Zarrar ضرار by Abu Mussa at Inkitt
Customize readability
Aa

ZARRAR ضرار

All Rights Reserved ©

Summary

ضرار حیدر ــــ ایک سابق اسپیشل آپریشنز کمانڈو، جس نے ڈیوٹی کے دوران کئی بار موت کو قریب سے دیکھا، اپنی پُرسکون زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتا ہے، مگر ایک طاقتور جرائم پیشہ شخص اسے دوبارہ خطرے کی دنیا میں دھکیل دیتا ہے۔ دوسری طرف زویہ وقار اپنی پُرسکون زندگی گزار رہی ہے، اس راز سے بےخبر جو اس کے خاندان کے ماضی میں دفن ہے۔ جب قسمت ان رازوں سے پردہ ہٹاتی ہے تو ایک پرانی دشمنی، ایک خطرناک راز اور ایک بےرحم جنگ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔

Genre
Action
Author
Abu Mussa
Status
Ongoing
Chapters
1
Rating
n/a
Age Rating
18+

باب اوّل: سرخ زمین

رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا، مگر آسمان پر چھائے کالے بادل اب بھی صبح کی روشنی کو روک رہے تھے۔ درختوں کے پتوں پر جمی شبنم کی بوندیں خاموشی سے نیچے گر رہی تھیں۔ رات کی بارش کے بعد مٹی کی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی تھی۔اروں طرف گھنے درخت تھے، اور ان کے درمیان ایک لمبی چوڑی اور سنسان سڑک تھی۔ سڑک اب تک گیلی تھی، جس پر بادلوں کا عکس صاف نظر آ رہا تھا۔

تب ہی خاموشی کو چیرتی ہوئی ایک تیز رفتار گاڑی دور سے نمودار ہوئی۔ گاڑی کے ٹائروں نے گیلی سڑک پر دوڑتے ہوئے پانی کے چھینٹے ہوا میں اچھال دیے۔ انجن کی بھاری آواز درختوں کے درمیان گونجی، اور چند ہی لمحوں میں وہ کالی مرسڈیز دھندلے راستے کو پیچھے چھوڑتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

کچھ دیر بعد وہی کالی مرسڈیز ایک چھوٹے سے ڈھابے کے سامنے آ کر رکی۔

ایک سنگل روڈ تھا یعنی سامنے جانے کے لیے سڑک موجود تھی، مگر یہیں سے واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ شاید آگے جا کر راستہ بدلتا ہوگا۔ چاروں طرف صبح کی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ سڑک پر صرف ہوا کی آواز تھی، جبکہ کنارے پر چند لوگ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہلکی آواز میں باتیں کرتے ہوئے چل رہے تھے۔ ان کے لباس اور انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ کسان تھے۔ شاید قریب ہی کوئی گاؤں تھا۔

خاموش ماحول میں کار کا دروازہ کھلنے کی آواز گونجی اور ایک نوجوان باہر نکلا۔ ایک لمحے کے لئے تو وہ عام سا مسافر لگا لیکن نہیں اس میں کچھ الگ تھا

لمبا قد، مضبوط جسم، اور چہرہ سرد تھا۔

چہرہ پرکشش اور خوبصورت تھا، چھوٹے کالے بال اوپر کی طرف ہاتھ سے ہی سیٹ کیئے ہوئے تھے۔ بھوری آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا، مگر اس سکون کے پیچھے چھپی سختی محسوس کی جا سکتی تھی۔ اس کے خوبصورت ہونٹوں پر خاموشی تھی اور چہرے پر ہلکی سی ترتیب دی ہوئی داڑھی اس کی شخصیت کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔

اس نے سفید شرٹ پہن رکھی تھی جو کافی پرانی لگ رہی تھی، بلیک جینز میلی ہو چکی تھی جیسے کسی جنگ کے میدان سے واپس آئی ہو، اُس کے بوٹ مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔

اُس کے ہاتھ میں سگریٹ کا پیکٹ تھا۔

وہ چند قدم آگے بڑھا، پیکٹ کھولا اور آخری سگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبا لیا۔

جیب سے لائٹر نکالا، ایک چھوٹی سی چنگاری کے ساتھ سگریٹ جل اٹھا۔

اس نے لمبا کش لیا اور سر آسمان کی طرف اٹھا کر دھواں آہستہ آہستہ باہر نکالا۔

پھر ایک گہرا سانس چھوڑا، جیسے دو راتوں سے اپنے اندر جمع ہوا بوجھ باہر نکال رہا ہو۔ اس کے کندھے زرا ڈھیلے ہوئے۔

اب جا کر اسے اپنے سامنے کا منظر صاف دکھائی دینے لگا تھا۔ دو راتوں کی مسلسل جاگ نے اس کی آنکھوں کو تھکا دیا تھا

اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی پشت کو دیکھا جہاں سے خون رستا رہنے کہ بعد اب سوکھ چکا تھا۔

چہرے پر درد کی کوئی لکیر نہیں آئی۔ شاید اس کے لیے درد کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ اس نے خاموش نظروں سے ایک بار چاروں طرف دیکھا، جیسے عادتاً ہر چیز کو جانچ رہا ہو پھر سگریٹ کا ایک اور کش لیا اور ڈھابے کی طرف بڑھ گیا۔

ڈھابہ سڑک کے بالکل کنارے بنا ہوا تھا، مگر اس وقت پوری سڑک ویران پڑی تھی۔ دور دور تک کسی گاڑی کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، جیسے یہ راستہ دنیا سے الگ تھلگ ہو۔

ڈھابہ نہ بہت چھوٹا تھا اور نہ ہی کوئی بڑا ریسٹورنٹ۔ ایک سادہ سا مگر کافی پرانا ڈھابہ تھا، جس کے دو حصے تھے۔ ایک اندر کا حصہ جہاں کرسیاں اور میزیں لگی ہوئی تھیں، اور دوسرا باہر کا کھلا ایریا جہاں مضبوط لکڑی کے بڑے بڑے تختے رکھے ہوئے تھے، جن پر مقامی لوگ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ دیسی لباس، چائے کے کپ، اور ہلکی ہلکی گفتگو سے لگ رہا تھا کہ یہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ تھے۔

آسمان پر روشنی پھیل چکی تھی، مگر کالے بادل اب بھی پورے آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سورج بھی ان بادلوں کے پیچھے چھپ کر خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا ہو۔

نوجوان ڈھابے کے اندر داخل ہوا۔

"جی صاحب! کیا مدد چاہیے آپ کو؟"

ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھے ایک آدمی نے اس سے سوال کیا۔ حلیے سے وہ ڈھابے کا مالک ہی لگ رہا تھا۔

نوجوان نے ایک نظر باہر ڈالی۔

"میں باہر بیٹھنا چاہتا ہوں... لیکن کرسی اور ٹیبل چاہیے۔"

اس کی آواز بھاری اور پُر رعب تھی۔

"جی صاحب، ابھی لگوا دیتا ہوں۔" مالک نے فوراً ایک لڑکے کو آواز دی۔

"ایک میز اور کرسی باہر لگا دو۔" ایک لڑکے نے بھاگ کر باہر ایک میز اور کرسی لگا دی پھر نوجوان کو آنے کا اشارہ کیا۔

مالک نوجوان کی طرف دیکھ کر بولا۔

"ناشتہ کریں گے صاحب؟"

نوجوان نے صرف ہلکا سا سر ہلایا اور جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ کئی گھنٹوں سے کچھ کھائے بغیر تھا۔

نیند سے آنکھیں بوجھل ہو چکی تھیں اور سر میں درد کی ہلکی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔

اس کے ذہن میں سینکڑوں خیال گردش کر رہے تھے۔

تباہی کی شروعات ہو چکی تھی، موت اب اس کا پیچھا کر رہی تھی۔

اس نے اپنی دو انگلیاں پیشانی پر رکھیں اور آہستہ آہستہ رگڑنے لگا، جیسے درد کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

"مجھے بس اپنی جان بچانی ہے... پھر چاہے سب مارے جائیں۔۔"

اس کی سرد بھوری آنکھوں میں بے حسی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ چہرے پر پھیرا۔ اگلے ہی لمحے سر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی، اس نے زور سے آنکھیں بند کر لیں اور کچھ لمحوں بعد دوبارہ آنکھیں کھولی اور ناشتے کا انتظار کرنے لگا۔

جیسے درد بھی اب اس کے لیے ایک پرانی کہانی بن چکا تھا۔

ـ

گھر کے باقی کمروں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا، مگر اس کمرے میں نیم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔

