Chapter 23
قسط نمبر 23
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
صبح کے تقریباً آٹھ بجے عنایہ کی آنکھ کھلی۔ کمرے میں صبح کی ہلکی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اِدھر اُدھر دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
اس کی نظر فوراً بیڈ کے اُس حصے پر گئی جہاں رات کو حازم لیٹا ہوا تھا، مگر اب وہاں خالی جگہ تھی۔
عنایہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
رات کو حازم کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی، یہی خیال آتے ہی اس کے دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔
"اب... حازم کی طبیعت کیسی ہوگی؟"
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اسے حازم کی اتنی فکر کیوں ہو رہی تھی۔ آخر ان دونوں کا رشتہ ہی کیا تھا؟ صرف کاغذات کی حد تک جڑا ہوا ایک رشتہ... پھر بھی حازم کا یوں اچانک کمرے سے غائب ہونا اسے پریشان کر گیا تھا۔
شاید وہ نیچے چلا گیا ہو۔
یہ سوچ کر عنایہ نے خود کو تسلی دی۔ وہ بیڈ سے اٹھی، اپنا لباس درست کیا، بالوں کو سمیٹا اور بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
پورا ہال خاموش تھا۔
صبح کے سناٹے میں گھر کے ہر کونے پر عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ عنایہ دبے دبے قدموں سے آگے بڑھی تو کچن کی طرف سے برتنوں کی ہلکی سی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
وہ رک گئی۔
پھر آہستہ آہستہ کچن کی طرف بڑھنے لگی۔
کچن میں پہنچ کر جو منظر اس نے دیکھا، اسے دیکھ کر وہ چند لمحوں کے لیے وہیں رک گئی۔
حازم کچن میں کھڑا اپنے ہاتھوں سے کافی بنا رہا تھا۔
عنایہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
اتنا امیر آدمی، جس کے لیے گھر میں ہر کام کرنے والے لوگ موجود تھے، آج خود کچن میں کھڑا کافی بنا رہا تھا۔
اس کے ہونٹوں پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
تو جناب اپنے کام خود بھی کر سکتے ہیں...
وہ ابھی کچن میں داخل ہی ہوئی تھی کہ اس کا دوپٹہ پاس رکھی شیلف کے کونے میں اٹک گیا۔ اسے چھڑانے کی کوشش میں پاس رکھا ایک چمچ نیچے جا گرا۔
چھن کی آواز پورے کچن میں گونجی۔
(حازم نے پیچھے مڑے بغیر ہی کہا)
"آپ اٹھ گئی ہیں؟"
عنایہ ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئی۔
اس نے حیرت سے حازم کو دیکھا۔
اسے کیسے پتا چلا کہ میں ہوں؟ حور بھی تو ہو سکتی تھی...
اتنے میں حازم نے کافی تیار کی اور دونوں کپ اٹھا لیے۔ پھر عنایہ کی طرف بڑھا۔
(ایک کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا)
"یہ لیجیے، کافی پیجیے۔"
عنایہ نے خاموشی سے کپ تھام لیا۔
اس کی نظریں اب بھی حازم کے چہرے پر تھیں۔ رات کو تو اس کی طبیعت اتنی خراب تھی، مگر آج وہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا۔ چہرے پر بیماری یا کمزوری کا کوئی اثر تک نہیں تھا۔
آج اچانک اسے ہوا کیا ہے؟
حازم نے اس کی نظروں کو محسوس کیا تو ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا، پھر اپنی کافی کی طرف متوجہ ہوگیا۔
(عنایہ نے آہستہ سے کہا)
"آپ بھی پیجیے۔"
حازم نے خاموشی سے کافی کا کپ اٹھایا اور ایک گھونٹ بھرا۔ دونوں کچھ دیر تک خاموشی سے اپنی اپنی کافی پیتے رہے۔مگر عنایہ کے ذہن میں ایک سوال مسلسل گردش کر رہا تھا۔
رات کو حازم اتنا بیمار تھا... پھر آج یہ بالکل ٹھیک کیسے ہے؟
آخر وہ کس چیز کی دوا تھی جو حازم نے کل رات لی تھی۔
*°*°*°*°*°*
کافی ختم ہوتے ہی عنایہ نے خاموشی سے اپنا کپ اٹھایا اور واپس کچن کی طرف چل دی۔ حازم نے اسے جاتے دیکھا تو اسے لگا شاید وہ کپ رکھنے جا رہی ہے، اس لیے وہ وہیں کھڑا رہا۔
عنایہ نے کپ سنک میں رکھا اور پھر کچھ لمحوں کے لیے وہیں کھڑی ہو گئی۔
اس نے دونوں ہاتھ کچن کے کاؤنٹر پر رکھے اور نظریں پورے کچن میں گھمائیں۔
اتنے مہینوں سے وہ اس گھر میں رہ رہی تھی، مگر اسے آج تک کچن کی کسی چیز کی جگہ کا ٹھیک سے اندازہ نہیں تھا۔ حازم نے اسے کبھی گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے ہی نہیں دیا تھا۔
وہ ایک ایک کیبنٹ کو دیکھ رہی تھی، مگر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ناشتہ بنانے کے لیے کیا چیز کہاں سے ملے گی۔
اسی دوران حازم کچن کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔ اس نے کندھا دروازے سے ٹکایا اور بازو سینے پر باندھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
