Create New List
Share with your friends
Customize readability

Khakister(خاکستر)

All Rights Reserved ©

Summary

Khakister (خاکستر) — A Thriller & Mystery Novel In a world where truth is buried beneath layers of lies, secrets, and forgotten memories, Khakister follows a journey into the darkest corners of human nature. The story explores the hidden realities of society, where every person carries unseen struggles and every shadow hides a secret. As mysteries begin to unfold, the characters are forced to confront painful truths, unanswered questions, and the consequences of choices made in the past. What appears to be an ordinary world slowly reveals a deeper reality filled with deception, betrayal, and hidden motives. Khakister is not just a mystery to solve — it is a reflection of the ashes left behind by broken dreams, lost trust, and the forgotten stories of people. Through suspense and emotional depth, the novel explores the thin line between truth and illusion, asking readers to question what they believe and what they ignore. A story of secrets, darkness, and discovery — Khakister takes readers on a journey where every answer leads to a bigger mystery.

Status
2mo ago
Chapters
6
Rating
5.0 (1 review)
Age Rating
16+

"Beneath the Ashes (راکھ کے نیچے)"

ایک طرف زمین پر برپا سانحے پر آسمان سوگ منا رہا تھا، جبکہ دوسری طرف آسمان کے آنسو سنگ مرمر پر پھیلے خون کو خاموشی سے بہائے لیے جا رہے تھے۔

سنگ مرمر پر پڑا وجود اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا، جبکہ اس کے ارد گرد موجود لوگ بےحسی سے اس کی موت کا تماشا دیکھ رہے تھے۔

انھیں تماشائیوں کے بیچ و بیچ کھڑا وہ شخص نظریں جھکائے ہوئے تھا۔ اس کا چہرہ نہ غم کی گواہی دے رہا تھا اور نہ ہی بے حسی کی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سفاکی چھائی ہوئی تھی۔

اسی لمحے اس کے پیچھے سے ایک آواز ابھری۔

"جناب آپ کے اگلے حکم کا انتظار ہے۔ "

اس نوجوان نے نظریں نہ اٹھائیں، بلکہ آنکھیں موند لیں۔ اس کے باطن کی کشمکش سے اس وقت صرف خدا ہی واقف تھا، باقی دنیا اس سے محروم تھی۔

چند لمحوں بعد اس نے آنکھیں کھولی اور بغیر پیچھے دیکھے آگے بڑھ گیا۔ اس کے قدم اس دم توڑتے وجود کے پاس آ کر رک گئے اور آنکھیں اس پر ٹک گئیں۔

"یہ تمھارا مقدر تھا۔۔۔ زبیر شاہ۔"

اس کے لفظ اس قدر بھاری تھے کہ فضا پر گہرا سکوت طاری ہو گیا۔

"میں تمھارا قاتل نہیں ہوں۔۔۔ تم خود اپنے قاتل ہو۔"

اس نے گہرا سانس لیا اور ایک آخری نظر اس بجھتے چہرے پر ڈالتے وہ پیچھے مڑا اور آگے بڑھ گیا۔ وہاں موجود لوگوں نے اس کے لیے راہداری خالی کر دی اور چند لمحوں میں وہ منظر عام سے غائب ہو گیا۔

زبیر کی آنکھوں سے آخری آنسو نکلا اور بارش کے پانی میں کہیں کھو گیا۔


دروازے پر ہونے والی دستک نے کمرے کی خاموش فضا میں دراڑ ڈالی اور ازائیل کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

وہ کمرہ کسی شاہانہ لائبریری کی یاد دلاتا تھا۔ شیلف میں سجی تاریخی جنگوں پر لکھی گئی کتابیں اپنے مالک کے ذوق کی عکاسی کرتی تھیں اور ان کی ترتیب اس کے مزاج کا پتہ دیتی تھی۔

کمرے میں عجب سی گھٹن چھائی ہوئی تھی جبکہ دروازے پر ہونے والی دستک اس سکوت کو بھی مضطرب کر رہی تھی۔