ایک بڑی کھڑکی واحد ذریعہ تھی جہاں سے صبح کی مدھم روشنی اندر آ رہی تھی، ساتھ ہی پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں بھی کمرے کے خاموش ماحول کو چھو کر گزر رہی تھیں، دور کہیں چرتی بکریوں کے گلے میں ٹنگی گھنٹی کی آواز سنی جا سکتی تھی۔

کمرے کی دیواریں ہلکی سفید رنگ کی تھیں۔ ایک طرف لکڑی کی بڑی سی الماری رکھی تھی، جس کے ساتھ ایک کتابوں کا شیلف بھی تھا۔

دوسری طرف ایک بیڈ تھا جس پر سفید چادر، سفید تکیے اور زرا سا بکھرا ہوا سفید کمبل تھا۔

ہر چیز اپنی جگہ پر تھی، جیسے اس کمرے میں رہنے والی شخصیت کو اپنی زندگی کو ترتیب میں رکھنا اچھے سے آتا ہو۔

بیڈ سے کچھ فاصلے پر کھڑکی کے بالکل سامنے ٹھنڈے فرش پر زویہ ایک طرف ٹانگیں موڑے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں پین تھا اور گود کھلا ہوا رجسٹر۔ وہ تیزی سے کچھ لکھ رہی تھی۔ صبح کی خاموشی میں صرف قلم کے چلنے کی ہلکی سی آواز تھی۔

اس کی سبز آنکھوں میں نیند کا کوئی نشان نہیں تھا۔ یا تو وہ اپنی نیند پوری کر چکی تھی یا شاید اسے اپنے کام میں اتنی دلچسپی تھی کہ تھکن محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی۔

کچھ دیر بعد اس نے رک کر پین میز پر رکھا اور گہرا سانس لیا۔ کافی دیر سے پانی نہ پینے کی وجہ سے اس کے گلابی ہونٹ ہلکے خشک ہو چکے تھے۔ اس نے اپنی انگلیوں سے چہرے پر آتی بالوں کی ایک لٹ کو پیچھے کیا جو بار بار اسے پریشان کر رہی تھی پھر زبان پھیر کر ہونٹوں کو نم کیا۔

چند لمحوں بعد وہ اٹھی رجسٹر اور کتابیں اٹھائی اور بیڈ پر رکھ دیں، پھر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔

کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئی تو وہ تیار ہو چکی تھی۔ کمرے سے نکلی اور صحن کی طرف بڑھ گئی۔

کھلا صحن تھا، اوپر کوئی چھت نہیں تھی۔ رات کی بارش کے باعث فرش اب بھی گیلا تھا دیواریں نیوی بلیو رنگ میں تھیں۔ کچھ جگہوں سے فرش ٹوٹا ہوا تھا، مگر اس سادگی میں بھی ایک عجیب سا سکون تھا۔

صحن میں کئی کمرے تھے جن کے دروازے بند تھے۔ وہ ان میں سے ایک دروازا کھول کر اندھیرے کمرے میں داخل ہو گئی۔ سامنے بیڈ پر ایک لڑکی کمبل اوڑھے گہری نیند سو رہی تھی۔ زویہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

وہ بیڈ کے قریب گئی۔

"اٹھ جاؤ انایہ، ورنہ یونیورسٹی سے لیٹ ہو جائیں گے۔"

اس نے کمبل کھینچتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی انایہ کو ہلکا سا ہلانے لگی۔

"ہوں۔۔ ہاں آپی...صبر۔"

انایہ نے نیند میں ہی منمناتے ہوئے جواب دیا۔

زویہ نے سر ہلایا اور کمرے کی کھڑکی کی طرف چلی گئی۔

جیسے ہی اس نے کھڑکی کھولی تو بے تحاشہ روشنی اور پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی ہوا اندر داخل ہوئی۔ کھڑکی کے پار دور تک پھیلے پہاڑ، بہتے جھرنے اور سبز وادی کا منظر نظر آ رہا تھا۔ درختوں پر بیٹھی چڑیوں کی آوازیں ماحول میں عجیب سا سکون گھول رہی تھیں۔ ایسا منظر جس سے کوئی بھی نظریں ہٹانا نہ چاہے۔ لیکن زویہ شاید اس خوبصورتی کی عادی ہو چکی تھی۔

اس نے کھڑکی کے پردے درست کیے اور واپس انایہ کے پاس آ گئی۔

"انایہ، تم جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔" زویہ نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

باہر آتے ہی ٹھنڈی ہوا نے ایک بار پھر اس کے چہرے کو چھوا۔

آج دونوں بہنوں کا شہر کی بڑی یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔۔ آج بہت سالوں بعد وہ ان وادیوں سے باہر نکلنے والی تھی۔ نا جانے کیوں اسکا دل کچھ بے چین سا تھا۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

نوجوان خاموشی سے کرسی پر بیٹھا ناشتہ آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ گزری ہوئی راتوں کی تھکن اس کے جسم پر واضح تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی سرد پن تھا۔

اس نے اپنا ہاتھ چہرے پر پھیرا۔ سر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی، مگر اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا۔

صبح کے ساڑھے آٹھ بج چکے تھے۔

وہ اپنے ہی خیالوں میں کھویا تھا تب ہی ایک معصوم سی آواز نے اس کی سوچ کا سلسلہ توڑ دیا۔

"او مدے تائیے...!" (وہ مجھے چاہیے)

نوجوان نے نظر اٹھائی۔ اس سے کچھ فاصلے پر تقریباً تین سے چار سال کا ایک خوبصورت آنکھوں والا بچہ کھڑا تھا، جو مسکراتے ہوئے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

بچے کی نظریں اس کی چابی کے گچھے پر تھیں، جس پر بندوق کا چھوٹا سا نشان بنا ہوا تھا۔

"تمہیں یہ چاہیے؟" نوجوان نے اتنے وقت میں پہلی بار کسی کے لیے مسکراہٹ دکھائی ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔ مگر وہ چھوٹی سی مسکراہٹ بھی بچے کے چہرے پر خوشی لے آئی۔

بچے نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔

نوجوان کرسی سے اٹھا اور نیچے جھک کر ایک گھٹنا زمین پر رکھا۔

"تمہارے پاپا کہاں ہیں؟" نرم لہجے میں پوچھا۔

"بابا..." بچے نے ایک طرف انگلی سے اشارہ کیا جہاں سے ایک آدمی ان کی طرف آ رہا تھا۔

"معذرت بھائی جان، میرا بچہ آپ کو پریشان کر رہا تھا۔"۔ اس آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

نوجوان نے ہلکا سا سر نہ میں ہلایا پھر اس نے بچے کی طرف دیکھا۔

"کیا نام ہے تمہارا؟" نوجوان نے پوچھا

"شاد..." (سعد) بچے نے اپنی توتلی زبان میں کہا۔ نوجوان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھوڑی گہری ہوئی۔

اس نے اپنی چابیاں نکالی اور کی چین بچے کی طرف بڑھا دی۔

بچے نے کی چین ہاتھ میں لیتے ہی خوشی سے اچھلنا شروع کر دیا۔

"سعد، بھائی کو تھینک یو بولو۔" اس کے والد نے کہا۔

"تھینتھیو!" (تھینکیو) بچے نے ہنستے ہوئے کہا۔ نوجوان نے مسکرا کر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔

"چلو سعد، اب چلیں۔" آدمی نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ بچے نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑا اور واپس چلا گیا۔ نوجوان چند لمحے انہیں جاتا دیکھتا رہا۔ پھر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ کچھ لمحوں بعد ڈھابے کا لڑکا ناشتہ اور چائے لے آیا اور ٹیبل پر سجانے لگا۔

"کچھ چاہیے ہو تو بتانا صاحب۔"

وہ جانے لگا تو نوجوان نے اسے روکا۔ "مجھے ہاتھ دھونے ہیں۔"

"وہاں سے۔" لڑکے نے سامنے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

نوجوان اٹھا اور اندر چلا گیا۔ چند لمحوں بعد وہ واپس آیا اس نے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لیے تھے۔ خون کے پرانے داغ اب صاف ہو چکے تھے۔ وہ واپس بیٹھا اور ابھی پہلا نوالہ ہی لیا تھا کہ اس کے دماغ نے خطرے کا سگنل دے دیا۔ ماحول بدل چکا تھا۔

اس نے سر نہیں گھمایا۔ صرف اپنی آنکھوں کے کونے سے سڑک کی طرف دیکھا۔

دور، جھاڑیوں کے پیچھے ایک کالی گاڑی چھپی ہوئی تھی۔ نوجوان کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بدلیں۔ اس نے سامنے دیکھا۔

