Customize readability
Aa

Shiddat-a-ishq / شدت عشق

All Rights Reserved ©

Summary

یہ کہانی ہے محبت کی اس انتہا کی جہاں جذبوں کی شدت اور تقدیر کے فیصلے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ "شدتِ عشق" ایک ایسا سفر ہے جس میں محبت، امتحان، درد اور وفا کے رنگ اپنوں کے بدلتے رویوں اور زندگی کی کٹھن راہوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کیا پاکیزہ جذبوں سے شروع ہونے والی یہ داستان اپنے منطقی انجام کو پہنچ پائے گی یا تقدیر کا کوئی نیا موڑ ان کی راہ کا امتحان لے گا؟

Status
15h ago
Chapters
10
Rating
n/a
Age Rating
18+

قسط نمبر 1

مصنفہ کا نام: علشبا گل بانو

ناول کا نام: شدتِ عشق

قسط نمبر: 1

خان حویلی کا وسیع و عریض کچن اس وقت مصالحوں کی دلفریب خوشبو اور برتنوں کی دھیمی دھیمی آوازوں سے گونج رہا تھا چولہے پر چائے کا پتیلا ابل رہا تھا اور کرن بہت دھیان سے اس میں چمچ ہلا رہی تھی چائے کی ابلتی ہوئی بھاپ میں کرن کا معصوم چہرہ اور بھی نکھر رہا تھا اس کی گوری چٹی رنگت پر اس کی بڑی بڑی گہری بھوری آنکھیں کسی کھلی کتاب کی طرح صاف تھیں جن میں بلا کی معصومیت جھلکتی تھی ان آنکھوں میں کسی کے لیے بے پناہ محبت اور ایک سچا معصومانہ انتظار صاف پڑھا جا سکتا تھا کاندھوں پر بکھرے اس کے گھنے اور لمبے سیاہ بال اس کی سادگی کو چار چاند لگا رہے تھے

ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد وہ آگے تو نہ پڑھ سکی لیکن اس کے دل کی کائنات اب صرف ایک ہی شخص کے گرد گھومتی تھی یعنی ارحم خان وہ اس کا ماموں زاد اور اس کا شوہر تھا جس سے اس کا نکاح ہو چکا تھا لیکن وہ پچھلے آٹھ سال سے پاکستان آیا ہی نہیں تھا سب کہتے تھے کہ ارحم بہت سخت مزاج غصے والا اور اپنے کام سے عشق کرنے والا ہے لیکن کرن کے معصوم دل میں اس کے لیے صرف بے پناہ انتظار تھا

آپ کب واپس آئیں گے ارحم

یہ وہ سوال تھا جو وہ پچھلے آٹھ سالوں سے روز اپنے آپ سے کرتی تھی اور پھر اپنے رب کو یاد کرتے ہوئے دل کو دلاسا دیتی کہ اللہ ایک دن سب ٹھیک کر دے گا وہ اکثر دعا کرتی تھی کہ اللہ ارحم کے دل سے حویلی کے لیے نفرت کو ہمیشہ کے لیے نکال دیں

اسی دوران صبح کے سات بج گئے اور خان حویلی میں چہل پہل شروع ہونے والی تھی کرن کا کھانا بنانے کے بعد دوسرا سب سے بڑا کام اپنی کزنز کے کمروں میں جا کر انہیں یہ بتانا ہوتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے اور اب یونیورسٹی جانے کا وقت ہو چلا ہے وہ ان کے کمرے میں گئی اور آواز دی مسرت ٹائم ہو گیا ہے یونیورسٹی نہیں جانا آج تمہارا پیپر ہے اور زویا خرم تم لوگوں نے نہیں جانا کیا

جانا ہے آپی ہم سب نے یونیورسٹی جانا ہے آپ فکر نہ کریں زویا نے جواب دیا

اللہ کیا مشکل کام ہے صبح صبح یونیورسٹی جانا مسرت نے اپنے چہرے سے کمبل ہٹایا اور بیزاری سے بولی

