Customize readability
Aa

ذہنی قید (ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

All Rights Reserved ©

Summary

کیا بچپن کے سائے کبھی پیچھا چھوڑتے ہیں؟ کچھ یادیں جوانی کی دہلیز تک زہر بن کر ساتھ آتی ہیں، اور جب سوشل میڈیا کی چکا چوند ان اندھیروں سے ملتی ہے، تو انجام ہولناک ہوتا ہے۔یہ کہانی ہے ایک خوبرو نوجوان اور ایک حسین دوشیزہ اور چند ایسے راز جو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ۔۔۔"

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
16+

Chapter 21

قسط نمبر 21

(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)

دوپہر کا وقت تھا۔ پورا گھر خوشیوں سے مہک رہا تھا۔ آج حازم خود اپنی چھوٹی بہن حور کو ساتھ لے کر عنایہ کو لینے آیا تھا۔ حور کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ پہلی بار اپنی بھابھی کے گھر جانے والی تھی. صبح سے ہی وہ اپنی بھابی سے ملنے کے لیے بے تاب تھی، کیونکہ اس کے دل میں ایک خوبصورت سا سرپرائز چھپا ہوا تھا، جس کا علم صرف اسے اور حازم کو تھا۔ وہ بار بار سوچتی کہ جب بھابی کو سرپرائز کا پتا چلے گا تو ان کے چہرے پر کیسی پیاری سی مسکراہٹ سجے گی۔

لنچ کا وقت ہوتے ہی پورا خاندان ڈائننگ ٹیبل پر جمع ہو گیا۔ میز پر طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے ہوئے تھے۔ نیہا نے میڈ کے ساتھ مل کر بڑی محبت سے ہر ڈش تیار کی تھی۔ عنایہ کی پسندیدہ ڈشز بھی موجود تھیں اور حازم کی پسند کا بھی خاص خیال رکھا گیا تھا۔ کئی دنوں بعد عنایہ کی والدہ کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی تھی، اس لیے انہوں نے بھی خود اپنے ہاتھوں سے کھانا بنانے میں حصہ لیا تھا۔ اپنی بیٹی کو اپنے سامنے خوش دیکھ کر ان کے چہرے پر عجیب سا سکون اتر آیا تھا۔

عنایہ وہ خود حازم کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئی۔ خاموشی سے اس کی پلیٹ اپنی طرف کھینچی اور ایک ایک کر کے سالن، روٹی اور دوسری تمام چیزیں اس کی پلیٹ میں ڈالنے لگی۔ حازم خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، کوئی اعتراض نہ کیا۔

اسے اس سب پر یقین نہیں آ رہا تھا. عنایہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ جان بوجھ کر سب کو یہ احساس دلانا چاہتی ہو کہ وہ حازم کے ساتھ خوش ہے، مطمئن ہے، اور اب اس کے ساتھ بیٹھنا یا اس کا خیال رکھنا اس کے لیے بالکل معمول کی بات بن چکی ہے۔

حازم خاموشی سے سب کی محبت دیکھ رہا تھا۔ علی بار بار خوش دلی سے اس سے باتیں کرتا، جبکہ سعد بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔ پورے گھر میں قہقہوں اور اپنائیت کی ایک دلکش فضا قائم تھی۔

کھانا ختم ہونے کے بعد سعد اور حازم لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے۔ دونوں کے ہاتھوں میں کافی کے مگ تھے اور وہ ہلکی پھلکی گفتگو میں مصروف ہو گئے۔

ادھر عنایہ اپنے کمرے میں حور اور نیہا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ حور تو جیسے اپنی بھابی سے نظریں ہی نہیں ہٹا پا رہی تھی۔ کبھی وہ عنایہ کے بازو سے لپٹ جاتی، کبھی اس کے کندھے پر سر رکھ دیتی اور کبھی شرارت سے کہتی،

"بھابی... آپ اب ہمیشہ ہمارے گھر ہی رہیں گی نا؟"

عنایہ اس کی معصوم حرکتوں پر بے اختیار مسکرا دیتی اور پیار سے اس کے بال سہلا دیتی۔

"بالکل... اگر میری پیاری سی بہن مجھے اتنا ہی پیار کرتی رہی تو ضرور۔"

یہ سن کر حور خوشی سے ایک بار پھر اس کے گلے لگ گئی۔

نیہا خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ نہ جانے کیوں حور کو دیکھ کر اسے شدت سے احساس ہوا جیسے اس کی اپنی بھی کوئی چھوٹی بہن ہو۔ اسے سعد کی بہن جیا یاد آ گئی، جس کی شوخ طبیعت ہمیشہ گھر میں رونق لگا دیتی تھی۔

مسکراتے ہوئے اس نے حور سے پوچھا،

"حور... تم جیا کو جانتی ہو نا؟"

حور نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔

"جی بھابھی... جیا بہت اچھی ہیں، میری کلاس میں ہی پڑھتی ہے۔"

"واقعی؟"

"جی... وہ بھی بالکل آپ کی طرح بہت پیاری ہیں۔"

یہ سنتے ہی تینوں ہنس پڑیں۔ کمرہ ان کی ہنسی سے گونج اٹھا۔ نند اور بھابی کی خوبصورت شرارتیں، بہنوں جیسی باتیں اور محبت سے بھرے وہ لمحے ہر کسی کے دل کو سکون دے رہے تھے۔

دوسری طرف علی اپنی والدہ کے پاس بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا، جبکہ وہ محبت بھری نظروں سے اپنے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش تھیں۔ ان کے چہرے پر برسوں بعد ایسا اطمینان نظر آ رہا تھا، جیسے گھر میں بکھری خوشیاں ایک بار پھر لوٹ آئی ہوں۔

پورا گھر زندگی، محبت اور اپنائیت سے بھر گیا تھا۔ ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، ہر دل مطمئن تھا، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ چھوٹے چھوٹے خوشیوں بھرے لمحے ہمیشہ کے لیے وقت میں ٹھہر جائیں۔

2

شام کے سائے آہستہ آہستہ پورے گھر پر اتر رہے تھے، مگر اس گھر میں کئی دنوں سے نہ روشنی محسوس ہو رہی تھی، نہ سکون۔ ہر طرف خاموشی اور اداسی کا راج تھا۔