"آپ کیا کر رہی ہیں؟"
عنایہ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
"کچھ دیر میں ناشتے کی تیاری کرنی ہے۔ حور کو اسکول جانا ہے اور آپ کو پتا ہے اس کے ٹیسٹ بھی شروع ہو گئے ہیں۔"
(وہ ایک لمحے کو رکی، پھر بولی)
"میں سوچ رہی تھی کہ وقت پر ناشتہ بنا دوں۔"
پھر اس نے ذرا جھجکتے ہوئے کچن کی طرف دیکھا۔
"لیکن مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ سامان کہاں رکھا ہے۔"
حازم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ آگے بڑھا اور بغیر کچھ کہے کیبنٹ سے بریڈ نکالی۔ پھر فریج کھولا اور انڈے، جیم، چاکلیٹ اور کچھ پھل نکال کر ٹیبل پر رکھ دیے۔
اس نے چھری اٹھائی اور پھل کاٹنے لگا۔
(عنایہ فوراً بولی)
"آپ کیا کر رہے ہیں؟"
حازم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
"کام۔"
"یہ بھی تو میں کر سکتی ہوں۔"
حازم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔
وہ جانتا نہیں تھا کہ عنایہ کتنی ضدی ہے، مگر اب تک اتنا ضرور سمجھ چکا تھا کہ اس معاملے میں وہ کسی کی آسانی سے نہیں سنتی۔
عنایہ بھی آگے بڑھی اور پلیٹیں نکالنے لگی۔ حازم نے ایک پلیٹ اس کی طرف بڑھائی تو عنایہ نے بھی اس کی پلیٹ اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔
حازم نے ایک لمحے میں اس کی پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی اور عنایہ کی کمر کے گرد ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہونے کا اشارہ کیا۔
عنایہ اچانک گھبرا گئی۔
اس کے ہاتھ بے اختیار اپنے بالوں تک گئے۔
حازم نے فوراً اسے چھوڑ دیا۔
چند لمحے دونوں ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔
عنایہ نے نظریں جھکا لیں۔
"میں... خود کر لوں گی۔"
حازم نے کچھ نہیں کہا، بس اسے دیکھتا رہا۔ اسی لمحے اسے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
"تیار ہو گئی میری گڑ یا؟"
حازم نے مڑ کر دیکھا۔
وہ اسکول یونیفارم میں تیار کھڑی تھی۔
حازم کے چہرے پر فوراً شفقت بھری مسکراہٹ آئی۔
(وہ اس کے پاس گیا اور محبت سے اس کے بال درست کرتے ہوئے بولا)
"تیار ہو گئی؟"
اس نے مسکرا کر سر ہلایا۔
"جی۔ بس آپ جلدی سے ناشتہ لگا دیں، میں جوتے پہن کر آتی ہوں۔"
وہ یہ کہہ کر کچن سے نکل گئی۔
عنایہ دوبارہ کام میں مصروف ہو گئی۔
حازم وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ عنایہ ضد کر کے اپنا کام خود ہی کرے گی، اس لیے اس بار اس نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔
عنایہ کے لیے بھی یہی بہتر تھا۔ اسے اچھا نہیں لگتا تھا کہ اس کی موجودگی میں حازم ہر کام خود کرے۔ محبت میں کسی کا خیال رکھنا اچھا لگتا ہے، مگر ہر کام کا بوجھ یا مجبوری کے طور پر دوسرے پر ڈال دینا اسے پسند نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد اسے چائے بنانی تھی۔
اس نے ایک کے بعد ایک کیبنٹ کھولنا شروع کر دیے۔
"شکر کہاں ہے؟"
آخر اسے اوپر والے کیبنٹ میں ایک ڈبہ نظر آیا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہت اونچائی پر رکھا تھا۔
عنایہ نے ہاتھ اوپر کیا۔
انگلیاں ڈبے تک پہنچنے سے ذرا پہلے رک گئیں۔ اس نے دوبارہ کوشش کی۔
پھر پنجوں کے بل کھڑے ہو کر اچھلنے لگی۔
حازم کچھ فاصلے پر کھڑا خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
عنایہ نے تیسری بار ہاتھ بڑھایا تو اچانک اُسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔
وہ پلٹ بھی نہ پائی تھی کہ حازم اس کے بالکل پیچھے آ کھڑا ہوا۔
اس نے خاموشی سے ہاتھ بڑھایا، اوپر رکھا شکر کا ڈبہ اٹھایا اور نیچے رکھ دیا۔
پھر چائے کی پتی کا ڈبہ بھی نکال کر کاؤنٹر پر رکھ دیا۔
عنایہ ایک دم گھبرا کر دو قدم پیچھے ہوئی۔
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
'Thank you'
وہ جلدی سے دوسری طرف ہو گئی اور چائے بنانے میں مصروف ہو گئی۔
حازم وہیں کھڑا رہا۔
وہ کچھ نہیں بولا۔
بس خاموشی سے عنایہ کو کام کرتے دیکھتا رہا، اور اس کے چہرے پر ایک ہلکی، نرم سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
عنایہ اپنی مصروفیت میں الجھی رہی، جبکہ حازم کی نظریں بار بار بے اختیار اسی پر ٹھہر رہی تھیں۔
کچن کی صبح کی خاموشی میں یہ منظر عجیب سا پُرسکون تھا۔
کوئی بڑی بات نہیں ہوئی تھی، کوئی خاص گفتگو بھی نہیں ہوئی تھی...