مسرت غضب کی خوبصورت اور تیکھے نقش والی لڑکی تھی لیکن اس کے چہرے پر معصومیت کے بجائے ایک بے باکی اور غرور تھا اسے سر پر دوپٹہ لینا بالکل زہر لگتا تھا وہ صرف خان حویلی کے مردوں کے خوف اور رعب کی وجہ سے خود کو اس دوپٹے میں چھپا کر رکھتی تھی جو اس کے لیے ایک قید کی طرح تھا وہ معصوم بالکل نہیں تھی اس نے سب گھر والوں سے چھپ کر فارس سے نکاح کر رکھا تھا اور اس کا واحد مقصد اس حویلی کی بندشوں سے بھاگنا تھا لوگ مسرت کے سر پر سلیقے سے ٹکے کڑھائی والے دوپٹے اور اس کی اجلی رنگت کو دیکھ کر اسے حویلی کی سب سے حیا دار اور معصوم لڑکی سمجھتے تھے لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اس خوبصورت چہرے کے پیچھے ایک باغی چھپی ہے اس کی تیکھی اور گہری آنکھوں میں ایک چالاکی اور بڑا مقصد تھا یعنی اس حویلی کی قید سے فرار اور اسی فرار کے لیے وہ سب سے چھپ کر فارس کے ساتھ نکاح کا بڑا کھیل کھیل چکی تھی وہ اپنے بھائیوں اور اپنے خاندان کی روایتی سوچ سے ڈرتی ضرور تھی لیکن اس کو یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کی یہ ایک حرکت مزید دو زندگیوں کو بدل کر رکھ دے گی

آپی مسرت آپ کا یہ آخری سال ہے آپ کو تو خوش ہونا چاہیے یہ آواز زویا کی تھی جس کا کام ہی سب سے محبت کرنا تھا اور ایک شخص سے تو سب سے زیادہ محبت کرنا تھا زویا معصوم اور خوبصورت دونوں ہی تھی اور اپنے بھائی کی جان تھی

آپی کرن آپ جائیں ہم بس پانچ منٹ میں آتے ہیں زویا نے کہا

کرن ان سب کی پھوپھی کی بیٹی تھی کرن اور ارحم کے والدین کی موت بچپن میں ہی ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہو گئی تھی جس کے بعد داجی کرن کو اپنے ساتھ حویلی لے آئے تھے کرن کو بچپن کے صدمے کی وجہ سے زیادہ لوگوں اور رش والی جگہوں سے ڈر لگتا تھا اسی لیے وہ زیادہ تر گھر میں ہی رکھتی تھی

خان حویلی کا وسیع و عریض ڈائننگ ہال اس وقت ناشتے کی خوشبو سے مہک رہا تھا حویلی کے تمام چھوٹے بڑے افراد ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے لیکن سب کی نظریں ٹیبل کے بالائی حصے پر بیٹھے ان دو نوجوانوں پر تھیں جو حویلی کے ساتھ ساتھ پورے بزنس کا فخر تھے یعنی زاویان اور صارم وہ آپس میں کزن ہونے کے ساتھ ساتھ گہرے دوست بھی تھے ان دونوں کا بزنس اسلام آباد میں پھیلا ہوا تھا اسی لیے لاہور کی اس خاندانی حویلی میں ان کا آنا جانا بہت کم ہوتا تھا وہ پورے مہینے میں بس ایک ہی بار حویلی کا چکر لگاتے تھے اور ان کا آنا حویلی میں کسی رونق سے کم نہیں ہوتا تھا

آج ان دونوں نے واپس اسلام آباد کے لیے روانہ ہونا تھا زاویان ہمیشہ کی طرح اپنے تھری پیس سوٹ میں ملبوس کلائی پر مہنگی گھڑی سجائے اپنے مخصوص اسٹائلش انداز میں بیٹھا تھا وہ غضب کا ہینڈسم تیکھے نقش اور گھنی داڑھی والا نوجوان تھا جس کی شخصیت سے ہی امیرانہ رعب جھلکتا تھا وہ سوٹ بوٹ کا شوقین تھا اور اس کی آنکھوں میں ہر وقت بزنس کی سنجیدگی ہوتی تھی دوسری طرف صارم بھی اپنے فارمل لباس میں انتہائی وجیہہ کسرتی بدن اور رعب دار سراپے کے ساتھ چاک و چوبند لگ رہا تھا اس کی چال ڈھال میں ایک خاص وقار تھا جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا تھا

