشی نے پورے کمرے کو محبت، اپنائیت اور آنے والے خوبصورت کل کی امید سے بھر دیا۔
*°*°*°*°*°*
حازم کے جانے کے بعد گھر ایک بار پھر اپنے مانوس سکون میں ڈوب گیا۔
لاؤنج میں عنایہ اپنی والدہ، بہن نیہا اور چھوٹے بھائی علی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد یہ اُس کی پہلی آمد تھی، اسی لیے گھر کا ہر فرد اُسے دیکھ کر بے حد خوش تھا۔
نیہا تو جیسے صبح ہی سے اپنی بہن کے لیے مصروف تھی۔
اُس نے اپنے ہاتھوں سے عنایہ کی پسندیدہ بریانی، کباب، رائتہ اور کئی پسندیدہ پکوان تیار کیے تھے۔
وہ بار بار پلیٹ میں کھانا ڈال کر عنایہ کے سامنے رکھتی اور پیار سے کہتی،
"آج کوئی بہانہ نہیں چلے گا، آج آپ کو میری بات ماننی پڑے گی۔ شادی کے بعد پہلی بار گھر آئی ہو ، آج میں اپنی بہن کو اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی۔"
عنایہ ہلکا سا مسکرائی۔
"اتنا سب کچھ کیوں بنایا ہے؟"
"کیونکہ میری بہن آئی ہے... اور یہ خوشی روز روز تھوڑی ملتی ہے۔"
والدہ محبت بھری نظروں سے دونوں بہنوں کو دیکھ رہی تھیں۔
دوپہر کا کھانا سب نے اکٹھے کھایا۔ جاتے ہوئے حازم عنایہ سے کہہ کر کے گیا تھا۔
"کل میں خود آپ کو لینے آؤں گا۔"
یہی الفاظ بار بار عنایہ کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
رات ڈھلے دروازے کی گھنٹی بجی۔
زہرا کا شوہر ساحل، زہرا گھر میں داخل ہوۓ۔ اُن کے ہاتھوں میں خوبصورت گفٹس کے بیگز تھے۔
زہرا نے مسکراتے ہوئے وہ تحفے عنایہ کی طرف بڑھا دیے۔
"یہ سب تمہارے لیے ہیں۔"
عنایہ حیرت سے اُن کی طرف دیکھنے لگی۔
"میرے لیے؟"
ساحل مسکرا دیا۔
"اصل میں یہ تحفے تو ہم نے تمہاری شادی کے لیے پہلے ہی خرید لیے تھے، مگر تمہاری شادی میں دے نہیں سکے اس وقت صورتحال کچھ اور تھی. مگر اپنی بہن کو اُس کا حق ضرور دیں گے۔"
عنایہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اُس نے ایک ایک تحفہ محبت سے اپنے سینے سے لگا لیا۔
"آپ لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں تھی..."
"ضرورت نہیں تھی، دل تھا۔" زہرا نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
رات کا کھانا سب نے ہنسی خوشی ساتھ کھایا۔
کھانے کے بعد ساحل اور علی کسی کام سے باہر چلے گئے تاکہ دونوں سہیلیوں کو کچھ وقت اکیلے مل سکے۔کمرے میں صرف زہرا اور عنایہ رہ گئیں۔دونوں ایک ہی بستر پر ساتھ لیٹ گئیں۔
چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔
پھر زہرا نے آہستہ سے عنایہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
"سچ سچ بتاؤ... خوش ہو نا؟"
عنایہ نے نظریں جھکا لیں۔
ہونٹوں پر ایک گمنام سی مسکراہٹ آئی.