ڈرائنگ روم میں امل کے والد صوفے پر سر جھکائے بیٹھے تھے، جبکہ ان کی والدہ کی آنکھیں مسلسل نم تھیں۔

"میں نے اسے کتنی بار سمجھایا تھا..." انہوں نے بھاری آواز میں کہا۔

"حازم کبھی اس سے شادی نہیں کرے گا، مگر اس نے ہماری ایک نہ سنی۔"

امل کی والدہ نے بے بسی سے آنسو پونچھے۔

"وہ ہماری بیٹی ہے... اس کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔ کئی دن ہو گئے، نہ ڈھنگ سے کھانا کھایا ہے، نہ سوئی ہے۔ خود کو ختم کرتی جا رہی ہے۔"

"اسی لیے کہہ رہا ہوں، اسے کچھ عرصے کے لیے باہر بھیج دیتے ہیں۔ ماحول بدلے گا تو شاید خود کو سنبھال لے۔"

"کوشش تو بہت کی... مگر وہ مانتی ہی نہیں۔"

دونوں کی نظریں بے اختیار امل کے کمرے کی بند دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔

کمرے کے اندر امل بے ترتیب بستر پر نیم بے ہوشی کی حالت میں لیٹی ہوئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمایاں تھے، چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور کئی دنوں کی بھوک نے اسے بری طرح کمزور کر دیا تھا۔

اس کی والدہ کئی بار اس کے لیے کھانا لاتی تھیں، مگر ہر بار وہ پلیٹ ایک طرف کر دیتی، روتی رہتی یا خاموشی سے چھت کو تکنے لگتی۔

اس کی دنیا جیسے ایک ہی نام پر آ کر رک گئی تھی... حازم۔

اچانک وہ جھٹکے سے بستر پر اٹھ بیٹھی۔

"حازم...!"

اس کی چیخ پورے کمرے میں گونج گئی۔

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال مضبوطی سے پکڑ لیے، سانسیں تیز ہو گئی تھیں۔

"حازم میرا ہے... وہ صرف میرا ہے... وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا... نہیں...!"

دروازہ فوراً کھلا۔

اس کی والدہ گھبرا کر اندر آئیں، ان کے پیچھے امل کے والد بھی تیزی سے کمرے میں داخل ہوئے۔

"امل...! خود کو سنبھالو، بیٹا!"

مگر امل جیسے کسی اور ہی دنیا میں تھی۔

"میرا فون... میرا فون کہاں ہے؟ مجھے حازم سے بات کرنی ہے۔ وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا... وہ مجھے چھوڑ ہی نہیں سکتا..."

اس نے بے چینی سے بستر، تکیے اور میز پر اپنا موبائل ڈھونڈنا شروع کر دیا۔

آخرکار موبائل ہاتھ آیا تو کانپتے ہاتھوں سے اس نے فوراً حازم کا نمبر ملایا۔

اس کی نظریں پوری امید کے ساتھ موبائل کی اسکرین پر جم گئیں۔

ایک... دو... تین...

رِنگ بجتی رہی۔

مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔

اس نے دوبارہ کال کی۔

پھر تیسری بار۔

ہر بار صرف رِنگ سنائی دیتی رہی۔

"نہیں..." اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ "وہ جان بوجھ کر میرا فون نہیں اٹھا رہا... ایسا نہیں ہو سکتا... حازم صرف میرا ہے... وہ لڑکی حازم کو مجھ سے نہیں چھینن سکتی... میں اسے چھین لوں گی... کسی بھی قیمت پر..."

اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ ایک عجیب سی ضد اور جنون اتر آیا تھا۔

اس کے والد نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں، جبکہ اس کی والدہ روتے ہوئے اپنی بیٹی کو سینے سے لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

مگر امل اب کسی کی بات سننے کی حالت میں نہیں تھی۔

اس کے دل و دماغ پر صرف ایک ہی نام، ایک ہی خیال اور ایک ہی جنون سوار تھا...

حازم۔

3

واپسی کے سفر میں گاڑی کے اندر عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

عنایہ نے پورے راستے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا کہ وہ حازم کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھے، کیونکہ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتی تھی کہ حور کو یہ احساس ہو کہ اس کی بھابھی بھائی کے ساتھ خوش نہیں ہے۔

حور پچھلی نشست پر بیٹھی کسی چہکتی ہوئی چڑیا کی مانند مسلسل بولے جا رہی تھی۔

"بھابھی... آپ ہمارے گھر جا کر میرے کمرے میں بھی آئیں گی نا؟"

عنایہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گردن موڑی۔

"ضرور۔"

"اور آج آپ میرے ساتھ ہی سوئیں گی۔"

"ٹھیک ہے۔"

(عنایہ بولی)

حازم نے نگاہ اٹھا کر عنایہ کی طرف دیکھا.

بھابھی آج بہت تھک چکی ہیں.

(حازم بس اتنا ہی بولا)

عنایہ نے حازم کی طرف دیکھا حازم اطمینان سے گاڑی چلا رہا تھا. گاڑی چلاتے ہوئے واپس عنایہ کی طرف دیکھا.

عنایہ نے حازم کی بات کی نا چاہتے ہوئے بھی پیروی کی۔

حور فوراً منہ بنا کر بولی،

"ٹھیک ہے... وعدہ کریں پھر کبھی میرے ساتھ میرے کمرے میں سوۓ گی۔"

اس کی معصوم ضد پر عنایہ بے اختیار مسکرا دی۔ ضرور شہزادی..

یہ مسکراہٹ دیکھ کر حور بھی ہنس پڑی۔

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا حازم خاموش تھا، مگر ریئر ویو مرر میں بار بار دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ آئینے میں اسے اپنی چھوٹی بہن کی بے حد خوشی دکھائی دیتی، اور پہلو میں عنایہ کا پرسکون چہرہ بھی۔

اس کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مدھم سی مسکراہٹ آ گئی۔

اسے محسوس ہوا جیسے اس کی دنیا، جو ہمیشہ ویران رہی تھی، آج پہلی بار مکمل ہوئی ہو۔

ایک طرف اس کی جان سے عزیز بہن...

اور دوسری طرف وہ لڑکی...