مگر پھر بھی اس خاموشی میں ایک اپنائیت سی اتر آئی تھی۔
*°*°*°*°*°*
حازم حور کو اسکول چھوڑنے کے لیے گھر سے نکل چکا تھا۔
اس کے جانے کے بعد پورا گھر ایک بار پھر خاموشی میں ڈوب گیا۔
عنایہ کچھ دیر اپنے کمرے میں بیٹھی رہی، پھر اچانک اس کے دل میں خیال آیا کہ آج وہ پورا گھر اچھی طرح دیکھے۔ اس نے پہلے بھی گھر کے کئی حصے دیکھے تھے، مگر اتنا وسیع گھر تھا کہ شاید اب تک اس نے اسے صحیح معنوں میں ایکسپلور ہی نہیں کیا تھا۔
وہ کمرے سے باہر نکلی۔
گھر واقعی کسی خوبصورت محل سے کم نہیں تھا۔ بلند چھتیں، نفیس فانوس، دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز، بڑے بڑے شیشے کے دروازے اور کھڑکیاں... ہر چیز میں ایک خاص سلیقہ جھلکتا تھا۔
عنایہ آہستہ آہستہ راہداریوں سے گزرتی ہوئی مختلف کمروں کو دیکھنے لگی۔ وہ کسی کمرے میں داخل نہیں ہوتی، بس گزرتے ہوئے کھلے دروازوں سے اندر جھانک لیتی۔
ڈائننگ روم، کچن، اپنا کمرہ... یہ سب تو وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی۔
آگے بڑھتے ہوئے اسے حور کا کمرا نظر آیا جس کا دروازہ کھلا تھا۔
وہ بے اختیار اندر چلی گئی۔
کمرے میں مختلف بھالو اور کتابیں سلیقے سے رکھے ہوئی تھیں ۔ دیواروں پر خوبصورت تصویریں لگی تھیں۔ عنایہ کی نظریں ایک تصویر پر رک گئیں۔
تصویر میں حازم اور حور ساتھ کھڑے تھے۔
عنایہ کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ آگے بڑھی اور ٹیبل پر رکھی ایک اور تصویر ہاتھ میں اٹھا لی۔
حازم اور حور کی مسکراتی ہوئی تصویر دیکھ کر اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی اتر آئی۔
(اس نے تصویر کو چند لمحے محبت سے دیکھا، پھر بہت دھیمی آواز میں بولی)
"اللہ آپ دونوں بہن بھائیوں کو ہمیشہ خوش رکھے... ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ سلامت رکھے۔"
اس نے تصویر احتیاط سے واپس رکھی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
اب وہ دوبارہ راہداری میں چلنے لگی۔
گھر کا تقریباً ہر حصہ دیکھتے ہوئے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ سیڑھیوں کے ساتھ بنی بڑی بڑی کھڑکیوں سے باہر کا خوبصورت باغ صاف نظر آ رہا تھا۔
دھوپ میں نہایا ہوا سبزہ، پھولوں کی قطاریں اور دور تک پھیلا ہوا باغ...
عنایہ چند لمحے وہیں کھڑی ہو کر اس منظر کو دیکھتی رہی۔
پھر اس کی نظر ایک بند دروازے پر پڑی۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، پھر تجسس کے باعث اس کے قریب چلی گئی۔
ہینڈل گھمایا۔
دروازہ نہیں کھلا۔
اس نے دوبارہ کوشش کی۔
لاک تھا۔
عنایہ نے حیرت سے دروازے کو دیکھا۔
"یہ کمرہ لاک کیوں ہے؟"
وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ حازم کا کمرہ تھا۔ آرٹ روم جہاں وہ اپنا وقت اکثر گزارا کرتا تھا. لیکن عنایہ کے آنے کے بعد وہ بہت کم اس کمرے کا رُخ کرتا تھا عنایہ اس سب سے انجان تھی۔
کچھ لمحے سوچنے کے بعد اس نے کندھے اچکائے اور خاموشی سے وہاں سے آگے بڑھ گئی۔
وہ باقی اسٹور رومز اور گھر کے دوسرے حصے بھی دیکھتی رہی۔
وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اسی دوران اچانک
اس کی نظر حازم پر پڑی وہ واپس لوٹ چکا تھا۔
عنایہ چونک گئی۔
اس کا دل ایک لمحے کو دھک سے رہ گیا۔
وہ فوراً سیڑھیوں کی طرف بڑھی اور اوپر سے نیچے دیکھنے لگی۔
بڑے شیشے کے دروازے کے پار باغ کا راستہ نظر آ رہا تھا۔
وہاں حازم موجود تھا۔
اور وہ باغ سے گھر کی طرف آ رہا تھا۔
عنایہ کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ
آ گئی۔
حازم واپس آ گئے ..
وہ جلدی سے سیڑھیاں اترنے لگی۔
ادھر حازم بھی گھر کے دروازے تک پہنچ چکا تھا۔
اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔
صبح کی روشنی ابھی تک بڑے بڑے شیشوں سے اندر آ رہی تھی۔ باغ کی ہریالی اور گھر کی خاموش خوبصورتی ایک دوسرے میں گھلی ہوئی تھی۔
حازم نے اندر قدم رکھا تو اچانک اس کی نظر سامنے کھڑی عنایہ پر گئی۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
چند لمحوں کے لیے جیسے پورا گھر خاموش ہو گیا۔
عنایہ سیڑھیوں پر کھڑی تھی اور حازم نیچے دروازے کے پاس۔
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اور نہ جانے کیوں، عنایہ کے دل میں بھی ایک عجیب سی خوشی اتر گئی۔
*°*°*°*°*°*
سعد اپنے آفس کے کیبن میں بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا۔
اس نے اسکرین پر نظر ڈالی تو لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔
نام دیکھتے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ کال کس مقصد کے لیے کی گئی ہے ۔
اس نے فوراً فون اٹھایا۔
"السلام علیکم میری جان، کیسی ہو؟"
دوسری طرف سے نیہا کی خوشگوار آواز آئی۔
"وعلیکم السلام... میں ٹھیک ہوں، آپ بتائیں کیسے ہیں؟"
"میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔"
(نیہا چند لمحے خاموش رہی، پھر ذرا شکوے بھرے انداز میں بولی)
"اچھا پہلے مجھے یہ بتائیں کہ آپ کل اچانک اپنی ممی کے ساتھ کیوں آ گئے تھے؟ اور وہ بھی ہمارے گھر... آپ نے مجھے بتایا تک نہیں کہ آپ شادی کے لیے بات کرنے آ رہے ہیں؟"
سعد نے ایک گہری سانس لی۔ اس کے چہرے پر اب بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
"میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔"
"سرپرائز؟"
"ہاں۔ میں تمہارے ایکسپریشن دیکھنا چاہتا تھا... اور وہ میں دیکھ چکا ہوں۔"
نیہا کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ آ گئی۔
(سعد نے بات جاری رکھی)
"میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا کہ اب ہماری بھی شادی ہو جانی چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم اس رشتے کو اگلے مرحلے میں لے جائیں میں اب مزید تم سے دور نہیں رہ سکتا۔"
سعد کی آواز میں خوشی صاف محسوس ہونے لگی۔
"لیکن آپ مجھے بتا تو سکتے تھے۔ پہلے مجھ سے ڈسکس کرتے۔ آپ تو سیدھا شادی کی بات لے کر پہنچ گئے کہ اب ڈیٹ لینے آنا ہے!"