زہرا سب سمجھ گئی۔
میں جانتی ہو جو ہوا بہت جلدی ہوا اور سب بہت عجیب تھا لیکن اب یہی حقیقت ہے۔
زہرا نے محبت سے اُس کے بال سہلائے۔
"ساحل حازم بھائی کی اتنی تعریفیں کر رہے تھے کہ میں تو حیران رہ گئی۔ کہہ رہے تھے وہ صرف دیکھنے میں ہی نہیں، دل کے بھی بہت اچھے ہیں۔"
(وہ مسکرا کر بولی)
"اتنے بڑے بزنس مین ہونے کے باوجود اُن میں ذرا سا غرور نہیں۔ ہر ایک سے عزت سے پیش آتے ہیں، اپنی بیوی کا بے حد خیال رکھتے ہیں، اور اُن کی پوری دنیا جیسے اب صرف تم ہو۔"
عنایہ خاموشی سے سنتی رہی۔
اُس کے گالوں پر حیا کی ہلکی سی سرخی پھیل گئی۔
زہرا نے شرارت سے اُس کا چہرہ دیکھا۔
"اور ویسے بھی... ماننا پڑے گا، ہمارے بہنوئی بہت ہی ہینڈسم ہیں۔"
"زہرا...!" عنایہ نے شرماتے ہوئے اُس کے بازو پر ہلکی سی چپت لگائی۔
زہرا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
"اچھا اچھا، نہیں چھیڑتی۔ لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا... جو ہو گیا، وہ اللہ کی بہترین تقدیر تھی۔ اگر اللہ نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا نصیب بنایا ہے تو ضرور اس میں کوئی بہت بڑی حکمت ہوگی۔"
عنایہ نے دھیرے سے سر ہلا دیا۔
اُس کے دل میں حازم کی آج کی ہر بات، اُس کا خیال، اُس کی محبت اور کل دوبارہ ملنے کا احساس ایک حسین پل بن کر اتر چکا تھا۔
کمرے میں دونوں سہیلیاں دیر تک ایک دوسرے سے باتیں کرتی رہیں، کبھی ہنستیں، کبھی پرانی یادیں تازہ کرتیں، اور کبھی آنے والے خوبصورت دنوں کے خواب سجاتیں۔
*°*°*°*°*°*
چند دنوں بعد علیزے اپنی والدہ کو ہسپتال سے گھر لے آئی تھی۔
اگرچہ ڈاکٹر نے مکمل آرام کی سخت ہدایت کی تھی، مگر گھر کی چار دیواری میں آ کر جیسے اُن کی طبیعت کچھ سنبھلنے لگی تھی۔
علیزے صبح سے شام تک ایک لمحے کے لیے بھی اُن سے دور نہ ہوتی۔
کبھی وقت پر دوائی دیتی، کبھی پھل لا کر دیتی، کبھی پانی کا گلاس لا کر دیتی، کبھی اُن کے سر کی مالش کرتی، تو کبھی خاموشی سے اُن کے قدم دباتی۔ اُس کی ہر سانس اپنی ماں کی راحت سے جڑی ہوئی تھی۔
دوپہر کے وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
علیزے نے دروازہ کھولا تو سامنے زیشان کھڑا تھا۔ اُس کے ہاتھوں میں روزمرہ کے راشن کے تھیلے، پھل، دودھ اور کچھ ضروری سامان تھا۔
"السلام علیکم۔"
"وعلیکم السلام..."
علیزے نے حیرت سے اُس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔
"یہ سب کیا ہے؟"
زیشان نے مسکرا کر سامان اندر رکھتے ہوئے کہا،
"کچھ خاص نہیں... گھر کا تھوڑا سا راشن ہے، اور آنٹی کے لیے کچھ ضروری چیزیں۔"
(علیزے فوراً بول اٹھی)
"نہیں... واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ پہلے ہی بہت کچھ کر چکے ہیں۔ میں یہ نہیں لے سکتی۔"
وہ سامان واپس کرنے لگی، مگر زیشان نے نرمی سے اُس کا ہاتھ روک لیا۔
"علیزے... کبھی کبھی کسی کو اپنا فرض ادا کرنے دینا چاہیے ۔"
یہ جملہ سنتے ہی علیزے کی آنکھیں نم ہوگئیں۔اسے اپنی والدہ کی کہی ہوئی بات یاد آئی.
وہ فوراً دوسری طرف دیکھنے لگی تاکہ زیشان اُس کے آنسو نہ دیکھ سکے۔
زیشان اُس کے چہرے پر چھپی تھکن، بے بسی اور مصنوعی مضبوطی سب پڑھ چکا تھا۔
(زیشان نے آہستہ سے کہا)
"تم ہر وقت اپنی والدہ کے لیے فکر مند رہتی ہو... مگر کبھی اپنے بارے میں بھی سوچا ہے؟"
(علیزے خاموش رہی)
"آنٹی ان شاء اللہ جلد بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔ لیکن اگر تم خود کو یوں ہی تھکا دو گی تو اُن کا خیال کون رکھے گا؟"
اُس کی آواز میں خلوص تھا، کوئی ترس نہیں۔
علیزے نے نم آنکھوں کے ساتھ ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
"شکریہ..."