جسے دیکھ کر پہلی مرتبہ اس کے بے حس دل نے کسی کے لیے دھڑکنا سیکھا تھا۔

یونیورسٹی کے دنوں میں نہ جانے کتنی لڑکیاں اس کے گرد منڈلاتی رہی تھیں۔ کئی نے دوستی کی خواہش ظاہر کی، کئی نے محبت کا اظہار کیا،ان میں سے ایک امل بھی تھی. مگر حازم کی نظر کبھی کسی پر نہ ٹھہری۔

اس کے دل نے صرف ایک نام قبول کیا تھا...

عنایہ۔

وہ اس کی پہلی محبت تھی...

اور آخری بھی۔

حازم ایک لمحہ سڑک کو دیکھتا، اگلے ہی لمحے چوری چھپے عنایہ کی طرف نظریں اٹھا لیتا۔ عنایہ کھڑکی سے باہر ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھی، جیسے اس کی نگاہیں کسی بہت دور کی دنیا میں گم ہوں۔

اچانک سامنے سے ایک گاڑی بے احتیاطی سے مڑی۔

حازم نے فوراً بریک پر زور سے پاؤں رکھا۔

گاڑی ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔

عنایہ کا توازن بگڑا اور اس کا ہاتھ بے اختیار آگے بڑھا۔

اس کی نرم ہتھیلی سیدھی حازم کے ہاتھ پر آ لگی، جو اسٹیئرنگ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔

صرف ایک لمحہ...

مگر وہ لمحہ جیسے وقت میں ٹھہر گیا۔

عنایہ نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، گھبرا کر اپنا دوپٹہ سنبھالا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

حازم نے بھی کچھ نہ کہا، مگر اس کی نظریں چند لمحوں کے لیے اپنے ہاتھ پر ٹھہر گئیں، جہاں ابھی ابھی عنایہ کا لمس محسوس ہوا تھا۔

پچھلی نشست سے حور کی گھبرائی ہوئی آواز آئی۔

"بھائی... اللہ کا شکر ہے! ابھی تو ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جاتا..."

ایکسیڈنٹ...

یہ لفظ سنتے ہی حازم کے چہرے پر پھیلی نرم مسکراہٹ لمحہ بھر میں غائب ہو گئی۔

اس کی آنکھوں کی چمک بجھ گئی۔

جبڑا سخت ہو گیا۔

اس کی انگلیاں اسٹیئرنگ پر اس قدر زور سے جمی کہ پوروں کی رنگت سفید پڑنے لگی۔

ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے وہ اس گاڑی میں موجود ہی نہ ہو...

بلکہ برسوں پیچھے، کسی ایسے لمحے میں جا کھڑا ہوا ہو جہاں خون، چیخیں اور ٹوٹتی سانسیں اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔

اس نے ایک گہرا سانس لیا۔

پلکیں جھپکائیں۔

اور اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر وہی سرد، بے تاثر نقاب واپس آ گئی۔

مگر اس کی آنکھوں میں اب عجیب سی وحشت تیر رہی تھی۔

عنایہ نے پہلی بار چوری سے اس کی طرف دیکھا۔

ابھی چند لمحے پہلے تک اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی...

اور اب یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر کوئی اور شخصیت جاگ اٹھی ہو۔

وہ شخص، جس سے ہر کوئی ناواقف تھا۔

جس کے اندر ایک اندھیرا برسوں سے سانس لے رہا تھا۔

حازم نے بغیر کچھ کہے گاڑی دوبارہ آگے بڑھا دی۔

اس بار اس کی رفتار نہ بہت تیز تھی، نہ بہت آہستہ۔

بس اتنی کہ منزل تک پہنچ جائے...

مگر پورے راستے گاڑی کے اندر پھر کوئی آواز نہ گونجی۔

صرف انجن کی مدھم گونج...

اور ایک ایسے انسان کی خاموشی...

جس کے اندر ہر لمحہ کوئی نہ کوئی جنگ جاری رہتی تھی۔

4

شام کی نرم روشنی آہستہ آہستہ حویلی کے سفید سنگِ مرمر پر بکھر رہی تھی جب حازم کی گاڑی آہستہ سے پورچ میں

آ کر رکی۔

گاڑی رکتے ہی حور نے بے صبری سے دروازہ کھولا اور تقریباً اچھلتی ہوئی باہر

آ گئی۔ ہلکے گلابی رنگ کا خوبصورت فراک اس کی خوشی کے ساتھ لہرا رہا تھا۔ وہ کبھی لان میں دوڑتی، کبھی گیراج کے گرد چکر لگاتی، تو کبھی دونوں ہاتھ پھیلا کر خوشی سے گھومنے لگتی۔

"بھابھی... جلدی آئیں نا!" اس نے بچوں جیسی بے ساختگی سے آواز دی۔

عنایہ مسکراتے ہوئے گاڑی سے باہر اتری۔ اس کے تن پر ہلکے جامنی رنگ کا سلک کا لمبا فراک تھا، جو ٹخنوں تک لہرا رہا تھا۔ کھلے ہوئے ریشمی بال بار بار اس کے چہرے پر آ جاتے اور وہ نرمی سے انہیں کان کے پیچھے کر لیتی۔ شام کی سنہری کرنیں اس کے چہرے پر پڑ کر اس کی خوبصورتی کو اور بھی نکھار رہی تھیں۔

دوسری جانب حازم بھی خاموشی سے گاڑی سے اترا۔ اس کی نگاہ بے اختیار عنایہ پر ٹھہر گئی۔ ایک لمحے کے لیے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وقت رک گیا ہو۔

حور دوڑتی ہوئی واپس آئی اور دونوں کے درمیان آ کر کھڑی ہو گئی۔

"بھائی... بھابھی... جلدی چلیں نا!"