لکڑی کے تختے پر تین لوگ بیٹھے تھے۔ ایک نے چادر لپیٹی ہوئی تھی جبکہ باقی دو نے کالی جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔

عام آدمی انہیں نظر انداز کر سکتا تھا۔ مگر نوجوان نہیں۔۔

وہ ان لوگوں کے بیٹھنے کے انداز سے سمجھ چکا تھا۔کہ یہ یہاں ناشتہ کرنے بلکل نہیں آئے تھے۔

نوجوان نے آرام سے چائے کا چمچ اٹھایا اس پر لگی چائے کو اپنے انگوٹھے سے صاف کیا تو چمچ چمکنے لگا اور اس میں اسے اپنا عکس نظر آنے لگا۔

اس نے چمچ کو ذرا سا زاویہ دیا۔ اب چمچ میں پیچھے بیٹھے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ پیچھے والے تختے پر بھی تین آدمی بیٹھے تھے جو باری باری اُسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ نوجوان نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

اس نے آرام سے چمچ واپس چائے میں ڈالا اور چائے ملانے لگا۔

وہ جانتا تھا۔۔ان کے پاس ہتھیار ہو سکتے ہیں، مگر وہ پھر بھی آرام سے بیٹھا رہا، کیونکہ یہ اس کے لیے پہلی بار نہیں تھا۔۔۔ایسے حالات سے نمٹنے کا اسے پرانا تجربہ تھا

اس کی آنکھیں سامنے موجود لوگوں پر تھیں اور کان پیچھے موجود لوگوں پر۔ سامنے بیٹھے تینوں میں سے صرف ایک کھانا کھا رہا تھا۔ چادر والا۔ باقی دونوں خاموش تھے۔

"لیڈر..." دماغ نے فیصلہ کیا۔

کچھ لمحوں بعد چادر والے آدمی نے موبائل نکالا۔

اور اگلے ہی لمحے نوجوان کو پیچھے سے موبائل کی میسج ٹون سنائی دی۔ یعنی سگنل دے دیا گیا۔۔

نوجوان نے اندازہ لگایا

ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ عام حملہ آور نہیں تھے۔ پروفیشنل تھے۔ وہ گولی تب تک نہیں چلائیں گے جب تک انہیں یقین نہ ہو جائے۔ نوجوان نے نوالہ منہ میں رکھا۔

پیچھے سے بھاری بوٹ کی آواز آنے لگی۔

ایک قدم۔

پھر دوسرا۔

مگر سامنے بیٹھے لوگ ابھی تک خاموش تھے۔

"یعنی پیچھے بیٹھے لوگ چاقو سمیت ہیں اور گنز سامنے والوں کے پاس ہیں..." اس نے ایک اور یقینی اندازہ لگایا۔

وہ پوری صورتحال کا حساب لگا چکا تھا اب وہ صرف انتظار کر رہا تھا پیچھے والا آدمی قریب آیا۔ کمر سے چاقو نکالا۔

نوجوان خاموش بیٹھا رہا۔

چاقو اس کی گردن کے قریب آیا، اتنا قریب کہ وہ دھات کی ٹھنڈک محسوس کر سکتا تھا۔ مگر اس کی نظریں اب بھی چائے کے کپ پر تھیں۔

ایک لمحہ۔

صرف ایک لمحہ۔

وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا۔ کیونکہ وہ شکار نہیں تھا بلکہ خود شکاری تھا۔ اچانک اس کا ہاتھ حرکت میں آیا۔

چائے کا خالی کپ اس کے ہاتھ میں آیا اور اگلے ہی لمحے پوری طاقت سے پیچھے کھڑے آدمی کے سر سے جا ٹکرایا۔ کپ ٹوٹنے کی آواز پورے ڈھابے میں گونج گئی۔ لوگوں کی نظریں فوراً اس طرف اٹھیں۔

نوجوان فوراً ہی کھڑا ہو چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے تختے پر بیٹھنے کے بجائے کرسی کا انتخاب کیا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔

ٹوٹے ہوئے کپ کا نوکیلا ٹکڑا اب اس کے ہاتھ میں ہتھیار کی مانند تھا۔

حملہ آور آدمی ابھی سیدھا بھی نہیں ہوا تھا کہ نوجوان پیچھے گھوما۔ اور اگلے ہی لمحے وہ نوکیلا ٹکڑا اس آدمی کی شہہ رگ میں اتر چکا تھا۔ آدمی کی آنکھیں پھیل گئیں۔

مگر اصل دھچکا اسے تب لگا جب نوجوان نے وہ ٹکڑا واپس کھینچ لیا۔

خون کا فوارہ نکلا اور نوجوان کی سفید شرٹ سرخ رنگ میں بدلنے لگی۔ آدمی لڑکھڑاتا ہوا زمین پر گرا۔ دونوں ہاتھ گردن پر رکھ کر خون روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

اور نوجوان؟ وہ بس خاموش کھڑا اسے تڑپتے دیکھ رہا تھا جیسے یہ سب اس کے لیے صرف ایک اور دن تھا۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی وہ وادی صبح کی روشنی میں کسی خواب جیسی لگ رہی تھی۔ رات کی بارش کے بعد درختوں کے پتے اب بھی نمی سے چمک رہے تھے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بادل آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور دور کہیں جھرنے سے گرتے پانی کی آواز پورے ماحول میں ایک عجیب سا سکون گھول رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا وادی کے درمیان سے گزرتی ہوئی درختوں کو ہلاتی اور پھر گھروں کی کھڑکیوں سے ٹکرا کر آگے بڑھ جاتی۔ یہاں وقت جیسے آہستہ چلتا تھا۔

لوگوں کے چہروں پر جلدی نہیں تھی، راستوں پر شور نہیں تھا، اور زندگی میں وہ بے چینی نہیں تھی جو بڑے شہروں میں ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے۔

مگر آج زویہ کے قدم اس خاموش وادی سے باہر جا رہے تھے۔

وہ یونیورسٹی وین میں کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی۔ وین میں بیٹھی لڑکیاں آپسی گفتگو میں مگن تھیں۔۔

زویہ کے ساتھ والی سیٹ پر انایہ بیٹھی تھی، جو شاید اس سفر کو زویہ سے زیادہ انجوائے کر رہی تھی۔

"زویہ آپی، آپ کو پتا ہے؟" انایہ نے اچانک کہا۔

"کیا؟" زویہ نے باہر دیکھتے ہوئے ہی مسکرا کر پوچھا۔

"شہر کی لڑکیاں ہم سے زیادہ خوبصورت ہونگی۔۔" اسکی بات سن کر زویا نے مسکراتے ہوئے اپنی گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ سامنے بیٹھی انایہ کے چہرے پر ہمیشہ والی معصومیت تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی، جیسے ہر چیز کو حیرت اور خوشی سے دیکھتی ہو۔ نرم سے نقوش، معصوم سی مسکراہٹ اور چہرے پر وہ سادگی جو اسے مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔ وہ ان لڑکیوں میں سے تھی جن کی خوبصورتی صرف چہرے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ ان کی باتوں اور انداز سے بھی محسوس ہوتی ہے۔

"تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟" زویہ نے پوچھا۔

انایہ نے کندھے اچکائے "ہاں! میں نے ٹی وی شوز میں دیکھا ہے۔"

زویہ نے مسکرا کر سر ہلایا۔

"فکر مت کرو میں تمہیں جب تیار کروں گی تو تم سب سے زیادہ خوبصورت لگو گی۔"

"ہاں وہ لڑکیاں بہت میک اپ کرتی ہیں آپی، ہم بھی کرینگی۔"

زویہ کی بات سن کر انایہ نے کہا تھا۔

"انایہ خوبصورت میک اپ یا برانڈڈ کپڑوں سے نہیں بلکہ انسان کے انداز میں ہے۔" زویہ نے آنکھیں چھوٹی کر کہ انایہ کو سمجھانے والے انداز میں کہا۔ انایہ نے اپنا سر پیچھے سیٹ پر پٹخ دیا

"اووف پھر سے شروع ہو گئی میری بہن کی فضول باتیں۔"

انایہ نے سر نہ میں ہلاتے ہوئے کہا۔

دوسری طرف اسکی یہ حرکت دیکھ کر زویہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ کچھ لمحوں کے لیے زویہ اپنی ساری سوچیں بھول گئی۔ نئی جگہ کی الجھن، نئے لوگوں کی پریشانی سب کچھ۔۔