سعد ہنس دیا۔
"بس کل تمہارے ایکسپریشن دیکھنے تھے... اور سچ کہوں تو تم کافی شرما رہی تھیں۔"
"آپ بھی نا..."
نیہا نے شرماتے ہوئے بات بدلنے کی کوشش کی۔
(پھر کچھ سوچ کر بولی)
"ویسے عنایہ باجی جس دن یہاں آ جائیں گی، پھر ہم سب مل کر پلان کر لیں گے۔ آپ لوگ جب بھی ڈیٹ لینے آنا چاہیں، بتا دیں گے۔"
"تم خوش ہو نا؟"
سعد کی آواز میں اس بار سنجیدگی تھی۔
(نیہا چند لمحے خاموش رہی، پھر نرم لہجے میں بولی)
"آپ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں۔ اگر سب یہی چاہتے ہیں تو مجھے کیا اعتراض ہوگا؟ بڑے ہمیشہ بہتر ہی سوچتے ہیں۔"
سعد کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
"واہ! کب سے اتنی سمجھدار ہو گئی ہو؟"
نیہا ہنس دی۔
"جب سے عنایہ باجی یہاں سے گئی ہے، مجھے لگتا ہے جیسے مجھ پر بھی کچھ ذمہ داریاں آ گئی ہیں۔"
سعد مسکرایا۔
"اچھا جی..."
"اچھا اب میرا ٹائم ویسٹ مت کریں۔ میں یونیورسٹی میں ہوں اور لیکچر کا وقت ہو رہا ہے۔ باقی باتیں پھر کریں گے۔"
(سعد نے ہنستے ہوئے کہا)
"ٹھیک ہے، جاؤ۔"
"اللہ حافظ۔"
"اللہ حافظ۔"
کال ختم ہونے سے پہلے ہی نیہا نے شرماتے ہوئے فون کاٹ دیا۔
سعد چند لمحے موبائل کی اسکرین کو دیکھتا رہا، پھر بے اختیار مسکرا دیا۔
نیہا کی شرمیلی آواز اور اس کی باتیں ابھی تک اس کے ذہن میں گونج رہی تھیں۔
کل ہونے والی شادی کی بات اب حقیقت میں ایک قدم آگے بڑھ چکی تھی۔ سعد کی والدہ خود ان کے گھر گئی تھیں اور نیہا کے گھر والوں سے باقاعدہ رشتے اور شادی کے حوالے سے بات کی تھی۔ اب صرف اگلا مرحلہ باقی تھا— دونوں خاندانوں کا مل کر شادی کی تاریخ طے کرنا۔
سعد نے ایک بار پھر مسکراتے ہوئے فون میز پر رکھا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
ادھر نیہا بھی یونیورسٹی کے لیکچر کی طرف بڑھ گئی تھی، مگر اس کے چہرے پر چھپی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اس کا دھیان ابھی بھی اسی گفتگو میں کہیں اٹکا ہوا ہے۔
*°*°*°*°*°*
آسمان پر بادلوں کی ہلکی تہہ چھائی ہوئی تھی اور سورج کی تیز روشنی ابھی باغ تک نہیں پہنچی تھی۔ موسم میں ایک عجیب سی نرمی تھی، جیسے فضا نے بھی کچھ دیر کے لیے سکون کا لباس اوڑھ لیا ہو۔
حاذم ایک طرف بیٹھا آفس کے کام میں مصروف تھا، جبکہ عنایہ آہستہ آہستہ باغ میں ٹہل رہی تھی۔ باغ کی خوبصورتی آج کچھ زیادہ ہی نمایاں محسوس ہو رہی تھی۔ قطار سے لگے پودے، رنگ برنگے پھول اور صبح کے پانی سے بھیگی ہوئی پتیاں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ باغ کی دیکھ بھال پوری توجہ سے کی جاتی تھی۔
عنایہ چلتے چلتے ایک پھول کے قریب رک گئی۔
مالی ابھی کچھ دیر پہلے ہی پودوں کو پانی دے کر گیا تھا۔ شاید پانی کی بوندوں کے بوجھ سے ایک نازک سا پھول اپنی شاخ سے ٹوٹ کر نیچے جھک گیا تھا۔
عنایہ نے جھک کر اسے دوبارہ شاخ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔
مگر پھول پھر نیچے گر گیا۔
اس نے دوبارہ اسے سنبھالا۔
پھول پھر جدا ہو گیا۔
عنایہ کے چہرے پر بے بسی سی ابھری۔
"تمہیں اتنی جلدی ہار نہیں ماننی چاہیے..." وہ بے اختیار بڑ ببڑائی۔
مگر پھول کا اپنی شاخ سے ٹوٹ جانا اسے جانے کیوں دل کے بہت قریب محسوس ہوا۔
ایک لمحے کے لیے رضا کا خیال اس کے ذہن میں آیا۔
جدا ہونا... بچھڑ جانا... اور وہ رشتہ جسے کبھی اس نے اپنی زندگی کا حصہ سمجھا تھا۔
عنایہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کو اداسی اتری، مگر اگلے ہی پل اس نے جیسے خود کو جھٹک دیا۔
نہیں۔
وہ رضا کی کی ہوئی زیادتی کو بھول نہیں سکتی تھی۔ کچھ فیصلے انسان کی خواہش سے نہیں، حالات کی سختی سے وجود میں آتے ہیں۔
وہ ابھی اسی کشمکش میں تھی کہ اچانک اس کے پیچھے قدموں کی آہٹ ہوئی۔
عنایہ نے پلٹنے سے پہلے ہی وہ پھول سنبھالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر پھول اس کی انگلیوں سے پھسل کر اس کے ہاتھ میں آ گرا۔
وہ سیدھی کھڑی ہوئی۔
سامنے حازم کھڑا تھا۔ جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
عنایہ کے چہرے پر معمول کی سنجیدگی کے بجائے ہلکی سی اداسی تھی۔
عنایہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