حازم نے مسکرا کر اپنی بہن کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔

"اتنی جلدی بھی کیا ہے، شہزادی؟"

عنایہ نے بھی پیار سے حور کے بال سنوارے تو وہ خوشی سے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

حازم اور عنایہ دونوں یہی چاہتے تھے کہ حور کو کبھی یہ احساس نہ ہو کہ ان کی شادی خوشی سے نہیں ہوئی، یا دونوں ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے کتنے فاصلے پر ہیں۔ اس معصوم بچی کی خوشی کے لیے وہ ایک خوشگوار جوڑے کا کردار نبھا رہے تھے۔

حازم نے خاموشی سے اپنا ہاتھ عنایہ کی طرف بڑھا دیا۔

عنایہ کی نظریں چند لمحوں کے لیے اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔ اس نے جیسے خاموشی سے اجازت مانگی ہو۔

حازم کی نگاہیں حیرت انگیز طور پر پرسکون تھیں، ان میں نہ کوئی جبر تھا، نہ حکم... صرف ایک خاموش یقین۔

عنایہ نے ہلکی سی جھجک کے ساتھ اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

جیسے ہی حازم نے اس کی انگلیوں کو نرمی سے تھاما، دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔

نہ کوئی لفظ بولا گیا...

عنایہ نے نظریں فوراً چرائیں...

بس ایک خاموش لمحہ دونوں کے درمیان ٹھہر گیا۔

حازم نے بہت احتیاط سے اس کا ہاتھ تھامے رکھا، جیسے ڈر ہو کہ ذرا سی سختی بھی اسے خوفزدہ کر دے۔

پھر وہ دونوں حور کے ساتھ آہستہ آہستہ مرکزی دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔

دروازہ کھلتے ہی رامو کاکا مسکراتے ہوئے سامنے آ گئے۔ ان کے ہاتھ میں خوشبودار پھولوں کی ٹوکری تھی۔

"خوش آمدید، صاحب... خوش آمدید، بہو رانی !" میری ننھی پری۔

یہ کہتے ہوئے انہوں نے تینوں پر رنگ برنگی پھولوں کی پتیاں نچھاور کر دیں۔

عنایہ حیرت سے اردگرد دیکھنے لگی۔

گھر کا ہر گوشہ تازہ پھولوں، نرم روشنیوں اور خوشبوؤں سے مہک رہا تھا۔

اسی لمحے اس کی نظر فرش پر پڑی۔

گلاب کی پنکھر یوں سے بنی ایک خوبصورت پگڈنڈی سیدھی اوپر اس کے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔

وہ چند لمحے ساکت کھڑی رہی۔

اس نے شاید کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کے استقبال کے لیے کوئی اتنی محبت سے انتظار کرے گا۔

حور خوشی سے تالیاں بجاتی ہوئی بولی،

"بھابھی... جلدی جائیں نا!"

عنایہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا پہلا قدم گلاب کی پنکھر یوں پر رکھا۔

اس کے نرم قدم آہستہ آہستہ پھولوں کی اس راہ پر بڑھنے لگے۔

مدھم سی موسیقی پورے گھر میں بکھری ہوئی تھی، جس نے اس لمحے کو خواب جیسا بنا دیا تھا۔

حازم خاموشی سے راستے سے ایک طرف ہٹ گیا۔

اس نے جان بوجھ کر عنایہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی موجودگی عنایہ کے جذبات کو روک دے۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ بے جھجھک ہر لمحہ محسوس کرے، حیران ہو، خوش ہو اور اپنے دل کی ہر کیفیت کو آزادی سے جینے دے۔

اسی لیے وہ وہیں رک گیا۔

دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے، خاموش نگاہوں سے عنایہ کو پھولوں کی راہ پر چلتے دیکھتا رہا۔

اس کے لبوں پر وہی مسکراہٹ جو کسی عاشق کے چہرے کی زینت ہوتی ہے۔

اس کے لیے عنایہ کے چہرے پر آنے والی حیرت اور خوشی دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر تھی۔

حور اپنی بھابھی کے پیچھے پیچھے خوشی سے اچھلتی کودتی جا رہی تھی، مگر کمرے کے دروازے پر پہنچ کر رک گئی، کیونکہ یہ حازم کی ہدایت تھی کہ آگے عنایہ اکیلی جائے۔

عنایہ دھیرے سے کمرے کے اندر داخل ہو گئی۔

ادھر رامو کاکا حازم کے قریب آ کر مسکرائے۔

" بیٹا، رات کے کھانے کی ساری تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ بہو رانی کی پسند کے سب کھانے تیار ہیں۔"

حازم نے اطمینان سے سر ہلایا۔

"بہت اچھا، کاکا... بس ابھی نہیں۔ پہلے اسے اپنا سرپرائز پوری طرح محسوس کر لینے دیں۔"

وہ ایک بار پھر کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔

اس کے دل میں بے قراری تھی...

وہ شدت سے جاننا چاہتا تھا کہ اس کی محنت پر عنایہ کا ردِعمل کیا ہوگا۔

مگر وہ اتنا سمجھدار تھا کہ جانتا تھا...

بعض خوشیاں دور رہ کر زیادہ خوبصورت محسوس کی جاتی ہیں۔

5

اپنے میکے میں چند خوشگوار لمحے گزارنے کے بعد عنایہ واپس حازم کے گھر

آ چکی تھی۔

گھر میں داخل ہوتے ہی وہ خاموش قدموں سے سیدھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

دروازہ بند کر کے اس نے ہلکے سے سوئچ دبایا۔

کمرہ نرم، سنہری روشنی میں نہا گیا۔

جیسے ہی اس کی نظر سامنے گئی، وہ بےاختیار ٹھٹھک کر رہ گئی۔

بیڈ کے قریب ایک ترتیب سے رکھے ہوئے بےشمار شاپنگ بیگز اس کی منتظر تھے۔

عنایہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھی۔

اس کے چہرے پر حیرت صاف جھلک رہی تھی۔

اس نے پہلا بیگ کھولا۔

اندر نہایت نفاست سے پیک کیا گیا ایک خوبصورت لباس موجود تھا۔

پھر دوسرا...

پھر تیسرا...

ہر بیگ کے ساتھ اس کی حیرت بڑھتی ہی چلی گئی۔

کسی میں نفیس ڈیزائنر جوڑا تھا، کسی میں قیمتی جوتے، کسی میں نازک پرس، تو کسی میں دلکش زیورات۔

ہر چیز اپنی مثال آپ تھی۔

ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہر لباس، ہر رنگ اور ہر ڈیزائن کسی نے خاص طور پر صرف اسی کے لیے چنا ہو۔

عنایہ چند لمحے خاموش کھڑی ان سب کو دیکھتی رہی۔

وہ ابھی اسی حیرت میں گم تھی کہ اچانک اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے دو مخملی ڈبوں پر پڑی۔

اس نے آہستگی سے آگے بڑھ کر پہلا ڈبہ اٹھایا۔

دل کی دھڑکن جیسے بےاختیار تیز ہو گئی۔

ڈبہ کھلا...

