Janoon E Ishq By Ayna Malik by Ayna malik at Inkitt
Customize readability
Aa

janoon-e-Ishq by ayna Malik

Summary

یہ کہانی ایک ہی عظیم شاہ خاندان کے اندر ہونے والی پیچیدہ دشمنی اور محبت کی ہے، جہاں خاندان کے دو حصے آپس میں مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں۔ ایک طرف شاہ خاندان کا ایک باوقار، پرکشش اور سخت مزاج نوجوان ہے جو اپنی شخصیت، طاقت اور ذہانت کی وجہ سے سب میں ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے اصولوں اور خاندان کی عزت کو سب سے مقدم رکھتا ہے۔ دوسری طرف اسی شاہ خاندان کی ایک معصوم اور نرم دل لڑکی ہے، جو سادگی اور خلوص کی تصویر ہے۔ وہ اپنے ہی خاندان کے دوسرے حصے کے لوگوں سے الگ رہ کر اپنی پرسکون زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ اصل ٹکراؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شاہ خاندان کا دوسرا مخالف حصہ — خان خاندان — سامنے آتا ہے، جن کے ساتھ پرانی دشمنی اور خاندانی اختلافات چل رہے ہیں۔ یہ دشمنی دونوں اطراف کے رشتوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ لڑکے اور لڑکی کے درمیان ایک خاموش سا تعلق اور محبت جنم لینے لگتی ہے، جو نہ مکمل طور پر قبول کی جا سکتی ہے اور نہ ہی آسانی سے ختم ہوتی ہے۔ یہ محبت خاندان کی سیاست، دشمنی اور عزت کے بیچ پھنس جاتی ہے، جہاں ہر قدم پر نئی رکاوٹیں اور خطرات موجود ہوتے ہیں۔ آخر میں سوال یہ ہوتا ہے: کیا یہ خاموش محبت خاندان کی دشمنیوں کو ختم کر دے گی، یا ہمیشہ کے لیے ایک ادھوری داستان بن جائے گی؟ ا

Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
18+

Talkh yadin

اور شاہمیر شاہ نے داجی کے چہرے پر مدہم مسکراہٹ دیکھی تو خود بھی مسکرا دیا اور داجی کو تسلی دے کر خود بھی باہر آ گیا ـ ان دونوں کے جاتے ہی روم کا دروازہ بند ہو گیا اور ساتھ ہی گہرا سکوت چھا گیا ـ اب صرف پیچھے شاہنواز شاہ اور ماضی کی تلخ یادیں رہ گئی ـ ابھی کچھ دیر پہلے جو داہم شاہ کی باتوں کی وجہ سے نرمی آئی تھی ـ اب اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی ـ آج سے تقریباً بیس سال پہلے جب ان کو اپنے خاندانی اصولوں اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سب سے چہیتی اور اکلوتی بیٹی کو حویلی سے بے دخل کرنا پڑا تھا ـاس دن کے بعد کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرا تھا جس دن شاہنواز شاہ نے دیشم شاہ کو یاد نا کیا ہو دیشم شاہ کے جانے کے بعد شاہنواز شاہ بہت ہی بیمار رہنے لگے تھے ـ اور رہی سہی کسر تو ان کے سب سے لاڈلے اور چہیتے پوتے رویام شاہ کی ضد نے کمی پوری کر دی تھی ـ دیشم شاہ کی شادی پر رویام شاہ دس سال کا تھا ـ اور وہ اس سے حد در جا اٹیچ تھا ـاس کی وجہ یہ تھی کہ رویام شاہ شاہنواز شاہ کے سب سے بڑے بیٹے زریاب شاہ اور کا اکلوتا بیٹا اور اور حویلی کا سب سے لاڈلا بچا تھا ـاور چونکہ دیشم شاہ اپنے تینوں بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ـ اور اس کی سب سے زیادہ زرمان شاہ سے بنتی تھی ـ اور جب رویام شاہ کی پیدائش ہوئی تو وہ سب سے زیادہ دیشم شاہ کے پاس رہتا تھا ـاور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ پورے دو سال تک حویلی میں رویام شاہ نے اکیلے ہی راج کیا اور اس کے ساتھ ہی رویام شاہ ایک پل بھی دیشم شاہ کے بغیر نہیں رہتا تھا ـ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ـ اور کسے معلوم تھا کہ اس کے بعد کیا ہونا ہے ـ رویام شاہ کی پیدائش کے دو سال بعد ہی شاہنواز شاہ کے دوسرے بیٹے زمان شاہ کا بیٹا شاہمیر شاہ پیدا ہوا ـ وہ رویام شاہ سے پورے دو سال چھوٹا تھا ـ یہ شاہ خاندان کی پہچان تھی کہ وہ خوشیوں کو دل سے مناتے تھے ـ جیسے کہ رویام شاہ کی پیدائش پر حویلی کو سجایا گیا تھا اور جشن پورے چالیس دن تک منایا گیا تھا ـ اور دورداز سے لوگ اس خوشی کے موقع پر شامل ہوئے تھے اور شاہنواز شاہ کے مطابق جشن ایسا ہونا چاہیے کہ اگلی آنے والی خوشی تک اس کا اثر رہے ـ آخر کو وہ چالیس گاؤں کے  سردار جو تھے ـ یہ تو ان کے لیے عام سی بات تھی ـ اور صرف یہی نہیں بلکہ حویلی میں ہر بچے کی پیدائش پر ایسے ہی حویلی میں جشن منایا جاتا تھا ـ مگر دیشم شاہ کی شادی سے پہلے تک اس کے بعد تو مانو شاہ حویلی کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ـ رویام شاہ دیشم شاہ کی شادی پر رضامند نہ تھا ـ اس کا کہنا تھا کہ دیشو(دیشم شاہ)صرف اور صرف روی(رویام شاہ)کی ہے ـ  اور اس پر صرف روی کا حق ہے ـ دیشم شاہ کی شادی پر رویام شاہ دس سال کا تھا ـ دیشم شاہ کی شادی دانیال شاہ سے ہوئی تھی ـ اور دانیال شاہ جو کہ شاہ نہیں تھا ـ حقیقتاً اس کا تعلق خانوں سے تھا ـ اور یہ شاہوں کی روایات کے خلاف تھا ـ وہ اپنی بیٹیاں دوسرے خاندانوں میں نہیں بیہاتے تھےـ اور جب تک ان کو دانیال شاہ کے خان ہونے کا علم ہوا ـ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ـ دیشم شاہ کی شادی کو چھ مہینے ہو چکے تھے ـ اور جب اس بات کا علم شاہنواز شاہ کو ہوا تو انہوں نے دیشم شاہ اور دانیال خان کو بلوایا ـ اور دیشم شاہ جو کہ آج قدرتی طور پر خود بھی آج اپنی شادی کے بعد دوسری مرتبہ حویلی آ رہی تھی ـ اور سب سے بڑی بات وہ ماں بننے والی تھی ـ اور وہ اپنی سب سے پہلی خوشی اپنوں کے ساتھ مل کر منانا چاہتی تھی ـ دیشم شاہ کی جب سے شادی ہوئی تھی وہ آج دوسری مرتبہ آ رہی تھی اس کی مین وجہ ہی رویام شاہ تھا نا چاہتے ہوئے بھی دیشم شاہ کی آنکھوں کے سامنے اس کا روتا او گڑگڑاتا ہوا چہرہ سامنے آ جاتا تھا ـ اور اس نے دیشم شاہ کی شادی کو روکنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا ـ اس نے کتنے جتن کئے تھے ـ اور تو اور اس نے دیشم شاہ سے نا بولنے کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی ـ جسے سب نے بچا سمجھ کر ٹال مٹول کر دیا تھا ـ اور دیشم شاہ نے بھی اس وقت تقریباً رویام شاہ کے آنسو دیکھ کر یہ تک وعدہ کر ڈالا کہ جب میری پرنسس پیدا ہوگی وہ میں آپ کو دوں گی ـ اور شادی سے ایک رات پہلے ساری رات رویام شاہ کو بہلانے میں لگی تھی ـ اور اگلے دن رخصتی کے وقت تقریباً سبھی موجود تھے ـ سوائے رویام شاہ کے وہ جناب اپنے روم میں رونے کا شغل فرما رہے تھے ـ بقول روی کے وہ اپنی دیشو کو کھڑوس انکل کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے تھے ـ اور اس کی بات پر سب کے چہروں پر دبی دبی ہنسی تھی ـ اور دیشم شاہ اپنی رخصتی پر بار بار سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی کہ ابھی رویام شاہ آ ہے گا اور اس کے گلے لگے گا ـ لیکن وہ غلط تھی ـ اسے تو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ اسے آخری بار دیکھ رہی ہے ـ اور اسے کیا شاید کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسے نا جانے پھر کب دیکھیں گے ـ اس نے شاید اپنا کہا سچ کر کے دیکھایا تھا ـ وہ کہتا تھا کہ وہ دیشم شاہ کے بغیر نہیں رہ سکتا اور اگر وہ نہ ملی تو وہ ان سب کو بھی چھوڑ دے گا ـ اسی لیے تو اس نے دیشم شاہ کی شادی کے اگلے روز ہی حویلی چھوڑ دی اور ترکی چلا گیا ـ اور اس کے بعد حویلی والے تو اس کو دیکھنے کو ترس گئے ـ اور جب اسے چھے مہینے بعد دیشم شاہ کی واپسی کی خبر ملی تو وہ اس سے ملنے اسی رات پاکستان کے لیے روانہ ہوا مگر آگے شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ـ دیشم شاہ جو کہ بہت خوش تھی اور جو نہی وہ حویلی پہنچی  سب کو جوش و خروش سے ملی لیکن اپنی خوشی میں اس بات کا بھی اندازہ نہیں لگایا کہ سب کے چہرے اداس تھے اور ان سب کی غوصیلی نظروں کا مرکز اس وقت دانیال خان تھا ـ اور سب اس وہ ڈرائنگ روم میں تھے ـ دیشم شاہ نے یہ بات بخوبی نوٹ کی تھی کہ آج ان کو مہمانوں کی طرح ڈرائنگ روم میں کیوں بیٹھایا ہے لیکن وہ اس بات کو بھی وہم سمجھ کر ٹال گئی اور اپنے ذہن کو ڈپٹا کے کیا سوچ رہی ہوـ اب شاہنواز شاہ نے آخر کار اپنی بات کا آغاز کیا دیشم شاہ آج میرا آپ کو یہاں بلانے کا مقصد کچھ خاص ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح میری بات سمجھیں گی اور میرے فیصلے کا مان رکھیں گی ـ

