Talkh yadin
اور شاہمیر شاہ نے داجی کے چہرے پر مدہم مسکراہٹ دیکھی تو خود بھی مسکرا دیا اور داجی کو تسلی دے کر خود بھی باہر آ گیا ـ ان دونوں کے جاتے ہی روم کا دروازہ بند ہو گیا اور ساتھ ہی گہرا سکوت چھا گیا ـ اب صرف پیچھے شاہنواز شاہ اور ماضی کی تلخ یادیں رہ گئی ـ ابھی کچھ دیر پہلے جو داہم شاہ کی باتوں کی وجہ سے نرمی آئی تھی ـ اب اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی ـ آج سے تقریباً بیس سال پہلے جب ان کو اپنے خاندانی اصولوں اور روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سب سے چہیتی اور اکلوتی بیٹی کو حویلی سے بے دخل کرنا پڑا تھا ـاس دن کے بعد کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرا تھا جس دن شاہنواز شاہ نے دیشم شاہ کو یاد نا کیا ہو دیشم شاہ کے جانے کے بعد شاہنواز شاہ بہت ہی بیمار رہنے لگے تھے ـ اور رہی سہی کسر تو ان کے سب سے لاڈلے اور چہیتے پوتے رویام شاہ کی ضد نے کمی پوری کر دی تھی ـ دیشم شاہ کی شادی پر رویام شاہ دس سال کا تھا ـ اور وہ اس سے حد در جا اٹیچ تھا ـاس کی وجہ یہ تھی کہ رویام شاہ شاہنواز شاہ کے سب سے بڑے بیٹے زریاب شاہ اور کا اکلوتا بیٹا اور اور حویلی کا سب سے لاڈلا بچا تھا ـاور چونکہ دیشم شاہ اپنے تینوں بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ـ اور اس کی سب سے زیادہ زرمان شاہ سے بنتی تھی ـ اور جب رویام شاہ کی پیدائش ہوئی تو وہ سب سے زیادہ دیشم شاہ کے پاس رہتا تھا ـاور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ پورے دو سال تک حویلی میں رویام شاہ نے اکیلے ہی راج کیا اور اس کے ساتھ ہی رویام شاہ ایک پل بھی دیشم شاہ کے بغیر نہیں رہتا تھا ـ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ـ اور کسے معلوم تھا کہ اس کے بعد کیا ہونا ہے ـ رویام شاہ کی پیدائش کے دو سال بعد ہی شاہنواز شاہ کے دوسرے بیٹے زمان شاہ کا بیٹا شاہمیر شاہ پیدا ہوا ـ وہ رویام شاہ سے پورے دو سال چھوٹا تھا ـ یہ شاہ خاندان کی پہچان تھی کہ وہ خوشیوں کو دل سے مناتے تھے ـ جیسے کہ رویام شاہ کی پیدائش پر حویلی کو سجایا گیا تھا اور جشن پورے چالیس دن تک منایا گیا تھا ـ اور دورداز سے لوگ اس خوشی کے موقع پر شامل ہوئے تھے اور شاہنواز شاہ کے مطابق جشن ایسا ہونا چاہیے کہ اگلی آنے والی خوشی تک اس کا اثر رہے ـ آخر کو وہ چالیس گاؤں کے سردار جو تھے ـ یہ تو ان کے لیے عام سی بات تھی ـ اور صرف یہی نہیں بلکہ حویلی میں ہر بچے کی پیدائش پر ایسے ہی حویلی میں جشن منایا جاتا تھا ـ مگر دیشم شاہ کی شادی سے پہلے تک اس کے بعد تو مانو شاہ حویلی کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ـ رویام شاہ دیشم شاہ کی شادی پر رضامند نہ تھا ـ اس کا کہنا تھا کہ دیشو(دیشم شاہ)صرف اور صرف روی(رویام شاہ)کی ہے ـ اور اس پر صرف روی کا حق ہے ـ دیشم شاہ کی شادی پر رویام شاہ دس سال کا تھا ـ دیشم شاہ کی شادی دانیال شاہ سے ہوئی تھی ـ اور دانیال شاہ جو کہ شاہ نہیں تھا ـ حقیقتاً اس کا تعلق خانوں سے تھا ـ اور یہ شاہوں کی روایات کے خلاف تھا ـ وہ اپنی بیٹیاں دوسرے خاندانوں میں نہیں بیہاتے تھےـ اور جب تک ان کو دانیال شاہ کے خان ہونے کا علم ہوا