"مجھے لگ رہا ہے یونیورسٹی میں سب لوگ مجھے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ اتنی معصوم سی لڑکی کہاں سے آ گئی۔" انایہ نے بڑے فخر سے کہا۔

زویہ نے اُس کی طرف دیکھا اور ہنس دی۔

"تم اور معصوم؟"

"ہاں، بالکل۔" انایہ نے فوراً جواب دیا۔

"پھر کل کس نے میری کتابیں چھپا کر مجھے پریشان کیا تھا؟"

زویہ نے مسکراتے ہوئے یاد دلایا۔

"مجھے کیا پتا۔" انایہ نے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا۔

"جھوٹ مت بولو مجھے پتا ہے وہ تمہارا ہی کام تھا۔" زویہ نے اسکے سر کو دو انگلیوں سے چھوتے ہوئے کہا۔

"ہاں تو کیا میں اب اپنی بہن کے ساتھ زرا سا مذاق بھی نا کروں..." انایہ نے آنکھیں گھمائیں۔

"دو گھنٹے تک میں اپنی کتابیں ڈھونڈتی رہیں تھی، مذاق کی بچی۔۔۔"۔ زویہ کی مسکراہٹ گہری ہو گئی اور انایہ وہ سب یاد کرتے ہوئے ہنس دی۔۔ زویہ عام طور پر زیادہ بات نہیں کرتی تھی، مگر انایہ کے ساتھ وہ خود کو ہلکا محسوس کرتی تھی۔ اُس کے ساتھ ہنسنا آسان تھا۔ اس کے ساتھ خاموشی بھی عجیب نہیں لگتی تھی۔ کچھ لمحوں کے لیے وہ بھول گئی کہ وہ ایک نئی دنیا میں جا رہی ہے۔ بھول گئی کہ سب کچھ بدلنے والا ہے۔ بس وہ اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ اس سفر میں موجود تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے کھڑکی کے شیشے میں اپنا عکس دیکھا۔ ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔

نئی جگہ۔

نئے لوگ۔

نئی زندگی۔

یہ الفاظ سننے میں جتنے آسان تھے، حقیقت میں اتنے ہی مشکل لگ رہے تھے۔ اس نے خود کو اس چھوٹی سی دنیا کا عادی بنایا تھا جہاں ہر چہرہ جانا پہچانا تھا۔ جہاں ہر راستہ اسے معلوم تھا۔ جہاں خاموشی بھی اپنی لگتی تھی۔ مگر اب اسے ایک ایسی دنیا میں قدم رکھنا تھا جہاں کوئی اسے نہیں جانتا تھا۔ جہاں اسے خود کو ثابت کرنا تھا۔ "نئی جگہوں سے کچھ نہیں ہوتا، انسان ہر۔جگہ کو اپنے مطابق بدل دیتا ہے..." اسے اپنی بات یاد آئی جو اس نے کسی سے کہی تھی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ کبھی کبھی انسان جگہ نہیں بدلتا، جگہ انسان کو بدل دیتی ہے۔

گاڑی شہر کی طرف بڑھ رہی تھی، پہاڑ آہستہ آہستہ پیچھے رہتے گئے۔ سبز درختوں کی جگہ اب اونچی عمارتیں نظر آنے لگیں۔ خاموش راستوں کی جگہ شور نے لے لی۔ جہاں پہلے صرف پرندوں کی آوازیں تھیں، وہاں اب گاڑیوں کے ہارن اور لوگوں کی آوازیں تھیں۔ زویہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔

اس کے لیے یہ سب نیا نہیں تھا۔

ایسا بھی نہیں تھا کہ اسے خوفزدہ ہو، وہ بہادر اور دلیر تھی۔ بس اسے صرف عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی انسان کو اپنی پسندیدہ جگہ کو چھوڑ کر محفوظ جگہ جانا پڑتا ہے اور کبھی کبھی محفوظ جگہ سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ اور شاید آج وہی دن تھا۔

کچھ دیر بعد وین ایک بڑی عمارت کے سامنے جا کر رکی زویہ نے باہر دیکھا۔ سامنے ایک وسیع یونیورسٹی کی عمارت تھی۔

اونچے دروازے۔

بڑی بڑی عمارتیں۔

ہر طرف چلتے ہوئے طلبہ۔

کچھ ہنستے ہوئے، کچھ باتوں میں مصروف، کچھ جلدی جلدی اپنی کلاسز کی طرف جا رہے تھے۔ یہ دنیا اس کی وادی سے بالکل مختلف تھی۔ یہاں ہر کوئی اپنے آپ میں مگن تھا۔

زویہ نے چند لمحے خاموشی سے یونیورسٹی کو دیکھا۔ پھر بیگ اٹھایا اور وین سے باہر آ گئی۔ ہوا اب بھی چل رہی تھی، مگر اس ہوا میں پہاڑوں جیسی ٹھنڈک نہیں تھی۔ یہاں سب کچھ تیز تھا۔

قدم بھی۔

لوگ بھی۔

وقت بھی۔

اس نے اپنے کپڑے درست کیے اور انایہ کے ساتھ چلتے یونیورسٹی کے بڑے دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ چند لوگوں کی نظریں اس پر پڑیں۔ کچھ نے صرف دیکھا اور گزر گئے۔ کچھ نے تجسس سے دیکھا۔ زویہ نے کسی کو اہمیت نہیں دی۔

وہ جانتی تھی کہ نئی جگہ پر سب سے پہلے لوگ آپ کو دیکھتے ہیں، پھر پرکھتے ہیں۔ مگر وہ کسی کے بنائے ہوئے خیال کے مطابق خود کو بدلنے والی نہیں تھی۔

وہ اندر داخل ہو گئی۔ ایک نئی دنیا میں۔ ایک نئے سفر کی شروعات کے ساتھ۔

لیکن اُسے معلوم نہیں تھا کہ جس وقت وہ اپنی وادی سے ںاہر آئی ہے۔ اُسی وقت، اُسی دن، اسکی وادی میں ایک شخص داخل ہوا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کی زندگی بہت جلد اس کی زندگی سے جڑنے والی تھی۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وہ آدمی جو نوجوان کو ایک آسان شکار سمجھ کر اس کا گلا کاٹنے آیا تھا، چند ہی سیکنڈز میں زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ ڈھابے پر موجود لوگ خوف اور حیرت کے درمیان ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کچھ اپنی جگہ سے اٹھ کر دور ہونے لگے، جبکہ کچھ خوف کے باوجود اس منظر سے نظریں نہیں ہٹا پا رہے تھے۔

سامنے کھڑے دو آدمی، جن کے ہاتھوں میں چاقو تھے، اب مکمل طور پر تیار کھڑے تھے۔ نوجوان نے صرف ایک نظر ان پر ڈالی۔ وہ نظر غصے کی نہیں تھی وہ نظر حساب لگا رہی تھی۔

چھ حملہ آوروں میں سے ایک ختم ہو چکا تھا۔ لیڈر اور دونوں شوٹرز ابھی بھی اپنی جگہ بیٹھے تھے، جیسے وہ صرف اپنے آدمیوں کی صلاحیت دیکھ رہے ہوں۔ ڈھابے کا مالک پریشانی اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ حملہ آور اپنے ساتھی کا حال دیکھ کر ایک لمحے کے لیے ضرور رکے تھے، مگر ان کے چہروں پر گھبراہٹ نہیں آئی۔ نوجوان کا اندازہ درست تھا۔ یہ عام لوگ نہیں تھے۔ اپنے کام میں پرانے تھے، اپنی قابلیت پر بھروسہ رکھتے تھے۔

ایک آدمی آگے بڑھا۔ چاقو سیدھا نوجوان کی طرف آیا۔

نوجوان نے اپنے بازو سے وار روکا۔ ایک قدم آگے بڑھا۔ صرف ایک قدم۔

اور اگلے ہی لمحے اس کی کہنی حملہ آور کے چہرے سے ٹکرائی۔ آدمی چیختا ہوا پیچھے لڑکھڑایا۔ چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

مگر اسی لمحے دوسرے آدمی نے حملہ کر دیا۔ چاقو ہوا کو چیرتا ہوا آیا۔ نوجوان نیچے جھکا اور وار خالی گیا۔

مگر پہلے والا آدمی سنبھل چکا تھا۔ اس کا مکا پوری طاقت سے نوجوان کے چہرے پر لگا۔ نوجوان چند قدم پیچھے لڑکھڑایا۔

مکے میں جان تھی۔ یہ مکا کسی عام آدمی کا نہیں تھا...