(حازم نے بنا کچھ کہے اس کی ہتھیلی میں موجود پھول کو دیکھا)
پھر آہستگی سے وہ پھول اس کے ہاتھ سے لیا اور چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
"کچھ پھول..." اس نے دھیمی آواز میں کہا، "شاخ سے جدا ہو کر بھی اپنی خوبصورتی نہیں کھوتے۔"
عنایہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
حازم نے پھول کو دیکھا، پھر عنایہ کی طرف۔ وہ عنایہ کی اداسی کی وجہ جان چکا تھا۔
"شاید اس لیے کہ جدائی ہمیشہ اختتام نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی کوئی چیز اپنی جگہ سے جدا ہو کر بھی کسی دوسرے مقصد کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔"
عنایہ کی نظریں پھول پر جم گئیں۔
حازم نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر بے حد سادگی سے وہ پھول اس کے بالوں میں سجا دیا۔
عنایہ اچانک ساکت رہ گئی۔
(حازم نے پھول کو درست کرتے ہوئے کہا)
"اور شاید کچھ پھول شاخ پر رہنے کے لیے نہیں ہوتے... شاید انہیں کسی ایسی جگہ تک پہنچنا ہوتا ہے جہاں ان کی خوبصورتی زیادہ معنی رکھتی ہو۔"
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔
"کچھ چیزیں لفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں... بس انہیں سنبھال کر رکھ لینا چاہیے۔"
عنایہ نے بے اختیار بالوں میں لگے پھول کو چھوا۔
حازم کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ آئی جو سب واضع تھی عنایہ نے اسے مسکراتے پہلی بار دیکھا تھا اسے حازم کا چہرہ بھی آج گلاب جیسا کھلا محسوس ہوا۔
"یہ پھول..."
( اس نے دھیرے سے کہا)
"مجھے لگتا ہے، اسے اپنی جگہ مل گئی ہے۔"
عنایہ نے کوئی جواب نہ دیا۔
بس بادلوں سے ڈھکے آسمان کے نیچے وہ خاموش کھڑی رہی، اور صبح کی ٹھنڈی ہوا اس کے بالوں میں لگے اس ننھے سے پھول کو ہولے ہولے ہلا رہی تھی۔
*°*°*°*°*°*
رات امل نے کس طرح گزاری تھی حازم کی کال آنے کے بعد جسے وہ اپنی بد نصیبی کے باعث اٹھا نہیں سکی تھی کاش وہ فون کو کمرے میں رکھ کر کھانا کھانے نا گئی ہوتی بس اسی وقت کو وہ کوس رہی تھی.
اسی پریشانی میں موبائل اٹھایا اور علیزہ کا نمبر ملا دیا۔
چند لمحوں بعد دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی۔
"ہیلو؟"
(امل نے بنا کسی تمہید کے پوچھا)
"علیزہ... حازم آفس میں ہے؟"
علیزہ نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر جواب دیا،
"نہیں، سر آج آفس نہیں آئے۔"
امل کے چہرے پر جیسے ایک دم تناؤ پھیل گیا۔
"نہیں آیا؟"
"ہاں۔"
(علیزے نے نرمی سے کہا)
امل کچھ دیر خاموش رہی۔ اس کے ذہن میں ایک ہی خیال گردش کرنے لگا۔
اگر آفس نہیں گیا تو پھر کہاں ہے؟
عنایہ کے پاس... اپنی بیوی کے پاس۔
اس خیال نے اس کے اندر جیسے آگ بھڑکا دی۔
"میں پچھلے دو تین دن سے اسے مسلسل کال کر رہی ہوں، علیزے۔ نہ میری کال اٹھا رہا ہے، نہ میرے کسی میسج کا جواب دے رہا ہے اور کل اسی کال آئی تھی مجھے کال کا پتا نہیں لگا جب دیکھی تب سے پریشان ہو میرے حازم نے مجھ سے کچھ کہنا ہوگا۔"
(امل ایک سانس میں سب کہہ چکی تھی)
"امل، شاید وہ مصروف ہوں۔"
(علیزہ نے نرم لہجے میں کہا)
"مصروف؟" امل کے لہجے میں تلخی اتر آئی۔ "اتنے دنوں سے ایک کال کا جواب دینے جتنا وقت بھی نہیں ملا اسے؟"
علیزہ نے گہری سانس لی۔
"امل، میری بات سنو۔ حازم سر اب شادی شدہ ہے۔ تمہیں حقیقت قبول کرنی ہوگی۔ تم کب تک اس کے پیچھے خود کو اُن طرح تکلیف دیتی رہو گی؟"
دوسری طرف کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر امل کی آواز ابھری، پہلے سے زیادہ سخت۔
"تم مجھے بتاؤ گی کہ مجھے کیا کرنا ہے؟"
"میں صرف تمہیں سمجھا رہی ہوں—"
"نہیں، علیزہ!" امل نے بات کاٹ دی۔ "
تم نہیں سمجھ سکتیں۔ تمہیں کیا معلوم میں نے کتنے سال اسے اپنے دل میں رکھا ہے۔ میرے لیے یہ اتنا آسان نہیں کہ وہ کسی اور کا ہو گیا تو میں بھی سب کچھ ختم کر دوں۔"
علیزہ خاموش ہو گئی۔
امل کی آواز میں اب غصے سے زیادہ بے بسی تھی۔
"میں اسے ایسے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی... مجھے برداشت نہیں ہوتا کہ وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ ہو۔"
"امل..."