ـ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ـ دیشم شاہ کی شادی کو چھ مہینے ہو چکے تھے ـ اور جب اس بات کا علم شاہنواز شاہ کو ہوا تو انہوں نے دیشم شاہ اور دانیال خان کو بلوایا ـ اور دیشم شاہ جو کہ آج قدرتی طور پر خود بھی آج اپنی شادی کے بعد دوسری مرتبہ حویلی آ رہی تھی ـ اور سب سے بڑی بات وہ ماں بننے والی تھی ـ اور وہ اپنی سب سے پہلی خوشی اپنوں کے ساتھ مل کر منانا چاہتی تھی ـ دیشم شاہ کی جب سے شادی ہوئی تھی وہ آج دوسری مرتبہ آ رہی تھی اس کی مین وجہ ہی رویام شاہ تھا نا چاہتے ہوئے بھی دیشم شاہ کی آنکھوں کے سامنے اس کا روتا او گڑگڑاتا ہوا چہرہ سامنے آ جاتا تھا ـ اور اس نے دیشم شاہ کی شادی کو روکنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا ـ اس نے کتنے جتن کئے تھے ـ اور تو اور اس نے دیشم شاہ سے نا بولنے کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی ـ جسے سب نے بچا سمجھ کر ٹال مٹول کر دیا تھا ـ اور دیشم شاہ نے بھی اس وقت تقریباً رویام شاہ کے آنسو دیکھ کر یہ تک وعدہ کر ڈالا کہ جب میری پرنسس پیدا ہوگی وہ میں آپ کو دوں گی ـ اور شادی سے ایک رات پہلے ساری رات رویام شاہ کو بہلانے میں لگی تھی ـ اور اگلے دن رخصتی کے وقت تقریباً سبھی موجود تھے ـ سوائے رویام شاہ کے وہ جناب اپنے روم میں رونے کا شغل فرما رہے تھے ـ بقول روی کے وہ اپنی دیشو کو کھڑوس انکل کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے تھے ـ اور اس کی بات پر سب کے چہروں پر دبی دبی ہنسی تھی ـ اور دیشم شاہ اپنی رخصتی پر بار بار سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی کہ ابھی رویام شاہ آ ہے گا اور اس کے گلے لگے گا ـ لیکن وہ غلط تھی ـ اسے تو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ اسے آخری بار دیکھ رہی ہے ـ اور اسے کیا شاید کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسے نا جانے پھر کب دیکھیں گے ـ اس نے شاید اپنا کہا سچ کر کے دیکھایا تھا ـ وہ کہتا تھا کہ وہ دیشم شاہ کے بغیر نہیں رہ سکتا اور اگر وہ نہ ملی تو وہ ان سب کو بھی چھوڑ دے گا ـ اسی لیے تو اس نے دیشم شاہ کی شادی کے اگلے روز ہی حویلی چھوڑ دی اور ترکی چلا گیا ـ اور اس کے بعد حویلی والے تو اس کو دیکھنے کو ترس گئے ـ اور جب اسے چھے مہینے بعد دیشم شاہ کی واپسی کی خبر ملی تو وہ اس سے ملنے اسی رات پاکستان کے لیے روانہ ہوا مگر آگے شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ـ دیشم شاہ جو کہ بہت خوش تھی اور جو نہی وہ حویلی پہنچی سب کو جوش و خروش سے ملی لیکن اپنی خوشی میں اس بات کا بھی اندازہ نہیں لگایا کہ سب کے چہرے اداس تھے اور ان سب کی غوصیلی نظروں کا مرکز اس وقت دانیال خان تھا ـ اور سب اس وہ ڈرائنگ روم میں تھے ـ دیشم شاہ نے یہ بات بخوبی نوٹ کی تھی کہ آج ان کو مہمانوں کی طرح ڈرائنگ روم میں کیوں بیٹھایا ہے لیکن وہ اس بات کو بھی وہم سمجھ کر ٹال گئی اور اپنے ذہن کو ڈپٹا کے کیا سوچ رہی ہوـ اب شاہنواز شاہ نے آخر کار اپنی بات کا آغاز کیا دیشم شاہ آج میرا آپ کو یہاں بلانے کا مقصد کچھ خاص ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح میری بات سمجھیں گی اور میرے فیصلے کا مان رکھیں گی ـ