یعنی یہ وہ لوگ نہیں تھے جنہیں وہ پچھلے پانچ دنوں سے مارتا آرہا تھا۔ یہ خطرناک لڑاکے تھے۔ تربیت یافتہ تھے۔

ڈھابے پر موجود لوگ اب ڈھابے سے دور جا دہے تھے اور تماشہ دیکھ رہے تھے۔ اس کی نظر ہر طرف تھی۔ تب ہی شوٹرز بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہو چکے تھے۔ مگر ان کے چہروں پر اب بھی سکون تھا۔ انہیں یقین تھا کہ سامنے کھڑے دو آدمی کافی ہیں۔

نوجوان نے دونوں حملہ آوروں کو اپنی طرف آتے دیکھا۔

وہ خود آگے بڑھا۔ پہلا مکا خالی گیا۔ مگر اگلا وار سیدھا دوسرے آدمی کی ناک پر لگا۔ وہ چکراتا ہوا پیچھے جا گرا۔

نوجوان رکا نہیں۔ دوسرے آدمی کے وار سے بچتے ہوئے نیچے جھکا اور مکا اس کی پسلیوں میں مارا۔ آدمی درد سے جھکا۔

اگلے ہی لمحے نوجوان کا گھٹنا اس کی ناک سے ٹکرایا۔ وہ زمین پر گر گیا۔

تب ہی نوجوان کو اپنے بازو پر گرماہٹ محسوس ہوئی۔ وہ فوراً پیچھے ہٹا۔

چاقو اس کے کندھے کو چیرتا ہوا گزر چکا تھا۔ نوجوان کے منہ سے ہلکی سی غرّاہٹ نکلی لیکن وہ زخم دیکھنے کے لیے نہیں رکا یہ وقت درد محسوس کرنے کا نہیں تھا۔

حملہ آور نے دوبارہ وار کیا۔ نوجوان نے اس کی کلائی پکڑ لی۔

اگلے ہی لمحے زخمی کندھے والے ہاتھ سے ہی اس کی کہنی پر زبردست وار کیا۔

کڑاک کی آواز آئی۔ آدمی کی کہنی ٹوٹ گئی۔ وہ چیخ اٹھا۔

چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ مگر زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی نوجوان نے چاقو پکڑ لیا۔ اور اگلے ہی پل وہ چاقو آدمی کے گلے میں اتر چکا تھا۔

نوجوان نے چاقو واپس کھینچا تو آدمی زمیں پر گر گیا۔

نوجوان کے کندھے سے خون بہہ رہا تھا جلن شدید تھی مگر اس کے چہرے پر درد کا کوئی اثر نہیں تھا۔

حملہ آور نے کندھے پر ایسا زخم لگایا تھا کہ ہاتھ کی حرکت متاثر ہو جائے۔ نوجوان نے سامنے دیکھتے ہوئے اپنے زخم پر ہاتھ رکھا۔ خون انگلیوں سے بہہ رہا تھا۔ سانس تیز ہو چکی تھی۔ مگر دماغ اب بھی مکمل ہوش میں تھا۔ تب ہی اس کی نظر سامنے کھڑے شوٹرز پر گئی جن کے ہاتھ جیکٹ کے اندر جا رہے تھے۔

نوجوان فوراً نیچے جھکا۔

ایک گولی سنسناتی ہوئی اس کے سر کے اوپر سے گزری، ایک لمحے کی دیر ہوتی تو وہ گولی اس کے دماغ میں ہوتی۔ دونوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

نوجوان ایک طرف بھاگا اور مضبوط لکڑی کے تختے کو سیدھا کر کے اپنی دھال بنا لیا۔

ڈھابے میں شور مچ گیا، دونوں شوٹرز کی آٹومیٹک پستولیں آگ اگل رہیں تھیں۔ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے اور ایک کے بعد ایک گولیوں کی زد میں آرہے تھے، انہیں جان بوجھ کر مارا جا رہا تھا۔ نوجوان تختے کے پیچھے خود کو گولیوں سے محفوظ بنائے ہوئے تھا۔

اچانک نوجوان کی نظر سامنے پڑی اور ایک لمحے کے لیے اس کا دماغ رک گیا۔

وہی بچہ۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے اس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ روتا ہوا ڈھابے کے اندر والے حصے سے باہر آ رہا تھا۔

نوجوان نے اسے روکنے کے لیئے قدم اٹھایا۔ مگر دیر ہو چکی تھی۔

ایک گولی بچے کے سر کے آر پار ہو گئی۔ اور اگلے ہی لمحے بچے کا چھوٹا سا جسم زمین پر گر گیا۔ نوجوان کے کانوں میں خاموشی پھیل گئی۔ ایک لمحے کے لیے جیسے سب کچھ رک گیا۔ نوجوان وہیں گھٹنے کے بل گر گیا

"نہیں..."

ایک لفظ اس کے ہونٹوں سے نکلا، مگر آواز کہیں اندر ہی دب گئی تھی، اس کی آنکھیں بچے کی آنکھوں پر جم گئی تھیں۔ وہ آنکھیں جن میں کچھ دیر پہلے معصوم خوشی تھی اب وہ خاموش تھیں۔ بچے کا باپ اپنے بچے کو زمین پر گرا دیکھ کر چیختا بھاگتا ہوا باہر نکلا اور اگلے ہی لمحے ایک گولی اسکے بھی سر کر آر پار ہو گئی وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔

نوجوان کی انگلیاں زمین میں دھنس گئیں۔ جبڑے بھنچ گئے۔ اتنی دیر سے اس کے چہرے پر موجود سرد پن پہلی بار ٹوٹا تھا۔ اب وہاں صرف غصہ نہیں تھا۔

درد تھا۔ افسوس تھا۔ اور ایسی نفرت تھی جو پہلے کبھی نظر نہیں آئی تھی۔

اچانک گولیاں چلنا بند ہو گئیں۔ نوجوان آہستہ سے کھڑا ہوا، کندھے تھکن سے جھکے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں اب ایک اور ہی چیز تھی۔ چاروں طرف بے قصور لوگوں کی لاشیں تھی۔

دونوں شوٹرز نے پستول نیچے پھینک دیے۔ انہوں نے مٹھیاں بھینچیں اور آگے بڑھے۔ نوجوان نے دانت پیسے اور خود بھی آگے بڑھ گیا۔

پہلا آدمی حملہ کرنے آیا۔

نوجوان کا مکا پوری طاقت سے اس کی ٹھوڑی پر لگا۔ وہ کراہتا ہوا دور جا گرا اور پھر دوبارہ نہیں اٹھا۔

دوسرے نے لات ماری تو نوجوان نے اس کی ٹانگ پکڑی اور پوری طاقت سے اپنی طرف کھینچی۔

وہ زمین پر گرا۔ اگلے ہی لمحے نوجوان کی لات اس کی ناک پر لگی۔ وہ وہیں بے حرکت ہو گیا نوجوان اس کے قریب جھکا۔

"تم نے اسے کو گولی ماری۔" آواز سرد تھی۔

اس کے بال پکڑے۔ اپنے بوٹ سے چاقو نکالا۔ اور اگلے ہی لمحے چاقو آدمی کی گردن میں پیوست ہو چکا تھا۔

اس نے چاقو واپس کھینچا، خون سے سنہے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔

"بچے کو نہیں مارنا چاہیے تھا" وہ چاقو اس کی شرٹ سے صاف کرتے ہوئے بولا۔

آدمی کا خون زمین پر پھیل رہا تھا۔ نوجوان نے تختے کا سہارا لے کر خود کو کھڑا کیا۔ سانس بری طرح پھول رہی تھی۔

اس نے سامنے دیکھا، چادر والا اب بھی وہیں بیٹھا تھا۔

چاروں طرف خاموشی تھی۔ آسمان پر کالے بادل تھے جیسے بس ابھی بارش شروع ہو جائے گی۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

صرف دو لوگ باقی تھے۔

نوجوان۔

اور وہ آدمی۔

وہ آدمی آہستہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور اپنے چہرے سے چادر ہٹائی۔ اس آدمی کا چہرہ دیکھ کر نوجوان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔ پھر اس نے آہستہ سے سر نفی میں ہلایا۔

"تم براق ہو، فیروز شاہ کے سب سے خطرناک آدمیوں اور فائٹرز میں سے ایک۔" اس نے یقین سے کہا۔ آواز ہمیشہ کی طرح بھاری تھی، مگر سانس اکھڑی ہوئی تھی۔

براق نامی فائٹر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ "ہاں... تم نے صحیح پہچانا۔" وہ چند قدم آگے بڑھا۔ "مگر ہم تو پہلے کبھی ملے نہیں۔"