زاویان صارم بیٹا کچھ اور لو اسلام آباد کا سفر لمبا ہے اور تم دونوں مہینے میں ایک بار آتے ہو یہاں کا کھانا تو پیٹ بھر کر کھا لو ملالہ خان نے محبت سے ان کی پلیٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے اور بھتیجے سے کہا

زاویان نے اپنی گہری آنکھوں کا رخ اپنی امی کی طرف کیا اور چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے دھیمے مگر رعب دار لہجے میں بولا بس امی کافی ہے اسلام آباد میں آج ایک بہت اہم میٹنگ ہے اس لیے ہمیں وقت پر نکلنا ہوگا کیوں صارم

صارم نے تائید میں سر ہلایا

ٹیبل پر ابھی اسلام آباد جانے کی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دالان سے ہلکی سی سیٹی بجانے کی آواز آئی اور حویلی کا سب سے لاڈلا چلبلا اور شوخ چشم لڑکا خرم ڈائننگ ہال میں داخل ہوا وہ ہمیشہ کی طرح ناشتے پر سب سے لیٹ آیا تھا لیکن اس کے چہرے پر دیر سے آنے کا کوئی پچھتاوا نہیں تھا بلکہ وہی مخصوص شرارتی مسکراہٹ تھی خرم کا حلیہ دونوں بڑے بھائیوں کے مقابلے میں کافی کیژول اور ماڈرن تھا جو اس کے لاڈ پیار اور بے فکری کو صاف ظاہر کرتا تھا

وہ تیزی سے خالی کرسی کھینچ کر بیٹھا اور پلیٹ اپنی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ارے واہ دونوں لالا اسلام آباد اڑنے کی تیاری میں ہیں اور یہاں حویلی میں کوئی ان کی شادی کی فکر ہی نہیں کر رہا خرم نے پراٹھے کا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے شرارت سے زاویان اور صارم کو دیکھا

پورے ڈائننگ ٹیبل پر ایک دم خاموشی چھا گئی داجی حاذق خان اور رزاق خان کے علاوہ سب نے گھور کر اسے دیکھا لیکن خرم کہاں رکنے والا تھا اس نے اپنے دونوں بھائیوں کو آنکھ دباتے ہوئے چھیڑا لالا اب بزنس کی میٹنگز بہت ہو گئیں اب اسلام آباد جانے سے پہلے یہاں حویلی میں سہرہ سجانے کی تاریخ فائنل کر لیں آپ دونوں جلدی سے شادی کر لو کیونکہ لائن میں آپ کے بعد میں بھی کھڑا ہوں مجھے بھی تو شادی کرنی ہے نا ارحم لالا کا بھی کوئی پتہ نہیں ہے یار آپ سب خان ہیں اور خانوں میں شادیاں جلدی کی جاتی ہیں آپ سب نے خانوں کا نام بدنام کر دیا ہے ایک بات تو بتائیں داجی آپ کا دل نہیں کرتا کہ اس حویلی میں آپ کے پڑپوتے کھیلیں آپ نے ایک بار بولا تھا کہ آپ نے تایا جان اور بابا کی شادیاں بیس سال کی عمر میں کر دی تھیں تو ان پوتوں کی کیوں نہیں کر رہے یا تو آپ کے بیٹوں کو شادی کی زیادہ آگ لگی تھی یا پھر آپ کے پوتوں میں خانوں والی بات ہی نہیں ہے

خرم کی اس بات پر زاویان نے غصے سے چائے کا کپ واپس رکھتے ہوئے اپنی گہری سنجیدہ آنکھوں سے اسے گھورا جبکہ صارم کے لبوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی

خرم کی اس نٹ کھٹ اور بے باک گفتگو پر جہاں زاویان نے اسے غصے سے گھورا وہیں ڈائننگ ٹیبل کے بالکل دوسرے سرے پر بیٹھے داداجی کے چہرے پر ایک گہرا اور سنجیدہ تاثر ابھر آیا انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کو میز پر رکھا جس کی دھیمی سی آواز پر پورے ہال میں یکدم سناٹا چھا گیا داجی نے باری باری زاویان صارم اور پھر خرم کی طرف دیکھا ان کی رعب دار آواز گونجی خرم ٹھیک کہتا ہے خانوں کی حویلی میں شادیاں کبھی عمریں دیکھ کر نہیں وقت پر ہوا کرتی ہیں اور ویسے بھی تین باتیں ہمیشہ یاد رکھنا جو خاندانی خانوں کا مان ہوتی ہیں