زیشان نے ایک اور تھیلا اُس کی طرف بڑھایا۔
"اور ہاں... مجھے معلوم تھا کہ تم اپنی مصروفیت میں کھانا بھی ٹھیک سے نہیں بناؤ گی، اس لیے راستے سے تازہ کھانا بھی لیتا آیا ہوں۔ پہلے خود بھی کھانا کھانا، پھر آنٹی کو دوا دینی ہے۔"
علیزے کے پاس انکار کی ہمت ہی نہ رہی۔
صرف آہستہ سے سر جھکا دیا۔
چند ضروری باتیں کرنے کے بعد زیشان نے اجازت لی اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔
گھر میں ایک بار پھر سکون چھا گیا۔
علیزے سامان سمیٹ کر کچن میں گئی، کھانا گرم کیا اور پھر ٹرے لے کر اپنی والدہ کے کمرے میں داخل ہوئی۔
اُس کی والدہ تکیے سے ٹیک لگائے آرام کر رہی تھیں۔
علیزے اُن کے قریب بیٹھی، نرمی سے اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
"امی... اٹھ جائیں، دوا کا وقت بھی ہو گیا ہے اور کھانا بھی کھا لیجیے۔"
والدہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
کمزور ہاتھ محبت سے اپنی بیٹی کے رخسار پر رکھا۔
"میری بچی... تم بہت تھک گئی ہو نا؟"
(علیزے فوراً مسکرا دی)
"میں ٹھیک ہوں امی... آپ بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں، پھر میری ساری تھکن خود ہی ختم ہو جائے گی۔"
والدہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔
"اللہ ہر ماں کو تم جیسی بیٹی دے... جس نے اپنی ہر خوشی میرے نام کر دی۔"
علیزے نے فوراً اُن کے آنسو صاف کیے اور جھک کر اُن کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
"ایسا نہ کہیں امی... میری دنیا آپ سے شروع ہوتی ہے اور آپ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اللہ سے میری بس یہی دعا ہے کہ آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔"
والدہ نے بیٹی کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
اس خاموش سے کمرے میں ماں بیٹی کی محبت، دعا اور بے لوث رشتے کی خوشبو اس قدر گہری تھی کہ الفاظ بھی اُس احساس کو مکمل بیان کرنے سے قاصر تھے۔
*°*°*°*°*°*
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔
عنایہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آئی۔وہی کمرا جو اب اسکے لیے پرایا ہو چکا تھا. دروازہ بند کیا، اپنے ہاتھوں سے شاپنگ بیگز ایک طرف رکھے، جو آج زہرا اسے تحفے میں ملے تھے. کتابیں میز پر ترتیب سے رکھ دیں اور آہستہ آہستہ بستر کی طرف بڑھنے لگی۔
اچانک اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رک گئی۔
کتابوں کے ساتھ ایک تصویر بھی رکھی تھی۔عنایہ اور رضا کی تصویر جو رضا نے کسی خاص موقع پر دی تھی۔
عنایہ چند لمحے ساکت کھڑی رہی۔
وہ آہستہ سے آگے بڑھی، تصویر اپنے ہاتھ میں اٹھائی اور دیر تک خاموش نظروں سے اُسے دیکھتی رہی۔
چند پرانی یادیں بے اختیار اُس کے دل میں اترنے لگیں۔
جب بھی کاموں کے بوجھ کی وجہ سے تم مجھے بھول جاؤ تو یہ تصویر تمھیں ہمیشہ میری یاد دلاۓ گی۔
رضا نے تصویر دیتے وقت عنایہ سے کہا تھا. اس بات پر عنایہ ہنس دی تھی۔
اُس کی پلکیں بھیگ گئیں۔
ایک آنسو خاموشی سے اُس کے گال پر ڈھلک آیا، پھر دوسرا...
وہ تصویر کو اپنے سینے سے لگا کر ہلکے سے سسک پڑی۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے، گہرا سانس لیا اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
اسے اس حقیقت پر اب بھی یقین نہیں
آ پا رہا تھا کے رضا سب بدل چکا تھا۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر میں کسی کو معلوم ہو کہ وہ اب بھی اندر ہی اندر ٹوٹ رہی ہے۔
اتنے میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ نیہا اندر آئی اور مسکراتے ہوئے اُس کے پاس بیٹھ گئی۔ دونوں بہنیں کافی دیر تک ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہیں۔ باتوں ہی باتوں میں نیہا نے مسکرا کر پوچھا،
"ویسے... حازم بھائی کیسے ہیں؟"
عنایہ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر صرف اتنا ہی بولی،
"ٹھیک ہیں..."