نوجوان نے اپنے زخمی کندھے پر ہاتھ رکھا۔ بازو خون سے سرخ ہو چکا تھا۔

"ہاں، ہم نہیں ملے۔" نوجوان بولا۔

"فیروز نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا تھا۔"

نوجوان کی بات سن کر فائٹر کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

"مل کر خوشی ہوئی دوست... لیکن تمہاری موت میرے ہو ہاتھوں لکھی ہے۔" براق نے اپنا جیکٹ اتارا اور زمین پر پھینک دیا۔ اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے اسے یقین ہو کہ سامنے کھڑا شخص چند لمحوں بعد زمین پر بے بس پڑا ہوگا۔ نوجوان نے خاموشی سے اپنا چاقو واپس بوٹ میں ڈالا۔

پھر براق کی طرف دیکھا۔ کندھے ہلکے سے اچکائے۔

جیسے کہہ رہا ہو: آؤ دیکھتے ہیں کس کی موت کس کے ہاتھ لکھی ہے۔

براق نے پہل کی۔ وہ پوری طاقت سے آگے بڑھا۔

پہلا وار۔ نوجوان نے ہاتھوں سے روک لیا

دوسرا وار۔ تیسرا ورا

مگر چوتھا وار وہ نہیں روک سکا۔ مکا سیدھا پسلیوں پر لگا۔ سانس ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ درد کی ایک شدید لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔ براق کا ہاتھ واقعی طاقتور تھا۔ فیروز شاہ نے سچ کہا تھا...

اگلا وار۔

پھر دوسرا وار۔۔

نوجوان مسلسل پیچھے ہٹتا گیا۔ پھر ایک لمحے میں جھک کر پانچ قدم دور نکل گیا۔ پسلیوں پر ہاتھ رکھا۔ اس کی زندگی میں شاید پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی سے مکا کھانے کے بعد اُس نے درد کو ہاتھ سے مسلا ہو۔

فائٹر براق گہری مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف بڑھا۔ اسے یقین تھا کہ سامنے والا زیادہ دیر اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا۔ نوجوان نے لمبی سانس چھوڑی اور اب کی بار خود آگے بڑھا۔

پہلا وار روکا۔ اور براق کا گریبان پکڑ لیا۔

اپنا سر آگے لایا۔ پوری طاقت سے اس کی ناک کی سیدھ میں ٹکر مار دی۔

براق کا سر چکرا گیا اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ سامنے کھڑا نوجوان نے اسے دیکھا

خاموش۔

پرسکون۔

جیسے کہہ رہا ہو: مجھے آسان شکار سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔ اگلے ہی لمحے براق کے ہونٹوں پر وہی خطرناک مسکراہٹ واپس آ گئی۔ وہ جھٹکے سے آگے بڑھا۔

نوجوان نے وار سے بچنے کے لیے خود کو ایک طرف کیا مگر اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز تھا۔

مکا سیدھا نوجوان کے چہرے کی طرف آیا۔ نوجوان نے دونوں بازو اٹھا کر چہرے کا دفاع کیا۔ وار بازوؤں پر پڑا۔

ایک بھاری ضرب۔ ایک طاقتور مکا اسکے بازوؤں پر پڑا۔ مکا اتنا زوردار تھا کہ نوجوان کا جسم پیچھے کی طرف لڑکھڑا گیا۔ بازو سن ہونے لگے اور مٹھی بنانے سے انکار کرنے لگے۔

براق کا مکا اسٹیل جیسے سخت تھے۔

نوجوان نے اپنی انگلیاں کھولیں۔ بازو جھٹکے۔ کندھے میں درد کی ایک اور لہر اٹھی مگر اس نے نظر انداز کیا۔ دوبارہ مٹھی بند کی اور واپس فائٹ کی پوزیشن میں آ گیا۔ آگے بڑھا۔

ایک مکا مارا جسے براق نے آسانی سے روک لیا۔

اور اگلے ہی لمحے براق کا زوردار مکا نوجوان کے جبڑے پر لگا۔

سر ایک طرف جھٹکا کھا گیا۔ وہ ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا کہ دوسرا مکا پیٹ پر لگا۔ سانس جیسے جسم سے نکل گئی۔

پھر تیسرا مکا سیدھا ناک پر لگا۔ خون کا ذائقہ نوجوان کے منہ میں پھیل گیا۔

براق نے اسکے گھٹنے پر زور سے لات ماری جس سے نوجوان گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔ اگلے ہی لحے ایک اور زورداد مکا نوجوان کے چہرے پر جڑ دیا، نوجوان کا سر پیچھے جھٹکا کھا گیا ناک سے خون بہہ کر ہونٹوں پر آگیا، دماغ نے کام کرنا بند کردیا۔

براق نے اُسے بالوں سے پکڑ کر دوبارا سیدھا کیا، ایک اور گھونسا ناک کی سیدھ میں رسید کیا۔ نوجوان درد سے کراہنے لگا۔

براق نے اسکے سینے پر زور سے لات ماری تو نوجوان دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا، کانوں میں سیٹیاں سی بج رہی تھی اور سانس ساکت ہو رہی تھی۔

نوجوان نے مٹھیاں بنائی اور دوبارا اٹھنے کی کوشش کی۔ دونوں ہاتھوں کے سہارے اس نے خود کو اٹھایا اور گھٹنوں کے بل آ گیا۔ منہ سے خون بہہ رہا تھا, زوردار وار نے دماغ ہلا دیا تھا۔

نظر دھندلا رہی تھی، سر دائیں بائیں جھٹکنے لگا۔ سانس بے ترتیب ہو چکی تھی , کندھے کا زخم مزید کھل گیا تھا۔

سر چکرایا, اور وہ دوبارہ زمین پر گر گیا۔ جسم نے ساھ دینے سے مکمل انکار کر دیا تھا۔

براق اس کے سامنے کھڑا شیطانی قہقہے لگا رہا تھا۔ جیسے کہہ رہا ہو: بس کر دو, آرام سے موت کو گلے لگا لو.

پلکیں بھاری ہو رہی تھیں, آنکھیں کھولنا دشوار ہو رہا تھا سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔

وہ ہمیشہ سب سے جیتا تھا, لوگ اُسے قابل اور طاقتور کہتے تھے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس وقت سارے طاقتور لوگ اسکی طرف تھے۔ مگر اب..۔ اب کچھ نہیں تھا۔ اس نے خود یہ راستہ چنا تھا، وہ انسان جو کبھی طاقتور لوگوں کا حصہ تھا... آج وہ انہی طاقتور لوگوں کے خلاف اکیلا تھا۔

براق کے قہقہے گونج رہے تھے۔ نوجوان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔

"کیا تم نے ہار مان لی نوجوان؟" اچانک ایک آواز آئی، وہ آواز بہت قریب تھی۔ نوجوان نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی، سامنے ایک شخص کھڑا تھا۔

سفید کپڑوں میں۔۔ اور سب سے عجیب بات... اس کا چہرہ نوجوان جیسا ہی تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔

یہ نوجوان کا اپنا دماغ تھا۔

"میرے جسم میں اب طاقت نہیں بچی۔" نوجوان نے کہا۔

"ابھی تو جنگ شروع ہوئی ہے, کیا تم اتنا جلدی ہار مان لو گے؟" ہمشکل نے پوچھا۔

"سینکڑوں طاقتور لوگ ہیں اور وہ ایک ساتھ ہیں, میں ہار جاؤنگا۔" نوجوان کی آواز کمزور تھی۔

ہمشکل مسکرایا۔ "کوئی تم سے زیادہ طاقتور نہیں ہے۔ تم گر سکتے ہو... ٹوٹ سکتے ہو... لیکن ہار نہیں مان سکتے۔"

نوجوان خاموش رہا۔

"میں تھک چکا ہوں۔"۔ نوجوان نے کراہتے ہوئے کہا۔

"تمہیں اپنی تھکن کو چھوڑنا ہوگا, تمہیں اٹھنا ہوگا۔ کیونکہ جس دن تم نے ہار مان لی...اس دن وہ سب جیت جائیں گے جنہیں زندہ رہنے کا بھی حق نہیں ہونا چاہیے۔"

گہری خاموشی!