اور اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

اندر نہایت نفیس ہیرے کا سیٹ رکھا تھا۔

باریک تراش، چمکتے ہوئے ہیرے اور بےمثال نفاست...

روشنی ان ہیروں سے ٹکرا کر کمرے میں ننھی ننھی کرنیں بکھیر رہی تھی۔

عنایہ نے بےاختیار گہری سانس لی۔

پھر اس نے دوسرا ڈبہ کھولا۔

اس بار اس کے لب ہلکے سے کھل گئے۔

اندر خالص سونے کا ایک نہایت خوبصورت بریسلٹ رکھا تھا۔

بریسلٹ کے درمیان نہایت نفاست سے دو انگریزی حروف کندہ تھے۔

"H ❤️ A"

حازم اور عنایہ...

ان دونوں کے ناموں کا ایک خاموش مگر خوبصورت اظہار۔

عنایہ کی انگلیاں بےاختیار اس بریسلٹ پر پھرنے لگیں۔

اس کی آنکھوں میں حیرت پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی تھی۔

یہ سب کچھ...

اتنی قیمتی چیزیں...

اتنی سوچ، اتنی توجہ...

آخر کیوں؟

اس نے آہستہ سے بریسلٹ واپس ڈبے میں رکھا اور بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔

اس کی نظریں اب بھی انہی تحفوں پر جمی تھیں۔

اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔

"آخر وہ میرے لیے یہ سب کیوں کر رہے ہیں...؟"

"وہ تو مجھے ٹھیک سے جانتے بھی نہیں..."

اس نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں جوڑ لیے۔

دل عجیب کشمکش میں مبتلا تھا۔

یہ احسان تھا...

فرض تھا...

یا پھر...

کوئی ایسا جذبہ، جسے حازم نے اب تک لفظوں میں بیان ہی نہیں کیا تھا؟

عنایہ نے ایک بار پھر ان تحفوں کی طرف دیکھا۔

ان قیمتی چیزوں کی چمک سے زیادہ اسے اس بےنام احساس نے بےچین کر دیا تھا، جو پہلی بار خاموشی سے اس کے دل کے دروازے پر دستک دے رہا تھا..

6

کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھلا۔

حازم خاموش قدموں سے اندر داخل ہوا۔

عنایہ بستر کے کنارے بیٹھی تھی۔ اس کی نظریں ابھی تک کمرے میں سجے ہر منظر پر جمی ہوئی تھیں۔ تازہ گلابوں کی خوشبو، مدھم روشنی، چھوٹے چھوٹے تحفے، ہر چیز اس کے لیے کسی خواب سے کم نہ تھی۔

اس کی آنکھوں میں نمی اتر چکی تھی۔

وہ شاید اب تک یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ یہ سب حقیقت ہے۔

اس نے تو اپنی زندگی کسی اور کے نام لکھی تھی...

اور آج ایک اجنبی اس کے لیے اتنی محبت سجا رہا تھا، جس سے اس کی چند دن پہلے ہی ملاقات ہوئی تھی۔

آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھلا حازم کمرے میں داخل ہوا.

حازم چند قدم کے فاصلے پر آ کر رک گیا۔

اس نے خاموشی سے عنایہ کو دیکھا۔

اس کی نم آنکھیں... لرزتے ہوئے ہونٹ... اور الجھن سے بھرا چہرہ...

یہ سب دیکھ کر اس کے دل میں ایک عجیب سا درد جاگا۔

عنایہ نے آہستہ سے سر اٹھایا۔

حازم نے کچھ نہیں کہا۔

بس ہلکا سا سر جھکا کر اور آنکھوں کے اشارے سے جیسے اسے یقین دلایا...

"سب ٹھیک ہے... خود کو سنبھال لیجیے۔"

عنایہ کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو آخر ڈھلک ہی گئے۔

کانپتی آواز میں اس نے پوچھا،

"آپ... یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟"

چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔

"آپ تو مجھے جانتے بھی نہیں..."

اس کی آواز مزید بھر آئی۔

"پھر آپ مجھ پر اتنا بھروسہ کیسے کر سکتے ہیں؟"

حازم کے لبوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

وہ جواب دے سکتا تھا...

مگر اس نے ہمیشہ کی طرح خاموش رہنے کو ترجیح دی۔

بعض سوالوں کے جواب وہ کبھی نہیں دیتا تھا۔

اور بعض سچ ایسے تھے...

جنہیں وہ دنیا سے بھی چھپا کر رکھنا چانتا تھا۔

عنایہ کے آنسو ایک ایک کرکے اس کے رخساروں پر بہنے لگے۔

حازم کی نظریں ان آنسوؤں پر جم گئیں۔

اسکے قدم بے ساختا آگے بڑھے اور وہی تھم گئے.

اسے یوں محسوس ہوا جیسے ہر آنسو اس کے اپنے سینے پر گر رہا ہو۔

اس کی انگلیاں بے اختیار حرکت کرنے لگیں۔

دل چاہا کہ آگے بڑھ کر ان آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے مٹا دے...

مگر اگلے ہی لمحے اس نے دونوں ہاتھ اپنی پشت پر مضبوطی سے باندھ لیے۔

نہیں...

وہ اس کی اجازت کے بغیر اسے چھونا نہیں چاہتا تھا۔

یہ اس کی اپنی حد تھی...

جسے وہ کبھی عبور نہیں کرے گا۔

لیکن اس کے اندر کا دوسرا وجود...

وہ وجود جو ضد، جنون اور اختیار کا عادی تھا...

وہ ہر گزرتے آنسو کے ساتھ بے چین ہو رہا تھا۔

"اگر اس کی آنکھوں میں آنسو لانے والا میرے سامنے ہوتا..."

ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں عجیب سی سرد چمک ابھری۔

"...تو شاید وہ زندہ نہ بچتا۔"

مگر اگلے ہی لمحے اس نے اس خیال کو اپنے اندر دفن کر دیا۔

عنایہ کو اس کے تاریک پہلو سے کبھی واقف نہیں ہونا چاہیے...

ابھی نہیں۔

اس نے آہستہ آہستہ دو قدم آگے بڑھائے۔

اتنے قریب کہ اس کی آواز نرم ہو کر صرف عنایہ تک پہنچے۔

"یہ سب..." اس نے دھیرے سے کہا، "اس لیے... کیونکہ آپ اب میری زندگی کا حصہ ہیں۔"

عنایہ خاموشی سے سنتی رہی۔

"میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ ایک دن میں سب کچھ بھول جائیں۔"

اس کی آواز میں غیر معمولی سنجیدگی تھی۔

"میں جانتا ہوں... کچھ رشتے وقت لیتے ہیں ٹوٹنے میں... اور کچھ زخم وقت لیتے ہیں بھرنے میں۔"

وہ چند لمحے رکا، پھر دھیرے سے بولا،

"میں آپ کے دل پر اپنا حق زبردستی نہیں جتانا چاہتا۔"

اس نے نظریں جھکا کر سنجیدگی سےکہا،

"جتنا وقت آپ کو چاہیے... وہ سب آپ کا ہے۔"

"میں صرف ایک بات کا وعدہ کرتا ہوں..."

اس کی نظریں دوبارہ عنایہ کی آنکھوں میں ٹھہر گئیں۔

"جب تک آپ خود نہ چاہیں، میں آپ کی حدود سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھوں گا۔"

یہ سن کر عنایہ کا ضبط آخرکار ٹوٹ گیا۔

اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنے ماضی کا بوجھ اپنے موجودہ شوہر کے سامنے ہمیشہ کے لیے رکھ دے۔

اس نے خود کو سنبھالا، بستر سے اٹھی اور حازم کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔

(چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا)

"میں... پوری کوشش کروں گی کہ سب کچھ پیچھے چھوڑ دوں۔"

اس کی آواز لرز رہی تھی۔

"لیکن آپ کا اچانک میری زندگی میں

آ جانا... میرے لیے آسان نہیں ہے۔"

اس نے نظریں جھکا لیں۔

"مجھے... تھوڑا وقت چاہیے۔"

(حازم نے ایک لمحہ بھی سوچے بغیر جواب دیا)

"سارا وقت آپ کا ہے، عنایہ۔"

اس کے لبوں پر ایک مدھم مسکراہٹ ابھری۔

"میں انتظار کر سکتا ہوں..."

وہ رکا۔

اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے وہی پراسرار گہرائی لوٹ آئی، جسے پڑھنا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔

"کیونکہ کچھ چیزیں..."

(اس نے دھیرے سے کہا)

"انتظار سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔"

عنایہ نے پہلی بار اس کی طرف اس نظر سے دیکھا، جس میں خوف کم اور حیرت زیادہ تھی۔

وہ نہیں جانتی تھی...

اس کے سامنے کھڑا یہ شخص محبت کی انتہا بھی تھا...

اور اسی محبت کی خاطر کسی بھی حد سے گزر جانے والا انسان بھی۔

7

ویران حویلی کے تہہ خانے میں حسبِ معمول قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

چھت سے لٹکتا نیلی روشنی کا واحد بلب پورے کمرے کو ایک پراسرار، سرد اور خوفناک رنگ دے رہا تھا۔

فرش پر رضا بے جان سا پڑا تھا۔

اب اسے رسیوں سے باندھنے کی بھی ضرورت نہیں رہ گئی تھی۔ مسلسل قید، کمزوری اور زخموں نے اس سے بھاگنے کی طاقت ہی چھین لی تھی۔ وہ صرف آہستہ آہستہ سانس لے رہا تھا، جیسے ہر سانس اس پر بوجھ ہو۔

اسی لمحے بھاری قدموں کی چاپ اس خاموشی کو چیرتی ہوئی قریب آئی۔

دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔

کمرے میں ایک لمبا سایہ داخل ہوا۔

سیاہ لباس...

چہرے پر ماسک...

اور آنکھوں میں وہی سرد جنون۔

وہ حازم تھا.

وہ خاموشی سے رضا کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔

چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا، پھر اس کی آواز اندھیرے میں گونجی۔

"جانتے ہو... آج کا دن میرے لیے بہت خوبصورت تھا۔"

رضا نے مشکل سے پلکیں اٹھائیں۔

ماسک کے پیچھے چھپی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔

"آج میں اپنی بیوی کو گھر لے کر آیا ہوں۔"

یہ جملہ سنتے ہی رضا کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اس کے ہونٹ کپکپا اٹھے۔

"عنایہ..."

(اس نے بمشکل اس کا نام لیا)

"پورا گھر اس کے استقبال کے لیے سجا ہوا تھا۔ پھول... روشنیاں... مسکراہٹیں..."

وہ جیسے ہر لفظ جان بوجھ کر آہستہ بول رہا تھا۔

"اور آج پہلی بار... وہ میرے گھر میں، میرے نام سے داخل ہوئی۔"

رضا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔

اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے برسوں کے خواب ایک ہی لمحے میں راکھ کر دیے ہوں۔

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا...

مگر الفاظ اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔

ماسک مین کی ہنسی تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی۔

وہ چند قدم چلتا ہوا کمرے کے دوسرے (کونے تک گیا، پھر مڑ کر بولا)

"تم خود کو اکیلا سمجھ رہے ہو؟"

رضا نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا۔

"نہیں..."

اس کی آواز غیر معمولی حد تک پرسکون تھی۔

"اس جگہ ایک اور شخص بھی برسوں سے قید ہے۔"

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

"تمہیں تو ابھی چند ہفتے ہوئے ہیں..."

"اسے... کئی سال گزر چکے ہیں۔"

رضا کی سانس رک سی گئی۔

"اور جانتے ہو؟"

وہ ہلکا سا جھکا۔

"یہ جگہ صرف میری مرضی سے لوگوں کو آزاد کرتی ہے۔"

یہ کہتے ہوئے وہ پھر ہنس پڑا۔

اس ہنسی میں خوشی نہیں تھی...

