Chapter 24
قسط نمبر 24
(ازقلم سیدہ حسباء بخاری)
گاڑی شہر کی سڑکوں پر رواں تھی۔
حازم ڈرائیونگ سیٹ پر تھا اور عنایہ اس کے برابر خاموش بیٹھی باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی۔ سیاہ لباس میں وہ آج غیر معمولی طور پر خوبصورت لگ رہی تھی، جبکہ حازم نے بھی اسی رنگ کا نفیس لباس پہن رکھا تھا۔
اچانک حازم کا فون بجا۔
اس نے اسکرین پر نظر ڈالی اور کال اٹھا لی۔
"جی ذیشان، بتائیں۔"
دوسری طرف سے مینیجر آفس کی صورتِ حال بتانے لگا۔
حازم پوری توجہ سے سنتا رہا۔
"اچھا... فائلز آج ہی کلائنٹ کو بھیج دیں۔ اور جو نئی رپورٹ آئی ہے، اسے ایک بار دوبارہ چیک کروا لینا۔"
چند لمحے بعد اس نے اطمینان سے کہا)
"ٹھیک ہے، باقی سب معمول کے مطابق چلنے دیں۔ میں شام تک آپ سے دوبارہ رابطہ کر لوں گا۔"
کال ختم کر کے اس نے موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
گاڑی آگے بڑھتی رہی۔
کچھ دیر بعد حازم کی نگاہ عنایہ کی طرف اٹھی۔
پھر دوبارہ۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
آخرکار اس نے گاڑی کے اندر لگا شیشہ تھوڑا سا اس طرف کر لیا، جہاں سے عنایہ کا عکس زیادہ واضح دکھائی دے رہا تھا۔عنایہ اس کے قریب ہی بیٹھی تھی لیکن حازم اسے جابجا آئینے سے دیکھ رہا تھا.
عنایہ نے اس حرکت کو محسوس کیا تو وہ تھوڑا گھبرا رہی تھی۔
حازم کی نگاہ اس کے سیاہ لباس پر ٹھہری، پھر اس کی کلائی میں موجود بریسلٹ پر جا رکی۔
وہی بریسلٹ جو اس نے خود اسے پہنایا تھا۔
حازم کے دل میں ایک عجیب سی خوشی ابھری۔
اس نے میرا دیا ہوا تحفہ پہن ہی لیا...
اس کے لیے شاید یہ معمولی بات تھی، مگر حازم کے دل میں اس کا مطلب بہت گہرا تھا۔
وہ خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا۔
کبھی عنایہ کو دیکھتا، کبھی سڑک پر نظریں جما لیتا۔
(عنایہ نے آخرکار پوچھ ہی لیا)
"آپ بار بار مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟"
حازم کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ آئی۔
"پتہ نہیں۔ شاید آج میری نظریں بھی میری بات نہیں مان رہیں۔"
عنایہ نے فوراً باہر دیکھنا شروع کر دیا۔
اس کے گالوں پر ہلکی سی سُرخی اتر آئی۔
اسی لمحے حازم کا فون دوبارہ بجا۔
اس نے کال اٹھائی۔
"جی؟"
دوسری طرف سے ایک عورت کی آواز آئی۔
حازم کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
"آپ ٹھیک تو ہیں نا؟"
عنایہ کی مسکراہٹ ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے خاموشی سے حازم کی طرف دیکھا۔
حازم کی آواز میں تشویش تھی۔
"آپ فکر نہ کریں، میں آ رہا ہوں۔ بس آپ خود کو سنبھالیں۔"
کال ختم ہوئی۔
گاڑی میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔
عنایہ کی نظریں کھڑکی کے باہر جم گئیں۔ عنایہ کو پچھلے دنوں کا منظر یاد آ گیا یہی الفاظ حازم پہلے بھی بول چکا تھا. عنایہ اس لڑکی سے انجان تھی جو حازم کے اتنے قریب تھی۔
اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔
یہ کون تھی؟
حازم نے اتنی بے تکلفی سے اس سے کیوں پوچھا کہ آپ ٹھیک تو ہیں نا؟
اور پھر یہ کہنا کہ میں آ رہا ہوں۔
عنایہ کے دل میں ایک عجیب سی اداسی اترنے لگی۔
کیا کوئی لڑکی تھی؟
اس نے خود ہی اس خیال کو جھٹکنا چاہا، مگر جتنا جھٹکتی، اتنا ہی وہ خیال واپس آتا۔
حازم نے شاید اس کی خاموشی محسوس کی، مگر کچھ نہیں کہا۔
چند منٹ بعد اس نے گاڑی ایک میڈیکل اسٹور کے سامنے روک دی۔
"آپ یہیں بیٹھیں۔"
وہ گاڑی سے اُترا اور اندر چلا گیا۔
عنایہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
کچھ دیر بعد حازم واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دوائیوں کا ایک پیکٹ تھا۔
اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور بغیر وضاحت کیے دوبارہ چل پڑا۔
عنایہ کے دل میں سوال اور گہرا ہو گیا۔
کچھ دیر بعد گاڑی ایک نسبتاً پرسکون گلی میں داخل ہوئی اور ایک سادہ سے گھر کے سامنے رک گئی۔
حازم نے انجن بند کیا اور عنایہ کی طرف دیکھا۔
"آپ چلیں گی؟"
عنایہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"کہاں؟"
"بس میرے ساتھ چلیں۔"
وہ گاڑی سے اتری اور حازم کے پیچھے چلنے لگی۔
حازم نے دروازے کی گھنٹی بجائی۔
چند لمحوں بعد اندر سے ایک ضعیف خاتون آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر آئیں۔
حازم کو دیکھتے ہی ان کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
"حازم بیٹا! تم آ گئے؟"
حازم فوراً آگے بڑھا۔
"جی، ماں جی۔ آپ نے بلایا تھا، میں کیسے نہ آتا؟"
بوڑھی عورت نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"مجھے یقین تھا تم ضرور آؤ گے۔ تم کبھی میری بات نہیں ٹالتے۔"
حازم نے ہاتھ میں موجود دواؤں کا پیکٹ ان کی طرف بڑھایا۔
"یہ آپ کی باقی دوائیاں ہیں۔ میں نے آرڈر پہلے ہی دے دیا تھا، بس آنے میں تھوڑی دیر لگ گئی۔"
خاتون نے دوائیں لیتے ہوئے دعا دی۔
"اللہ تمہیں خوش رکھے بیٹا۔"
پھر ان کی نظر عنایہ پر پڑی۔
وہ ایک لمحے کو رکیں، پھر ان کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
"ارے... یہ کون ہے؟"
حازم نے عنایہ کی طرف دیکھا۔
"یہ عنایہ ہیں میری بیوی۔"
عنایہ ابھی بھی حیرانی کے عالم میں تھی.