ازائیل نے ایک لمحے کے لیے دروازے کی جانب دیکھا پھر نگاہیں دوبارہ ہاتھ میں تھامی کتاب پر جما دیں۔

"آجاؤ۔"

لفظ چند لمحوں کے لیے فضا میں گونجے، پھر کمرے کے سکوت میں غائب ہو گئے۔

دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ وا ہوا، اور وہ شخص دبے پاؤں اندر داخل ہوا۔

ازائیل سے چند قدم فاصلے پر رکنے کے بعد وہ چند لمحے کمرے کا جائزہ لینے میں مشغول رہا۔ پھراس نے نظریں ازائیل پر جما دیں۔

"آپ نے یاد کیا تھا۔۔۔ جنابِ عالی؟"

وہ مدھم سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے گویا ہوا۔ ازائیل، تاہم، اپنے مطالعے میں مگن رہا۔

وہ خاموش ہو گیا اور ازائیل کے لب کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔

چند منٹ بعد ازائیل نے ہاتھ میں تھامی کتاب بند کر کے سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور اپنی پوری توجہ سامنے کھڑے شخص پر مرکوز کر دی۔

"زرین آذان ہاشمی۔"

یہ کہتے ہی اس کے لبوں پرایک ہلکا سا خم ابھرا، جس پر سامنے کھڑا شخص بھی مسکرا دیا۔

"تشریف رکھیں۔"

اس نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا، پھر کھڑا ہو کر میز پر رکھی کتاب اٹھائی اور اسے اس کی مخصوص جگہ پر رکھنے کے لیے آگے بڑھ گیا۔

"سلیقہ اس شخص کی پہچان ہے۔"

ازائیل کو کتاب اس کی مخصوص جگہ پر رکھتے دیکھ وہ زیرِلب بڑبڑایا، پھر اشارہ کردہ کرسی پر جا بیٹھا۔

ازائیل کتاب اس کی جگہ پر رکھ کر واپس اپنی نشست پر آ بیٹھا اور میز پر پڑی فائل زرین کی طرف دھکیل دی۔ اب اس کے چہرے پر سنجیدگی نمایاں تھی۔

زرین نے ایک پل کے لیے ازائیل کو دیکھا۔ وہ میز کے کسی خالی نکتے پر نظریں جمائے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔

پھرزرین نے سلیقے سے فائل اٹھا کر اس کا جائزہ لینا شروع کیا۔

جوں جوں فائل کے اوراق پلٹتے گئے توں توں زرین کی حیرت گہری ہوتی گئی۔

فائل کے آخری ورق کا مکمل جائزہ لینے کے بعد زرین نے اسے بند کر کے واپس میز پر رکھ دیا۔

زرین نے بھی نظریں میز کے کسی بے معنی نکتے پر جما دیں اور فائل میں درج معلومات کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کرنے لگا۔

چند لمحوں کے وقفے کے بعد اس نے ازائیل کی طرف حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھا، اس کی آنکھوں میں جھلکتی بے یقینی ظاہر کر رہی تھی کہ وہ فائل میں درج حقائق پر یقین نہیں کر پا رہا تھا۔

"آخر زبیر شاہ ہے کہاں؟"

اس نے سوال ضرور کیا، مگر وہ جواب سے مکمل طور پر ناواقف بھی نہ تھا۔

"زبیر شاہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔"

ازائیل کا لہجہ مدھم تھا، مگر اس میں پوشیدہ مفہوم بہت گہرا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ زرین کے چہرے کا رنگ کچھ لمحوں کے لیے پھیکا پڑ گیا۔

"نہیں رہا۔ کیا مطلب؟"

اس وقت زرین گہری کشمکش میں مبتلا تھا اور یہی اضطراب اس کے لہجے میں نمایاں تھا۔

" زرین، میں نے تمھیں یہاں زبیر شاہ کے متعلق نہیں بلایا۔"

ازائیل نے نظریں زرین کی طرف گھمائیں اور انگلیاں میز پرآہستہ آہستہ تھپتھپانے لگا۔

اس کے لہجے کی کرختی نے زرین کو نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا۔