داجی نے اپنی بات کو وزن دیتے ہوئے انگلیوں پر گننا شروع کیا

پہلی بات خان کا قول اور اس کا نکاح کبھی کسی کے انتظار کا محتاج نہیں ہوتا وقت پر لیا گیا فیصلہ ہی نسلوں کا وقار بنتا ہے

دوسری بات حویلی کی رونق بیٹوں کے کاروبار سے نہیں بلکہ حویلی کے آنگن میں آنے والی بہوؤں کے قدموں سے ہوتی ہے

تیسری بات اور آخری بات یہ کہ جوان خون کو زیادہ دیر بن بیاہے رکھنا خانوں کی روایت نہیں ورنہ حویلی کے قواعد کمزور پڑ جاتے ہیں

یہ تینوں باتیں کہہ کر داجی نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی گھنی سفید مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے ٹیبل پر بیٹھے سبھی لوگوں کے چہرے کے تاثرات بدل دیے

اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا ہے اب نہ تو کوئی بات آگے بڑھے گی اور نہ ہی اسلام آباد کے چکروں میں وقت ضائع ہوگا اسی مہینے ہاں اسی ایک مہینے کے اندر تم سب کی شادیوں کا بندوبست ہو جائے گا ارحم کا معاملہ ہو یا زاویان اور صارم کا اب حویلی میں شہنائیاں بجیں گی

داجی کا یہ ٹوک ٹوک فیصلہ سن کر خرم کو جہاں ایک دم خوشی اور حیرت کا جھٹکا لگا وہی زاویان نے گہرا سانس لے کر نظریں جھکا لیں داجی کی بات سن کر ڈائننگ ٹیبل پر ایک ہلچل سی مچ گئی داجی نے اپنی چائے کا آخری گھونٹ لیا اور سب کی طرف دیکھ کر حکم صادر کیا

ملالہ اور تم بھی سنو دعا خان حویلی کی دونوں بڑی عورتیں یہاں موجود ہیں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مسرت کی شادی صارم سے ہوگی دونوں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھتے ہیں اور یہ رشتہ حویلی کے لیے بہترین ہے اور رہی بات زاویان کی تو زاویان کے لیے لڑکی کی تلاش آج سے ہی شروع کر دو مجھے اسی مہینے حویلی میں اس کی دلہن چاہیے

داجی کا یہ کہنا تھا کہ ملالہ خان اور دعا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر سر ہلا دیا مسرت کا تو جیسے خون ہی جم گیا تھا اور اس کا رنگ سفید پڑ گیا کیونکہ صارم سے شادی کا مطلب تھا اس کا حویلی سے بھاگنے کا خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جانا

ایسے میں زاویان جو اب تک خاموش تھا سیدھا ہوا اور داجی کی طرف دیکھ کر دھیمے مگر گہرے لہجے میں بولا داجی آپ نے میرا اور صارم کا فیصلہ تو کر دیا لیکن آپ ارحم لالا کو کیسے پاکستان بلائیں گے آپ کو تو پتا ہے وہ اس طرح ہمارے کہنے پر اتنی جلدی واپس نہیں آئیں گے

زاویان کی اس بات پر کچن کے دروازے کے پاس کھڑی کرن کے ہاتھ ایک دم رک گئے اور اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی وہ بھی بے صبری سے داجی کے جواب کا انتظار کرنے لگی کہ آخر ارحم خان کو واپس لانے کا کیا طریقہ ہے

داجی نے جب زاویان کی بات سنی تو ان کے چہرے پر ایک گہری اور معنی خیز مسکراہٹ ابھر آئی جیسے وہ اس سوال کے لیے پہلے سے ہی تیار تھے انہوں نے اپنی تسبیح کو دوبارہ ہاتھ میں لیا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے رعب دار لہجے میں بولے زاویان بیٹا تم ارحم کے غصے اور اس کی ضد کو جانتے ہو لیکن شاید یہ بھول رہے ہو کہ وہ بیٹا کس کا ہے ارحم کے باپ کی شادی بھی میں نے ہی کی تھی ارحم جتنا بھی بڑا بزنس مین بن جائے خانوں کی مٹی اور میرا حکم ٹالنے کی جرات وہ بھی نہیں کر سکتا