خاتون فوراً عنایہ کے قریب آئیں اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"ماشاءاللہ! اتنی پیاری بہو ہے میری؟ پہلی دفعہ آئی ہو اور میں نے تمہیں اندر بھی نہیں بلایا!"
عنایہ جھجک گئی۔
"السلام علیکم، آپ کیسی ہیں؟"
"وعلیکم السلام، بیٹی۔ اب تم آ گئی ہو تو طبیعت خود ہی اچھی ہو گئی۔"
(وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولیں)
"اندر آؤ نا، کچھ کھا پی لو۔ مجھے اپنی بہو سے باتیں کرنے کا حق تو دو۔"
عنایہ کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ آ گئی۔
حازم نے ایک نظر عنایہ کو دیکھا، پھر ماں جی کی طرف متوجہ ہوا۔
"ماں جی، ابھی ہمیں تھوڑا ضروری کام ہے۔ آج اندر بیٹھنا ممکن نہیں ہوگا۔ میں وعدہ کرتا ہوں، پھر آؤں گا اور آپ کے ساتھ سکون سے بیٹھوں گا۔"
خاتون نے قدرے مایوسی سے اسے دیکھا۔
"اچھا، مگر اگلی بار بہو کو ساتھ لے کر آنا۔"
حازم مسکرایا۔
"جی، ضرور۔"
وہ جانے کے لیے مڑا تو خاتون نے دونوں کو روک لیا۔
"رکو، ایک بات تو سنو۔"
حازم پلٹا۔
"اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔ میں نے سوچا تھا کے میں تمہیں دوبارہ تکلیف نہیں دوں گی، مگر آج پھر تمہیں زحمت دی۔"
(حازم نے نرمی سے کہا)
"آپ نے مجھے تکلیف نہیں دی، ماں جی۔ جب بھی ضرورت ہو، بس بلا لیا کریں۔"
بوڑھی عورت کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"اللہ تمہیں اس نیکی کا بہت بڑا اجر دے۔"
پھر انہوں نے دونوں کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
"اللہ تم دونوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کا سکون بنائے۔"
حازم نے بے اختیار عنایہ کی طرف دیکھا۔
(عنایہ نے بے ساختہ بول پڑی)
"آمین۔"
حازم کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جو اُس نے چھُپانی چاہی پھر بھی نہ چھپا پاتا۔
خاتون نے انہیں دل سے دعائیں دیں پھر وہ دونوں گاڑی کی طرف چل پرے۔
اس کے دل میں چند لمحے پہلے کی ساری غلط فہمیاں آہستہ آہستہ پگھل رہی تھیں۔
گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے ایک نظر حازم کو دیکھا۔
اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید محبت صرف وہ نہیں جو دو لوگوں کے درمیان ہوتی ہے...
کبھی کبھی کسی اجنبی کے لیے دل میں رکھی گئی شفقت بھی انسان کے کردار کو اس کی نظروں میں بہت بلند کر دیتی ہے۔
*°*°*°*°*°*
سارا راستہ عنایہ خاموش بیٹھی رہی۔ حازم نے بھی اس کی خاموشی کو محسوس کیا، مگر اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔ گاڑی کے اندر پھیلی خاموشی کے ساتھ سفر گزرتا رہا۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی شہر کے ایک نہایت بڑے اور معروف اسکول کے سامنے جا کر رک گئی۔ یہ وہی اسکول تھا جہاں حازم کی چھوٹی بہن حور پڑھتی تھی۔
حازم گاڑی سے اتر کر حور کو لینے کے لیے گیٹ کی طرف بڑھا، مگر چند قدم چلتے ہی اس کی نظر سامنے کھڑے سعد پر پڑی۔
سعد اپنی چھوٹی بہن جیا کے ساتھ کھڑا تھا، جبکہ حور بھی ان کے ساتھ موجود تھی۔ دونوں لڑکیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے خوشی خوشی باتیں کر رہی تھیں۔
حور بڑے جوش سے جیا کو کچھ بتا رہی تھی۔
"پتا ہے جیا! بھابی نے مجھے میتھ پڑھائی تھی۔ آج میرا ٹیسٹ اتنا اچھا ہوا ہے کہ میں بتا نہیں سکتی!"
اس کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی۔
"سچ؟"
(جیا نے حیرت سے پوچھا)
"ہاں! مجھے حازم بھائی سے زیادہ اچھی بھابی سے سمجھ آئی۔ بھابی بہت اچھا پڑھاتی ہیں۔"
اتنے میں عنایہ بھی گاڑی سے اتر کر ان کی طرف آ گئی۔ وہ حازم کے قریب آ کر رک گئی۔ آج اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی کے باوجود وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
عنایہ نے آگے بڑھ کر پہلے حور کو پیار کیا، پھر جیا کو بھی شفقت سے گلے لگا لیا۔
حور تو جیسے اسی لمحے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ فوراً عنایہ کے گلے سے لپٹ گئی۔
"میری بھابی!"
عنایہ مسکرا دی۔
حور نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"بھابی! میں نے جیا کو بتایا آپ نے مجھے میتھ پڑھائی تھی، اور آج میرا ٹیسٹ بہت اچھا ہوا۔ میں بہت زیادہ خوش ہوں!"