نیہا نے محسوس کیا کہ عنایہ اس موضوع پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی، اس لیے اُس نے مزید کچھ نہ پوچھا۔
کافی دیر گزرنے کے بعد وہ مسکرا کر نیہا بولی،
"چلو، اب بہت باتیں ہو گئیں... سو جاتے ہیں۔"
یہ کہہ کر نیہا اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کمرے میں ایک بار پھر خاموشی پھیل گئی۔
عنایہ آہستہ سے بستر پر لیٹ گئی اور چھت کو خاموش نظروں سے دیکھنے لگی۔
مگر آج اُس کے ذہن میں عجیب سی کشمکش تھی۔
ایک طرف رضا کی یادیں تھیں... برسوں کا ساتھ، ادھورے خواب اور ٹوٹے ہوئے وعدے۔
دوسری طرف حازم تھا...
وہ شخص جسے وہ جانتی تک نہیں تھی، مگر جو ہر لمحہ اُس کا خیال رکھتا تھا، اُس کی ہر ضرورت کا دھیان رکھتا تھا، بغیر کسی شکوے کے اُس کی خاموشیوں کو برداشت کرتا تھا۔
عنایہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
"وہ اتنا بُرا تو نہیں ہے..."
یہ خیال بے اختیار اُس کے دل میں آیا۔
"بلکہ... وہ تو بہت اچھا انسان ہے۔"
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے خود کو جھٹک دیا۔
"نہیں... میں ابھی یہ سب نہیں سوچ سکتی۔"
اچانک اُسے گزشتہ رات کا وہ عجیب لمحہ یاد آیا۔
اندھیرا...
بے نام سا ایک احساس...
جیسے کوئی اُس کے بہت قریب تھا۔
پھر وہ اچانک گھبرا کر جاگ گئی تھی۔
آنکھیں کھولیں تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ وہ چند لمحے اسی یاد میں کھوئی رہی۔
"کیا وہ حقیقت تھی... یا صرف ایک خواب؟"
یہ سوال بار بار اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگا۔
وہ جتنا سوچتی، اتنی ہی الجھتی جاتی۔
آخرکار اُس نے کروٹ بدلی، لحاف اپنے گرد سمیٹا اور آنکھیں بند کر لیں۔
سوچوں کا شور آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگا۔
کچھ ہی دیر بعد تھکی ہوئی آنکھوں پر نیند نے اپنا نرم سا پہرہ بٹھا دیا، اور عنایہ انہی ادھوری سوچوں کے ساتھ گہری نیند میں چلی گئی۔
*°*°*°*°*°*
ویران عمارت ایک بار پھر اسی خوفناک خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔
بھاری قدموں کی چاپ لمبے، سنسان ہال میں گونج رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ فضا مزید بوجھل ہوتی جا رہی تھی، جیسے دیواریں بھی ان آوازوں کو برسوں سے اپنے اندر دفن کیے بیٹھی ہوں۔
ہال سے گزرتا وہ نقاب پوش آخرکار اسی مخصوص کمرے کے سامنے آ کر رک گیا... وہ کمرہ، جہاں نہ جانے کتنی سسکیاں، کتنی فریادیں اور کتنی ٹوٹی ہوئی امیدیں ہمیشہ کے لیے قید ہو چکی تھیں۔
دروازے کے باہر موجود ایک آدمی نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
نقاب پوش نے ایک لمحہ دروازے کو دیکھا، پھر آہستگی سے اسے دھکیل کر اندر داخل ہو گیا۔
کمرے میں مدھم روشنی تھی۔
سامنے کرسی پر ایک شخص بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ اب رسیوں سے آزاد تھے، کیونکہ اتنی اذیت سہنے کے بعد بھاگنے کی طاقت بھی اس میں باقی نہ رہی تھی۔
اس کا چہرہ بری طرح سُوجھ چکا تھا۔ ہونٹ پھٹے ہوئے تھے، آنکھوں کے گرد نیل پڑ چکے تھے، اور اس کی سانسیں بے ترتیب چل رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کئی گھنٹوں ، بلکہ کئی دنوں سے اسی قید میں گل رہا ہو۔
نقاب پوش خاموشی سے میز کے قریب گیا۔
پانی کا گلاس اٹھایا...