داجی نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور کچن کی طرف ایک گہری نظر ڈالی جہاں کرن سانس روکے کھڑی تھی پھر وہ دوبارہ زاویان کی طرف متوجہ ہوئے میں اسے کسی بزنس یا عام میٹنگ کے بہانے نہیں بلاؤں گا اسے پیغام بھیجو کہ اگر وہ اس حویلی سے اپنا رشتہ قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسی ہفتے پاکستان پہنچے ورنہ حویلی کے دروازے اس کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے

داجی کا یہ ٹوک ٹوک جواب سن کر خرم نے آہستہ سے صارم کو کہنی ماری اور سرگوشی کی لیں لالا داجی نے تو ارحم لالا کا پکا علاج سوچ رکھا ہے اب تو حویلی میں سچ مچ طفا ن آنے والا ہے

پورے ڈائننگ ٹیبل پر ایک بار پھر سناٹا چھا گیا لیکن داجی کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی انہوں نے کچن کی طرف دیکھا جہاں کرن کھڑی تھی اور پھر ان کے لہجے میں خانوں والا دبدبہ اور جلال مزید نمایاں ہو گیا وہ زاویان کی طرف دیکھ کر بولے اور سنو زاویان اگر وہ اس بات پر بھی پاکستان نہیں آنا چاہتا اور اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے تو اسے صاف کہہ دینا کہ ارحم خان اگر تم واپس نہیں آ سکتے تو پھر میری معصوم کرن کو طلاق دے دو تاکہ میں اپنی نواسی کی شادی کسی اور سے کر سکوں میں اپنی بچی کی زندگی ایک ایسے شخص کے لیے برباد نہیں ہونے دوں گا جسے حویلی کے فیصلوں کی کوئی پرواہ نہ ہو

داجی کے منہ سے طلاق اور کسی اور سے شادی کا لفظ سن کر جیسے پورے ہال میں بم پھٹ گیا کچن کے دروازے کے پاس کھڑی کرن کے ہاتھ سے چائے کی کیتلی چھوٹتے چھوٹتے بچی اس کی گہری بھوری آنکھیں خوف اور صدمے سے پھیل گئیں اور دل جیسے سینے سے باہر آنے لگا خرم کی ہنسی پل بھر میں غائب ہو گئی اور زاویان اور صارم نے بھی چونک کر داجی کی طرف دیکھا وہ جانتے تھے کہ داجی جو کہتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں

دوسری طرف مسرت نے چور نظروں سے کچن کی طرف دیکھا وہ اندر ہی اندر حیران تھی کہ حویلی میں اب صرف اس کی زندگی میں طوفان نہیں آ رہا تھا بلکہ کرن کی تقدیر کا فیصلہ بھی داجی نے داؤ پر لگا دیا تھا

داجی نے تسبیح اٹھائی اپنی کرسی چھوڑی اور بنا کسی اور کی بات سنے بارعب قدموں سے دالان کی طرف بڑھ گئے ڈائننگ ٹیبل پر پھیلی اس گہری خاموشی کو توڑتے ہوئے زاویان اور صارم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا داجی کا فیصلہ اٹل تھا اور اب انہیں اسلام آباد کے لیے نکلنا ہی تھا دونوں اپنی کرسیوں سے اٹھے سفر لمبا تھا اور حویلی میں مچنے والے اس نئے طوفان کے باوجود بزنس کی ذمہ داریاں ان کا انتظار کر رہی تھیں