عنایہ نے محبت سے اس کے بال سنوارے۔
"اچھا؟ تو پھر میری محنت کامیاب ہو گئی۔"
"بہت زیادہ!" حور نے فوراً جواب دیا، "اب مجھے میتھ بالکل مشکل نہیں لگتی۔"
جیا ہنس پڑی۔
"اچھا، پھر تو مجھے بھی بھابی کے پاس پڑھنے آنا چاہیے۔"
عنایہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، جبکہ حازم اور سعد بھی ہنس دیے۔
چند لمحوں بعد سعد نے حازم کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اسے سب سے ذرا دور لے گیا۔
"میں نے سب ارینج کر دیا ہے۔"
حازم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
سعد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"اب تم بھابی کو لے کر جاؤ۔ لنچ کا پورا انتظام ہو چکا ہے، بالکل ویسا ہی جیسا تم چاہتے تھے۔"
حازم نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر
آ ئی۔
سعد نے شرارت سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
"اب زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ جاؤ، لنچ کرو اور آرام سے وقت گزارو۔ باقی میں دیکھ لوں گا۔"
حازم نے اثبات میں سر ہلایا۔
دونوں واپس عنایہ اور لڑکیوں کے پاس
آ گئے۔
سعد نے فوراً ماحول بدلتے ہوئے کہا۔
"تو پھر چلیں؟ آئس کریم کھانے؟"
حور اور جیا کے چہرے فوراً کھل اٹھے۔
"جی بھائی!"
دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا۔
مگر اگلے ہی لمحے حور کی نظر حازم اور عنایہ پر پڑی۔ اس نے ذرا غور سے دونوں کو دیکھا، پھر شرارتی انداز میں مسکرا دی۔
"ویسے بھائی..."
حازم نے اسے دیکھا۔
"ہمم؟"
حور نے عنایہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
"آج بھابی بہت پیاری لگ رہی ہیں۔ کوئی خاص پلان ہے کیا؟"
عنایہ ایک دم نظریں چرا گئی۔
حازم نے حور کو گھورا، مگر وہ اپنی ہنسی روک نہ سکی۔
"نہیں بھائی، آپ مجھے ڈانٹیں نہیں۔ میں تو بس پوچھ رہی ہوں۔"
پھر وہ فوراً بولی۔
"ویسے بھی میں آج جیا کے ساتھ جاؤں گی۔ سعد بھائی نے کہا ہے کہ وہ ہمیں آئس کریم کھلانے لے جائیں گے، پھر ہمیں شاپنگ بھی کروائیں گے۔ میں وہیں سے اپنا ڈریس چینج کر لوں گی اور پھر جیا کے گھر چلی جاؤں گی۔"
حازم کچھ کہتا، اس سے پہلے حور نے بات مکمل کر دی۔
"آپ بس مجھے بعد میں لینے آ جائیے گا۔ اور اگر آپ مصروف ہوئے تو میں سعد بھائی کے ساتھ ہی آ جاؤں گی۔"
سعد زور سے ہنس پڑا۔
"کیوں نہیں میری گُڑ یا!"
اس نے محبت سے حور اور جیا دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھا۔
"آج دونوں بیٹیاں میرے ساتھ۔"
حور خوشی سے جیا کا ہاتھ پکڑ کر سعد کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
سعد نے گاڑی کھولی، دونوں لڑکیوں کو اندر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
چند لمحوں بعد گاڑی وہاں سے روانہ ہو گئی۔
حازم خاموشی سے اس گاڑی کو دور جاتا دیکھتا رہا۔
پھر اس نے عنایہ کی طرف دیکھا۔
وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔
حازم گاڑی کی طرف بڑھا، مسافر والی طرف کا دروازہ کھولا اور خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔
عنایہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
"حور...؟"
اس کی آواز میں ہلکی سی الجھن تھی۔
حازم نے اسے دیکھا۔
"وہ جیا کے ساتھ چلی گئی۔"
عنایہ نے جیسے یہ بات پہلی بار سنی ہو۔ اس نے بے اختیار دور جاتی گاڑی کی طرف دیکھا۔
"لیکن... وہ تو ہمارے ساتھ آنے والی تھی۔"
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ
مسلسل دکھائی دے رہی تھی.
"پلان بدل گیا۔"
عنایہ خاموش ہو گئی۔
اس کے دل کی دھڑکن ذرا تیز ہو گئی تھی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آج اسے حازم کے ساتھ اکیلے لنچ پر جانا ہوگا۔ اسے تو یہی لگا تھا کہ حور ساتھ ہوگی، اس لیے اس نے خود کو اتنا گھبرانے نہیں دیا تھا۔
مگر اب...
وہ پہلی مرتبہ حازم کے ساتھ یوں اکیلی باہر جا رہی تھی۔
اور وہ بھی ایک ایسا لنچ، جس کا انتظام حازم نے خاص طور پر اس کے لیے کروایا تھا۔
عنایہ نے ایک گہری سانس لی اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
حازم نے دروازہ بند کیا، دوسری طرف جا کر اپنی نشست سنبھالی اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
عنایہ نے نظریں جھکا لیں۔
اسے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ حور کا اچانک بدل جانے والا پلان محض اتفاق تھا...