"بس!" اس نے جھنجھلا کر کہا۔ "مجھے مزید مت سمجھاؤ۔"
کال اچانک منقطع ہو گئی۔
امل نے موبائل کو غصے سے بیڈ پر پھینک دیا۔
وہ چند لمحے بے مقصد سامنے دیکھتی رہی، جیسے ذہن میں کوئی راستہ تلاش کر رہی ہو۔ پھر بے چینی میں ہاتھ اپنے بالوں تک لے گئی اور انہیں زور سے مٹھی میں جکڑ لیا۔
"میں کیا کروں...؟"
اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔
"حازم کو اس لڑکی سے دور کیسے کروں؟"
اس نے بے قراری سے موبائل دوبارہ اٹھایا۔
اسکرین پر حازم کا نام دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شدت
آ گئی۔
اس نے فوراً کال ملا دی۔
ایک رِنگ...
دوسری رِنگ...
تیسری رِنگ...
کوئی جواب نہیں۔
امل کی انگلیاں بے اختیار موبائل پر سخت ہو گئیں۔
"اٹھاؤ حازم..."
کال پھر بھی جاری رہی۔
پھر کال خود بخود منقطع ہو گئی۔
امل چند لمحے موبائل کی اسکرین کو دیکھتی رہی، جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو کہ حازم نے پھر بھی اس کی کال نہیں اٹھائی۔
اگلے ہی لمحے اس کے اندر جمع سارا غصہ پھٹ پڑا۔
"حازم!"
وہ چیخی۔
"تم میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے؟"
اس کی آنکھوں میں بے بسی اتر آئی۔
"میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں... کب سے تم سے بات کرنا چاہتی ہوں... تمہیں ایک بار بھی خیال نہیں آتا کہ کوئی تمہاری آواز سننے کے لیے اتنا بے چین ہے؟"
اس نے موبائل کو سینے سے لگا لیا، مگر اگلے ہی لمحے اسے دوبارہ دور کر دیا۔
"تمہیں کیا ہو گیا ہے، حازم؟"
اس کی آواز بھرّا گئی۔
"میں نے تمہیں برسوں سے چاہا ہے... اور آج تمہیں میری ایک کال بھی بوجھ لگنے لگی ہے؟"
موبائل خاموش تھا۔
حازم کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
امل نے نم آنکھوں سے اسکرین کو دیکھا۔
"تم جتنا مجھ سے دور جا رہے ہو نا، حازم..." اس کی آواز لرز گئی، "اتنا ہی میرا دل تمہیں اپنے اور قریب کھینچ رہا ہے۔"
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی، موبائل ابھی تک ہاتھ میں تھا۔
"مجھے نہیں معلوم میں تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے کیسے دیکھوں گی..."
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
"لیکن میں تمہیں یوں خاموش بھی نہیں رہنے دوں گی۔"
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی، مگر امل کے اندر شور پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا۔
*°*°*°*°*°*
آسیہ بیگم ڈرائنگ روم میں بےچینی سے ٹہل رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر کئی دنوں سے چھائی پریشانی آج پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں تھی۔ بار بار ان کی نگاہ دروازے کی طرف اٹھ جاتی، جیسے ابھی رضا اندر داخل ہو جائے گا۔
اچانک دروازہ کھلا اور فاضل صاحب گھر میں داخل ہوئے۔آسیہ بیگم ایک دم رک گئیں۔وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھیں اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔
"فاضل صاحب... بتائیے، پولیس والوں نے کیا کہا؟ ہمارے رضا کے بارے میں کچھ پتا چلا؟ رضا کہاں ہے؟"
فاضل صاحب نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں بھی ہمیشہ کی طرح تھکن اور مایوسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
آسیہ بیگم نے ان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور انہیں صوفے تک لے آئیں۔
"بیٹھیں... آپ مجھے بتائیں، انہوں نے کیا کہا؟"
فاضل صاحب خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئے۔
(چند لمحوں تک وہ کچھ بول نہ سکے۔
پھر دھیمی آواز میں بولے)
"دیکھو آسیہ... ہمارے رضا کا کہیں بھی کوئی پتا نہیں چل رہا۔ پولیس والے بھی اب اپنی پوری کوشش کر کے تھک چکے ہیں۔ دو مہینے ہونے کو آئے ہیں، مگر رضا کا کوئی اتا پتا نہیں۔"
آسیہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
"تو پھر...؟"
(فاضل صاحب نے نظریں جھکا لیں)
"مجھے تو اب یہی لگتا ہے کہ رضا ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔"
"نہیں..." آسیہ بیگم نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔ "میرا رضا ہمیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔"
اسی لمحے دروازہ کھلا اور ان کی بیٹی عینی کالج سے واپس گھر آ گئی۔
وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے ماں باپ کو پریشان اور نم آنکھوں کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر فوراً ان کے پاس آ گئی۔
"امی؟ کیا ہوا؟ آپ اتنی پریشان کیوں ہیں؟ رو کیوں رہی ہیں؟"
آسیہ بیگم نے بیٹی کو دیکھا تو ضبط ٹوٹ گیا۔
"بیٹا..." ان کی آواز بھرّا گئی، "نصیب میں شاید رونا ہی لکھا ہے میرے۔ اللہ جانے یہ امتحان کب ختم ہوگا۔ رضا لاپتہ ہے اور تم چاہتی ہو میں چپ بیٹھ جاؤں؟"
عینی خاموش ہو گئی۔
وہ آہستہ سے ماں کے پاس بیٹھ گئی اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔
"امی، آپ پریشان نہ ہوں۔ رضا بھائی ایک دن ضرور مل جائیں گے۔ اللہ انہیں ہماری طرف واپس لے آئے گا۔"
فاضل صاحب نے ایک گہری سانس لی۔
"نہیں بیٹا..."