روانگی سے پہلے وہ حویلی کے باقی افراد سے ملنے کے لیے آگے بڑھے صارم نے مسکرا کر اپنی پیاری بہن زویا کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اسے محبت سے گلے لگا لیا اپنا خیال رکھنا اس نے دھیمے لہجے میں کہا دوسری طرف زاویان نے بھی اپنی بہن مسرت کو پاس بلا کر شفقت سے گلے لگایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا اس کے بعد انہوں نے اپنی ماؤں ملالہ خان اور دعا سے باری باری اجازت لی خرم نے ہمیشہ کی طرح جاتے جاتے بھی دھیمی سی آواز میں کہا لالا اسلام آباد جا کر بھابھیوں کی تیاری شروع کر دیں اب تو داجی نے مہر لگا دی ہے زاویان نے اسے گھورا اور صارم نے ہلکا سا مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ مارا

زاویان اور صارم کے جانے کے بعد مسرت زویا اور خرم بھی یونیورسٹی چلے گئے اب حویلی میں مکمل خاموشی کا راج تھا

حویلی کے اس بارعب اور روایتی ماحول سے دور شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی کا نقشہ بالکل الگ تھا یہاں خان حویلی کے قوانین نہیں بلکہ نوجوان نسل کی اپنی ایک آزاد دنیا تھی اور اسی دنیا میں حیا اور حیات کا راج تھا امروز ان دونوں کے آخری سمیسٹر کا بالکل آخری پیپر تھا یعنی سائیکالوجی کا پیپر

یونیورسٹی کے کوریڈور میں اپنے ماڈرن اور اسٹائلش حلیے میں چلتے ہوئے وہ دور سے ہی سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں حیات نے جینز کے ساتھ ایک کول سی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور اس کے شارٹ کٹ بال اس کی کیژول پرسنالٹی کو بہت سوٹ کر رہے تھے جبکہ حیا جینز اور ٹی شرٹ میں کسی ماڈل سے کم نہیں لگ رہی تھی اس کے گھٹنوں تک آتے انتہائی لمبے گھنے بال اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے

ان کی آنکھیں قدرت کا ایک انوکھا اور جادوئی شاہکار تھیں حیا کی آنکھوں میں ایک منفرد سا لائٹ ریڈ رنگ تھا جو اس کے بے پناہ کانفیڈنس اور چہرے پر ہر وقت سجنے والے کمال کے ایٹی ٹیوڈ کو مزید جاندار بنا دیتا تھا وہ جہاں سے گزرتی اپنے اسی مغرور روپ اور رعب سے لوگوں کو اپنے سحر میں لے لیتی اس کے برعکس حیات کی آنکھوں کا رنگ لائٹ بلیو تھا اور وہ مزاج میں اپنی بہن کے مقابلے میں بالکل پرسکون اور دھیمی تھی

حیا ذرا اپنا یہ ایٹی ٹیوڈ کم کرو سائیکالوجی کا آخری پیپر ہے کہیں ایگزیمینر تمہارا یہ رعب دیکھ کر نمبر ہی نہ کاٹ لے حیات نے اپنی نیلی آنکھوں میں شرارت چمکاتے ہوئے حیا کو چھیڑا

حیا نے اپنے لمبے بالوں کو ایک دلکش انداز سے جھٹکا دیا اور اپنی سرخی مائل آنکھیں گھما کر مغرور سے لہجے میں بولی حیات پیپر سائیکالوجی کا ہو یا کسی اور کا حیا کا کانفیڈنس کبھی کم نہیں ہوتا چلو جلدی کرو پیپر ختم کر کے گھر بھی نکلنا ہے آج تو بس آزادی ہی آزادی ہے

وہ دونوں ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے ایگزیم ہال کی طرف بڑھ گئیں بالکل بے خبر کہ آنے والے دنوں میں ان کی یہ پرسکون ماڈرن زندگی کسی اور دنیا کے فیصلوں سے ٹکرانے والی ہے

پیپر ختم ہونے کے بعد حیا اور حیات ہنستی مسکراتی ہوئی یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف بڑھیں جہاں ان کی چمکتی ہوئی بلیک کار کھڑی تھی وہ دونوں کمال کی بیسٹ فرینڈز تھیں جو ایک دوسرے پر جان چھڑکتی تھیں حیا نے ہمیشہ کی طرح اپنے گھٹنوں تک آتے لمبے بالوں کو پیچھے جھٹکا اپنی لائٹ ریڈ آنکھوں میں وہی مخصوص ایٹی ٹیوڈ لیے وہ ڈرائیورنگ سیٹ کی طرف بڑھنے لگی حیات نے مسکرا کر سر ہلایا اور دوسری طرف بیٹھ گئی