یا اس کے پیچھے کچھ اور بھی تھا۔
*°*°*°*°*°*
حازم کی گاڑی شہر کے ایک نہایت شاندار اور معروف فائیو اسٹار ہوٹل کے سامنے جا کر رکی۔
عنایہ نے جیسے ہی گاڑی سے باہر قدم رکھا، چند لمحوں کے لیے وہ وہیں رک گئی۔
ہوٹل کی عمارت اپنی خوبصورتی میں بے مثال تھی۔ بلند شیشے کی دیواریں، نفیس روشنیوں سے سجا ہوا داخلی راستہ اور اندر سے آتی ہلکی موسیقی پورے ماحول کو کسی خواب جیسا بنا رہی تھی۔
حازم نے عنایہ کی طرف دیکھا۔
"چلیں؟"
عنایہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
دونوں اندر داخل ہوئے۔
حازم اسے لفٹ کے ذریعے دوسری منزل پر لے گیا۔
لفٹ کے دروازے کھلے تو عنایہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
دوسری منزل تقریباً مکمل طور پر خالی تھی۔
دور دور تک شیشے کی دیواریں تھیں جن سے شہر کی روشنیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ نفیس میزیں، خوبصورت کرسیاں اور مدھم روشنی پورے ہال کو غیر معمولی دلکشی دے رہی تھی۔
عنایہ نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔
"یہاں... کوئی اور نہیں ہے؟"
حازم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
"آج نہیں۔"
عنایہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا، مگر حازم آگے بڑھ چکا تھا۔
وہ ایک خوبصورت سی میز کے پاس پہنچا، پھر عنایہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
عنایہ نے چند لمحے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
حازم اسے میز تک لے گیا۔
اس نے نہایت شائستگی سے عنایہ کے لیے کرسی پیچھے کی۔
"بیٹھیں۔"
عنایہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
ایک لمحے کے لیے اسے واقعی یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی محل میں موجود ہو اور حازم نے اس کے استقبال کے لیے یہ سارا انتظام کیا ہو۔
حازم اس کے سامنے والی نشست پر بیٹھ گیا۔ اچانک ہال کی روشنیاں مزید مدھم ہو گئیں۔ دور ایک موسیقار نے اپنی دھن شروع کی۔ ہلکی، پرسکون موسیقی پورے ہال میں پھیل گئی۔
رو ویٹرز آگے بڑھے اور دونوں کے سامنے مینیو رکھ دیے۔
(حازم نے مینیو اٹھایا، مگر عنایہ سے پوچھنے کے بجائے مسکرا کر بولا)
"مجھے معلوم ہے آپ کیا پسند کریں گی۔"
عنایہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"آپ کو کیسے معلوم؟"
"آپ کو یاد نہیں؟"
حازم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
"آپ نے خود بتایا تھا۔"
عنایہ کے چہرے پر تجسس واضح تھا۔
حازم نے اس کی پسند کے مطابق کھانے کا آرڈر دے دیا۔
ویٹرز واپس چلے گئے۔
اب وہاں صرف وہ دونوں تھے۔
ہلکی موسیقی، شیشے کی دیواروں کے پار شہر کی روشنیاں اور میز پر جلتی موم بتی۔
عنایہ نے چند لمحے خاموشی سے حازم کو دیکھا۔
"آپ نے یہ سب... میرے لیے کیا ہے؟"
حازم نے نظریں اس سے ملائیں۔
"ہاں۔"
"کیوں؟"
حازم چند لمحے خاموش رہا۔
(پھر بہت سادگی سے بولا)
"کیونکہ کبھی کبھی کسی خاص انسان کے لیے ایک عام سا دن بھی خاص بنا دینا چاہیے۔"
عنایہ کا دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
کچھ دیر بعد کھانا میز پر سجا دیا گیا۔
عنایہ نے پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک اس کی نظر میز کے درمیان رکھے خوبصورت پھولوں کے گلدستے پر پڑی۔
اس کے ساتھ ایک نفیس سا ڈبہ رکھا تھا۔
وہ حیران ہوئی۔
"یہ کیا ہے؟"
حازم نے صرف آنکھوں کے اشارے سے ڈبے کی طرف دیکھا۔
"آپ خود دیکھ لیں۔"
عنایہ نے جھجکتے ہوئے ڈبہ اپنی طرف کھینچا۔
اس نے ڈھکن کھولا تو اندر ایک نہایت خوبصورت گولڈ کا سیٹ رکھا تھا۔
عنایہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اس نے بے اختیار اپنے گلے کو چھوا۔
آج بھی اس کے گلے میں حازم کا دیا ہوا پچھلا ڈائمنڈ سیٹ موجود تھا۔
وہ چند لمحے نئے تحفے کو دیکھتی رہی۔
"حازم..."
(عنایہ کی آواز میں حیرت بھی تھی اور جذبات بھی)
"یہ بہت زیادہ ہے۔"
(حازم نے نرم لہجے میں کہا)
"مجھے لگا آپ کو پسند آئے گا۔"
عنایہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
"اور اگر مجھے پسند نہ آتا؟"
حازم مسکرایا۔
"
تو پھر میں دوبارہ لے آتا۔"
عنایہ ہنس پڑی۔
"آپ بھی نا..."