اور اگلے ہی لمحے پورا گلاس اس شخص کے چہرے پر دے مارا۔
ٹھنڈے پانی کے شدید جھٹکے سے وہ
بڑ بڑا کر کانپا۔
اس نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔
پلکیں جیسے پتھر بن چکی تھیں۔
بڑی مشکل سے اس نے سوجی ہوئی آنکھوں کو آدھا کھولا۔
نقاب پوش اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔
اگلے ہی لمحے اس نے آگے بڑھ کر اس کے بھیگے ہوئے بال مٹھی میں جکڑ لیے اور بےرحمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف اٹھایا۔
پھر پورے رعب سے اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
وہ شخص درد سے کراہ اٹھا۔
کانپتی ہوئی آواز میں اس کے ہونٹ ہلے۔
"ک... کون ہو تم...؟"
"آخر مجھ سے کیا چاہتے ہو...؟"
اس نے ٹوٹی ہوئی سانس لی۔
"میری شادی والے دن... تم نے مجھے اغوا کر لیا..."
یہ کہتے کہتے اس کی آواز بیٹھ گئی۔
نقاب پوش کی انگلیوں کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔
اس شخص نے تکلیف سے آنکھیں بند کر لیں، مگر اگلے ہی لمحے پھر ہمت کر کے بولا۔
"میری... عنایہ..."
مظلوم کی آواز لرز گئی۔
"وہ میرا انتظار کر رہی ہوگی... خدا کے لیے... مجھے جانے دو..."
ایک لمحے کے لیے کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ دونوں کی سانسوں کی آواز بھی سنائی دینے لگی۔
پھر اچانک...
نقاب پوش پوری قوت سے دہاڑا۔
"نہیں...!"
اس کی گرج دار آواز دیواروں سے ٹکرا کر پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
وہ یکدم اپنی جگہ سے اٹھا، جھک کر اس شخص کے بال مزید زور سے کھینچے اور اس کے چہرے کے اتنا قریب آ گیا کہ دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں۔
اس کی آواز نفرت سے کانپ رہی تھی۔
"اپنی ناپاک زبان سے... میری بیوی کا نام لینے کی جرات مت کرنا!"
"عنایہ صرف میری ہے..."
"سمجھے تم؟"
وہ شخص ساکت رہ گیا۔
اس کی سوجی ہوئی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
جیسے اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ہو۔
وہ مسلسل نقاب پوش کی گہری، دہکتی ہوئی آنکھوں کو دیکھے جا رہا تھا۔
خوف، حیرت اور بےبسی نے اس کی زبان کو مفلوج کر دیا تھا۔
بڑی مشکل سے اس کے ہونٹ ہلے۔
"ک... کون ہو تم؟"
"اگر ہمت ہے... تو اپنا نقاب اتارو..."
اس کی بات مکمل بھی نہ ہو سکی تھی کہ...
چھااااا!
ایک زوردار تھپڑ اس کے رخسار پر پوری شدت سے پڑا۔
اس کا سر ایک طرف جھٹک گیا۔
پھٹا ہوا ہونٹ دوبارہ پھٹ گیا اور خون کی باریک لکیر اس کی ٹھوڑی تک بہنے لگی۔
وہ درد سے کراہ اٹھا۔
نقاب پوش کی آنکھوں میں ایسی دہکتی ہوئی جلال بھری آگ تھی کہ سامنے بیٹھے شخص کی ریڑھ کی ہڈی تک سرد ہو گئی۔
اس نے جھک کر اس کے کان کے قریب انتہائی سرد مگر خوفناک لہجے میں کہا،
"میرا چہرہ دیکھنے کا حق تم نے اسی دن کھو دیا تھا... جس دن تم نے عنایہ پر اپنا حق جتانے کی کوشش کی تھی۔"
"اب تم صرف انتظار کرو..."
"اس انجام کا... جو میں نے تمہارے لیے برسوں پہلے لکھ دیا تھا۔"
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
صرف زخمی شخص کی ٹوٹی ہوئی سانسیں، درد بھری سسکیاں، اور نقاب پوش کی پُرسکون مگر ہیبت ناک موجودگی اس خاموشی کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔
*°*°*°*°*°*
رات کافی ڈھل چکی تھی۔
حازم اپنی کالی پینٹ، سفید شرٹ اور بلیک کوٹ میں گھر واپس لوٹا۔ چہرے پر دن بھر کی تھکن تھی، مگر آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک عجیب سی چمک۔
جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا، اُس نے دروازہ بند کیا اور چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
پھر اُس نے آہستہ سے گہرا سانس لیا۔
ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔
"یہ خوشبو..."