عینی نے چونک کر باپ کی طرف دیکھا۔
"رضا ہمیں چھوڑ کر جا چکا ہے۔ اپنی مرضی سے گیا ہے۔ اس کا میسج بھی تو آیا تھا۔"
"نہیں ابو!" عینی نے فوراً سر ہلایا۔ "
ایسا نہیں ہو سکتا۔ رضا بھائی ایسے نہیں ہیں۔ وہ عنایہ آپی سے بھی بہت محبت کرتے تھے، اور ہم سب سے بھی۔ وہ ہمیں کبھی چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔"
(فاضل صاحب کچھ لمحے بیٹی کو دیکھتے رہے، پھر دھیمی آواز میں بولے)
"میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ اب باہر واپس نہ جاؤں۔"
آسیہ بیگم نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
"میں اپنی کمپنی میں بات کر چکا ہوں۔ انہیں بتا دیا ہے کہ میں ابھی واپس جوائن نہیں کر سکتا۔ میں تم دونوں کو اس حالت میں چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں؟"
انہوں نے دونوں کو دیکھا۔
"رضا تو ہے نہیں کہ تم دونوں کو اس کے حوالے کر کے اطمینان سے واپس چلا جاؤں۔"
آسیہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
(فاضل صاحب نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا)
"ایک مہینہ تو ویسے بھی میرا اوپر ہو چکا ہے۔ میں صرف ایک مہینے کے لیے آیا تھا، مگر میں نے اپنے باس سے بات کر لی ہے۔ میں کچھ عرصے بعد واپس جاؤں گا، ... اور پھر کوشش کروں گا کہ یہاں پاکستان میں ہی کچھ کر لوں۔"
وہ لمحہ بھر کو رکے۔
"اپنی سرکاری ملازمت بھی دوبارہ جوائن کر لوں گا۔ آخر ہم نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے، دوبارہ بھی شروع کر سکتے ہیں۔"
انہوں نے آسیہ بیگم کا ہاتھ تھام لیا۔
"تم پریشان نہ ہو، آسیہ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ رضا بھی مل جائے گا...
ان شاء اللہ۔"
آسیہ بیگم نے شوہر کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
مگر ضبط کے تمام بند ٹوٹ چکے تھے۔
(وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولیں)
"اللہ کرے فاضل صاحب... اللہ کرے میرا بیٹا واپس آ جائے۔ ماں کا دل اپنے بچے کے بغیر کیسے مطمئن ہو سکتا ہے؟"
عینی نے خاموشی سے اپنی ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
تینوں ایک دوسرے کے قریب بیٹھے تھے، مگر ان کے درمیان موجود رضا کی کمی اس پورے گھر کو جیسے خاموش چیخ میں بدل چکی تھی۔
اور آسیہ بیگم کی آنکھیں اب بھی دروازے پر جمی تھیں...
جیسے انہیں یقین ہو کہ کسی بھی لمحے رضا دروازہ کھول کر کہے گا—
"امی، میں آ گیا ہوں۔"
*°*°*°*°*°*
دوپہر کا ایک بجنے والا تھا۔
عنایہ کافی دیر سے اپنی الماری کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک ایک لباس نکال کر دیکھتی، پھر واپس رکھ دیتی۔ حازم نے آج بس اتنا کہا تھا کہ وہ سیاہ لباس پہن لے، کیونکہ آج وہ اسے لنچ پر لے جانے والا تھا۔
آخرکار اس کی نگاہ اس سیاہ فراک پر جا ٹھہری جو حازم نے خود اس کے لیے خریدا تھا۔
ریشمی شیفون کا خوبصورت سا سیاہ لباس، جو اس کے قدموں تک آتا تھا۔
عنایہ کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی۔
"وہ آج خود حیرانی کے عالم میں تھی آج وہ حازم کے لیے تیار ہونے والی تھی۔"
وہ لباس لے کر غسل کرنے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد جب وہ تیار ہو کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو سیاہ لباس اس کے وجود پر بہت نفاست سے ٹھہرا ہوا تھا۔ پیچھے بند ہونے والی ڈوری اسے بار بار الجھا رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے اسے باندھا، پھر آئینے کے سامنے گھوم کر خود کو دیکھا۔
ایک لمحے کو وہ ٹھہر گئی۔
پھر اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے دو خوبصورت ڈبوں پر جا ٹھہری۔
یہ وہی زیورات تھے جو حازم نے اس کے لیے لیے تھے۔
عنایہ نے ایک ڈبہ کھولا تو اندر نفیس سا لاکٹ جگمگا رہا تھا۔
اس نے اسے اٹھایا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پہننے کی کوشش کی، مگر پیچھے موجود کلپ بار بار اس کی انگلیوں سے نکل جاتا۔
"اف..."
اس نے جھنجھلا کر لاکٹ آگے کی طرف کیا، کلپ بند کیا اور پھر اسے گھما کر دوبارہ گردن کے گرد سجا لیا۔
شفاف روشنی میں ننھے ننھے نگینے سیاہ لباس کے اوپر ایسے چمک رہے تھے جیسے رات کے آسمان پر چند ستارے اتر آئے ہوں۔
عنایہ نے خود کو آئینے میں دیکھا تو اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
پھر اس نے دوسرا ڈبہ کھولا۔
اس میں خوبصورت سا بریسلٹ رکھا تھا۔
اس نے اسے کلائی پر پہننے کی کوشش کی۔
ایک بار...
پھر دوسری بار...
مگر کلپ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
"یہ بھی ابھی ہی ہونا تھا..."
وہ پوری توجہ سے اسے بند کرنے میں لگی ہوئی تھی کہ کمرے کا دروازہ خاموشی سے کھلا۔
حازم اندر داخل ہوا۔
اس کے قدم دروازے پر ہی جیسے تھم گئے۔
اس کی نگاہ عنایہ پر پڑی تو چند لمحوں تک وہ کچھ کہہ ہی نہ سکا۔
اس نے سوچا تھا کہ سیاہ لباس میں عنایہ خوبصورت لگے گی...