کھانے کے بعد حازم نے وہ نیا سیٹ اٹھایا۔
"ایک منٹ۔"
عنایہ نے اسے دیکھا۔
حازم نے اشارہ کیا کہ وہ کھڑی ہو جائے۔
عنایہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
حازم نے نہایت احتیاط سے اس کے گلے میں موجود ڈایمینڈ کا لاکیٹ اُتارا اور پھر بہت پیار سے گالڈ کا نیکلس سجایا۔
عنایہ آئینے کی طرف دیکھنے لگی۔
گالڈ کی چمک مدھم روشنی میں اور بھی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔
(حاذم نے کہا)
"خوبصورت ہے۔"
عنایہ نے آئینے میں اسے دیکھا۔
"سیٹ؟"
(حازم نے مسکرا کر جواب دیا)
"سیٹ بھی۔"
عنایہ کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اسی لمحے دور بجنے والی دھن ذرا بدل گئی۔
حازم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
" ڈانس؟"
عنایہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"یہاں؟"
"یہاں۔"
چند لمحوں کی جھجک کے بعد عنایہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
حازم نے اسے آہستگی سے ایک چکر دیا۔
عنایہ کے لبوں پر ہنسی آ گئی۔
"مجھے ڈانس نہیں آتا۔"
"مجھے بھی نہیں۔"
"پھر؟"
"پھر دونوں مل کر غلطیاں کریں گے۔"
عنایہ ہنس دی۔
دونوں مدھم موسیقی کے ساتھ چند سادہ سے قدم اٹھانے لگے۔
کسی فلمی منظر کی طرح پورا ہال خاموش تھا، صرف موسیقی کی آواز اور شہر کی دور روشنیاں اس لمحے کو خاص بنا رہی تھیں۔
ایک لمحے کے لیے دونوں رک گئے۔
عنایہ کی نظریں حازم کی آنکھوں سے ملیں۔
اس بار اس نے فوراً نظریں نہیں چرائیں۔
حازم بھی خاموش تھا۔
دونوں کے درمیان ایک ایسی خاموشی تھی جس میں بہت کچھ کہا جا رہا تھا، مگر الفاظ کی ضرورت نہیں تھی۔
پھر عنایہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نظریں جھکا لیں۔
حازم نے بھی مسکرا کر ایک قدم پیچھے کیا۔
"چلیں؟"
(عنایہ نے حیرت سے پوچھا)
"کہاں؟"
"ابھی تو لنچ باقی ہے۔"
عنایہ ہنس پڑی۔
"آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔"
حازم بھی ہنس دیا۔
اور یوں وہ دونوں دوبارہ اپنی میز کی طرف لوٹ آئے، جبکہ پس منظر میں وہی مدھم دھن اب بھی خاموشی سے گونج رہی تھی۔
*°*°*°*°*°*
عمل کھڑکی کے قریب خاموش بیٹھی فون پر کسی سے بات کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر معمول کی سنجیدگی تھی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک بے نام سی بے چینی پہلے ہی جاگ رہی تھی۔
اچانک فون کی دوسری طرف سے ایک آدمی کی سنجیدہ آواز ابھری۔
"میڈم، آپ کا کام ہو گیا ہے۔ جس شخص کا آپ نے پیچھا کرنے کے لیے کہا تھا، وہ ایک ہوٹل میں گیا ہے... ایک لڑکی کے ساتھ۔"
امل کے ہاتھ وہیں رک گئے۔
چند لمحوں کے لیے جیسے وقت ٹھہر گیا۔
فون پر وہ شخص مزید کچھ بتاتا رہا، مگر امل کے کانوں تک اب کوئی لفظ صاف نہیں پہنچ رہا تھا۔
حازم ...
ایک لڑکی کے ساتھ۔ اور وہ بھی اسکی اپنی بیوی عنایہ
وہ جانتی تھی کہ حازم اب اس کا نہیں رہا۔
وہ یہ حقیقت بہت پہلے جان چکی تھی۔
مگر کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان جان تو لیتا ہے، قبول نہیں کر پاتا۔
عمل بھی اسی مقام پر کھڑی تھی۔
نہ وہ ماضی سے نکل پا رہی تھی، نہ حال کو قبول کر پا رہی تھی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے حازم کا چہرہ ابھرا، پھر دھندلا گیا۔
فون آہستہ سے اس کی انگلیوں سے پھسل کر فرش پر جا گرا۔
مگر اسے اس کی آواز تک سنائی نہ دی۔
اس کا جسم جیسے اچانک اپنی ساری طاقت کھو بیٹھا ہو۔
وہ آہستہ سے زمین پر بیٹھ گئی۔
اس کے ہاتھ بے اختیار اس کی گود میں آ گئے۔
چہرہ سپاٹ تھا، مگر آنکھوں میں ایک ایسا درد اتر آیا تھا جسے آنسو بھی بیان نہیں کر پا رہے تھے۔
وہ خالی نظروں سے سامنے دیکھتی رہی۔
جیسے اس کے آس پاس کی پوری دنیا اپنی جگہ موجود ہوتے ہوئے بھی اس سے بہت دور جا چکی ہو۔
جس شخص کو کبھی اپنا سمجھ کر اس نے دل میں محفوظ رکھا تھا، آج وہ کسی اور کے ساتھ تھا۔
اور سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اسے اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے تھی۔
وہ جانتی تھی۔
پھر بھی دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
ایک آنسو خاموشی سے اس کے گال پر بہہ گیا۔
وہ وہیں بیٹھی رہی۔
بالکل بے بس۔
جیسے وقت آگے بڑھ رہا ہو...
اور عمل وہیں، اسی ایک لمحے میں، کہیں پیچھے رہ گئی ہو۔
*°*°*°*°*°*
شاپنگ مکمل کرنے کے بعد حور اور جیا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مال کی راہداری میں چل رہی تھیں۔ دونوں کے چہروں پر پورے دن کی خوشی نمایاں تھی۔ اسکول کے یونیفارم کی جگہ اب دونوں نے اپنے پسندیدہ نئے کپڑے پہن رکھے تھے اور بار بار ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہی تھیں۔
سعد نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دونوں کو دیکھا تو مسکرا دیا۔
"لگتا ہے آج دونوں کی شاپنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔"
(حور فوراً بولی)
"سعد بھائی! ابھی تو اصل مزہ شروع ہوا ہے۔"
(جیا نے بھی ہنستے ہوئے اس کا ساتھ دیا)
"بالکل!"
سعد نے سر ہلا دیا۔
"اچھا بھئی، اب بتائیں کہاں جانا پسند کریں گی میری شہزادیاں"
کچھ دیر بعد وہ عنایہ کے گھر کے قریب پہنچے تو سعد نے نیہا کو بھی ساتھ لے لیا۔ کئی دنوں بعد سب یوں اکٹھے باہر نکلے تھے، اس لیے ماحول پہلے ہی خوشگوار تھا۔
علی کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا گیا تھا، مگر یونیورسٹی شروع ہونے والی تھی اور وہ اپنی پڑھائی میں مصروف تھا، اس لیے وہ نہیں آ سکا۔
آخرکار سب ایک بڑے سے پلیے لینڈ میں پہنچ گئے۔
اندر داخل ہوتے ہی حور اور جیا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
رنگ برنگی روشنیاں، جھولے، مختلف گیمز اور بچوں کی ہنسی سے پورا ماحول زندہ تھا۔
"جیا! ادھر!"