Let Ayna malik know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Merry Christmas - Adventskalender 2025

Aelyn Raven: Wieder eine tolle Geschichte. Leider bin ich erst jetzt dazu gekommen sie zu lesen, aber das tut der Geschichte keinen Abbruch *g* ich freue mich schon auf den nächsten Adventskalender

Read Now
Destino Secreto

Karin Rogowski: Gut geschrieben und beschrieben. Die Charaktere und Situationen sind stimmig und nehmen einen gefangen. Mich hat das Buch ab der ersten Zeile fasziniert, genau wie die anderen Bücher davor. Sehr guter Schreibstil und eine sehr gute Übersetzung, nebenbei bemerkt. Dankeschön, dass Du Deine Bücher ...

Read Now
Luna auf der Flucht

Grazia: Wirklich tolle Geschichte mit Klasse Charakter 👍🏻

Read Now
 Mehrfach zurückgewiesene Gefährtin

Silvia: Sehr schön geschrieben, mit Spannung von Anfang bis Ende. Tolle Geschichte .

Read Now
Mystic Wolf

Akthea: Fantastica

Read Now
An Irish Match

Lady of the Glen: Une histoire très mignonne et romantique comme on les aime ! Merci beaucoup pour ce bon moment en Irlande ! ❤️

Read Now
Buried Alive

Rahnia: This book is very good and calm , an enjoyable one it's so lovely how it's going through and more like a real story

Read Now
Ruthless Lord

Ock: romance captivante. Hâte de lire la suite

Read Now