"یاد کرو... وہ لمحہ جب وہ تمہاری بانہوں میں سسک رہی تھی۔" اچانک نوجوان کی بند پلکیں کپکائیں, نوجوان کی انگلیاں مٹی میں دھنس گئیں۔

"یاد کرو وہ وعدہ... جو وہ اپنی آخری سانسوں میں تم سے لے رہی تھی۔"

نوجوان غرایا۔

"اب بتاؤ...کیا تم نے ہار مان لی ہے؟" ہمشکل نے اس طرح پوچھا جیسے اب جو فیصلہ کیا جائے گا وہی آخری فیصلہ ہوگا۔

نوجوان نے گھٹنے پر زور دیا دونوں بازوؤں پر وزن ڈالا۔ جسم کا ہر حصہ چیخ رہا تھا کہ بس کرو اب مزید نہیں۔

اس نے ایک پاؤں آگے رکھا۔

"نہیں..." وہ سرگوشی میں بولا۔

"کبھی نہیں۔" وہ زور سے بولا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

"میں ہار نہیں مان سکتا۔" اس کی آنکھوں میں غصہ تھا۔

وہ اس لیے نہیں اٹھا تھا کہ اس میں طاقت بچی تھی، وہ اس لیے اٹھا تھا...کیونکہ اسے ہار ماننے کی اجازت نہیں تھی۔ اس نے خون سے بھیگے ہاتھ سے اپنا کندھا پکڑا، سر اٹھایا اور دشمن کو دیکھا۔

"تم میرے جسم کو تو توڑ سکتے ہو براق..۔ لیکن۔۔ لیکن تم مجھے نہیں توڑ سکتے۔"

اس کی آنکھوں میں شعلے تھے براق کی مسکراہٹ پہلی بار ہلکی پڑی۔

نوجوان نے آنکھیں بند کیں, ایک لمبا سانس لیا۔ پورے جسم کے درد کو محسوس کیا۔ پھر آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ اب وہاں درد نہیں تھا۔ صرف جنون تھا۔ خاموش غصہ تھا۔ دونوں ایک ساتھ آگے بڑھے۔

نوجوان نے پہلا مکا چلایا۔

براق نے فوراً دیکھا اور بلاک کرنے کی پوزیشن لی اور یہی وہ لمحہ تھا جس کا نوجوان انتظار کر رہا تھا۔

اگلے ہی لمحے اُس کا انگوٹھا براق کی آنکھ میں گھس گیا۔ وہ درد سے چیخ اٹھا۔

نوجوان نے فوراً اس کے گھٹنے پر لات ماری۔ براق توازن کھو کر گھٹنوں کے بل گر گیا۔ کچھ دیر پہلے غرور سے ہنسنے والا طاقتور آدمی اب اس کے سامنے تھا۔ نوجوان نے اپنا گھٹنا پوری طاقت سے اس کے چہرے پر مارا۔ وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ نوجوان نے اس کے سینے پر گھٹنا رکھا۔ پھر پوری طاقت سے ایک مکا مارا۔

ابھی براق اپنے منہ سے کوئی آواز نکالنے ہی لگا تھا کے ایک اور زورداد مکا اسکے منہ پر پڑا

"تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔"

نوجوان نے ایک جملہ کہہ کر ایک اور مکا رسید کیا۔

"تم بھی خونی ہو..۔"

"اور میں بھی۔۔"

ایک اور زوردار مکا

"تم بھی بےحس"

زوردار مکا

"میں بھی بےحس"

ایک اور مکا مارا تو براق کے منہ سے خون بہنے لگا لیکن نوجوان نہیں رکا۔

"ظالم تم بھی۔۔"

ایک اور مکا ناک پر مارا

"میں بھی"

نوجوان نے غصے سے چیخ کر مکا مارا، براق اُسے ہٹانے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر نوجوان اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔

ایک اور مکا۔

پھر ایک اور۔

کچھ دیر بعد نوجوان آہستہ سے کھڑا ہوا۔ براق کا جسم اب ساکت تھا۔ نوجوان نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ چہرا اور سفید شرٹ خون سے لال تھی، دائیں ہاتھ سے خون کی بوندیں ٹپک رہی تھی۔

ٹھنڈی ہوا اُسکے جسم سے ٹکرا رہی تھی اس کا سانس اب بھی اکھڑا ہوا تھا۔ ڈھابے پر خاموشی پھیل چکی تھی۔

صرف بورڈ سے لٹکے ٹین کے ڈبے ہوا کے ساتھ ٹکرا کر ہلکی آواز پیدا کر رہے تھے۔

وہ ابھی بھی آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کالے بادل آسمان پر پھیلے ہوئے تھے۔ چاروں طرف نظر گھمائی، زمین خون سے سرخ ہو چکی تھی۔ وہ خاموش قدموں سے تھوڑا آگے بڑھا۔

پھر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔ سامنے اسی بچے کی لاش تھی جو کچھ دیر پہلے خوشی سے اچھل رہا تھا, اس کے ہاتھ میں اب بھی وہی کی چین تھی۔ نوجوان نے آہستہ سے کی چین اپنے ہاتھ میں اٹھائی جو پر خون لگا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب وہ بچہ خوشی سے مسکرا رہا تھا اور بار بار کی چین کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا، ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھیں بند ہوئیں۔

آنکھ کے کنارے سے آنسو کا ایک قطرہ نکلا اور زمین پر جا گرا۔

مگر چہرہ؟ چہرہ اب بھی ویسا ہی سرد تھا۔

وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا۔

اس نے زمین سے ایک پستول اٹھائی۔

مرے ہوئے آدمیوں میں سے ایک کی جیکٹ میں ہاتھ ڈالا اور کچھ میگزین نکال لیں۔

دوسرے آدمی کی جیب چیک کی تو اس میں والٹ اور ایک موبائل تھا۔ موبائل کو اپنے جیب میں رکھ اس نے والٹ نکالا، ایک نظر دیکھا، پھر اسے واپس پھینک دیا۔ دوبارہ جیب ٹٹولی تو اس میں سگریٹ کا پیکٹ موجود تھا۔ اس نے پیکٹ کھولا۔۔ وہ سگریٹوں بھرا ہوا تھا۔ اس نے ڈھابے کی طرف دیکھا۔ وہاں اب کوئی نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ گاڑی کھولی پستول اور میگزین اندر پھینک دیے۔ پچھلی سیٹ پر رکھا ایک چھوٹا سا بیگ اٹھا کر کھولا۔ اس میں کپڑے تھے۔ کپڑے نکالے اور واپس ڈھابے کی طرف چل دیا۔ ڈھابے کا مالک زندہ تھا اور ٹیبل کے نیچے چھپا تھا۔ نوجوان نے اپنی شرٹ اتاری، دائیں بازو سے اب بھی خون رس رہا تھا۔ وہ اگے بڑھا اور فریج سے صاف پانی کی ٹھنڈی بوتل نکالی پھر زخم کے آس پاس ٹھنڈا پانی بہانے لگا۔ صاف رومال سے خون صاف کیا اور ایک کپڑا کس کر باندھا۔ درد کی ایک لہر پورے بازو میں دوش گئی، اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے اچھی طرح سے بازو کو باندھا۔

"میرے بارے میں کوئی بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔"

اس نے رعب دار لہجے میں حکم دیا۔ پھر واش روم کی طرف بڑھ گیا. چند منٹ بعد وہ باہر نکلا۔ اب اس نے صاف کپڑے پہن رکھے تھے۔ نیلی جینز، سفید شرٹ۔ شرٹ کی آستینیں اوپر فولڈ کی ہوئی تھیں۔ اس کے بال گیلے تھے اور چہرہ صاف تھا۔ لیکن آنکھیں... آنکھیں اب بھی ویسی ہی تھیں۔ جیسے وہ ہر راستہ، ہر خطرہ، ہر انسان کو پڑھ سکتی ہوں۔ وہی سرد آنکھیں۔

اس نے ٹیبل پر پیسے رکھے اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ڈگی کھولی اور خون آلود کپڑوں کو سامان کے نیچے چھپا دیا۔ ایک سگریٹ ہونٹوں کے درمیان دبا کر سلگایا۔ ایک لمبا کش لیا۔ اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

وہ لمبے لمبے کش لے رہا تھا جبکہ اس کا دماغ مسلسل نیند مانگ رہا تھا۔ اس نے جیب سے وہی فون نکالا، سگریٹ ہونٹوں میں دبائے وہ دونوں ہاتھوں سے نمبر ڈائل کرنے لگا۔

رِنگ جانے لگی۔ اس نے لمبا کش لیا اور سر سیٹ سے ٹکا دیا۔

کال اٹھا لی گئی۔

"کام ہو گیا؟" دوسری طرف سے ایک آدمی کی آواز آئی۔

"نہیں۔۔ بس زرا سا چوک گئے وہ" ضرار نے جواب دیا۔ دوسری طرف قہقہ بلند ہوا۔

"ضرار ضرار ضرار۔۔۔" آدمی نے ہنستے ہوئے نوجوان کا نام پکارا، نوجوان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