حور نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک گیم کی طرف کھینچ لے گئی۔
دونوں کبھی ایک گیم کھیلتی، کبھی دوسرے جھولے کی طرف بھاگتیں، اور کبھی معمولی سی بات پر ایک دوسرے کو ہنسا دیتیں۔
سعد اور نیہا دور کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے۔ نیہا کے چہرے پر کئی دنوں بعد ایسی بے فکری نظر آ رہی تھی۔ سعد نے اسے دیکھا تو مسکرایا۔
(نیہا نے پوچھا)
"کیا ہوا؟"
(سعد نے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا)
"کچھ نہیں۔ بس انہیں دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔"
نیہا نے بھی حور اور جیا کی طرف دیکھا۔
دونوں اس وقت ایک چھوٹے سے جھولے پر بیٹھی ہنس رہی تھیں۔
سعد کے چہرے پر ایک عجیب سی نرمی آ گئی۔
"کبھی کبھی سوچتا ہوں..."
وہ رک گیا۔
(نیہا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
سعد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا)
"آگے جا کر اگر ہمارے اپنے بچے ہوئے تو شاید ہم بھی اسی طرح ان کے پیچھے بھاگ رہے ہوں گے۔"
نیہا کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اس نے فوراً نظریں دوسری طرف کر لیں۔
(سعد نے ہنستے ہوئے کہا)
"اور دیکھو، جیا بھی تو بالکل ہماری بیٹیوں جیسی ہے۔"
نیہا نے جیا کو دیکھا جو اس وقت حور کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھیل رہی تھی۔
"ہاں... یہ بھی تو ہماری فیملی کا حصہ ہے۔"
(سعد سن کر خوش ہوا)
سعد!
(نیہا یک دم بولی)
کیا ہوا میڈم؟
(سعد حیرانی سے پوچھا)
وہ عنایہ باجی یو اچانک سرپراز سے خوش تو تھی نا؟
(نیہا کے چہرے پر پریشانی واضع تھی)
جی ہاں جناب وہ بہت خوش تھی بس تھوڑا حیران تھی مجھے دیکھ کر آپ میڈم پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہے وہاں پر میری حازم سے بات بھی ہوئی تھی۔
(سعد نے نیہا کی پریشانی کو دور کیا)
اسی دوران حور اور جیا بھاگتی ہوئی واپس آئیں۔
"سعد بھائی!"
"کیا ہوا؟"
"ہمیں کینڈی چاہیے!"
سعد نے مصنوعی حیرت سے دونوں کو دیکھا۔
"اتنی ساری چیزیں کھانے کے بعد بھی؟"
دونوں نے ایک ساتھ سر ہلا دیا۔
"جی ہاں!"
سعد ہنس پڑا۔
"اچھا بھئی، چلو۔"
وہ انہیں کینڈی مشین کے پاس لے گیا۔
مشین کے اندر مختلف رنگوں کی کینڈیوں کو دیکھ کر حور اور جیا پھر خوشی سےچھوٹے بچوں کی طرح اچھلنے لگیں۔
سعد نے مشین سے کچھ کینڈی نکالی، پھر ایک کینڈی نیہا کی طرف بڑھا دی۔
(نیہا نے حیرت سے اسے دیکھا)
"میرے لیے؟"
"ہاں۔"
نیہا نے کینڈی لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سعد نے وہ خود ہی اپنے منہ میں ڈال لی۔
نیہا چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر ہنس پڑی۔
"آپ نے یہ کیا کیا؟"
(سعد نے بالکل معصوم بن کر کہا)
"پتا نہیں۔"
"یہ میری کینڈی تھی!"
"اچھا؟"
سعد نے دوسری کینڈی نکالی اور اس کی طرف بڑھائی۔
"یہ لے لو۔"
نیہا نے اس بار احتیاط سے کینڈی پکڑ لی۔
"اب یہ نہیں کھائیں گے نا؟"
سعد نے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔
"نہیں۔"
وہ کینڈی کھاتے ہوئے ہنس پڑی۔
"آپ کو لگتا ہے میں بچی ہوں؟"
سعد نے حور اور جیا کی طرف اشارہ کیا۔
"آج تو سب ہی بچے ہیں۔"
دونوں لڑکیاں بھی ان کی بات سن کر ہنسنے لگیں۔
(حور نے فوراً کہا)
"سعد بھائی بھی بچے ہیں!"
جیا نے فوراً اس کی تائید کی۔
"بالکل!"
سعد نے دونوں کو گُھورا۔
"اچھا؟ تو پھر آج آئس کریم بھی نہیں ملے گی۔"
دونوں فوراً خاموش ہو گئیں۔
پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنسی روکنے لگیں۔
نیہا نے یہ منظر دیکھا تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
(سعد نے اسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا)
"بس یہی چاہیے تھا۔"
(نیہا نے حیرت سے پوچھا)
"کیا؟"
"آپ کی ہنسی۔"
نیہا ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی۔
پھر اس نے نظریں جھکا کر مدھم سی مسکراہٹ دی۔
دوسری طرف حور اور جیا دوبارہ کھیلوں کی طرف بھاگ چکی تھیں۔
سعد اور نیہا بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔
حور نے جیا کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور جیا اسے ایک نئے کھیل کی طرف لے جا رہی تھی۔
سعد نے دور سے دونوں کو دیکھا، پھر نیہا کی طرف۔
"دیکھا؟"
نیہا نے پوچھا، "کیا؟"
سعد نے بچوں کی طرف اشارہ کیا۔
"آپ نے ابھی سے سب کچھ سوچ لیا؟"
(سعد نے شرارت سے کہا)
"سوچنے میں کیا جاتا ہے؟"
نیہا نے سر جھٹک دیا۔
"آپ بھی نا..."
سعد ہنس دیا۔
اور پھر دونوں بچوں کے پیچھے چل پڑے۔
پلین لینڈ کی رنگین روشنیوں کے درمیان حور اور جیا کی ہنسی گونج رہی تھی، جبکہ سعد اور نیہا خاموشی سے ان کے ساتھ چل رہے تھے۔
شاید یہ صرف ایک عام سی شام تھی...