حیا نے جیسے ہی کار ریورس کرنے کے لیے گیٹ سے باہر نکالی ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ ایک تیز رفتار سفید گاڑی نے پیچھے سے حیا کی کار کو ہٹ کر دیا بریک کی ایک چیختی ہوئی آواز پورے گیٹ پر گونج گئی یہ وہی گاڑی تھی جس میں خرم مسرت اور زویا حویلی سے نکل کر ابھی ابھی یونیورسٹی پہنچے تھے

وٹ دا ہیل حیا کی سرخی مائل آنکھیں غصے سے پھیل گئیں اس کا سارا کانفیڈنس پل بھر میں شدید طیش میں بدل گیا گاڑی چلانی نہیں آتی کیا وہ غصے سے پاؤں پٹختی ہوئی کار سے باہر نکلی حیات بھی جلدی سے اپنی لائٹ بلیو آنکھوں میں حیرت لیے اپنی سہیلی کے پیچھے اتری

دوسری گاڑی سے جس نے ہٹ کیا تھا خرم گھبرایا ہوا باہر نکلا اس کے پیچھے گاڑی کے دروازے کھول کر زویا اور مسرت بھی باہر نکلیں مسرت جو پہلے ہی داجی کے فیصلے کی وجہ سے شدید پریشان تھی جیسے ہی اس نے کار سے اترتی ہوئی حیات کو دیکھا اس کے دل کی دھڑکن تھم گئی وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کے اپنے فارس کی سگی چھوٹی بہن حیات تھی فارس نے اسے اپنی پیاری بہن حیات کی تصویر دکھائی تھی اس لیے مسرت پل بھر میں اسے پہچان گئی مسرت حیات کو بالکل پاگلوں کی طرح عجیب نظروں سے گھورنے لگی جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ فارس کی بہن اس کے سامنے کھڑی ہے اس کی آنکھوں میں خوف حیرت اور ایک عجیب سا اضطراب تھا

حیات نے جب دیکھا کہ سامنے کھڑی لڑکی اسے مسلسل عجیب اور غیر معمولی نظروں سے گھورے جا رہی ہے تو وہ الجھ گئی اس نے اپنی لائٹ بلیو آنکھیں سکیڑیں اور دل میں سوچا یہ لڑکی مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہی ہے جیسے مجھے پہلے سے جانتی ہو حیات کو مسرت کا یہ انداز بہت عجیب لگا لیکن وہ خاموش رہی کیونکہ وہ مسرت سے بالکل ناواقف تھی

دوسری طرف حیا کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا اندھے ہو کیا دیکھ کر گاڑی نہیں چلا سکتے میری کار کا ستیاناس کر دیا

خرم نے ایک لمحے کے لیے حیا کے اس مغرور روپ کو دیکھا اور پھر ہمیشہ کی طرح اپنی شرارت پر اتر آیا او ہو میڈم غصہ تھوکیں گاڑی ماری ہے کوئی دل تو نہیں توڑ دیا اور ویسے بھی غلطی آپ کی کار کی تھی وہ کچھ زیادہ ہی پیچھے آ رہی تھی۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے کی حیا نے غصے سے پیر پٹخ

بات اور زیادہ بڑھنے لگی تو حیات نے آگے بڑھ کر حیا کا ہاتھ تھاما حیا چھوڑو اسے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں گھر کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں چلو یہاں سے

دوسری طرف زویا نے بھی خرم کو پیچھے کھینچا خرم بس کریں یونیورسٹی کے گیٹ پر تماشہ مت بنائیں

حیا نے خرم کو ایک آخری غصیلی اور مغرور نظر سے گھورا اور حیات کے ساتھ واپس اپنی کار میں جا بیٹھی خرم نے بھی بڑبڑاتے ہوئے اپنی گاڑی کا رخ موڑا مسرت اب بھی گم سم سی زویا کے پیچھے چلتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی اس کا دل اب بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا دونوں گاڑیاں اپنے اپنے راستے پر چل پڑیں لیکن یونیورسٹی کے گیٹ پر ہونے والا یہ ٹکراؤ دونوں خاندانوں کی زندگیوں میں ایک ایسا طوفان لانے والا تھا جس سے اب واپسی ممکن نہیں تھی

