Story
"آخری سواری"
رات کے 2 بج رہے تھے۔ کراچی کی سنسان سڑک پر صرف سٹریٹ لائٹ کی زرد روشنی تھی۔ ہوا میں مٹی کی بو تھی۔
*علیان* رکشہ چلاتا تھا۔ دن میں سواریاں کم ملتی تھیں اور گھر پر امی کی دوائی کا خرچہ تھا، اس لیے مجبوراً رات کی ڈیوٹی کرنے لگا تھا۔
صدر کے خالی اسٹاپ پر وہ سگریٹ سلگا ہی رہا تھا کہ دور سے ایک سایہ نظر آیا۔ ایک لڑکی کھڑی تھی۔ سفید فراک، لمبے کھلے بال، ہاتھ میں چھوٹا سا کالا بیگ۔ چہرہ سکارف سے آدھا ڈھکا ہوا تھا۔
"بھائی، قبرستان روڈ جائیں گی؟" آواز بہت دبی ہوئی تھی۔
علیان نے گھڑی دیکھی۔ رات کے 2:10۔ اس وقت قبرستان؟ لیکن 300 روپے کا کرایہ تھا۔ پیٹ کا معاملہ تھا۔ اس نے سر ہلا دیا۔
لڑکی پیچھے بیٹھ گئی۔ رکشہ چل پڑا۔ پورے راستے مکمل خاموشی۔
علیان نے آئینے میں دیکھا۔ لڑکی کھڑکی سے باہر اندھیرے کو گھور رہی تھی۔ آئینے میں اس کا عکس بہت دھندلا آ رہا تھا۔
آدھے راستے پر رکشے کے اندر اچانک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا۔ حالانکہ ساری کھڑکیاں بند تھیں۔
"باجی... ڈر نہیں لگ رہا؟ اتنی رات کو قبرستان؟"
جواب نہیں آیا۔ صرف سفید فراک کا کونا تھوڑا سا ہلا۔
جیسے ہی رکشہ قبرستان کے گیٹ کے پاس رکا، علیان نے مڑ کر کرایہ مانگا۔
سیٹ خالی تھی۔
کوئی نہیں تھا۔
سفید فراک غائب۔ کالا بیگ غائب۔ صرف پچھلی سیٹ گیلی تھی۔ اور ہوا میں لوبان اور مٹی کی تیز بو۔
علیان کا دل منہ کو آ گیا۔ وہاں سے بھاگا۔
اگلے دن چوکیدار چاچا بشیر نے بتایا "بیٹا... 3 سال پہلے آج ہی کے دن ایک لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا یہیں۔ رات 2 بجے رکشے کا انتظار کر رہی تھی۔ تب سے کہتے ہیں جس رکشہ والے کو وہ ملتی ہے، وہ اسے منزل تک نہیں چھوڑتا"۔
4 دن بعد مجبوری سے علیان پھر نکلا۔ رات 2:15 پر وہی صدر کا اسٹاپ۔ وہی لڑکی۔
اس بار رکشہ خود بخود چلنے لگا۔ قبرستان پہنچ کر لڑکی نے اپنا زخمی چہرہ دکھایا اور ہاتھ میں ایک پرانا تانبے کا تعویز رکھ دیا۔
"یہ میرے بابا کا ہے۔ اب کوئی تمہیں تنگ نہیں کرے گا"۔
اتنا کہہ کر وہ ہوا میں اٹھ کر قبرستان کے اندر غائب ہو گئی۔
صبح قبرستان میں ایک نئی قبر پر تازہ سفید پھول تھے۔ نام لکھا تھا "آمنہ - 2001-2023 - بیٹی"۔
اس دن کے بعد علیان نے رات کی ڈیوٹی چھوڑ دی۔
لیکن آج بھی جب وہ رکشہ صاف کرتا ہے تو ڈیش بورڈ پر وہ تعویز رکھا ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھی رات 2 بجے اس کے فون پر میسج آتا ہے:
*"شکریہ علیان۔ آج میں اپنے گھر پہنچ گئی"*
Author:
"ڈر کے آگے جیت ہے۔ بعض اوقات زندگی ہمیں سب سے مشکل امتحان اسی لیے دیتی ہے تاکہ ہم کسی کا سہارا بن سکیں۔ ہمت مت ہارو، کیونکہ تمہارا ایک چھوٹا سا قدم بھی کسی کی روح کو سکون دے سکتا ہے۔"