مگر ان دونوں کے لیے، یہ آنے والے خوبصورت دنوں کا ایک چھوٹا سا خواب بن چکی تھی۔ اور دوسری طرف حازم اور عنایہ ایک ساتھ شادی کے بعد پہلی بار اس طرح باہر آئے تھے۔
*°*°*°*°*°*
گاؤں کے ایک سادہ سے گھر میں رامو کاکا اپنی بیمار بیوی کے پاس بیٹھے تھے۔وہ اپنے گاؤں میں پہنچ چکے تھے. ان کے چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی، مگر آنکھوں میں اپنی بیوی کے لیے فکر اس سے کہیں زیادہ تھی۔
وہ صبح سویرے قریبی گاؤں سے دوائیں لے کر واپس آئے تھے۔ ڈاکٹر سے مشورہ بھی کر لیا تھا اور اب پوری امید کے ساتھ اس کی دوا وقت پر دے رہے تھے۔
ان کی بیوی کی طبیعت پہلے سے کچھ سنبھل گئی تھی۔
وہ چارپائی پر نیم دراز تھیں، جبکہ رامو کاکا ان کے پاس بیٹھے ان کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔
اسی وقت ان کی بیٹی کمرے میں داخل ہوئی۔
"ابو..."
(رامو کاکا نے فوراً اس کی طرف دیکھا)
"ہاں بیٹا؟"
وہ مسکراتے ہوئے اپنی ماں کے پاس آئی۔
"امی تو اب پہلے سے بہتر لگ رہی ہیں۔"
رامو کاکا کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ تھی۔
"ہاں بیٹا، اللہ کا شکر ہے۔"
بیٹی نے اپنی ماں کی طرف دیکھا، پھر باپ کے پاس بیٹھ گئی۔
"آپ آ گئے ہیں نا ابو، اب امی جلدی ٹھیک ہو جائیں گی۔"اس نے اپنے والد کے چہرے پر پریشانی دیکھ لی تھی.
رامو کاکا نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"ان شاء اللہ۔ بس تم دعا کرتی رہو۔"
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد بیٹی نے (دھیمی آواز میں کہا)
"ابو... آپ نے کہا تھا نا کہ آپ مجھے شہر لے کر جائیں گے؟"
(رامو کاکا نے اسے دیکھا)
"ہاں بیٹا، کہا تھا۔"
"آپ مجھے اچھی یونیورسٹی میں داخل کروائیں گے نا؟"
اس سوال کے ساتھ اس کی آنکھوں میں ایک امید جھلکنے لگی۔
"میری پڑھائی کافی پیچھے رہ گئی ہے ابو۔ اگر میں یہاں ہی رہ گئی تو شاید..."
رامو کاکا نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"ایسا نہیں ہوگا بیٹا۔"
(ان کی آواز میں یقین تھا)
"میں تمہیں اور تمہاری ماں خود شہر لے کر جاؤں گا۔ جس یونیورسٹی میں تمہاری پڑھائی کے لیے بہتر ہوگا، وہاں داخلہ دلواؤں گا۔"
بیٹی نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
"سچ ابو؟"
"ہاں، بالکل سچ۔"
وہ مسکرائی۔
"پھر تو میں بہت محنت کروں گی۔"
(رامو کاکا نے مسکراتے ہوئے کہا)
"مجھے تم سے یہی امید ہے۔ بس ابھی تم اپنی ماں کا خیال رکھو اور دعا کرو کہ یہ جلدی ٹھیک ہو جائیں۔"
بیٹی نے فوراً اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا۔
"امی تو ٹھیک ہو جائیں گی۔ اب ابو آ گئے ہیں نا۔"
رامو کاکا کی بیوی نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔
ان کے کمزور چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ پھیلی۔
رامو کاکا نے محبت سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
کمرے میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔
ماں، باپ اور بیٹی تینوں ایک دوسرے کے قریب بیٹھے مسکرا رہے تھے۔
ایک چھوٹا سا گھر...
تھوڑی سی پریشانی...
اور بہت ساری امید۔
مگر رامو کاکا کی نظروں کے پیچھے کہیں ایک اور چہرہ بھی موجود تھا۔
حازم!
جسے انہوں نے بچپن سے اپنی آنکھوں کے سامنے بڑا ہوتے دیکھا تھا۔
حازم کے والدین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ اسے صرف اپنے مالک کا بیٹا سمجھ کر نہیں چھوڑ سکے تھے۔ انہوں نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا تھا۔
اور اب اتنے برس بعد وہ اکیلے اسے چھوڑ کر اپنے گاؤں آئے تھے...
نہ جانے حازم کیسا ہوگا؟
(یہ سوچ ہر وقت کاکا کے ذہن میں تھی ایک اپنی بیوی اور بیٹی. اور دوسری طرف
حازم.....
رامو کاکا نے اپنی بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور خاموشی سے مسکرا دیے۔
شاید وہ اپنی پریشانی اپنی آنکھوں میں نہیں آنے دینا چاہتے تھے۔
کیونکہ اس وقت ان کے سامنے ان کا پورا جہان بیٹھا تھا۔
ان کی بیوی...
ان کی بیٹی...
اور دل کے کسی کونے میں ایک بیٹا، جسے وہ آج بھی حاذم ہی کہتے تھے۔
*°*°*°*°*°*
آج کا دن گزر چکا تھا، مگر شام حازم کے لیے خاصی مصروف رہی تھی۔ حازم عنایہ کو گھر واپس لے آیا تھا۔ حور بھی گھر آ چکی تھی، رات کےکھانے کے بعد حور کافی دیر تک عنایہ کے ساتھ بیٹھی رہی، اپنی دن بھر کی باتیں سناتی رہی اور اسکول کے ٹیسٹ کے بارے میں بھی بتایا۔
اب رات کافی گزر چکی تھی۔
حور اپنے کمرے میں آ کر عنایہ کے ساتھ بستر پر لیٹ گئی تھی۔
عنایہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اسے کہانی سنا رہی تھی۔
"پھر وہ ننھی سی شہزادی جنگل کے راستے آگے بڑھتی گئی..."