صرف ایک خوفناک اطمینان تھا۔

رضا نے بے بسی سے سر اٹھایا۔

"عنایہ..."

اس کی ٹوٹی ہوئی آواز پورے تہہ خانے میں گونج گئی۔

یہ نام سنتے ہی نقاب میں موجود حازم کی ہنسی اچانک رک گئی۔

کمرے کی فضا یکسر بدل گئی۔

اس کی آنکھوں کی سرد چمک ایک لمحے میں غصے میں تبدیل ہو گئی۔

وہ آہستہ آہستہ رضا کے قریب آیا۔

جیب سے سگریٹ نکالا، سلگایا اور ایک کش لے کر دھواں ہوا میں چھوڑ دیا۔

نیچے کی طرف جھکا. وہی سلگاتا ہوا سگریٹ رضا کے گال پر لگایا.

رضا کی بے بس آواز کمرے میں پھیلی.

حازم شیطانی ہنسی ہنسا. اور واپس سیدھا کھڑا ہوا.

نیلی روشنی میں اس کا سایہ دیوار پر کسی بھیانک عکس کی طرح پھیل گیا۔

وہ جھک کر رضا کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ رضا تکلیف سے چلا رہا تھا.

"میں تمہیں پہلے بھی خبردار کر چکا ہوں..."

اس کی آواز اب دھیمی مگر خطرناک تھی۔

"میری بیوی کا نام اپنی زبان پر مت لانا۔"

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر اس نے سگریٹ زمین پر پھینکا اور جوتے کے نیچے آہستہ آہستہ مسل دیا۔

رضا کی نظریں اسی سگریٹ پر جمی رہ گئیں۔

نجانے کیوں اسے یوں محسوس ہوا...

جیسے اس کی اپنی زندگی بھی اسی راکھ کی طرح بے بس ہو چکی ہو۔

اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال بار بار گونج رہا تھا۔

عنایہ...؟

اس نے حازم کو کیسے قبول کر لیا؟

وہ لڑکی، جو ہمیشہ صرف اسی کی تھی...

آخر اس کی زندگی میں یہ سب کیسے بدل گیا؟

رضا کی نم آنکھیں خلا میں جم گئیں...

اور تہہ خانے میں ایک بار پھر صرف خاموشی رہ گئی۔

8

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔

آسمان پر کالے بادل پوری شدت سے برس رہے تھے۔ موسلا دھار بارش کی آواز سنسان حویلی کو اور بھی پراسرار بنا رہی تھی۔

گیراج میں ایک سیاہ گاڑی آ کر خاموشی سے رکی۔

چند لمحوں بعد حازم گاڑی سے باہر نکلا۔

بارش اگرچہ زیادہ دیر اس پر نہ برسی تھی، مگر گیراج سے مرکزی دروازے تک آتے آتے اس کے گھنے بال بارش کی بوندوں سے ہلکے سے بھیگ چکے تھے۔ اس نے ایک ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کیا، جبکہ دوسرا ہاتھ اپنے کالے لمبے کوٹ پر تھا۔

وہی سیاہ کوٹ...

جسے پہن کر اس کی شخصیت جیسے کسی اور انسان میں ڈھل جاتی تھی۔

دروازہ کھول کر وہ خاموشی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔

پورا گھر گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔ رامو کاکا بھی اپنے کوارٹر میں جا چکے تھے۔

حازم نے آہستگی سے دروازہ بند کیا، کوٹ اتار کر اپنے بازو پر رکھا اور چلتے چلتے اچانک رک گیا۔

جیسے اسے کوئی ضروری بات یاد آ گئی ہو۔

اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹی سی پن ڈرائیو نکال لی۔

اس کے قدم فوراً گھر کے اُس حصے کی طرف مڑ گئے، جہاں اس کا آرٹ روم تھا۔

یہ صرف ایک پینٹنگ روم نہیں تھا...

یہ اس کی دوسری دنیا تھی۔

دیواروں پر اس کی بنائی ہوئی نایاب پینٹنگز آویزاں تھیں۔ ایک طرف قیمتی آرٹ بکس ترتیب سے رکھی تھیں، جبکہ دوسری طرف مضبوط لکڑی کی الماریاں اور خفیہ لاکرز موجود تھے۔

حازم سیدھا ایک مخصوص کتابوں کی شیلف کے سامنے رکا۔

اس نے چند کتابیں ایک خاص ترتیب سے ہٹائیں۔

ان کے پیچھے چھپا ایک خفیہ لاک نمودار ہوا۔

کوڈ داخل کرتے ہی لاک کھل گیا۔

اس نے خاموشی سے پن ڈرائیو اندر رکھی، لاک دوبارہ بند کیا، کتابیں اپنی جگہ رکھ دیں اور ایک لمحے کے لیے اطمینان سے اسے دیکھتا رہا۔

پھر بغیر ایک لفظ کہے واپس کمرے کی طرف چل پڑا۔

اپنے بیڈروم میں پہنچ کر اس نے گیلا کوٹ ہینگر پر لٹکا دیا۔

سفید شرٹ کے کندھے بھی بارش سے معمولی نم ہو چکے تھے۔

وہ سیدھا واش روم میں چلا گیا۔

چند منٹ بعد جب وہ واپس نکلا تو اس نے سیاہ رنگ کی سادہ ٹی شرٹ اور آرام دہ ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔

اس کے بال ابھی بھی ہلکے ہلکے بھیگے ہوئے تھے۔

تولیے سے بال خشک کرتے ہوئے اس کی نظر بے اختیار بستر کی طرف اٹھ گئی۔

عنایہ سکون سے سو رہی تھی۔

اس کے چہرے پر بکھرے چند بال اسے اور بھی معصوم بنا رہے تھے۔

حازم چند لمحے وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔پھر خاموشی سے کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔بارش اب پہلے سے بھی زیادہ شدت سے برس رہی تھی۔

بجلی کی چمک ہر چند لمحوں بعد آسمان کو روشن کر دیتی۔

وہ واپس بستر کے قریب آیا۔

جھک کر نہایت احتیاط سے عنایہ کے چہرے پر آئے بال انگلیوں سے ایک طرف کیے۔

عنایہ ہلکا سا کروٹ بدلی۔

حازم فوراً سیدھا ہو گیا۔

چند لمحے خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

پھر اس کی نظر چادر پر گئی، جو نیند میں ایک طرف سرک گئی تھی۔

اس نے نہایت نرمی سے چادر اٹھا کر عنایہ پر ڈال دی۔

اے سی کی ٹھنڈک بھی کم کر دی تاکہ اسے سردی نہ لگے۔

اس کی نگاہ بے اختیار سائیڈ ٹیبل پر رک گئی۔

وہی خوبصورت تحفے...

