Chapter #naiy chahron ka taruf
شاہنواز شاہ نے داہم شاہ کی بات سن کر تھوڑا حیران ہوئے لیکن جیسے ہی بات سمجھ سر جھٹک کر سب کو کھانا کھا نے کا اشار کیا اشارہ ملتے ہیں سب کھانے کی طرف متوجہ ہوئے اور ابھی بھی ماحول میں دائم کی شرارت کاثر باقی تھا اور داہم تو مانو کھانے پر ٹوٹ ہی پڑا زاہم شاہ نے چھوٹے شاہ کی جلد بازی پر سر جھٹکا یہ تو اس کا روز کا معمول تھا ـ
وہ ایسے ہی اپنی چھوٹی موٹی شرارتوں سے سب کو خوش کئےرکھتا تھا اور اس کا سب سے اہم کام اپنے دا جی کو تنگ کرنا تھا سب نے خاموشی سے کھانا کھایا اور مرد حضرات دن بھر کے کام کاج کرنے کے بعد تھک چکے تھے اور وہ کچھ دیر شاہنواز شاہ کے ساتھ بیٹھے اور تھوڑی دیر کے سب اٹھ کر اپنے اپنے کمروں کی طرف چلے گئے اور پیچھے اب خواتین اور بچیوں نے ڈائننگ ٹیبل سے سامان اٹھوا کر کچن میں بھجوایا ـ
ـاور اس کے بعد ملازمین کو باقی کاموں کی بارے میں بتا کر انہوں نے بھی اپنے کمروں کا رخ کیا اور شاہمیر شاہ،دارم شاہ،زاہم شاہ ،داہم شاہاور اریز شاہ نے سب سے پہلے داجی کو ان کے کمرے میں چھوڑ نے گئے ـکیونکے یہ ان سب کا روز کا معمول تھا ـوہ سب کو سلا کر ہی اپنی اپنی گرمیاں سر انجام دیتے تھے-
ـاور تبھی وہ اسی مہم پر روانہ ہوئے تھے ـابھی وہ داجی کے ساتھ میں ہی بیٹھے تھے کہ شاہنواز شاہ کا موبائل بجا شاہنواز شاہ نے جونہی اپنے موبائل کی سکرین دیکھی ان کے چہرے کی رنگت بدل گئی اور وہ ناسمجھی کی حالت میں بیٹھے تھے کیونکہ شاہ میر شاہ اور باقی لوگ داجی سے دور بیٹھے تھے اسی لیے سکرین پر نمبر نہ دیکھ سکے لیکن داجی کی حالت ان کو تشویش میں ڈال رہی تھی داہم نے نہ محسوس انداز میں سوفے سے اٹھ کر داجی کی طرف قدم بڑھائے اور اہستہ سے ان کے قریب جا کر کان لگانے کی کوشش اور بظاہر دائم شاہ تو کچھ کر ہی نہیں رہا تھاـ
لیکن اس کی پوری توجہ موبائل کی دوسری طرف نفوس کی آواز سننے میں پوری توجہ تھی اور باقی سب نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو بریک لگائی اور داجی جو کہ پوری سے موبائل پر ہونے والی گفتگو میں مشغول تھے لیکن ساتھ ہی داہم شاہ کی ہر ایک حرکت کو بخوبی دیکھ رہے اور انہوں نے دائم شاہ کو گھوری سے نوازـ لیکن اس چیز سے فرق کس کو پڑھنا تھا داہم شاہ بھی اپنے دانتوں کی نمائش شاہنواز شاہ سر جھٹک کر دوبارہ موبائل کی طرف متوجہ ہوئے ـ اور وہ اس دوران مکمل طور پر خاموش رہے اور اس دوران صرف ایک یا دو مرتبہ ہوں یا پھر ہاں پر اکتفا ـ اور پھر اچانک سے دا جی بھڑک اٹھے
ـ تم لوگوں نے مجھے بتانا بھی ضروری نہ سمجھا میری نواسی اس حالت میں پہنچ گئی اور تم لوگوں نے ہمیں بے خبر رکھا میں تم لوگوں سے اس چیز کا بعد میں حساب لوں گا تم آج ہی پاکستان ارہے ہو یہ میرا آخری فیصلہ ہے جتنا جلدی ہو سکے فورا سے پہلے پہلی ٹکٹ پاکستان آ ؤ ـ بس اب بہت ہو گیا اب تم آ رہے ہو
ـداجی کی آواز کانپ رہی تھی ـشاہمیر شاہ اور اریز شاہ نے داجی کے منہ سے نواسی لفظ سنتے ہی ایک دوسرے کو گھور کر دیکھا ـ ہاں یہ لفظ ان لوگوں کے کسی جھٹکے سے کم نا تھا اور وہ ایک طرف خوش بھی تھے اور حیران بھی اور تیسری اور سب سے پریشان کن بات وہ ٹھیک تو تھے نا کیونکہ داجی کے ایکسپریشن دیکھ کر لگ رہا تھا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے ـاور وہ بس جلدی سے کال کٹ ہونے کا انتظار کر رہے تھے ـ
شاہنواز شاہ نے جونہی کا ل کٹ کی وہ سب کے سب ایک ساتھ ہی داجی کی طرف دوڑے داجی نے ان سب کے چہرے دیکھے جو کہ ہونق بنے داجی کو تک رہے تھے ـ