حور پوری توجہ سے سنتے سنتے کبھی سوال کرتی اور کبھی مسکرا دیتی۔
دروازے کے قریب سے گزرتے ہوئے حازم کی نظر دونوں پر پڑی۔
وہ چند لمحے وہیں رک گیا۔
حور کو عنایہ کے ساتھ اتنا مانوس دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
عنایہ نے بھی اسے دیکھ لیا۔
حازم نے خاموشی سے حور کی طرف دیکھا اور پھر عنایہ کی طرف سر ہلا کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
ناجانے کیوں آج عنایہ کو کمرے میں جاتے ہوئے جھجھک محسوس ہو رہی تھی۔
عنایہ دوبارہ کہانی کی طرف متوجہ ہو گئی۔
"اور پھر..."
اس کی آواز آہستہ آہستہ مدھم ہوتی گئی۔
حور کی پلکیں بوجھل ہو چکی تھیں۔
وہ سارا دن اسکول، ٹیسٹ اور پھر باہر کی مصروفیات کے باعث تھک گئی تھی۔ چند ہی لمحوں میں اس کی آنکھ لگ گئی، مگر عنایہ کو فوراً اندازہ نہ ہوا۔
وہ کچھ دیر تک کہانی پڑھتی رہی۔
پھر جب کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کتاب سے نظریں اٹھائیں۔
حور سو چکی تھی۔
عنایہ کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
"اتنی جلدی سو گئی..."
اس نے آہستگی سے کتاب بند کی اور اسے ایک طرف رکھ دیا۔
حور کے چہرے پر دن بھر کی تھکن اب سکون میں بدل چکی تھی۔
عنایہ نے اس کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا، پھر کمرے کی روشنی مدھم کر دی۔
کمرے سے باہر نکلتے ہوئے اس نے ایک بار پلٹ کر حور کو دیکھا۔
دروازہ آہستگی سے بند کیا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔
مگر نہ جانے کیوں آج اس کا دل عجیب طرح سے بے چین تھا۔
وہ لاونچ میں پہنچی، مگر سکون سے بیٹھ نہ سکی۔
کبھی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوتی، کبھی واپس آ کر صوفے پر آ کر بیٹھ جاتی آج کا دن بار بار اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔
حازم کا اس کے لیے پورا دن مخصوص کرنا، ہوٹل میں لنچ، اس کی پسند کا کھانا، وہ تحفہ...
وہ سب یاد آتے ہی عنایہ نے نظریں جھکا لیں۔
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اس کے دل میں یہ بے چینی کیوں ہے۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
ور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
پورا گھر خاموش تھا۔
راہداری میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
عنایہ چند قدم آگے بڑھی، پھر رک گئی۔
سامنے حازم کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر جیسے کسی خیال سے گھبرا کر اس نے نظریں ہٹا لیں۔
وہ واپس مڑنے ہی والی تھی کہ اندر سے کسی چیز کے گرنے کی ہلکی سی آواز آئی۔
عنایہ ایک دم رک گئی۔
اس کے چہرے پر تشویش ابھری۔
وہ چند قدم دروازے کی طرف بڑھی، مگر پھر وہیں رک گئی۔
اس کے ہاتھ دروازے کے قریب جا کر ٹھہر گئے۔
وہ کچھ لمحے خاموش کھڑی رہی۔
دل کہہ رہا تھا کہ دروازہ کھول کر دیکھے...
مگر قدم جیسے وہیں جم گئے تھے۔
*°*°*°*°*°*
عنایہ کمرے میں داخل ہوئی ۔
اسی لمحے حازم کی نظر اس پر پڑی۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال درست کر رہا تھا اور اسے دیکھتے ہی چونک گیا۔
"آپ واپس کیوں آ گئیں؟"
عنایہ ایک لمحے کے لیے گھبرا گئی۔
"وہ... میں بس..."
اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔
وہ فوراً اپنی الماری کی طرف بڑھ گئی، جیسے اسے اچانک کوئی بہت ضروری کام یاد آ گیا ہو۔
حازم نے اس کی گھبراہٹ محسوس کر لی تھی مگر کچھ نہیں کہا، اور جُھک کر ہیر برش اُٹھایا۔
عنایہ نے کپڑوں کا ایک جوڑا نکالا اور اسے ہاتھ میں تھام لیا۔ بے دھیانی میں وہ کپڑے بار بار اپنی انگلیوں میں دبا رہی تھی، یہاں تک کہ ان پر شکنیں پڑ گئیں۔
حازم نے اسے دیکھا۔
"کیا ہوا؟"
عنایہ نے فوراً سر اٹھایا۔
"کچھ نہیں۔"
"آپ پریشان لگ رہی ہیں۔"
"میں کیوں پریشان ہوں گی؟"
(حازم چند لمحے خاموش رہا، پھر نرم لہجے میں بولا)
"پتا نہیں... شاید آج کا دن کچھ زیادہ ہی مصروف تھا۔"
عنایہ نے نظریں چرا لیں۔
"ہاں، شاید۔"
(حازم نے موضوع بدلتے ہوئے کہا)
"ویسے آج آپ بہت خوش لگ رہی تھیں۔ حور کے ساتھ بھی آپ کافی خوش تھیں۔"
عنایہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
"وہ بہت پیاری بچی ہے۔"
"جی۔"
حازم بھی مسکرا دیا۔
چند لمحے دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔
(پھر حازم نے کہا)
"آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجیے گا۔"
عنایہ نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
"جی۔"
وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی، مگر دروازے تک پہنچ کر ایک لمحے کے لیے رکی۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو حازم واپس اپنے بستر کی طرف جا چکا تھا۔
عنایہ نے ایک گہری سانس لی اور واش روم کا دروازہ بند کر دیا۔
کمرے میں دوبارہ خاموشی اتر آئی۔
اور دونوں کے دلوں میں آج کے دن کی بے شمار باتیں خاموشی سے گردش کرتی رہیں۔
جاری ہے.......