وہ دھیرے سے سر اٹھا کر مسکرایا۔
"تم جا چکی ہو... مگر تمہاری خوشبو اب بھی یہیں ہے، عنایہ ۔"
وہ آہستہ آہستہ اُس کمرے کی طرف بڑھا جہاں عنایہ کچھ دیر پہلے ٹھہری تھی۔
الماری کا دروازہ ذرا سا کھلا ہوا تھا۔
حازم نے چند لمحے خاموشی سے اُس طرف دیکھا، پھر نہایت احتیاط سے عنایہ کا دوپٹہ اپنے ہاتھوں میں اٹھایا۔
وہ آنکھیں بند کرکے اُس کی ہلکی سی خوشبو محسوس کرنے لگا۔
چند لمحوں تک کمرے میں مکمل خاموشی رہی۔
پھر اُس کے ہونٹوں پر آہستہ آہستہ ایک عجیب، دبی ہوئی مسکراہٹ پھیلنے لگی۔
وہ بیڈ پر بیٹھ گیا، دوپٹہ دونوں ہاتھوں میں تھامے، اور مدھم لہجے میں خود سے بولا،
"آخرکار... تم میری دنیا کا حصہ بن ہی گئیں۔"
(وہ ہلکا سا ہنسا)
وہ ہنسی عام خوشی کی نہیں تھی، بلکہ ایسی جو کسی گہری ضد، کسی برسوں پرانے یقین اور کسی پیچیدہ ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتی تھی۔
"لوگ کہتے ہیں قسمت لکھی جاتی ہے..."
اُس نے نظریں دوپٹے پر جمائے رکھیں۔
"مگر میں نے تو اپنی قسمت میں تمہارا نام خود پڑھ لیا ہے، عنایہ ۔"
چند لمحے وہ خاموش رہا۔
پھر آہستہ سے سر جھکا کر مسکرایا۔
"تمہیں ابھی وقت چاہیے... میں جانتا ہوں۔"
وہ اٹھا اور سائیڈ ٹیبل کے پاس جا کر رک گیا۔ وہاں دوا کی ایک شیشی رکھی تھی۔
اُس نے ایک گولی انگلیوں میں گھمائی، دیر تک اُسے دیکھتا رہا، پھر دھیرے سے مسکرا دیا۔
"کاش... میرے ذہن کا شور بھی اتنی آسانی سے خاموش ہو جاتا۔"
اس نے وہ گولی دوبارہ میز پر رکھ دی۔
تم جانتی ہو عنایہ؟
آج میں اس شخص سے انتقام لے کر آ رہا ہوں جو تمہیں مجھ سے چھین رہا تھا۔
وہ خود سے بڑ بڑا رہا تھا۔
اُس کی نظر اچانک کمرے کے ایک کونے میں رکھے خوبصورت تحفوں پر جا ٹھہری۔
وہ اُن کے قریب گیا، ایک گفٹ باکس کو نہایت احتیاط سے ہاتھ میں اٹھایا اور اُس پر انگلی پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا،
"یہ سب... صرف تمہارے لیے ہے۔"
اُس کی آنکھوں میں پہلی بار نرم سی چمک ابھری۔
"کل جب تم واپس آؤ گی... شاید تم مسکراؤ۔"
وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، جیسے اپنے ذہن میں کل کا منظر دیکھ رہا ہو۔
"مجھے نہیں معلوم تم مجھے کب سمجھو گی..."