موٹروے پر اسلام آباد کی طرف تیزی سے دوڑتی ہوئی بلیک لینڈ کروزر میں ایک گہری اور سنجیدہ خاموشی چھائی ہوئی تھی صارم اسٹیرنگ ویل پر ہاتھ جمائے پوری توجہ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ زاویان کے فون کی سکرین روشن ہوئی اس نے دور پھیلتے شہر پر جمی اپنی گہری نظریں ہٹائیں اور فون کان سے لگایا

بولو زاویان کیا بات ہے

ارحم خان کی وہ مخصوص بارعب اور برف جیسی سرد آواز گونجی جس سے اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے اس کی آواز میں وہی پرانا جلال اور حاکمانہ انداز تھا جو خان حویلی کی پہچان تھا

زاویان نے ایک لمحے کے لیے برابر میں بیٹھے صارم کو دیکھا جس نے کال اٹھنے پر گاڑی کی سپیڈ تھوڑی دھیمی کر دی تھی اور پھر زاویان نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے کہا لالا داجی کا حتمی حکم ہے کہ آپ کو اسی ہفتے ہر حال میں پاکستان پہنچنا ہوگا زاویان یہاں رکا اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اگلا جملہ بولا ورنہ وہ کرن بھابھی کو طلاق دلوا کر اس کی دوسری شادی کسی اور سے کر رہے ہیں

یہ سننا تھا کہ آفس کے اس پرسکون ماحول میں جیسے وقت تھم گیا ارحم خان نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پین میز پر رکھا فون کی دوسری طرف ایک ہولناک خاموشی چھا گئی ایک ایسی گہری اور سکتہ زدہ خاموشی کہ زاویان اور صارم کو گاڑی کے اے سی کی سرسراہٹ بھی صاف سنائی دینے لگی ارحم خان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا بس اس کی سانسوں کی رفتار تیز ہو چکی تھی اور اس کی آنکھوں میں شدید غصہ اترا تھا جیسے یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کے آنے کا پیش خیمہ ہو.

اور جاننے کے لیے دیکھیے."شدتِ عشق" (قسط نمبر 2)

جاری ہے...

Let Alishba gull Bano know what you thought about this chapter!
Love this

0

Love this

Funny

0

Funny

Spicy

0

Spicy

Suspenseful

0

Suspenseful

Emotional

0

Emotional

Profound

0

Profound

Heartwarming

0

Heartwarming

Shocking

0

Shocking

Good Writing

0

Good Writing

Compelling Plot

0

Compelling Plot

Great Character

0

Great Character

Strong Dialog

0

Strong Dialog

Further Recommendations

Milky Treasures on a Healing Love

Booklover_rdx: A different but good story. Basically a love story with a twist- i enjoyed every word of it

Read Now
Werewolf Hollow [GALATEA DATE TBA]

user-tYYAB62Jw9: I loved your/this story, thank you 😊 . Look forward to more writings. I was so invested in the kids. Curious who or which one is Annie's mate. Maybe Dylan since Collin is a werewolf. Although she'd also make a good Luna. Smiles 🙂

Read Now
Nothing Between Us

Lens: I haven’t read a book this good in a years. A phenomenal read. I wish I could experience this again!

Read Now
Fated to My Ex- Best Friend [Moving to Galatea]

Kelley: Love the story line! Ryder needs to getvhiavhead out of his ass tho!

Read Now
Married by Fate

Fiona Walker: What a lovely story, I thoroughly enjoyed it.

Read Now
Hit and Run

Sarah: Hey! I really enjoyed your story. It made me wonder how you actually write. Are you someone who plans everything in advance, or do you discover the story as the chapters unfold?

Read Now
Broken Halos MC

Lisa: I love the slow burn and how engaging the characters are. The story building is great. No spelling or grammatical errors so far! Can’t wait to read more.

Read Now
The Contract Wife

Jkind12: Ended too abruptly . Where can I read the sequel?

Read Now
Bloodlines

lana constanti: Great story line, a book worth reading! Could not put it down

Read Now