مگر سامنے کھڑی لڑکی اس کے تصور سے کہیں زیادہ حسین لگ رہی تھی۔
اس کی نگاہ بے اختیار عنایہ پر ٹھہر گئی۔
عنایہ نے آئینے کے عکس میں اسے دیکھ لیا۔
اس کے ہاتھ بریسلٹ پر رک گئے۔
دل نے جیسے اچانک اپنی رفتار بدل لی۔
حازم نے بھی محسوس کر لیا کہ وہ پکڑا گیا ہے۔
مگر اس بار اس نے نظریں نہیں چرائیں۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور خاموشی سے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔
عنایہ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
حازم کی نگاہ اب بھی اس کے چہرے پر تھی۔اسکا وہ ہونٹ پر تل آج اور بھی زیادہ نمایا تھا.
اس نے ہلکے سی جھجک کے ساتھ بریسلٹ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
حازم نے اس کی کلائی تھامی۔
اس کا لمس بہت محتاط تھا۔
اس نے بریسلٹ کو آہستگی سے اس کی کلائی کے گرد باندھا اور کلپ بند کر دیا۔
عنایہ خاموش کھڑی رہی۔
حازم نے اس کا ہاتھ چھوڑنے سے پہلے ایک لمحے کو اسے دیکھا۔
پھر اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اس کی انگوٹھی پر پڑی۔
عنایہ نے ابھی اسے نہیں پہنا تھا۔
حازم نے انگوٹھی اٹھائی۔
عنایہ کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
حازم نے اس کا ہاتھ اپنی طرف کیا اور نہایت آہستگی سے وہ انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنا دی۔
وہ منظر کسی نئی نسبت کی پہلی رسم جیسا لگ رہا تھا۔
جیسے ابھی ابھی کسی نے محبت کو ایک چھوٹے سے دائرے میں قید کرکے اس کی انگلی میں سجا دیا ہو۔
عنایہ نے اپنی انگلی کو دیکھا، پھر حازم کو۔حازم کی نگاہ اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئی۔
"آج آپ کو دیکھ کر مجھے پہلی بار لگا ہے..." وہ ہلکا سا مسکرایا، "کہ شاید سیاہ رنگ کو بھی کسی کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسے اتنا خوبصورت بنا دے۔"
عنایہ کے گالوں پر یک دم سرخی پھیل گئی۔جسے وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی.
وہ فوراً اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکال کر پلٹی۔
"میرا دوپٹہ کہاں ہے؟"
(عنایہ نے بات کو گھماتے ہوئے بے ساختہ بولا)
حازم کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
وہ جان گیا تھا کہ عنایہ اس کی نظروں سے بچنے کے لیے موضوع بدل رہی ہے۔
عنایہ بیڈ کی طرف گئی، وہاں رکھا دوپٹہ اٹھایا اور اسے درست کرنے لگی۔
"ویسے آپ بھی تیار ہونے والے ہیں نا؟"
(حازم نے ہنستے ہوئے پوچھا)
"جی، اور یہ اچانک سوال کیوں؟"
"بس ایسے ہی۔ میں نے آپ کا ڈریس بھی نکال دیا ہے۔"
"اچھا؟"
"ہاں۔ وہی بلیک پینٹ کوٹ۔ جو ہم نے ساتھ خریدا تھا۔"
(حازم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا)
"یعنی آج آپ نے مجھے بھی اپنی مرضی سے تیار کرنا ہے؟"
عنایہ نے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے نظریں چرا لیں۔
"نہیں، میں نے تو صرف لباس نکالا ہے۔ باقی آپ خود دیکھیں۔"
(حازم ہنس پڑا)
"سمجھ گیا۔"
"کیا؟"
"کچھ نہیں۔"
(وہ ایک لمحہ رکا، پھر مسکرا کر بولا)
"بس یہ کہ جب آپ کو شرم آنے لگتی ہے تو آپ بہت زیادہ باتیں کرنے لگتی ہیں۔"
عنایہ نے فوراً اسے دیکھا۔
"مجھے شرم نہیں آ رہی۔"
"اچھا؟"
"جی!"
"تو پھر میری طرف دیکھ کر یہ بات کہیں۔"
عنایہ نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا، مگر اگلے ہی پل نظریں جھکا لیں۔
حازم مسکرا دیا۔
"میں نے کب کہا تھا کہ آپ اتنی آسانی سے مان جائیں گی۔"
عنایہ کے لبوں پر بھی بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
حازم اپنا لباس لے کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ بند ہونے سے پہلے اس نے ایک بار پھر پلٹ کر اسے دیکھا۔
"اور ہاں..."
عنایہ نے سر اٹھایا۔
"جی؟"
"بریسلٹ اچھا لگ رہا ہے۔"
عنایہ نے اپنی کلائی کی طرف دیکھا۔
"کیونکہ آپ نے پہنایا ہے۔"
یہ جملہ اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا تھا۔
خود اسے بھی احساس ہوا تو وہ فوراً خاموش ہو گئی۔
دروازہ بند ہو گیا۔
عنایہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔
پھر آہستہ سے اپنی کلائی کو دیکھا۔
وہی بریسلٹ، جو ابھی چند لمحے پہلے حازم نے اپنے ہاتھوں سے پہنایا تھا۔
اس کے لبوں پر ایک چھوٹی سی، چھپی ہوئی مسکراہٹ اب بھی موجود تھی۔
اور آئینے میں نظر آنے والی عنایہ کو پہلی بار محسوس ہوا کہ آج سیاہ لباس سے زیادہ اس کے چہرے پر محبت کا رنگ نمایاں تھا۔
جاری ہے.....