(وہ ہلکا سا مسکرایا)
"...لیکن میں انتظار کرنا جانتا ہوں۔"
یہ کہتے ہوئے اُس نے تحفہ دوبارہ احتیاط سے اپنی جگہ رکھا، کمرے کی لائٹ مدھم کی اور کھڑکی کے پاس جا کر خاموشی سے رات کے اندھیرے کو دیکھنے لگا۔ سلگتی سگریٹ کا دھواں اسکے ہاتھ سے ہوا میں آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہا تھا۔
اُس کے چہرے پر اب بھی وہی پراسرار مسکراہٹ تھی، جس میں محبت، ضد، تنہائی اور اُس کے بکھرے ہوئے ذہن کی خاموش گونج ایک ساتھ سمٹ آئی تھی۔
*°*°*°*°*°*
دوپہر کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر موجود تھا، مگر فاضل صاحب کے گھر کے اندر جیسے ہر سمت اندھیرا اور ویرانی نے ڈیرے جما رکھے تھے۔
عینی بے چینی کے عالم میں مرکزی دروازے کے قریب بار بار چکر لگا رہی تھی۔ کتنے ہی دن بیت چکے تھے، مگر رضا کی کوئی خبر سامنے نہ آ سکی تھی۔ فاضل صاحب نے ہر ممکن کوشش کر لی تھی، مگر رضا کی گاڑی کے ملنے کے علاوہ انہیں کوئی ایسی سراغ نہ مل سکا جو اس کی گمشدگی کا راز کھول سکتا۔ رضا کا موبائل فون بھی اسی گاڑی سے برآمد ہوا تھا، لیکن خود رضا... وہ تو جیسے زمین نگل گئی ہو یا آسمان کھا گیا ہو۔
آخر وہ یوں اچانک سب کو چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا؟ یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آتی تھی۔
"میرا بچہ ایسا نہیں ہے..." آسیہ بیگم کی بھرائی ہوئی آواز پورے کمرے میں گونجی۔ "وہ ہمیں اس طرح بے خبر چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتا۔ ضرور اس کے ساتھ کوئی بہت بڑا حادثہ یا ظلم ہوا ہے..."
فاضل صاحب نے گہرا سانس لیا۔ ان کے چہرے پر تھکن، بے بسی اور کرب ایک ساتھ نمایاں تھے۔
"پولیس نے یقین دلایا ہے کہ وہ جلد از جلد رضا کا سراغ لگا لے گی۔ وہ پوری کوشش کر رہے ہیں..."
مگر یہ الفاظ اب تسلی نہیں، محض رسمی دلاسہ محسوس ہوتے تھے۔
آسیہ بیگم کے صبر کا بند ٹوٹ چکا تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
"آج تک اس شہر سے نہ جانے کتنے لوگ لاپتا ہو چکے ہیں... کتنے ہی بڑے بڑے کاروباری افراد یوں غائب ہوئے کہ پھر کبھی ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے... میرا بچہ کس حال میں ہوگا... نہ جانے زندہ بھی ہوگا یا..." آخری لفظ ان کے لبوں پر ہی دم توڑ گیا اور ان کی ہچکیاں مزید شدت اختیار کر گئیں۔
عینی فوراً ان کے قریب آ گئی۔ اس نے اپنی ماں کو سہارا دیا، ان کے آنسو پونچھنے کی ناکام کوشش کی اور انہیں اپنے سینے سے لگا لیا، حالانکہ وہ خود بھی بمشکل اپنے قدموں پر قائم تھی۔ اس کے اپنے دل پر بھی غم کا ایسا بوجھ تھا جس نے اس کی سانسیں تک دشوار کر دی تھیں، مگر وہ اپنی ماں کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی۔
فاضل صاحب انتہائی بے بسی کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئے۔ ان کی نظریں خلا میں جمی تھیں، جیسے وہ خود بھی اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہوں کہ آخر رضا کہاں چلا گیا۔
کمرے میں ایک لمحے کے لیے ایسی خاموشی چھا گئی جسے صرف آسیہ بیگم کی سسکیوں نے توڑ رکھا تھا۔
(تبھی فاضل صاحب نے دھیمی مگر پُرعزم آواز میں کہا)
"میں تم لوگوں کو اس حال میں چھوڑ کر واپس نہیں جا سکتا۔ میری واپسی کی پرواز تھی، مگر میں نے اسے مؤخر کروا دیا ہے۔ جب تک رضا واپس نہیں آ جاتا، یا کم از کم اس کے بارے میں کوئی یقینی خبر نہیں مل جاتی، میں کہیں نہیں جاؤں گا۔"
ان کے الفاظ سن کر عینی کی نم آنکھیں بے اختیار ان کی جانب اٹھیں۔ اس مشکل گھڑی میں یہ احساس کہ کوئی ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے، ان کے ٹوٹے ہوئے حوصلوں کے لیے کسی معمولی سہارا سے کم نہ تھا۔
مگر دلوں میں ایک ہی دعا مسلسل دھڑک رہی تھی...
"یا اللہ! ہمارے رضا کو خیریت کے ساتھ واپس لوٹا دے۔"
جاری ہے........