وہی ڈبے...

جو اس نے عنایہ کے لیے خریدے تھے۔

اور انہی میں وہ نازک سا بریسلیٹ بھی تھا، جو ابھی تک اپنے ڈبے میں بند پڑا تھا۔

حازم نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔

پھر پر اسرار سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔

"جلدی نہیں..."

اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

"جب اس کا دل چاہے گا... تب پہن لے گی۔"

آج پہلی بار اس نے محسوس کیا کہ بستر کے درمیان تکیوں کی دیوار موجود نہیں تھی۔

وہ لمحہ بھر کو چونکا۔

پھر اس کے دل میں ایک خاموش سی خوشی اتر آئی۔

مگر اس نے اس احساس کو بھی اپنے اندر ہی قید رکھا۔

وہ بستر کے دوسرے کنارے پر آہستگی سے لیٹ گیا۔

اس کی نظریں مسلسل عنایہ پر تھیں۔

اچانک...

کڑاک...!

شدید بجلی چمکی۔

اگلے ہی لمحے زور دار گرج نے پورے کمرے کو ہلا دیا۔

عنایہ گھبرا کر فوراً اٹھ بیٹھی۔

اس نے خوفزدہ نظروں سے ادھر اُدھر دیکھا۔حازم بھی فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

"عنایہ..."

اس کی آواز نہایت نرم تھی۔

"گھبرائیے مت... میں یہیں ہوں۔"

عنایہ نے اسے دیکھا۔

شاید اسے احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ کب واپس آیا۔

اس کا چہرہ اب بھی خوف سے زرد پڑا ہوا تھا۔

اس نے بے اختیار چادر کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا۔

حازم نے ایک لمحے کے لیے جیسے اس کا ہاتھ تھامنے کا ارادہ کیا...

مگر اگلے ہی لمحے اپنا ہاتھ روک لیا۔

(اس نے صرف بستر پر اپنا ہاتھ رکھا اور دھیرے سے بولا)

"

آپ محفوظ ہیں۔"

پھر وہ اٹھا، کھڑکی تک گیا اور شیشے پوری طرح بند کر دیے۔

اس کے بعد موٹے سیاہ پردے کھینچ دیے تاکہ نہ بجلی کی چمک اندر آئے، نہ گرج کی آواز اتنی تیز محسوس ہو۔

کمرے میں صرف بیڈ سائیڈ لیمپ کی مدھم زرد روشنی رہ گئی۔

حازم واپس آ کر بستر کے کنارے بیٹھ گیا۔

"سو جائیے..."

(حازم نے دھیمے لہجے میں کہا)

"جب تک بارش نہیں رکتی، میں جاگ رہا ہوں۔ آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔"

عنایہ نے سہمی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا۔

پھر آہستہ سے سر ہلا دیا۔

وہ دوبارہ لیٹ تو گئی، مگر اس کی آنکھیں بند ہونے کے باوجود بار بار کھل جاتیں۔وہ اپنے بچپن سے ہی بجلی سے بہت ڈرتی تھی.

ہر بار وہ خاموشی سے دیکھتی...

کیا حازم اب بھی وہیں ہے؟

اور ہر بار اسے وہیں پاتی۔

حازم نے سائیڈ ٹیبل سے ایک کتاب اٹھا لی۔

مدھم روشنی میں اس نے کتاب کھول تو لی...

لیکن شاید وہ ایک صفحہ بھی نہ پڑھ سکا۔

کیونکہ ہر چند لمحوں بعد اس کی نظریں کتاب سے ہٹ کر عنایہ کے چہرے پر جا ٹھہرتیں۔ ادھر عنایہ آہستہ آہستہ پرسکون ہونے لگی۔ اس نے آخری بار نیم وا آنکھوں سے حازم کو دیکھا۔

وہ واقعی جاگ رہا تھا...

صرف اس لیے کہ اسے ڈر نہ لگے۔

یہ یقین اس کے دل میں عجیب سا سکون بھر گیا۔

چند ہی لمحوں بعد اس کی پلکیں بوجھل ہوئیں...

اور وہ گہری نیند میں چلی گئی۔

حازم نے کتاب بند کر دی۔

اس کی نگاہیں اب بھی عنایہ پر تھیں۔

باہر بارش مسلسل برس رہی تھی...

مگر اس کمرے کے اندر، پہلی بار، خاموشی خوف کی نہیں...

اعتماد کی محسوس ہو رہی تھی۔

جاری ہے......

Let syeda hasba know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Milky Treasures on a Healing Love

Booklover_rdx: A different but good story. Basically a love story with a twist- i enjoyed every word of it

Read Now
The Easter Bunny

Lynne: Beautiful short story with a happy ending.luved it.

Read Now
The Grumpy Next Door

Jane: A lovely story with good characters.

Read Now
Claimed By The Wrong Prince

Sasha: What a beautiful story, he was the perfect prince

Read Now
Bear Roberts

Gabby: I’m working with **Lorey**, a platform that turns novel characters and scenes into interactive experiences readers can play.We can help you:- Turn your story into character profiles- Preserve each character’s voice and relationships- Create an interactive scene for you to reviewYour story won’t be ...

Read Now
Beyond the Ice Wall

LovetoreadStephanie: I am actually really impressed by this book. How a conspiracy theory can be made in an original, heartwarming and dreamy romance! I am so happy it's a series! I can't stop imagining the world and how I wished it was true 😍

Read Now
The Alpha's Exiled Mate

Mokatoka: Say what????? God! Is it over???

Read Now
Ruthless Lord

gdmee04: Great story line well written

Read Now
PARIS IN THE DARK

Sasha: Love this kind of romantic stories, very good one.

Read Now