"افشین نورالعین شاہ کا پتہ ڈھونڈو۔"

ازائیل کے الفاظ کمرے کی فضا میں گونجے، جبکہ زرین نے چونک کر اسے دیکھا، گویا اس نے ناممکن حکم دے دیا ہو۔

"افشین نورالعین شاہ؟"

یہ نام بے اختیار زرین کے لبوں سے نکلا۔

"مگر وہ تو مر چکی ہے۔"

زرین کے ماتھے پر الجھن کی لکیر ابھری اور وہ ٹکٹکی باندھے ازائیل کو دیکھنے لگا۔

ازائیل کی نظریں بھی اسی پر جمی تھیں، جیسے اسے اس ردِعمل کی پہلے سے توقع تھی۔

"ٹھیک کہا تم نے، وہ میرے لیے مر ہی گئی تھی، مگر اس دنیا کے لیے زندہ ہے۔"

اتنا کہتے ازائیل اپنی نشست سے اٹھا اور دروازے کی جانب بڑھ گیا، جبکہ زرین اپنی جگہ ساکت بیٹھا اس کی باتوں کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

زرین کا حیران ہونا بے سبب نہ تھا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھا جنھوں نے افشین نورالعین شاہ کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔

ازائیل نے دروازے کے قریب قدم روک لیے۔ وہ پیچھے نہ مڑا۔ اس کے لب ہلے اور لفظوں نے خاموشی کو چیر دیا۔

"زرین۔۔۔"

ازائیل ضرار ملک برسوں پہلے اپنے جذبات دفنا چکا ہے، اس لیے کسی قسم کی غلط فہمی نہ" پالنا۔"

اتنا کہتے ازائیل نے دروازہ کھولا اور اسے عبور کر گیا۔

دروازے کے بند ہوتے ہی زرین نے اپنا سر پکڑا اور آنکھیں موند لیں۔

"آج برسوں بعد پھر افشین نورالعین شاہ کا ذکر اور وہ بھی ازایئل ضرار ملک کی زبان سے۔۔۔"

وہ زیرِ لب بڑبڑایا، پھر آنکھیں کھولتا اپنی جگہ سے اٹھا اور افشین کی تلاش میں نکل گیا۔

دروازہ ہلکی دھمک کے ساتھ بند ہوا اور کمرہ دوبارہ خاموشی میں ڈوب گیا۔



Let zamuzaffar know what you thought about this chapter!
Love this

1

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

1

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Reaper's Rose

Quenda: Overall a good story. Looks like it is in need of a good proof reader as it contradicts itself at times...but overall a good story.

Read Now
The Easter Bunny

Mia: Really nice story

Read Now
Sweet Like Candy

Bethany: Just a single bell pepper on the spice scale bu a swooner of a romance. Well written with likeable characters...and a fish.

Read Now
Bloodlines

karenfancp: I have noticed a few typos, the story line is good. I can’t put this down.

Read Now
Bound to the Bear

Marie: Omg such a sweet story .. couldn't stop reading such a heart felt journey ♥️

Read Now
The Cursed Alpha's Fifth Luna

astrid0777: i literally have enjoyed this thrilling story although i am not satisfied that it had to end in a way i am letf curiouse looking forward for another chapter

Read Now
We Only Fake It on the Weekends

corleone : I started this book and really struggled to put it down, I was hooked instantly! I loved the story and fell in love with all the characters(obv apart from the mean ones)! The spice was of course ... a welcome extra too! I really enjoy Alex’s style! I have since realised she has three books in a seri...

Read Now
My Blacksmith Savior

Xonereth: This was an interesting read for me which I really enjoyed. My grandfather was what you would call a berserker. He was not a very large man but in the great depression he found work in a boxing tent. He only stood at 5 foot four and weighed 140 pounds at best. Men would come up and challenge him bec...

Read Now
The Heir's Shadow

marthapetrie: I enjoyed this book. I like good love novels and this fit the bill.

Read Now