"تو مرتا کیوں نہیں ہے یار؟ تو پھر سے کیسے بچ گیا؟ اس بار تو تجھے نہیں بچنا چاہیے تھا۔" وہ مسلسل قہقہے لگا رہا تھا۔ نوجوان کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں آئی۔ اُس نے ایک اور کش لیا۔ بازو گاڑی کی ونڈو سے باہر نکالا اور راکھ جھاڑی۔

"تمہیں سچ میں لگا تھا کہ مجھے مارنا آسان ہے؟" اس نے سوال کے جواب میں سوال کیا۔ لہجہ بالکل پرسکون تھا۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔

"ہاہاہاہا... آسان ہی تو نہیں ہے۔۔۔اسی لیے اس بار میں نے تمہیں مارنے کے لیے اپنے بہترین آدمی بھیجے تھے۔۔۔ سمجھ نہیں آتا تم ہر بار بچ کیسے جاتے ہو۔" وہ شیطانی قہقہ لگا کر بولا۔

"یہی تو غلطی کی تم نے، فیروز شاہ۔" نوجوان نے سامنے سڑک پر نظریں جمائے ہوئے کہا۔

"کیسی غلطی؟" فیروز نے حیرت سے پوچھا۔

"تم نے ضرار کو مارنے کے لیے لوگ تو بھیجے...لیکن وہ لوگ بھیجے جو ضرار سے انجان تھے۔" اس جملے میں ایسا رعب تھا کہ دور بیٹھے فیروز شاہ کے اندر بھی بے چینی پیدا ہو گئی۔

"ضرار تم..۔"

"اب بس کرو فیروز۔۔" ضرار نے اس کی بات کاٹ دی۔

"ختم کرو یہ سب۔۔۔ اپنے اور کتنے آدمی مروانا چاہتے ہو میرے ہاتھوں؟"۔ ضرار نے بیزاری سے پوچھا۔

"میں تب تک تیرا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک تو مر نہیں جاتا۔

میں اور آدمی بھیجوں گا۔

زیادہ طاقتور۔

زیادہ ٹرینڈ۔

زیادہ خطرناک۔" فیروز کا لہجا سخت تھا۔

"تو میری بھی ایک بات یاد رکھ، فیروز! تو اپنے چند طاقتور آدمی بھیج...یا پوری فوج۔

میں تب تک لڑتا رہوں گا جب تک میرے جسم میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے۔" اس نے سگریٹ کے جلتے ہوئے سرے کو دیکھا۔ آنکھوں میں آگ تھی۔ لہجہ ایک چیلنج تھا۔

فیروز شاہ ہنسا۔

"یہی تو میں چاہتا ہوں ضرار۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تجھے ایسی عبرتناک موت دوں کہ سننے والے کی روح کانپ جائے۔"

وہ ہنستا ہوا کال کاٹ چکا تھا۔

نوجوان نے فون کان سے ہٹایا۔ نظریں سڑک پر تھیں۔

"ہاں...وہ مجھے مار سکتا ہے۔" اس نے سوچا۔۔ لیکن یہ ڈر نہیں تھا۔۔ اسے بس فکر تھی کہ وہ اپنا وعدہ نبھا پائے گا یا نہیں۔۔

ایک لمبا کش لیا۔ پھر سگریٹ باہر پھینک دی۔

وہ پیچھے سیٹ سے سر ٹکا کر گہری سوچ میں چلا گیا۔ ایک طوفان آیا تھا۔ جو اس سے اس کے سب اپنے چھین کر لے گیا تھا۔ چہرہ سرد تھا۔ مگر اندر درد کا ایک سمندر تھا، وہ اکیلا تھا۔۔بالکل اکیلا۔ وہ ہر اس انسان کو کھو چکا تھا جو کبھی اس کے قریب تھا۔ اور اب وہی طوفان اس کی جان لینے آ رہا تھا۔ لیکن اسے زندہ رہنا تھا۔ ایک وعدہ نبھانا تھا۔ اس کے دماغ میں طوفان برپا تھے۔ اس نے خود کو سنبھالا۔ سر سیدھا کیا۔

پستول اور میگزین کو ایک کالے شاپر میں ڈال کر سیٹ کے نیچے پھینکا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے سڑک پر لے آیا، موبائل باہر پھینک کر ونڈو بند کر لی۔

ڈھابہ پیچھے رہ گیا تھا۔ کچھ ہی لمحوں بعد آسمان پر چھائے کالے بادل مزید گہرے ہو گئے۔ پہلی بوند گاڑی کے شیشے پر آ کر گری۔۔پھر دوسری۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش شروع ہو گئی۔ بارش کی بوندیں گاڑی کے شیشوں پر بہنے لگیں، جیسے آسمان بھی اس زمین پر بکھرے خون کے نشان مٹانے کی کوشش کر رہا ہو۔۔ ضرار کی نظریں سامنے سڑک پر تھیں، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ وائپر مسلسل چل رہے تھے، باہر کی دنیا بارش کے پردے میں دھندلا گئی تھی۔

کچھ فاصلے کے بعد پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی خوبصورت وادیاں نظر آنے لگیں۔ دور تک پھیلے سبز درخت۔ بارش سے بھیگی ہوئی زمین۔ بادلوں سے چھپے پہاڑ۔ اور کہیں دور بہتے جھرنے۔ اور ان سب کے درمیان رنگ برنگی چھتوں والے چھوٹے چھوٹے گھر۔۔ وہ منظر اس خون، شور اور تباہی سے بالکل مختلف تھا جس سے وہ ابھی گزر کر آیا تھا۔

ضرار کی نظر کار کی کھڑکی سے باہر ٹھہر گئی تھی۔

وہ اتنا خوبصورت منظر تھا کے اسے لگا جیسے وہ منظر اسے اپنی طرف بلا رہا ہو۔ شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ کئی دنوں بعد پہلی بار اسے کہیں سکون کا احساس ہوا تھا۔

فیصلہ ہو چکا، اب اسکا رخ اُن وادیوں کی طرف تھا۔ فیصلہ کرنے میں اسے وقت نہیں لگتا تھا

لیکن وادیوں کی طرف بڑھتا ہوا یہ سفر صرف ایک سفر نہیں تھا... اس کی زندگی کے ایک نئے باب کی شروعات ہونے والی تھی.

Let Abu Mussa know what you thought about this chapter!
Love this

1

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

A Blessing in Disguise

Miriam0011: Hi there! I really enjoyed reading your story, it was both interesting and well written. Your style feels very natural and easy to connect with. Do you usually write in this genre, or do you explore others as well?

Read Now
Bear Shifter Secrets

Authorhelper: Your story sounds really interesting! As a beta reader and book editor, I love helping writers strengthen plot, pacing, character depth, and overall flow while keeping their unique voice. I’d genuinely be interested in reading more of this project.

Read Now
Fated to My Ex- Best Friend

Authorhelper: Your story sounds really interesting! As a beta reader and book editor, I love helping writers strengthen plot, pacing, character depth, and overall flow while keeping their unique voice. I’d genuinely be interested in reading more of this project.

Read Now
The Alpha and His Rogue

Stephen: Hey! I just wanted to say your story was wonderful. The world and characters felt so vivid and real. What keeps you motivated to continue writing new stories?

Read Now
Broken Halos MC

Danielle: Immediately hooked on this book. I couldn’t stop reading it. I love the characters and the storyline. Very well written and I’m super exited to read the other ones. I highly recommend reading this!

Read Now
We Only Fake It on the Weekends

Raven : I loved everything about this! Stayed up way too late on a week day to finish it! Love love loved it! And fuck fake friends who want our sloppy seconds!!

Read Now
Marked By His Touch

Bettina: I didn't click on the love icon much because I was more wrapped up in the suspense side of the story. I do love Ava's writing and hope I get to read more of it! 😄

Read Now
TEXT BUDDIES

Classic: OMG!! OMG!!...this is literally the most heartwarming story I've ever read. I'm literally so happy right now you can't even imagine...this book is officially my favourite one. I fell in love with it from the first page all the way to the last. And i love how it has zero grammatical errors. I can't b...

Read Now
The Kingsley Contract

cherry anne: I truly enjoyed the book it was exciting thrilling couldn't put it down couldn't wait for the next chapter I already recommended this book to my book club. They showed alot of interesting it actually some started reading it

Read Now